Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

اردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات – ساجد حمید

by adbimiras جون 30, 2021
by adbimiras جون 30, 2021 0 comment

قرون اولیٰ سے لے کر آج تک ادب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ابلاغ کے بے شمار ذرائع نظر آتے ہیں جو ادب میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ کبھی یہ پتھروں پر تحریر ہوا، تو کبھی مجسموں کی شکل میں ظاہر ہوا، کبھی اس نے نقاشی اور مصوری کو اپنی تشہیر کا ذریعہ بنایا تو کبھی پرفارمنگ آرٹ کے ذریعہ اس کی پذیرائی ہوئی۔ قرون اولیٰ سے لے کر آج تک ادب کے فروغ کے لیے میڈیا اپنا اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں اردو ادب کی ابتداء چودھویں صدی عیسوی میں” امیر خسرو ” اور صوفی بزرگ ” خواجہ گیسو دراز ” سے ہوئی، جنہوں نے اردو ادب کو فارسی آمیزش کے ساتھ متعارف کرایا۔ اردو دکن سے ہوتی ہوئی ولی دکنی کے ذریعہ دہلی کے ادبی حلقوں میں روشناس ہوئی۔ دہلی کے شعراء اور ادباء اس نئی زبان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسے تحریر کا ذریعہ بناتے ہوئے” ریختہ ” کا نام دیا۔ ادب کے ابلاغ میں نمایاں اضافہ اٹھارویں صدی کے شروع میں ہوا جب خواجہ میر درد، میر تقی میر، خواجہ حیدر علی آتش اور محمد رفیع سودا جیسی ادبی ہستیوں کا کلام منظرعام پر آیا۔

انیسویں صدی میں میر ببر علی انیس اور دبیر نے اردو ادب میں مرثیہ کو رواج دیا۔ اسی صدی میں اردو ادب کے ابلاغ میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہوا جب اکثر ادیبوں اور شاعروں کی تصانیف کو فورٹ ولیم کالج کلکتہ نے شائع کیا۔ جبکہ اردو جرائد اور اخبارات نے محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالی، علامہ اقبال، فیض احمد فیض، اختر شیرانی، بلونت سنگھ، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، قرۃ العین حیدر، ابراہیم جلیس، احمد ندیم قاسمی اور انتظار حسین کی تخلیقات شائع کر کے ادب کو حقیقت پسندی کا رنگ دیا اور ان کی تخلیقات کو عوام الناس تک پہنچا کر عام لوگوں کو بھی ادب سے روشناس کرایا، مگر بعد میں ہونے والی ایجادوں نے تو گویا سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ یعنی فلم، ٹیپ ریکارڈر، ٹیلی ویژن، وی سی آر، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سی ڈیز اور ای میل نے تو ادبی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ اسی طرح بیسویں صدی میں ادب کو پروان چڑھانے میں” ٹی ہاؤس ” اور ” کافی ہاؤس ” کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ مگر پھر کافی ہاؤس کلچر کافی حد تک کم ہو گیا اور اس کی جگہ انٹرنیٹ کیفے نے لے لی۔ (یہ بھی پڑھیں ٹیکنالوجی کی مدد سے اردو ادب کی تدریس – ساجد حمید )

انٹرنیٹ کیفے کے بعد ہم ایک قدم اور آگے بڑھا کر ابلاغ کے جدید دور میں داخل ہو گئے ہیں جسے عرف عام میں ” انفارمیشن ٹیکنالوجی ” کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے ادب کے لیے جو گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ آج ادیبوں کو باہم مل بیٹھنے کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر طے کرنے کی ضرورت نہیں، نہ ہی ڈاک کے ذریعے خطوط اور مراسلے روانہ کرنے کی حاجت اور نہ ہی جرائد اور کتب کی عدم دستیابی کا مسئلہ باقی رہا ہے۔ آج آپ چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، ایک ہی وقت میں لاکھوں لوگوں کے ساتھ اپنی تخلیقات کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور ان کے تجزیے اور تبصروں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ ادبی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا ہے، لیکن وہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ادبی تخلیقات نہیں لکھ پاتے ہیں اور اگر لکھ بھی لیں تو انھیں اس کی طباعت کے لیے مالی دشواریوں اور وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس طرح ان کی صلاحیتیں ان کے ساتھ ہی قبر میں چلی جاتی ہیں، لیکن دور حاضر میں ایسے لوگوں کے لیے ایک خوبصورت موقع سوشل میڈیا کی صورت میں واقع ہوا ہے۔ جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی تخلیقات با آسانی سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتے ہیں اور ایک دنیا ان کی علمی کاوش اور صالح خیالات سے مستفید ہو جاتی ہے۔

ہمارے اطراف میں کئی ایسے نامور لکھنے والے موجود ہیں جنھوں نے پہلے پہل سوشل میڈیا کو ہی اپنا میدان بنایا اور ان کی صلاحیتوں سے دنیا واقف ہوئی۔ آج ان کا شمار نامور لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ بقول اقبال:

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود

کہ سنگ و خِشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

اسی طرح وہ حضرات جو متلاشی علم ہیں اور جنھیں پہلے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے کتب خانوں کا چکر لگانا پڑتا تھا اور بسا اوقات بہت سی مطلوبہ کتابوں سے محرومی ہوا کرتی تھی، اب ایسے لوگ سوشل میڈیا کے وساطت سے ملک و عالم کے بڑے بڑے کتب خانوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں اور بروقت من پسند کتابوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو علمی افادہ و استفادہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ باطل خیالات و تصورات جن کو ملک و معاشرے کے شرپسند عناصر پھیلا کر عدم رواداری کا ماحول بناتے ہیں، ان کا تعاقب و دفاع بھی سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو زبان و ادب پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات – ساجد حمید )

سوشل میڈیا ہماری زندگی میں جس تیزی سے داخل ہوا ہے، اس میں سب سے پہلے فیس بک کا نام آتا ہے۔ فیس بک کے ذریعے رابطہ کرنا، اپنے خیالات اور پیغامات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا، نت نئے دوست بنانا، گپ شپ کرنا کسی بھی خطے میں موجود کسی بھی شخص سے اب انتہائی آسان ہو چکا ہے۔ اس کےعلاوہ فیس بک کو بزنس اور ایڈورٹائزمنٹ ٹول کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اب آپ بستر میں لیٹے ہی دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی بات چیت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ سچائی تو یہ ہے کہ فیس بک آج کے دور میں سماجی اور کاروباری روابط کا عالمگیر ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ دنیا پر پرنٹ میڈیا کا راج تھا، پھر الیکٹرونک میڈیا کا دور آگیا اور اس وقت ہم سوشل میڈیا کے دور میں داخل ہوگئے ہیں۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو وقت کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتی ہیں۔ بقول اقبال:

وہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہے

جو ہر نفَس سے کرے عُمرِ جاوداں پیدا

ہمارے ملک کی % 85 آبادی نوجوانوں کی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ خواب دیکھتا ہے اور ان خوابوں کو پورا کرنے کی سعی بھی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا ان نوجوانوں کو خواب دکھانے سے لے کر انہیں سنوارنے، نکھارنے اور ان کے خوابوں کو تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمارے ملک کے ان دور دراز علاقوں میں جہاں آمد و رفت کے ذرائع مسدود ہونے کے سبب اخبار، میگزین اور رسالے نہیں پہنچ پاتے ہیں، میڈیا وہاں ان کی تشنگی دور کرنے کے لیے انھیں آن لائن اخبارات اور رسائل کا مطالعہ کرا رہا ہے اور دنیا کے حالات سے باخبر رکھ رہا ہے۔ اس وقت نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد سوشل میڈیا کی طاقت کو استعمال کرکے ظلم، برائی اور نا انصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔

قصور میں پیش آنے والا زینب کیس جس میں بالآخر مجرم کو پھانسی دے دی گئی، محض سوشل میڈیا کی طاقت کے ذریعے ہی یہ ممکن ہوسکا۔ ایسے اور کئی واقعات ہیں جو سوشل میڈیا کی وجہ سے منظرعام پر آئے۔ وہ خبریں جن پرکبھی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی اجارہ داری ہوتی تھی اور وہ معاملات جن پر بند کمروں میں بیٹھ کر مک مکا کر لیا جاتا تھا، اب انہیں چھپانا ممکن نہیں رہا۔ اس صورتحال کو معروف کالم نگار ” جناب اوریا مقبول جان ” نے اپنے ایک کالم میں بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں:

” کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا نوجوان آپ کی کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائی گئی میڈیا ایمپائرز کا مقابلہ کر رہا ہے، بلکہ اب تو جیت اس کا مقدر ہونے لگی ہے۔ اس سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ جن کو ہے ان کے منھ سے روز جھاگ نکلتی ہے اور وہ غصے سے کھولتے پھر رہے ہیں، وہ جنہیں اس بات کا زعم تھا کہ ہم ہواؤں کا رخ بدل سکتے ہیں ان کے ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں تک پرنٹ میڈیا کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے والوں کی حالت دیکھنے والی ہے اور اب کنٹرول ہر اس شخص کے پاس ہے جو چھوٹے سے کمرے میں بوسیدہ کمپیوٹر پر بیٹھا ہے اور جو بساط الٹ سکتا ہے اور اس نے بساط الٹ کر رکھ دی ہے۔ “ (یہ بھی پڑھیں جدید ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کے دور میں اردو زبان و ادب کی تدریس – ساجد حمید )

محترم اوریا مقبول جان کے ان الفاظ سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کی کیا اہمیت ہے۔ میری چھٹی حس مجھے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ بہت جلد وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ جب بچوں کو اسکولوں میں پڑھایا جائے گا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کیسے کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا سے ہم وہ سب کچھ سیکھ سکتے ہیں جو حکیم لقمان جیسے عظیم دانشور نے لوگوں سے سیکھا تھا۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ ” آپ نے ادب کہاں سے سیکھا؟ ” حکیم لقمان نے جواب دیا: ” میں نے ادب بےادبوں سے سیکھا ہے، ان کا جو فعل مجھے برا محسوس ہوا میں نے اس کے کرنے سے پرہیز کیا ہے۔ ” ہم دن بھر کتنی چیزیں اور رویے ایسے دیکھتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں ہوتے یا برے لگتے ہیں، بس تو پھر سوشل میڈیا پر بھی ان سب سے بچنا لازم ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ جلد از جلد یہ طے کر لیا جائے کہ سوشل میڈیا سے متعلق معلومات کو تعلیمی نصاب کا حصہ ہونا چاہیے تا کہ بچوں کو علم ہو کہ سوشل میڈیا سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے اور نقصانات سے کس طرح محفوظ رہا جائے۔

آئندہ دنوں میں سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہو گا جسے ہم سب کو بہت سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ کیونکہ جس طرح گزشتہ سالوں میں ” سیلفی ” جیسا نیا لفظ سامنے آیا ہے، اس طرح آئندہ چند سالوں میں کئی نئے الفاظ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی داخل ہوں گے اور آپ ان نئے الفاظ کا سوشل میڈیا پر جیسا استعمال کریں گے، اردو کے ارتقائی عمل کی سمت ویسی ہی متعین ہوگی۔ اس لیے مستقبل قریب میں سوشل میڈیا پر اردو ادب بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ رابطے کا ٹول ہے۔ (یہ بھی پڑھیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں اردو زبان و ادب کی ترقی‎ – ساجد حمید )

اردو ادب کے مستقبل کے حوالے سے جو خدشات ہیں، وہ جلد ہی چھٹ جائیں گے۔ کیونکہ اب اس کی بقا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم جس طرح اردو ادب کو استعمال کریں گے، اس کی راہ ویسے ہی متعین ہوگی۔ ادب میں سوشل میڈیا نے نہ صرف ذہنی بلکہ مالی و معاشی اعتبار سے بھی بڑے مثبت اثرات منتقل کیے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر ہینڈ سم پیسے صحافیوں کو معاشی و ذہنی طور پر پرسکون رکھتے ہیں۔ معمولی تنخواہوں پر ملازمین کو رکھنے کے بعد ان سے ” مولوی عبد الحق ” بننے کی توقع رکھنا بیکار ہے۔ پرنٹ میڈیا میں ادب سنسر کی پابندی کے باعث اذیت کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہر اخبار کی ایک لگی لپٹی پالیسی ہوتی ہے جسے کوئی ادھر سے ادھر نہیں کر سکتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر صحافی ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ” کے مصداق بلاخوف و خطر بولتا ہے۔ وہ اپنی آواز بعینہ اسی طرح پہنچاتا ہے جیسا کہ وہ پہنچانا چاہتا ہے۔

سوشل میڈیا نے ایک عام آدمی کو طاقت دی ہے کہ وہ اپنا پیغام دور دور تک پہنچا سکے۔

ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہونے کے باوجود آج ملک کے ہر اس شخص کو جس کے پاس اسمارٹ فون ہے اور جو اردو کا ایک لفظ بھی نہیں لکھ پاتے تھے، وہ آج سوشل میڈیا کی مہربانی سے رومن اور اردو رسم الخط میں لکھنا اور پڑھنا جانتے ہیں۔ جو لوگ اردو شاعری پڑھنے سے بھاگتے تھے وہ اب بڑے بڑے شعراء کا کلام سننے کے لیے بیتاب رہتے ہیں۔ نوجوان نسل نے سوشل میڈیا پر ویب سائٹس کے ذریعے اردو ادب پڑھنا شروع کیا۔ پروین شاکر، احمد فراز، حبیب جالب اور دیگر ادباء و شعراء کے کلام کا وہ ذخیرہ جو وہ شاید کتاب اٹھا کر کبھی نہ پڑھ پاتے، سوشل میڈیا نے ہماری نسل کو جو شعور عطا کیا، بقول پروین شاکر:

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

ہماری جنریشن ڈیجیٹل عہد سے مانوس ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا کے توسط سے وہ اب اپنی حفاظت کے لیے فکرمند ہے۔ آگاہی کا یہ در سوشل میڈیا نے ہی کھولا ہے۔ وہ زمانے گئے جب بی بی سی جیسے ادارے براڈ کاسٹر ہوا کرتے تھے، اب سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص براڈ کاسٹر ہے۔ خود بی بی سی اب ریڈیو، ٹی وی اور ویب سائٹس کے بعد سوشل میڈیا کو اپنا چوتھا میدان سمجھتا ہے اور اس میدان کے لیے اس نے حکمت عملی تیار کی ہوئی ہے۔

ادب میں سوشل میڈیا کے مثبت یا منفی کردار کے لیے دراصل ہمیں اپنی طرز فکر میں تبدیلی لانا پڑے گی۔ دنیا کی کوئی چیز کم تر یا افضل نہیں ہوتی ہے، بس اس کے برتنے کا انداز و طریقہ ہوتا ہے جو مثبت یا منفی اثرات منتقل کرتا ہے۔ ہمیں وقت کے ساتھ اب تبدیل ہونا ہوگا اور سوشل میڈیا پہ ادب کی ترویج و ترقی کے لیے کوششیں کرنی ہوں گی۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اپنے نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

اک تم کہ جم گئے ہو جمادات کی طرح

اک وہ کہ گویا تیر کماں سے نکل گیا

 

ساجد حمید

ایم فل اردو

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

ساجد حمید
0 comment
2
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
غزل – گل افشاں ناز
اگلی پوسٹ
وزن 2026 کا واٹر پروجیکٹ بچا رہا ہے سیکڑوں زندگیاں 3000 سے زائد پروجیکٹ ہوئے مکمل

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (601)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (144)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,053)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (538)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (206)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,139)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (900)
    • خصوصی مضامین (127)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (229)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں