Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

روایت اور انحراف کا توازن:سلطان اختر – ڈاکٹر عمیر منظر

by adbimiras اپریل 21, 2021
by adbimiras اپریل 21, 2021 1 comment

شعرو ادب کے سہارے شہرت کا بازار گرم کرنے والوں کی مثالیں تو بہت ہیں مگر اپنی تخلیقی ہنرمندی سے تخلیقیت کی نصف صدی گزارنے والوں کی مثالیں کم ہیں۔سلطان اختر کا شمار ایسے ہی باکمال شاعروں میں کیا جاتا ہے،جنھیں غزل کی طویل رفاقت میسر آئی اور انھوں نے اس رفاقت کو جان سے عزیز سمجھ کر نبھایا۔

شمس الرحمن فاروقی کی ”نئے نام“ (اشاعت 1967)جن ناموں سے اپنے اعتبار کو قائم رکھتی ہے ان میں سلطان اختر بھی شامل ہیں۔جدیدیت کے ابتدائی ز مانے سے اب تک غزل کی وادی میں سرگرم رہنے والے سلطان اختر کی شاعری کے بہت سے امتیازی پہلو اور جہتیں ہیں۔اہل ہنر ان کی داد بھی دیتے رہے ہیں لیکن یہ فن کار کی عجیب و غریب سعادت ہے کہ اس کا ہر قاری اپنے اپنے زاویے سے داد ہنر دیتا ہے۔

سلطان اختر صاحب نے ایک سرگرم شعری زندگی گزاری ہے۔ انھوں نے مشاعروں کے اسٹیج سے ایک معیاری شاعری کے لیے راستہ ہموار کیا توان کی غزلیں مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوکراردو کی نئی شعری روایت کو مستحکم بھی کررہی تھیں۔اپنے طویل تخلیقی تجربے میں سلطان اختر نے جوشعری کائنات بنائی وہ آج بھی تخلیقیت سے عبارت ہے۔انھوں نے جدیدیت سے منسوب لفظیات کا سہارا لیا۔ تحت بیانی کا آرٹ جسے شہر یار سے منسوب کیاجاتا ہے سلطان اختر کے یہاں بھی موجود ہے البتہ جدیدرجحان کے بعض دوسرے شعرا کی طرح انھوں نے زبان و بیان کے نئے سانچے مرتب نہیں کیے۔سلطان اختر نے زبان وبیان کی سطح پر جو تجربے کیے وہ سادہ بیانی اور سادگی سے عبارت ہیں۔ وہ سادہ بیانی اور روزمرہ کو بہت فن کارانہ انداز میں اپنی شاعری کا حصہ بناتے ہیں۔یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ان کے یہاں لفظوں کے استعمال میں کسی قسم کا انتخاب نہیں ہے۔بلکہ کسی تکلف یا تردد کے بغیر وہ لفظوں کو تخلیقی سطح پر استعمال کرتے ہیں۔

اورکب تک میں کروں مدح سرائی اپنی

مجھ کو توفیق دے یارب کہ میں تیرا ہوجاؤں

سلطان اختر کے شعری جہان کی رنگارنگی قابل دید ہے۔زندگی کے عام اور سادہ تجربوں کوبہت آسانی کے ساتھ وہ پیش کرتے ہیں۔ ایسا نہیں محسوس ہوتا کہ یہ کوئی بڑا اور حیرت انگیز تجربہ ہے مگر ان کی سادگی اور سادہ بیانی میں بہت کچھ پوشیدہ رہتا ہے غالبا اسی لیے ان کی شاعری میں آنکھ،حیرت اور آئینہ جیسے الفاظ کا استعمال انھوں نے کثرت سے کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں علامہ شوق نیموی کی غزل گوئی – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم )

جدیدیت سے وابستہ شعرا پر ایک زمانے میں یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ ”کرلو جدید شاعری لفظوں کو جوڑ کے“۔بعض شعری تجربوں نے اس کا جواز بھی فراہم کیا لیکن ظاہر ہے کہ جدید شعری روایت کا یہ بہت اہم تجربہ نہیں کہا جاسکتا۔سلطان اختر کے بیشتر شعری تجربوں میں سنجیدگی اور اک نوع کی بے پروائی شامل ہے یعنی وہ اس کا بہت ڈھونڈرا نہیں پیٹتے بلکہ خاموشی سے جو کچھ کرنا کرگزرتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنے بنائے راستوں سے کوئی نئی راہ نکالناآسان نہیں البتہ نئے راستوں کے لیے ضروری نہیں کہ پرانی لکیر گم کردی جائے یا جدت کے شوق میں تماشاکیا جائے۔شاعری کے نئے تجربوں میں چونکہ یہ سب بھی ہوا اسی لیے کہنے والوں کو ایک موقع ضرور مل گیا۔

سلطان اختر کے یہاں بہت سے ایسے اشعار ملتے ہیں جن میں نئی فکر اور جدید شعری رجحان کا کی گھن گرج زیادہ کہی جاسکتی ہے لیکن یہاں بھی ان کی یہ کوشش دیکھی جاسکتی ہے کہ انھوں نے عام شعری رویوں سے کسی حد تک خود کو بچا رکھا ہے۔فیشن اور رواج کے بجائے ادبی اقدار کی پاس داری واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔

چاند کا گھر ویران پڑا تھا سورج کا دروازہ بند

سونی راہوں پر تاریکی دری بچھا کر لیٹ گئی

ِ

لہو میں لذت کے پھول مہکے

بدن پہ خواہش کی گھاس نکلی

 

کچھ ضد ہوگئی ہے مجھے اپنے آپ سے

پیتا ہوں اپنا خون تو پیاسا نہ جانیے

 

ایک لمبی گونج سے روشن فضائے نیم شب

لوح دل پر تہہ بہ تہہ نقش نوا بنتا ہوا

 

نہ کوئی در نہ دریچہ عجب حصار میں تھا

تمام عمر میں تنہائیوں کے غار میں تھا

ان اشعار سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سلطان اختر نے اپنے عہد کے حاوی رجحان کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ اس کے خوش رنگ مناظر سے اپنی شاعری کے گل بوٹے سجانے میں کسی تکلف سے کام نہیں لیا۔تنہائی یا احساس محرومی کے ان جذبات کو جو کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بہت عام تھے سلطان اختر نے وسیع تناظر میں برتنے کی کوشش کی ہے۔ان اشعارسے آشوب جاں کامنظرنامہ بھی ترتیب دیا جاسکتا ہے۔

ان کا ایک شعر بہت مشہور ہوا۔اس سے سلطان اختر کے طرز شعر گوئی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

ہم مطمئن ہیں اس کی رضا کے بغیر بھی

ہر کام چل رہا ہے خدا کے بغیر بھی

اس شعر میں انکار خدا کا معاملہ نہیں ہے بلکہ بے چینی اور اضطراب کے بجائے اطمینا ن کی وہ کیفیت ہے جس نے برداشت کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے۔اقبال نے کہا تھا کہ ’ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے‘۔

دراصل یہ وہ ماضی ہے جس میں ہماری بہت سی تہذیبی اور مذہبی قدروں کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرت وابستہ تھی زمانی فاصلے نے بہت کچھ تبدیل کردیا ہے۔ماضی سے یہی بعد احساس زیاں کو جنم دیتی اور مزید دوری سے یہ زیاں کا احساس بھی جاتا رہتا ہے اور پھر وہ سب کچھ ہوتا ہے جسے کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔رضا کے بغیر اطمینان کی صورت عصر حاضر میں دیکھی جاسکتی ہے۔اضطراب اور بے چینی کی وہ کیفیت جو ہمارے بزرگوں کا چلن تھا باقی نہیں رہا۔

سلطان اختر کی شاعری میں ان کا ماضی بھی ہے۔اوروہ تہذیب،ثقافت اورتاریخ کہ جس نے زندگی کے چھوٹے چھوٹے تجربوں کی شکل اختیار کرلی ہے۔ماضی کی یہ جہتیں کہیں تاریخ و تہذیب کا استعارہ ہیں تو کہیں یاد اور ماضی کی شدید آگہی کا منظرنامہ۔سلطان اختر اشیا کو ماضی سے قریب تر کرکے بھی دیکھتے ہیں۔کبھی وہ ماضی کے آئینے میں حال کوآہنگ کرتے ہیں تو کبھی حال کو ماضی کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی یہی کوشش اس جذبے اور شوق کو مہمیز کرتی ہے جسے خود احتسا بی کہا جاسکتا ہے۔گزرے ہوئے دن نالہ و ماتم کا بھی سامان فراہم کرتے ہیں اور کبھی کبھی تو مجبور محض بنا دیتے ہیں مگر یہاں فن کار نے کوشش کی ہے کہ اس کے متعدد پہلو دیکھے جائیں۔اسی وجہ سے گزرے ہوئے دن یاد کے ساتھ ساتھ ایک نئی سمت کا پتا دینے والے بن جاتے ہیں اور اس کی سب سے عمدہ صورت خود احتسابی کی ہے۔

مجھ کو روتادیکھ کر ماضی کا چہرہ کھل اٹھا

صورت امروز سے فردا کا اندازہ ہوا

 

زمانہ گزار مگر اب بھی یاد روشن ہے

اذانیں ڈھونڈ رہی ہیں بلال کی آواز

 

دنیا سے خائف ہوں گے دنیا والے

ہم تو اپنے آپ سے ڈرتے رہتے ہیں

 

سمٹ جائے گی تاریکی جہاں سے

کوئی آئے گا روشن غار سے پھر

 

اب سر جھکائے بیٹھے ہیں عزت مآب لوگ

قدموں میں ان کے تھے جو زمانے کہاں گئے

 

عمر بھر بیٹھ کے رونا کوئی آسان نہیں

اپنی یادیں بھی لیے جاؤ بچھڑنے والو

سلطان اختر اپنے تجربات کو بہت ہی آسان اور سادہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔بڑی سے بڑی بات بھی وہ اسی انداز میں کہہ جاتے ہیں۔یہ سادگی دھوکا بھی دیتی ہے اور لطف بھی۔پہلے ہی شعر ’ماضی کا چہرہ‘یا’چہرہ کھل اٹھا‘دونوں طرح سے لطف کا سامان رکھتے ہیں اور دوسرے مصرعے میں صورت شکل کے معنی میں نہیں ہے لیکن پہلے مصرعے کی مناسبت سے صورت کا لفظ بہت ہی برمحل ہے۔اور پھر امروز و فردا کی زمانی کییفیت۔غرض شعر کی جو صورت گری یہاں کی گئی ہے وہ بہت عمدہ ہے۔دوسرے شعر میں سمعی پیکر یعنی آواز، آواز کو تلاش کررہی ہے۔ حضرت بلال کی تلمیح۔تیسرے شعر میں خود احتسابی کی کیفت نمایاں ہے۔چوتھا شعر گرچہ غزل کا ہے مگر اس میں نعت کا رنگ نمایاں ہے۔یہاں تاریکی اور روشن کا تضاد اپنی جگہ۔مگر اسی کے ساتھ دوسرے مصرعے میں ’روشن غار سے پھر‘کا فقرہ بھی قابل غور ہے۔یہ ہدایت کی روشنی ہے اور گمراہی کی تاریکی۔اگلا شعر ازوال و نکبت کا علامیہ ہے۔اس گزرے زمانے کو لوگ یاد کررہے ہیں۔آخری شعر غزل کا عام مضمون ہے جس میں بچھڑنے والے سے کہا جارہا ہے کہ اپنی یاد بھی ساتھ لیے جاؤ۔تم نہیں توپھر تمہاری یاد سے میں دل نہیں بہلا سکتا۔جذبات کی شدت بھی اسے کہہ سکتے ہیں۔ان اشعار کے مطالعہ سے سلطان اختر کی شعری کاریگری کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ سلطان اختر کے یہاں آنکھ،حیرت اور آئینہ  جیسے الفاظ کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔کسی ایک لفظ کو شاعری میں بار بار برتنا اور اور ہر بار کوئی نیا پہلو لانا آسان نہیں ہوتا سلطان اختر کا کمال یہی ہے کہ ایک لفظ کو بار بار برتنے کے باوجود اس کی تازگی برقرار رکھتے ہیں۔

جسے آنکھوں میں بھر کر رکھ لیا جائے

وہ منظر رو بہ رو باقی نہیں ہے

 

تشنگی چاٹتی رہتی ہے مری آنکھوں کو

ہر سمندر مجھے بے آب نظر آتا ہے

 

آنکھوں میں نئے خواب منور نہیں ہوتے

اب دل میں تمناؤں کا میلہ نہیں لگتا

ْْْٰٰٓخواب آنکھوں سے چنے نیند کو ویران کیا

اس طرح اس نے مجھے بے سروسامان کیا

 

آنکھوں سے انتطار کا موسم کہاں گیا

ہونٹو ں پہ اک چراغ سا جلتا تھا کیا ہوا

پہلے شعر میں افسوس کا اظہار ہے۔دوسرا شعر بے چارگی اور بے مائیگی کا اعلانیہ ہے۔اس شعر میں بصری پیکر بھی خوب ہے۔سمندر کا بے آب نظر آنا اور تشنگی کا آنکھوں کو چاٹنا۔تیسر ے شعر میں افسوس کااظہار ہے کہ وہ دل جو آرزوؤں اور تمناؤں کی آماجگاہ ہوا کرتا تھا اب وہاں تمناؤں کامیلہ نہیں لگ رہا ہے۔اگلے شعر میں بے سروسامانی کی کیفیت۔آنکھوں سے خواب کا چننے کااستعمال بھی بہت عمدہ ہے اور اسی کے نتیجے میں بے سروسامانی آئی ہے۔آخر شعر بھی قابل غور ہے کہ یعنی امید کا جو ایک ٹمٹا سا دیا تھا وہ بھی نہیں معلوم کہا چلا گیا۔ان اشعار میں محاوراتی کیفیت بھی ہے۔بالعموم آنکھ علامت یا استعارہ نہیں ہے لیکن دوسرے الفاظ سے مل کر جو صورت پیدا کی ہے وہ بہت خوب ہے۔ اسی تسلسل میں لفظ حیرت کی حیرانیاں بھی دیکھیں۔

حیرتوں کے چراغ جلنے لگے

جب بھی روشن ہوا کمال اس کا

 

ہمارے عہد کے حیرت کدے میں

کسی کو کوئی ویرانی نہیں ہے

 

عکس حیرت کے سوا کچھ نہ تھا آئینے میں

اپنی آنکھوں کو بہت میں نے پریشان کیا

حیرت کے مختلف پہلو یعنی کمال کی وجہ سے حیرت کا پیدا ہونا،حیرت کی ویرانی اور آئینے میں حیرت کا عکس وغیرہ۔

آئینہ تو روز بدلتا رہتا ہوں

کب اپنی تصویر دکھائی دیتی ہے

 

آئینہ آئینہ جمال اس کا

ہر طرف عکس لازوال اس کا

 

خود سے ملے تو اپنی نگاہیں لرز گئیں

اب آئینے میں عکس بھی اپنا نہیں رہا

 

جب سے ان کے عکس کی خوش بو ملی ہے

آئینے مغرور ہوکر رہ گئے ہیں

 

خوابوں کا شہر یادوں گا گھر آئینے کا ہے

جو کچھ ہے رو بہ رو وہ ہنر آئینے کا ہے

ان اشعار سے سلطان اختر کی شعری خوبیوں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہ ایک ہی لفط کو بار بار کس طرح برتتے ہیں۔جیسا کہ شروع میں لکھا جاچکا ہے کہ ان کے یہاں زندگی کے بہت سے تجربات ہیں اور ان تجربات کی اہم خوبی یہ ہے کہ وہ سادہ اور عام فہم ہیں۔ان کے یہاں عشق و محبت کی داستان کسی ہیجانی کیفیت کی متلاشی نہیں بلکہ وہ لمحہ وصل کو بھی دیوار صبر و ضبط قرار دیتے ہیں

ایسا نہ ہوا کہ گر پڑے دیوار صبر و ضبط

اتنی حیا تو چشم ملاقات میں رہے

 

اس کی ایک جہت یہ بھی ہے:

نظر سے دور سہی پیکر جمال سہی

مجھے وہ خواب میں سرشار کرتا رہتا ہے

سلطان اختر کے یہاں ضبط و صبر کے ساتھ ساتھ قناعت کا جو ہر بھی ہے۔کار دنیا سے خود کو مصرو ف تو رہتے ہیں مگر ان کی سب سے بڑی دولت بے نیازی ہے اسی لیے وہ کہتے ہیں

مجھے اب تنگ دامانی نہیں ہے

قناعت کے خزانے مل گئے ہیں

 

ضرورت سر اٹھاتی ہی نہیں اب

قناعت کی نگہبانی میں ہم ہیں

 

میں کہ بس کاسہ خالی کے سوا کچھ بھی نہیں

اب تو مجھ کو بھی نہیں کوئی ضرورت میری

یہ اور اس طرح کے بے شمار اشعار ہیں جن سے سلطان اختر کے فکر و فن کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سلطان اختر اپنے پڑھنے اور سننے والوں کو مایوس نہیں کرتے اور تخلیق کی نت نئی دنیا اس کے سامنے خلق کرتے رہتے ہیں۔یہ دنیا چاہے جیسی بھی ہو مگر اس کا ایک حسین پہلو روایت اور انحراف کے توازن سے عبارت ہے اور یہی سلطان اختر کی غزل کا سب سے بڑا جواز ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

سلطان اخترعمیر منظر
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اقبال مجید کا’خاموش مکالمہ‘ – ڈاکٹر محمد غالب نشتر
اگلی پوسٹ
تلاشِ مشکِ شگفتگی- پروفیسر غضنفر

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

1 comment

Dr Syed Ahmad Quadri ستمبر 22, 2021 - 5:31 شام

آپ کے بہت ہی معیاری ادبی ویب ساءٹ پر بہت ہی اچھے مضامین کے مطالعہ کا موقع ملا ۔ اس کے لءے شکریہ م

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں