شہناز رحمن افسانہ لکھتی نہیں ،افسانہ جیتی ہیں ۔ادب میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی قلم کاراپنی چند تحریروں کے ساتھ سامنے آئے اور آسمان ادب پرچھا جائے۔شہناز رحمن کی تخلیقی کاوش کے ساتھ کچھ ایسا ہی معجزہ ہوا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا افسانوی مجموعہ’’نیرنگ جنوں‘‘رنگا رنگ تجربات کا نگار خانہ ہے ۔ان کے افسانوں میں، ذات ،زندگی اور زمانہ کی سرد و گرم لہروں کو گرفت میں لینے اور پھر معاصر افسانہ کے تخلیقی ا ور فکری رویوں سے کچھ مماثل کچھ مخالف تیوروں کے ساتھ افسانہ بننے کا عمل یہ تقاضا کرتا ہے کہ ان افسانوں کو غور و خوض سے پڑھا جائے ۔
پیش نظر افسانوی مجموعہ’’نیرنگ جنوں ‘‘ ۲۰۱۶میں شائع ہوا۔اس میں شامل افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار خود سے یہ سوال کرنا پڑا کہ کیا کوئی نووارد ،عصر حاضر کے موضوعاتی اوراسلوبیاتی تنوع اور فنی و جمالیاتی نیرنگیوں کے ساتھ ایسے معیاری افسانے لکھ سکتا ہے ؟ شہناز رحمن کے افسانے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر اپنے اندراور باہر کے تازہ ترین ’’ڈسکورسیز‘‘کے حوالے سے کوئی قلم کارکسی بھی ’سچ‘کو اس کے انسلاکات کے ساتھ گرفت میں لینے میں کامیاب ہو جاتاہے تو افسانے کے انفراد کے بیج کی’’ تخم ریزی ‘‘ہو جاتی ہے ۔اگر افسانہ نگار الفاظ کے معنیاتی ،کیفیاتی اور تاثراتی امکانات کاشعور اور اظہار و بیان کی ہنر مندی سے بھی متصف ہو تو اس کا افسانہ ’سن و سال ‘کے مفروضات کے دائروں کو توڑ کر عمدہ اور لائق توجہ افسانوں کی صف میں جگہ بنا ہی لیتا ہے،منٹو،بیدی، کرشن چندر، عصمت اور قرۃالعین حیدر وغیرہ کی مثالیں سامنے ہیں۔
شہناز رحمن کے افسانوں کا کینوس کافی وسیع ہے اس مجموعہ کے افسانوں میںنہ صرف ہند وستان کے مختلف خطوں کے مناظر اور معاشرتی رنگ پیش کیے گئے ہیں بلکہ پورے ایشائی مما لک سے چیدہ چیدہ واقعات جمع کر دیے ہیں ۔اسی وسعت اور زبان و بیان کی وجہ سے ان کے افسانوں میں قرۃ العین حیدر کا افسانوی رنگ نظر آنے لگتا ہے ساتھ ساتھ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مصنفہ نے ذاتی مشاہدہ پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ تخیل کی مدد سے نادیدہ مناظر کی عمدہ تصویر کشی کی ہے ۔جس کی بہترین مثال افسانہ ’’انجانی تشنگی ‘‘میںپیش کردہ ہو ہینزولرن کیسل کی مرقع کشی ہے۔اس افسانہ میں نہ صرف خارجی مناظر کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے بلکہ انسانی فطرت کے نہاں خانوں میں پوشیدہ جذبات کی بھی ترجمانی موجود ہے ۔اس کے علاوہ ان کے افسانوں کے مو ضوعی،فکری، لسانی ،ادبی اورتہذیبی ا نسلاکات کی جڑیںہند وستان کے سرحد سے لگی آس پاس کی بستیوں میں پیوست ہیں جس کا اظہارافسانہ ،خونچکاں ،ستیہ وان ،اور نیرنگ جنوں وغیرہ میں جگہ جگہ بڑے دلکش انداز میں ہوا ہے ۔ تہذیبی جڑوں سے گہری وابستگی کے سبب ہی مذکورہ افسانوںمیں مقامی زبانیں اور کہاوتیں بھی بقدر ضروت استعمال کی گئیں ہیں ۔بلکہ’ ستیہ وان ‘کے ایک کردار کی زبانی تہذیبی شعور کے فقدان کے وجوہ پر بھی طنز کیا گیا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں اسرار گاندھی کا افسانہ ’’اخبار میں لپٹی روٹیاں‘‘کا تجزیاتی مطالعہ – ڈاکٹرابراہیم افسر )
دائی صاحب اپنی وہ کہاوت ممی کو سنادیجیے جو میرے لئے کہا کرتی ہیں ۔
بابت پوت پراپت گھوڑا کچھ ناہیںتو تھوڑم تھوڑا۔ ارے بٹواکَے’ باجی توکَے’سِکَھا’ئیں یاد کرائن ، اتنا مُوٹ مُوٹ کتاب یاد کرلَیت ہواِی’ نائیں یاد کر پائین ۔ دائی صاحب نے کہا ۔
کیا کروں دائی صاحب ؟؟میرے والدین مجھے انگریز بنا نا چاہتے ہیں کبھی انڈیا کی شکل ہی نہیںدکھائی تو انڈین کہاوت کیسے یاد کر پاؤں ؟؟ وہ تو آپ کا کرم ہے کہ تھوڑا بہت سکھاتی رہتی ہیں ورنہ میری ماں تو صرف اردو ڈراموں کے ڈائیلاگز۔۔
اس مختصر اقتباس میں بیک وقت کئی گہرے رموز پوشیدہ ہیں ۔ ملک سے باہر رہنے کے باوجود اپنے وطن کی شناخت برقرار رکھنے والی دائی صاحب ساتھ موجود ہیںتو دوسری طرف اپنی مادری زبان اردو کی بقاء کی بھی فکر ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ جدید طرز زندگی کی کشش اس طرح اپنے گرفت میں لے چکی ہے کہ اپنی نئی نسل کو اپنے مخصوص اقدار و روایات سے روبرو کرانے کا موقع ہاتھ نہیں آرہا جس کی وجہ سے ان کی ذہنی ،سماجی نشو و نما میں ایک نامعلو م سی کمی نظر آتی ہے ۔
حصول علم کی غرض سے مختلف خطوں، بولیوں اور تہذیبوںکی حامل لڑکیوں کے ساتھ ہاسٹل میں رہنا ، اور پھر مادر علمی ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘‘کے منتخب روزگار دانشوروں سے ہمہ وقت کسب فیض کے مواقع گویا ہر لمحہ ایک نئے تجربے،نئے مرحلے سے گزر نے سے کم نہیں۔ علم و آگہی اورتجربات و مشاہدات کی اس یورش نے ہی مصنفہ کے ادبی شعور کوپختہ کیا ،اتنا کہ نہ صرف ان کے ادبی وجود میں فکشن کی تخلیق کومنفرد انداز میں برتنے کی اہلیت پیداہوئی بلکہ اردو فکشن کی تفہیم کا پُر از امکان شعور بھی پختہ ہوا ۔شہناز رحمن کے افسانوی مجموعہ ’ ’نیرنگ جنوں‘ ‘ کے ساتھ ساتھ اگر ان کی ،فکشن تنقید سے متعلق مضامین کے مجموعہ کو بھی سامنے رکھیں تو بات سمجھ میں آجائے گی کہ ان کے افسانوں میں معاصر افسانہ نگاروں سے الگ جو کچھ باتیں ہیں وہ اسی وجہ سے کہ وہ افسانوی ادب کی روایات و رسومات،اجتہادات و تجربات کی گہری آگہی رکھتی ہیں۔شہناز نے اپنی کتاب ’’اردو فکشن ؛تفہیم،تعبیر اور تنقید ‘‘میں لکھا ہے:۔
’’میں افسانے کے تجزیے میں عجلت اور سطحی مطالعے کے بجائے اس وقت تک افہام و تفہیم کے عمل میں سرگرداں رہتی ہوں جب تک متن کے پوشیدہ نکات روشن نہ ہو جائیں ۔‘‘
(اردو فکشن ؛تفہیم،تعبیر اور تنقید ،شہنازرحمن ۔ص۔۹) یہی بات ان کی افسانہ نگاری کے حوالے سے بھی کہی جاسکتی ہے کہ جب تک موضوع ، پلاٹ،کردار اور کہانی کے تمام خار جی اور داخلی مضمرات ان کی تخلیقیت ، ’وژن‘ اور اظہار و بیان کی قوت میںرچ بس نہیں جاتے ،وہ افسانے کو کاغذ پر اترنے کی اجازت نہیں دیتیں ۔چونکہ شہنازرحمن نے اردو کے ممتاز افسانہ نگار یلدرم ،کرشن چندر ،منٹو ،بیدی،عصمت، احمد ندیم قاسمی ،قرۃ العین حیدر،مرزا حامد بیگ ،شموئل احمد، پیغام آفاقی ،حامد سراج اور اس صدی میں لکھنے والی خواتین افسانہ نگار ذکیہ مشہدی ،ترنم ریاض، صادقہ نواب سحراور نگار عظیم وغیرہ کو پڑھا ،سمجھا ہے اسی لیے اپنے عہد کے سینئر اور معاصر افسانہ نگاروں سے بعد میں افسانہ نگاری شروع کرنے کے با وجود فنی ،جمالیاتی ،فکری اورتکنیکی اعتبار سے ان سے بہت پیچھے نہیں نظر آتیں۔نیرنگ جنوں کے مطالعہ سے شہناز رحمن کی افسانہ نگاری کے کئی امتیازات واضح ہوتے ہیں ۔ایک یہ کہ انھوں نے روایتی اور جدید دونوں رجحان کے افسانوں کامطالعہ کیا ہے مگروہ کسی بڑے نام سے مرعوب ہو کر یا معاصرین کی تقلید میںغیر ضروری جزیات نگاری یا اختصارسے کام نہیں لیتیں بلکہ ایسے تلازمات کا استعمال کرتی ہیں جو قاری کو اصل کہانی کے پس پشت موجود کردار اورواقعات سے جوڑ دیتے ہیں۔مثلاً افسانہ ’’ستیہ وان ‘‘کے اس اقتباس کو دیکھئے :۔
’’میں نے نیٹ پہ پورا ایریا دیکھ لیا ہے ۔۔۔۔اسی لوکیشن پر ایک محلہ بھی ہے جس کانام علی پور ہے۔آپ پاپا سے کہہ دیجئے اس سال کی چھٹی میں ضرور اِنڈیا چلیں ۔
لیکن آپ کے پاپا نے تو سائوتھ افریقہ جانے کا پلان کیا ہے ،اریطہ نے بہانہ بنایا۔‘‘
’’ میں کچھ نہیںجانتا ،اس بار کوئی Excuse نہیں چلے گا ۔اور ہاں جب اِنڈیا جائیں گے تو نانی
سے ملنے علی پور بھی چلیں گے۔ اِنڈیا جانے کی بڑی خواہش ہے ،جائوگے تو رہو گے کہاں ؟
کیوں؟
دادا جان ہم سے ناراض ہیں گھر میں داخل ہی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
(ستیہ وان ،ص:۱۵)
’’ستیہ وان ‘‘ایک سرکس کمپنی کا نام ہے ۔افسانہ’ ستیہ وان ‘ کی مرکزی کردار،اریطہ/ ریتا اس سرکس کی مقبول اداکار ہ ہے۔سرکس کی مالکن کے رویوں سے بد دل ہو کر وہ فرار کی کوشش کرتی ہے ۔اس شہر کے قاضی شمس الدین اسے بے یار و مددر گار دیکھ کر اپنی حویلی میں پناہ دیتے ہیں ۔ان کا فرزند رُکن الدین سرکس کے زمانے سے ہی اس پر عاشق ہوتا ہے ۔ حویلی میں کچھ عرصہ قیام کے بعدوہ اریطہ کی عادات و اطوار میں بہتر تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے اس کی شادی کا خیال ظاہر کرتے ہیں ۔موقع ہاتھ سے نکلتے ہوئے دیکھ کررکن الدین اپنے والدین کے سامنے مدعا بیان کرتا ہے لیکن وہ اپنے بیٹے کی شادی ایک رقاصہ سے کرنے پر راضی نہیں ہوتے ۔با لآخر وہ ان کی مرضی کی پروا کیے بغیر اریطہ سے شادی کرلیتا ہے اور گھر چھوڑ کر بیرون ملک چلا جاتاہے۔ لیکن برسوں بعد جب اریطہ اپنے بچوں کے ساتھ سسرال آتی ہے تو قاضی شمس الدین اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔اریطہ اس ہتک کو برداشت نہیں کر پاتی اور رد عمل کے طور پر وہ ایک بار پھر ’ستیہ وان ‘‘سرکس میں روپئے لے کر ’’کھیل ‘‘دکھانے کے لئے واپس چلی جاتی ہے ۔
’اریطہ نے پھر ایک بار قسمت کے فیصلے کو گلے لگا لیارُکن الدین نے پیچھے مُڑ کر دیکھا ۔۔اریطہ غائب ۔ (ستیہ وان ،ص:۳۰)
اس افسانے کے پلاٹ اور کہانی کی بنت کوذہن میں رکھیں تو اندازہ ہوگا کہ شہناز رحمن نے مذکورہ افسانے میں معمولی لغزشوں پر مسلم خاندانوں کے اُجڑنے اور دربدر ہونے کی طرف تو اشارہ کیا ہی ہے، ساتھ ہی حسب و نسب پر فخر کرنے والے افراد کا بظاہر ایک کمتر مگر بباطن ایک نیک سیرت لڑکی کو بہو کی صورت میں قبول نہ کرنے کے عبرتناک انجام کی بھی نشاندہی کی ہے۔ایک طویل مدت گزرنے کے بعد بھی قاضی شمس الدین اسے سرکس میں کام کرنے والی ایک غیر خاندان کی لڑکی(اریطہ/ریتا)ہی تصور کرتے ہیں ۔
شہناز رحمن کے افسانے تیزی سے بدلتے ہوئے معاشرتی، تہذ یبی اور اخلاقی، اقداری نظام کی شکستگی کے افسانے ہیں ۔ہرافسانے میں شکستگی کی الگ الگ فضائیں اور صدائیں ہیں جو قاری کو دعوت فکر دیتی ہیں ،مثلاً،افسانہ ’’خونچکاں‘‘ میں انھوں نے ’ہم جنسیت‘ کی پھیلتی ہوئی وباکو موضوع بنایا ہے ۔اس افسانہ میں مصنفہ نے بیان کی ایک نئی صورت اپنائی ہے افسانہ کے آغاز میں ہی ابتدائی استعاراتی جملے افسانہ کے انجام کو آئینہ کر دیتے ہیں۔
’’خواب جل کر راکھ ہو گئے ،چشم تمنا بجھ گئی ،سُرخ رنگ حِنا پیلا پڑ گیا ،بارش کی بوندیں ذروں سے ٹکرا کر شور مچا رہی ہیں ،شہر دل ویران ہو گیا،حجرہ عروسی میں سجی سنوری دُلہن ،شادی کا ماحول،سہیلیوں کی چہلیں ،چھیڑ چھاڑ ، امیدیں،آرزوئیں اوروالدین کی دعائیں ۔سب کچھ توتھا ، لیکن۔۔۔
وہ پہلی رات تھی ،اس نے سب کچھ میرے حوالے کر دیا سوائے اپنے آپ کے ۔۔۔۔۔اور پھر وہ چلا گیا۔ ۔۔تب سے رات اکیلی تنہائی کی بارش میں بھیگ ر ہی ہے ۔۔۔۔کواڑ کے دونوں پٹ ایک دوسرے سے ملنے کے لئے ترس گئے ۔ پھر زندہ،متحرک اور منتظر ارمانوں پر جانے کتنے اجاڑ دنوں ، اور نامراد راتوں کی گرد جمتی رہی کچھ پتہ ہی نہیں چلا ۔کناڈا سے رینا اس کے چنے منے کے لئے ٹیڈی بیئرس کی فوٹوز اپلوڈ کرتی رہی ۔۔۔لیکن ہوا نے تو موسم باراں سے قحط کی سازشیں کر لی تھیں ۔۔‘‘
مدتوں بعد فون کی گھنٹی بجی۔
’’مجھے تُم سے نفرت ہے صرف تم نہیں ،بلکہ ہر لڑکی اور اس کے وجود سے مجھے نفرت ہے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔چمکتی کار آکر ُرکی،شور مچا۔۔ماموں آئے ۔۔۔ماموں کے ساتھ کوئی اور بھی ہے ۔۔۔ کوئی اور۔۔۔۔ کمرے کادروازہ بند ہے ۔۔۔۔وہ نیم خوابی کے عالم میں کہہ رہا ہے ’’تمہارے واسطے میں سب کچھ چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔اس دیس میں ہمارے پیار کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے،ہم امریکہ کے اُس شہر میں گھر بنائیںگے جہاں ہمارے پیار کے درمیان کوئی نہیں آئے گا ۔‘‘ (خونچکاں ص:۳۷)
مصنفہ نے اس گھناونے رحجان کی شدید مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:۔
’’ اس گھناونے فعل میںقانون ساتھ ہے یہ ملعون فعل کوئی جرم نہیں‘‘۔۔۔۔اب تواسے قانونی درجہ بھی احترام کے ساتھ مل گیا ہے ۔
اس افسانہ کی قرأت کے د وران یوں بھی محسوس ہوا جیسے مصنفہ نے حرماں نصیب ’دُلہن ‘ کو عصر حاضر کے ہندوستان کی ’خونچکاں‘صورت حال کے استعارے کے طور پر پیش کیاہے ۔
’’سُکھ کہاں ہے؟رہزنوں کو راہبر سمجھ رہے ہیں تو راستے پُرخطر تو ہوں گے ہی۔تقدیر کاکھیل دیکھتی ہوں کہاں تک لے جاتی ہے ۔دل شکن حادثوں نے کمزور کر دیا ہے۔نئی سرکار نے پورے شہر میں روشنی کا انتظام سخت کردیا پھر بھی تاریکی اس قدر گہری ہے کہ اپنا وجودبھی نہیں دکھائی دے رہا ،تا ریکی کا علاج چراغوں سے نہیں ہوگا ۔ہر گام پر چنگاری رقص کر رہی ہے ۔جس سے پوری نسل کے جلنے کا امکان ہے،حالات کے موڑ پر کھڑی دیکھ رہی ہوں چنگاری کس طرف جا رہی ہے ،نگاہیں تعاقب میں ہیں کہیں پوری کائنات راکھ نہ ہو جائے ۔‘‘ (ایضاً ،ص:۳۹)
شہنازرحمن کے اس افسانوی مجموعہ میں اکیسویں صدی کے مختلف و متضاد حقائق و مسائل کی زندہ اور متحرک تصویریں ہیں جن میں بڑی فن کارانہ مہارت کے ساتھ کہیں کہیں پوربی اوراودھی الفاظ و محاورات ،ضرب الامثال اور اصطلاحات کی رنگ آمیزی نے اِن کی دلکشی اور تاثیر کو دوچند کر دیا ہے۔موقع و محل کے اعتبار سے ’’لانگ‘‘اور’’ پیرول ‘‘کی آگہی کی بنیاد پر لسانی برتائو کا یہ عمل ان کے افسانوں کے بیانیہ میں ارضیت پیدا کرتا ہے جس سے اودھ کی مٹی کی خوشبو آتی ہے ۔وہ لکھتی ہیں :۔
’’کھیتالا یادو نے آکر کہا ،ارے رکنو بابوکچھ سنے ہو؛سنت کبیر میںسرکس آوا ہے ۔اتنا مزیدار ہے کہ اوکرے آگے نکھلئووالا اندر سبھا پھیل ہو گوا ہے ۔ریتا نام کَے ایک لڑکی ہئی،پانچ روپیہ میں دس کھیل دیکھاوت ِہئی ،ارے پوچھو نہ جیسے پُھر گدی اُڑت ہِئی،اگر دیکھے کے ہے تو چلو رات کے ہمرے ساتھ۔‘‘ (ستیہ وان ،ص:۱۶)
’’کرم جلی نہ جانے کہاں سے ہمرے کوکھ میں جنم لے لہِس رہا،،پہلے تو وہاں سے بھاگ آئی ۔سادی میں اڑنگا ڈالِس اور پھر نہ جانے کے کر دیوانی رہی ،سادی کے دن پھرار ہوئے گئی اللہ کری تو سُکھ کے دانہ نصیب نہ ہوئی۔اللہ انصاری ہوٹل والن کے بہوت کچھ دیئیں کہ با راتن کے کھاناکھلائے دِہِن۔‘‘
(عجیب سکھ ،ص:۱۷۲)
اس کے علاوہ شہناز تشبیہ و استعارہ کو برتتے ہوئے مثالی تخلیقی نثر لکھنے پر بھی قدرت رکھتی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہناز اچھی طرح جانتی ہیں کہ افسانہ کے واقعات ، کردار اور موقع و محل کی مناسبت سے کب کس طرح کا اسلوب اختیار کرنا چاہئے ۔ایک دو نمونے دیکھتے چلیں: ۔
’’۔ہوانے تو موسم باراں سے قحط کی سازشیں کر لی ہیں ،ڈوبتے سفینوں کی ناخدائی کے لئے بھیجے گئے بادبانوں نے غداری کر دی ۔مچھلیاں تشنگی سے پھڑ پھڑانے لگی ہیں ،گھٹائیں بارشوں کے سندیسے صرف سمندروں کو دیتی ہیں ۔‘‘ (خونچکاں ،ص:۳۵)
’’اس مردنی کی وجہ یہ تھی کہ گنتے گنتے چالیس سال ستاروں کی طرح اوجھل ہو گئے مگر چاند نے اپنا رُ خِ بے حجاب نہیں دکھایا ۔ان کی اہلیہ محترمہ ٹکٹکی باندھے فلک کو دیکھتی رہیں شاید اس کی گردش ان کے خلاف پوری ہو چکی ہو ۔مگر ان کی تمنائوں میں جھولنے والا کوئی نہیں آیا صرف تمنائیں ہی انھیں جھولاجھلاتی رہیں ۔‘‘ ( نیرنگ ِجنوں،ص:۶۸)
اس مجموعہ کے افسانوں کاموضوعاتی تنوع مصنفہ کے نہ صرف عمیق بلکہ و سیع اور ہمہ جہت مشاہد ے کا پتہ دیتاہے۔ جس کامیابی کے ساتھ وہ ازداوجی زندگی کے پیچ و خم کو بیان کرتی ہیں اورخالص نسوانی جذبہ کو ٹٹول لیتی ہیں اسی کامیابی کے ساتھ ملک کے سیاسی مسائل کوبھی بڑی چابکدستی سے بیان کرتی ہیں۔ افسانہ’’باگ ڈور ‘‘ میں آج کی سیاست کی سطحیت،بدلتی ہوئی و فاداریاں،ہندوووٹ،مسلم ووٹ اور دلت ووٹ کے نام پر Polarisation ،ووٹ بینک کو توڑنے جو ڑنے کے گھناونے کھیل ، سیاسی جماعتوں کا اخلاقی زوال؛،رائے دہندگان کورشوت خوری پر آمادہ کرنے کی کوشش وغیرہ پر طنز کرتے ہوئے بڑی مہارت کے ساتھ افسانے کو اس طرح بُنا ہے کہ افسانہ کی افسانویت،صحافتی عناصرکے غلبہ کے باوجود مجروح نہیں ہوتی، بلکہ اظہار و بیان کاآزاد اور بے محابہ رویہ ان افسانوں کو ’ما بعد جدید افسانہ کے منصب پر فائز کرتا ہے ۔پہلے ملکی سیاست کا یہ منظر دیکھئے،خاص یا عام ہر قاری اسے اپنا ہی مشاہدہ قراردے گا ؛۔
’’ہاں مسلم رائے دہندگان کی ایک بڑی تعدادمیرے ساتھ ہے اور ۱۵۔فیصدبرہمن تمہاری اور عمران بھائی کی پارٹی کے ساتھ ہیں ۔۲۰۔فیصد دلتوں پر بھی عمران بھائی کی پارٹی قابض ہے ،باقی پنیتالیس فیصد پسماندہ ذات ہی طے کریں گے کہ مسند اقتدار پر کس کو جانا چاہئے ۔‘‘
’’آخر کیا کیا جائے ۔۔۔تیرے یہاں پولیٹیشین اتنا گر گئے ہیں کہ رائے دہندگان کو نقدی ،شراب اوردیگر اشیا کی شکل میں رشوت دے کر لبھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔‘‘
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نوجوان نسل کا ایک بڑا طبقہ’’فرقہ زبان اور ذات جیسے فالتو جھنجھٹوں سے دور ہے۔انھیں نہ تو مذہبی مقامات کے جھگڑوں میں دلچسپی ہے اور نہ ہی ذات پات سے ۔‘‘
(باگ ڈور،ص۴۶)
شہناز رحمن کے افسانوں کا منظر نامہ جدید اور مابعد جدید ڈسکورسیزپر مبنی ہے۔جس کے تحت کسی بھی طرح کے تعصبات،توقعات ،مفروضات نظام ، اور روایات کی کو ئی حتمی اور مستقل صورت نہیں ہوتی لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مصنفہ اپنے مذہبی ،اخلاقی اور تہذیبی اقدار سے لاتعلق ہیںبلکہ اس سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ انھوں نے اپنے افسانوں کو کسی مخصوص پہلو سے مختص کرکے محدود نہیں ہونے دیا ہے ۔ان کے یہاں ہجرت اور بے وطنی کا کرب ،گھر خاندان سے جدا ہو جانے کے غم کے علاوہ دوسرے جذباتی پہلوئوں کی عکاسی کے ساتھ ساتھ خاندانی اور سماجی اقدار کے تئیں سنجیدگی کا رویہ پایا جاتا ہے ۔
’’لڑکیاں تو گھر کی نعمت ہیں ۔والدین کے گھر ہیں، تو ایک فرماں بردار بیٹی اور پیار کرنے والی بہن بن کر گھر کو رونق بخشتی ہیں، سسرال گئیں تو تو وفادار بیوی اور ذمہ دار بہو کا فرض ادا کر کے سب کا دل جیت لیتی ہیں۔‘‘ (خونچکاں ،ص:۳۱)
’’بہو شر مندگی چھپانے کے لیے جھوٹ بولنا ضروری تو نہیں ،تم دونوں روزہ نہیں رکھتے ہو ،مگر قرآن شریف کی تلاوت کر لیا کرو ،یہ با برکت مہینہ خوش نصیبوں کو ہی ملتا ہے ۔‘‘ (اندھیروں کا علاج،ص:۱۱۱)
مذکورہ اقتباس سے کم و بیش ناصحانہ انداز سامنے آتا ہے لیکن یہ جملہ چونکہ راوی کے بجائے ایک کردار کی زبان سے ادا ہو رہا ہے اس لیے قابل گرفت نہیں ۔شہنازکے سماجی ،سیاسی اور مذہبی عناصر کے حامل افسانوں پر تو گفتگو ہوئی لیکن ایک خوشگوار پہلو رہ گیا جسے مصنفہ نے بڑے منفرد انداز میں برتا ہے وہ ہے رومانی جذبات و واقعات کا بیان،جس کے عمدہ نمونے ـ ’طائر بے نوا اور افسانہ میں موجود ہیں۔اس صدی میں شائع ہونےوالےبیشترمجموعہ ڈیجیٹل اورگلوبل دنیاؤں کی نت نئی ایجادات اوران کے استعما ل سے رونما ہونے والے ہوش ربا نتائج کے بیان سے مملو ملتے ہیں لیکن پیش نظر مجموعہ ’نیرنگ جنوں‘میں کئی افسانو ں میں موقع بہ موقع رومانی جذبات کی چاشنی بھی موجود ہے ۔ان افسانوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنسی جذبات کا بر ملا و بے باک اظہار مصنفہ کے مزاج سے میل نہیں کھاتا اسی لیے بعض مقامات پہ رمز و ایماء اور ضرورت سے زیادہ اختصار سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے قاری کے تاثر ات میںوہ شدت نہیں آتی جو بے باک بیان کے نتیجہ میں پیدا ہو نے کا امکان تھا تاہم اس انداز کی وجہ سے ان کے یہاں ایک خاص طرح کی داخلیت پیدا ہو جاتی ہے جس میں ابتذال و رکاکت کی کہیں کوئی گنجائش نہیں۔
شہناز رحمن کے اکثر افسانوں کے مرکز میں عورت کی محرومیاں اور حرماں نصیبیاں بھی ماتم کناں ہیں۔افسانہ ستیہ وان میں اریطہ کا عبرتناک انجام ہے ۔’’خونچکاں ‘‘میں کنواری دُلہن پر نازل ہونے والا ، شوہر کی ہم جنسیت کا عذاب قاری کی روح کو تڑپاتا ہے ۔ افسانہ’’ شگافوں کے پیچھے ‘ ‘ میں چنکیؔکی بکھری ہوئی زندگی کا کرب ہے ،افسانہ ’’نہ کہیں جہاں میں اماں ملی ‘‘میں اپنی زمین اپنی مٹی سے بچھڑ کر بے گھر ، بے وطن ،اور بے اماں ہو جانے والی صباؔ کی نا رسائیاں ہیں ۔افسانہ ’’مکمل نامکمل ‘‘میں مبینہ کی انجان چاہت کی خاموش بے زبا ؔؔن کسک ہے ۔نسوانی کرداروں پر مشتمل ان افسانوں کی بنیاد پر شہنازرحمن کے افسانوں کو ایک زاویے سے ’’تانیثی ‘‘Feministic افسانے بھی کہا جا سکتا ہے لیکن ان کا مقصد تانیثی افسانے لکھنا نہیں بلکہ اکیسویں صدی میں تیزی سے بدلتی ہوئی Episteme کے
سروکاروں،یعنی حقائق اورمسائل،تعصبات ،توقعات ، مخصوص نظریات ، مفروضات،قانونی نظام اور اقدار کے درمیان زندگی جینے کے مختلف اور متضاد تیوروں کو آئینہ دکھانا ہے ۔اس کے لئے وہ اپنے لاشعورمیںمحفوظ واقعات، روایات، مفروضات اور رسومات کو بھی بیشتر افسانوں کی بُنت میں استعمال کرتی ہیں،جس سے افسانہ میں سِریت بھی پیدا ہوتی ہے اور شہناز رحمن اپنے اس عمل میں پوری طرح کامیاب ہیں ۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’نیرنگ جنوں ‘‘کے افسانے یہ ثابت کرتے ہیں کہ معاصر افسانہ کے کسی بھی مطالعے میں شہناز رحمن کونظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

