ملک کے مختلف حصوں سے خبریں مل رہی ہیں کہ کورونا سے تحفظ کے پیش نظر انتظامیہ نے عید گاہوں اور مسجدوں میں نماز عید الاضحٰی کے معاملے میں سختی برتنے کا منصوبہ بنایا ہے اور ان مقامات پر محدود تعداد میں اجازت دینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے _ اس صورت حال میں بہت سے احباب کا تقاضا ہے کہ میں مختصر الفاظ میں نماز عید الاضحٰی کا طریقہ بتادوں ، ساتھ ہی مختصر خطبۂ عید الاضحیٰ بھی لکھ دوں ، تاکہ جو لوگ مجبوراً اپنے گھروں میں نماز ادا کریں وہ ان سے فائدہ اٹھاسکیں _ ان احباب کی خواہش کی تعمیل کرتے ہوئے میں ذیل میں نمازِ عید الاضحٰی کا طریقہ اور مختصر خطبۂ عید الاضحیٰ درج کررہا ہوں _ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حالات جلد از جلد معمول پر آئیں اور ہمیں پوری شان سے مسجدوں اور عید گاہوں کو آباد کرنے کا موقع ملے ، آمین _
نمازِ عید کے بارے میں چند اہم باتیں :
* عید کی نماز کے لیے خطبہ مسنون ہے ، البتہ شرط نہیں ہے _ اگر خطبہ پڑھنے والا کوئی شخص نہ ہو تو صرف نماز پڑھ لینا کافی ہے _
* عید کی نماز کے لیے جماعت کا ہونا شرط ہے _ انفرادی طور پر اس کی ادائیگی درست نہیں _کوئی شخص تنہا ہو تو دو یا چار رکعت نفل پڑھ لے _
* نمازِ عید کی جماعت کے لیے امام کے علاوہ ایک مرد کا ہونا کافی ہے ۔
* عید کی نماز کے لیے اذان اور اقامت نہیں ہے _
* نماز عید کی زائد تکبیرات کے معاملے میں احناف اور اہل حدیث حضرات کے درمیان اختلاف ہے _ احناف کے نزدیک چھ (6) زائد تکبیرات ہیں : پہلی رکعت میں تین (3)زائد تکبیرات قرأت سے قبل اور دوسری رکعت میں تین (3) زائد تکبیرات قرأت کے بعد رکوع سے قبل کہی جائیں گی _ اہل حدیث حضرات کے نزدیک بارہ (12) زائد تکبیرات ہیں : پہلی رکعت میں سات (7) زائد تکبیرات اور دوسری رکعت میں پانچ (5) زائد تکبیرات _ دونوں رکعتوں میں یہ زائد تکبیرات قرأت شروع کرنے سے قبل کہی جائیں گی _
* زائد تکبیرات کہنے کے معاملے میں امام کی پیروی کی جائے گی _
نمازِ عید الاضحٰی کا طریقہ
(حنفی مسلک کے مطابق)
نمازِ عید کا آغاز تکبیر(اللہ اکبر) کہہ کر کیا جائے _ نیت باندھ کر ثنا پڑھی جائے _ اس کے بعد تین زائد تکبیریں کہی جائیں _ دو تکبیروں میں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دیے جائیں _ تیسری تکبیر ہاتھ اٹھاکر کہی جائے ، پھر نیت باندھ لی جائے _ اس کے بعد امام بلند آواز میں قرأت کرے _ قرأت مکمل ہونے کے بعد معروف طریقے سے رکوع اور سجدہ کرے ۔
دوسری رکعت کے شروع میں امام بلند آواز میں قرأت کرے _ اس کے بعد تین زائد تکبیریں کہے _ تینوں تکبیروں میں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دے _ پھر چوتھی تکبیر ہاتھ اٹھائے بغیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے _ باقی نماز معروف طریقے پر ادا کرے _
نماز مکمل ہونے کے بعد امام دو خطبے دے _ دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھے _
خطبے درج ذیل ہیں :
خطبۂ عید الاضحیٰ
پہلا خطبہ:
اَللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ _
وَنَشْهَدُ أَنْ لَّآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ وَنَشْهَدُ أَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ _
أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ _
أَمَّا بَعْدُ! فَاعْلَمُوْا أَنَّ یَوْمَکُمْ هٰذَا یَوْمُ عِیْدٍ شُرِعَ لَکُمْ فِیْهِ ذَبْحُ الْاُضْحِیَّةِ بِالْإِخْلَاصِ وَصِدْقِ النِّیَّةِ، فَقَدْ قَالَ الله تعالى في القرآن المجيد، أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ :
لَنْ یَّنَالَ اللهَ لُحُوْ مُهَا وَلاَ دِمَآوُ هَا وَلٰکِنْ یَّنَالُهُ التَّقْویٰ مِنْکُمْ کَذٰلِکَ سَخَّرَهَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللهَ عَلٰی مَاهَدٰکُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ _
اَللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْوَلِلّٰهِ الْحَمْدُ _
وَ قَالَ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ یَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَی اللهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ _
وَ قَالَ عَلَیْهِ الصَّلاةُ وَالسَّلاَمُ: مَنْ وَّجَدَ سَعَةً لِأَنْ یُّضَحِّيَ فَلَمْ یُضَحِّ فَلاَ یَحْضُرْ مُصَلَّانَا _
اَللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْوَلِلّٰهِ الْحَمْدُ _
بَارَکَ اللهُ لَنَا وَلَکُمْ فِي الْقُرْآنِ الْعَظِیْمِ وَ نَفَعَنَا وَإِیَّاکُمْ بِالْآیَاتِ وَالذِّکْرِ الْحَکِیْمِ _ أَسْتَغْفِرُ اللهَ لِيْ وَلَکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ فَاسْتَغْفِرُوْهُ إِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمْ _
دوسرا خطبہ:
اَللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ، اَللهُ أَکْبَرْوَلِلّٰهِ الْحَمْدُ _
الْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهٗ وَنَسْتَعِیْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ وَنُؤْمِنُ بِهٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ ، وَ نَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لاَ شَرِیْکَ لَهٗ وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ _
أَمَّا بَعْدُ! فَقَدْ قَالَ الله تعالى في القرآن المجيد ، أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم : اِنَّ اللهَ وَمَلٰئِکَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ ، یَآ اَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا _
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ أَجْمَعِیْنَ _
اَللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرْ اَللهُ أَکْبَرْوَلِلّٰهِ الْحَمْدُ _
عِبَادَاللهِ ! رَحِمَکُمُ اللهُ _
اِنَّ اللهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ _
اُذْکُرُوا اللهَ یَذْکُرْکُمْ وَادْعُوْهُ یَسْتَجِبْ لَکُمْ ، وَلَذِکْرُ اللهِ تَعَالیٰ أَعْلٰی وَأَوْلٰی وَأَعَزُّ وَأَجَلُّ وَأَتَمُّ وَأَهَمُّ وَأَکْبَرُ _
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
سکریٹری شریعہ کونسل جماعت اسلامی ہند


1 comment
[…] اسلامیات […]