کلیم الدین احمد ایسے نقّاد ہیں جن کی اکثر و بیش تر تحریروں پر اردو کے علمی حلقے میں غور و فکر سے کام لیا گیا ۔اُن کی کتابوں کی ایک ایک سطر پر نقّادوں نے بحث کی اور اُن کی تحریروں کے نتائج کے سلسلے سے اردو کے بڑے حلقے میں ہیجان کا ماحول قائم ہوا۔اردو تنقید میں اُن کے مقام کے تعلّق سے اچھّے خاصے اختلافات بھی ہوئے، اس کے باوجود اُن کی قدرو قیمت سب نے تسلیم کی۔ ان کی کتابیں خوب خوب پڑھی گئیں اور آج بھی ہر صاحبِ علم کے مطالعے کا وہ حصّہ ہیں لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ہوا کہ کئی لکھنے والوں نے کلیم الدین احمد کی مخالفت کو اپنا شیوئہ علمی بنا لیا۔ ان کی وفات کے بعد یہ سلسلہ مزید دراز ہوا ۔ عبدالمغنی نے کلیم الدین احمد کے کارناموں کے خلاف کتاب تیّار کی ۔سیّد محمد محسن نے متعدّد مضامین ان کی قدح میں لکھے اور رسالہ ’سہیل‘، گیانے اُن کے خلاف پورا ایک شمارہ شائع کر دیا ۔وہاب اشرفی نے ہر چند اپنے ابتدائی زمانے کی کتاب ــ’قدیم ادبی تنقید ‘ پر کلیم الدین احمد کی تقریظ اہتمام کے ساتھ شائع کی تھی اور ’معنٰی کی تلاش‘ کتاب کا انتساب انھی کے نام کیا تھالیکن وہ بھی اُن کی نکتہ چینی سے غافل نہیں رہے ۔بالخصوص کلیم الدین احمد کی وفات کے بعد اردو تنقید کی تاریخ پر مضمون ہو یا اقبال کے سلسلے سے کلیم الدین احمد کے خیالات کا جائزہ مقصود ہو یا تاریخِ ادبِ اردو میں ان کے مجموعی احتساب کی بات ہو؛ ہر جگہ کلیم الدین احمدکے امتیازات کی شناخت سے وہاب اشرفی نے مقدور بھرچشم پوشی کی ۔
ساہتیہ اکادمی نے اردو کے مقتدر ادبا اور شعرا پر ایک طویل عرصے سے تعارفی کتابچے (Monographs) کا مختلف زبانوں میں نہایت کارآمد سلسلہ چلا رکھا ہے ۔ایسے مونوگراف اُس شخصیت کے کارناموں کا تعارف کرانے کے مقصد سے شائع کرائے جاتے ہیں۔ اسی لیے اُن کتابوں میں معتر ضانہ احتساب کی صورت کبھی سامنے نہیں آئی ۔اردو یا دوسری زبانوں میںبھی ساہتیہ اکادمی کا کوئی ایسا مونوگراف ہماری نگاہ سے نہیں گزرا جس میں لکھنے والے نے تعارف سے لے کر اختتامیہ تک اُس شخصیت پر تیر ہی تیر برسائے ہوں ۔ کلیم الدین احمد کے سلسلے سے وہاب اشرفی کے تحفّظات یوں بھی لوگوں کو معلوم تھے ۔اس کے باوجود نہ معلوم کن اسباب سے کلیم الدین احمد کے کارناموں کا تعارف پیش کرنے کے لیے وہاب اشرفی ہی منتخب ہوئے۔ یوں بھی یہ کام آج سے پچیس برس پہلے ہو جانا چاہیے تھا ۔لیکن نہ جانے کس عصبیت کی بنا پر کلیم الدین احمد کی وفات کی تین دہائیاں مکمّل ہونے کا انتظار کیا گیا اور احتساب کی ذمّے داری اُس شخصیّت کو عطا ہوئی جس کے اعتراضات یا تحفّظات اظہر من الشمس ہوں ۔اس سے پہلے وہاب اشرفی قاضی عبدالودود کے سلسلے سے حددرجہ عامیانہ مونوگراف ساہتیہ اکادمی کے لیے لکھ کراپنے موضوع سے بے اعتنائی برتنے کی مثال قائم کر چکے تھے لیکن اسی کام کاصلہ انھیں پھرسے کلیم الدین احمد کے کارناموں کا جائزہ لینے کے انعام کے طور پر دیا گیا۔ پتانہیں، یہ کیسی عصبیت ہے کہ ساہتیہ اکادمی نے وہاب اشرفی کی عزّت افزائی میں اِن دو بڑے اہلِ قلم کویوں ضائع کر دیا ۔
وہاب اشرفی برق رفتاری سے کتابیں تیّار کرتے ہیں ۔جتنے وقفے میں دوسرے لکھنے والے کسی ایک مضمون کا خاکہ مکمّل کرتے ہیں ،اتنے وقفے میں وہاب اشرفی کی کتاب چھپ کر بازار میں چلی آتی ہے ۔پچھلے بیس برس میں وہاب اشرفی کی کتابیں سج دھج کر اہتمام سے چھپیںحالاں کہ اس سے پچیس تیس برس پہلے ان کی کتابیں نہایت بدسلیقگی سے ’برے کاغذوں‘ یہاں تک کہ نیوز پرنٹ پر چھپتی رہیں ۔۱۹۹۴ء میں رانچی سے پٹنہ آمد اور یونی ورسٹی سروس کمیشن، بہار انٹر میڈیٹ ایجوکیشن کاؤنسل وغیرہ اداروں کی سربراہی حاصل ہونے کے بعد وہاب اشرفی کی کتابیں حُسنِ صورت کے ساتھ شائع ہونے لگیں۔پُرانی کتابوں کی اشاعتِ نو ہوئی۔ زیادہ تعداد میں اسی دوران نئی کتابیں بھی لکھی گئیں ۔ان کی شخصیت اورکارناموں پر بھی آدھا درجن کتابیں اسی دوران میں شائع ہوئیں ۔کہنا چاہیے کہ پچھلے سترہ اٹھارہ برسوں میںوہاب اشرفی کا ستارہ بلند تررہا اور ادبی اوردنیوی دونوں اعتبار سے وہ کامران تسلیم کیے گئے۔ اُن کی کتابیں بڑے پبلشروں یا بڑے تعلیمی اداروں سے چھپ کر آنے لگیں جس کی وجہ سے اُن کی مُلک گیر شہرت میں اضافہ ہوا ۔انھیں بڑے علمی اداروں کی مدد سے لوگوں تک پہنچنے کے مواقع ملے۔
پختہ عمری، شہرت و قبولیت میں عروج اور چھوٹی بڑی نصف صد کے قریب جلدوں کی اشاعت سے وہاب اشرفی کے یہاں زبردست علمی اعتماد قائم ہوا ہے ۔علمی معاملوںمیں مصنّف کا اپنی صلاحیت اور کارناموں کے غیر معمولی ہونے کا عرفان اکثر خطرناک ہوتا ہے۔ ہمارے اسلاف میں بڑے کارنامے انجام دینے والے لوگ اپنی خدمات کو ’’تختیاں لکھنا ‘‘ قرار دیتے تھے؛ بڑی اور ضخیم کتابوں پر انکسار کے طور پر اپنا نام مولّف کی حیثیت سے درج کرتے تھے۔ وہاب اشرفی نے ایک محفل میں کبھی یہ کہا تھا کہ ان کی کتابوں کا وزن اُن کے جسم کے وزن سے زیادہ ہو گیا ہے جس پر اسرار جامعی نے شعرمیں یہ پھبتی کَسی تھی کہ وہاب اشرفی اپنی کتابوں سے ہلکے ہوگئے ۔ اپنی تصنیف و تالیف کی حُسنِ صورت ،موضوعات کی رنگا رنگی ،وسعت اور ترتیب واہتمام کے ساتھ اشاعت سے وہاب اشرفی کے یہاں نرگسیت کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے کیوں کہ وہ اب اپنی دوسری تحریروں کی نقل اور بار بار اپنے ہی اقتباسات کی پیش کش سے ایک ایسی علمی صورت پیدا کردیتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ تمام علوم اور موضوعات پر وہ پہلے ہی کام کی باتیں کہہ چکے ہیں۔
ایک نقّاد کے طور پر وہاب اشرفی کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی متعدّد یا تمام کتابوں کے انتسابات پر غور کرنا دلچسپ اَمر ہے۔ انھوں نے اپنی ہر کتاب میں یہ سلسلہ قائم کیا کہ اپنے زمانے کے بااثرلکھنے والوں بالخصوص نقّاد وں کو ترتیب سے کتابوں کا تحفہ پیش کیا جائے۔ اس میں مقامی اور قومی، تدریسی اور غیر تدریسی ، علمی اور غیر علمی ہر طرح کی مصلحتوں کو پھلنے پھولنے کے مواقع ملے۔ بعض کتابوں کی نئی اشاعتوںمیں حسبِ ضرورت کسی نئی شخصیت کے نام کتاب منسوب کردی گئی۔ پختہ عمری میں وہاب اشرفی کے ہاں ایک اور ادبی بدعت یہ آئی کہ وہ کتابوں سے کتابیںبنانے (Book Making) میں اپنی مہارت کا استعمال کرنے لگے ۔ ان کی ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ کتاب ’تاریخِ ادبِ اردو‘(تین جلدیں) ملاحظہ کیجیے جہاں مختلف افراد کی کتابوں کے تراشوں کو ہو بہ ہوکہیں ان کے اقتباس کے طور پر اور کہیں بغیر حوالے کے اپنی کتاب کا حصّہ بنانے میں انھیں کوئی دریغ نہیں۔ کوثر مظہری کی کتاب ’جواز و انتخاب‘ کو سامنے رکھیے اور دیکھیے کہ کس طرح اس میں شامل شعرا کے حالات اور کارناموں کو وہیں سے نقل کرکے اپنی کتاب کا جائزہ مکمّل کر لیا گیا ہے ۔ ایسی کم از کم ایک سو کتابوں کی نشان دہی کی جا سکتی ہے جن کے صفحات در صفحات وہاب اشرفی نے ہضم کر لیے ہیں۔ ’مارکسی فلسفہ ، اشتراکیت اور اردو ادب ‘ کا جائزہ لیجیے تو خلیل الرحمان اعظمی اور سجاد ظہیر کی کتابوں سے سینکڑوں صفحات کہیں بتا کر اور کہیں بتائے بغیر ذاتی تصنیف کا حصّہ بن گئے ہیں۔ اس کتاب میں زیادہ سے زیادہ ایسے پچاس صفحات ہیںجنھیں وہاب اشرفی نے اپنے دماغ اور قلم سے لکھا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی پر لکھی گئی کتاب میں اچھّا خاصا حصّہ ظ۔ انصاری کی کتاب سے نقل کر لیا گیا ہے ۔ اسی طرح مجروح سلطان پوری پر ساہتیہ اکادمی کے لیے لکھے ہوئے وہاب اشرفی کے مونوگراف میں راشد انور راشد کے مضامین سے ایک بڑا حصّہ براہِ راست اخذ کر لیا گیا ہے۔
اخذ و استفادہ کے نام پر سرقہ کی ابتدائی شکل وہاب اشرفی کے یہاں ان کی کتاب ’تفہیم البلاغت ‘ میں بہت پہلے سے موجود ہے جہاں ’درسِ بلاغت‘ اور چند دوسری کتابوںسے مفید مطلب صفحات لے لیے گئے ہیں۔ لیکن اپنی اس خصوصیت کا انھوں نے منظّم اور ادارہ جاتی طریقے سے ’تاریخِ ادبیاتِ عالَم‘ میں استعمال کرنا سیکھا۔وہاں اور وسیع دنیا تھی اور صرف اردو کی کتابوں پر انحصار کی مجبوری نہیں تھی۔ یہاں ترجمہ، تاثّر، نقل اور نقل درنقل کے ملے جلے رنگوں سے سات جلدیں تیّار ہوئیں ۔ ابھی تک کسی نے مستعدی اور اہتمام کے ساتھ اس کتاب کے مآخذات تک پہنچنے کی مشقّت نہیں اٹھائی کہ ان سات جلدوں میں کہاں کہاں سے اور کس طرح کا مال جمع کردیا گیا ہے۔دو جلدوں کے علاوہ وہاب اشرفی کی پانچ جلدیں ’کتابیات‘ سے خالی ہیں۔اب کئی کتابوں سے ایک الگ کتاب بنانے کا عمل وہاب اشرفی نے ’مغربی ومشرقی شعریات‘ کتاب میں آزمایا ہے، جو خدا بخش لائبریری کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ کتاب کے پیشِ لفظ میں ڈائرکٹر کا کہنا ہے کہ کتاب خدا بخش لائبریری کے پروجکٹ کے تحت تیّار ہوئی۔ خود وہاب اشرفی بھی اپنی ’گزارش‘ میں یہ بات واضح کردیتے ہیں کہ یہ خدا بخش لائبریری کے ایک پروجکٹ کا حصّہ ہے لیکن سچّائی یہ ہے کہ وہاب اشرفی نے ’تاریخِ ادبیاتِ عالَم‘ کی جو جلدیں تیّار کیں، وہیں سے الگ الگ زبانوں کی تاریخ سے دس بیس صفحات اخذ کر کے ۴۷۸ ؍صفحے کی یہ کتاب مکمّل کردی۔ یہ یاد رہنا چاہیے کہ ’تاریخِ ادبیاتِ عالَم‘ کی پہلی جلد ۱۹۹۱ء میں شائع ہو کر علمی حلقے سے خراجِ تحسین حاصل کر رہی تھی۔ تانیثی شعریات اور تقابلی شعریات کے تعلّق سے ابواب جو محض چند صفحات پر مشتمل ہیں، ’تاریخِ ادبیاتِ عالَم‘ سے الگ ہیں۔ اسی طرح اردو شعریات سے متعلّق باب بھی الگ سے لکھا گیا ہے۔ باقی نوّے فی صدی سے زیادہ اپنے لکھے پُرانے مال کو نئی جلد میں پیش کرکے حکومتِ ہند سے خطیر مالی فائدہ حاصل کیا گیا ہے۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ’تاریخِ ادبیاتِ عالم‘ کی جلدوں پر حکومتِ ہند، یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن یا بہار اردو اکادمی کی طرف سے جزوی یا کُلّی مالی تعاون اور انعامات مصنّف کو اس کام کے لیے الگ الگ وقتوں میں حاصل ہوتے رہے۔
ایک سو آٹھ صفحات پر مشتمل ساہتیہ اکادمی کی طرف سے شائع کی گئی وہاب اشرفی کی یہ کتاب (کلیم الدین احمد پر مونوگراف)ان کی مذکورہ تمام ادبی بدعتوں کا ثبوتِ تازہ ہے۔ ایک بکھراو کا عالَم ہے جو شروع سے لے کر آخر تک موجود ہے۔ اپنی پُرانی کتابوں سے یہاں بھی کاٹ چھانٹ اور جوڑ جاڑ کا سلسلہ دراز ہے۔ یہ کتاب بھی عجلت میں بنائی گئی ہے کیوں کہ بہت ساری باتیں تشنہ ہیں۔ کسی کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے اصل نتیجہ کسی دوسرے ناقد کا قول بتاکر پیش کردیا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایسی کتابوں کے بارے میں وہاب اشرفی کی اپنی کوئی راے نہیں ہے۔ کلیم الدین احمد کی بعض کتابوں کے بارے میں یوں سرسری گزرگئے ہیں جیسے وہ اُن کتابوں کو یاتو بالکل غیر اہم مانتے ہیں یا پھر ان پر راے دینے کی انھیں ضرورت سمجھ میں نہیں آتی یا انھوں نے ان کتابوں کو غور سے دیکھا ہی نہیں۔ کن کتابوں پر تفصیل سے لکھا جانا ہے اور کن پر اختصار درکار ہے؛ اس سلسلے سے بھی مصنّف افراط و تفریط کا شکار ہے۔ ’’اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘‘ کے لیے محض ڈیرھ صفحے کی گنجایش پیدا ہو سکی۔ ’’اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ کا جائزہ متعدّد صفحات کے حوالہ جات کے ساتھ ساڑھے آٹھ صفحے میں سمٹ گیا ہے۔ لیکن ’’اقبال : ایک مطالعہ‘‘ کا جائزہ انیس صفحات پر مشتمل ہے کیوںکہ یہاں وہاب اشرفی نے اپنے ایک پُرانے مضمون کے پندرہ صفحات ہُوبہ ہُو شامل کر دیے ہیں۔ یہ مضمون ’اقبال : ایک مطالعہ‘ کے صرف ایک مقالے کو بنیاد بنا کر لکھا گیا تھا۔ اس کتاب کے لکھنے میں وہاب اشرفی نے کیسی مشقّت اُٹھائی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگانا چاہیے کہ کُل انیس صفحات میں وہاب اشرفی نے صرف تازہ پچیس سطریں اپنی طرف سے لکھی ہیں۔ باقی یا تو ان کا پچھلا مضمون ہے یا کلیم الدین احمد یا دوسروں کے اقتباسات۔ تنقید کا یہ انداز ’’ادبی تنقید کے اصول‘‘ کتاب کے سلسلے سے گفتگو کے دوران مزید ترقّی پاتا ہے۔ گیارہ صفحات کے اس جائزے میں کلیم الدین احمد کے چھوٹے بڑے تیس اقتباسات پیش کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ظفر اوگانوی کا بھی ایک اقتباس شامل ہے۔ کلیم الدین احمدکی لکھی سطریں ۱۳۳ ؍ ہیں جب کہ وہاب اشرفی کے قلم سے تحریر شدہ سطروں کی کُل تعداد ۸۹؍ ہے۔ وہاب اشرفی نے کلیم الدین احمد کی تحریروں سے جو اقتباسات منتخب کیے ہیں، اُن اقتباسات کا جائزہ لینے میں کیسی گہری تنقیدی بصیرت کا ثبوت دیا ہوگا، اس کا اندازہ اُن کے چند جملوں سے کرلینا مناسب ہوگا :
(۱) بالکل درست ہے۔
(۲) کلیم الدین احمد کی یہ راے بھی درست ہے، اس سے اختلاف کی کوئی وجہ نہیں۔
(۳) اس اقتباس میں جو بات کہی گئی ہے، وہ درست ہے۔
(۴) ظاہر ہے کہ پورا اقتباس قیمتی ہے۔
(۵) یہ بالکل صحیح اور کھری بات ہے۔
(۶) اس خیال میں بھی وزن ہے۔
(۷) یہ باتیں اہم ہیں۔
(۸) اس اقتباس کے خیالات سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے۔
(۹) یہ خیال بھی سوفی صددرست ہے۔
ایسی سرسری رایوں کے بعد وہاب اشرفی کے پاس نتیجے کے طور پر کچھ کہنے کی اگر کوئی بات تھی تو اس کے لیے بھی انھوں نے ظفراوگانوی کے مضمون سے ایک اقتباس اخذ کرلیا اور ان کا بابِ مطالعہ تمام ہوگیا۔ ’’سخن ہاے گفتنی‘‘ اور ’’عملی تنقید‘‘ پر وہاب اشرفی نے ایک ساتھ گفتگو کی ہے۔ چار صفحات میں وہاب اشرفی نے صرف ساڑھے سات سطریں اپنی طرف سے لکھی ہیں۔ باقی تمام کلیم الدین احمد کے اقتباسات درج کردیے گئے ہیں۔ آخرمیں سیّد محمد محسن کے بھی دو اقتباسات کلیم الدین احمد کی خامیوں کی نشان دہی کرنے کے لیے وقف ہیں۔ ’’تحلیلِ نفسی اور ادبی تنقید‘‘اور ’’کلیم الدین احمد کی شاعری‘‘ کے سلسلے سے بھی مطالعے کا یہی مانوس سرسری انداز قائم ہے۔
اس کتاب میں وہاب اشرفی نے صرف انھی مقامات پر جی لگا کر لکھا ہے جہاں انھیں کلیم الدین احمدکی شخصیت یا کارنامے کے تعلّق سے کوئی معتر ضانہ گفتگو کرنی ہے۔ وہاب اشرفی نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کلیم الدین احمد کے خلاف لکھے گئے مضامین یا مشاہدات درج کیے ہیں۔ عبدالمغنی اور سیّد محمد محسن کے اقتباسات کئی جگہ چمکتے ہوئے ملتے ہیں۔ کلیم الدین احمد کے ساتھ ان کی حمایت میں لکھنے والوں کی بھی جہاں گنجایش ہوئی، خبر لی گئی ہے۔ اس سلسلے میں کئی ایسی باتیں بھی کتاب میں پیش کی گئی ہیں جن کے لیے نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ کوئی دلیل پیدا کی جا سکی ہے۔ چند اقتباسات سے وہاب اشرفی کے ذہن میں موجود اُس کدورت کو پہچانا جا سکتا ہے جو کلیم الدین احمد کے سلسلے سے انھوں نے رَوا رکھّی :
< ’’صاف معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم ڈاکٹر ممتاز احمد کی کتاب خود کلیم الدین احمد کی لکھی یا لکھوائی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سبھوں کو معلوم ہے کہ ڈاکٹر ممتاز احمد کا انگریزی یا مغربی ادبیات سے کوئی ربط نہ تھا۔ نہ اُن کے پاس تمام مغربی شاعروں کی تفہیم کی کوئی سبیل تھی کہ وہ یہ تحقیقی امر سامنے لا سکتے کہ کون سا شعر کس شاعر کی جھولی سے نکالے گئے ہیں(نکالا گیا ہے)؟ اردو شعرا یا فارسی شعرا کے حوالے تک بات ہوتی تو سب کچھ ممتاز صاحب کے نتیجہ ٔ فکر کو واضح کرتی لیکن یہاں تو معاملہ ہی الگ ہے۔‘‘(کلیم الدین احمد۔ص:۹۹۔۹۸)
< ’’ہاں بالکل سچ بات ہے۔ لیکن خود کلیم الدین احمد کئی جگہ تعصّب کے (کا) شکار ہوئے ہیں، ورنہ وہ شادعظیم آبادی کو ’اردو شاعری پر ایک نظر‘ سے باہر نہ کرتے جب کہ اُن کی نگاہ میں میر، غالب اور شاد اردو غزل کی تثلیث ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ خیال اُس وقت آیا جب انھیں بہار اردو اکادمی کے ایک منصوبے کے تحت اُن کا مجموعۂ کلام( کلیّات؟) ترتیب دینا تھا اور یہ مالی منفعت کی بات تھی۔‘‘ (کلیم الدین احمد، ص:۷۷)
< ’’آلِ احمد سرور کے باب میں اُن کے رویّے میں لچک آتی رہی ہے۔ اس کی کچھ اور بنیادیں تھیں۔ خود آلِ احمد سرور نے دراصل کلیم الدین احمد سے مصافحہ کی شکل اپنائی تھی جس کا اثر ہونا تھا۔ ’میری تنقید: ایک بازدید‘ میں جس طرح انھوں نے ان کے خیالات تفصیل سے قلم بند کیے ہیں، وہ ایسے ہی مصافحے کا نتیجہ ہیں۔ محمد حسن اور شمس الرحمان فاروقی بعد کے ایڈیشن میں جگہ پا سکے ہیں۔ ان کے ضمن میں جو رویّہ موصوف نے اختیار کیا ہے، وہ جارحانہ نہیں ہے، لیکن ایسا بھی نہیں کہ ان دونوں کی تنقید کی پوری کارکردگی سامنے آجائے۔ اس لیے دونوں کے باب میں تشنگی کااحساس ہوتا ہے اور یہ رویّہ جان بوجھ کر اپنایا گیا ہے۔‘‘ (کلیم الدین احمد۔ص: ۴۷)
ان اقتباسات سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ یہ کتاب کلیم الدین احمد کے ادبی احتساب کے لیے وقف ہونے کے بجاے کچھ دوسرے امور کے اِردگرد زیادہ گھومتی ہے۔ ممتازاحمد کی کتاب کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کلیم الدین احمد کی ’’لکھی یا لکھوائی‘‘ ہوئی ہے، اس کی دلیل کون پیش کرے گا؟ کلیم الدین احمد (وفات۔۱۹۸۳ء) اور ممتاز احمد (وفات۔۱۹۹۸ء) دونوں کے گزرنے کے بعد وہاب اشرفی ۲۰۱۲ء میں ایسے سوالات قائم کررہے ہیں؟ کیا یہ دوٗر کی کوڑی انھیں ان حضرات کی زندگی میں نہیں سوجھی؟ خود وہاب اشرفی کے سلسلے سے کئی ضخیم کتابیں ادبی طور پر غیر معروف لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں۔ ان میں وہاب اشرفی کی خدمات کے بارے میں نہایت سنجیدہ اور توصیفی رویّہ اختیار کیا گیا ہے۔ ان کتابوں سے الگ اِن مصنّفین کا کوئی بڑا کارنامہ ہمیں معلوم نہیں۔ تو کیا یہ الزام عاید کردیا جائے کہ وہ کتابیں وہاب اشرفی کی ’’لکھی یا لکھوائی‘‘ ہوئی ہیں؟ وہاب اشرفی کی اس تنقید میں کچھ معاصرانہ رشک و رقابت بھی ہے۔ پٹنہ یونی ورسٹی میں پروفیسر شپ کے لیے وہاب اشرفی ممتاز احمدکے مقابلے نا کام قرار دیے گئے تھے جس کے نتیجے میں انھیں رانچی سے عظیم آباد آنے کا موقع نہ مل سکا۔ شاید کدورت کی بنیاد یہ بھی ہو۔
شاد عظیم آبادی کو اردو غزل کی تثلیث میں حصّہ قرار دینے کو مالی منفعت کا کام ماننا اور یہ ثابت کرنا کہ صرف اسی وجہ سے یہ بات لکھی گئی تھی، یہ ادبی طور پر دیدہ دلیری کی انتہا ہے۔ وہاب اشرفی نے انگریزی میں ایک کتاب لکھی تھی جسے وہ اب چھُپائے پھرتے ہیں؛ اس کا نام یوں ہے: "LaluYadav : Apostle of Social Justice” ۔ یہ کتاب آخر کس مقصد سے لکھی گئی تھی؟ وہاب اشرفی نہ کوئی سیاسی وسماجی مفکّر ہیں، نہ ہی ایسے موضوعات پر ماضی میں اُن کی کوئی مکمّل تحریر دیکھنے کو ملی۔ یہ بھی سچّائی ہے کہ اس کتاب کے بعد ہی انھیں یونی ورسٹی سروس کمیشن اور بہار انٹر میڈیٹ ایجوکیشن کاؤنسل کی صدارت کے مناصبِ عالیہ تفویض ہوئے۔ اس کے بعد کی کہانی ان کی خود نوشت ’قصّہ بے سمت زندگی کا‘ میں تذکرۂ گرفتاری تک پہنچتی ہے۔ ایسی حالت میں کلیم الدین احمد پرمالی منفعت کا حصول اور اس کی چھاؤں میں پسندیدہ ادبی فیصلے کرنے کا الزام عاید کرنا چھوٹا منہ اور بڑی بات ہے۔ خود وہاب اشرفی کے یہاں ایک مکمّل گوشوارہ تیّار کیا جا سکتا ہے کہ اپنی کس کس کتاب سے، کون کون سے پروجکٹ اور کس مکمّل یا نامکمّل کام کے سلسلے سے ملک کے کتنے تعلیمی اور غیر تعلیمی اداروں سے کتنی بڑی رقم پچھلی نصف صدی میں حاصل کرنے میں وہ کامیاب رہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان تفصیلات میںکئی بار ایسے پڑاو بھی آئیں گے جب ایک ہی منصوبے کے لیے دو یا دو سے زائد جگہوں سے مالی منفعت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔
کلیم الدین احمد پر یہ الزام عاید کرنا کہ آل احمد سرور سے انھوں نے بعد میں مصالحت کرلی اور ’’اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ میں ان پر سے بہت سارے ادبی الزامات گھٹادیے گئے۔ یہ بات بھی اس لیے ظالمانہ ہے کہ وہاب اشرفی نے دونوں کی زندگی میں ایسا کوئی انکشاف یا تنقیدی نتیجہ ظاہر نہیں کیا۔ ان کے جملوں سے ایسا لگتا ہے کہ کوئی Underhand deal ہوئی تھی۔ محمدحسن اور شمس الرحمان فاروقی کے بارے میں ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ کی آخری اشاعت میں ابواب کی شمولیت پر وہاب اشرفی شایدمعاصرانہ رقابت میں تکذیب کرتے ہیں۔ وہاب اشرفی کو بھی یہ معلوم ہے کہ کلیم الدین احمد اُن کی طرح مرّوت پسند نقّاد نہیں تھے۔ ایسے میں جدید نقّادوں کی فہرست میں اگر فاروقی کے بعد کوئی دوسرا شامل نہیں ہو سکا، تو کوئی ایسی بات نہیں تھی۔ ۱۹۸۳ء میں جب وہ ’اردو تنقید پر ایک نظر‘ کے مسوّدے کو نئے سرے سے لکھ رہے تھے، اس وقت تک وہاب اشرفی، شمیم حنفی، گوپی چند نارنگ کی تحریروں کے مقابلے شمس الرحمان فاروقی کی بعض تنقیدی تحریریں اس معیار کی سامنے آچکی تھیں جن کا جائزہ لیا جا سکتا تھا۔ اس کے باوجود کلیم الدین احمد نے ان لفظوں میں شمس الرحمان فاروقی کا تذکرہ کیا تھا:
’’اب رہیں شمس الرحمن صاحب کی تنقیدیں تو میں ان پر کچھ لکھنے سے پرہیز کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے کہ ابھی ان کی عمر ہی کیا ہے۔ ۴۶ سال اور وہ ابھی بہت کچھ لکھیں گے اور جو کچھ لکھا ہے، اس سے بہتر ہی لکھیں گے۔‘‘(اردو تنقید پر ایک نظر، ص:۴۴۳)
ایسی صورت میں وہاب اشرفی کے ذریعہ یہ باورکرانا کہ کلیم الدین احمد نے شمس الرحمان فاروقی کو شامل کرکے کچھ مصالحت یا بے انصافی کی ہے، عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔ وہاب اشرفی کی ’’تاریخِ ادبِ اردو‘‘ یا اُن کی لامختتم تقریظات پر کوئی ایسے سوال قائم کرے تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا کوئی جواب ادبی طور پر درست نہیں ہو سکتا۔ اب جب کہ تیس برسوں میں شمس الرحمان فاروقی اپنی تنقیدی خدمات کی وجہ سے اردو کے سربرآوردہ نقّادوں میں شمار ہوتے ہیں تو اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کلیم الدین احمد اپنے انتخاب میں بالکل درست تھے۔
کلیم الدین احمد کی کتاب ’’قدیم مغربی تنقید‘‘ کا جائزہ لیتے ہوئے وہاب اشرفی نے یہ اظہار کیا ہے کہ اُن کی پُرانی کتاب ’قدیم ادبی تنقید‘ جس کا پیشِ لفظ کلیم الدین احمدنے لکھا تھا، اسی سے استفادہ کرتے ہوئے یہ کتاب تیّار ہوئی ہے۔ وہاب اشرفی کے جملے ہیں :
’’اب میرے پیشِ نظر کلیم الدین احمدکی کتاب ’قدیم مغربی تنقید‘ آئی تو محسوس ہوا کہ شاید میری کتاب موصوف کی کتاب کی محرّک رہی ہے۔ ممکن ہے ایسا نہ ہو، لیکن اس میں بھی وہی نقّاد ہیں جو میری کتاب میں زیرِ بحث آئے ہیں۔‘‘ (کلیم الدین احمد، ص:۱۰۲)
وہاب اشرفی یہ بات ۲۰۱۲ء میں لکھتے ہیں۔ ان کا حافظہ تقریبات وغیرہ میں بہت کم زور تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس لیے وہاب اشرفی کی اُس کتاب کی اشاعتِ اوّل میں شامل خود اُن کے دیباچے سے چند سطریں نقل کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، ملاحظہ ہو :
’’میں چاہتا رہا تھا(؟) کہ اس کتاب کے ضمن میں جناب کلیم الدین احمد کی راے معلوم ہوتی۔ لہٰذا ڈرتے ڈرتے ان سے ’پیشِ لفظ‘ لکھنے کی درخواست کی۔ مجھے واقعی بڑی مسرّت ہے کہ موصوف نے میری درخواست پر اپنے گراں قدر خیالات رقم کر ڈالے۔ میں ان کا بے حد ممنون ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ موصوف کی تحریر کی روشنی میں اس کتاب کی اسپرٹ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔‘‘ (صفحہ۔ ی، قدیم ادبی تنقید، جولائی ۱۹۷۳ء، پٹنہ)
یہاں دو باتیں بحث طلب ہیں۔ پیشِ لفظ آخر کس سے لکھوایا جا تا ہے؟ ہمیشہ اپنے سے بڑے مرتبے کے مصنّف سے یہ گزارش کی جاتی ہے۔ وہاب اشرفی اُس زمانے کے اپنے علمی مرتبے کے مقابلے میں کلیم الدین احمد کے علمی مقام کو بہ خوبی سمجھتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے بجا فرمایا کہ’’ ڈرتے ڈرتے‘‘ ان سے لکھنے کی درخواست کی۔ پھر کلیم الدین احمد نے جو لکھا، اسے ’’گراں قدر خیالات‘‘ کہنا اور اس پر بے حد ممنون ہونا بھی صاف صاف بتاتا ہے کہ وہاب اشرفی اس زمانے میںکلیم الدین احمد کے علمی مرتبے کے قائل تھے۔ اب یہ اچانک انھیں خیال آیا کہ وہ کلیم الدین احمد پر اپنے اثرات ثابت کرکے اپنی عظمت کا ایک نیا پہلو ڈھونڈ سکیں۔ یہاں یہ موقع نہیں کہ وہاب اشرفی اور کلیم الدین احمد کی کتابوں کا موازانہ کرکے بتادیا جائے کہ وہاب اشرفی کے مقابلے کلیم الدین احمد کی تحریر کس قدر گہری، تجزیاتی اور اپنے موضوع کا مکمّل احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ بھی واضح ہو کہ کلیم الدین احمد نے ’’کوئن ٹیلین‘‘ کے سلسلے سے کوئی باب نہیں قائم کیا جب کہ وہاب اشرفی نے اس موضوع پر علاحدہ طور پر گفتگو کی ہے۔
وہاب اشرفی نے اپنی کتاب کے نام کی تبدیلی کا جو شگوفہ چھیڑا ہے، وہ بھی درست نہیں۔ کلیم الدین احمد کی کتاب کی اشاعت تک وہاب اشرفی کی کتاب کا نام ’قدیم ادبی تنقید‘ ہی تھا۔ وہاب اشرفی نے اگر بعد میں اسے ’قدیم مغربی تنقید‘ کیا تو وہ واقعتا کلیم الدین احمد کی نقل ہے اور حیرت کی بات ہے کہ وہ ٹھیک الٹا الزام کلیم الدین احمد پر عاید کررہے ہیں۔پہلے سے شائع شدہ کتاب کے نام کو اپنی کتاب کے لیے منتخب کرنا تصنیف و تالیف کی اخلاقیات اور قانون دونوںکے منافی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ کلیم الدین احمد کی کتاب ۱۹۸۳ء میں اتّر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ سے شائع ہوئی۔ اندازہ یہ ہے کہ سال کے پہلے نصف میں ہی یہ کتاب آگئی ہوگی کیوں کہ محمود الٰہی کا بہ حیثیتِ چیرمین جو پیشِ لفظ ہے، اس پر ۱۷؍مارچ ۱۹۸۳ء کی تاریخ درج ہے۔ کتاب کا واضح نام ’قدیم مغربی تنقید‘ ہے جو اتّر پردیش اردو اکادمی میں کلیم الدین احمد کے پیش کردہ خطبات کا کتابی روپ ہے۔ ۸۸؍صفحات کی اس کتاب میں کلیم الدین احمد نے افلاطون اور ارسطو کی تنقیدی خدمات کے سلسلے سے قدرے تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ہوریس پر پندرہ صفحات اور لونجائی نس پر محض آٹھ صفحات مخصوص کیے ہیں۔ کتاب کے بالاستیعاب مطالعے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں کلیم الدین احمد کا وہی مانوس ناقدانہ انداز ہے جس کے لیے اُن کی شناخت ہے۔ موضوع کا بے لاگ تجزیہ اور تمام متعلّقات کو نگاہ میں رکھ کر غور وفکر اِس کتاب کی خاص بات ہے۔ یہاں تعارفی یا ابتدائی نوعیت کے شاید ہی چند جملے ہوں جب کہ وہاب اشرفی کی کتاب میں تعارفی اور سرسری معلومات سے کام چلانے کا ہنر بہ آسانی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
وہاب اشرفی نے ۲۰۱۰ء میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی سے جب اپنی پُرانی کتاب کا نیا ایڈیشن شائع کیا تو اس میں مختلف طرح کی علمی ’ہوش مندیاں‘ داخل کی گئیں:
(الف) اپنی کتاب کی پہلی اشاعت کا دیباچہ نکال دیا جس میں کلیم الدین احمد کے تئیں اعتراف اور احسان مندی کے جملے شامل تھے۔ جب کہ یہ عمومی اصول ہے کہ نئی اشاعت کے موقعے سے اشاعتِ اوّل یا ماقبل اشاعتوں کے ’عرضِ مصنّف‘ لازماً شامل کیے جاتے ہیں کیوں کہ کتاب کی تصنیف کے تفصیلی عمل کو مصنّف پہلی اشاعت میں اکثر و بیش تر صراحت کے ساتھ درج کرتا ہے۔ خود وہاب اشرفی نے ’شاد عظیم آبادی اور ان کی نثر نگاری‘ کی دوسری اشاعت میں پہلے ایڈیشن کے عرضِ مصنّف کو شامل رکھا ہے۔ یہاں آخر کس چیز کی پردہ داری ہے؟
(ب) کتاب کا نام تبدیل کردیا گیا اور کلیم الدین احمد کی ۲۷برس قبل شائع شدہ کتاب کا نام ہُو بہ ہُو نقل کر لیا۔اس طرح ۱۹۷۳ ء کی ’قدیم ادبی تنقید‘ ۲۰۱۰ء میں ’قدیم مغربی تنقید‘ بن کر سامنے آگئی ۔ نئے ’پیش گفتار‘ میں بہت اختصار کے ساتھ تبدیلیِ نام کا قضیہ آتا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:’کتاب کے نام میں قدرے تبدیلی کردی ہے۔ اب اس کا نام ’قدیم مغربی تنقید‘ ہے۔ اس طرح اب یہ نئی ہوگئی ہے۔ اس لیے بھی کہ اس کے بیش تر مندرجات میں ترمیم بھی کی گئی ہے اور اضافہ بھی۔ ‘[ص۱۳]۔ کتاب کے نام میں تبدیلی ایک اہم واقعہ ہے، اس لیے مصنّف کو تفصیل کے ساتھ تبدیلی کے اسباب و عَلل اور لازمیت پر روشنی ڈالنا چاہیے تھا۔ترمیم واضافہ تو ہر نئی اشاعت کا ’لازمی جزو‘ ہے، اس لیے اس کی وجہ سے نام کی تبدیلی کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ اضافے کی حقیقت یہ ہے کہ صرف دانتے پر سوا پانچ صفحے (بہ مشکل پندرہ سو الفاظ) اس کتاب میں بہ طورِ اضافہ دکھائی دیتے ہیں۔
(ج) نئی اشاعت کا انتساب ابوالکلام قاسمی کے نام کیا گیا ہے جب کہ کتاب کی پہلی اشاعت پروفیسر اختر قادری کے نام سے منسوب تھی۔ ہر اشاعت میں انتساب کی تبدیلی کی بدعت وہاب اشرفی کی دوسری کتابوں میں بھی سلسلے وار انداز سے موجود ہے۔ اس میں اکثر نئے اصحابِ اثر ورسوخ پر مہربانی اور جو گزر چکے ہیں، اُن سے اظہارِ برأت کا کاروبارِ جہاں ملحوظ رہتا ہے ۔وہاب اشرفی کے سلسلے سے انتسابات کی تبدیلی علاحدہ جائزے کا دل چسپ موضوع ہے جس سے اُن کے ادبی اور دنیوی نقطۂ نظر کو سمجھا جاسکتا ہے۔
(د) حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۷۳ء میں شائع شدہ وہاب اشرفی کی کتاب ’قدیم ادبی تنقید‘ کا نام ۲۰۱۰ء سے قبل کبھی تبدیل نہیں ہوا۔ اس کی دوسری اشاعت بھی اس دوران سامنے نہیں آئی جب کہ انھوں نے اپنی نئی پُرانی بہت ساری کتابیں دوبارہ شائع کرائیں۔ اُن کے بارے میں جس قدر بھی کتابیں شائع ہوئیں؛ مثلاً سرور کریم،راشد انور راشد، مناظر حسن، نسیم احمدراہی، ہمایوں اشرف وغیرہ ،اُن میں ہر جگہ ’قدیم ادبی تنقید‘ ہی اس کا نام درج ہے۔ ہمایوں اشرف نے اپنی فہرست میں کئی کتابوں کے نام یا کسی دوسری تبدیلی کے بارے میں بھی صراحت کی ہے۔ وہاں بھی ۲۰۱۰ء سے قبل ایسی کسی تبدیلی کی وضاحت نہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں وہاب اشرفی کا نقدالشعر – پروفیسر کوثر مظہری )
(ہ) اصل معاملہ یہ ہے کہ ساہتیہ اکادمی کے سلسلے سے مونوگراف کی تیّاری کے مرحلے میں شاید وہاب اشرفی کو یہ دھیان آیا ہو کہ کلیم الدین احمد پر متعدّد بُہتان تراشیوں میں اِسے بھی جَڑ دیا جائے کہ وہاب اشرفی کی کتاب کے موضوع اور اس کے نام کو انھوں نے بہ طورِ نقل استعمال کرلیا۔ اسی لیے نئی اشاعت میں اپنا پُرانا دیباچہ ہٹا دیا اور پانچ صفحے کے دانتے پر مواد کے اضافے سے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ بالکل نئی کتاب ہے۔
(و) اسی لیے انھوں نے اپنی پُرانی کتاب پہلے شائع کرالی اور کلیم الدین احمد کے سلسلے سے مونوگراف لکھتے ہوئے اپنے تنقیدی اثرات ثابت کردیے۔ اِسے جُرم کی تفتیش میں ’شہادت پیدا کرنا‘ (Evidence Creation) کہتے ہیں جسے عدالتیں قابلِ سزا جرم قرار دیتی ہیں۔ یوں اِسے علمی ہوس کاری اور عدم دیانت دَاری کہنا چاہیے۔
وہاب اشرفی نے اپنی خود نوشت میں کلیم الدین احمد کا ذکر کرتے ہوئے یہ جملہ درج کیا ہے :
’’اہم لوگ اپنے تعصّبات سے دوسروں کو زیر کرنے کے در پَے ہوتے ہیں اور ہمہ دانی کے زعم میں مبتلا ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں جو غلط نتائج تک پہنچانے اور گمراہی میں مبتلا کرنے کا باعث ہوتی ہیں۔‘‘ (قصّہ بے سمت زندگی کا، ص:۲۲۰)
وہاب اشرفی خود بھی ’’اہم لوگوں‘‘ میں شمار ہوتے ہیں۔ کلیم الدین احمد کے سلسلے سے ان کے علمی نتائج بڑی حد تک اس اقتباس میں پیش کردہ اصول کے مطابق ہیں۔ جلد درجلد کتابیں پڑھنے والوں پر رعب تو قائم کرتی ہی ہیں لیکن کبھی کبھی نرگسیت کا ایسا عالم ہوتا ہے کہ لکھنے والا بھی اپنے علمی جلال میں تپ کر دوسروں کو ہیچ گرداننے میں ذرا بھی جھجکتا نہیں۔ وہاب اشرفی ہی نہیں، کلیم الدین احمد کی وفات کے بعد یہ ماحول خاص طور سے قائم ہوا کہ کلیم الدین احمد کے علمی مرتبے پر خاک ڈالے بغیر کسی دوسرے کا مقام متعیّن نہیں ہوگا۔ اسی لائحۂ عمل میں وہ لوگ جو اُن کی حیات میں اُن کے قصیدہ خواں تھے، بعد میں ان کے نقّادِ خصوصی بن گئے۔ دشواری یہ ہے کہ کلیم الدین احمد جیسا گہرا علم، متن کی جہات پر قدرتِ کاملہ، تجزیے کا حیرت انگیز شعور، سلسلے وار انداز میں گفتگو کا طَور، عملی تنقید کی گہری مشقّت اور سادگی و پُرکاری سے مزیّن ایک دل پسند اسلوب دوسروں کے پاس کہاں سے آتا؟ یہی وجہ ہے کہ کلیم الدین احمد کی تحریریں آج بھی سنجیدہ گفتگو کا موضوع بنتی رہتی ہیں لیکن وہاب اشرفی نے جن شخصیات یا جن تحریکات پر مضامین یا کتابیں لکھیں، وہ کہیں بھی موضوعِ بحث نہیں بن سکیں۔ حد تو یہ ہے کہ مابعدِ جدیدیت پر لکھی گئی ان کی کتاب پر بھی دس بیس مضامین کہاں شائع ہوئے؟ کلیم الدین احمد نے جب ترقّی پسند تحریک کو موضوع بنایا، اس وقت ادبی رسائل میں اتنی نرم گرم بحثیں سامنے آئیں جن سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ لکھنے والے کی وقت کی نبض پر اُنگلی ہے اور اس کے خیالات لوگوں کے ذہن میں شور پیدا کرتے ہیں۔ یہاں یہ حالت ہے کہ کتاب کی کئی کئی اشاعتیں سامنے آگئیں لیکن ایک بھی بحث طلب یا محاسباتی تحریر سامنے نہیں آتی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کتابیں علم کا خود رَوپودا نہیں بلکہ وہ ٹھونٹھ ہیں جن سے علمی زرخیزی نہیں اُبھرسکتی۔
’آب حیات‘ کی جب پہلی اشاعت عمل میں آئی، اس وقت چند ہفتوں میں علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں سرسیّد، حالی اور منشی ذکاء اﷲ جیسے صفِ اوّل کے لکھنے والوں کے بھرپور تبصرے شائع ہوئے۔ ذکاء اﷲ کا تبصرہ تو نہایت سخت تھا۔ لیکن محمد حسین آزاد نے ان ممتاز دانش وروں کے قائم کردہ سوالوں کے تعلّق سے اپنا مکتوب جاری کیا جس میں بعض تسامحات کے تدارک کا اعلان شامل تھا۔ وہاب اشرفی کی کسی تحریر سے ایسی ادبی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی۔ ’تاریخِ ادبیاتِ عالَم‘ کی سات جلدیں اور ’تاریخِ ادبِ اردو‘ کی تین جلدیں بھلے کاغذ کا زیاں نہیں مانی جائیں لیکن اِن کتابوں کے مطالعے کے بعد اہلِ اردو کے دماغ میں کوئی شور پیدا نہیں ہوا یا اردو کی نئی شعریات گڑھنے کے لیے کوئی ہلچل نہیں پیدا ہو سکی۔ اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہاب اشرفی نے اپنے علمی نتائج اخذ کرنے میں وہ مشقّت اور جاں سوزی نہیں اٹھائی جو ہمارے بزرگ مصنّفین کا شیوہ تھا۔ اپنے علمی دائرۂ کار کو بھی انھوں نے مخصوص ومحدود بنانے سے پرہیز کیا جس سے ان کا اختصاص پیدا نہ ہو سکا۔ بالعموم وہ تعریف و توصیف کو ہی تنقید سمجھتے ہیں لیکن کلیم الدین احمد کے سلسلے سے رشک، حسد اور کینہ پروری تک پہنچ گئے۔ مجھے یقین ہے کہ کلیم الدین احمد پر وہاب اشرفی کی کتاب خود وہاب صاحب کے تنقیدی توازن پر سوالیہ نشان قائم کرے گی۔
DR. SAFDAR IMAM QUADRI
Head, Department of Urdu, College of Commerce, Arts & Science, Patna-20, Bihar
202, Abu Plaza, NIT More, Ashok Rajpath, Patna-800006
Mob.: 094304-66321, Email: safdarimamquadri@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

