طنزیہ شاعری کے بالعموم دو مختلف انداز ہماری شاعری کا حصّہ رہے ہیں۔جب طنز کی ایک انتہا پر شاعر نظر آتا ہے تو اس کے لیے احتجاج اور بغاوت تک پہنچنے کے سوا کوئی دوسری صورت نہیں ہوتی۔زندگی کے حسن کو حاصل کرنے اور اس پہ عہد کے قدغن کو زائل کرنے کے لیے اور کوئی چارۂ کار بھی نہیں ہو سکتا۔ہر چند غزل کی روایت اس انقلاب آفرینی کی بہت کم اجازت دیتی ہے ،اس کے باوجود شاعر کے لیے یہ چیلینج ہے کہ وہ دل و نظر کی حکایات لفظوں میں کس طرح بیان کر دے۔ ذیل میں ’انتساب‘ سے چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں:
میں چپ رہا تو قید کی میعاد بڑھ گئی
چیخا تو اور حلقۂ زنجیر کَس گیا
اخترؔ گلی میں رُک کے حرارت سمیٹ لو
شعلے لپک رہے ہیں دریچے کی آڑ سے
بہت دَراز سہی دامِ احتیاط مگر
پرند لوٹ چکے، اَب سَمیٹ دانہ توٗ
میں نے ہر لمحہ حقارت کی نظر سے دیکھا
زندگی کرتی رہی پھر بھی اِطاعت میری
فصیلِ لب پہ جڑے ہیں سکوت کے شیشے
زباں کو زخم لگائیں تو کچھ کہیں ہم بھی
جرأتِ اظہار ناممکن سہی اُن کے حضور
کانپتے ہونٹوں پہ حرفِ مُدّعا روشن تو ہے
یہاں احتجاج حقیقت میں اپنے عہد کی بے بسی سے ہے۔انسان نے اپنے دکھوں کا ہزار مداوا ڈھونڈ ا مگر وہیں آس پاس کہیں ان کوششوں کو ناکام کر دینے کی مستحکم جسارتیں بھی زور آزما ہیں۔ گفتار کا اسلو ب یہاں مزید روشن ہوا ہے اور لہجہ لطافت کے باوجود ملاحت کی طرف بڑھ گیاہے۔پہلے شعر پر غور کریں تو چپ رہناتو جبر تھاہی مگر اس کا نتیجہ قید کی میعاد میں اضافہ ہو گیا۔اب انسان کے پاس نجات کے لیے چیخنا اور چلّانا ہی رہ گیا تھا مگر اس کے نتیجے میں تو حلقہء زنجیر مزید تنگ ہونے کی آخر ی شکل و صورت سامنے آگئی۔’نہ جاے رفتن نہ پاے ماندن‘۔ زندگی کیسی ہے کہ شاعر نے تو اسے ہمیشہ حقارت کی نظر سے دیکھا مگر زندگی اسی کی اطاعت کر تی رہی۔ یہ عجیب و غریب کیفیت ہے جس کی واضح ترجمانی سے سلطان اختر نے حقیقت کو فاش کرنے کی کوشش کی ہے۔تیسرا پیش کردہ شعر ایک الگ کیفیت کا حامل ہے کیوں کہ جب لب پر پہرے بٹھائے گئے ہوں تو زبان سے کچھ کہنے سے پہلے اسے زخم ہی دینا ہوگا ۔یعنی حق اور ایمان کا ایک لفظ بھی ادا کرنے سے پہلے خود کو لہو لہان کرنا ہوگا۔اس شعر میں فصیلِ لب ،اُس پر سکوت کے شیشے کا جڑنا ایسے پیکر بنے ہیں جن سے سلطان اختر کی خلّاقی اور تخلیقی ہنر مندی کا کھلا ثبوت ملتا ہے ۔اسی طرح کا نپتے ہو نٹوں پہ حرفِ مدعا کا روشن ہونا ، گلی میں رک کر حرارت سمیٹنا اور دامِ احتیاط کا دراز ہونا جیسی شعری کیفیات سے سلطان اختر نے جیسے تلازمات کو قائم کرنے میں کامیابی پائی ہے، وہ اردو شاعری میں ان کا خاص شناخت نامہ ہے۔ (یہ بھی پڑھیں سلطان اختر: غزل کے قصر میں شاید ہو آخری آواز [حصّہ اوّل] – ڈاکٹر صفدر امام قادری)
ہمارے ادب میں طنزکی ایک دوسری حد بھی نظر آتی ہے۔اگر ہم سزا وارِگفت ہی ٹھہرے تو پھر اور کیا صورت ہے۔حق بولنا اگر دنیاکو گراں لگنے لگے تو انسان کے پاس چارہ ہی کیا بچتا ہے۔ایسے میں شاعرزندگی کا وہ سوز حاصل کرتا ہے جہاں فتح وشکست سے پَرے ایک نیا منظر سامنے آتاہے۔یہ افسردہ ،پُر سوز اور جاں کاہ ہوتا ہے۔سلطان اختر جب طنزاور احتجاج سے آگے بڑھتے ہیں تو انھیں زندگی کا وہ دائمی سوز دکھائی دیتا ہے جہاں میرؔ کی زبان میں کہیں تو ’ایک سب آگ ،ایک سب پانی ‘کا انداز ہوتاہے۔’انتساب‘کی غزلوںمیں بار بار ایسے اشعار نظر آتے ہیں جو ہمیں دل گرفتہ اور جاں گزید ہ کر تے ہیں ۔یہ نئی شاعری کا وہ ذائقہ ہے جسے آسانی سے دوسرے شعرا کے یہاں نہیں تلاش کیا جاسکتا ہے۔اس انداز کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
اب کوئی رنگ نہ پیکر، کوئی منظر ہے نہ موج
چشمِ بے خواب میں دَم توڑتی حیرانی ہے
خواہشوں کو سپردِ خاک کیا
پھر مَیں دل کو کنوئیں میں ڈال آیا
اخترؔ اَب انتظار کی پرچھائیاں سَمیٹ
اِس دھوپ میں وہ موم کا پیکر نہ آئے گا
لرز رہے ہیں بہت اپنی عظمتوں کے نشاں
کہ ہو نہ جائیں زمیں بوس یہ کھنڈر اَب کے
اُس نے سہمی ہوئی آنکھوں پہ ہتھیلی رکھ لی
جب خسِ جسم سے اُٹھتا ہوا شعلہ دیکھا
وضع داری ہی بکھرنے نہیں دیتی اخترؔ
ورنہ ہم ٹوٹے ہوئے لوگوں میں اب کچھ بھی نہیں
چشمِ بے خواب میں دم توڑتی حیرانی کا سبب یہ بھی ہے کہ کوئی رنگ ،پیکر، منظراور نہ ہی کوئی موج سامنے ہے۔پہلے تو آنکھوں میں حیرت بسی ہوگی لیکن جب یہ سب معمولات کا حصہ بن جائیں تو کون سی حیرت اور تعجب کس لیے؟جب یہی سلسلہ رہنا ہے تو شاعر کو دوسرے شعر میں بجا طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جینے کی خواہشوں کو سپردِخاک کریں اور دل کو بھی کنویں میں ڈال آیا جائے۔اگلے شعر میں ایک نادر پیکر سامنے آتا ہے۔انتظار کی پرچھائیاں سمیٹنا ۔ شاید ہی کسی شاعر کو یہ تلازمہ سوجھا ہو۔شاعر ایسا اس لیے کہنا چاہتا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ ہمارے لیے موم کا پیکر اب اس دھوپ میں کیوں آئے گا ۔تب آخر انتظار کاہے کا؛ اسے سمیٹ لیں۔سہمی ہوئی آنکھوں پہ ہتھیلی کا رکھ لینا اس لیے خود اختیار کردہ ہے کیوں کہ شاعر خسِ جسم سے اٹھتا ہوا شعلہ دیکھتا ہے ۔ان شعلوں کا بجھانا اس کے بس میں نہیں، صرف وہ آنکھیں بند کر کے اس صورتِ حال کو دیکھنے کے عمل میں بدل سکتا ہے۔زندگی کی یہ عجیب کیفیت ہے کہ لٹتے،پٹتے اور کھوتے ہوئے انسان کو ہم اس جبر سے بچا نہیں پاتے۔یہ بھی المیہ ہے کہ ہم چارہ گری تو کر ہی نہیں سکتے، صرف اپنی آنکھیں بند کرلیں یا آنکھوں پر پٹّی باندھ لیں یا اپنی ہتھیلیوں سے ظاہری نگاہ کا پردہ کر لیں۔سلطان اختر نے ہماری زندگی کے اُس سوز کو پانے میں کامیابی پائی ہے جس کے بغیر زندگی کو کوئی گہرائی سے پہچان نہیں سکتا۔آخری شعر میں یہ بات کھلے بندوں کہہ دی گئی ہے کہ ہم ٹوٹے ہوئے لوگوں میں اب کچھ بھی باقی نہیں بچاہے۔ لٹے پٹے کارواں میں بکھراؤ صرف اس لیے نہیں آیا ہے کہ اس کے پاس ایک مستحکم روایت موجود ہے جسے سلطان اختر نے ’’وضع داری‘‘سے تعبیر کرنے کی کو شش کی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ’’میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی‘‘(خلیل الرحمن اعظمی ) – ڈاکٹروصیہ عرفانہ)
جس شخص نے اپنے عہد کے حقائق کو اتنے رنگوں میں دیکھا ہو اور اپنی زندگی کی عمارت تعمیر کرنے میں نہ جانے کتنی صبر آزما منزلوں سے گزر نے کے احوال ملاحظہ کیے ہوں ،اس کے کشفِ ذات اور اظہارِ کائنا ت میں ایک پیچیدہ بیانی بھی در آئے گی ۔غالبؔ کی مشکل پسندی اور بیان کے ناقابلِ فہم ہونے کے ساتھ ساتھ میر ؔکے بہترین اور عہد آ شنا اشعار کو سامنے رکھیں تو اس حقیقت پر اور یقین بڑھ جاتاہے کہ عہد اور زندگی کی ایک ایک سانس اور د ھڑ کن ہماری شاعری کا حصّہ ہے۔سلطان اختر کی شاعری زندگی کے پیچ در پیچ حقائق تک پہنچنے کے لیے زندگی میں آگ کے دریاؤں سے گزری ہے جس کے نتیجے میں درج ذیل شعر سامنے آتے ہیں:
کاسۂ دل سے لہو، آنکھوں سے پانی لے گیا
اپنا قصّہ کہہ کے وہ میری کہانی لے گیا
دو دن میں احتیاط کا نشّہ اُتر گیا
ہم جتنا چاہتے تھے، وہ اُس سے سِوا کھُلا
مجھ پہ یہ راز کھُلا بھی تو پسِ مرگِ تلاش
وہ مِری آنکھوں میں، میَں اس کی نظر میں گُم تھا
برف کی طرح میں پتھرا گیا اَندر اَندر
سرد سینے میں دبی رہ گئی چنگاری بھی
سہل ہو جائے گی حالات کی دشواری بھی
عجز کے ساتھ روا رکھیے ریاکاری بھی
مسرّتوں کی گھنی چھانو بے مثال سہی
غموں کی دھوپ پُکارے تو ساتھ ہو لینا
سر برہنہ پیڑ ننگی دھوپ کا لشکر چلے گا
اب ہمارے ساتھ منزل تک یہی منظر چلے گا
پہلا شعر سلطان اختر کے زبان زدِ خاص و عام اشعار میں سے ایک ہے ۔ کاسۂ دل سے لہو نچوڑکر لے جا نا واقعتاًایک غیر معمولی کیفیت کا بیان ہے۔ آنکھوں سے آنسو بھی رخصت ہو گئے ۔ یعنی زندگی میں بچا کیا ہے او ریہ سب اس لیے ہوگیا کہ کسی نے بیان تو اپنا قصّہ کیا لیکن ہماری کہانی چرا کر نکل گیا۔ایسے میں ہمارے پاس رہ کیا گیا۔یہ عجیب و غریب داستانِ حیات ہے جس کے جبر میں ہم نہ جانے کب سے پِسنے کے لیے مجبور ہیں ۔اگر چار دن کی زندگی کہتے ہیں تو سلطان اختر بتاتے ہیں کہ دو دن میں ہی احتیاط کا نشہ اتر گیا ۔نشّہ اترنے اور احتیاط کا نشہ اترنے میں جو بلیغ طنز ہے، ا ُسے غور کرنے پرہی سمجھا جاسکتا ہے۔ شاعر اپنی گفتگو یہیں ختم نہیں کرتا بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ہم جتنا چاہتے تھے، اس سے بڑھ کر وہ ملا ۔ زندگی ہو یا محبوب ؛اس شعر میں یہ ثابت ہو تا ہے کہ سب کچھ خطِ مستقیم کی طرح نہیں۔سادہ سے لفظوں میں زندگی کے بھاری پتّھر کو سلطان اختر نے واقعتا پانی کر دیا۔تیسرے شعر میں محبوبانہ کیفیت ہی سمجھ لیا جائے توبھی شعر کے گہرے ہونے میں کوئی تردّد نہیں ۔ایک دوسرے میں جو لوگ سمائے ہوئے تھے، انھیں اس یکجائی کی حقیقت پسِ مرگ ہی معلوم ہو سکی ۔یہ نوعِ انسانی کا عجیب و غریب المیہ ہے۔میر نے کہا تھا : ’معلوم یہ ہو ا کہ بہت میں بھی دور تھا ‘۔ سرد سینے میں آگ اس لیے دبی رہ گئی کیوں کہ وہ شخص اندر ہی اندر برف کی طرح پتھر ہو گیا تھا۔ برف ،پتھر اور چنگاری جیسے الفاظ یکجا ہو کر زندگی کی ان تصویروں کو ہی ابھار رہے ہیں جن کے نتائج جبر و قدر کے ازلی مسائل سے وابستہ ہیں۔ان اشعار میں سلطان اختر کبھی کبھی زندگی کا خوف ناک اور ناقابلِ یقین منظر نامہ مرتب کرتے ہو ئے نظر آتے ہیں۔پیش کردہ مثالوں کے آخری دو اشعار اپنے عہد کے حالات کی سفّاکیوں ،اندوہ ناکیوں اور با لآخرخوف ناکیوں کے ثبوت کے طو ر پر غور و فکر کا حصہ بنے ہیں اور اس طرح سلطان اختر زندگی کے آگاہ اور گوہر آشنا فن کار کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔
جدیدیت کے دور میں اردو کی مانوس تشبیہیں بدلیں اور استعارات کی ایک تازہ دنیا سامنے آئی۔ہماری زبان میں زبان و اسلوب کے نئے رنگ و آہنگ اس دوران ابھر کر سامنے آئے ۔سلطان اختر کے مجموعۂ اوّل کی شاعری پر غور کریں تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس شاعر کے پاس نئے منظر بنا نے،قدرت اور مظاہرِ قدرت کے پیمانوں کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔سلطان اختر کے یہاں ایک عجیب و غریب تخلیقی عمل اس طور پر نظر آتا ہے کہ وہ بہت ساری کیفیتں تصویروں میں پیش کر دیتے ہیں ۔تصویریں بناتے ہوئے وہ انوکھے رنگ اور برتاؤ کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔انسانی زندگی اور قدرت کے مظاہر کچھ اس طرح ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کی اوّلاً تو ضرورت ہی نہیں معلوم ہوتی اور اگر ہم ایسی کوشش کریں تو یہ تصویریں بگڑتی ہوئی نظر آئیں گی۔یعنی سلطان اختر نے زبان کا ذائقہ بدلنے یا آزادانہ طور پر منظر نگاری کے لیے اپنی شاعری کا استعمال نہیں کیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ زندگی اور عہد کوپیش کرتے ہوئے فطری طور پر سامنے آ گئے ۔چند اشعار ملاحظہ ہوں:
تہہِ گِرداب نہاں تھا نہ سرِ آب عیاں
یعنی وہ حلقۂ صد موجِ ہنر میں گُم تھا
پھیلی ہوئی ہے دُھند سرِ شیشۂ طلب
بے رنگ و نور عکسِ تمنّا ہے سامنے
پیچھے پیچھے بے دَر و دیوار گھر مِٹتے ہوئے
آگے آگے ایک شہرِ خوش نما بنتا ہُوا
جا چکا طوفان لیکن کپکپی ہے
وقت کی دیوار اَب تک ہِل رہی ہے
لرز کے ٹوٹ ہی جائے نہ آج برگِ بدن
لہو میں قُرب کی گر می، رگوں میں لوٗ ہے بہت
حالاں کہ انتظار کے لمحے گزر چکے
پھر بھی کھڑا ہوا ہے وہ لگ کر کِواڑ سے
اسیرِ راہ ہوئی جنگلوں کی شادابی
عجب وقار دَرختوں کے انتشار میں تھا
جنگل جنگل صحرا صحرا دھوم مچا کر لیٹ گئی
وحشت کی زہریلی ناگن پھَن پھیلا کر لیٹ گئی
شام ہوئی تو یادوں کا قالین بچھا کر لیٹ گئی
میرے کمرے میں تنہائی پَر پھیلا کر لیٹ گئی
تھکی تھکی آنکھوں پہ جب بھی خوابوں کی دیوار گری
سہمی سہمی نیند مِرے پہلو میں آکر لیٹ گئی
چاند کا گھر ویران پڑا تھا، سورج کا دروازہ بند
سونی راہوں پر تاریکی صدا لگا کر لیٹ گئی
یہ تصویریں عمومی انداز کی ہر گز نہیں ہیں۔آسمان میں کوئی منظر نظر آیا اور فوٹوگرافر نے ایک تصویر کھینچ لی یا آنکھوں میں کوئی کیفیت پیدا ہوئی اور مصور نے مو قلم کو رنگوں کی ایک بساط دے دی مگر یہ عمومی رویّہ ہے۔ سلطان اختر اس انداز اور طَور پر قانع نہیں ہیں۔ وہ تصویر بناتے ہوئے منظراور پسِ منظر، مرئی اور غیر مرئی، ظاہر اور معدوم کے ممکنہ مناظر کو ایک دوسرے میں کچھ اس انداز سے مد غم کر کے پیش کرتے ہیں جس سے و ہ تصویر کسی نئی دنیا کو خلق کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔جدید شاعری کا ڈکشن اس موقعے سے انھیں نعمتِ غیر مترقّبہ کی طرح کام آتا ہے۔زبان، تراکیب اور استعارے تصویروں کی ایک ایسی دنیا خلق کرتے ہیں جنھیں ہم نے کبھی دیکھا نہیں مگر ان میں کشش اور طلسمی فضا ضرور ہے۔تہہِ گرداب اور سرِآب کی تصویریں تو عمومی ہیں لیکن سلطان اختر نے یہاں واضح کیا کہ تہہِ گرداب نہ پوشیدہ تھااور نہ سرِآب ظاہر تھا۔ ان دو تصویروں کے بعد وہ واضح کرتے ہیں :’یعنی وہ حلقۂ صد موجِ ہنر میں گم تھا‘۔تصویر کے اشارے میں تو ضرور یہ بتانے کی کوشش ہوئی کہ وہ موجود ہے ،کہیں دوسری جگہ کھو یا نہیں ۔مگر حلقۂ صد موجِ ہنر میں گم ہونا ایک ایسی تصویر ہے جس میں کچھ ابہام ، کچھ پیچیدگی، کچھ حقیقت اور کچھ گمان سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔دوسرے شعر میں سرِ شیشئہ طلب جیسی ترکیب کا وضع کرنا شاعر کی اختراعی قوتوں کا غماز ہے لیکن اس مصورانہ مہم میں شاعر جب اس کیفیت کا اضافہ کرتا ہے :’ پھیلی ہوئی ہے دھند سرِ شیشئہ طلب‘تواس تصویر میں اقدار اور تہذیب کی پاسداری بھی جھلکنے لگتی ہے ۔تیسرا شعر سامنے کی تصویروں کا ہے لیکن ایک حَرَ کی کیفیت نے منظر کو رواں کر دیا ہے۔بے درو دیوار گھرمٹتے جا رہے ہیں اور سب کچھ پیچھے چھوٹ رہا ہے اور آگے ایک شہرِ خوش نمابنتا ہو ا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سلطا ن اختر اقبال کے اس شعر کو اپنی آواز میں پیش کر رہے ہیں :
یہ کاینات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صداے کُن فیکون
نئی دنیا کا بننااور پچھلی دنیا کا مٹنا؛یہ ازل کا دستور ہے ۔سلطان اختر نے عام لفظوں میں حیات وکاینات کی زندۂ جاوید تصویر ڈھال دی ہے۔اگلا مطلع تو یوں بھی قافیہ کے سبب اضافی توجہ چاہتا ہے۔کپکپی لفظ کا بہ طورِ قافیہ استعمال آسان نہیں ہے۔اسے’ ادبی ‘ماننے میں بھی لو گوں کو غا لباً تردد ہو لیکن طوفان کے گزر جانے کے باوجود فضا میں کپکپی کا ہونا یہ واضح کرتا ہے کہ طوفان کا اثر جاتے جاتے بھی پورے طور پر زائل نہیں ہوا ہے۔دوسرے مصرعے میں سلطان اختر نے اس کیفیت کو دوسرے تلازمے کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔کیا نپاتلا مصرعہ پیش کیا گیا ہے:’وقت کی دیوار اب تک ہل رہی ہے‘۔مضمون وہی ہے کہ طوفان گزر چکا ہے مگر اس کے اثرات پورے طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں۔ حالات کو پہچاننے کے لیے وقت کو آلۂ مقیاس الحرارت کی طرح برتنا اور یہ کہنا کہ وقت کی دیوار اب تک ہل رہی ہے ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب سے پہلے کوئی بڑا طوفان آیا تھا ۔ سلطان اختر کے شعروں میں ایسے پیکر، نادرتشبیہیں اور معنی کو منتہا تک پہنچانے والے استعارے بار بار ہمیں دعوتِ فکر دیتے ہیں ۔
اگلے شعر میں برگِ بدن کی ترکیب اور پھر یہ خوف کہ لرز کر یہ برگِ بدن کہیں آج ٹوٹ نہ جائے ۔ عجیب و غریب حرکت آمیز تصویر یہاں سامنے آتی ہے ۔ جب کہ اس خاص موقعے سے سلطان اختر نے محبت کی وہی پرانی کہانی پیشِ نظر رکھی اور بتایا کہ لہو میں قُرب کی گرمی ہے اور رگو ں میں لُو یعنی تب و تاب بہت ہے ؛ایسے میں برگِ بدن کیوں نہ ٹوٹ کر علاحدہ ہو جائے ۔ محبوبانہ کیفیات سے سلطان اختر گریز نہیں کرتے اور دل لگا کر نئے پرانے موضوعات کو اپنے شعر کا حصہ بناتے ہیں ۔اگلا شعر اس بات کی گواہی دے گا کہ سلطان اختر سامنے کی تصویر پیش کر نے میں بھی کیا خوب انوکھے انداز کو روارکھتے ہیں ۔ انتظار کے موضوع پر اردو میں کم اشعار نہیں۔ سیکڑوں نظمیں تلاش کرنے سے مل جائیں گی لیکن اس کی ایک تصویر سلطان اختر نے بھی بنائی ہے ۔ انتظار کے لمحے گزر چکے ہیں ۔ یعنی اب چارہ گر نہیں آنے والا ۔ مگر یہ کسے سمجھایا جائے ۔ اس وارفتگی اور بے چارگی کے دوراہے پر عاشق کی ایک تصویر سلطان اختر ان لفظوں میں تیار کرتے ہیں:’پھر بھی کھڑا ہوا ہے وہ لگ کر کواڑ سے ‘۔اگلے شعر میں سلطان اختر جب کہتے ہیں : ’عجب وقار درختوں کے انتشار میں تھا‘ تو یہ بیان عمومی نہیں رہتا۔ وہ مضمون یہ بتاتے ہیں کہ جنگلوں کی شادابی راستے کا پتّھر بن گئی۔ یہ مضمون بالکل نیا ہے ۔ آخری شعر اور وہ پوری غزل اس طور پر توجہ طلب ہے کہ اس کے تمام اشعار ہر قدم پر نئے مناظر ترتیب دیتے ہیں ۔ حالاں کہ ردیف میں’لیٹ گئی‘ کا ٹکڑا کسی بھی مضمون کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ یادوں کا قالین بچھا کر لیٹ جانا ،تنہائی کا پَر پھیلا کر لیٹ جانا ، تھکی تھکی آنکھوں پر خوابوں کی دیوار کا گرنا، سہمی ہو ئی نیندوں کا پہلو میں آکر اور تاریکی کا صدا لگا کر لیٹ جانا ؛پوری غزل تصویر ہی تصویر ہے اور ہر شکل نئی ہے ۔ اختراع کرنے کی سلطان اختر کی یہ صلاحیت انھیں انفرادی رنگ کا فن کار بنا تی ہے ۔
Safdar Imam Quadri
Department of Urdu,
College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020, Bihar India
Email: safdarimamquadri@gmail.com
Mob: +91 -9430466321
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

