جدید اردو افسانہ قدیم افسانے سے مختلف ہے،اس کا یہ اختلاف ہر سطح پر ہے،بنیادی اختلاف تکنیک اور ہیئت کا ہے جس کے ذریعہ کہانی پیش کی جاتی ہے،کوئی واقعہ تو بغیر کردار کے ممکن ہے لیکن کوئی کہانی بغیر کردار کے نہیں ہوسکتی، مذکورہ تصور قدیم ہے۔نئے تصور کے مطابق جدید افسانہ صرف کردار ہی نہیں،کہانی،پلاٹ،آغاز،انجام اور وحدت تاثر کی بھی نفی کرتا ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہر جدید کہانی کا یہ مسئلہ ہوالبتہ جدید افسانے کا یہ حاوی طریق ضرور رہا ہے۔سریندر پرکاش جدید افسانہ نگار ہیں،ان کے یہاں دونوں طرح کے افسانے مل جاتے ہیں،ان میں مذکورہ اصولوں کی نفی بھی ہے اور اثبات بھی،سردست جس کردار”تلقارمس“ سے متعلق گفتگو مقصود ہے،وہ دونوں طرح کی کہانیوں میں آیا ہے۔پہلی کہانی میں وہ موہوم و معدوم ہے جبکہ دوسری کہانیوں میں وہ مرتسم و مجسم ہے،اسی لئے اس کردار کو نامیاتی قرار دیا گیا ہے۔ ”تلقارمس“ پر گفتگو سے قبل سریندر پرکاش کے افسانوی فن پر گفتگو زیادہ مناسب ہے تاکہ تفہیم میں آ سانی ہو سکے۔
سریندر پرکاش جدید افسانہ نگار ہیں،ان کو موضوعات کے انتخاب،فنی طریق کار،زبان و اسلوب کے تنوع اور ظاہری شکل و ہیئت جیسے عوامل نے جدید بنایا وہ مسائل کو نئے انداز میں دیکھتے ہیں اور فن کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر اسے پیش کرتے ہیں۔تنوع کا مطلب قدیم سے کلی انحراف نہیں ہے بلکہ اس میں توسیع ہے،اگر سریندر پرکاش کے افسانوں میں اس تنوع کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہو تا ہے کہ ان کے افسانے قدیم و جدید کے درمیان کی کڑی ہیں،ان کے یہاں کہانی بھی ہے اور ہیئت کا تنوع بھی،بعض افسانوں میں انہوں قدیم ہیئت کو مسخ کرتے ہوئے افسانے کوجدید ہیئت میں پیش کیا۔ایسے افسانوں میں انہوں نے قدیم افسانے سے کلی طور پر انحراف کیا ہے۔سریندر پرکاش کے فن سے متعلق شمس الرحمن فاروقی کی رائے دیکھئے:
سریندر پرکاش (یا نئے افسانہ نگار)اور پریم چند (یا پرانے افسانہ نگار)کے درمیان دو طرح کے فاصلے ہیں۔ایک تو ذہنی فاصلہ اور دوسرا تکنیکی۔ذہنی فاصلہ اس قدر تحیر و استعجاب کا سبب نہیں بن سکتاجس قدر تکنیکی فاصلہ اکثر بن جاتا ہے۔میر اور غالب کے ذہن ایک دوسرے سے خاصے دور ہیں لیکن تکنیکی مماثلت کی وجہ سے میر اور غالب بادی النظر میں ایک دوسرے سے بہت زیادہ متغائرنظر نہیں آتے۔جب فن پارہ خلق کرنے اور اس کو بنانے کا ڈھنگ بھی مختلف ہو اور ذہن بھی تو ایک عجیب و غریب نفسیاتی فصل کا احساس ہوتا ہے۔اور بہت سے قاری اس فصل کی خلیج آسانی سے نہیں پاٹ پاتے۔ (1)
شمس الرحمن فاروقی دوسرے افسانہ نگاروں اور سریندر پرکاش کے تکنیک کے فرق کو ان الفاظ میں واضح کرتے ہیں:
سریندر پرکاش کی تکنیک پریم چند یا عصمت یا بیدی سے کس طرح مختلف ہے؟سب سے پہلا فرق تو وہی ہے جو تمام منطقی اور وجدانی ادب کا مابہ الامتیاز ہے۔ان افسانوں میں کہانی آگے نہیں بڑھتی بلکہ نمو کرتی ہے۔یعنی یہ افسانے تعمیر کئے ہوئے نہیں ہیں۔بلکہ کسی پودے کی طرح بالیدہ ہیں۔ان میں غالب کے مصرعے کی طرح لباس نظم میں بالیدن مضمون عالی ہے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔دوسرے الفاظ میں یہ افسانے زمان میں نہیں بڑھتے پھیلتے بلکہ مکان میں بڑھتے پھیلتے ہیں۔ان کے واقعات میں زمانی تسلسل اور نقطہ آغاز و اختتام نہیں ہے۔ (2)
وہ سریندر پرکاش کے کرداروں سے متعلق لکھتے ہیں:
یہ افسانے محض بے پلاٹ کے نہیں،اگر پلاٹ نہ ہو لیکن کردار زمان میں حرکت کرتا رہے تو بھی افسانے کو ایک داخلی ربط میسر ہوجاتا ہے۔ان کہانیوں کے کردار بھی کسی نقطہ وقت پر ٹھہرے ہوئے اور اس میں گرفتار ہیں۔اگر وہ حرکت بھی کرتے ہیں تو اپنے اپنے ذہنوں کی خلاؤں میں۔اس طرح ان کہانیوں میں بے بدنی (Bodylessness)پائی جاتی ہے۔جو بیک وقت مضطرب بھی کرتی ہے اور متحیر بھی،ممکن ہے کہ یہ تمام افسانے بحیثیت مجموعی عہد حاضر کی پرچھائیں نما انسان کی تمثیل ہوں۔یا ممکن ہے ان کرداروں کا پرچھائیں پن ذہن انسان کی گہرائیوں میں باہم نبرد آزماان گنت جبلتوں،نیم شعوری اور تحت الشعوری آگاہیوں اور پیچیدگیوں کو احاطہ کرنے کا ایک ذریعہ ہو۔بہر صورت ان کہانیوں میں ایک تقریبا ناقابل برداشت خلا نظر آتا ہے۔اس خلا میں پلاٹ کے جزیرے نہ ڈھونڈیئے بلکہ سایہ نما ستاروں کے جھرمٹوں کی طرح کرداروں کو نیم تاریکی میں ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے دیکھئے تو ان کہانیوں کی معنویت نظر آئے گی۔ (3)
افسانے میں کردار دو طرح کے ہوتے ہیں ایک فلیٹ اور دوسرا راؤنڈ۔فلیٹ کردار کا مطلب ہوتا ہے ایسے کردار جن میں حرکت و عمل نہ ہو بلکہ وہ جامد ہوں،یہ جمود دو طرح کا ہو سکتا ہے،ایک تو ان میں حرکات و سکنات کا فقدان ہو،وہ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے،ٹھس ہوں،ہاتھ پیر کی طرح ذہن بھی ماؤف ہو۔دوسرے حرکات و سکنات ہونے کے باوجود اس کا عمل اس کی اپنی مرضی کے مطابق نہ ہو بلکہ ان کی حرکت مشینی ہو تو اس کو بھی فلیٹ کے زمرے میں ہی رکھا جائے گا۔راؤنڈ وہ کردار ہوتے ہیں جو جمود و تعطل سے مبرا،عمل و حرکت ان کی پہچان ہوتی ہے،یہ کردار تہہ دار بھی ہوتے ہیں،جتنا ان پر غور کیا جائے گا یہ کھلتے چلے جائیں گے۔ایسے ہی کردار نیم تاریکی میں ہاتھ پاؤں مارتے ہیں جس کی جانب شمس الرحمن فاروقی نے اشارہ کیا ہے۔کرداروں کی تفہیم میں مکالموں بھی کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ایک طرف جہاں حرکت و عمل اس کی تفہیم کی راہ کھولتے ہیں وہیں مکالمے بھی اس میں معین و مدد گار ہوتے ہیں،کیونکہ اس سے ان کی اپنی نفسیات کے ساتھ اس ماحول،فضا،حالات اور معاشرے کی بھی عکاسی ہوتی ہے جس میں ان کی وہ نفسیات تشکیل پائی ہے جس کے تحت وہ مکالمے ادا کر رہے ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں ارضی حقیقت اور ثقافت کا ناول: تخم خوں – پروفیسر علی احمد فاطمی)
شمس الرحمن فاروقی کے مطابق سریندرکاش کے افسانے خواب نما ہیں،جس طرح خواب میں دیکھئے گئے کردار کبھی بھی کسی بھی جون میں تبدیل ہوسکتے ہیں وہی حال سریندر پر کا ش کے کرداروں کا ہے لیکن تکنیکی طور پر وہ آزاد تلامہ خیال کا استعمال کرتے ہیں:
سریندر پرکاش نے خواب کی تمثیلوں کوصرف مشینی طور پر نہیں اپنایا ہے (یعنی ان افسانوں میں محیر العقول واقعات اور ناقابل یقین قلب ماہیئت کا ذکر صرف برائے زیب داستاں نہیں ہے)بلکہ انہوں نے ان افسانوں کے ذریعہ شعور و احساس کی اس نیم بیدار منزل کو گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے جہاں تجربہ سپر ایغو(Super Ego)کے قیود و بند میں محبوس نہیں ہوتا بلکہ آزاد تلازمہ خیال کے سہارے نت نئی شکلیں بناتا ہے۔ (4)
آزاد تلازمہ خیال(Free Association of Ideas)وہ تکنیک ہے جس میں خیال کسی ترتیب کے ساتھ نہیں آتے ہیں،بلکہ منتشر خیالی اس کا وصف ہے،اس تکنیک کے سہارے ترتیب متن میں مواد اور موضوع کی سطح پر کوئی تنظیم و ترتیب نہیں ہوتی ہے،راوی کا ذہن کبھی ماضی میں ہوتا ہے تو کبھی حال میں اور کبھی کبھی جست لگا کر وہ استقبال میں بھی پہنچ جاتا ہے اور جھانک کر فورا واپس آجاتا ہے.اس کا تعلق انسانی وجود کے انتشار سے ہے جو اصلا دنیا و مافیہا کے انتشار کی علامت ہے،لیکن جب یہ متن تکمیل تک پہنچتا ہے تو مجموعی متن کے جائزے سے جو صورت ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ماضی،حال اور استقبال کی کہانی بیان کرتا ہے۔اس کی سب سے بہترین مثال افسانہ ”تلقارمس“ ہے۔راوی کی منتشر خیالی نے آزاد تلازمہ خیال کے ذریعہ ایک ایسا متن ترتیب دیا ہے جو زمانے کے انتشار کو بیان کرتا ہے۔اس سلسلے میں افسانہ نگار پروفیسر طارق چھتاری لکھتے ہیں:
اس (تلقارمس)افسانے میں ایک خاص خوبی یہ ضرور ہے کہ پورا افسانہ ایک ہی جملے میں بغیر کاما یا فل اسٹاپ کے چلتا ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ دور جدید میں (جس دور میں یہ افسانہ تخلیق ہوا)زندگی کے بہت سارے مسائل آپس میں اس طرح گڈ مڈ ہیں کہ کہانی کار کو کہیں کاما یا فل اسٹاپ لگانے کا موقع ہی نہیں ملتایعنی ان مسائل کو ایک دوسرے سے الگ کرنا اس کے لئے ناممکن بن جاتا ہے۔ (5)
سریندر پرکاش ایک پر اسرار افسانہ نگار ہیں،جو اپنے علائم خود تخلیق کرتے ہیں،بعض علامتیں واضح ہوتی ہیں اور بعض نہایت پیچیدہ۔ان کے افسانوں میں وہ اسرار بھی ہے جس کے پیچھے کچھ دکھائی نہیں دیتاکیونکہ اس میں علامتیں بھی نہیں دکھائی دیتی ہیں۔ کوئی لفظ صرف استعمال سے علامت نہیں بن جاتا ہے بلکہ اس کے لئے ایک ایسی فضا تخلیق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ علامت یا استعارے کے طور پر اپنے وجود کا احساس کرا سکے،ایک لفظ جب متن کے باہر ہوتا ہے تو اس کے معنی الگ ہوتے ہیں لیکن وہی جب بامعنی متن میں اپنے انسلاکات و تلازمات کے ساتھ آتا ہے توعلامت بن جاتا ہے۔ لیکن اگر ان کے افسانہ ”تلقارمس“ کی قرات کی جائے تو یہاں علامتیں دکھائی نہیں دیں گی اس کے باوجود افسانے میں غضب کی پر اسراریت ہے۔در اصل یہ ایک تجریدی اور تجربی افسانہ ہے،جس پر آئندہ گفتگو کی جائے گی،سریندر پر کاش کے فن کی پر اسراریت سے متعلق شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
شروع شروع میں سریندر پرکاش کے افسانوں میں اسرار(Mystery)کا عنصر غالب تھا۔اور بعض لوگوں کو سمجھنے میں دقت ہوتی تھی کہ اس اسرار کے پیچھے کیا اسرار ہے۔اسی لئے میں نے عرصہ ہوا سریندر پرکاش کی علامتوں کو خواب کی علامتوں سے تشبیہ دی تھی کہ وہ خود منطق سے بالا تر ہوتی ہیں۔(6)
اس کی بہترین مثال ان کے پہلے افسانوی مجموعہ ”دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم میں شامل افسانہ ”تلقارمس“ اور دوسرے افسانوی مجموعہ باز گوئی میں شامل ”بازگوئی“اور جمغورہ الفریم ہیں۔اول الذکر افسانے میں کوئی واضح کردار نہیں ہے۔واحد غائب،واحد حاضر اور راوی ”میں“ یعنی واحد متکلم کے صیغے اس کردار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ثانی الذکر اور ثالث الذکر میں یہی تلقارمس بطور کردار سامنے آیا ہے،جو اپنے مکمل وجود کے ساتھ ہے۔البتہ باز گوئی کے کردار تلقارمس میں ورائیت نہیں ہے اور نہ وہ کردار خواب کی تمثیل ہے بلکہ مکمل ایک وجود ہے جو عام انسانوں کی طرح ہے لیکن جمغورہ الفریم میں یہی کردار ورائیت کا حامل ہے۔شمس الرحمن فاروقی کے مطابق خواب کی تمثیل بھی ہو سکتا ہے،لیکن یہ کردار پہلے کے دونوں کرداروں سے بالکل الگ ہے۔ایک بات اور شمس الرحمن فاروقی نے کہی ہے،جس سے ان کے افسانوں کی فضا کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔وہ لکھتے ہیں:
جب سریندر پرکاش انسانی المیہ اور انسانی طربیہ کو یکجا کردیتے ہیں تو اس وقت وہ پھر اپنی پر اسرار نقاب اوڑھ کر قاری کو تحیر،تجسس اورخوف میں مبتلا کردیتے ہیں اور اس طرح ایسا افسانہ خلق کرتے ہیں جو مکمل معنوں میں اسطوراتی Mythopoieicکہا جا سکتا ہے۔(7)
اس کی بہترین مثال باز گوئی،جمغورہ الفریم اور ”ساحل پر لیٹی ہوئی عورت“ہیں۔ان کہانیوں میں تحیراور تجسس کے ساتھ ہی خوف بھی اپنے عروج پر ہے۔جمغورہ الفریم میں جہاں تلقارمس کا ہر عمل تحیر،تجسس اور خوف کی علامت ہے،اس کے ہر فیصلے کے پس پشت یہی تینوں عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔پورے افسانے میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہے جہاں تلقارمس کے افعال و کردار سے یہ تینوں کیفیتیں معرا ہوئی ہوں،خواہ ہوٹل میں اس کی آمد ہو،چائے پینے کے دوران اس کا عمل اور ہاتھ سے اشارہ یا پھر کنویں میں اترنا پھرہاتھ باہر نکالنا اور تینوں ذیلوں کرداروں کو اپنے ساتھ دوہزار ایک برس قبل کی دنیا میں لے جانا ہو یا پھر ان تینوں کو جدا کرکے قبائل میں تقسیم اور حامد مرزا کی پیدائش،حبارا کی سیاسی پشت پناہی اور پھر اس کی شکست کے بعد پشارا کا ساتھ،پروہت کی ذہنی تبدیلی ہو یا پھر سیاسی داؤں پیچ کے ذریعہ پشارا کا قتل۔ ہر جگہ تحیر،تجسس اور خوف کار فرما نظر آتا ہے۔اسی طرح سے افسانہ ”باز گوئی“ ہے،جس میں لمحہ لمحہ تحیر و تجسس ہے۔خوف کا آغاز غیاب کی آواز اور پر سوز غلامانہ گیت سے ہوتا ہے جو ملکہ شبروزی کے محل میں نقطہ عروج پر پہنچ جاتا ہے، جس کا خاتمہ قاسم بن ہدیٰ کی تلوار کرتی ہے اور پتھروں کی چھاتی پر داستان رقم کرتے کرتے تلقارمس خودکھنڈروں میں کھنڈر ہو جاتا ہے۔یہی وصف افسانہ ”ساحل پر لیٹی ہوئی عورت“کا ہے جس کا مرکزی کردار شکاری مرگول جو اندھا تھا،اندھا ہونے سے قبل وہ ایک ہرن کا تعاقب کرتے ہوئے اس سرحد پر پہنچ گیا جہاں بغیر اجازت نامہ کے انسانوں کا داخلہ ممنوع تھا جس کی وجہ سے اس کو رکنا پڑالیکن وہاں کی پرسکون فضا اور دلفریب منظر نے اس کو وہیں روک لیا اور وہیں پر وہ رہنے لگا۔ ایک دن وہ خرگوش کا شکار کرکے واپس آرہا تھا،اس نے دیکھا کہ ایک سیاہ فام الف ننگی عورت سمندر سے نکل کر ساحل کے ریت پر اپنے پیر کے نشان چھوڑتی ہوئی جا رہی ہے،اسی درمیان مردہ خرگوشوں میں سے ایک نے چپکے سے رسی کھولی اور کود کربھاگ نکلا،مرگول قوت مردمی سے محروم تھا،وہ خرگوش کی حرکت و ہمت دیکھ کرجوش میں آیا اور اس عورت کی طرف دیوانہ وار بھاگالیکن وہ ایک ایسے اندھے غار میں چلی گئی جس کا کوئی سرا نہیں تھا۔اس پوری کہانی میں ہر گام پر تحیر،تجسس اور خوف ہے،خواہ وہ انسانوں کا چٹ پٹ گرنا اور مرنا ہو یا پھر مرنے کے خوف نہ سونا ہوہر جگہ ان ہی تینوں کی کارفرمائی ہے۔
سریندر پرکاش افراد سے زیادہ ماحول اور تاریخ اور تہذیب کی نفسیات سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ان کے بعض افسانے اسطوری نہ ہونے کے باوجود اسطوراتی محسوس ہیں کیونکہ وہ ایسی فضا ہی خلق کرتے ہیں اور یہ اسطور صرف فضا سے نہیں بنتے بلکہ وہ پوری ایک تہذیب خلق کردیتے ہیں،جس کے جھروکے سے دور حاضر جھانکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ دونوں عصر آپس میں گڈ مڈ ہوگئے ہیں،کبھی عصر حاضر ماضی میں پیوست نظر آتا ہے تو کبھی ماضی عصر حاضر میں تبد یل ہو جاتا ہے۔یہ سب ان کی فنی مہارت اور تخلیقی وفور کے ساتھ فنی شعور کا نتیجہ ہے۔سریندر پرکاش کا کوئی بھی افسانہ اٹھا لیجئے اس کا تعلق تہذیب سے ضرور ہوگا خواہ وہ تہذیب خلق کردہ ہی کیوں نہ ہو۔اس باب میں ساحل پر لیٹی ہوئی عورت،باز گوئی اور جمغورہ الفریم سے بہتر کوئی مثال نہیں ہوسکتی۔سریندرپرکاش کے لافانی کردار”تلقارمس“ کا تعلق بھی تاریخ اور تہذیب سے ہے۔افسانہ جمغورہ الفریم میں تو باضابطہ وہ نوتیج کو محرر مقرر کرتا ہے جو تاریخ نویسی کا فریضہ انجام دیتا ہے۔دوسرے افسانوں میں وہ تہذیب کی شکست و ریخت کا اعلامیہ بن جاتا ہے،کبھی تاریخ اس کے دوش پر چل کر نئی تہذیب بناتی ہے اور کبھی وہ خود نئی تاریخ رقم کرکے اس تہذیب کو فنا کے گھاٹ اتارنے میں ممد و معاون ہوتا ہے۔اس تناظر میں بھی اس کردار کا مطالعہ دلچسپی سے سے خالی نہیں۔
تلقارمس:
اب تک کسی نقاد نے افسانہ ”تلقارمس“کے کہانی کے متن کی ساخت کی بنیاد پر اس بات کا دعوی نہیں کیا ہے کہ یہ افسانہ نہیں ہے،جس کا مطلب ہے کہ اس کے افسانہ ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے۔چونکہ یہ ایک جدید تجریدی افسانہ ہے اس لئے اس میں کہانی پن مفقود ہے،یعنی اس میں کہا نی کے تمام اجزا موجود نہیں ہیں۔سب سے پہلے تجریدی افسانے کے حوالے سے بنیادی باتیں جان لی جائیں تو زیادہ مناسب ہے۔کیونکہ تجرید کی بنا پر ابہام پیدا ہوتا ہے جس سے تفہیم کا مسئلہ پیش آتا ہے۔اس سلسلے میں سلیم شہزاد اپنی کتاب ”قصہ جدید افسانے کا“ میں لکھتے ہیں:
کردار اور واقعے کی تجرید کا تعلق افسانے کی داخلی ہیئت سے ہے۔لیکن تجریدی افسانے کا بیانیہ جو افسانوی اظہار کے وسیلے زبان سے متعلق ہے غیر مربوط،غیر روایتی،،لسانی قواعد سے رو گرداں،اور بظاہر بے معنویت کا غماز ہوتا ہے۔پس کہا جا سکتا ہے کہ ان خواص کی حامل زبان سے ابہام کی نمود ہوتی ہے۔
آگے لکھتے ہیں:
کردار کی تجرید سے افسانے میں ابہام رو نما ہوتا ہے۔
کردار کی تجرید ماحول اور منظر و پس منظر کی بھی تجرید ہے۔
کرادر اور واقعے کی تجرید سیافسانے کی خارجی اور داخلی ہیئتیں متاثر ہوتی ہیں۔(8)
مذکورہ گفتگو کے پس منظر میں اگر سریندر پرکاش کے افسانہ ”تلقارمس“ کو دیکھا جائے تو پوری طرح سے یہ تجریدی افسانہ قرار پاتا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس افسانے میں کہانی پن نہیں ہے،نہ پلاٹ اور نہ کوئی قصہ/واقعہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ سریندر پر کاش کی نمائندہ کہانیوں میں شامل ہے۔جس کی سب سے بڑی وجہ اس کہانی کی وہ نئی تکنیک ہے جسے پیش رو افسانہ نگاروں میں صرف سعادت حسن منٹو نے ”پھندنے“ میں برتا تھا۔پلاٹ سے عاری اس کہانی میں ایک دو نہیں کئی کہانیاں ہیں۔کہانی تو بیانیہ ہے لیکن اس کا ہر جملہ دوسرے جملے سے غیر مربوط ہے،یعنی ہر بات دوسری بات سے جدا ہے لیکن ہر جملہ اپنے آپ میں نہ صرف مکمل ہے بلکہ اس کے پس پشت ایک جہان معانی ہے،اس کے ابعاد اس بات کے ضامن ہیں کہ وہ جامد جملے نہیں بلکہ نامیاتی ہیں،اس کہانی کے ہر جز میں ایک کل ہے۔دوسرے لفظوں میں اگر کہا جائے تو اس کا ہر جملہ بذات خود ایک کہانی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس ایک کہانی میں پچاسوں کہانیاں مضمر ہیں۔افسانے کا سب سے بڑا جو وصف بیان کیا گیا ہے وہ وحدت تاثر ہے لیکن یہ بات اب پرانی ہوچکی جس کی حیثیت اب کلیشے کی ہوگئی ہے۔اس کہانی میں وحدت تاثر نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے البتہ ہر جملہ الگ وحدت ہے اور اس کا تاثر اسی کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔اس لئے اس کی تفہیم کہانی کے بجائے جملوں سے کی جانی جاچاہئے،ہر جملے پر الگ سے غور وفکر کی ضرورت ہے۔افسانہ ”تلقارمس“کے بارے میں پروفیسر طارق چھتاری لکھتے ہیں:
اگر پوچھا جائے کہ اس(تلقارمس)کہانی کا موضوع کیا ہے؟تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جدید کہانی کے بہت سارے موضوعات ایک ایک جملے میں اس کہانی میں پرو دیئے گئے ہیں۔اس کہانی میں سینکڑوں مسائل کی جانب مبہم اشارے کئے گئے ہیں اور وہی مسائل جدید کہانی کے موضوعات ہیں۔(9)
کرداری سطح پر اس میں کہیں کوئی کردار چلتا پھرتا نظر نہیں آتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس میں کردار نہیں ہے۔کسی بھی فن پارے کی تفہیم کے کئی زاویے ہو سکتے ہیں،پہلا تو یہی ہے کہ راست طور پر کہانی کی تفہیم قدیم طرز پر کی جائے لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ کہانی بھی اسی پیٹرن کی ہو،اگر ان دونوں میں تضاد ہوگا تو کہانی کی تفہیم ممکن نہیں ہوسکے گی۔اس کہانی کو بھی اسی انداز میں سمجھنے کی کوشش کی گئی،اسی لئے کوئی سرا کسی کے ہاتھ نہیں آیا،بس اتنا کہہ دیا گیا کہ ایک تجریدی افسانہ ہے اور بات ختم۔جب متن کی بنت نے واضح کردیا کہ اس کی ترتیب و تشکیل قدیم کے بجائے جدید طرز پر ہوئی ہے تو اصولی طور پرتفہیم کا طریقہ بھی جدید ہی ہونا چاہئے۔یہ کہانی اس دور کی ہے جب جدیدیت کا دور عروج تھا اور فنی سطح پر نت نئے تجربے کئے جا رہے تھے۔اسی دوران یہ کہانی بھی تخلیق ہوئی جو تکنیکی طور پر قدیم پیٹرن سے بالکل جداگانہ تھی جس کی وجہ سے تفہیم اور ترسیل کا مسئلہ پیدا ہوا۔
”تلقارمس“ میں تلقارمس نا م کا کوئی کردار نہیں ہے بلکہ متن کے اندر اس لفظ کا کہیں استعمال تک نہیں کیا گیا ہے،یہ اس کہانی کا سرنامہ ہے۔ایسے میں سب سے پہلا سوال یہی تھا کہ آخر تلقارمس ہے کیا؟اس کی تفہیم کیسے کی جائے؟اس لفظ سے کیا مراد لیا جائے؟اس لفظ کا اس کہانی سے کیا تعلق ہے؟اس لفظ کے اندر اور اس کے پس پشت معانی کی کون سی دنیا پوشیدہ ہے۔جس طرح سے کہانی کا عنوان جو بظاہر کسی کردار کا نام محسوس ہوتا ہے جو بالکل نیا ہے،اسی طرح سے کہانی اپنی ساخت اور معنوی جہات کے اعتبار سے بالکل نئے انداز کی ہے۔
سب سے پہلے ”تلقارمس“کی تفہیم ضروری ہے جس کے بعد کہانی کے اسرار و رموز خود بخود قاری /سامع پر وا ہوجائیں گے۔”تلقار مس“سریندر پر کاش کا ایک نامیاتی کردار بھی ہے اور ایک عہد کا نام بھی لیکن یہ سبھی عہدوں کو محیط ہے،یہ عہد زمان و مکان سے ماورا ہے۔یہ ماضی بھی ہے،حال بھی ہے اور مستقبل بھی۔سریندر پرکاش کایہ تخلیقی اعجاز ہے کہ انہوں نے ایک لفظ کو کردار بھی بنا دیا اور اسی کو بطور عہد بھی پیش کیا۔کہانی میں ایک ساتھ یہ عہد کا استعارہ بھی ہوتا ہے اور اس عہد کا ایک کرداربھی۔سب سے پہلے اجمالی طور پر یہ سمجھ لیا جائے کہ تلقارمس عہد کا نام کیسے ہوسکتا ہے۔
عام طور پر کہانی میں ایک حاوی بیانیہ ہوتا ہے جس کے جلو میں چند ذیلی بیانیے/شیڈس بھی آجاتے ہیں جن کی بنیاد پر اس متن کو کثیر جہتی قرار دے دیا جاتا ہے،اگر کثیر جہتی اسی کو کہتے ہیں تو پھر اردو فکشن میں ”تلقارمس“ سے زیادہ کثیر جہتی کہانی اب تک میری نظر سے نہیں گذری ہے۔کون سا شیڈ/زاویہ ہے جو اس کہانی میں نہیں ہے،کسی بھی کہانی کے متعدد زاویوں سے ہی وہ پورے عہد کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔کہانی کے چندزاویوں کی طرف متن کے حوالوں سے اشارہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
کہانی کا آغاز ماہ ستمبر میں آنسو گیس کے استعمال سے امتناع سے ہوتا ہے کیونکہ کسان راشن کارڈ کا بیج شہر سے لینے آیا ہوتا ہے،یہ مہمان نواز بھی ایسے ہوتے ہیں کہ انڈوں کی جگہ اپنے بچوں کے سر ابال دیتے ہیں اور روٹیوں کی جگہ اپنی عورتوں کے پستان کاٹ کر پیش کردیتے ہیں لیکن آخری وقت جب راوی”میں“ نزع کے عالم میں تھا تو اس کا راشن کارڈ چرانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس پورے بیانیے کی تفہیم سماجی اور معاشی تفریق کے تناظر میں کی جانی چاہئے،یہاں دو باتوں کا لحاظ ضروری ہے اول اس کا اخلاقی وتہذیبی سیاق و سباق ہے کہ جس کا تعلق کسانوں سے ہے،وہ اخلاقی و تہذیبی سطح پر اس قدر اعلی ہیں کہ وہ اپنے مہمان کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں،ظاہر سی بات ہے جو شخص کسی کے لئے اپنے بچوں کا سر اور اپنی عورتوں کا پستان تک کاٹ کر پیش کرسکتا ہے تاکہ اس کا مہمان بھوکا نہ رہے وہ بھلا کیا نہیں کرسکتا ہے لیکن اگر ایسا شخص چور ی کرنے کی کوشش کرے وہ بھی کاغذ کے ایک ٹکڑے کی،اور ایسے عالم میں جب ایک شخص نزع کے عالم میں ہو تو ضرور اس کے پس پشت کچھ ایسے عوامل ہوں گے جس نے تہذیبی سطح پراس بالاو برتر شخص کے اخلاق و کرادر اوروجود میں اس طرح کا گھن لگایا ہوگا،جس نے اس کو چوری جیسارذیل عمل کرنے پر مجبور کیا۔ایسا کرنے والے کون لوگ ہیں؟بس اس سوال کا جواب اس پورے جملے کی تشریح و تعبیر ہے،یہ کہانی جس دور میں لکھی گئی اس سے قبل ترقی پسند تحریک عروج پر تھی اس نے کسانوں اور مزدوروں کی لڑائی لڑی لیکن اس کے بعد حالات کچھ تبدیل ہوئے مگر مسائل اپنا جامہ بدل کر سامنے آئے،کسان تب بھی تھے اور اب ہیں،ان کے مسائل بھی برقرار ہیں اور یہ مسائل پیدا کرنے والے بھی موجود ہیں،اس تناظر میں اس جملے کی تفہیم اس کی حقیقت تک رسائی دے سکتی ہے۔
”انہوں نے اپنے خوانچے اونچی اونچی دیوا روں پر لگا رکھے تھے اور نیچے وادی میں جھوپڑیاں جل رہی تھیں،جھونپڑیاں جلنے تک گاڑی پلیٹ فارم تک آجاتی اور سب لوگ آگے بڑھ کر اپنی لاش پہچان لیتے پھر وہ گرم کباب کی ہانک لگاتے،کوئی نہ پوچھتا کس عزیز کے گوشت کے کباب ہیں۔“(10)
اس بیانیے میں غربت اور خود غرضی کے ساتھ ہی انسانی جانوں کی ارزانی اور رشتوں کی پامالی بیان کی گئی ہے۔ وہ اولا اپنے خوانچے اونچی دیواروں پر لگاتے ہیں تاکہ ہر شخص کا ہاتھ ان کے مال تک نہ پہنچ سکے،جس کو وہ چاہیں اسی کو دیں یعنی وہ سانپ کی طرح کنڈلی مار کر اس دولت پر بیٹھ گئے ہیں۔اپنی لاش کی شناخت اپنے وجود کی شناخت کی علامت ہے۔لاش وجود کے حسیات سے عاری ہونے کی علامت ہے،چونکہ لوگ اخلاقی قدروں سے معری ہیں اس لئے وہ جلی ہوئی لاشوں کے گوشت سے کباب تیار کرکے فروخت کر دیتے ہیں۔جلی ہوئی لاشوں کا کباب بھی اپنے اندر معانی کی تہہ در تہہ رکھتا ہے۔اس کا تعلق دوسروں کے نقصان سے جلب منفعت سے ہیاس کا تعلق ظاہری طورپراس متوسط طبقے سے ہے جونچلی سطح سے ذرا اوپر ہے لیکن باطنی طور پر یہ بیان ہر اس طبقے سے تعلق رکھتا ہے جہاں رشتوں کا احترام نہ ہواور خود غرضی نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہوجو ادنی کے بجائے اعلی طبقے میں زیادہ ہوتا ہے،چونکہ یہ صرف بیان نہیں بیانیہ ہے اس لئے اس کی لفظیات اور ان کا دروبست کچھ اس طرح ہے جو عام اور سادہ بیان سے الگ ہے جس کی وجہ سے ابہام پیدا ہوگیا۔
اس کہانی میں سماجی سطح پر طوائف،دوستی اور اس میں دھوکہ وفریب،میاں بیوی کے مابین رشتوں کی کشا کش، عاشق و معشوق کے رشتے اور مجبوری میں کسی اور سے شادی اور شادی کے بعد عاشق کو بھائی بنا کر شوہر کو دھوکہ،دوست کی بہن کے ساتھ شادی کا مشورہ اور اس کے خاندانی پیشہ ہونے کی طرف اشارہ اور پھر اپنی بہن کی شادی اس بھنگی سے کرانے کی ہدایت جس سے اس نے وعدہ کر رکھا ہے وغیرہ کے ذریعہ سماج کی حقیقت کشائی کی گئی ہے جبکہ اس کہانی کا آغاز سیاسی تناظر میں ہوتا ہے،کہانی کا مذہبی تناظر فرشتہ،پاکھنڈی سادھو، قاضی، شراب، حرام،حلال،اور عیسائی لڑکی کے ذکر کے ذریعہ سامنے آتا ہے،جبکہ پانی، خون،نہر،دریا،پہاڑفوجی اور تلوار کے ذریعہ ملک کی حالت بیان کی گئی ہے جو کسی بھی ملک کا Socio Politacal زاویہ پیش کرتا ہے۔جبکہ اس کا آخری جملہ”یہ تو خیر سب کو بتا دو کہ وہ ایٹم بم کی ایجاد کے وقت کیا کہہ رہا تھا مگر اس بات کا خیال رکھنا کہ یہ کسی کو نہ پتہ چلے کہ تم کیا کہتے ہو،کیونکہ تم نے اس کی بات مان لی ہے کہ اب جسمانی طور پر تمہارا کوئی وجود نہیں ہے“۔ایٹم بم کے ایجاد کی کہانی اور انسانی وجود کی نفی سے متعلق ہے اور دنیا آج اسی دہانے پر کھڑی ہے۔مجموعی طور پر اس کہانی میں ایک دو نہیں متعدد جہات ہیں۔جس کی جانب ہلکے ہلکے اشارے کئے گئے ہیں جن کے توسط سے کہانی کی روح تک ممکن ہے رسائی ہو جائے۔افسانہ ”تلقارمس“ میں اس عہد کے اکثر بیشتر گوشوں کا احاطہ ہے،اس طرح یہ کہانی پورے ایک عہد کی کہانی بن جاتی ہے جس کو سریندر پرکاش نے ”تلقارمس“ کا نام دیا ہے۔یعنی عہد ہی تلقارمس ہے اور تلقارمس ہی عہد ہے دونوں ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔
”تلقارمس“ جب دوسری کہانیوں مثلا باز گوئی اور جمغورہ الفریم میں آتا ہے تو وہاں بھی وہ ایک عہد کی ہی نمائندگی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔بازگوئی میں ”تلقارمس“ایک کردار ہے لیکن کردار سے زیادہ یہ عہد بن کر ابھرتا ہے،اس کردار کی نفسیات پورے عہد پر نہ صرف حاوی ہے بلکہ اس کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مکمل ایک عہد ہے،غلام سے لے فنکار اور پھر حکومت کی زمام کار سنبھالنے سے لے کر ایک خوب رو ملکہ کے شباب کے حصول اور پھر مے ناب میں غرق ہو کر اپنی اور سلطنت کی تباہی تک سب کچھ اس میں موجود ہے، جو ایک شخص کے بجائے ایک عہد کی صفت ہے۔اسی طرح افسانہ ”جمغورہ الفریم“ میں تلقارمس اس عہد کی وہ قوت و طاقت بن کر ابھرتا ہے جو پورے عہد پر حاوی ہے،یہاں بھی وہ کردار سے زیادہ عہد کی ہی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ اس سے جو بھی اعمال و افعال صادر ہوتے ان سے اس کی ذات کا کوئی افادی انسلاک نہیں ہوتا بلکہ اس سے اس عہد کے افراد کا خیر و شر وابستہ ہو تا ہے۔خواہ عوام کی قبیلوں میں تقسیم ہو یا پھر چانکیہ کی طرح حبارا کو جہاں بانی کی سیاست کا درس ہو،پروہت کے کان میں کاناپھوسی اورعوام کا مائنڈ سیٹ اپ تبدیل کرنا ہو یا نوتیج،پربل کمار اور حامدمرزا کو دو ہزار ایک برس کے اسرار سے واقف کرانا ہو۔ہر جگہ ’تلقارمس‘ عہدسازنظر آتاہے۔جو در اصل عہد کا استعارہ ہے۔اسی لئے تلقارمس کو ”کردار“ کے مقابلے عہد کا نام دیا جانا زیادہ مناسب ہے۔
اگر ”تلقارمس“ کو کردار تسلیم کرلیا جائے جو ظاہری طور پر افسانہ ”باز گوئی اور جمغورہ الفریم“ میں موجود بھی ہے تو اس میں بھی دلچسپی،حیرت و استعجاب اور تحیر کے ساتھ ہی خوف نمایاں نظر آتا ہے،ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ کردار خود کبھی خوف کی زد میں نہیں آتا بلکہ اس کے اعمال وافعال قاری کو خوف زدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں،اس کردار میں خیر سے زیادہ شر کے پہلو ہیں،اسی طرف اس کا جھکاؤ نظر آتا ہے خواہ وہ افسانہ تلقارمس ہویا پھر باز گوئی اور جمغورہ الفریم سب میں یہ وصف نمایاں ہے۔اس کردار کی تخلیق کا بھی عجیب معاملہ ہے،بیس برس کے عرصے میں اس کی تخلیق مکمل ہوئی،یہ ایک نامیاتی کردار ہے،پہلے اس کے وجود کا شائبہ ہوتا ہے اور پھر وہ دھیرے دھیرے مشکّل ہوتا ہے اور آخر میں مارائیت اور الوہیت کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔افسانوی مجموعہ ”دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم“میں افسانہ ”تلقارمس“شامل ہے،جس میں یہ کردار صرف نام کی حد تک ہی موجود ہے،اس کی شبیہ معدوم کی حد سے زیادہ نہیں،افسانے میں صرف واحد غائب، حاضراور روای متکلم کے طور پر ہی نظر آتاہے جبکہ دوسرے افسانوی مجموعہ ”بازگوئی“ جو بیس برس کے بعد 1988میں شائع ہوا اس میں اسی نام کے افسانے میں ’تلقارمس‘ سے قاری کی ملاقات جب ہوتی ہے تو ایک غلام ابن غلام فنکار ہوتا ہے،جس کی آواز میں ایک سحر ہے اور ”غیاب“ پر جب انگلیاں رقص کرتی ہیں تو اس کے ساز سے گونگے بھی بول پڑیں،پھر وہ کامیاب تاجر،ظلم سے لڑنے والا انقلابی،وزیر اعظم کا عہدہ لے کرحکومت کے نگہبان کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔پہلے افسانے کے مقابلے یہاں یہ کردار موہوم اور معدوم سے موجود کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔جو تمام انسانی صفات سے متصف ہے،اس میں خیر بھی ہے اور شر بھی،اس کے پاس دل درد مند بھی اور قساوت قلبی بھی لیکن یہی کردار جب افسانہ ”جمغورہ الفریم“ میں آتا ہے تو الوہی/ماورائی قوت کا استعارہ بن جاتا ہے،وہ موجود بھی ہوتا ہے اور معدوم بھی،جس کے شواہد متن میں موجود ہیں۔اس کے ہاتھ ظاہری اور باطنی دونوں طور پر لمبے ہیں جس کا معنوی اطلاق لفظی اور اصطلاحی دونوں سطح پر ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا تناظر میں اگر اس کردار کی تفہیم کی کوشش کی جائے تو شاید اس کردار /عہد کی حقیقت قاری پر منکشف ہوجائے اس لئے اب متن کی شہادت کے بنیاد پر اس کردار کوسمجھنے کی کو شش کی جائے گی۔تلقارمس کا ذکر سب سے پہلے اسی نام کے افسانے میں آیا جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔ اس افسانے میں اس کی شکل معدوم اور موہوم ہے،جو تجریدی افسانے کا خاصہ ہے،افسانے کی قرات کے درمیان بالمشافہ کہیں قاری کی اس سے ملاقات نہیں ہوتی ہے لیکن اس دوران تہہ متن سے کہیں کہیں اس کی شبیہ ضرورقاری کی نظروں کے سامنے جھلک جاتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی کردار افسانے کی ترتیب و تشکیل کے فنی رمز کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔افسانہ نگار اس کردار کی جانب واحد غائب، واحد حاضراور راوی واحد متکلم کے صیغے سے اشارہ کرتا ہے۔متن سے ایسے تینوں صیغوں کے جملوں کو الگ الگ نقل کیا جاتا ہے۔
واحد غائب کی مثالیں:
وہ بڑے مہمان نواز قسم کے لوگ تھے/جب میں نزع کی عالم میں تھا وہ میرا راشن کارڈ چرانے کی سوچ رہے تھے/انہوں نے اپنے خوانچے اونچی اونچی دیواروں پر لگا رکھے تھے/کل کتنا خون سفید ہوا؟ابلتے ہوئے خون کی دیگچی انگیٹھی پر سے اتار لو باقی کام وہ خود آکر کرے گا،نہیں اس میں ملائے گا کچھ نہیں،بس آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھے گااور پھر اسے فرش پر پھیلا دے گا/ہماری فوج سے اس کا کیا مقابلہ وہ کمینگی کی حد تک نیاآدمی ہے/اس کے کندھے پر ہمیشہ خالی بوری پڑی رہتی ہے اور بائیں ہاتھ میں اپنے جوتے تھامے رہتا ہے،پاؤں کے نیچے زمین تک نہیں رہتی پھر کہتاہے میں اکتا گیا ہوں /وہ ہمیشہ اسٹیج پر بڑا سا ٹوپا پہن کر آتا ہے اور سامعین کی طرف پیٹھ کرکے کھڑا ہوجاتا ہے،اس طرح وہ بڑا اداس لگتا ہے/پڑوسی کے فیتے سے اپنا قد ماپتا ہے پھر روئے گا بیٹھا ہوا/وہ پہاڑ کے دوسری طرف رہتے ہیں اور وہ نہر کے دوسرے کنارے پر دونوں میں دوستی ہے دونوں ایک دوسرے کی عورت پر بری نظر رکھتے ہیں /اس کا ذکر میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا وہ صبح سویر ے منھ اندھیرے باہر نکل جاتا ہے/پھر جب کچی سڑک پر گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنائی دیتی ہے اور سورج آہستہ آہستہ اپنی رون سے جھانکتا ہے وہ آجاتا ہے،یہ دیکھ کر ہمیں بڑی حیرت ہوتی ہے کہ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک اور مطمئن ہے/ہمارے پاس بیچنے کے لئے بہت کچھ ہے خریدار شہر کے دروازے سے داخل ہوگا تو ہم اسے پھولوں کے ہار پہنائیں گے/وہ ہمارے جسم کو چھو کر دیکھے گا پھر ناخنوں سے کرید کر ہمارا خون نکالے گااور اسے انگلیوں کے پوروں پر مل کر اس کا معائنہ کرے گا/وہ وہیل چیئر پر بیٹھا ہمیں گھورتا رہتا ہے /وہ تو خیر سب کو بتا دو کہ ایٹم بم کی ایجاد کے وقت وہ کیا کہہ رہا تھا۔
واحد حاضر کی مثالیں:
جب تم چلے جاؤگے تو پھر اخبار میں ایک اور اشتہار چھپے گابکاؤہیں دو یتیم بچے اور ایک بیوہ عورت/تم باہر سے آ رہے ہو دروازہ آہستہ سے بھڑا دواور آکر کان میں بتاؤ کہ باہر کونسی ہوا چل رہی ہے/یہ ماننے میں تمہیں کیا حرج ہے کہ تم ایک اگنورینٹ پرسن ہو/جو شہر تم چھوڑ آئے ہو اس کی دیواروں پر ابھی تک تمہاری پیشاب سے بنی تصویریں رو رہی ہیں شاید وہ تمہاری تقدیر پر رو رہی ہیں /دوست کی بہن سے شادی کیوں نہیں کر لیتے یہ تو تمہارا خاندانی پیشہ ہے اب اپنی بہن سے اس بھنگی کی شادی کرادو۔
مذکورہ سبھی جملے ایک جہان معانی لئے ہوئے ہیں جس کی طرف ابتدا میں اشارہ کیا گیا تھا۔مذکورہ جملوں میں واحد حاضر اور غائب کے صیغوں کے پس پشت ایک کردار نظر آ رہا ہے،یہ کردار تلقارمس ہی ہے،جس کی جانب ہمہ داں راوی واحد غائب اشارے کر رہا ہے۔افسانے کی تخلیق میں آزاد تلازمہ خیال کی تکنیک کا استعمال ہوا ہے،جس میں اگر ایک ہی کردار بار بار شکل تبدیل کرکے قاری کے سامنے آئے اور کبھی وہ ہمہ داراوی بھی بن جائے تو کوئی بعید بات نہیں ہے۔یہی اس افسانے میں ہوا ہے،کہیں وہ جمعیت میں چھپا نظر آتا ہے جیسا کہ پہلے جملے میں ہے اور کبھی واحد غائب اور واحد حاضر کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ متعدد جملوں میں دیکھ سکتے ہیں اور کبھی کبھی یہی کردار راوی کی شکل میں بھی نظر آتاہے،یہ کردار جامد نہیں بلکہ نامیاتی اور تقلیبی ہے۔
راوی کی مثالیں:
خداکے وجود کے جتنی شراب چوری کے گلاس میں ڈالو،ساتوں فرشتوں کو بلا کر پاس بٹھا لو اور پھر بلند آواز سے کہومفت کی ہے حرام کی ہے،تم قاضی ہو اور تم پر حلال ہے/جہاں جنگ ختم ہوتی نظر آئے وہیں ہتھیار صاف کرنے لگو اس سے بڑا رعب پڑتا ہے/کل والی چودہ کی چودہ باتیں پھر سناؤایک لفظ زیادہ ہو نہ ایک لفظ کم/سبھی ہم جیسے نامرد ہیں /میں نے تو کسی کے ہاتھ ہتھکڑی نہیں بھیجی تھی/مجھے کیا پڑی تھی کہ ان پھٹے میں پاؤں پھنساؤں /اپنے جہازوں سے تو سامان اترتا نہیں کہ کسی سمندر خشک کرتا پھروں /کاش مجھے میری موروثی تلوار مل جاتی تو میں ان کے دودھ کی دھار کاٹ ڈالتا/ہر بن باس کی ایک مدت مقرر ہے،کچھ صدیاں اور سہی جی ہاں اب اس کی پیدائش میں التوا کی گھڑیا ختم ہوچکی ہیں /کبھی تمہاری بیوی بھی خوبصورت تھی،دوسرے کی عورت تو جاذب ہوتی ہی ہے اس کے اندر بھی جھانک کر دیکھو بیچاری پیہم اسقاط کی وجہ سے نڈھال ہوئی جارہی ہے/ایک کلوگندم کے بدلے ایک کلو خیال تول دو،آگے زمانہ بڑا سستا آرہاہے/اب لگے سمندر سے ڈرنے پہاڑ پر چڑھ کر سورج تک نہیں پہنچ سکتے/پد یاترا کب شروع کر رہے ہو اس عیسائی لڑکی کو کو ضرور ساتھ لے جانا جس کی شادی کے لئے اخبار میں اشتہار چھپا تھا۔
مذکورہ مثالوں میں ”تلقارمس“راوی کی شکل میں بیانات اور ہدایات دیتے ہوئے نظر آتا ہے چونکہ مابعد کے افسانوں بازگوئی اور جمغورہ الفریم میں جو اس کی جبلت ہے وہی ان جملوں سے بھی جھلکتی ہے،اس لئے اس میں کوئی تامل نہیں کہ راوی بھی ”تلقارمس“ کی شکل اختیار کرلیتا ہے یا تلقارمس راوی کی شکل میں آکر اپنی جھلک دکھا تا ہے۔اہم بات یہ کہ ”تلقارمس“کی یہ تینوں شکلیں افسانے میں کسی تنظیم و ترتیب سے سامنے نہیں آئی ہیں بلکہ ان میں انتشار ہے، تینوں غیر منظم طور پر آئے ہیں جس کی وجہ سے کہانی مزید الجھ گئی اور قاری غچہ کھا گیا،اس کی گرفت میں یہی نہیں آیا کہ اس افسانے میں کردار کہاں ہے۔چونکہ افسانے میں تنظیم نہیں ہے، اس لئے اس سے اس کا کہانی پن بھی مفقود ہوگیا،اس طرح کردار اور کہانی دونوں کا معاملہ یکساں ہوگیا۔
بازگوئی:
سریندر پرکاش کے افسانہ ”باز گوئی“ کی قرات کے دوران انتظار حسین کی وہ رائے ذہن میں کوند جاتی ہے جو انہوں نے افسانوی مجموعہ ”بازگوئی“ کے فلیپ پر لکھی ہے:
”جدید اور قدیم جب گھال میل ہے،انمل بے جوڑ عجب طور پر ملتے ہیں،کہانی نئی ہے مگر اس کے رشتے پھیلتے پھیلتے داستان اور دیو مالا سے جاملتے ہیں“۔(11)
اس افسانے کا بھی یہی عالم ہے،کہانی تو نئی ہے مگر اس کے رشتے داستان اور اساطیر سے جا ملتے ہیں۔تلقارمس کی تلاش بھی ایک ایسی جگہ اور ایسے طور پر ہوتی ہے جس کا تعلق داستان سے ہی محسوس ہوتا ہے۔اسی طرح اجانیر جہاں قدیم مصر محسوس ہوتا ہے وہیں ملکہ شبروزی قلوپطرہ کی توام معلوم ہوتی ہے،اس کے اوصاف اور اس کی نفسیات پوری طرح سے اس سے میل کھاتی ہے۔خود تلقارمس کوئی یونانی کردار معلوم ہوتا ہے،جبکہ اس کے دوسرے کردارفرید ابن سعید،عابد،یوسف اور قاسم بن ہدی بعد از اسلام کے معلوم ہوتے ہیں،یعنی کہانی کی تنظیم قدیم و جدید کرداروں اور انمل جوڑسے کئی گئی ہے۔
افسانے میں ”تلقارمس“ایک غلام باپ کا غلام بیٹا ہے، جس کی ماں دل دردمند رکھتی ہے،وہ نیک سیرت خاتون ہے جو اس کے باپ کی روح کے سکون اور بیٹے کی کامیابی کے لئے تسبیح کے دانے گنتے گنتے سوجاتی ہے،وہ اس کو آلہ موسیقی”غیاب“ دے کر گھر سے روانہ کرتی ہے،غلامانہ نغمہ چھیڑنے میں وہ اپنے سوز کے ساتھ غیاب کے ساز کا سہارا بھی لیتا ہے۔فرید ابن سعیدکو اس کی آواز اور ساز سن کر اپنی غلامی کا دور یاد آجاتا ہے تووہ اپنے غلام یوسف کو بھیج کر اس کو جنگل سے رات میں ہی تلاش کراتا ہے۔در اصل غربت اور محرومی کا فنکاری اوردردمندی سے بڑا اہم تعلق ہے۔اس کی آواز اور ساز دونوں میں جادو تھا،جس کا سب سے پہلا اسیر فرید ابن سعید ہوتا ہے۔اس کی فنکاری ہی اس کو تاجر بنا دیتی ہے اور وہ اجانیر پہنچ کر ایک کامیاب تاجر بن جاتا ہے لیکن یہاں اس کے مزاج میں ایک تبدیلی آتی ہے،جب انسان کے ہاتھ میں دولت آتی ہے توفن کی ناقدری شروع کردیتا ہے،یہی وجہ تھی کہ جب اس نے کاروبار شروع کیا تو اس کا غیاب جو اس کی شناخت تھا اس کے ساتھ نہیں تھا بلکہ سرائے میں رکھا ہوا تھا،اجانیر سے روانگی کی ماقبل شام وہ اپنے اگلے سفر اور اگلی زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا اس کا وقت ایک واقعہ پیش آتا ہے دیکھئے:
”وہ اپنی خوشگوار سوچ میں غرق تھاکہ ہوا کے ایک تیز جھونکے سے دیوارکے ساتھ ٹکا رکھا اس کا غیاب زمین پر چھن سے آپڑا۔اس کی سوچ کا سلسلہ ٹوٹا اور وہ غیاب کی طرف لپکا،اس نے غیاب اٹھایا،غیاب صحیح سلامت تھا۔اس نے غیاب سینے سے لگایا تو اشرفیوں کی تھیلی نیفے سے پھسل کر زمین پر گر پڑی،اس نے جھک کر تھیلی اٹھائی تو غیاب کا گز ہاتھ سے پھسل کر زمین پر آپڑا۔وہ پریشان ہوگیا۔“(12)
یہ واقعہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ آئندہ پیش آنے والے واقعات وحالات کا پیش خیمہ ہے،فن اور دولت کی کشمکش ہے، یہیں سے اندازہ ہونے لگتا ہے کہ آئندہ تلقارمس کا کردار کون سا رخ اختیار کرے گا لیکن یہ کھلتا نہیں ہے۔جب فرید ابن سعید، عابد اور یوسف کو سنگ باری کے ذریعہ قتل کیلئے شہر کے چوک پر باندھ دیا جاتا ہے تومجبوری میں وہ اپنے جھولے میں چن چن کر پتھر رکھتا ہے، جسے اپنے محسنوں پر چلانا ہے لیکن جب پتھر نکالنے کے لئے جھولے میں ہاتھ ڈالتا ہے تو اس کو اس کی ماں یاد آجاتی ہے جس سے اس نے وعدہ کیا تھا کہ ظالم کے لئے نہیں مظلوم کے لئے اپنے غیاب کے تار چھیڑے گا۔اور پھر اس نے یہی کیا،جھولے میں سے پتھر نکالنے کے لئے اس میں جو ہاتھ ڈالا تھا وہ خالی نکلا،اس نے غیاب کا گز سنبھالا اور اب جو اس نے سر اٹھا یا اس کے ہونٹوں پر غلاموں کا ترانہ تھرک رہا تھا، ایک اسم کی طرح جس میں بلا کی طاقت تھی۔اس نے صرف ایک پتھرظالم و بدکار ملکہ کی سپاہ کی طرف پھینکا پھر چاروں طرف سے اس پر پتھر برسنے لگے اور پھر پورا منظر بدل گیا۔یہ تلقارمس کی آواز اور اس کے ساز کا ہی کرشمہ تھا جس نے ہاری ہوئی بازی جوش و جذبے سے جیت لی، آن کی آن میں پانسہ پلٹ دیا اور سپہ سالار جفیل جو سیاہ و سفید کا مالک تھا،گرفتاری کے بعد قتل کر دیا گیا۔غلام ابن غلام تلقارمس کے اب دن بدلتے ہیں اور وہ ملکہ کی سرپرستی میں قائمہ حکومت کا وزیر اعظم منتخب کر لیا جاتا ہے،چونکہ افلاس و غربت کا وہ خود مارا تھا اس لئے ایک مثالی حکومت کی داغ بیل ڈالی،وہ اجانیر کا نجات دہندہ تھا۔اس لئے اس نے ایسا نظام تیار کیا کہ کوئی بھی بھوکا نہ رہے،سب خوش رہیں یہاں تک کہ حیوان تک بھوکے پیٹ نہ رہیں:
”تلقارمس نے سوچ رکھا تھا،شہر اجانیر میں ایک کتابھی بھوک سے مر گیا تو اس کی ذمہ داری ہوگی“۔(13)
لیکن اس دوران ملکہ شبروزی کے ساتھ نے اس کو اندر ہی اندر سلگا رکھا تھا،وہ اس احساس کو کوئی نام نہیں دے پا رہا لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ ملکہ کے لئے تڑپ رہا ہے اور وصال ہی سے اس کے اندر کی آگ بجھ سکتی ہے۔اس کی اسی کیفیت کا ملکہ شبروزی نے فائدہ اٹھایا اور ایک ایسا قدم اٹھانے پر مجبور کردیا جو اس کی زندگی میں خیر و شر کے مابین فصل بن گیا۔اس عمل سے قبل کا تلقارمس خیر کا اعلامیہ ہے جبکہ ایک بدکار ملکہ کے حصول کے لئے ماں کا کلیجہ نکال کر اس کے سامنے رکھنے کے بعد کا تلقارمس شرکی علامت ہے۔اس خیر و شر کے مابین اگر حد فاصل ہے تو تلقارمس کا یہی فیصلہ حالانکہ ماں کا کلیجہ نکالنے کے بعد بھی وہ پوری طرح سے تبدیل نہیں ہوا تھاکیونکہ جب ایک نالا پھلانگتے ہوئے گھوڑا بے دم ہوا اور تلقارمس نے توازن کھویا تو دونوں نالے کی دوسری طرف جا کر گرے اس درمیان وہ تھیلی بھی چھٹک کر دور جا گری، جس میں اس کی ماں کا دل تھا۔جب وہ سنبھل کر اٹھنے لگا تو اس تھیلی سے آواز آئی ”میرے بچے کہیں چوٹ تو نہیں لگی “یہ سن کر تلقارمس کادل درد سے بھر گیااور وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔تلقارمس اگر اس پشیمانی کو قائم رکھ پاتا تو وہ خیر کی طرف دوبارہ بھی لوٹ سکتا تھا لیکن اس نے خیر کے بجائے اس شر کی جانب جانا زیادہ پسند کیا جس میں ملکہ کا شباب اور سرکاری شراب تھی۔ملکہ جسم دے کر طاقت حاصل کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مغنی تلقارمس کی آواز اور ساز میں وہ سحرہے جو عوام کو اس کے خلاف کھڑا کر سکتی ہے، اسی لئے اس نے حسن کا سہارا لے کراس کو تڑپایااور خواہش کو اس نقطہ عروج تک پہنچا دیا کہ ماں کا کلیجہ نکال کر محبوب کے قدموں میں رکھ دیا۔فصل کے بعد جب وصل کے لمحات نصیب ہوئے تو غلام ابن غلام مغنی تلقارمس کو دیکھئے:
تلقارمس تو پہلے ہی ملکہ شبروزی کے جسم کی چاہت میں تڑپ تڑپ کر دل و دماغ کھو چکا تھا۔اب تو اسے وہ جسم مہیا تھا اور وہ اس جسم میں بری طرح سے غرق تھااور ملکہ شبروزی اسی طرح سے من مانی کر رہی تھی جس طرح سے وہ بادشاہ بازفادی اور سپہ سالار جفیل کے زمانے میں کرتی تھی“۔(14)
ہمہ داں راوی /افسانہ نگار کادوسرا بیان دیکھئے:
نیم برہنہ سی ملکہ شبروزی تلقارمس کے رو برو کچھ اس طور آن کھڑی ہوئی جسم کو خم دیئے ہوئے کہ اس کا حلق سوکھ گیا،لب خشک ہوگئے،اور خشک لبوں پر سوکھی زبان پھرنے لگی،نیم برہنگی سے بر ہنگی تک پہنچتے پہنچتے ملکہ شبروزی نے جیسے زمانے گزار دیئے۔پھر اس نے بڑھ کر بھر پور جام بنایا اور جام تھامے تلقارمس کے سامنے دراز ہوگئی۔چند ہی ساعتوں کے بعد ایک ہاتھ سے اس نے جام اپنے گول،رس بھرے،نوکیلے پستانوں کے بیچ تھام کر دوسرے ہاتھ کی انگلی جام میں ڈبو کر،بھگو کر پستانوں کی مرجھائی ہوئی کلیاں تر کیں،کلیاں جیسے جاگ گئیں۔اس رات ملکہ شبروزی اپنے جسم کے ہر حصے پر جام کے جام لنڈھاتی رہی اور تلقارمس ملکہ شبروزی کے جسم سے قطرہ قطرہ شراب پیتا رہا۔وہ بہت مسرور تھا،اس کا دل مسرت سے بھر گیا،اس سے زیادہ سکون بھلا زندگی میں اور کہاں ملے گا اور بے اختیار اس کے منھ نکل گیا۔تیرا شکریہ۔(15)
اس سے قبل ”تیرا شکریہ“ اس خدائے ذو الجلال کے لئے ہر جگہ ادا کیا گیا تھا جس کے سامنے سب سجدہ ریز ہوتے ہیں، جو غریبوں کا ملجا و ماوی ہے لیکن تلقارمس نے پہلی بار ملکہ شبروزی کے لئے اس لفظ کا استعمال کیا جس کے بعدپوری طرح سے اس کا رشتہ اس ذات سے کٹ گیا جو جوش و طاقت کا منبع و مصدر تھی۔دوسری طرف عوام تھے جو اپنی اس حالت زار کو مقدر مان کر بیٹھ گئے،جب قاسم بن ہدی تجارتی مال لے کر شہر اجانیر پہنچا تووہ شراب میں مست بستر پر پڑا تھا جبکہ اصول کے مطابق اس کو قافلے کو خوش آمدید کہنے کے لئے شہر کے صدر دروازے تک جانا تھا مگر نہیں جا سکا لیکن قاسم بن ہدی کی ضد پر جب اس کو صدر دروازے پر لایا گیا تو وہ دو لوگوں کے بازو ؤں میں جھول رہا تھا۔ملکہ شبروزی کی من مانی کا عالم یہ تھا کہ اشیاکی خرید و فروخت پر پانچ پانچ فیصد محصول لگا دیا گیا اور تاجروں کو قرض نہ دینے کا بھی اعلان کردیا گیاحالانکہ اس سے قبل ایک فیصد ہی محصول وصول کیا جاتاتھااور بلا سودی قرض بھی ملتا تھا۔قاسم بن ہدا نے بھرے دربار میں ملکہ،تلقارمس اور وہاں کی حکومت کے بارے میں تبصرہ کیا تھا:
”جس ملک کا شاہی دربار سازشوں کا مسکن ہو،جہاں ایک مغنی بادشاہ بن جائے اور شراب و حسن کے چوبچے میں غرق ہوجائے،جہاں مٹی کے مجسمے حکومت کے مشیر ہوں،اس ملک سے انصاف اور صداقت کمبل اوڑھ راتوں رات رخصت ہوجاتے ہیں۔“(16)
اس کے آگے کا ایک بیان اور دیکھئے،قاسم بن ہدی ملکہ شبروزی کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہتا ہے:
بادشاہ؟
پرانے وقتوں کا آتش بیان مغنی تلقارمس؟جس نے نغموں کا گلا گھونٹ ڈالا،آدمیوں اور آدمیت اے رشتہ توڑ لیا،جو اپنا غیاب ایک بدکار عورت کے فرج میں بھول بیٹھا اس بادشاہ کا قہر……۔(17)
جب شہر تاراج ہوگیا تو تلقارمس نے پکارا۔میں کہاں خداوند؟پھر اس نے سنا۔
”شبروزی اندھی قوت کا استعارہ ہے جو کوئی اسے کنیز بنانے کی کوشش کرتا ہے خود اس کا اسیر بن جاتا ہے،اب تو تنہا ہے۔ پتھروں پر اپنی بد کرداری اور بد اعمالیوں کی داستان لکھ کہ یہی اب تیری زندگی ہے“۔(18)
یہاں تلقارمس کا کردار ایک ایسے بد کردار باشاہ کے طور پر سامنے آتا ہے جس کو حسن،شباب اور شراب سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔چونکہ وہ غلام ابن غلام تھا اس لئے جب اس کو موقع ملا تو ایک ایسی دنیا کی طرف سفر کر گیا جہاں سے واپسی ناممکن تھی،یہی وجہ تھی کہ اس کی قسمت کا فیصلہ بھی اس غیر مرئی طاقت نے کیا جس کا شکریہ ادا کرنا وہ وہ حسن،جوان جسم،دولت و بادشاہت کے نشے بھول گیا تھا تبھی تلقارمس اس الوہی آواز کے حکم پرغیاب بجانے والے ہاتھوں سے پتھرپر داستان لکھتے لکھتے تلقارمس کھنڈروں میں خود کھنڈر ہوگیا۔
اس افسانے کا سب سے بڑا کردار ”تلقارمس“ ہی ہے۔در اصل یہی کرداراس پورے عہد کی نمائندگی کرتا ہے،اس کی صفات،نفسیات و خواہشات میں تبدیلی پورے عہد کو حاوی ہے،جو غلامی سے بادشاہت تک کا سفر کرتا ہے اور اپنی بداعمالیوں کی سزا بد انجامی کے طور پر پاتا ہے۔
جمہورہ الفریم:
سریندر پرکاش کے افسانہ ”جمہورہ الفریم“میں بھی تلقارمس ہی مرکزی کردار میں ہے جبکہ اس کے ذیلی تین اہم کردار ہیں پربل کمار،حامد مرزا اور نوتیج۔ان تینوں کرداروں میں نوتیج راؤنڈ کردار ہے،جس میں حرکت و عمل اور حسیات ہیں جبکہ باقی دونوں کردار فلیٹ یعنی اکہرے ہیں،جن میں کوئی جاذبیت نہیں۔”جمہورۃ الفریم“ایک کنویں کانام ہے جو دوہزار ایک برس قبل تعمیر گرجا گھر کے پیچھے واقع ہے،اس کی قدامت یہاں کے رہنے والوں کی شناخت ہے اور وہی کنواں ان کے وجود کی پہچان، اسی لئے یہ تینوں کردار اس کنویں کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں، اس کے اسرار ان کے ذہن ودماغ پر حاوی ہیں:
تو ہمیں مان لینا ہوگا کہ ہمارا اس کنویں سے پرانارشتہ ہے۔میں نے کہا۔
کیوں نہیں۔دوہزار ایک برس پرانا رشتہ۔حامد مرزا نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے کہا۔(19)
تینوں دوست پہلی مرتبہ ایک ایک نامانوس شخص کو جمغورہ الفریم کی منڈیر پر دیکھتے ہیں۔لیکن وہ عام انسانوں سے مختلف تھا،حیرت کی انتہا تو اس وقت نہ رہی جب وہ اس کنویں میں اتر گیا:
”ہم تینو ں کے قریب سے ایک آدمی گذرا،اس نے ہماری طرف کوئی توجہ نہیں دی،اندھیرے میں اس کا سفید لباس صاف دکھائی دے رہا تھااور اس لباس میں سے وہ آدمی گویا غائب تھے۔وہ سیدھا کنویں کی طرف بڑھا تھا۔ہم ذرا ٹھٹھک گئے، دیکھتے ہی دیکھتے وہ اچک کر کنویں کی منڈیر پر چڑھ گیااور منڈیر کے دائرے پر چلتا ہوا کنویں میں اترنے لگا،جیسے کنویں کے اندر دیوا رکے ساتھ ساتھ سیڑھیاں بنی ہوں اور پھر نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ہم تینوں نے ایک دوسرے کے چہروں پر دیکھنے کی کوشش کی،ظاہر ہے ہم اپنی حیرانی ایک دوسرے کو ’پاس آن‘کرنا چاہتے تھے۔“(20)
تلقارمس رویے،اس کی حسیات اور بے نیازی سے متعلق راوی کا یہ بیان دیکھئے جو در اصل زمانے کی حسیات تک حاوی ہے:
”یہ بے حسی کیسی ہے کہ ہم ایک واردات میں سے گذر جاتے ہیں،زندگی پر سے ایک سانحہ گذر جاتا ہے۔جو ہمارے حواس کو زخمی کر ڈالتا ہے اور ہمیں کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ہم آنکھیں بن گئے ہیں،چائے کی پیالی میں سے اٹھنے والے دھویں کو اپنی ناک کی نوک پر محسوس کرتے ہیں اور اس کی خوشبو کو نتھنوں سے سونگھتے ہیں اور چائے کو گھونٹ گھونٹ پی جاتے ہیں اور جب سر اٹھا کر دیکھتے ہیں تو مطلع صاف ہوتا ہے۔بالکل صاف۔جیسے میدان کار زار مین سے لاشیں اٹھالی گئیں ہوں“۔(21)
یہ بیان یوں تو تلقارمس کے اس رویے سے متعلق ہے جو وہ اس وقت اختیار کرتا ہے جب فربہ شخص اس کا نام سن کر اپنا وجود ہی کھو بیٹھتا ہے لیکن در حقیقت یہ ہمارے اس رویے کی بھی نشان دہی کرتا ہے جو آج کے صارفیت زدہ انسانی معاشرے کا رویہ بن چکا ہے،اب کسی کو کسی کے وجود کھوجانے اور مٹ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے بلکہ کاروبار حیات ما قبل کی طرح ما بعد بھی چلتا رہتا ہے۔سریندر پرکاش اس طرح اپنے کرداروں کے جلو میں معاشرے کے رویوں کی بھی نشان دہی کرتے رہتے ہیں،اس کے علاوہ یہ رویہ اس کردار کی نفسیات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ آئندہ اس کا برتاؤ کیسا ہوگا کیونکہ تلقارمس اور اس کے رویے سے قاری کی یہ پہلی ملاقات ہے۔
ایک ہوٹل میں پربل کمار،حامد مرزا اور نوتیج چائے پیتے ہوئے جب ایک ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جس کا سفید لباس ہے اور لگتا ہے کہ صرف لباس ہے اور وہ خود اس سے غائب ہے۔وہ ایک فربہ شخص سے محو گفتگو ہے اور جب وہ بتاتا ہے کہ وہ اس کا قیام یہیں،سامنے،گرجا کے پچھواڑے والے کنویں میں ہے تو پربل کمار،حامد مرزا اور نوتیج حیرت زدہ رہ جاتے ہیں کیونکہ ان تینوں کو اس کنویں سے نہ صرف لگاؤ ہوتا ہے بلکہ وہ اس کے اسرار سے بھی واقف ہونا چاہتے ہیں،ان کو وہ شخص یاد آجاتا ہے جو ایک دن قبل کنویں کی منڈیر پر چڑھا اور اندر اتر گیا تھا اس کی شباہت بھی بالکل اسی طرح تھی۔لیکن وہ شخص ایسا تھا نہیں جیسا یہ تینوں سمجھتے ہیں بلکہ وہ دراز قد اور خوبصورت شخص تھا:
”جس شخص کو ہم صرف لباس سمجھ رہے تھے وہ اچھا خاصہ خوبصورت،درازا قد آمی ہے۔اس نے جو قمیص پہن رکھی ہے اس کا دایاں بازو کندھے ہی سے نکلتا ہے مگر بایاں بازو کمر سے تھوڑا اور پسلی سے نکل رہا ہے اور اس میں اس کا ہاتھ کسی بچھڑے کی تھوتھنی کی طرح نکلا ہوا ہے،جو دائیں ہاتھ سے ماپ میں بڑاہے۔“(22)
سریندر پرکاش نے اس کردار کی شناخت سے قبل اس کا جو حلیہ بیان کیا ہے اور پیکر تراشا ہے، وہ عام انسانوں سے مختلف ہے،جس میں حیرت ہے،دلچسپی ہے جو اس کے لباس،چال ڈھال،رویہ اور ایک لمبے ہاتھ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔جس کی سب سے بڑی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ قاری کو یہ باور کرایا جا سکے کہ یہ کوئی عام کردار نہیں ہے بلکہ ایک خاص کردار ہے جس کے دوش پر ہی کہانی آگے بڑھے گی۔یہیں پر دوران گفتگو اس کے نام کی بھی وضاحت ہوتی اور اس پستہ قد شخص کے سوال کے جواب میں وہ بتاتا ہے کہ اس کا نام ”تلقارمس“ ہے۔اہم بات یہ کہ پوچھنے والے شخص کے ساتھ ہی تینوں افراد بھی یہ نام سن کر چونک پڑتے ہیں اور وہ شخص سوال کرتا ہے کہ بھلا یہ کیسا نام ہے؟ تو وہ جو جواب دیتا ہے وہ بڑا معنی خیز ہے،وہ کہتا ہے”یہ خوابوں کی خاموش آوازوں کا ثمر ہے“۔اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ نام سن کر فربہ ٹھگنا شخص کا وجود پگھل کر ایک چیخ میں ڈھلنے لگتا ہے اس سے قبل کہ وہ چیخ آواز کی شکل اختیار کرے وہ نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور پھر تنہا بچتا ہے تلقارمس،جو بے حسی کے ساتھ چائے پیتا رہتا ہے اور پھر اٹھ کر کاؤنٹر پر جاتا ہے اور بل ادا کرکے باہر نکل جاتا ہے۔جس کے پیچھے پیچھے حامد مرزا،نوتیج اور پربل کمار بھی نکل جاتے ہیں تاکہ اس کی حقیقت کا پتہ لگا سکیں۔کنویں پر پہنچ کر ان کو ایک نئی حقیقت کا علم ہوتا ہے کہ اس شخص کابچھڑے کی تھوتھنی کی طرح والا بازو عام انسانوں کی طرح جامد نہیں ہے بلکہ نامیاتی /جادو ئی ہے،تبھی تو تلقارمس خود کنویں کے اندر ہوتا ہے اور اس کا بازو کنویں کی منڈیر پر ٹٹولنے والے اندازمیں چلنے لگتا ہے پھر آواز آتی ہے کہ میں یعنی تلقارمس آپ سے ہاتھ ملانا چاہتا ہوں۔تینوں کردار اس سے ہاتھ ملا لیتے ہیں اور اس طرح ملاتے ہیں کہ وہ کنویں کے اندر اس کے پاس کھنچے چلے جاتے ہیں،جس کے بعد ان کا ذہن ماؤف ہوجاتاہے اور وہ کسی دوسری دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔یہ تو وہ کہانی ہے جو ارضی ہے، زمین کے اوپرکی ہے جس میں حقیقت اور میجک دونوں کارفرما ہیں،اس کو خواب کی تمثیل بھی کہہ سکتے ہیں اور،میجکل ریئلزم سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں،کیونکہ ایک طرف جہاں تین انسانوں کا وجود حقیقی ہے وہیں،تلقارمس اور اس کا عمل خواب آسا اور میجک سے تعلق رکھتے ہیں۔ایک طرف جہاں تینوں کردارمادہ /حقیقت کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کا ذہن دما غ عام انسانوں کی طرح اشیاء کے حقائق کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے وہیں تلقارمس کا کردار اس کے بالکل برعکس ہے وہ ایک ایسے کردار کے طور پر سامنے آتا ہے جو اسرار سے پُر ہے جبکہ فربہ شخص سپورٹنگ کردار ہے جس کی مدد سے تلقارمس کا تعارف ان تینوں کرداروں سے کرائی جاتی ہے جو آگے چل کر کہانی کا حصہ بنیں گے۔تلقارمس کا بازو جب کنویں سے باہر نکلتا ہے تو ان تینوں کرداروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے دو سہارے لیتا ہے ایک یہ کہ وہ پہلے بھی مل چکے ہیں،نمبر ایک وہ اس ہوٹل کا حوالہ دیتاہے جہاں پہلی بار یہ تینوں اس کو دیکھتے ہیں۔نمبر دو وہ ان سے اپنے رشتے کی قدامت کا ذکر کرتا ہے کہ دوہزار ایک برس پرانا اس کا ان سے رشتہ ہے۔جس کے بعد ایک نئی کہانی شروع ہوتی ہے،جس سے قاری حیرت کی ایک نئی دنیا سے واقف ہو تا ہے۔
یہاں پہنچ کر تلقارمس اساطیری رخ اختیار کر لیتا ہے،کہانی کے اساطیر متاثر ہونے کے اشارے تو ابتدا میں ہی گرجا گھر سے ملنے لگتے ہیں لیکن جمغورہ الفریم میں اترنے کے بعد پوری کہانی اسطورہ بن جاتی ہے۔تلقارمس دوہزار ایک برس قبل ایک ایسا شخص تھا جو انسانوں کو قبیلے اور پیشے میں تقسیم کر کر رہا تھا۔اس کا نظارہ ان تینوں نے اس وقت کیا جب وہ کنویں میں داخل ہو کر چٹیل میدان اور پہاڑیاں عبور کر کے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں انسانوں کا انبوہ تھا اور تلقارمس خود دوہزار ایک برس قبل کے لباس میں ایک اونچی جگہ پر کھڑا تھا،اس نے ان تینوں کو قبیلے میں تقسیم کرکے ان لوگوں کے حوالے کر دیا۔
افسانے کا راوی”میں“واحد متکلم ہے جونوتیج ہے۔جس کو حبارا قبیلے کے حوالے کیا گیا جب اس قبیلے کا سردار حبارا اس کو دوسرے لوگوں کے ساتھ ریوڑ کی طرح ہانک کر لے جا رہا تھا تو تلقارمس اس کے پاس آیا چپکے سے کہا گھبرانا نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں۔حالانکہ وہ فورا پلٹ کر دوسرے قبیلے کی طرف چلا گیا۔در اصل یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ غیبوبت کے باوجود حاضر رہنے کا عندیہ دے رہا ہے یعنی وہ ایسی طاقت و قدرت کا مالک ہے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہے گی،اس لئے اس کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔جس کا نظارہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب حبارا اور اس کے قبیلے کے لوگ اپنے اپنے حصے کی مچھلی لے کر کھانے لگے تو ان کو معلوم ہوا کہ سب کا ایک بازو غائب ہے لیکن اسی وقت نوتیج کو تلقارمس کی یاد آئی کیونکہ اس کا ایک بازو اس کے بدن کے گرد لپٹا ہوا تھاجبکہ یہاں اس کو ایک بازو سب کے قریب دکھائی دے رہا تھا اور تلقارمس کایہ بازو ہر شخص کے کام آ رہا ہے یعنی ایک ہاتھ اپنا اوردوسرا اس کا۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہر جگہ موجود ہے،اور اس کا کردارو ارئیت کا حامل ہے۔جب تک کسی کردار میں ورائیت نہیں ہوتی اس وقت تک وہ کردار انسانی صفات سے اوپر اٹھ کر ایسی صفات کا حامل نہیں ہوتا کہ جو وہ چاہے ہر جگہ کرلے۔اس کردار میں اس کا ہاتھ ہی سب سے اہم ہے۔ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ ہاتھ کا لمبا ہونا ظاہری اور معنی دونوں سطح پر ہے جس کی یہ سب سے ابرز مثال ہے کہ وہ خود تونہیں موجود تھا لیکن اس کا ہاتھ موجود تھا جبکہ دوسروں کاایک ایک ہاتھ غائب ہو گیا تھا جو اس بات کی علامت ہے کہ اس لمبے ہاتھ/لمبے ہاتھ والے شخص/تلقارمس کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتے ہیں،ان سب کی قسمت اسی سے وابستہ ہے۔ اس کردار میں میں ابہام ہے لیکن یہ ابہام ایسا نہیں ہے کہ سمجھ میں نہ آئے،پریوں،جنوں اور دیوؤں کی کہانیاں پڑھنے /سننے والوں کے لئے ہاتھ کا لمبا ہونا اور اس کا ہر جگہ موجود ہونا کوئی ایسا تجربہ نہیں ہے جو سمجھ میں نہ آئے لیکن چونکہ کہانی حقیقت کا التباس لئے ہوئے ہے اس لئے ابہام کا شک ہوتا ہے،افسانے کی اسی خصوصیت کی بنا پر اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ یہ افسانہ داستانوی /اساطیری رنگ کا حامل ہے اور یہ سب اس کردار ”تلقارمس“ کی کار فرمائی ہے۔
نوتیج کو تلقار مس نے حبارا قبیلے کا محرر مقرر کیاتھا،وہ ایک ایسی طاقت کا مالک تھا جو قبیلے کے سردار کو بھی حاصل نہیں تھی بلکہ وہ خود قبیلے کے سردار کو حکم دیتا تھا۔ اسی لئے جب حبارا نے قبیلے کے ہر شخص کو اس کا کام بتا دیا اور نوتیج کو ذمہ داری سپرد کرنے کی باری آئی تو اسی وقت تلقارمس اپنا لمبا ہاتھ اپنے جسم کے گرد لپیٹتے ہوئے وارد ہو گیا۔جسے دیکھ کر سردارحبارا ہکلا نے لگا اور پھر اس نے تلقارمس سے ہی پوچھا یہ کون ہے؟ تو اس نے بتایا کہ یہ تمہارا اور تمہارے قبیلے کا محرر ہے۔جو تیرا،تیرے کارناموں اور تیرے وقت کا حساب رکھے گاتاکہ آنے والی نسلوں کو تیرے بارے میں سب معلوم ہو سکے۔
تلقارمس کا یہ وژن اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ عام شخص /کردار نہیں بلکہ اس کو آنے والی نسلوں کی فکر ہے،اس سے اس بات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تاریخ نویسی اور اس کی اہمیت کا بھی اس کو اندازہ ہے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ ان کے اسلاف نے کیا کیا تھا،اس سے ان کو جہاں مستقبل کے لئے روشنی ملے گی وہیں وہ اپنی تاریخ سے بھی واقف رہیں گے۔ کردار ”تلقارمس“ میں بے نیازی بھی خوب ہے،ایسی بے نیازی الوہی صفات کا خاصہ ہے،ورنہ انسان اور ایسا انسان جس کوپورے قبیلے ہی نہیں اس عہد کو اپنی انگلیوں پر نچانے اور پیچیدہ سیاست کے ذریعہ اپنی گرفت مضبوط رکھنے کاہنر آتا ہو وہ بھلا کسی شخص کی مورتی بنانے اور اس کی پرستش کرنے کو کیسے قبول کرسکتا ہے لیکن اس کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سردار حبارا کی مورتی بنائی جائے اور اس کی پوجا کی جائے یہی وجہ ہے کہ پروہت اس بات کا اعلان اس کے سامنے کرتا ہے کہ حبارا کی مورتی بنائی جائے گی اور اس کی پوجا کی جائے گی تو ناراض ہونے کے بجائے وہ مسکرا کر چلا جاتا ہے۔اس کی مسکراہٹ اس بات کی علامت ہے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اور وہ جب جو چاہے کر سکتا ہے۔
کسی بھی کردار کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک ظاہری اور ایک باطنی۔سریندر پرکاش کا یہ کردار بھی ان دونوں پہلوؤں کا حامل ہے تلقارمس دیکھنے میں تو خوبصورت،وجیہ اور پر کشش ہے لیکن اس کا ظاہر و باطن دونوں متضاد ہیں،اس کا یہ تنافر خیر کے بجائے شر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔جب نوتیج نے اس کوایک چٹان پر بیٹھ کر اپنے لمبے بازو کو چھوٹے والے ہاتھ سے مالش کرتے ہوئے دیکھ لیا اور اس کے قریب جا نا چاہاتو اس نے قدرے درشتی سے منع کرتے ہوئے کہا:
اوہ تم،دیکھو میں ننگا ہوں،تم دور رہو،جسم کی کوئی بات نہیں،لیکن میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرا یہ ہاتھ دیکھ لے
اس سے قبل کہ نوتیج اس کے جواب میں اپنی بات کرتا، تلقارمس نے ندی میں چھلانگ لگا دی،اب اس کے بعد کا بیان دیکھئے:
اس کا بدن کندن کی طرح دمکتا تھا،صاف شفاف خوبصورت جسم،لیکن کتنی عجیب بات تھی کہ وہ ندی میں جہاں کھڑا تھا اس کے ارد گرد کا سارا پانی جو تھوڑی دیر پہلے کنچن کی طرح صاف تھا،گدلا ہونے لگا اس کے جسم سے نہ جانے کیا چیز نکل کر پانی میں گھل رہی تھی کہ پانی کا رنگ بدلتا جا رہا تھا،پھر دھیرے دھیرے گدلے پانی سے کیچڑجیسا ہو گیا۔(23)
خوبصورت جسم سے کسی گندی رطوبت کا نکلنا اور پانی کا گدلا ہو جا نا اس بات کی علامت ہے کہ اس کا وجود ظاہری طور پر سماج کے لئے تو بہت مفید ہے،وہ جس کے بھی ساتھ رہتا ہے اس کو خوشی محسوس ہوتی ہے کیونکہ وہ اسی کے فائدے کی بات کرتا ہے لیکن حقیقت میں اس کے اندرون اسی کے خلاف سازش چل رہی ہوتی ہے اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب اس کی افادیت نقصان میں بدل جاتی ہے جس کی مثال حبارا اور پشارا کا قتل ہے،جب ان دونوں کا خاتمہ ہوا اور وجود مٹا توتلقارمس ان کے ساتھ تھا۔پانی کا گدلا ہونا /گندی سے کیچڑ میں تبدیل ہونا تلقارمس کے مزاج اور سماج میں انتشار و فساد کی علامت ہے۔
تلقارمس نوتیج سے اپنے جسم کے بجائے اپنا لمبا ہاتھ چھپاتا ہے لیکن وہ یہی ہاتھ حبارا،اس کے قبیلے کے دھوبی اور پروہت سے نہیں چھپاتاہے کیونکہ وہ ان کو مجبور محض تصور کرتا ہے البتہ نوتیج چونکہ محر ر تھا اس لئے اس کو اس بات کا خدشہ تھا کہ کہیں وہ اس کو رقم کرکے تاریخ کا حصہ نہ بنادے اور آنے والی نسلیں اس کی حقیقت سے بھی واقف ہو جائیں۔ندی میں اس کے نہانے کے دوران بہت دور تین شبیہیں دکھائی دیں جو تھوڑی دیر میں واضح ہوگئیں یہ مذکورہ تینوں اشخاص کی تھیں تو اس نے نوتیج کو چٹان کی آڑ میں جانے کا اشارے کیا،جس کے بعد ان تینوں نے اس کے جسم کا پانی پونچھا ور پھر سفید لباس زیب تن کرایا،اس دوران ”جب دھوبی نے اجلے وستر ایک ہاتھ میں لے لئے اور دوسرے ہاتھ میں حلوہ مانڈہ پکڑ لیا تو تلقارمس جیسے چونک اٹھا لیکن تیزی سے اس نے اپنے چہرے کی مچھلیوں پر قابو پا لیا اور اس کی مخصوص فرشتوں جیسی مسکراہٹ دوبارہ اس کے چہرے پہر قابض ہوگئی“۔اس میں تلقارمس کا چونکنا،پھرچہرے کے تاثرات پر قابو پانا اور پھر فرشتے جیسی مسکراہٹ کا اس کے چہرے پر قابض ہونا اس کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تلقارمس جو دکھائی دیتا ہے وہ اصلا نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے کچھ ایسا ہے جو فرشتے کی مسکراہٹ سے متضاد ہے جس کی جانب ندی کے پانی کے گدلا ہونے کے ذریعہ اشارہ کیا جا چکا ہے۔
یہاں حبارا اپنے قبیلے کے مسائل بیان کرتے ہوئے پنچایت کے سلسلے میں بھی اس کو اطلاع فراہم کرتا ہے جس پر وہ سوال کرتا ہے کہ قبیلے کے لوگ کیا کہتے ہیں اور جب جواب ملتا ہے کہ وہ تو خاموش ہیں تو تلقارمس بڑے پتے کی بات کہتا ہے:
”تم بہت بھولے ہو،جو چپ ہوتا ہے وہی سب سے زیادہ خطرنا ک ہوتا ہے جس سے کہنے کے لئے کچھ کہا نہیں جاتا اسی کے اندر لاوا ابل رہا ہوتاہے“۔(24)
یہ بیان تلقارمس کی شطارت کا آئینہ دار ہے،اس کو دنیا داری صرف آتی ہی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے زیر نگیں لوگوں کو دنیا داری اور شطارت سکھاتا بھی ہے،دوسرے لفظوں میں وہ درس حیات دے رہا ہے لیکن چونکہ اس کے کردار میں تضادات ہیں اس لئے اس کو درس کے بجائے عیاری سے ہی تعبیر کیا جانا بہتر ہے،جوجبر و سازش سے بھری سیاست کا وصف ہے۔یہ ہے اسطوری کہانی کا حصہ لیکن اس کردار کے افعال واعمال کا انطباق زمانی و مکانی حدود سے ماورا ہے۔
تلقارمس کا ذرا یہ بیان دیکھئے جب نوتیج اس سے پوچھتا ہے میں کہاں سے آیا تھا؟اور میں یہاں کیوں ہوں؟اور میرے دو ساتھی تھے جن کے نام میں بھول چکا ہوں،وہ کہاں ہیں؟تو اس نے جو جواب دیا ہے واقعی آب زر سے لکھنے کے لائق ہے:
”تو کیوں نہیں اپنے ماضی کو بھول جاتا اور اپنے پچھلے ساتھیوں کو،یاد رکھ یہ بات تم سے خون کے آنسو رلوا ئے گی اور تو بڑے عذاب جھیلے گا۔اچھا ہے تو اپنی جڑیں ماضی کی زمین میں سے اکھاڑ لے اور انہیں حال کی دھوپ میں سوکھنے کے لئے پھیلا دے“۔(25)
دوسرے دن جب پنچایت ہوئی، کمہار اور پروہت کا معاملہ نہیں حل ہوا کیونکہ سب کو بولنے کی اجازت تھی اس لئے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی جس کے بعد بغیر نتیجے کے پنچایت برخاست کرنی پڑی مگر رات میں حبارا کے پاس تلقارمس وارد ہو گیا اور اس نے جہاں بانی کا ایک نیا درس دیا:
”کیوں دیکھ لیا؟یہ سب کھلے میں ایک ساتھ رہتے ہیں،ایک دوسرے کے غم اورخوشی میں شریک ہوتے ہیں،ان سب کا مفاد سانجھا ہے،اگر سردار رہنا چاہتے ہو تو انہیں گھروں میں تقسیم کردو،ان کے گرد دیواریں کھڑی کر دو،اور حفاظت کے نام پر ان کے سروں پر چھت مہیا کردو،انہیں اپنی عورتوں کے ساتھ تنہا ئی میں لوگوں کی نظروں سے چھپ کر مباشرت کرنے پر اکساؤ۔“(26)
بظاہر تو یہ ایک عام سی بات لگتی اور سچویشن کے حساب سے موافق بھی لیکن اس کا دائرہ اتنا محدود نہیں ہے،اس سے تلقارمس کے سوچ،اس کی نفسیات اور اس کے ویژن کا پتہ چلتا ہے،ان جملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یک رخا انسان نہیں بلکہ ہمہ جہت ہے،وہ ہر پہلو پر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے تبھی وہ سرداری کے گُر حبارا کو اس انداز میں سکھا رہا ہے۔یہاں پہنچ کر اس کا کردارہندو دیو مالائی کردار ”شردھا دیو منو“کے مماثل ہوجا تا ہے،جس طرح اس نے منو اسمرتی میں سماج کو تین طبقات میں تقسیم کیا وہی طریقہ تلقارمس اختیار کرتا ہے۔گرجا گھر عیسائیت کی مذہبی علامت ہے جس کے پیچھے جمہوری الفریم واقع تھا،جس میں تلقارمس رہتا تھا،جائے وقوع اور اس کا ایساسفید لباس جس سے ہاتھ باہر جھانک سکے عیسائی مذہبی پیشواؤں کا لباس ہے یہ دونوں مذہبی اعتبار سے عیسائیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن دوہزار ایک برس قبل کے منظر نامے میں وہ ”شردھا دیومنو“ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔جس طرح ہندوؤں میں یہ تقسیم رائج ہے حبارا نے بھی تلقارمس کی ہدایت پر سب کو تقسیم کر دیا۔
جب پربل کمار کا قبیلہ نوتیج کے قبیلے پر حملہ آور ہوا اور فتحیاب ہوا تو اس کا سردار اس قبیلے کی ترقی دیکھ کر ششدر رہ گیا،کبھی اپنے پچھڑے پن کو سوچ کر سرد آہ بھرتا تو کبھی سب تاراج کردینے کی خوشی میں قہقہے لگاتا۔”تلقارمس بڑے غور سے ہر چیز کا مشاہدہ کر رہا تھامگر کچھ بول نہیں رہا تھا۔خاموشی کتنی خطرناک چیز ہے اس کا اظہار وہ خود ہی کر چکا تھا۔اس کی فکر مندی کی وجہ سے اس کا بچھڑے کی تھوتھنی سا ہاتھ بری طرح تڑپ رہا تھا“۔(27)
یہی تلقارمس جو حبارا کو جہاں بانی کے گُر سکھا رہا تھا اور اس قبیلے کی تباہی کے بعد جس کا تھوتھنی جیسا بازو تڑپ رہا تھا،اسی فتح کی رات میں ہی وہ فاتح سردار پشارا کے ساتھ ایک چبوترے پر بیٹھا تھا۔ایک ساتھ بیٹھنا اس کی سیمابی کیفیت کی طرف اشارہ ہے لیکن اس کے بعد جو اس نے کیا وہ اس کی سیاست اور سازش کی عکاسی کرتا ہے۔تلقارمس اپنی سیاست کو کامیاب بنانے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے،وہ اس قبیلے کی عزتیں بھی سرعام نیلام کراسکتا ہے جس پر اس کا ہاتھ ہے،جس کی تاراجی پر اس کا تھوتھنی جیسا ہاتھ کرب کی وجہ سے تڑپ اٹھا تھا۔جب پشارا اور تلقارمس چبوترے پر بیٹھے تھے اور پاس ہی آگ جل رہی تھی اسی درمیان اچانک ان دونوں میں کانا پھوسی ہوئی،سردار نے ایک شخص کو اشارہ کیا ور اور وہ اندھیرے میں گم ہوگیا جس کے تھوڑی دیر بعد آہ وبکا کا ایک شوراس طرف اٹھا جدھر وہ شخص گیا تھااس کے آگے راوی /محررنوتیج کا بیان دیکھئے:
”پھر دیکھا کہ اندھیرے میں سے کچھ جسم نمودار ہوئے جن پر الاؤ کے شعلے ناچ رہے تھے۔وہ جسم ہمارے قبیلے کی عورتوں کے تھے جن کو بالکل برہنہ کردیا گیا تھا۔اور وہ اپنی بے پردگی اور بے بسی کے احساس سے آہ و بکا کر رہی تھیں۔ان کی آنکھوں کے آنسو ان کے پستانوں پر گر تے اور پھر پیٹ پر بہتے ہوئے زیر ناف بالوں میں گم ہو جاتے۔ان کے بال کھلے ہوئے تھے اور وہ اپنے لمبے اور گھنے بالوں سے اپنے برہنہ جسموں کو ڈھانپنے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں۔ان سب کی گردنوں میں رسیاں بندھی ہوئی تھیں اور وہ گھسیٹ کر الاؤ کے پاس لائی جا رہی تھیں۔“(28)
یہ منظر جو اوپر پیش کیا گیا ہے وہ تلقارمس کی کانا پھوسی کا نتیجہ ہے اب ذرا اور دیکھئے،گرگٹ کیسے رنگ بدلتا ہے،اشیا کیسے تقلیب کا شکار ہوتی ہیں،اور کسی چیز کو دیکھنے کا جب نظریہ بدلتا ہے تو وہی کس طرح دکھائی دینے لگتی ہیں بلکہ کاسہ لیس افراد خصوصا مذہبی پیشو ا اپنے زیر اثر افراد کا ذہن کس طرح تبدیل کرتے ہیں۔پروہت تو مذہبی علامت ہے۔اس بیان کا انطباق عصر حاضر پر بھی کر کے دیکھیں۔تلقارمس اس بار پروہت کی طرف جھکا اور اس کے کان میں کچھ کہا جس کے بعد پروہت نے اعلان کرنا شروع کیا:
حبارا قبیلے کے لوگوں اور پشارا قبیلے کے لوگو!
ہمارا نیا سردار پشارا بڑا مہر بان ہے،اس نے ہم پر حکومت کرنا قبول کرکے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔وہ ہم سے پکا رشتہ قائم کرنا چاہتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ ہماری عورتوں کے بطن سے اس کے قبیلے کے پشارا بچے پیدا ہوں تاکہ ہمارا اور ان کا خون ایک ہو جائے۔ہمارا نیا سردار پشارا بھی ہمارے قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کرے گا اور وہ بیاہ پڑھانے کا فرض اس نے مجھ پر عائد کیا ہے۔میں اس کا شکر گذار ہوں اور آپ سب کو بھی شکر گذار ہونا چاہئے۔(29)
پروہت مذہبی پیشواؤں کا استعارہ ہے کہ وہ کس طرح برے حالات میں نہ صرف خود کو تبدیل کرلیتے ہیں بلکہ سماج کے نظریہ کو بھی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس تبدیلی کے پس پشت تلقارمس ہی ہے۔تلقارمس یہاں سیاست کا وہ انداز اختیار کرتا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ حبارا قبیلے کی کم سن لڑکی جنتاں سے پشارا کی شادی تلقارمس نے کرائی جس کے بطن سے بیٹا پیدا ہوا جو پشارا کا وارث بنا،یہ اور کوئی نہیں حامد مرزا تھا جس نے اپنی ماں کی عصمت دری کا بدلہ پشارا کو قتل کرکے لیا۔اس طرح پشارا قبیلہ ایک بار پھر حبارا قبیلے کا غلام ہو گیا،تلقارمس اس کو راج نیتی کا نام دیتا ہے۔وہ اس کامیابی پر نہ صرف ہنس رہا تھا بلکہ اس کا تھوتھنی جیسا بازو بھی تڑپ رہا تھا۔
جب یہ تینوں کنویں سے باہر نکلے یعنی دوہزار ایک برس قبل کے دور سے حال میں واپس آئے تو جس جگہ گرجا گھر میں عیسی کا مجسمہ نصب تھا وہاں اس کے بجائے تلقارمس کا مجسمہ نصب تھا۔مجسمے کی تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ یہ دور بھی اسی تلقارمس کے زیر اثر ہے جس نے دوہزار ایک برس قبل سماج کو تقسیم کیا تھا۔وہ آج تجسیمی سطح پر تو نہیں موجود ہے لیکن اس کا مجسماتی وجود ضرو ہے جو اپنی پوری ہیئت کے ساتھ موجود ہے۔اس طرح یہ کردار ماضی سے حال کی طرف سرک آتا ہے اور اس کا رشتہ ان دونو زمانوں سے یکساں ہوجا تا ہے۔
تلقارمس اس افسانے میں زمان و مکان سے ماورا سیاست کا ایک ایسا کردار بن کر سامنے آتا ہے جو ظاہرا تو اسطوری ہے لیکن حقیقت میں حال کا عکاس ہے۔کہتے ہیں کسی بھی کردار کا ارتسام بغیر عصری معنویت کے نہیں ہوتا،اس تناظر میں اگر سریندر پرکاش کے کردار ”تلقارمس“ کو دیکھا جائے تو ان تینوں افسانوں میں وہ سیاسی،سماجی،مذہبی،اقتصادی اور معاشرتی غرض ہر میدان میں عصریت کا نقیب دکھائی دیتا ہے اور یہ عصریت زمانی و مکانی حدود سے ما ورا ہے جو اس کردار کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
حوالہ:
(1) ڈرائنگ روم /سریندر کاپرکاش۔پیش لفظ/شمس الرحمن فاروقی۔سن اشاعت 1968پبلشر شب خون کتاب گھر۔الہ آباد۔
(2) ایضاً
(3) ایضاً
(4) ایضاً
(5) جدید افسانہ،اردو ہندی۔طارق چھتاری،ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ،صفحہ۔78
(6) باز گوئی/سریندر پرکاش۔پیش لفظ/شمس الرحمن فاروقی۔۔پبلشر۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس۔دہلی۔سن اشاعت 1988۔صفحہ 11
(7) ایضاً
(8) قصہ جدید افسانے کا۔سلیم شہزاد۔منظر نما پبلشر مالیگاؤں۔سن اشاعت۔1989۔صفحہ۔130/131
(9) جدید افسانہ،اردو ہندی۔طارق چھتاری،ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ،صفحہ۔78
(10) ڈرائنگ روم /سریندر کاپرکاش۔پیش لفظ/شمس الرحمن فاروقی۔سن اشاعت 1968پبلشر شب خون کتاب گھر۔الہ آباد۔صفحہ،195
(11) باز گوئی/سریندر پرکاش۔فلیپ/انتظار حسین۔سن اشاعت 1988۔پبلشر۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس۔دہلی۔
(12) ایضاً۔صفحہ 42
(13) ایضا۔صفحہ 55
(14) ایضاً۔صفحہ۔59
(15) ایضاً۔صفحہ۔60
(16) ایضاً۔صفحہ63
(17) ایضاً۔صفحہ63
(18) ایضاً۔صفحہ 65
(19) ایضاً۔صفحہ 170
(20) ایضاً۔صفحہ 169
(21) ایضاً۔صفحہ 172
(22) ایضاً۔صفحہ 171
(23) ایضاً۔صفحہ 182
(24) ایضاًصفحہ 184
(25) ایضاً۔صفحہ 185
(26) ایضاً۔صفحہ 185
(27) ایضاً۔صفحہ 188
(28) ایضاً۔صفحہ 189
(29) ایضا۔صفحہ 190
محمد حنیف خان
شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
موبائل نمبر9359989581
ای میل:haneef5758@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

