علی سردار جعفری نے 1939میں ’’نیا ادب‘‘ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا۔ ابتدا میں یہ لکھنؤ سے شائع ہوتاتھا۔ بعد کو یہ بمبئی منتقل ہوگیا اور کتب پبلشر کے زیر اہتمام اس کا دوبارہ اجرا ہوا۔ ’’نیاادب‘‘ لکھنؤ کے مدیر سبط حسن تھے۔ سردار جعفری اور کرشن چندر کی حیثیت معاون کی تھی۔ لیکن جب ’’نیا ادب‘‘ بمبئی سے شائع ہوا تو مجلس ادارت میں بالترتیب سردار جعفری، کرشن چندر اور احمد عباس کے نام تھے۔اگست1948 کے اداریہ میں ’’نیا ادب‘‘ کے دوبارہ شائع کرنے کی وجہ اور اس کی پچھلی اشاعتوں کے تعلق سے وہ لکھتے ہیں:
’’نیا ادب‘‘ آج پورے ایک سال کے بعد دوبارہ شائع ہورہا ہے۔ رسالے کی حیثیت سے وہ پانچ سال پہلے بند ہوچکا تھا لیکن اپریل 1947 تک کبھی کبھی انجمن ترقی پسند مصنفین کی طرف سے، ’’نیا ادب‘‘ نام کی ایک انتھالوجی چھپ جایا کرتی تھی۔سال بھر سے وہ بھی نہیں شائع ہوسکی۔ اب کتب پبلشرز لمیٹڈ کی حوصلہ مندی سے یہ اہم رسالہ جس کی آج ہماری تحریک کو بہت شدید ضرورت ہے۔ دوبارہ نئی آب وتاب کے ساتھ طلوع ہورہا ہے۔ یہ ہندوستان کی انجمن ترقی پسند مصنفین کا سرکاری ترجمان ہے اور اس میں صرف وہی چیزیں شائع ہوں گی جو صحیح معنوں میں ترقی پسند ہیں۔ دس برس پہلے اپریل 1939 میں جب ’’نیا ادب‘‘ پہلی بار لکھنؤ سے شائع ہوا تھا تو اس کی حیثیت انجمن کے نیم سرکاری ترجمان کی سی تھی۔‘‘ (نیا ادب ،بمبئی ؛اگست 1948)
’’نیا ادب‘‘ کو انجمن ترقی پسندمصنفین کے ترجمان کی حیثیت حاصل تھی۔سرورق پر ’’انجمن ترقی پسند مصنفین کا ماہنامہ‘‘ اور اندرونی صفحہ پر ’’ہندوستانی ترقی پسند مصنفین کی انجمن کا ماہنامہ‘‘ درج ہوتا تھا۔ 1939 میں جب ’’نیا ادب‘‘ جاری ہوا تو اس وقت اس پر’’ ہندوستان کا ترقی پسند ماہنامہ‘‘ لکھا ہوتا تھا۔ جب ’’نیا ادب‘‘ بمبئی کی اشاعت کے چھ مہینے بعد ساحر لدھیانوی کی ادارت میں ’’شاہراہ‘‘ کا اجراعمل میں آیا اور اس رسالہ کا نعرہ تھا ’’اردو کے ترقی پسند مصنفین کا دوماہی ترجمان‘‘ اور کبھی کبھی ’’ترقی پسند مصنفین کا دوماہی ترجمان‘‘ دونوں رسالے ترقی پسند تحریک کی تنظیم نو میں اہم ثابت ہوئے۔
’’نیا ادب لکھنؤ‘‘ دور اول کے تین شمارے( ’’نیا ادب‘‘مئی 1939، ’’نیاادب اور کلیم‘‘ اکتوبر 1939 اور نومبر 1939 ) میرے پیش نظر ہیں۔ ان میں کوئی مستقل کالم نہیں ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کالم ’’دارورسن‘‘ سردار جعفری ’نیا ادب‘ بمبئی کے لیے ہی لکھا کرتے تھے۔ سردار جعفری کی نثر اور تنقید پر جو تحریرں سامنے آئی ہیں ان میں کالم ’دارورسن‘ کا کوئی حوالہ نہیں آیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ ’نیا ادب‘ عام طور پر دستیاب نہیں ہے۔آزادی اور فسادات کے بعد ترقی پسند تحریک کو جن مسائل کا سامنا تھا ان سے نبردآزما ہونے کے لیے انہیں ایک ترجمان کی ضرورت تھی۔ سردار جعفری کواس وقت ’نیا ادب‘ کا خیال آیا۔ ’نیا ادب‘ کی شکل میں انھیں اپنے نظریے کے اظہار کے لیے ایک پلیٹ فارم مل گیا۔ چنانچہ انہوں نے ’نیا ادب ‘ میں مستقل کالم ’دارورسن‘ لکھنا شروع کیا۔ سردار جعفری کی ترقی پسندانہ انتہاپسندی ان کی بعض دوسری تحریروں میں بھی نظر آتی ہے ۔ ’’دارورسن‘‘ سے علی سردار جعفری کے اُس شدت پسندی کا اظہار ہوتا ہے جو ان کی کتاب ’’ترقی پسند ادب‘‘ میں یکساں طور پر موجود ہے۔اس وقت تک اردو کے کسی ادیب اور نقاد نے اپنے کالم کے لیے ’دارورسن‘ کا عنوان اختیار نہیں کیا تھا۔ یہ لفظ پوری ترقی پسند فکر کا دھیرے دھیرے استعارہ بنتا گیا، سردارجعفری اس وقت کی سماجی، سیاسی اور ادبی صورتحال کے سیاق میں جو کچھ لکھنا چاہئے تھے اس کے لیے اس سے بہتر عنوان نہیں ہوسکتا تھا۔
میرے سامنے ’نیا ادب‘ بمبئی ، دور دوم کے پانچ شمارے ہیں ۔جن میں سے چار شمارے اگست، اکتوبر، نومبر، دسمبر 1948کے ہیں اور ایک شمارہ مارچ 1949 کا ہے۔ 1948کے تمام شماروں میں سردارجعفری کا کالم، ’’دارورسن‘‘ موجود ہے۔ میں نے اپنے اس مضمون میں سردار جعفری کے اسی کالم کے اہم نکات سے بحث کی ہے۔ علی سردار جعفری کے سامنے مسئلہ صرف ادب کا نہیں تھا۔ اسی لیے وہ اس کالم کے تحت سیاسی، سماجی اور تعلیمی مسائل پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ ان مسائل کے سلسلے میں ان کا جو رویہ ہے اسے مارکسی ہی کہاجاسکتا ہے۔ وہ ان مسائل پر قابو پانے کی تدبیریں بھی بتاتے ہیں۔ اکثراوقات ان کا لہجہ سخت ہوجاتا ہے۔ پہلی قرات میں کوئی قاری لہجے کی سختی سے پریشان ہوسکتا ہے۔ لیکن ان مسائل کا تعلق چونکہ عام انسانی زندگی سے ہے لہٰذا قاری فطری طور پر ان کا حصہ بن جاتا ہے۔ بس پڑھتے ہوتے تھوڑا تحمل درکار ہے۔ سردار جعفری کے لیے مسائل کی پیش کش زیادہ اہم ہے۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ لہجہ نرم ہے یا سخت۔ ایسا لگتا ہے کہ مسائل و میلانات نے خود ہی سردارجعفری کے اسلوب کو اپنے مطابق بنالیا ہے۔ ’دارورسن‘ کی پہلی تحریر ایسے ادیبوں کی نگارشات پر مشتمل ہے جنہیں کسی زمانہ میں ترقی پسند مصنفین کی صف میں جگہ دی جاتی تھی مگر آزادی اور فسادات کے بعد ان ادیبوں کے رویے میں جو تبدیلی آئی، اس نے سردار جعفری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ ’دارورسن‘ اگست 1948 کا پہلا پیراگراف ملاحظہ ہو:
’’کرشن چندر کے مشہور رپورتاژ ’’پودے‘‘ کا ہیرو حیدرآباد کا ایک نوعمر ادیب جگر حیدرآبادی ہے لیکن آج اس کے خط وخال اتنے مسخ ہوچکے ہیں کہ آپ اسے بمشکل پہچان سکیں گے۔ وہی نہیں بلکہ حیدرآبادکے ’’ترقی پسند ادیبوں کی کثرت بدترین قسم کی فرقہ پرستی اور رجعت پرستی کا شکار ہو چکی ہے اور ان سب کے روح ودل مسخ ہوچکے ہیں۔‘‘
(نیا ادب،بمبئی؛اگست 1948)
علی سردار جعفری گیارہ ادیبوں اور شاعروں کے نام درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ’’ان کے علاوہ کوئی ایک درجن اور غیرمعروف ادیب ہیں جن کے نام حیدرآباد کے باہر کوئی نہیں جانتا۔‘‘ یعنی تقریباً دودرجن ادیبوں کے یہاں رجعت پرستی اور فرقہ پرستی کے عناصر حاوی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام وہ ادیب وشاعر ہیں جن کا شمار ترقی پسندوں میں ہوتا رہا ہے۔ سردار جعفری اس لیے زیادہ برہم اور فکرمند ہیںکہ خود ان کے خیمے کے لوگ رجعت پسندی کی گرفت میں ہیں۔ اب ان لوگوںکے بارے میں کیا کہا جائے جو پہلے ہی سے رجعت پرست ہیں۔ سردار جعفری جس فکر کو لے کر آگے بڑھے تھے، اس میں بنیادی حیثیت ’’بہتر مستقبل‘‘ کے خواب کو حاصل تھی آزمائش کی گھڑی میں اپنوں کو دوسرے خیموں میں جاتے دیکھ کر برہم ہونا فطری ہے۔ سردارجعفری کے لہجے میں طنز اور ہمدردی دونوں کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وہ ’ترقی پسند‘ عنوان کو نمایاں کرکے لکھتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ترقی پسند نام نہاد ترقی پسند تھے۔ ایسے ترقی پسند ادیبوں کا تحریک سے وابستہ ہونا ان کی ترقی پسندی نہیں بلکہ موقع پرستی اور مصلحت اندیشی تھی۔ انہیں جب یہ اندازہ ہوگیا کہ اب ترقی پسند تحریک سے کسی قسم کا فائدہ نہیں ہوسکتا تو لازماً تحریک سے دور ہوتے گئے۔ سردار جعفری نے ایسے ادیبوں اور شاعروں کی سخت گرفت کی ہے وہ انہیں رجعت پرست، فاشسٹ اور فرقہ پرست قرار دیتے ہیں۔ فرقہ پرستی، رجعت پسندی اور فاشزم کے پیدا کردہ تمام سوالات سردار جعفری کی نگاہ میں تھے۔ انہوں نے اپنے اس کالم میں کئی سوالات قائم کیے ہیں، جن کی معنویت آج بھی باقی ہے۔ اردو زبان سے متعلق یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا اردو زبان پاکستان کی زبان بن سکتی ہے؟سردارجعفری لکھتے ہیں:
’’یہ سمجھ میں نہ آسکا کہ اردو پاکستان کی ملکیت کب سے ہوگئی؟ جس زبان کی جڑیں دلّی، میرٹھ اور لکھنؤ میں ہوںوہ بلوچستان، سرحد، سندھ، پنجاب، بنگال اور چٹ گاؤں میں کیسے پھلے پھولے گی… پاکستان میں اردو صرف مرکز کی زبان بن سکتی ہے یا زیادہ سے زیادہ پنجاب کے خطے میں عام ہوسکتی ہے لیکن وہاں بھی وہ صرف اس صورت میں زندہ رہ سکے گی جب وہ شمالی ہندوستان کے اس خطے میں بھی زندہ رہے جہاں وہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔‘‘
(نیا ادب،بمبئی ؛اگست 1948 ،صفحہ:14)
سردار جعفری کی یہ تشویش درست تھی کہ جن علاقوں کی عوامی زبان اردو نہیں ہے وہاں اردو کیسے برگ وبار لاسکتی ہے۔ گزشتہ صدی میں علاقائی اور مادری زبان کی اہمیت کو جس طرح اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی اس سے پاکستان میں اردو کو کافی نقصان ہوا۔ گرچہ وہاں کی سرکاری زبان اردو ہے مگر صرف دفتروں اور سرکاری محکموں میں اردو کے استعمال سے زبان کا فروغ ممکن نہیں اور پاکستان کے تمام صوبوں کی اپنی علاحدہ زبان ہے۔ سردارجعفری کا اس بات پر اصرارہے کہ وہی زبانیں زندہ رہیں گی جن کے بولنے والے عوام ہوں گے۔ ہندوستان میں بول چال کی سطح پر اردو زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ سردارجعفری نے اردو کی ملکیت اور وراثت کا سوال اس لیے اٹھایا ہے کہ اس وقت نہ صرف اردو زبان بلکہ اردو ادیبوں کو بھی پاکستان کی ملکیت قرار دینے کا مشورہ آیا تھا۔ احمد ندیم قاسمی کے اس سوال: اردو کے مستقبل کو کس طرح نکھارا جاسکتا ہے؟‘‘ کے جواب میں نیاز فتح پوری نے لکھا تھا:
’’اردو زبان کا مسئلہ اب بالکل پاکستان سے تعلق رکھتا ہے… حکومت پاکستان تمام اکناف ہند کے اردو ادیبوں، شاعروں اور مصنفوں کو اپنے یہاں منتقل کرنے کی کوشش کرے۔‘‘ (نقوش2-، صفحہ:63)
سردار جعفری کو حیرت اس بات پر ہے کہ نیاز فتح پوری جیسا وسیع النظرادیب ایسے مشورے کیونکر دے سکتا ہے۔ آخر نیاز فتح پوری نے حکومت پاکستان سے ایسا مطالبہ کیوں کیا؟ ان کی نگاہ میں اردو کے کون کون سے ادیب وشاعر تھے؟ پاکستان جسے اسلامی جمہوریہ، مملکت خداداد کہا جاتا تھا اس میںکیا اردو کے غیرمسلم ہندوستانی ادیبوں کے لیے کوئی جگہ تھی۔ ظاہر ہے یہ تمام سوالات نیازفتح پوری کے مطالبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ نیاز فتح پوری کے مطالبے سے سردارجعفری ضرور حیران ہوئے لیکن اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں تھی۔ نیازفتح پوری اپنی ہجرت یانقل مکانی کے لیے فضا ہموار کررہے تھے۔ نیازفتح پوری کے انتقال کے بعد فرمان فتح پوری کا مضمون ’’نیاز فتح پوری مستقلاً پاکستان کیوں آئے‘‘ میں اور مالک رام، نادم سیتاپوری اور نورالحسن ہاشمی وغیرہ نے نیازفتح پوری کی ہجرت کے اسباب سے بحث کی ہے۔ گزشتہ برس ’آمد پٹنہ‘ کے ایک شمارے میں اسیم کاویانی کا مضمون شائع ہوا جو فرمان فتح پوری کے مذکورہ مضمون کی بازدیدہے۔ اس بازدیدمیں انہوں نے نیازفتح پوری کے سیاسی، سماجی اور معاشی مفاد پرستی سے بحث کی ہے اور انہیں کاروباری قسم کا شخص قرار دیا ہے۔ نیاز فتح پوری بہت پہلے سے نقل مکانی کے لیے فضا ہموار کررہے تھے اور جب فضا ہموار ہوئی تو خاموشی سے روانہ ہوگئے۔ جس طرح سردارجعفری کو نیاز فتح پوری کے مطالبے سے حیرت ہوئی تھی اسی طرح ان کے احباب بھی ان کی نقل مکانی سے حیرت زدہ تھے۔ سردار جعفری نے نیاز فتح پوری کے جس مطالبے کا ذکر کیا ہے اس کی تردید کے لیے انہوں نے اپنا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ’ ماہ نوکراچی‘ سے متعلق ہے، جس میں ماہ نو کے مدیر وقار عظیم کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ:
’’پاکستان کے رسالے میں کسی ہندو اور سکھ ادیب، اشتراکی ادیب اور ہندوستانی ادیب کی کوئی چیز نہیں شائع ہونی چاہئے۔‘‘(نیا ادب،بمبئی ؛اگست 1948 ،صفحہ:14)
اس پس منظر میں سردارجعفری نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جو حکومت ہندو، سکھ یا اشتراکی اور ہندوستانی ادیبوں کی تحریروں کو اپنے رسالے میں دیکھنا گوارا نہیں کرتی وہ بھلا ہندوستانی ادیبوں کے وجود کو کیسے برادشت کرے گی۔ سردار نے نیاز فتح پوری کے مطالبے سے ملتا جلتا ایک بیان اخبار ’’امروز‘‘ کے اداریے سے نقل کیا ہے، جس میں کتابوں کے مبادلہ کی بات کہی گئی ہے۔ ایسی مذہبی کتابیں جو دوسروں کے لیے بیکار ہیں ان کے بدلے ہندوستان انہیں وہ کتابیں دے جو ہندوستان کے لیے بیکار تصور کی جاتی ہیں۔ سردار جعفری نے ’امروز‘ کا اقتباس نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:
’’نیاز صاحب اردو زبان اور اس کے ادیبوں کو ہندوستان سے پاکستان بھیج دینا چاہتے ہیں اور ’امروز‘ ہندوؤں اور مسلمانوں کی علمی وتہذیبی وتمدنی کتابوں کا تبادلہ کرنا چاہتا ہے۔ میں حیران ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ میراور غالب کی قبریں کب کھودی جائیں گی۔ تاج محل، جامع مسجد اور لال قلعہ کی نیو کب اکھاڑی جائے گی۔ موہنجودارو اور تکشلا اور ننکانہ صاحب کی سرزمین پارسل میں بند کرکے ہندوستان کب بھیجی جائے گی۔‘‘
(نیا ادب،بمبئی ؛اگست 1948 ،صفحہ:15)
’امروز‘ کے اداریے پر سردارجعفری نے جس قسم کا اعتراض کیا ہے وہ درست ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب یہ اداریہ شائع ہوا تھا اس وقت ’امروز‘ کے مدیر مشہور ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض اور چراغ حسن حسرت ہوا کرتے تھے۔ترقی پسند مصنفین کی طرف سے اس قسم کے مطالبے یقینا حوصلہ شکن قرار دیے جاسکتے ہیں۔ ظاہر ہے اس قسم کی نقل مکانی اور تہذیب وتمدن کی ادلا بدلی مناسب نہیں۔ کتابوں اور ادیبوں کی نقل مکانی ممکن ہے مگر جو تاریخی اور تہذیبی نشانات دونوں ملکوں میں موجود ہیں وہ وجتماعی حافظے اور حسیات کا حصہ ہیں۔اس لیے انھیں جغرافیائی لحاظ سے الگ تو کیا جاسکتا ہے مگر ان کی روح الگ نہیں ہوسکتی۔ اسی لیے تقسیم کے بعد جو ادب سامنے آیا اس میں ان تہذیبی نشانات کے اوجھل ہوجانے کا دکھ بھی ہے۔ ہندوپاک کی تقسیم خواہ کسی بھی نیت سے کی گئی ہو اب اسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ تقسیم کے بعد اگر ہندوستان ہندوؤں کا اور پاکستان مسلمانوں کا ملک ٹھہرا تو پھر اس تاریخی صداقت کا کیا کریں جو موہن جودارو میں ہندوؤں کی تہذیب سے وابستہ ہے اور مغلوں کے بیشتر تہذیبی نشانات ہندوستان میں ہیں۔ سردارجعفری نے اپنے اس کالم میں ترقی پسند مصنفین میں پوشیدہ فاشسٹ ادیبوں اور شاعروں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے تین ادیبوں کے اقتباسات درج کیے ہیں۔ اسے اتفاق کہیے کہ یہ تینوں ادیب متحدہ ہندوستان کے تین مختلف خطوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن تینوں کی سوچ میں کسی قسم کی تفریق نہیں ہے۔ ترقی پسندی کے لباس میں رجعت پرست اور فاشسٹ ہیں جن کی زبان زہرآلود اور ذہن تعصب سے مملو ہے۔ کالم کی ابتدا میں ابراہیم جلیس کا طویل اقتباس درج ہے۔ اقتباس پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ہندوستان کے ذرے ذرے سے نفرت ہے۔ اپنی نفرت کا اظہار ابراہیم جلیس نے بہت ہی غیرذمہ دارانہ طریقے سے کیا ہے، جس کی سردارجعفری نے گرفت بہت سختی سے کی ہے۔ ابراہیم جلیس کے اقتباس کے مطالعہ کے بعد انہیں کوئی بھی شخص ترقی پسند تو کیا معقول انسان کہنا بھی گوارا نہ کرے گا۔ دوسرا اقتباس نیاز فتح پوری کا ہے۔ اس سلسلے کی گفتگوپہلے آچکی ہے۔ تیسرا اور آخری اقتباس ’امروز‘ سے ماخوذ ہے۔ ’امروز‘ نے جن باتوں کا ذکر کیا ہے، ان میں معقولیت نظر آتی ہے۔ ممکن ہے سردار جعفری مذہبی اور غیرضروری جیسے الفاظ سے برہم ہوگئے ہوں۔ اگر اسی بات کو ذرا سنبھل کر لکھا گیا ہوتا تو شاید اس پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی۔ اس میں شک نہیں کہ ہندوپاک کے کتب خانوں میں ایسی بہت سی کتابیں موجود ہیں،جن میں عام لوگوں کو دلچسپی نہیں ہوتی اگر ان کتابوں کو عام کردیا جائے اور سروے کے ذریعہ جہاں ان کی ضرورت ہو وہاں پہنچا کر اپنی ضرورت کی کتابیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس مبادلے کا طریقہ خواہ کچھ بھی ہو مگر اس سے نئے طالب علموں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ کتابوں کی لین دین سے تہذیبی وثقافتی رشتے بھی استوار ہوں گے اور اپنے سرمایوں سے مستفید بھی ہوجاسکتا ہے۔
سردار جعفری کا کالم ’دارورسن‘ ایک طرح سے یک موضوعی بھی ہے۔ اکتوبر 1948 کے ’دارورسن‘ میں انہوں نے ’نیاادب‘اور اس کے کالم ’دارورسن‘ پر کیے گئے اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ کالم کی ابتدا میں ’چراغوں کا سفر‘ سے ایک طویل اقتباس درج کیا ہے۔ اس میں ان تمام سوالوں کے جوابات موجود ہیں جو سردار جعفری کے ’دارورسن‘ پر قائم کیے گئے تھے۔ اس اقتباس میں لوسے لو اور چراغ سے چراغ روشن کرنے کی روایت پر بہت ہی دلنشیں پیرائے میں روشنی ڈالی گئی ہے۔’نظام‘ ہفتہ وار نے ’نیا ادب‘ پر تبصرہ شائع کیا تھا۔ تبصرے میں سردار جعفری کے کالم پر چند اعتراضات کیے تھے۔ سردار جعفری نے محولہ بالااقتباس کی روشنی میں ان اعتراضات کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ سردار جعفری لکھتے ہیں:
’’نظام (ہفتہ وار۔ لاہور) میں ’نیا ادب‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس امر پر اظہار حیرت کیا گیا ہے کہ ’انجمن ترقی پسند مصنفین‘ تاج محل، لال قلعہ اور جامع مسجد کو تہذیبی سرمایہ سمجھتی ہے‘‘۔اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم اس کو صرف تہذیبی سرمایہ ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس تہذیبی سرمایہ پر فخر کرتے ہیں۔ اس سے محبت کرتے ہیں اور کسی قیمت پر خواہ وہ کوئی سلطنت ہی کیوں نہ ہو اسے فروخت نہیں کرسکتے۔ ہم اس کے حسن سے متاثر ہوتے ہیں اور اس پر افسوس کرتے ہیں کہ برسوں کی عدم توجہی سے اس حسن پر گرد جم گئی ہے۔‘‘
(نیا ادب بمبئی؛اکتوبر1948،صفحہ 9:)
سردار جعفری نے لکھا ہے کہ ’’اس تبصرہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’’ اس طرح علی سردار جعفری کا فرقہ پرست ہونا ثابت ہوگا۔‘‘ یہ الزام صرف سردار جعفری پر عائد نہیں کیا گیا ہے بلکہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تمام ادیب وشاعر اس الزام کی زد میں ہیں۔ بعض ترقی پسند مصنفین نے قدیم تاریخی اور تہذیبی نشانات کو جاگیرداری دور کی پیداوار قراردیا تھا اور ان کی قدرومنزلت کم کرنے کی کوشش کی۔ ایسے حالات میں سردارجعفری جیسے ترقی پسند کا یہ کہنا کہ قدیم تاریخی وتہذیبی نشانات ترقی پسندوں کے لیے تہذیبی سرمایے کی حیثیت رکھتی ہیں، اکثر لوگوں کے ذہن کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ تہذیبی سرمائے کی اہمیت ترقی پسند مصنفین کی نگاہ میں کیا ہے۔ سردارجعفری نے اپنے اس کالم میں اسی موضوع پر اظہار خیال کیا ہے کہ ترقی پسند ادیب کس طرح تہذیبی وراثت سے استفادہ کرتے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ماضی کی شاندار روایات اور اس کے تہذیبی اور تمدنی آثار کی حیثیت ان جڑوں کی سی ہے جن سے ترقی پسندی کی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور پھول کھلتے ہیں۔ ہم ان جڑوں کونہیں کاٹ سکتے۔ ایک انسان یا ایک نسل کی عمر اتنی مختصر ہوتی ہے کہ صرف اس کے تجربات پر ترقی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس لیے ہم اپنے آباواجداد کے تجربات اور ان کے کارناموں کو اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں… اس لیے ترقی پسند ادیبوں کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ ماضی کے کارناموں سے بے نیاز ہیں ان کو حقارت سے دیکھتے ہیں، بہت بڑی غلطی ہے۔‘‘
(نیا ادب بمبئی؛اکتوبر1948،صفحہ:10)
سردار جعفری کے اقتباس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قدیم تہذیبی وراثت ترقی پسند ادب کی جڑ اور بنیاد ہے۔ سردار جعفری کی انتہا پسندی اپنی جگہ مگر قدیم تہذیبی ورثے کے تعلق سے ان کا رویہ بہت ہی ذمہ دارانہ ہے۔ وہ انہیں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا عطیہ تو کہتے ہیں مگر ان میں شامل عوام کے خون ِ جگر کو زیادہ اہم قرار دیتے ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ جاگیرداروں یا بادشاہوں نے اگر فنون لطیفہ کو محض تفریح کا ذریعہ بنایا ہوتا تو یہ فنون ان کے دیوان خانے سے باہر نہ آتے۔ تمام فنون کو عروج گزشتہ صدیوں میں حاصل رہا ہے اور گزشتہ صدیاں جمہوری نظام حکومت سے نابلد تھیں۔ ماضی کی شاندار روایتوں کو قائم رکھنے میں معدودے چند امراو رئوساکا ہاتھ نہیں تھا بلکہ انہیں عوام نے زندہ و تابندہ بنائے رکھا ہے۔ ہر فن عوام سے زندہ رہتا ہے۔ تاریخی عمارتوں کی تعمیر میں نقاش، معمار،سنگ تراش ،مزدور اور دوسرے ماہرین کا تعلق عوام سے ہوتا تھا۔ اس لیے ماضی کی شاندار روایتوں سے انحراف کرکے یا انہیں ختم کرکے نئی روایتوں کو قائم کرنا ممکن نہیں۔ سردار جعفری نے ترقی پسندوں کو قدیم روایتوں کا وارث اور پاسبان کہا ہے۔ ساتھ ہی رجعت پرستی اور ترقی پسندی کا فرق بھی واضح کردیا ہے:
’’ترقی پسند ادیب اپنے آپ کو ماضی کی بہترین روایات کا وارث اور تہذیبی ورثے کا پاسبان سمجھتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ماضی کے تہذیبی کارناموں کو ماضی کی حماقتوں اور لعنتوں سے الگ کرنا پڑے گا۔ آنکھیں بند کرکے، ماضی کی پرستش نہیں کی جاسکتی ہم ماضی کو سمجھ کر اس کا عطر حاصل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اس کی گندگیوں سے اپنا دامن نہیں بھریں گے۔ ‘‘ (نیا ادب بمبئی؛اکتوبر1948،صفحہ:11)
سردار جعفری نے ماضی کو تہذیبی کارناموں ، حماقتوں اور لعنتوں کا مرکب قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کوئی بھی عہد ان مرکبات سے مستثنیٰ نہیں۔ اس اقتباس سے واضح ہے کہ تہذیبی وراثت کے سلسلے میں علی سردار جعفری کا رویہ انتخابی ہے۔ کیا ماضی کے تہذیبی کارناموں سے حماقتوں اور لعنتوں کو الگ کیا جاسکتا ہے۔ ترقی پسند ادیب ان کی نگاہ میں ماضی کے ان تہذیبی کارناموں کے وارث اور علمبردار ہیں۔ یہ انہیں لکھنے اور کہنے کا حق حاصل ہے۔جس صورت حال میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا اس میں اس کی خاص معنویت ہے، لیکن ہروہ شخص جو انسانی زندگی کی خوشحالی کا آرزومند ہے وہ ان حماقتوں اور لعنتوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ حماقتوں اور لعنتوں سے ان کی مراد وہ غلطیاں اور زیادتیاں ہوسکتی ہیں جن سے انسانی زندگی کی خوشحالی متاثر ہوتی ہے۔ ایک معنی میں وہ ادیب بھی جو ترقی پسند ہوسکتے ہیں جو ترقی پسند تحریک سے باضابطہ وابستہ تو نہیں مگر ماضی کی حماقتوں اور لعنتوں کو دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتے۔ اس لئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ ماضی پرستی اور ماضی شناسی کے تقاضے مختلف ہیں، ماضی کوئی ایسی چیز تو نہیں جسے سیاہ و سفید کے ذریعہ الگ الگ کیا جائے۔ ماضی کی تاریخ تاریخی عمل کے ساتھ وابستہ ہے اور اس تاریخی عمل میں انسانی زندگی سرگرم سفر ہے۔ انسانی زندگی ماضی میں کن کن مرحلوں سے گذری ہے اس سلسلے میں کوئی ایک رائے بھی نہیں ہوسکتی، کیا تاریخ اور ماضی کا تجزیہ ایک ہی طرح سے ہوسکتا ہے۔ علی سردار جعفری نے ماضی کو مسکرا کر دیکھنے ،سمجھنے اور اسے قبول کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ وہ ماضی کا عطر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ترقی پسند ادیب تہذیبی کارناموں کو قابل قدر گردانتا ہے اور اس کے صالح عناصر سے اپنی زندگی میں تب وتاب پیدا کرتا ہے۔ ساتھ ہی ماضی کی حماقتوں اور لعنتوں سے عبرت حاصل کرتا ہے اور انہیں اپنے معاشرے میں دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ سردارجعفری عہد عتیق سے لے کر آج تک کے سماجی نظام کو چار وسیع سماجی نظام میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جمہوری نظام سے قبل دنیا میں تین طرح کے سماجی نظام قائم تھے اور یہ سماجی نظام اس وقت کی ضرورتوں کی پیداوار ہیں۔ ہر زمانہ اپنے ساتھ تبدیلیاں لاتا ہے۔ایک دور کی حقیقت دوسرے دور کے لیے اس طرح بامعنی نہیں رہتی۔ ازلی صداقتوں کے سوا تمام صداقتوں کی اہمیت ماند پڑجاتی ہیں۔ سردار جعفری لکھتے ہیں:
’’غلامی، جاگیرداری اور سرمایہ داری دنیا کے تین بڑے بڑے سماجی نظام ہیں جو تاریخ کے مختلف دوروں میں آئے ہیں۔ ہر نظام اپنے اپنے زمانے کے لیے ضروری تھا۔ پھر وہ فرسودہ اور انحطاط پذیر ہوتا گیا اور انسانوںکی بڑھتی ہوئی ضروریات کا ساتھ نہیں دے سکا اور اس کی جگہ نئے نظام نے لے لی جو پرانے نظام کے بطن سے پیدا ہوا تھا… ان تینوں نظاموں نے اپنے اپنے شباب کے زمانے میں بڑے بڑے تہذیبی اور تمدنی کارنامے انجام دیے ہیں جو آج بھی ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔‘‘
(نیا ادب بمبئی؛اکتوبر1948،صفحہ:11)
اس میں شک نہیں کہ غلامی، جاگیرداری اور سرمایہ داری ابتدائی مرحلوں میں بہترین سماجی نظام تصور کیے جاتے تھے۔ سردار جعفری نے تینوں نظام کی برکتوں اور نعمتوں کا تجزیہ کرنے کے بعد ان ادوار کے کارناموں کو قابل احترام قرار دیا ہے کیونکہ ہر نظام اپنے ابتدائی دور میں انسانیت کی بقا اور سا لمیت کے لیے کوشاں تھا۔ ہر نیا نظام مروجہ نظام سے زیادہ بہتر ہونے کی صورت میں ہی خود کو قائم رکھ سکتاہے۔ قبائلی دور سے غلامی کے دور میں داخل ہونا پھر جاگیرداری اور پھر سرمایہ داری اور اب جمہوری نظام یہ تمام سماجی ڈھانچے تہذیبی وتمدنی سطح پر کئی کارہائے نمایاں انجام دیے جن پر آج بھی فخر کیا جاتا ہے۔ سردار جعفری نے سماجی نظام کو معاشی نقطہ ٔ نظر سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ سردار جعفری کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ جذبات میں آکر کوئی فیصلہ دینے کے بجائے مسئلہ کی گہرائی اور اس کے تمام پہلوئوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ انہوں نے اعتراض کرنے والوں کو سب شتم سے نوازنے کے بجائے اس اعتراض کو محرک بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ، تہذیب اور تمدن پر ایک بھرپور تحریر لکھنے میں کامیاب ہوئے۔ تاریخ اور تہذیب پر ان کی نظر گہری تھی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اس تحریر کے لیے ان موضوعات کا بطور خاص مطالعہ کیا ہے۔ سردارجعفری کی اس تحریر سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ترقی پسند ادیب کے تہذیبی وتمدنی کارناموں کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کالم کے آخر میں کارل مارکس ایک مشہور جملہ درج ہے:’’رجعت پرستوں کی عنان ماضی کے ہاتھ میں ہے لیکن ماضی کی عنان ہمارے ہاتھ میں ہے۔‘‘کارل مارکس کے اس جملے سے ترقی پسندی اور رجعت پرستی کا بنیادی فرق سامنے آجاتا ہے۔ اس جملہ سے اس حقیقت کو بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ تہذیبی ورثے کا احترام کب رجعت پرستی کا شکار ہو جاتا ہے اور رجعت پرستی کس طرح ماضی پرستی سے نکل کر ترقی پسندی کی راہ اختیار کرلیتی ہے۔
’’نیا ادب‘‘ نومبر 1948 کے شمارے میں سردار جعفری نے اردو زبان کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ اردو ہندی کا جھگڑا انیسویں صدی کی ابتدا میں سامنے آیا۔ مگر 1857 کی سورش کے بعد اس میں شدت آنے لگی۔ اردو پر یہ اعتراض ہونے لگا کہ رسم خط سے لے کر افعال واسما تک بلکہ آواز اور تلفظ بھی غیرملکی ہیں جبکہ ان تمام الفاظ وعلائم کے لیے ہندی اور دوسری ہندوستانی زبانوں میں متبادل موجودہیں۔ لہٰذا ان علامتوں اور الفاظ واسما کو استعمال کرنا چاہئے جنہیں مقامی لوگ آسانی سے سمجھ سکیں۔ اردو زبان سے یہ مطالبہ آج بھی ہوتا ہے۔ لیکن آج اس کی نوعیت مختلف ہے۔ آج جو شخص اس قسم کی باتیں کرتا ہے اسے ہم اردو دشمن کہہ کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ سردار جعفری کا معاملہ ذرا مختلف تھا۔ ایک وقت انہیں اردو کا مستقبل رومن اور دیوناگری رسم خط میں زیادہ روشن معلوم ہوتا تھا۔ سردار جعفری نے اپنے کالم میں ایسے معترضین کو جواب دینے کی کوشش کی ہے جن کا تعلق اردو سے بھی ہے اور ترقی پسند ی سے بھی۔ معترض کا سوال یہ تھا کہ اگر ’نیاادب‘ ترقی پسند رسالہ ہے تو اس کے مشمولات بھی ترقی فکر کی نمائندگی کریں اور ایسی زبان میں کریں جنہیں عوام سمجھ سکے کیونکہ ترقی پسندی کا راست تعلق عوام سے ہوتا ہے۔ اعتراض قابل غور ہے مگر کیا ہندوستان کے عوام کی شرح خواندگی اتنی ہے کہ عوام رسالہ پڑھ کر اس سے مستفید ہوسکیں۔ سردار جعفری نے اس پہلو پر زیادہ زور دیا ہے کہ اردو زبان بول چال کی زبان ہے۔ اگر ہم ’نیا ادب‘ کے مشمولات کسی عام شہری کو سنائیں اور اگر وہ اس کی سمجھ میں نہ آئے تو یہ اعتراض مناسب ہوسکتا ہے مگر سردار جعفری نے اپنے ایک مراٹھی دوست کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’دارورسن‘ کے تمام الفاظ وہ سمجھتے بھی ہیں اور اس پر اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اردو بول چال کی سطح پر عوام میں رائج ہے۔ اس کے باوجود اس میں شامل غیرملکی الفاظ کو نکالنے کا مطالبہ کس قدر مناسب ہے۔ سردارجعفری نے اس خط کا ایک طویل اقتباس نقل کیا ہے جس میں اردو زبان کی مشکل پسندی اور غیرملکی علائم والفاظ پر تنقید کی گئی ہے۔ خط نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
یہ خط بہت ہی خلوص سے لکھا گیا ہے لیکن اگر خلوص ذہنی الجھائو اور پرانے تعصبات کا شکار ہو جائے تو اس سے فائدے کی جگہ نقصان پہنچتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ پرانے تعصبات جو غیرشعوری طور سے دل اور دماغ پر چھائے رہتے ہیں اگر کوشش کرکے صاف نہ کیے جائیں تو اچھے بھلے آدمی کو رجعت پرستی کے چنگل میں پھنسا دیتے ہیں۔‘‘
(نیا ادب بمبئی؛نومبر1948،صفحہ:9)
سردار جعفری نے اپنے اس کالم میں پرانے تعصبات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اردو کی ابتدا، ارتقا اور اس کے ذخیرئہ الفاظ پر بہت ہی مدلل گفتگو کی ہے۔ اردو میں جو ذخیرہ ہے اسے انہوں نے تین خانوں میں منقسم کیا ہے۔ ان تینوں زمروں میںوہ الفاظ کی ایک لمبی فہرست درج کرتے ہیں لیکن زمروں کو کسی مخصوص اصطلاح کا پابند نہیں بنایا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان زمروں کو روزمرہ کے الفاظ، عدالتی اور محکمہ جاتی الفاظ اور شاعرانہ یا ادبی الفاظ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ان تینوں زمروں کے الفاظ اردو ہندی میں معمولی تفریق کے ساتھ رائج ہیں۔ یہاں تک اردو ہندی کے مابین کوئی بڑا اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اختلاف وہاں ہے جہاں زبان علمی حدود میں داخل ہوتی ہے ۔جن الفاظ یا اصطلاحوںسخت تنقید ہوتی ہے،ان کا تعلق علمی اور فلسفیانہ اصطلاحوں سے ہے۔ اصطلاح سازی کا عمل بہت ہی مشکل ہے۔ اردو اور ہندی کے علمی سرمائے کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جدید علوم کے اردو-ہندی متبادل تشکیل کرنے کی عمر ایک صدی کو محیط ہے۔ قدیم وجدید اصطلاحوں کا مطالعہ کریں تو یہ بھی معلوم ہوگا کہ ایک اصطلاح کے لیے اردو اور ہندی میں کئی متبادل بنائے گئے مگر یہ تمام متبادل وقت کا ساتھ نہ دے سکے بالآخر انہیں اسی طرح قبول کرلیا گیا جیساکہ وہ اصلی زبان میں تھے۔ہائیڈروجن، آکسیجن، ایٹم وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ سردارجعفری لکھتے ہیں:
’’چوتھی قسم علمی الفاظ کی ہے اور سارا جھگڑا یہیں آکر پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً فلسفہ (درشن) اقلیدس (ریکھا گنت ودیا) علم (گیان) ادراک( ) احساس( )جمالیات (سوندریہ شاستر) عینیت(آدرش واد) مادیت (بھوتک) جدلیاتی (دوندواتمک) کیفیت (گن) کمیت (سنکھیا) جنسیات(کام شاستر) مابعد الطبعیات ( ) علم الانسان( ) معاشیات(ارتھ شاستر) علم الحیوان (جیووگیان) وغیرہ۔ یہ لفظ صرف اردو پڑھے لکھے حلقے تک محدود ہیں۔ یہ اس وقت تک نہیں نکالے جاسکتے جب تک کہ نئے لفظ ان کی جگہ نہ لے لیں۔ لیکن مکھی پر مکھی نہیں ماری جاسکتی۔ اگر اردو اور ہندی دو الگ الگ زبانوں کی شکل میں ترقی کرتی ہیں تو ان کی علمی اصطلاحیں الگ الگ ہوجائیں گی اور اگر یہ دونوں ایک زبان بن جاتی ہیں تو ایک علمی اصطلاح کے لیے دو دو تین تین لفظ رائج ہوں گے۔ اور بعد کو زمانہ اس کا فیصلہ کرے گا کہ کس لفظ میں زندہ رہنے کی صلاحیت ہے کس میں نہیں۔ اس لیے بے سوچے سمجھے فارسی لفظوں کو یا سنسکرت لفظوں کو گالیاں نہیں دی جاسکتیں۔
(نیا ادب بمبئی؛نومبر1948،صفحہ:11)
سردارجعفری نے جن الفاظ کو درج کیا ہے ان کا تعلق علمی اصطلاحوں سے ہے۔ اردو کی جن اصطلاحوںکے ہندی متبادل اس وقت یاد تھے انہیں لکھ دیا ہے اور جو اس وقت ان کے حافظے میں نہیں تھے ان کی جگہ خالی رہنے دی ہے۔ ان کا یہ کہنا درست ہے کہ کسی ایک زبان کی اصطلاح کو اردو میں رواج دینے کی کوشش سودمند نہیں۔ یہاں یہ سوال قائم ہوتا ہے کہ اردو میں علمی موضوعات پر لکھتے ہوئے کس زبان کی اصطلاح استعمال کی جائے۔ کیا صرف اردو متبادل لکھنا کافی ہوگا۔ پھر اس اردو متبادل کا ماخذ عربی, فارسی ہوگا یا ہندی اور سنسکرت؟ یا پھر اردو ہندی اور انگریزی کی اصطلاحوں کو ایک ساتھ لکھنا چاہئے۔ اردو کے علمی مضامین میں عام طور پر اردو متبادل کے ساتھ انگریزی لفظ یا اصل زبان کا لفظ رومن میں یا اس کے اصل رسم خط میں لکھنے کا رواج رہا ہے۔ اگر کوئی مصنف اس قسم کا اہتمام کرتا ہے تو اسے داد دینی چاہئے لیکن ہر ایک سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اصطلاح سازی کا کام کرے۔ علمی مضامین لکھنا اور اصطلاح سازی کرنا دو مختلف کام ہیں اور ایک وقت میں کوئی ایک ہی کام بہتر طور پر ادا کیا جاسکتا ہے۔ پہلے بھی کہا جاچکا ہے کہ بول چال اور علمی زبان کی سطح ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ علمی اصطلاحوں سے ان محدود لوگوں کا سروکار ہوتا ہے جنہیں تعلیم یافتہ کہا جاسکتا ہے۔ تو کیا ترقی پسند ادیب کو علمی موضوعات پر مضامین اظہار خیال کے لیے اس وقت کا انتظار کرنا چاہئے جب علمی اصطلاحیں عام ہو جائیں۔ علمی اصطلاحوں کی بحث کا سلسلہ ممتاز حسین کے مضمون ’’ادبی قدریں کیا ہیں‘‘ مطبوعہ ’نیا ادب‘ اکتوبر 1948 سے شروع ہوا۔ ممتاز حسین کا یہ مضمون جمالیات سے متعلق ہے۔ جمالیات اس وقت اردو کے لیے نئی اصطلاح تھی۔ اس لیے اس موضوع پر لکھتے ہوئے انہوں نے انگریزی الفاظ کے نئے اور نامانوس اردو متبادل کے ساتھ ساتھ انگریزی اصطلاحوں کا استعمال کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مضمون کا موضوع بہت اہم ہے لیکن زبان کی ژو لیدگی کا شکوہ بھی بے جا نہیں تھا۔ ممتاز حسین نے جمالیات پر کئی مضامین لکھے ہیں مگر ان میں زبان اتنی مشکل نہیں ہے۔ خودسردارجعفری کو بھی احساس تھا کہ اسے آسان زبان میں بھی لکھا جاسکتا تھا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی زبان اور ایسے موضوعات ’نیاادب‘ میں جگہ نہ پائے۔ سردار جعفری لکھتے ہیں:
’’علمی زبان اس وقت تک عوام کی سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک عوام تعلیم یافتہ نہ ہوں۔ اس کا مطلب صرف لفظوں کی تعلیم نہیں بلکہ تصورات کی تعلیم بھی ہے۔ فلسفے، سائنس اور ادب کی تعلیم بھی۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جب تک جنتاراج قائم نہ ہو جائے اور عوام پر علم کے دروازے کھل نہ جائیں تب تک علمی مسائل پر بحث بند کردینی چاہئے۔‘‘
(نیا ادب بمبئی؛نومبر1948،صفحہ:12)
سردارجعفری نے اس کالم میں اردو زبان کی ابتدا، اس کی لفظیات، حدود وامکانات اور عروض وآہنگ سے بحث کی ہے۔ اردو ہندی جھگڑے کی بنیادوں، رجعت پرست ذہن اور کسی مخصوص زبان کے الفاظ زبردستی رائج کرنے کی کوششوں کی بھی بے گرفت کی ہے۔ مضمون کے آخر میں اپنے لسانی نظریہ کا بھی اظہار کیا ہے:
’’میں بھی ہندوستانی کا حامی ہوں۔ لیکن میرے خیال میں ہندوستانی کے معنی وہ زبان ہے جس میں ہندی اور اردو دونوں کی ادبی روایات پوری طرح سمودی گئی ہوں۔ جو ایک طرف عوام سے اپنی جڑوں کو مضبوط کرے اور دوسری طرف ترقی یافتہ اور کلاسیکی زبانوں میں یعنی سنسکرت، عربی ، فارسی اور انگریزی سے اپنی آرائش کرے۔ اس کے بغیر کوئی ہندستانی زبان پیدا نہیں ہوسکتی۔ بول چال کی زبان اب بھی موجود ہے لیکن وہ ہندوستانی جو ادب اور علم کی زبان بھی ہو ابھی پیدا ہوگی۔‘‘ (نیا ادب بمبئی؛نومبر1948،صفحہ:15)
علی سردارجعفری ایک ترقی پسند ادیب ہیں۔ اس لیے وہ بہتر مستقبل کے امکان سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ جس ہندوستانی زبان کے وہ حامی تھے وہ اب بھی بول چال کی سطح پر رائج ہے مگر اردو ہندی اب مستقل زبان کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔ دونوں کے ذخیرئہ الفاظ، تصورات اور اصطلاحیں جداگانہ ہیں۔ ان میں مماثلت اور مشابہت تلاش تو کی جاسکتی ہیں مگر ان کے دو الگ الگ زبان ہونے کی صداقت کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔
سردار جعفری کی ترقی پسندی ان کے کالم میں ہر جگہ دیکھی جاسکتی ہے۔ مگر دسمبر 1948 کا کالم یوں تو صرف ایک صفحہ پر مشتمل ہے مگر اس ایک صفحہ میں ان کا اسلوب سخت ہوجاتا ہے۔ اگست 1948 میں ٹیگور پر مبنی ایک فلم ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں ٹیگور کی شاعری اور مکالموں میں ترمیم واضافہ کیا گیا تھا۔ سنسربورڈ کے اس اقدام کے خلاف سخت ردعمل ہوا تھا لیکن اس کے محض دو مہینے بعد شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے ’ہملٹ‘ میں کچھ قطع وبرید کے ساتھ ریلیز کردیا۔ سردارجعفری نے اپنے اس ایک صفحہ میں سنسربورڈ کے اس رویے کے خلاف اپنا احتجاج درج کیاہے۔ اس سنسرشپ کے لیے وہ صرف سنسربورڈ کے عملا واراکین کو ہی ذمہ دار نہیں قراردیتے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’جو طبقات دنیا کے سب سے بڑے شاعر کی شاعری کو اخلاق وکردار کے لیے مضر سمجھتے ہیں وہ طبقات خود اخلاق وکردار کے سب سے بڑے دشمن اور زندگی اور سماج کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ میں سنسربورڈ کے چند افراد کو اس کا مجرم نہیں سمجھتا بلکہ میں اس پورے سماجی نظام کو ذمہ دار قراردیتا ہوں۔ جس کا نام سرمایہ داری ہے اور ان ادیبوں اور دانشوروں کو مجرم قرار دیتا ہوں جو اس سرمایہ داری نظام کی حمایت کرتے ہیں اور اس نظام کو برقرار رکھنے والوں اور اس کے چلانے والوں کی تعریف میں قصیدے لکھتے رہتے ہیں۔‘‘
(نیا ادب بمبئی؛دسمبر1948،صفحہ:7)
’دارورسن‘ ادب، سماج، قوم اور عوام کے تئیں سردار جعفری کی سچی ہمدردی اور خلوص کو پیش کرتا ہے۔ اس میں ان کی ترقی پسند فکر کا کئی طرح سے اظہار ہوا ہے کبھی لہجہ نرم ہوجاتا ہے تو کبھی سخت۔ کبھی وہ کشادہ ذہنی کا ثبوت دیتے ہیں تو کبھی انتہاپسندی کا۔ جب بھی وہ ترقی پسند جذبات سے مغلوب ہوکر کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان میں ایک طرح کی درشتگی اور خشونت در آتی ہے۔ جب وہ انہیں باتوں کو منطقی انداز سے لکھتے ہیں تو اس میں ان کا انداز متوازن معلوم ہوتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ’’کیا ترقی پسند جذبات کا بے باکانہ اظہار ادب کے لیے مفید ہے یا نہیں۔‘‘ سردار جعفری نے اس کالم میں اپنے ادبی اور سماجی موقف کا اظہار بہت ہی بے باکی سے کیا ہے۔ اسے کچھ لوگ چیخ پکار کا نام بھی دے سکتے ہیں۔مگر اس کالم ’’داررسن‘‘ سے اتنا توواضح ہے کہ زبان، ادب، سماج ، تہذیب اور تاریخ پر علی سردار جعفری کی نظر بہت گہری تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ سردارجعفری کے ادبی موقف کو اس کالم کے بغیر بہتر طور نہیں سمجھا جاسکتا۔
٭٭٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

