اکولہ۔ ۱۹/جون: (حنا خان آکولہ) تصویر میں نظر آنے والا علاقہ آکولہ شہر کے آکوٹ فائل اورنگ زیب کالونی کاہے- اسے دیکھ کر یقین نہیں ہوتا کہ یہاں انسانوں کی مہذب آبادی بستی ہے , اور وہ بھی ایسا علاقہ جہاں کے لوگ ایسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں کہ جس میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے- اس علاقہ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہاں کوئی انسان رہتا ہی نہیں- جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر, گٹر کا پانی (جس میں مچھروں کی ایک فوج رہتی ہے) اور تو اور یہاں کے مقامی لوگ گھروں کا کچرا بھی یوں راستہ میں لا کر پھینک دیتے ہیں کہ جیسے انھیں ماحول سے کوئی سروکار ہی نہیں – یہاں کی سڑکیں انتہائی خستہ حالت میں ہیں جس پر ایک انسان ٹھیک طرح چل نہیں پاتا اور لڑکھڑا جاتا ہے – اس طرح کی خستہ حال سڑکوں سے چار پہیہ گاڑیوں کا گذرنا تو انتہائی مشکل ہے-حیرت کی بات ہے کہ یہ تمام گندگی آکولہ کے فاطمہ نرسنگ ہوم و حسینی ملٹی اسپیشیلٹی ہاسپیٹل کے سامنے ہیں کہ جس میں چوبیسوں گھنٹے مریضوں کا تانتا لگا رہتا ہے ہر وقت یہاں کوئی نہ کوئی مریض انتہائی سریس حالت میں ایمبولنس میں لایا جاتا ہے اور یہاں کئی مریض ایڈ مٹ بھی رہتے ہیں انھیں ایسی خراب سڑکوں اور گندگی سے کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ صرف وہ ہی جانتے ہیں – اس طرف انتظامیہ کا کوئی دھیان نہیں ہے، نہ ہی کوئی ان سڑکوں کو ٹھیک کرنے اور گندگی کو ختم کرنے کے لیے پہل کررہا ہے-

