عید لفظ عود سے بنا ہے جس کے معنی لوٹنا آنے اور بار بار آنے کے ہیں اب چونکہ عید سال میں ایک بار ہمیشہ لوٹ آتی ہے اس لیئے اسے عید نام سے موسوم کیا گیا ہے اور عربوں نے اس لفط کو خوشی اور مسرت کے دن کے لئے مخصوص کر لیا ہے اس لیئے اس کا نام عید پر گیا ۔
یوم عید کو دعوت شیریں ، عید صغیر ، عید رمضان ، عید الفطر ، عید الصوم ، میٹھی عید جیسے ناموں سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ۔
خیر عید کا تہوار عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کے لئے بڑی خوشی کا دن ہے ، عید کا تہوار مسلمانوں کے لئے بڑا عظیم الشان و محترم ہے ، یہ تہوار رمضان المبارک کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کے لئے ایک انعام و اکرام ہے ۔رمضان المبارک کے پورے ماہ میں مسلمان دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات میں تراویح کی نماز ادا کرتے ہیں اور اس میں قرآن پاک کے پڑھنے اور اس کے سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس محنت کا بدلہ یا مزدوری عید الفطر کے دن عنایت فرماتے ہیں ہے ۔ رمضان المبارک بڑی برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے ، اسی مہینہ میں قرآن پاک نازل ہوا ، اسی مہینہ میں ایک رات ایسی ہے جو ہزاروں راتوں سے زیادہ افضل با برکت اور رحمت والی ہےجس کو ”لیلۃ القدر” یا شب قدر کہا جاتا ہے ۔روزہ رکھنا رمضان المبارک کی خاص عبادت ہے روزہ دار اللہ تعالیٰ سے بہت قریب ہوجاتا ہے _
عید الفطر کی رات یعنی چاند رات کو "ليلة الجائزة ” اور عید الفطر کے دن کو ” یوم الْجَوَائِزِ” یعنی انعامات و بدلے کا دن حدیث میں کہا گیا ہے ۔
”يَوْمُ الْفِطْرِ يَوْمُ الْجَوَائِزِ“
عید کا دن ”یوم الجَوَائِز“یعنی انعام ملنے والا دن ہے۔
نبی کریمﷺ اس دن کو مذہبی تہوار قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ”إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا“ (بیشک ہر قوم کیلئے عید کا دن ہوتا ہے اور یہ ہمارا عید کا دن ہے۔
عید الفطر روزے داروں کے لیے انعام و عطا کا سالانہ تہوار ہے ۔ عید الفطر کو روزے داروں کے لیے مسرت و رحمت کا پیامبر بنا دیا گیا ہے اور اسے رمضان المبارک میں کی گئی عبادت و ریاضت ، اطاعت و بندگی، تسبیح و تہلیل ، حمد و ثناء، درود و سلام اور سحر و افطار کے اجر و ثواب انعام و اکرام کیساتھ نزول قرآن کی برکتوں اور عظمتوں سے عبارت کیا گیا ہے۔ ان خوش قسمت اور با مراد لوگوں کے لیے جنہوں نے رمضان المبارک کی پر نور ساعتوں سے جی بھر کر فائدہ اٹھایا، جنہوں نے رات اپنے پہلوؤں کو بستروں سے جدا رکھا اور معبود کا قرب پانے کے لیے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے بے قرار اور بے چین رہے۔ جنہوں نے اپنے دلوں کو لمحہ بھر کے لیے یاد الہٰی اور زبان کو ذکر الہٰی سے غافل نہ ہونے دیا۔ جن کی آنکھوں سے ندامت اور پشیمانی کے آنسو سیل رواں بن کر بہتے رہے۔ جنہوں نے قرآن مجید کے نور سے اپنی روح کے مہیب اندھیروں کو اجالا بخشا ،جنہوں نے اذان و اقامت کی روح پرور صدائوں سے اپنے خیالات اور تخیلات کو پاکیزگی بخشی۔ جنہوں نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔ جو رمضان المبارک کا پہلا عشرہ شروع ہوتے ہی اس کی بارگاہ میں اشکوں کے چراغوں سے اجالا کر کے ہاتھ اٹھا اٹھا کر اس کی رحمت کو پکارنے لگے۔
پھر دوسرا عشرہ آیا تو مغفرت کی جستجو اور طلب میں سر گرداں ہو گئے۔ کبھی غفلتوں اور سر کشیوں کے سمندر میں ڈولتی ہوئی اپنی کشتی حیات کو دیکھتے تو کبھی اس کے بے پایان کرم کی وسعتوں کو دیکھتے اور اس باران رحمت کو دیکھتے جو سب کو یکساں سیراب کرتی ہے۔
پھر تیسرا عشرہ آتے ہی جہنم سے آزادی کا پروانہ لینے کے لیے ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگے اور جب رمضان المبارک لیل و نہار کی ان مقدس ساعتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر رخصت ہو جاتا ہے تو رب العزت کے یہ بندے اس کے محبوب کی سنت کو ادا کرتے ہوئے نماز عید کے لیے جمع ہو جاتے ہیں۔ پھر اس دن رب العالمین اپنے فرشتوں میں نماز عید کے اجتماعات میں موجود بندوں پر فخر فرماتا ہے اور اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس مزدور کا کیا بدلہ ہے۔ جس نے اپنا کام پورا کر دیا فرشتے کہتے ہیں پروردگار اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسے پوری مزدوری دی جائے۔ پھر خداوند فرماتا ہے کہ مجھے اپنی عز ت و جلال کی قسم میں ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہوں میں انہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا نہ کروں گا۔ میرے بندو لوٹ جاؤ میں نے تم کو بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔
اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالی اپنے رحمن و رحیم ہونے کے باعث عید الفطر کے دن فرشتوں کو شاھد بناکر روزہ داروں کی مغفرت و بخشش بھی فرما دیتا ہے اور ان کے گناہوں کو سیئات سے بدل دیتا ہے ، چنانچہ روزہ دار عید گاہ سے بخشے بخشائے واپس ہوتے ہیں ۔
علاوہ ازیں عید الفطر کی رات بڑی فضیلت اور برکت والی ہے، یہ انعام کی رات اور اللہ تعالی سے مزدوری لینے کی رات ہے، اس رات میں اللہ تعالی کی جانب سے اپنے بندوں کو رمضان کی مشقتوں ، قربانیوں اور ریاضتوں کا بدلہ دیا جاتا ہے، دعائیں مقبول ہوتی ہیں ، جنت واجب ہوتی ہے ، دل کو روحانی زندگی نصیب ہوتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
” جس نے عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ)کی دونوں راتوں میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت میں قیام کیا اُس کا دل اُس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن سب کے دل مُردہ ہوجائیں گے۔
عید الفطر مبارک
مسرت اور لذت کا حصول انسانی فطرت کا خاصہ ہے ۔ انسان ابتدا ہی سے خوشیوں کا متلاشی رہا ہے۔ کچھ خوشیاں انفرادی ہوتی ہیں جن میں صرف فرد اور اس سے تعلق رکھنے والے چند اشخاص شریک ہوتے ہیں اور کچھ خوشیاں اجتماعی ہوتی ہیں جن میں کسی مذہب یا علاقے سے وابستہ افراد من حیث القوم شریک ہوتے ہیں۔ خوشی کی ایسی تقریبات کے ایام جس میں کسی قوم کے افراد اجتماعی طور پر شریک ہوں اور انہیں مذہبی و ثقافتی حیثیت سے اپنا لیں، اس قوم کا تہوار قرار پاتے ہیں۔ تاریخ کے ابواب قدیم قوموں کے ایسے تہواروں کے ذکر سے خالی نہیں۔
تہوار مختلف قوموں کی تہذیب و معاشرت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ہر قوم اپنے معتقدات اور رسوم و رواج کے مطابق اپنے تہوار مناتی ہے۔ بعض قوموں کے تہوار ظاہری آرائش و زیبائش اور مال و دولت کی نمائش سے عبارت ہوتے ہیں اور کچھ قوموں کے تہوار قومی قوت و شوکت اور قومی استقلال و استحکام کا اظہار کرتے ہیں۔
تقریبات عید
نماز عید ، دوستوں اور عزیزوں کے گھروں میں خصوصی میل ملاپ، سیر و تفریح، روایتی میٹھے پکوان، عطریات کا استعمال، نئے ملبوسات، عیدی اور دیگر تحائف کا تبادلۂ ۔ بچوں کی علاقائی تفریح ، میٹھائی کا ڈبہ ، رشتے داروں کی مہمانی و ضیافت ، میلا اور لہو ولعب وغیرہ ۔ لیکن گزشتہ ایک سال پہلے عید کی خوشیاں بال برابر بھی نہ مل سکی تھی کیونکہ اس وقت بھی وباء کا دور دورہ تھا اور اب کی بھی عید سعید میں یہ نا ممکن ہے چونکہ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کی زد میں یہ دوسری عید ہوگی جو پہلی عید کے مشابہ ہے ۔
لہٰذا قومی، ملّی اور ملکی اجتماعات کے موقع پر اور ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں، استغفار کریں اور اس کی رحمتوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ آفات و بلیّات کے ٹلنے کی دعائیں کریں ۔ خدا ہمیں عید کی حقیقی خوشیوں ، مسرتوں اور انعام و اکرام اور پیغام سے مالا مال فرمائے آمین.
محمد عامل ذاکر مفتاحی
مدرسہ فاروقیہ و الفلاح کلاسیس گوونڈی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

