Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

سلطان اختر: غزل کے قصر میں شاید ہو آخری آواز [حصّہ چہارم] – ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras جون 20, 2021
by adbimiras جون 20, 2021 0 comment

سلطان اختر کو مفکر اور فلسفی تو کہنا مشکل ہے مگر ان کی نئی شاعری کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد کے حالات کو غور و فکر کا حصّہ بنانے میں ایک مخصوص احتسابی رویہ اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس باب میں وہ زندگی کیسی ہے، کسیی گزر چکی یا آنے والا وقت کیسا ہوگا، ان سوالوں کا بڑے سلیقے کے ساتھ جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سوال و جواب یا زندگی کو پہچاننے کی کیفیت میں سلطان اختر خود کو الگ نہیں رکھتے بلکہ ان کا واحد متکلم بھی اکثر زیرِ بحث ہوتا ہے۔ چند اشعار اس سلسلے سے ملاحظہ ہوں:
یہ عجب شرط ہے تسلیم و رضا کی اخترؔ

خود کو پہچاننا چاہوں تو میں اندھا ہو جاؤں
وہ محبت کی ادا ہو کہ رقابت کا جنوں

کچھ نہ کچھ ہم یہاں ہر شَے میں کمی دیکھتے ہیں
میں آج تک سمجھ ہی نہ پایا کسی طرح

کیا کیا یہاں درست ہے، کیا کیا عجیب ہے
آؤ اَب اپنی طرف لوٹ چلیں ہم اخترؔ

شہر میں کوئی ہمارا نہ تمھارا کہیں ہے
گلیاں خموش، کوچہ و بازار میں سکوت

وہ پُر ہجوم شہر کو تنہائی دے گیا
برف بن جاؤں، کبھی شعلہ نما ہو جاؤں

زندگی تیرے لیے اور میں کیا ہو جاؤں؟
امیرِ شہر پسِ مرگ بھی ہے چشم براہ

تمام شہر کو مِسمار دیکھنے کے لیے
آب و آتش میں عجب رشتہئ جاں ہے اخترؔ

آگ لگتی ہے تو جلتا ہے جگر پانی کا
مجھ سے ہوتا ہی نہیں تائبِ دنیا ہونا

کیا کروں، دامنِ دنیا ہی نہیں چھوٹتا ہے
دیکھتے ہی نہیں ہم اہلِ زمیں سوے فلک

آسماں والے سو اَب نیچے اُترنے لگے ہیں
یہ کاینات کھلونا اگر ہے قدرت کا

تو اس کھلونے سے ہم بھی بہل کے دیکھتے ہیں
ہمارے بعد جلاتا ہے کون دل کا لہو

ہم آفتاب اگر ہیں تو ڈھل کے دیکھتے ہیں
قیامت کو اگر باقی ہیں کچھ دن

تو ہر سوٗ حشر کا میدان کیوں ہے؟
شاعر کا یہ کہنا کہ ’کچھ نہ کچھ ہم یہاں ہر شے میں کمی دیکھتے ہیں‘ یا شاعر اب تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ ’کیا کیا یہاں درست ہے، کیا کیا عجیب ہے‘ جیسے اظہار سے سلطان اختر اس فکری اڑان کے لیے راہیں ہموار کرتے ہیں جہاں زندگی اور حقیقت کو سمجھنے کا ایک نیا سفر شروع ہوتا ہے اور جس کے نتائج اعلا ادب کی ضمانت ہیں۔ اسی طرح ’آب و آتش میں عجب رشتہئ جاں ہے اختر‘ کہنا اور تسلیم و رضا کے باب میں اس باب پر حیرت زدہ ہونا کہ ’خود کو پہچاننا چاہوں تو میں اندھا ہوجاؤں‘ جیسے شاعرانہ نتائج ایک تفکرانہ تجزیے کا واضح ثبوت بن کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ خود شناسی، خود احتسابی اور معرفت کے راستے پر نئی غزل کے دریچے سلطان اختر کے یہاں کچھ اس انداز سے کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ چند اشعار سے اس امر کی تفصیل سامنے آسکتی ہے: (یہ بھی پڑھیں سلطان اختر: غزل کے قصر میں شاید ہو آخری آواز ]حصّہ سوم[ – ڈاکٹر صفدر امام قادرین)

کل تک ہمارے زیرِنگیں کاینات تھی

ہم آج کیوں ہیں بے سرو سامان یاعلی
دل نہ محسوس کرے، آنکھیں مگر دیکھتی ہوں

تم نے دیکھا ہے کہیں: ایسا نظارہ کہیں ہے؟
نہ کوئی بات مکمّل ہوئی مِری اخترؔ

نہ کوئی کام مِرا سَر بہ سَر تمام ہوا
اب اس سے گِریہ و فریاد بھی نہیں کرتی

عجیب خلقِ خدا ہے، خدا سے ڈر گئی ہے
چُپ کی دیوار ٹوٹتی ہی نہیں

کیوں ہر اک سمت خامشی ہے خدا

حضرتِ علی کو مخاطب کرکے شاعر کا اپنی بے سروسامانی کے سلسلے سے سوال قائم کرنا اور یہ بھی بتانا کہ گذشتہ کل تک تو ہمارے قدموں میں کاینات بچھی ہوئی تھی؛ قابلِ غور ہے۔ حقیقت میں یہ سوال حضرت علی سے نہیں، اپنے عہد اور خود اپنے آپ سے ہے۔ حضرت علی کو تو شاعر نے گواہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اپنی بات کو مکمل طور پر کبھی نہ کہہ پانا سلطان اختر کو انسانی زندگی کی اس محرومی تک پہنچاتا ہے جہاں ساری بوالعجبی ہمارے اوپر ہی ڈال دی جاتی ہے۔ اسی کیفیت میں انسان نہ گریہ و فریاد کرسکتا ہے اور نہ زندگی کی بنیادوں کو شکستہ کرسکتا ہے مگر اس کے اسباب سلطان اختر کے یہاں حقیقت افروزی کے ساتھ سادگی اور بے باکی کا نمونہ بن کر کچھ ایسے ظاہر ہوتا ہے:عجیب خلقِ خدا ہے، خدا سے ڈر گئی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں سلطان اختر: غزل کے قصر میں شاید ہو آخری آواز [حصّہ دوم] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

سلطان اختر کی پچھلی شاعری میں جس طنز اور تلخی کا جگہ جگہ احساس ہوتا رہا ہے، اس میں زمانے کی بے یقینی کے اضافے کے ساتھ اب ایک نئی شعری کیفیت ہمارے سامنے آتی ہے۔ عہد اور زندگی کی بے یقینی پر وہ صرف صبر کرلیں اور مسئلے کی تہہ تک نہ پہنچیں تو پھر ان کی فکری جہت متعین نہیں ہوسکتی۔ سلطان اختر ہوش مندی کے ساتھ ان کیفیات کو شعر میں سمیٹے چلتے ہیں اور مسئلے کی نوعیت، اس کا ظہور، تدارک، عمومی اسباب وعلل اور حقیقی صورتِ حال کو ایک ساتھ قابلِ توجہ بناتے ہیں۔ اس سلسلے سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
میں اپنا آپ بچا لوں مگر دَر و دیوار

کہ ہو رہے ہیں اِدھر سے اُدھر دَر و دیوار
تھکن بیٹھی ہے قدموں سے لِپٹ کر

اِرادہ پَر شکستہ ہو گیا ہے
خاک ہونے سے تو بہتر ہے کہ شعلہ بن جائیں

جب یہاں چاروں طرف آگ لگائی ہوئی ہے
گھروں میں ڈھلتی ہوئی رات تھک کے بیٹھ گئی

کہ اب فسانہئ دیوار و دَر تمام ہوا
دعاے خیر کرو اپنی زندگی کے لیے

ہماری تو میاں ہنس بول کر گزر گئی ہے
اِسی لیے تو یہاں معتدل ہے اُن کا وقار

وہ تھوڑا جھوٹ بھی سچائیوں میں ڈالتے ہیں
روایتوں نے کہیں کا نہیں رکھا اخترؔ

ہم ایسی عظمتِ رفتہ پہ خاک ڈالتے ہیں

پہلے شعر میں جس بے یقینی اور بالآخر محرومی کو پیش کیا گیا ہے، وہ اپنے زمانے کے شدید مسئلوں کا اشاریہ ہے۔ درو دیوار کو عام طور پر مستحکم اور متعین ڈھانچے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی لیے مکان یا گھر جیسے الفاظ ہمیشہ یقین، اطمینان اور مستقل آرام کے طور پر مستعمل ہوتے ہیں لیکن سلطان اختر نے تو عجیب کیفیت ظاہر کردی ہے کہ در و دیوار ہی ادھر سے ادھر ہو رہے ہیں یعنی ٹھوس بنیادیں متزلزل ہیں۔ ایسے میں شاعر کا سوال بجا ہے: ’میں اپنا آپ بچالوں مگر درودیوار‘۔کہیں اماں کی گنجایش نہیں ہے۔آدمی خود کو بچا بھی لے مگر در و دیوار کا عدم استحکام اسے کہیں کا نہ رکھے گا۔ ٹھوس حقایق کا اپنی فطرت سے علاحدگی اور رقیق بن جانا سلطان اختر کی نگاہ میں ہمارے زما نے کی وہ صورتِ حال ہے جس میں سب نے بے یقینی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ اصول، فلسفہ اور اعتقادات سب گڈمڈ اور متزلزل نظر آرہے ہیں۔ یہ بھی عجیب و غریب حقیقت ہے جہاں ہر طرف سے آگ لگی ہوئی ہے اور زمین کُشت و خون سے بے کیف ہورہی ہے۔ سلطان اختر اس تذبذب میں طنز اور آگہی یا پوری بے چارگی میں اپنا واضح نقطہئ نظر پیش کرتے ہیں۔ ’خاک ہونے سے تو بہتر ہے کہ شعلہ بن جائیں‘۔ شاعر آگ اور شعلے سے معنیٰ کی ایک مختلف دنیا وضع کرنا چاہتا ہے۔ روزِ ازل، خیروشر کی جو تقسیم ہوئی، وہاں خاک اشرف المخلوقات کے حصّے میں آئی اور آگ ابلیس کے لیے مخصوص ہوئی۔ اب جب انسانوں کی بنائی ہوئی دنیا میں ہر طرف آگ ہی لگی ہوئی ہے یعنی چہار طرف شر ہی شر ہے، ایسے میں آخر چارہ کار ہ کیا ہے۔ شاعر طنزیہ خود احتسابی کی چوکھٹ پر پہنچ کر بجا طور پر اس نتیجے کو اخذ کرنے کے درپے ہے کہ خاک کا پُتلا ہونے سے تو بہتر تھا کہ روزِ ازل ہی شعلہ بن گئے ہوتے کیوں کہ کام تو ہم وہی ابلیسی انداز کا کررہے ہیں۔
سلطان اختر کے پہلے مجموعے پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی منظر نگاری پر بھی مختصر طور پر توجہ کی گئی تھی۔ جدیدیت کے عہد میں پیکر سازی بعض شعرا کی شناخت کا باعث رہی ہے۔ سلطان اختر کی بعد کی شاعری میں ایک حیرت انگیز تجسیم اور تصویر پسندی کے آثار محفوظ ہوئے ہیں۔ یہ تصویریں بنی بنائی ہوئی اور جانی پہچانی نہیں ہیں۔ جدید اور مابعد جدید شعرا کی دکانوں پر آویزاں تصویروں سے ان کا موازنہ کیجیے تو یہ ظاہر ہوگا کہ سلطان اختر نے اپنے خونِ جگر سے اپنی مخصوص تصویریں گڑھی ہیں۔ لفظ اور کیفیت کچھ اس انداز سے موجود ہیں جیسے یہ محسوس ہوکہ مصوّر نِت نئی تصویروں میں زندگی کی نئی نئی کیفیات سموتے ہوئے آگے بڑھتا جارہا ہے۔ ایسے چند اشعار لازمی طور پر ہماری گفتگو کے مرکز میں ہوں تو نتیجہ اخذ کرنے میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔ ملاحظہ ہوں:
مِری نگاہ میں روشن ہے منزلوں کا غبار

ہر ایک ریگِ تمنّا ہے نقشِ پا سے بلند
کبھی کبھی کوئی ایسا بھی دن نکلتا ہے

کہ ماہتاب بھی سورج کے ساتھ چلتا ہے
بُجھا دیتاہے پہلے خانہئ جاں کی وہ قندیلیں

پھر اُس کے بعد روشن ہر در و دیوار کرتا ہے
گلے ملنے لگیں شاخوں سے شاخیں

شجر کا خواب پورا ہو گیا ہے
نگاہوں کے افق حیرانیوں کے اَبر میں گُم

کوئی شَے آئینے میں رونما ہوتی ہوئی سی
شباب پر ہے ابھی موسموں کی شادابی

چلو کہ برف پہ ہم بھی پھسل کے دیکھتے ہیں
چھاؤں میں جسم پڑا ہے لیکن

دھوپ کی دھار پہ سر ہے اپنا

منزلوں کا غبار نگاہ میں روشن ہونا قولِ محال کا نمونہ ہے مگر حقیقی تصویر تو ریگِ تمنا کو نقشِ پا سے بلند قرار دینے میں ابھرتی ہے۔ اقبال نے ’درد و سوزِ آرزومندی‘ کو ’متاعِ بے بہا‘ کہا تھا۔ غالب دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا میں روندتے ہوئے تمنّا کے دوسرے قدم کا آوازہ بلند کرتے ہیں۔ سلطان اختر ’ریگِ تمنّا‘ کی ترکیب وضع کرتے ہیں مگر ان کی قیمت ان کی نظر میں نقشِ پا سے بلند ہے۔ فیض نے اس کیفیت کے لیے ’دھج‘ کا استعمال کرتے ہوئے کہا تھا: ’جس دھج سے کوئی مقتل کوگیا، وہ شان سلامت رہتی ہے‘۔ غالب نے ایک دوسرے شعر میں ’پروازِ شوقِ ناز‘ کی ترکیب وضع کرکے جسارتوں کو قبول کیا ہے۔ سلطان اختر نے سادگی اور صفائی کے ساتھ ’ریگِ تمنّا‘ سے جو تصویر قائم کی، اس میں اردو کی شعری روایت کا ایک بڑا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ ماہتاب کا سورج کے ساتھ چلنا، خانہئ دل کی قندیلیں بجھا کر تمام درودیوار کو روشن کرنا، شاخوں سے شاخوں کے گلے ملنے کو شجر کا خواب پورا ہونا کہنا، حیرانیوں کے اَبر میں نگاہوں کے اُفق کا گم ہونا، چھاؤں میں جسم کا پڑا ہونا اور دھوپ کی دھار پہ سَر کا ہونا جیسی تصویریں ہمارے یقین کو پختہ کرتی ہیں کہ استعارہ سازی، پیکر تراشی اور ترکیب بنانے کے عمل میں سلطان اختر اردو کی جدید غزل میں تجسیم کے شعری عمل کے سب سے بڑے نباض ہیں۔ وہ اختراعی طبیعت کے مالک ہیں، اس لیے ان کی ہر تصویر اپنی نئی تصویری حیثیت پر بجا طور پر ناز کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس سلسلے سے سلطان اختر کے چند اور اشعار باعثِ توجہ ہوں تو نتیجے تک پہنچنے میں ہمیں سہولت ہوگی:
آنکھیں بلندیوں کے طبق چاٹنے لگیں

پرواز کو ذلیل نہ کر، حوصلہ سمیٹ
شجرِ شوق کی تقسیم نہ پوچھ

شاخ اُن کی ہے، ثمر ہے اپنا
لہو کو گرم رکھے، آگ سے گزر کے دکھائے

کوئی تو میری طرح زندگی پہ مَر کے دکھائے
مِرے خدا مجھے اب دیکھنے کی تاب نہیں

تماشے تو نے بہت عمرِ مختصر کے دکھائے

ان اشعار میں حیرت انگیز اظہار کی کرشمہ سازیاں محفوظ ہیں۔ آنکھوں کا بلندیوں کے طبق چاٹنااور شجرِشوق کی تقسیم جیسی شعری کیفیات اردو شاعری کی تاریخ میں عام نہیں ہیں۔ ان سے سلطان اختر کا شعری اختصاص ابھر کر سامنے آتا ہے۔
اس نئے دور کی شاعری میں تصویر سازی کے مرحلے میں سلطان اختر کے یہاں مرئی اور غیر مرئی تصویروں کا ایک ایسا مرکب تیار ہوتا ہے جسے صرف تصوّر میں یا صرف حقیقت میں پہچاننا مشکل ہے۔ راجندر سنگھ بیدی نے اپنے افسانوں کو ’جھوٹ سچ‘ لکھا تھا۔ سلطان اختر کی شاعری میں رفتہ رفتہ ایسی تصویروں کی تعداد بڑھتی چلی گئی جن میں حقیقت اور گمان کا ایک سنگم قائم ہوتا ہے۔آنکھوں سے ویسے منظر پورے کے پورے کہیں نظر نہیں آتے اور بند آنکھوں سے جو دکھائی دیتا ہے، اس میں کچھ ایسا بچ جاتا ہے جسے کھُلی آنکھوں سے ہی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ Abstraction سے سلطان اختر کے اشعار عجیب و غریب اسلوبیاتی اور معنیاتی کیفیات سے آراستہ ہوجاتے ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے حیرت و استعجاب اور اظہار کے نویلے پن کا یقین پختہ ہوجاتا ہے۔ یہاں فارسی وعربی تراکیب بھی ہیں اور سادہ سے لفظوں میں بیان کا انوکھاپن بھی نظر آتا ہے:
اُٹھتی رہتی ہے سرِ آب لہو کی موجیں

تشنگی حلقہ گِرداب میں روشن ہے ابھی
میں بھی اُٹھوں گا کاسہئ تعبیر توڑ کر

وہ بھی طلسمِ خوابِ پریشاں سے آئے گا
سُرخاب تیرتے ہیں نگاہوں کی جھیل میں

سورج کا خون جسم پہ ملنے لگی ہے شام
روز و شب گرتی رہی لفظ ومعانی کی فصیل

منہدم ہوتے رہے خیمہ اِدراک میں ہم
فرات چاٹتی رہتی ہے خشک لب اپنے

کہ تشنگی ابھی آبِ رَواں میں روشن ہے

ذرا ان شعری تصویروں پر توجہ کیجیے؛ لہو کی موجوں کا سرِ آب اٹھنا کیسی تصویرہے اور اس کی علّت بیان کرتے ہوئے شاعر یہ بتاتا ہے کہ حلقہئ گرداب میں تشنگی ابھی تک روشن ہے۔ کاسہئ تعبیر توڑنا بھی کوئی عمومی تصویر نہیں۔ نگاہوں کی جھیل میں سُرخاب کا تیرنا اور پھر شام کے جسم پہ سورج کا خون مَلا جانا استعارہ سازی کی ایک ایسی مہم ہے جس میں فی زمانہ سلطان اختر کے مقابلے میں شاید ہی کوئی شاعر نظر آتا ہو۔ لفظ و معانی کی فصیل کا روز و شب گرنا اور خیمہ ادراک کا منہدم ہونا اظہار کے نئے پیرایوں کی واضح ضمانت ہے۔ فُرات کے خشک لب کا خوں چاٹنا اور آبِ رواں میں تشنگی موجود ہونا بھی سلطان اختر کی اس اختراعی صلاحیت کا مظہر ہے جہاں نئی تشبیہیں، انوکھے استعارے اور حیرت انگیز پیکر تراشی کے اوصاف ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
استفہام کے مسائل اور تعبیریں اردو شاعری کے مخصوص موضوعات ہیں۔ سلطان اختر نے شعر کہتے ہوئے اپنی اس تفکر آمیز صلاحیت کو بروے کار لانے میں کامیابی پائی ہے۔ اردو شاعری میں غالب نے استفہام کو اسلوبِ شعر کا ایک ایسا مستقل باب بنا دیا جس کی وجہ سے شعر میں سوال و جواب کی متعدد صورتیں پیدا ہوتی گئیں۔ کبھی خدا سے سوال ہے تو کبھی دنیا سے۔ کبھی ہم زاد سے کوئی مضمون زیرِ بحث ہے تو کبھی کوئی اور سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے۔ کہیں طنز ہے تو کہیں استعجاب، کہیں بے زاری ہے تو کہیں بے بسی۔ سلطان اختر نے استفہام کے عمل میں بڑی تعداد میں شعر کہے۔ سرسری توجیہ کریں تو کہیں کہیں جدیدیت کی مذہب بے زاری کا لہجہ بھی نظر آئے گا مگر سچائی یہ نہیں۔ اسے دنیا اور زندگی کو سمجھنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھنا زیادہ موزوں ہوگا۔ یہاں دل آزاری نہیں بلکہ خود احتسابی کا عمل زیادہ ہے۔ سلطان اختر کے آخری دونوں مجموعوں سے چند دوسرے انداز کے اشعار ملاحظہ ہوں:
ٹھہرتا ہی نہیں اخترؔ کوئی لمحہ مسرّت کا

گزرتی ہی نہیں یہ ساعتِ دل گیر کیسی ہے؟
دل کو قابو میں جو کرتا ہوں تو سر گھومتا ہے

میں بھنور میں ہوں کہ اب مجھ میں بھنور گھومتا ہے
خدایا کس کی سلطانی میں ہم ہیں

کہ خود اپنی نگہہ بانی میں ہم ہیں
اُدھر بھی پاؤں تلے سے زمیں سرکنے لگی

اِدھر بھی سمٹا ہوا آسمان کتنا ہے

کاینات کے مظاہر کو سمجھنے کے لیے غور و فکر کا جو سلسلہ قائم ہوا ہے، اس میں صرف سوال و جواب اور خدائی کے احتساب کا عمل نہیں بلکہ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ سلطان اختر زندگی کے آر پار دیکھنے کے عادی ہیں۔ وہ طویل ادبی اور دنیاوی تجربہ حاصل کرکے اس مقام پر پہنچے ہیں جہاں طنزیہ اسلوب ایک صوفیانہ تفہیم میں بدل کر اظہار کا ایک مختلف پیمانہ اختیار کرتا ہے۔ زندگی کا یہ طَور ایک نیا شعری نگارخانہ تیار کرتا ہے۔ یہ بنا بنایا سانچا نہیں اور نہ ہی روایت کے بطن سے برآمد کوئی ایسا چوکھٹا ہے جس میں زندگی کے حقائق کا احتساب آسان ہو۔ چند اشعار اس سلسلے سے ملاحظہ ہوں:
اخترؔ نگار خانہ دل دیدنی ہے اب

دیواریں توڑ دی گئیں، دَر لے گیا کوئی
سب کا سب دامِ تمنّاہے، سب آنکھوں کا فریب

عکسِ اِمروز، نہ آئینہ فردا کچھ ہے
آخر لبوں تک آ ہی گیا حرفِ مُدّعا

اب کے مِری اَنا مِرے چکّر میں آگئی
اخترؔ یہ کاروبارِ جہاں بھی عجیب ہے

دنیا سِمٹ کے دستِ تَونگر میں آگئی
گھِسی پِٹی ہوئی باتیں، پھَٹے پُرانے خیال

جہاں پڑی تھی یہ دنیا، وہیں پڑی ہوئی ہے
قدم بڑھانا ہے ممکن، نہ لَوٹنا آسان

عجیب موڑ پہ خلقِ خدا رُکی ہوئی ہے
کبھی تو ایسی ساعت آئے گی میرے مُقدّر میں

میں تجھ کو دیکھتا رہ جاؤں، مجھ کو توٗ نہیں دیکھے
نئی تزئین کی خاطر چمن میں

قلم کر دی گئیں شاخیں پُرانی
اُڑتی ہے چشمِ شوق میں محرومیوں کی خاک

دیوارِ دل پہ بکھرے ہیں خاشاکِ آرزو
پھر میری تشنگی پہ بُرا وقت آ پڑا

آواز دے رہے ہیں سمندر نئے نئے
طلسمِ آب و گِل سے بچ نکلنا کارِ مشکل ہے

مگر ہم سعیِ پیہم کو مسلسل آب دیتے ہیں

سلطان اختر کے آخری مجموعے تک پہنچتے ہوئے ان کی شاعرانہ مشق نصف صدی کا قصّہ ہوجاتی ہے۔ آخری مجموعے میں مقدار کے اعتبار سے سب سے زیادہ کلام شامل ہے۔ صرف چند غزلیں ہیں جن میں پانچ چھے شعر موجود ہوں۔ قدرتِ کلام نے انھیں شعر موزوں کرنے کے ہنر میں یکتا بنایا مگر ان کے اولین شعری مجموعے یا ۵۸-۰۸۹۱ء سے پہلے کے کلام کا موازنہ کیا جائے تو بعض حقایق واضح ہوجاتے ہیں۔ ابتدائی مجموعے میں منتخب اشعار کی شمولیت سے ہر صفحہ گہر ہاے آب دار سے منور معلوم ہوتا ہے۔ نوے غزلوں میں شاید ہی کسی غزل کو صد فی صد بے اعتبار یا کمزور کڑی مانا جائے۔ ہر غزل میں تین، چار اور پانچ اشعار ایسے ہیں جنھیں آپ اس عہد کی نمایندہ شاعری کے طور پر بلاجھجک پیش کرسکتے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ۰۶۹۱ء سے ۵۸-۰۸۹۱ء کے دوران کے مشہور ادبی رسائل کے صفحات پر یہ غزلیں اہتمام کے ساتھ شایع ہوئیں۔ قارئین اور نقادوں کی بے پناہ داد و تحسین حاصل کرکے اعتبار پانے میں بھی کامیاب ہوئیں۔بعد میں یہی غزلیں سلطان اختر کی شہرت کا حقیقی سرمایہ ثابت ہوئیں۔
’غزلستان‘ اور ’برگِ خوش رنگ‘ مجموعوں میں ’انتساب‘ کے مقابلے اشعار کی تعداد ہر اعتبار سے دوگنی ہے مگر یہ بات ادبی معیار کے سلسلے سے نہیں کہی جاسکتی۔ ایسا نہیں کہ ان دونوں شعری مجموعوں میں بہترین ادبی سرمایہ موجود نہیں ہے۔ یہ کہنا بھی صریحاً غلط ہوگا کہ سلطان اختر کی شعر گوئی میں کوئی تھکان یا ٹھہراو کی کیفیت آگئی ہے۔ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ اچھی غزلوں کی تعداد اور بہترین اشعار کی موجودگی کے اعتبار سے ’انتساب‘ اور بعد کے دونوں مجموعے ہم پلّہ ہی ہیں کیوں کہ قدرِ اوّل کے اشعار بعد کے دونوں مجموعوں میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ یہاں برائے بیت اشعار اور مشقِ سخن کا اعتبار پیدا کرنے والی غزلوں کی بھیڑ میں اچھے اشعار کئی بار گم ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جدیدیت کے عہد میں سلطان اختر کا شمار چوں کہ نمایندہ شعرا میں ہوتا تھا، اس لیے انھیں اس عہد کی عمومی تنقیدی بھٹّی میں تپ کر کندن بن کے نکلنا تھا۔ اس وقت کی ادبی گہما گہمی اور بیدار تنقیدی اور فکری ماحول نے سلطان اختر کو اس تنقیدی نقطہئ نظر سے متصف کیا جس سے تخلیقی عمل کے خس و خاشاک الگ ہوتے جاتے ہیں اور فن کی نئی بلندیاں از خود سامنے آجاتی ہیں۔
آج اگرچہ کوئی مابعدجدید تناظر کا مبلغ ہے اور کوئی جدیدیت کے ادبی تقاضوں کے اختتام کا اعلان گزار مگر اس بات میں سچائی معلوم ہوتی ہے کہ رسائل اور ادبی ماحول کی تنقیدی گرفت ڈھیلی ہوئی ہے اور اس ’روادارانہ آزاد خیالی‘ میں ادب سے رطب و یابس کے چھانٹنے کا عمومی عمل غالباً بند ہوتا گیا ہے۔ متن کی تعبیر و تشریح کے کام تک محدود ہونااور ہر تحریر کو مابعدِ جدید نقطہ نظر کا حامل قرار دینے کی مہم میں عمومی ادبی ماحول کا تنقیدی رویہ تقریباً معدوم ہوگیا ہے۔ اس کا نتیجہ ۰۸۹۱ء کے بعد کی نسل تو بھُگت ہی رہی ہے مگر سلطان اختر اور ان کے جیسے وہ شعرا جو ادبی طور پر سُست نہیں پڑے اور اپنی مشقِ سخن میں لمحہ لمحہ آگے بڑھتے رہے؛ ان لوگوں کو اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جس سے ان کا نیا لکھا پڑھا شدید طور پر متاثر ہوا اور معیار کے پُل صراط پر چلتے ہوئے مشق اور ریاضت کی طاقت سے وہ راستہ تو پار کرگئے اور جہنم گزیدہ نہ ہوئے مگر اپنے ہی بنائے معیار سے آگے بڑھنے اور نئے ادبی آفاق روشن کرنے میں کامیابی کے تار کئی بار ان کے ہاتھ سے چھوٹے۔ یہ ان لوگوں کا مسئلہ تھا ہی نہیں جو تھکان میں مبتلا تھے یا اظہار پہ کم قدرت رکھتے تھے۔ سلطان اختر نے شعر گوئی سے علاحدگی کا طَور کبھی نہیں اپنایا یا لگاتار شعر کہنے کے عمل سے بھی گریز کی خوٗ نہیں اختیار کی، اس لیے یہ مسئلہ سر اٹھاتا ہے کہ مشقِ سخن اور قدرتِ کلام کے پَروں سے اُڑنے کے باوجود کیا انتخاب اور احتیاط کے بغیر اپنے معیار کو بلند تر رکھا جاسکتا ہے؟ گذشتہ تین دہائیوں میں سلطان اختر کو ایسی ادبی اور تنقیدی فضا نہیں ملی جس سے وہ اپنی قادرالکلامی اور ریاضتِ فن کو پسِ پُشت ڈال کر صرف اور صرف بہترین اشعار کی عوامی پیش کش کے کام کو انجام تک پہنچاتے مگر ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے ان کے بہترین اشعار بار بار کمزور شعروں میں گڈمڈ ہوگئے ہیں۔(یہ بھی پڑھیں ترقی پسند اردو افسانے – ڈاکٹر پرویز شہریار )

پچھلے تیس برسوں کی سلطان اختر کی شاعری میں تناسب کے اعتبار سے گفتگو کریں تو ترکیبات وضع کرنے کے عمل میں بھی ذرا سُست گامی دکھائی دیتی ہے۔ یہ ترکیب صرف قواعد کی اصطلاح نہیں ہے۔ حقیقتاً یہ خیال کی تجسیم ہے اور پیچ در پیچ زندگی کی پَرتوں کو کھولنے اور پوشیدہ مفاہیم تک پہنچنے کی کلید ہے۔ آخری دو مجموعوں کے صفحات پر زبان کی صفائی تو نظر آتی ہے مگر تراکیب کی مقدار میں کمی اور اس کے نتیجے کے طور پر مفاہیم کی پیچیدہ دنیا کی سیر کی کوششوں میں کئی بار کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ تعداد میں ترکیبات بعد کی شاعری میں کم نہیں مگرتعدادِ اشعار کے تناسب میں کہیں نہ کہیں تخفیف ضرور ہوئی ہے۔ نہ جانے بزرگی کا اہتمام ہے یا عہد کی تنقیدی بصیرت کی بے اعتنائی، مشاعروں یا مجلسی زندگی کا زور ہو یا ادبی ماحول کے بدل جانے کا شاخسانہ مگر یہ بات ضرور ہوئی ہے کہ سلطان اختر کے بعد کے شعری مجموعے یا ان کی ’انتساب‘ کے بعد کی شاعری تنقیدی احتساب کی بھٹّی میں ٹھیک سے تپائی نہیں گئی اور صاف صاف محاسبہ کا انداز بھی روا نہیں رکھا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ ان کے عہد کے یعنی جدید نقادوں نے بھی الگ الگ ادوار کے کارناموں کا تقابلی جائزہ نہیں لیا۔ 1980 کے بعد کے شعرا کا ادبی احتساب اور الگ الگ عہد کی شاعری کا مرحلہ وار جائزہ لیا جانا اور ان کے مقام و مرتبے کا تعین ہونا تو نہ جانے کب ممکن ہوگا، ابھی تو سلطان اختر،مظفر حنفی، قیصر شمیم، علقمہ شبلی جیسے شعرا کے ساتھ ہی پورے طور پر احتساب و تنقید اور ادبی مرتبے کے تعین کا کام باقی ہے۔ ادبی تنقید اور ہمارے ادبی ماحول کے لیے یہ ہرگز مناسب بات نہیں۔(2017)

Safdar Imam Quadri
Department of Urdu,
College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020, Bihar India
Email: safdarimamquadri@gmail.com
Mob: +91 -9430466321

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

سلطان اخترصفدر امام قادری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
سلطان اختر: غزل کے قصر میں شاید ہو آخری آواز ]حصّہ سوم[ – ڈاکٹر صفدر امام قادری
اگلی پوسٹ
اورنگ زیب کالونی میں گندگیوں کا انبار :اسپتال اور نرسنگ ہوم کے سامنے گندگی سے سخت پریشانی

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں