اپنے پہلے شعری مجموعے ”موجِ خیال“ کا انتساب باصر سلطان کاظمی نے اپنے والد ناصر کاظمی کے نام کرتے ہوئے یہ مصرع لکھا ہے: ”تونے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی“۔ یہ بات بھی درست ہے کہ والد کی زندگی ہی میں ان کی شعر گوئی کا آغاز ہوچکا تھا۔ ناصر نے کتنا سکھایا یا باصر نے کتنا سیکھا، اس کا فیصلہ آسان نہیں مگر اتنا اندازہ مشکل نہیں کہ ناصر کاظمی کے اثرات باصر سلطان کاظمی کی شاعری پر دُور تک نظرآتے ہیں۔ خاص طور سے شعر کی فضا بندی میں ان کا ایک عکس ضرور اُبھرتا ہے۔ یہ دھندلا مگر دل پذیر عکس باصر سلطان کاظمی کے ہر دور کی شاعری میں نظر آتا ہے۔ ناصر کاظمی کی شاعری کے یہ اثرات1960ء کے بعد کے پچاسوں شعرا کے یہاں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں کیوں کہ اس عہد کی شاعری اپنے رنگ و آہنگ کے اعتبار سے جن شعرا کی وجہ سے مختلف ہوئی، ان میں سب سے اہم شاید ناصر کاظمی ہی ہیں۔ اس لیے باصر پر اُن کے اثرات نہ ہوتے، تب ہمیں تعجب ہوتا۔
باصر سلطان کاظمی نے اپنے کلیات ”شجر ہونے تک“ میں غزلوں،نظموں کے ساتھ منظوم تراجم اور ڈراموں کو بھی شامل کیا ہے۔ ”موجِ خیال“ (1997)، ”چمن کوئی بھی ہو“ (2009)، ”ہواے طرب“(2015) اور ”چونسٹھ خانے چونسٹھ نظمیں“ (2015) میں محفوظ سرماے کو ایک سلسلے سے پڑھتے ہوئے کئی باتیں ذہن میں آتی ہیں۔ باصر نے اپنے مجموعے میں سب سے پہلا کلام 1968 کا شامل کیا ہے۔ اس اعتبار سے اب اُن کی مشقِ سخن نصف صدی کا قصّہ ہے۔ یہ بھی خوب کہ وقفے وقفے سے شعر گوئی کا سلسلہ جاری رہا۔ اب اگر کوئی شاعر پچاس برسوں سے شعر کہہ رہا ہو اور اس کے چار منتخب مجموعے شایع ہوچکے ہوں، مجموعوں کی متعدد اشاعتیں بھی عمل میں آئی ہوں، دوسری زبان میں اس کے تراجم بھی سامنے آچکے ہوں؛ ایسی صورت میں ہم کیا اُسے صرف اُسی چوکھٹے میں دیکھتے رہیں جو ناصر کاظمی نے تیار کیا تھا یا ہمارایہ بھی کوئی فرض ہے کہ اُسے آزادانہ طور پر غور و فکر کا حصّہ بنائیں اور اس کے ذاتی اکتسابِ شعر کو پہچاننے کی مشقّت کریں۔ یوں بھی اتنی طویل مدت تک کوئی بھی فن کا رکسی دوسرے شاعر کی پرچھائیں میں نہیں بیٹھ سکتا!
اردو شاعری کے ہم عصر منظرنامے پر باصر سلطان کاظمی کا اختصاصِ شعر کیا ہے، اسے سمجھنا قدرے مشکل اس وجہ سے بھی ہے کہ وہ کسی آزمائے ہوئے راستے کے مسافر معلوم نہیں ہوتے۔ ناصر کاظمی کے شعری تجربات و موضوعات کے حوالے سے بھی پرکھنے کی کوشش کی جائے تو باصر سلطان کاظمی کے ادبی سرماے کا ایک بڑا حصّہ ہمارے ہاتھ نہیں آئے گا۔ اردو کی ادبی روایت میں آخر اُنھیں کن کن حوالوں کے ساتھ پہچانا جاسکتا ہے؟ زبان کے اعتبار سے انھیں اُن کے والد کی طرح میرؔ، نظیرؔ اور فراقؔ کے ساتھ ساتھ خود ناصر کاظمی کی روایت سے وابستہ سمجھا جاسکتا ہے مگر نفسِ مضمون کے لیے سوداؔ، مصحفیؔ، آتشؔ، یگانہؔ اور شادؔ عارفی جیسے شعرا کو سامنے رکھنا چاہیے کیوں کہ اُن کے یہاں موجود خود اختیار کردہ ظریفانہ خُو اور ایک سلیقہ مند رُکھڑاپن ایسے اوصافِ شعر ہیں جنھیں اردو غزل کی روایت میں تھوڑا بہت انھی بزرگوں کے طفیل قبول کیا گیا تھا۔ مگر باصرسلطان کاظمی سے پہلے اردو شاعری میں شاید ہی کسی فن کار کو ایسا حوصلہ ملا ہو کہ وہ مذکورہ دو متضاد اور متخالف روایاتِ شعر گوئی کو ایک ساتھ آزماکر ایک نئے انداز کا شعری پیکر وضع کرسکے۔ (یہ بھی پڑھیں سلطان اختر: غزل کے قصر میں شاید ہو آخری آواز [حصّہ اوّل] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
غزل کی روایت کا جبر اتنا مستحکم ہے کہ ہر نئے تجربے اور انداز کے لیے شاعر کو قدم قدم پر مختلف طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر بار روایت پہاڑ کی طرح آکر ہمیں نئے راستوں پر چلنے سے روکتی ہے کیوں کہ اس صنف کی اپنی ایک تنومند دنیاآباد ہے اور شاعر اگر چاہے تو اسی کی سیر کرکے بڑا کارنامہ پیش کرسکتا ہے۔ مگر ہر بڑا شاعرپہاڑ کاٹتے ہوئے اپنے لیے ایک مختلف راستہ بناتا ہے کیوں کہ بنے بنائے راستوں پر چلنے والے عہد ساز تو نہیں ہوسکتے! ہمارے بزرگوں نے غزل کے مزاج کو بار بار بدلا اور اس بدلے ہوئے انداز کو بعد والوں نے غزل کی روایت میں شامل کرکے آیندہ کا سفر طے کیا۔ یہی اس بڑی صنف کی تاریخ اور روایت ہے۔ اسی لیے باصر سلطان کاظمی نے غزل کی نرم، سادہ اور غیر فارسی آمیز زبان میں ہلکا سا طنزیہ اور ظریفانہ لہجہ اظہار کی بے تکلّفی کے ساتھ پیش کرکے جو شعری سرمایہ تیار کیا ہے، وہ بلاشبہ اردو شاعری کا نیا، انوکھا اور قابلِ توجّہ حصّہ ہے۔ یہ مکّھی پر مکّھی بٹھانے والی شاعری نہیں، دوسروں کے بنے بنائے راستوں کی ہم سفری نہیں بلکہ اس شاعری کی ایک ایک سانس اور دھڑکن باصر سلطان کاظمی کی اپنی ہے؛ اس اسلوبِ شعر کی کامیابیاں ناکامیاں بھی شاعر کی بالکل نجی اور ذاتی طور پر خلق کردہ ہیں۔
باصر سلطان کاظمی کے شعری مزاج میں روایتِ غزل سے خود اختیار کردہ مراجعتیں کیوں اساسی حیثیات حاصل کرتی چلی گئیں، اس کی گتھّیاں سلجھانی ضروری ہیں۔ کیا انھیں اس بات کی پروا نہیں تھی کہ ان کی شاعری کے بڑے حصّے پر خطِ تنسیخ کھینچ دی جائے گی اور اسے ’ادب باہر‘یا کم از کم ’غزل باہر‘ قرار دے دیا جائے گا؟ باصر نے سوچ سمجھ کر اپنا اسلوبِ شعر بنایا۔ اسی لیے اس میں ر وایت اور جدّت کے عمومی امتزاج کے بجاے اپنے عہد کے نئے تہذیبی رویوں کو کچھ اس طرح سے شامل کرنے کی کوشش ہوئی جہاں یکسر نئی زبان، نئے انداز اور موضوع کی آمیزش سے ایک ایسی شاعری سامنے آئی جس کے بارے میں یہ کہا جاسکے: ’نہ کہا ہوا، نہ سُنا ہوا‘۔ باصر کے یہاں مختلف رنگِ شعر وضع کرنے میں جو اعتماد نظر آتا ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ انھوں نے اپنے ذاتی تجربوں سے غزل کی وہ نئی زبان تیار کی ہے جہاں نہ کسی کی تقلید ہے اور نہ ہی کسی کی پیروی میں کوشش کی گئی ہے۔ بنی بنائی ڈگر کے مقابلے اپنی کوششوں سے ایک نئی شعری زبان تیار کرنا اور اسے طویل مدّت تک آزما کر پایہئ استناد تک پہنچانا باصر سلطان کاظمی کا واقعتا اہم کارنامہ ہے۔ (یہ بھی پڑھیں دھیمے سُروں کی شاعری (شہریار کی شاعری کا تفصیلی مطالعہ۔ حصّہ اوّل ) – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
باصر گذشتہ تین دہائیوں سے برطانیہ میں مستقل طور پر مقیم ہیں اور درس و تدریس کے فرائضِ منصبی کے ساتھ ساتھ شاعری اور ڈراما نویسی کے میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔ اس سے پہلے کی تین دہائیاں انھوں نے اپنے وطن پاکستان میں گزاریں۔ میرؔ کی طرح ہی باصر کی ادبی ہجرت کو دیکھنا چاہیے۔ اُس دہلوی شاعر نے تقریباً آخری تین دہائیاں لکھنؤ میں گزاریں اور چار دواوین مکمل کیے۔ ادبی اعتبار سے میرؔ کے لیے وہ عہد بہار کا تھا۔ باصر سلطان نے اپنی ادبی زندگی کے سب سے اچھے دَور برطانیہ میں پائے۔ یہیں رہتے ہوئے انھوں نے اپنے ادبی سفر کو ایک منزل تک پہنچایا۔ ان کی کتابیں اسی دوران شایع ہوئیں۔ ان کی شہرتیں اور عظمتیں اسی دور سے وابستہ ہیں۔ نہ صرف پاکستان اور اردو حلقے میں بلکہ برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک میں ادیب اور شاعر کے طور پر اسی دورانیے میں وہ اُبھر کر امتیاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان میں انھیں ناصر کاظمی کی پرچھائیں سے آزادی نہیں مل سکتی تھی، برطانیہ آکر ایک آزاد اور خود مختار شاعرانہ اور ادبی شناخت باصر سلطان کاظمی کے حصّے میں آئی۔ اسی لیے اس تہذیبی آمیزش اور اختلاط کو بھی باصر سلطان کاظمی کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے ملحوظِ نظر رکھنا چاہیے۔
روایتِ شعر سے سنجیدہ بے فکری کا جو انداز باصر سلطان کاظمی کے یہاں نظر آتا ہے، یہ اس لیے بھی ممکن ہوا کیوں کہ وہ اردو کے روایتی معاشرے سے دور ایک ایسے علاقے میں مشقِ سخن میں مبتلا تھے جہاں اردو کی مخصوص ادبی روایت کے ادب آداب اضافی حیثیت رکھتے تھے۔ اسی کے ساتھ باصر کویہ بھی فائدہ حاصل ہوا کہ وہ برطانیہ کے ہم عصر ادبی رویّوں کے مناسب اجزا سے فیض یاب ہوں۔ وہ کثیر لسانی سماج میں مختلف طرح کے ادبی تجربے بھی کررہے تھے، ہم زبانوں کے ساتھ ساتھ غیر زبانوں سے معاملات میں بھی وہ سرگرم تھے۔ دوسروں کو متاثر کرنے کے پہلو بہ پہلو خود بھی متاثر ہونے اور بدلنے کے لیے تیّار تھے۔ اسی لین دین اور آمیزش میں باصر سلطان کاظمی کے ہاتھ ایک نئی زبان اور نیا موضوعِ شعر آگیا جسے انھوں نے وقت کے بدلتے رویّوں کے ساتھ ہم آمیز کرکے مزید تیکھا اور روشن کیا۔ اس میں حسبِ ضرورت روایتِ شعر کو بھی ملایا اور اسی طرح ’ادب باہر‘ کے موضوعات و اسالیب بھی حلول کیے۔ اسی لیے باصر سلطان کاظمی کے اشعار ہمیں کبھی چونکاتے ہیں، کبھی ہنساتے ہیں، کبھی تکلیف دہ احساس سے دوچار کرتے ہیں اور کبھی برانگیختہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھی تو اچھا بھلا رومانی شعر پُرمذاق کیفیت پیدا کردیتا ہے اور کبھی پُرسوز بیان میں کوئی سوچی سمجھی بے دلی اور غیر جذباتی لَے پیوست کرکے ہمارے ذہن کو ڈھچکادے دیا جاتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں وبائی اَموات کے بعد کی دُنیا: نیند کیوں رات بھر نہیں آتی – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
نئی تہذیبی مبارز ت میں باصرسلطان کاظمی کی شاعری کے دو خاص انداز ہمارے سامنے آتے ہیں۔ سادگیِ زبان کی وراثت تو انھوں نے ناصر کاظمی سے حاصل کی تھی مگرسا دگی کے کئی اورمراحل ابھی باقی تھے۔ ناصر اردو کے روایتی معاشرے میں بیٹھ کر سادہ زبان کے جادو کو سمجھ سکتے تھے۔ شاعرانہ کیفیت کی مستحکم روایت سے وہ ہر چند میرؔ جیسے شاعر کی رہنمائی میں گریز کی ایک سادہ سی راہ نکالنے کے لیے کوشاں تھے مگر تاریخ کاجبر اپنے آپ ان لفظوں میں کچھ ایسے سُر ڈال دیتا تھا کہ وہ اسی سائے میں بول چال کی زبان میں شعر کہنے پر قادر ہوئے۔با صرجب برطانیہ پہنچے تو ہما ر ی شعری روایت کی گرد اُن کے پاؤں میں سمٹی ہوئی لازمی طورپروہاں بھی چلی آئی ہوگی مگر نئے معاشرے میں ان کے لیے اسے تمام و کمال آزمانے کی ضرورت یا محتاجی شاید نہیں تھی۔ میر ؔ، نظیرؔاور ناصر کی زبان کو سہل ِممتنع کے دائرے سے نکال کر بول چال، گفتگو اور عام نثری ڈھانچے تک اتنے حوصلے کے ساتھ وہ لے آئے کہ کبھی کبھی یہ خوف پیدا ہونے لگتا ہے کہ یہ اگر شعر یا کلام موزوں ہے تو نثر کیا ہوتی ہے؟ باصر کے ایسے سیکڑوں اشعارایک ذرا سی تلاش سے ان کے مجموعوں میں مل جائیں گے جن پر کچھ اس انداز سے پڑھنے والے اپنے تاثرات پیش کر دیں گے:
الف۔ یہ شاعری شعری کیفیت سے خالی ہے۔
ب۔ موسیقیت سے عاری ہے
ج۔ آہنگِ شعر نثری ہے
د۔ باصر کی شاعری غزل کے مروجہ بیا نیے سے باہرہوگئی ہے۔
اردو میں بیان کے تمام اوصاف شعر کے حوالے سے ہی متعین ہوئے تھے اور نثرکی اکثروبیشتر خصوصیات کی اصول سازی شاعری کی پرچھائیں میں ہوتی تھی۔ داستانوں سے لے کر غیر افسانوی اصناف، یہاں تک کہ تنقید پر بھی موقع بے موقع شاعرانہ آہنگ اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ محمد حسین آزاد، شبلی نعمانی، ابوالکلام آزاد، آل احمد سرور، قرۃالعین حیدر تو محض مشہورمثالیں ہیں، جی لگا کر تلاش کیجیے تو پریم چند سے لے کر عصرِ حاضر تک کے ہر معتبر نثر نگار کے یہاں انشاپردازی کا جو ہر نظر آئے گا جسے کہیں نہ کہیں ہم ایک شعری کیفیت کے حوالے سے پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاعری میں اخترالایمان کے علاوہ باصر سلطان کاظمی شاید تنہا مثال ہوں جن کے یہاں نثری ذائقے کے ساتھ آہنگِ شعر بھی قائم ہوتا ہے۔ اخترالایمان کے لیے یہ کام ذرا ٓسان تھا کہ وہ نظم پر صد فی صد مرکوز تھے اور سلسلہئ خیال کی طاقت میں نثری رویے سے پڑھنے والا بے خبر ہوجاتا تھا۔ ان کی مفرّس اور معرّب زبان سے بھی شاعرانہ کیفیت کا دھوکا قائم رہتا ہے مگر باصر سلطان کاظمی تو یہ سب کچھ غزل کہتے ہوئے کرتے ہیں۔ ایک شاعرکی حیثیت سے اس سے بڑا اور کون سا خطرہ مول لیا جا سکتا ہے کہ پڑھنے والا یہ کہہ دے کہ آپ نے جو تحریر پیش کی ہے، وہ محض نثر ہے اور اسے شعر قرار دینا غزل کی روایت اور اردو ادب کے مزاج سے غفلت کے ماسوا کچھ بھی نہیں۔ شاعرکی حیثیت سے باصر سلطان کاظمی کی شہرت پر اگر کوئی قدغن ہے یا صف ِاوّل کے ہم عصر شعرا میں اگر انھیں پورے طور پر قبول نہیں کیا جاتا ہے تو شاید یہی اندازِ شعر کہیں نہ کہیں رکاوٹ ہوگا۔
میر امن نے نثری زبان کے اوصاف مرتب کرتے ہوئے ’گفتگو‘کا لفظ استعمال کیا ہے۔ محاورات اور روز مرہ کے فیض سے ایک نئی زبان کاخاکہ رکھنے کا انھوں نے نشانہ مرتب کیا تھا۔ محمد حسین آزاد نے میر حسن کے کلام کے لافانی ہونے کی بنیادی وجہ یہ بتائی کہ سو برس بعد والے ایسی زبان اور محاورے میں بولتے ہیں۔ کلاسیکی شعرا جب سہل ِممتنع کی تعریف کرتے تھے تو مصرعوں کی توصیف میں یہ بات بھی بیان کا حصہ ہوتی تھی کہ شعر یا مصر عہ ایسا کہا ہے جس کی نثر ممکن نہیں یعنی جس طرح شعر ہے، وہی نثر بھی ہے۔ باصر سلطان کاظمی تو کچھ اس طرح سے شعربنا لیتے ہیں جسے،اگر پڑھنے والا نثر سمجھ لے تو ایک دوسرا چیلنج یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کی کوئی دوسری نثر بھی نہیں بنائی جا سکتی۔ شعر کو نثر بنا لینااور نثر کے جملوں کو غزل کا شعر بنا دینا ایک نا قابل یقین مہارت اور شعری جسارت ہے جس میں باصر سلطان کاظمی اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ یہاں موسیقی کے روایتی آداب بھی لڑکھڑانے لگتے ہیں مگر شاعر ہے کہ ایک نیا تصورِ شعر پیش کرکے ایسے مستحکم نمونے ہمارے سامنے لے آتا ہے کہ ہم داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ میرؔ،نظیرؔ جیسے شعرا نے اپنی روایت سے یکسر الگ ہو کر اپنے زمانے میں جب شعر بنائے، اس وقت بھی ایسے ہی مسائل پیداہوئے ہوں گے، آج جیساباصر کاظمی کے نئے اندازِ شعر سے پیدا ہو رہے ہیں۔ ذیل کے اشعار ملاحظہ ہوں جہاں شاعر سہل ِ ممتنع سے آگے بڑھ کر سیدھی نثر پیش کرتا ہے مگر ہم مجبور ہیں کہ انھیں شعر سمجھیں اور ان کیفیات پر نثار ہوں۔ شاعرکی حیثیت سے باصر سلطان کاظمی کا یہ عجیب و غریب اجتہاد ہے:
کم لکھا ہے لیکن جتنا لکھا ہے
جیسا لکھنا چاہا ویسا لکھا ہے
جو کان میں رہ گیا سو پتّھر
جو ہاتھ میں آ گیا وہ ہیرا
لڑتے کسی اور بات پر ہیں
غصّہ کسی اور بات کا ہے
بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی
ملے اگر چہ بہ ظاہر بنی بنائی جگہ
تو کچھ اپنا خیال کر باصر
اس نے جاتے ہوئے کہا بھی تھا
جو ہاتھ قلم اٹھاتے تھے
ہیہات وہ بم بناتے ہیں
کسی کو شعلۂ خورشید نے جلا ڈالا
کسی کو سا یۂ اشجار نے ہلاک کیا
اس چمن کو بنانے والے نے
کیا بنایا تھا، بن گیا کیا ہے
تم ہی بدل جاؤ باصر
کیوں بدلیں دنیا کے اصول
جلرہے ہیں مکان دھڑ دھڑ دھڑ
گولیاں چل رہی ہیں تڑ تڑ تڑ
ایک نئے تہذیبی حلقے میں پہنچ کر اپنی مخصوص روایت سے بے ارادہ ہی سہی فن کار کس طرح الگ ہوتا جا رہا ہے، باصر سلطان کاظمی کی شاعری کے ایک نئے حصّے میں یہ بات سامنے آتی ہے جہاں وہ ایک ظریفانہ خُو اختیار کرتے ہیں۔ یہ مضمون، اسلوب، محاورات اور کبھی کبھی لطفِ بیان کے لیے ان کی شاعری میں بکھرا پڑا ہے۔ ہماری شاعری میں سنجیدہ اور ظریفانہ شاعری کے لیے الگ الگ خانے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ ان شعرا نے بھی اس ضابطے سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جن کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ ظرافت نگار ہیں۔ سودا کی ظرافت ان کی ہجویات سے باہر نہیں اور جب قصیدے کا آپ اہتمام دیکھیں تو کبھی یہ یاد بھی نہیں آتا کہ یہ شخص اپنے وقت کا سب سے بڑا ظرافت نگار ہے۔ اکبرا لہٰ آبادی کی سنجیدہ شاعری کا ایک مکمل خانہ ہمارے سامنے ہے اور انھیں ایک خاص غزل گو کی طرح سے سمجھنے کوشش کی جاتی ہے۔ غالب کو حالی نے حیوانِ ظریف کہا مگر دیوانِ غالب میں غالب کے سو رنگ معلوم ہوں گے مگر کا ہے کو ان کی طبیعت کا ظریفانہ آہنگ ابھر کر تواناحیثیت اختیار کرے۔ مشکل سے دو چار غزلیہ اشعار یا قطعات میں ظریفانہ کیفیت نظر آتی ہے۔ ایسے شعرا جنھوں نے ظریفانہ اور غیر ظریفانہ دونوں طرح کی شاعری کی اور ہر دو جگہ مقدار کے اعتبار سے اچھی خاصی چیزیں پیش کیں مگر جب مجموعہ تیار کرنے کا موقع آیا تو انھیں الگ الگ جلدوں میں پیش کرنے میں ہی انھیں عافیت نظر آئی۔ (یہ بھی پڑھیں وبائی اَموات کے بعد کی دُنیا: نیند کیوں رات بھر نہیں آتی – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
ٍٍباصر سلطان کاظمی کے مجموعوں میں غزل کا روایتی سلسلہ چلتے چلتے اچانک کوئی مکمل ظریفانہ شعر اپنے آپ چلا آتا ہے۔ ہر دو چار غزل کے بعد ایسے اشعار الگ سے نظر آتے ہیں۔ کبھی کوئی ایسی ردیف منتخب کر لی جس سے ایک ظریفانہ انداز پیدا ہونے لگتا ہے۔ کبھی شعر میں ایسی منطق ڈالی کہ اپنے آپ پھل جھڑی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ انداز ان کے رومانی اشعار میں بھی قائم رہتا ہے اور اچھے بھلے عاشقانہ لحظوں میں بھی ظریفانہ طور ظاہر ہو جاتا ہے۔ باصر سلطان کاظمی نے اپنے مجموعوں اور کلیات میں کلام کی ترتیب میں خاصا اہتمام کیا ہے۔ غزلیں، نظمیں اور متفرق اشعار کی خانہ بندی کی گئی ہے۔ تاریخوں کا تو یہ حال ہے کہ ایک ایک شعرپراسے درج کیا گیا مگر ایسا شاعر ”بانگ درا“ کی طرح ظریفانہ شاعری کے لیے الگ خانہ نہیں بناتا اور انھیں اپنی فطری جگہ پر ٹھیک اسی طرح رکھتا ہے جس انداز سے ان کا ورود ہوا ہے۔ اپنی روایت سے واضح طور پر گریز کرتے ہوئے اور ظرافت کو اپنی سنجیدہ شاعری میں حل کر کے باصر نے واقعتاً ایک نئے اندازِ پیش کش کو رواج دینے میں کامیابی پائی ہے۔ یہ ادبی شناخت کے لیے بڑا خطرہ تھا اور اپنی پہچان کے ملیامیٹ ہونے یا شعری سر ماے کے غارت ہو جانے تک کے مسئلے پیدا ہوسکتے تھے مگر شاعر نے پورے اعتبار اوراستحکام کے ساتھ ایک ظریفانہ خُوقائم کی اور ایسے ایسے شعر بنائے جن کے سنتے ہی ہم چو نک جاتے ہیں۔ باصر کے چند ایسے اشعار ملاحظہ ہوں:
ہر شخص کی کرتا ہے شکایت جو تو اے شیخ
ایسا نہ ہو پڑ جائے ترا نام شکایت
کہانی قیس کی سننے سے پہلے وہ بولے
مجھے تو لگتا ہے یہ شخص نام سے فارغ
ہم سے باصر کبھی پڑھی نہ گئی
جو ہوئی شاملِ نصاب کتاب
نہیں ہے سہل کوئی جانشینِ قیس ملے
پڑی ہوئی ہے بڑی دیر سے یہ خالی جگہ
ہر بار تم کو اس کا کہا ماننا پڑے
باصر یہ دوستی تو نہیں نوکری ہوئی
مجنوں سے کہو کٹ چکی اک عمر جنوں میں
باقی کسی معقول طریقے سے گزارے
تجھ سے کرنی ہے اک ضروری بات
عام سی بات ہے، خدا سے ڈر
میں یاد کرتا ہوں تجھ کو جو آج کل اتنا
سبب یہ ہے کہ مجھے اور کوئی کام نہیں
ایک خط لکھ کر سمجھنا فرض پورا ہو گیا
واہ باصرجی تمھارا بھی نہیں کوئی جواب
اس نثری رویے اور ظریفانہ خُو کو اپنی شاعری میں اختیار کرنے میں باصر سلطان کاظمی نے جو کامیابی پائی،اس کا واضح سبب مہاجرت اور نئی بستی میں فروکشی کو سمجھنا چاہیے۔سوال اپنے آپ قائم ہو تا ہے کہ یہ مہجریت نئی نہیں تھی اور یہ سچ ہے کہ باصر سے پہلے بھی بہت سارے فن کاروں نے نئی آبادیوں میں بس کر فکر و فن کے گیسو سنوارے ہیں۔مگر باصر پر ہی یہ کیفیت کیوں کر طاری ہوئی کہ وہ اردو کی شعری روایت کی درج بالا توسیع میں کامیاب ہو گئے۔یہاں باصر کے اکتسابِ علمی کی طرف ہمارا ذہن جاتا ہے۔باصر اردو زبان کے باضابطہ طالبِ علم نہیں رہے۔انھوں نے انگریزی شعر و ادب کو مضمون کی حیثیت سے پڑھاہے۔انگریزی کی تعلیم بھی انھوں نے پاکستان کے اردو انگریزی دانوں تک ہی محدود نہیں رکھی بلکہ مغرب کے چراغوں سے براہِ راست فیضان حاصل کر کے انھوں نے اپنی لیاقت بڑھائی۔اردو کی روایت شعر سے گریز کرنے میں انھیں آسانیاں اس طرح سے حاصل ہو گئیں کہ وہ کلاسیکی انداز میں ارد وکے ہر اصول پر آمنّا و صدّقنا کہنے کو ضروری نہیں سمجھ سکتے تھے۔پھر انگریزی زبان اور مغرب کے رواجِ شعر بھی ان کے لیے نہ اجنبی تھے اور نہ ہی انھیں آزمانے میں کوئی عار محسوس ہو سکتی تھی۔ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی رہی ہو گی کہ اردو کی کلاسیکیت سے گریز کر کے مغرب کے نئے اور مختلف رویوں سے اثر لینا ان کے لیے زیادہ موزوں، مناسب اورعین فطری تھا۔انگریزی یا پورے یوروپی معاشرے میں شاعری کے لیے نام نہاد موسیقیت کو لازم شے کی طرح سے کون مانتا ہے؟قافیے کے ساتھ ردیفوں نے ہماری شاعری میں موسیقیت کے ٹھوس اوزار شامل کیے تھے۔مقبولِ عام بحروں کی شناخت کرنے کابھی رواج رہا ہے۔آزاد نظموں نے آہنگ کی سطح پر بہت سنجیدگی سے موسیقیت کو قائم رکھا۔نثری نظموں کے لیے متعدد اصطلاحیں گڑھی گئیں اور انھیں اب تک دل سے قبول کرنے کاکوئی خوش دلانہ منظرنامہ نظر نہیں آتا۔اس لیے ہمارے معاشرے میں رہتے ہوئے کس شاعر کی یہ مجال کہ وہ نثرکی دھُنیں لے کر شعر میں انھیں پیوست کر کے غزل بنالے۔
باصر سلطان کاظمی کو یہ آسانی اس وجہ سے میسر آئی کہ وہ اردو کے روایتی معاشرے سے ذرا دور رہے اور انھوں نے جہاں بود و باش اختیار کر رکھی تھی،اس میں موسیقیت کے اضافی زیوروں کی محتاجی نہیں تھی۔ان کی ذہنی تربیت بھی پاکستان سے لے کر برطانیہ تک کچھ اس طرح ہوتی چلی گئی جس میں روایت سے گریز کا کوئی خاص خوف نہیں تھااور نئی معاشرت یا نئے شعری رویوں کی طرف زیادہ فطری اندازمیں اور ہموار طریقے سے انھیں جا نے میں کوئی دشواری نہیں ہوسکتی تھی۔اسی لیے اس بات کے امکانات پیدا ہوئے کہ وہ اردو کے بہت سارے روایتی اور کلاسیکی لوازم سے نکل کر نئے طلسماتِ شعر کی تلاش میں سرگرداں ہوں اور خاص طور سے شعر میں نثر کے امکانات یا غزلوں میں ایک ظریفانہ کیفیت کی شمولیت کو آزما کر واقعتا ہمارے شعری سرمائے میں کچھ نئے اور انوکھے اضافوں کی گنجائشیں پیدا کرسکیں۔انھوں نے اگر ایک مضمون کی حیثیت سے اردو کا مطالعہ کیا ہوتا یا پاکستان یا ہندستان کے اردو معاشرے میں ڈھل گئے ہوتے تو ان کا ایسا ذہن کبھی مرتب نہیں ہو سکتا تھا۔ اس پورے تناظر کو سمجھے بغیر باصر کے ایجاد پسند مزاج کو پہچاننا تقریباً نا ممکن ہے اور اس سے بھی مشکل وہ مرحلہ ہے جب اس انداز کے شعروں کی قدر شناسی میں ہم ان کے کمال یا جادو کو پرانے ادبی رویوں کی رہنمائی میں ہر گزہرگز نہیں سمجھ سکتے۔
Dr. Safdar Imam Quadri
Department of Urdu,
College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020, Bihar India
Email: safdarimamquadri@gmail.com
Mob: +91 -9430466321
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

