حمزہ حسن شیخ کا افسانوی مجموعہ”قیدی“ ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ یہ فکشن ہاؤس لاہور سے 2012 میں شائع ہوا۔اس میں سولہ]16[ افسانے شامل ہیں۔ پیش لفظ میں حمزہ نے قیدیوں کی مختلف اقسام پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ سادہ اور عام فہم اندازِ بیاں کے ساتھ انہوں نے قیدیوں کی مظلومیت کے ساتھ ساتھ خود پر وارد کی گئی خود ساختہ قید کا تذکرہ کیا ہے۔
پہلا افسانہ ”خودکشی“ ہے۔ افسانے کے مرکزی کردار قبرستان کے وہ کیڑے ہیں جن کی زندگی کا دارو مدار انسانی گوشت پر ہے۔ حمزہ نے دلدوز انداز میں موجودہ دور میں انسان کو پیش آنے والے مختلف مسائل اور المیوں کا اظہار کیا ہے۔ ان کے ہاں منظر کشی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔افسانہ اتنا عمدہ ہے کہ قاری بیانیے میں موجود ان المیوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے جن کی بابت افسانہ نگار نے صرف اشارہ کیا ہے۔ مگر پہلے اس منظر سے لطف کشید کیجیے جو افسانہ نگار کے عمیق مشاہدے کے ساتھ ساتھ فطرت کے دلدادہ ہونے کی گواہی دے رہا ہے:
”رات کو سارے کیڑے مکوڑے آپس میں چہ مگوئیاں کرتے اور اندھیری رات میں سارے کیڑے مرکزی درخت تلے جمع ہو جاتے جو دور سے بہت ہیبت ناک نظر آتا تھا۔ ہوا کی وجہ سے سائے مزید ڈراؤنا رُوپ دھارتے اور لہراتی شاخیں مزید دل دہلانے والا تصور پیش کرتیں۔“
]افسانہ ”خودکشی، مشمولہ قیدی، ص11-12[
افسانے میں دو طرح کی زندگی کا بیان ہے۔ ایک اس دور کی کہانی ہے جب انسان میں مروّت اور رواداری تھی۔وہ امن کا پیام بر اور محبت کا خوگر تھا۔ اور اس کہانی میں اس دور کا تذکرہ انسانی گوشت کے لذیذ ہونے سے کیا گیا ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب اچانک مُردوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اب احساسِ مروّت کو آلات نے کچل دیا ہے۔ کیڑے پیٹ بھر کر کھانے کے باوجود مُردوں کے جسم سے گوشت ختم نہیں کر پاتے۔ یہاں انسان کو پیش آنے والے مختلف المیوں کی طرف حمزہ نے محض اشارہ کیا ہے لیکن حساس قاری ان المیوں کی پوری تفصیل حاصل کر لیتا ہے۔ حمزہ کا کمال یہ ہے کہ اس نے محض ایک جملے میں ایک ایک المیے کو سمو دیا ہے گویا کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں شوکت حیات:اردو افسانے کا سنگِ میل – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )
حمزہ نے دہشت گردی کے عفریت کے وطنِ عزیز کی رگوں میں پنجے گاڑنے اور سادہ اور فطرت کے قریب غذا کے ناپید ہونے اور مصنوعی طرزِ زندگی کے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ مصنوعی اشیا کے انسانی جسم کا حصہ بن جانے کے بعد انسانی گوشت کے بے مزہ ہوجانے کے المیے کو دردناکی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہاں ان کا مشاہدہ اپنی تمام تر گہرائی کے ساتھ سماجی وحشت اور انسان کی بے بسی کا حصہ بنتا ہے۔یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
”کچھ ماہ بعد، بہت ہی عجیب و غریب صورتِ حال پیش آئی کہ مُردے خون میں لت پت ہوتے اور ان کے اجسام گولیوں سے چھلنی ہوتے۔۔۔۔۔ان کے لیے سب سے حیران کن لمحہ وہ تھا جب مُردوں میں عجیب و غریب اشیا نظرآنا شروع ہوئیں۔مُردے لوہے کے راڈ، بیرنگ، سپرنگ، میخوں، کیلوں اور دوسری عجیب و غریب اشیا سے بھرے ہوئے تھے۔“
]خودکشی، ص 14[
یہاں کیڑوں کے درمیان جو مکالمے ہوئے ہیں وہ جاندار ہیں۔ان مکالموں میں انسانی جان کی بے ثباتی کے ساتھ ساتھ لوگوں میں مہر و مروّت کے ختم ہونے اور نفرت کے پروان چڑھنے کا دلگداز بیان موجود ہے۔ دہشت گردی نے جس طرح وطنِ عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کیا۔ انسانوں کو انسانوں سے متنفر کیا۔ اس کی ایک مثال معصوم بچے کی گولیوں سے چھلنی اور بارود کی بُو سے جھُلسی ہوئی قبر میں پڑی لاش کا تذکرہ کر کے حمزہ نے دی ہے۔ ساتھ ہی لہو میں تر بتر اس معصوم کی لاش میں بہت سے کیڑوں کے ڈوب کر مرنے کا الم ناک تذکرہ بھی ہے جو قاری کو افسردہ کر دیتا ہے۔
دوسرا افسانہ ”نوٹ بک“ ہے۔ یہ افسانہ روداد کی صورت میں لکھا گیا ہے۔ شروع میں لگتا ہے کہ یہ ایک عام سی روداد ہے لیکن حمزہ ایک حساس فنکار ہے جو عام سی کہانی کو بھی خاص بنانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اس کہانی میں بھی ایک عام سی نوٹ بک کے ذریعے اس نے کمزوروں پر طاقتوروں کے ظلم و ستم کا المیہ بیان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محبت کا دلگداز جذبہ بھی کہانی کا حصہ ہے جو بچے کی نوٹ بک کے ساتھ انسیت کی صورت سامنے آتا ہے۔اختتام افسردہ کرتا ہے،تعلیمی ادارے میں ہونے والے خود کش حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے بچوں میں نوٹ بک کا مالک بچہ بھی شامل ہے۔ یہ افسانہ پشاور میں تعلیمی ادارے میں بچوں کے ساتھ ہونے والے سفاکانہ ظلم کی عکاسی کرتا ہے۔حمزہ نے بے جان اشیا اور کیڑے مکوڑوں کے ذریعے عصرِ حاضر میں انسانی زندگی کو درپیش المیوں کو خوبی سے طشت ازبام کیا ہے۔
تیسرا افسانہ ”باغی“ ہے۔ اس افسانے کو بجا طور پر مزاحمتی افسانوں کے ذیل میں لایا جا سکتا ہے۔یہاں مزاحمت مختلف صورتوں میں سامنے آتی ہے۔ افسانے کے دو مرکزی کردار ہیں۔ ایک آنکھ والا مولوی جس کی ایک آنکھ جہاد میں قربان ہو گئی اور وہ اب اپنے گاؤں میں تقدس کا استعارہ بن کر ابھرا ہے لیکن حقیقت میں خبثِ باطن اس کے چہرے سے عیاں ہے جب افسانے کی مرکزی کردار دوشیزہ اس سے شادی سے انکار کر کے اپنی مرضی کے شخص سے شادی کرتی ہے تو اس کو سنگسار کرنے کا حکم مولوی صاحب کی طرف سے ہی دیا جاتا ہے۔ حمزہ نے معصوم لڑکی کے نام نہاد رواجوں اور رسومات کے خلاف بغاوت کرنے کو سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔دوسری طرف مرضی سے شادی کرنے والی لڑکی کو من پسند سزا دینے والے لوگوں کا بھیانک چہرہ بھی سامنے لایا گیا ہے۔ حمزہ نے تمام واقعات اور مناظر کو دردناک سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔سنگسار کرنے کے لئے لڑکی کو لے کر جاتے ہوئے اور سنگسار ہونے کے لیے لڑکی کے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے جو واقعات ہیں وہ اتنے لرزہ خیز ہیں کہ حساس دل قاری ان مناظر کی دہشت میں ڈوب سا جاتا ہے۔
افسانہ”قیدی“ملکِ عزیز میں طبقاتی تقسیم کے المیے کو اجاگر کرتا ہے۔عدم برداشت اس افسانے کا مرکزی موضوع ہے۔ کہانی جیل کے قیدیوں کے درمیان گھومتی ہے جس میں کچھ قیدی پُر امن رہتے ہوئے دنگا فسادکرنے والوں کو روکتے ہیں۔ افسانہ تین دن کے واقعات کے گرد گھومتا ہے۔افسانہ نگار نے یہ افسانہ ڈائری کی تیکنیک میں لکھا ہے۔ مرکزی کردار قیدی نے تین دن کی ڈائری لکھی جس میں جیل میں ہونے والے واقعات کو قلم بند کیا۔ اختتام کرب ناک ہے جس میں جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں کی طرف سے مرکزی کردار کو گولی مار دی جاتی ہے۔
حمزہ کا اختصاص یہ ہے کہ وہ بعض واقعات کی طرف محض اشارہ کرتا ہے، تفصیل بیان نہیں کرتا لیکن قاری ان واقعات کی توجیہ خود کر لیتا ہے۔ یہاں جیل کے قیدی کے پاس پستول کی موجودگی جس سے مرکزی کردار کو قتل کیا گیا اور آدھی رات کے وقت جیل کے عملے کی غیر حاضری میں آتش و بارود کے کھیل نے یہ بتایا کہ جیل کا عملہ ان واقعات میں ملوث ہے۔
”کٹے پھٹے دھڑ کا مکالمہ“وطنِ عزیز کو درپیش خودکش حملوں کے اس عفریت کی تباہ کاریوں سے روشناس کراتا ہے جس نے پچھلی دو دہائیوں سے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔ یہاں مکالمے کی تیکنیک استعمال کی گئی ہے اور اذیت ناک موت کا شکار ہونے والوں انسانوں کی بے بسی کو کرب ناکی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
اس افسانے میں بھی مزاحمت موجود ہے،جب ٹکڑوں میں بٹی لاش کے مختلف حصوں کو بے ترتیبی سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے تو لاش مکالماتی انداز میں اپنے غم و غصے کا اظہار کرتی ہے۔
”روٹی“ میں ایک گاؤں میں رہنے والے مختلف لوگوں کی سوچوں کو خوبی کے ساتھ لفظی پیرہن عطا کیا گیا ہے جو روٹی کمانے کی فکر میں غلطاں ہیں۔حمزہ نے خوبی کے ساتھ پادری، گورکن، ڈاکٹر، پولیس والے، مزدور اور انجینئر کی سوچوں کو رقم کیا ہے جن کی روزی روٹی کا انحصار گاؤں والوں کے مسائل کے ساتھ تھا۔ان لوگوں نے کبھی گاؤں والوں کے لئے برا نہ سوچالیکن سب اچھا ہونے کی صورت میں ان لوگوں کو فاقے کرنے پڑتے۔اس ساری صورتِ حال کی عکاسی دلدوزی کے ساتھ کی گئی ہے۔
”انارگلے“ روس اور افغانستان کے درمیان جنگ کے دنوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔ افسانے کا موضوع دہشت گردی ہے۔ معصوم لوگوں کو اپنے مقاصد کی آڑ میں بطور آلہ کار استعمال کرنے والوں کے بھیانک چہروں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ انار گلے کا کردار جذبہئ حریت سے معمورایک ایسی خاتون کا ہے جو اپنی عزتِ نفس کے مجروح ہونے پر بھر پور مزاحمت کرتی ہے اور جب اس کو علم ہوتا ہے کہ اس کا شوہر اور بچے بھی دہشت گردوں کے ساتھی ہیں تو حملے میں بچوں کے مار ے جانے کے بعد وہ اپنے شوہر کو بھی مار دیتی ہے اور خود بھی ماری جاتی ہے۔
”رحیمو کی ریڑھی“انصاف کے نام پر طمانچہ ہے۔طبقاتی تقسیم اس افسانے کا موضوع ہے۔افسانہ نگار نے امیر خاتون کے کتے کے پٹے سے آزاد ہونے پر غریب ریڑھی والے کے معصوم بچے پر حملہ کرنے اور باپ کے اپنے بچے کو بچانے کی خاطر کتے کو دفاع میں مارنے کی کہانی بیان کی ہے۔ چنانچہ اس عمل کے بعد جانوروں کے حقوق کی بات کرنے والے سامنے آتے ہیں اور عدالت رحیمو کو تین سال قید با مشقت کی سزا سنا دیتی ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرسکنے کی صورت میں مزید دوسال قید اس کا مقدر بنتی ہے کہ کتا بیس لاکھ کا تھا۔
افسانہ سماج کے اوپر بھر پور طنز ہے۔ عدالت کو کتے کی موت تو نظر آگئی لیکن معصوم بچے پر کتے کا حملہ نظرنہ آیا۔حمزہ کے افسانوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ سادہ اور عام فہم ہیں اور کم پڑھا لکھا قاری بھی ان سے لطف کشید کر سکتا ہے۔
افسانہ”آزادی“ مختصر ہے لیکن ان تمام المیوں کو سفاکی کے ساتھ بیان کرتا ہے جو اس ملک کے رہنے والوں کا مقدر بنے۔ مذہبی اراکین کی آزادی کے ساتھ ادائیگی کے لیے الگ وطن کی جدو جہد کرنے والوں کو الگ وطن تو مل گیا لیکن کچھ اس طرح کہ وہ تما م حدود و قیود سے آزاد ہو گئے حتیٰ کہ انسانیت سے بھی۔
”چاکلیٹ“ طبقاتی تقسیم اور سماجی ناہمواری کے المیے کوبیان کرتا ہے۔ایک امیر آدمی اس کا کتا، اس کا ملازم اور ملازم کا کم سن بیٹا اس کے کردار ہیں۔ کتے کے لیے مالک باہر کے ملک سے چاکلیٹ لایا ہے۔ وہ بچے کو بھی تھوڑی تھوڑی دیتا ہے۔ اس کے چلے جانے کے بعد بچے کا باپ کتے کی دیکھ بھال کرتا ہے اور کتے کے مانگنے پر اس کو چاکلیٹ دیتا ہے۔ بچے کو باپ چاکلیٹ نہیں دیتا تو وہ کتے کے اس عمل کو یاد کر لیتا ہے جس کے کرنے کے بعد اس کا باپ کتے کو چاکلیٹ دیتا ہے۔ اختتامی سطریں ملاحظہ کریں:
”ہر وقت چاکلیٹ کے خواب دیکھنے اور غصے کی وجہ سے، وہ ذہنی طور پر بہت پریشان تھا۔ اچانک، اس نے اپنے گلے سے غصیلی آوازیں نکالیں، کتے کی طرح اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں لہرائے۔ باپ نے پریشان ہو کر، اسے دیکھااور چلایا؛”یہ کیا بے ہودگی ہے؟“”ابا، تم خودہی تو کہتے ہو کہ ہم مالک کے
کتے ہیں۔اب مجھے بھی چاکلیٹ دو ناں۔“
]چاکلیٹ، ص 69[
”بیری کا درخت“ اپنی روایات سے چمٹے، مٹتی ہوئی تہذیب کا نوحہ پڑھنے والے بوڑھے باپ اور جدت پسندی کی طرف مائل اس کے نوجوان بیٹے کی کہانی ہے۔ حمزہ نے دو نسلوں کے درمیان بڑھتے فاصلوں اور ان کی سوچوں کی عکاسی خوبی سے کی ہے۔بیری کا درخت مٹتی ہوئی تہذیب کی عکاسی کرتاہے اور اینٹوں سے بنا پکا گھر نئی تہذیب کا استعارہ ہے۔
”منڈی“ کا موضوع دہشت گردی ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے لوگوں میں خوف بڑھنے اور تباہ حال لوگوں کی زندگیوں کا نوحہ کرب ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے،
”مٹھی بھر باجرہ“فرقہ پرستی کے خلاف بھرپور احتجاج ہے۔ جس میں ایک خاص مسلک کے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کو موضوع بنایا گیا ہے۔
”اژدھے“ کا موضوع اپنی قوم اور اپنے لوگوں پر روا رکھا جانے والا ظلم ہے۔ یہ ایک علامتی کہانی ہے جس میں ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کی تفسیر عمدگی سے بیان کی گئی ہے۔
درد کی ٹہنیوں میں بلبل“ اس افسانوی مجموعے کا واحد افسانہ ہے جو کم عمری کی محبت اور سعی لاحاصل کے نتیجے میں ان کہی محبت کا دکھ جھیلنے والی لڑکی کی خودکشی کا المیہ بیان کرتا ہے۔ لڑکی کو لڑکے سے اس وقت محبت ہوتی ہے جب وہ اپنی شادی کی تیاریوں کے سلسلے میں گاؤں آتا ہے۔ وہ اس تک اپنی خواہش اپنی نگاہوں کے ذریعے پہنچاتی ہے لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ لڑکے کی سہاگ رات گزرتے ہی اگلی صبح لڑکی خودکشی کر لیتی ہے۔
”تڑکا“ اس افسانوی مجموعے کا آخری افسانہ ہے اور ا س کاموضوع بھی دہشت گردی ہے۔ گھر والوں کی کفالت کرنے والا معصوم بچہ ڈھیر سے گلی سڑی سبزی اور پھل اکٹھا کر کے بیچتا اور گھر والوں کی روزی روٹی کا ساماں کرتا۔ ایک دن ڈھیر میں سے سبزی چنتے جاتے ہی بم کا دھماکہ ہوتا ہے اور اس کے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔
اس افسانوی مجموعے میں شامل زیادہ تر افسانوں کا موضوع دہشت گردی ہے یااس سے جڑا قتل وخون۔ حمزہ ایک حساس فنکار ہے۔ اس نے اپنے مشاہدے کو بروئے کار لاتے ہوئے جو کچھ دیکھا صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا۔وہ اپنے ملک کے بگڑتے حالات پر رنجور ہے لیکن دکھ کی کیفیت میں سوائے احتجاج کے کچھ نہیں کر سکتا اور یہ کام اس نے بخوبی کیا ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

