یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شاعر کا کلام اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اور شخصیت اس کے ماحول کی پروردہ ۔ واحدپریمی ماحول گر ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی دنیا آپ پیدا کرکے زندہ رہنا چاہتے ہیں ا ور پھر اسی دنیا میں ’’اپنا مقام‘‘ بھی پیدا کرتے ہیں۔ واحد صاحب کی شاعری تجربات اور مشاہدات کی شاعری ہے جس کا اظہار وہ عقل و خرد کی کارفرمائیوں کے ذریعے جابجا کرتے رہتے ہیں وہ جنوں سے بھی کام لینے کے اسقدر عادی ہیں کہ ایک معمولی کام سے لے کر بڑے سے بڑا کام بھی اسی کے توسط سے کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سارے کلام پر ’’جنوں‘‘ چھایا رہتا ہے اور اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو واحد صاحب کا یہ وصف ان کی زندگی کی ترقی میں بڑا ممدو و معاون ثابت ہوا ہے۔ ان کی شاعرانہ شخصیت اسی جنوں کی رہین منت ہے یہ وہ جنوں ہے جسے آپ عشق کہیے لگن کہیے یا عملی زندگی میں ان کی دیوانگی سے تعبیر کیجیے۔ (یہ بھی پڑھیں جدید غزل کا آئینہ – ڈاکٹر عادل حیات )
واحد پریمی ایک جواں سال اور خوش فکر شاعر ہیں وہ بڑے چونکادینے والے انداز سے میدان شاعری میں آئے اور غزل کی آغوش میں سب پا کر اسی کو اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنا لیا۔ اصناف شاعری میں غزل کا انتخاب موصوف کی طبعی مشکل پسندی کی دلیل ہے۔ غزل بظاہر جتنی سہل ہے بباطن اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اس میں اکثر ایسے مقامات آتے ہیں جہاں شاعر کو پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے۔ واحد صاحب نے ایسے مقامات سے گزرتے ہوئے بڑی ہوشیاری اور چابکدستی کاثبوت دیا ہے۔ جس کی وجہ سے فن پر ان کی دسترس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بیشتر کلام میں فکر و فن کا بڑا اچھا توازن ہے۔ بعض مقامات پر جذبات و احساسات کی امتزاجی کیفیت قاری کے دل کے تاروں کو چھو لیتی ہیں۔
واحد پریمی کے کلام کا ایک خاصہ یہ ہے کہ ان کے یہاں خوف اور مایوسی کا شائبہ بھی نہیں ۔ یہ وصف ان کی بلند ہمتی اور استقامت طبع کی خبر دیتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ وہ ایک نڈر ، حوصلہ مند اور بے باک انسان ہیں ۔ حق بات کہنے میں کبھی پس و پیش نہیں کرتے۔ سلاست اور روانی ان کے کلام کی امتیازی خصوصیات ہیں۔
میں تو یہاں تک کہوں گا کہ جن لوگوںکو غزل کے دامن کی وسعت کا اندازہ ابھی تک نہ ہوا ہو وہ واحد پریمی کے مجموعۂ کلام ’’گل نو‘‘ کا مطالعہ کریں۔ اس میں ان کو روایت کی پاسداری کے ساتھ ہی تنوع بھی ملے گا اور زندگی کے مختلف شعبوں کی جیتی جاگتی تصویریں بھی نظر آئیں گی۔ واحد صاحب زندگی میںجہدو عمل کے قائل ہیں اور اپنے نظریات کے ساتھ عملی تعاون کرتے ہیں ۔ ایک اچھے شاعر ہونے کے علاوہ بحیثیت انسان بھی ان کی منکسرالمزاجی، شرافت اور خلوص کے قائل ہیں۔ ان خوبیوں نے ان کو اپنے حلقہ کا مقبول و محبوب شاعر بنا دیا ہے۔ ذیل کے اشعار سے واحد پریمی کی فنی پختگی اور ندرت خیال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ؎
خوشا یہ جرأتِ تعمیر نو دیوانے کی
قفس میں رکھی ہے بنیاد آشیانے کی
یہ رنگِ گردشِ قسمت یہ مووئی مے نوشی
کبھی ساقی نہیں ہوتا کبھی موسم نہیں ہوتا
راہ طلب کی لاکھ مسافت گراں سہی
دنیا کو میں جہاں بھی ملا تازہ دم ملا
رونق نہ تھی جب مجھ سے تو پھر کوئی بتائے
سونی ہے کیوں وہ انجمن ناز ابھی تک
جن کو ہے زعم برتری واحد
ہیں وہ احساس کمتری کے اسیر
مرحبا فیضِ جنوں مرحلۂ دار سے بھی
مسکراتا ہوا دیوانہ گزر جاتا ہے
بارہا زبانوں پر لگ گئی ہے پابندی
بار ہا نگاہوں سے کی ہے گفتگو ہم نے
بزم میں وہ خموش کیا ہوں گے
رہ سکے جو نہ دار پر خاموش
اندھیروں میں اجالے ڈھونڈتا ہوں
یہ حسن ظن ہے یا دیوانہ پن ہے
آشیاں جلنے پہ بنیاد نئی پڑتی ہے
عکس تخریب کو آئینۂ تعمیر کہو
یہ چند شعر بطور نمونہ پیش کیے گئے ہیں تاکہ تشنگی باقی رہے اور باذوق قاری واحد پریمی کا دیوان حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکل پڑے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

