Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تحقیق و تنقید

تانیثیت کے بنیادی مقدمات – پروفیسر ابو الکلام قاسمی

by adbimiras جولائی 22, 2021
by adbimiras جولائی 22, 2021 1 comment

تانیثیت، نسائیت اور آزادیِ نسواں، جیسی مماثل اصطلاحوں سے متعلق اردو میں اطلاقی نوعیت کی تحریریں گذشتہ دو دہائیوں میں بڑی تعداد میں جمع ہوچکی ہیں۔ لیکن چونکہ نظری طورپر ان اصطلاحوں کی جزوی تفریق پر بہت کم لکھا گیاہے اس لیے ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہم نے بالعموم ان تمام اصطلاحوں کو مترادفات کی حیثیت سے ادبی مباحث کا حصہ بنالیاہے۔ اس لیے Feminism یا تانیثیت کے بنیادی تصو ّرات کو نسائیت یا آزادیِ نسواں سے الگ کرکے دیکھنے کی ہنوز ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ نسائیت کو ہم زیادہ سے زیادہ زنانہ پن کا ہم معنی قرار دے سکتے ہیں، جس کی تلاش کو تانیثیت پسند مصنفین پوری طرح مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نسائیت اور زنانہ پن کو جس طرح مردانہ پن سے الگ کرکے دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کا محرک مرد اساس معاشرے کے وہ مفروضات یا مسلمات ہیں جو مردوں کے بنائے ہوئے ہیں اور ان ہی بنیادوں پر عورتوں کے لیے نازک دلی، رقیق القلبی، شرم و حیا یا ضد اور ہٹ دھرمی کی صفات کو اس طرح مخصوص کردیا گیاہے کہ ان صفات کے وسیلے سے بہ ظاہر ترحمانہ نصف بہتر کا تصو ّر اُبھرتا ہے، مگر اصل میں ان کے پیچھے عورت کے کمزور، کم عقل اور قابلِ رحم ہونے کے مضمرات شامل ہوتے ہیں۔ جہاںتک آزادیٔ نسواں کا سوال ہے تو یہ انیسویںصدی اور بیسویںصدی کے نصف اوّل کا وہ وقت طلب ، بول اور رومانی اندازفکر تھا جس کے زیرِاثر مجبور اور زیردست عورت کو ہرطرح کی فکری اور عملی آزادی کا سبق پڑھایا گیاتھا۔ تانیثیت کی اصطلاح زیادہ سے زیادہ نصف صدی پرانی اصطلاح ہے، جس کے کچھ بنیادی مقدمات ہیں۔ ان مقدمات پر ایک نگاہ ڈالے بغیر تانیثیت کی اصطلاح کے ساتھ نہ انصاف ممکن ہے اور نہ اس کو ادبی تشریح و تعبیر میں پوری طرح استعمال کیا جاسکتاہے۔ (یہ بھی پڑھیں ابو الکلام قاسمی: بیسویں صدی سے آگے کا آدمی – پروفیسر غضنفر )

ہم نے اردومیں تانیثیت کی اصطلاح کو عموماً ڈھیلے ڈھالے معنوں میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اور عورت سے متعلق رائج مفروضات کی تلاش و جستجو کو اکثر تانیثیت کا نام دیا ہے۔ چنانچہ تانیثیت کے نام سے جو تنقیدی جائزے لیے جاتے ہیں ان میں یا تو عورت کے بارے میں رائج تصو ّرات اور مرد اساس معاشرے کے ان مفروضات کو عورتوں کے تخلیق کردہ متن میں تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو مردوں کے اپنے قائم کردہ یا عورتوں سے منسوب کردہ صفات سے عبارت ہیں۔

یوں تو مغرب میں نسائی جدوجہد کی تقریباً دو سوسال کی تاریخ ہے، جس کو مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے یاد کیا جاتارہا۔ تاہم نسائیت کے تصو ّر کی بنیادیں استوار کرنے میں ان تحریروں کا بھی اہم کردار ہے جو انیسویں صدی میں ہی منظرِعام پر آنا شروع ہوگئی تھیں۔ ویسے ورجینیاوولف نے 1929 میں اپنی کتاب "A Room of ones own” اور دوسرے مضامین میں عورتوں کی شناخت کے مسئلے پر بعض بنیادی باتیں لکھی تھیں۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد جب سیمون دی بوائر نے "Second Sex” لکھی، تو گویا عورت کو باقاعدہ مرد کے متوازی طبقے کے طورپر قائم کرنے کی کوشش کی اور عورتوں کے بارے میں رائج مفروضات کو عورتوں کی بطور طبقہ شناخت میں سب سے بڑی رُکاوٹ بتایا۔ اس کتاب میں سیمون دی بوائر کا لب و لہجہ کچھ ایسا غیرمتوقع اور غیررسمی تھاکہ ان کے ساتھی اور شریکِ زندگی سارتر جیسے روشن خیال دانش ور نے بھی زیادہ پسند نہیں کیاتھا۔ اس کتاب میں سیمون کا کہنا تھاکہ عورت پیدائشی طورپر ہمارے طے کردہ صفات کی حامل نہیں ہوتی بلکہ پدری معاشرے یا Patriarchal society میں وہ عورت بنادی جاتی ہے اور رفتہ رفتہ وہ بھی خود کو ان ہی صفات سے متصف سمجھنے لگتی ہے جو مردوں کی طرف سے ان کے ساتھ وابستہ کردی گئی ہیں۔ یوںتو Kate Millet نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "Sexual Politics” میں اِن تمام مضمرات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے اور سگمنڈفرائڈ کے تصورِ تحلیل نفسی سے لے کر ڈی۔ایچ لارنس تک کی تحریروں کا جائزہ لیاہے اور بتانے کی کوشش کی ہے کہ مردانہ تصو ّرِ زن کے اثرات عورتوں کے بارے میں فلسفیانہ یا نفسیاتی تصوّرات میں ہی نہیں بلکہ ادبی اظہار میں بھی کیوں کر تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں جولیا کرسٹوا اور سوزان سونتاگ کے نقاط نظر اب اتنے عام ہوگئے ہیںکہ صحیح معنوں میں ان ہی نقاط نظر نے Feminism کے بنیادی مقدمات کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں  میراتنقیدی موقف – پروفیسر ابو الکلام قاسمی )

لیکن تانیثیت کے بنیادی مقدمات کی تفہیم کاحق صرف اسی طرح ادا کیا جاسکتاہے کہ ہم اسے کسی تحریک یا رجحان سے زیادہ ایک طرزِقرأت یا اندازِمطالعہ سے تعبیر کرنے کی کوشش کریں۔ اس پس منظر میں اس حقیقت سے کسی بھی ادبی اور لسانی معاشرے میں انکار مشکل ہے کہ جو ادبی متن تخلیق یا تیار کیا جاتاہے وہ اگر مردوں کا تخلیق کردہ متن ہے جب بھی اور اگر عورتوں کا تخلیق کردہ متن ہے تب بھی، اس میں پدرانہ معاشرے میں رائج عورتوں سے متعلق تصو ّرات کی افراط ہوگی۔ تانیثیت پسند مصنّفین کا کہنا ہے کہ کسی پدری معاشرے میں زندگی گزارنے کا ہی نہیں بلکہ سوچنے سمجھنے تک کا انداز مرد اساس ہوتا ہے۔ اس میں اس بات کی مطلق پرواہ نہیں کی جاتی کہ مردوں کے لکھے ہوئے متن کو ایک عورت کے نقطۂ نظر سے بھی دیکھا گیاہوگا۔ مگر یہاں تو عورت کے نقطۂ نظر کا مسئلہ بھی خاصا وضاحت طلب ہوجاتاہے۔ اس لیے کہ جیساکہ عرض کیا جاچکاہے کہ ایک پدرانہ معاشرے میں عموماً ایک عورت بھی مرد کے نقطۂ نظر سے نہ صرف زندگی گزارتی ہے بلکہ اس کے سوچنے سمجھنے کا انداز بھی مرد اساس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس صورت حال میں عورت کے لیے بھی اپنے اندر مردوں کے قائم کردہ تصوّراتِ زن سے نجات حاصل کرنا اور ان کے متن میں ان عناصر کی نشان دہی کرنا جو طبقہ اناث کی فطری سوچ پر مبنی ہو۔ پورے نظامِ فکر اور رائج زاویہ نظر کی تبدیلی کا متقاضی ہے۔ ظاہر ہے کہ طبقہ اناث کی فطری سوچ کو عورت کی عزّت نفس، طبقاتی یا Gender Base شناخت سے مربوط کیے بغیر کسی بھی متن میں ان مفروضات اور تعصبات کی نشان دہی نہیں کی جاسکتی جو عورت کے خلاف جاتے ہیں اور تانیثیت اسی نشان دہی کا دوسرا نام ہے۔

شاید اس وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں کہ مردوں کی قرأت متن کا انداز اس پس منظر میں عورتوں کی قرأت متن سے مختلف ہوگا۔ تاہم یہ دیکھنے کی ضرورت بھی ہوگی کہ انداز قرأت کا یہ فرق نہ صرف یہ کہ محض مردانہ صفات کی شناخت پر مبنی نہ ہوگا زنانہ صفات کی تفریق کے ہم معنی ہوگا۔ اس لیے کہ مرد کے تخلیق کردہ متن میں پدرانہ معاشرے کے مسلمات کی بالادستی کے باعث ایسے تعصبات کا پایا جانا ناگزیر ہے جو عورت کے خلاف جاتے ہیں۔ اس ضمن میں اگر ہم ایک لاطینی امریکی مصنفہ وکٹوریا اوکامپو (Victoria Ocampo) کے اس اقتباس کو سامنے رکھیں تو طرزِقرأت کے اس فرق کو زیادہ بہتر طریقے پر سمجھا جاسکتاہے:

’’زمانۂ حال تک ہم، عورتوں کے بارے میں مرد گواہوں سے سنتے آئے ہیں۔ وہ گواہ جس کو کوئی بھی عدالت گواہی کی اجازت نہیں دے گی، جس کی گواہی مبنی بر تعصّب سمجھی جائے گی۔ خود عورت نے ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا۔ اور اب عورت پر اس بات کا دارومدار ہے وہ اس نامعلوم براعظم کو دریافت کرے جس کی وہ نمائندہ ہے، بلکہ اپنی ذاتی حیثیت سے مشکوک معاون کے طورپر مردوں کے بارے میں بھی بات کرے۔‘‘

چنانچہ اگر عورت کی اپنی کوئی بھی حیثیت ہے تو اس کو اس بات کا حق تو ہونا ہی چاہیے کہ وہ مطالبہ کرسکے کہ ایک متن کو بھی مردوزن سے متعلق مفروضات یا مسلمات سے بلند ہوکر پڑھا جانا چاہیے۔ جولیاکرسٹیوا نے تو اس بحث کو مختلف فلسفوں اور سماجی تعبیرات کے حوالے سے بھی پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا تو یہ تک کہنا ہے کہ کارل مارکس کی قائم کردہ سماجی طبقاتی تقسیم محض سماجی اور معاشی طورپر انسانی معاشرے کی عمودی یا Vertical تقسیم کو دکھاتی ہے مگر جنسی یا صنفی طورپر جو زن و مرد کی طبقاتی تقسیم ہے وہ دراصل افقی یاHorizentalہے اور یہ تقسیم زیادہ آفاقی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ اس لیے مارکسزم بھی عورت اور مرد کے درمیان طبقاتی تفریق قائم نہ کرکے ایک نامکمل اور محدود طبقاتی نظام کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف وہ محض پیداوار یا Production کی بنیاد پر اپنی فکری عمارت تعمیر کرتی ہے Re-production کی اس اہمیت کا احساس تک نہیں رکھتی جس کا دارومدار عورت پر ہے۔ ظاہر ہے کہ جنس کے بجائے، عورت اور مردکی Gender Based طبقاتی تقسیم، سماج کی مارکسی تقسیم سے کہیں زیادہ بنیادی اور جبلّی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے کریسٹوا کا کہنا ہے کہ مردا ساس معاشرہ نہ تو پوری طرح عورت کے انفرادی تجربے اور ادراک کا شعور رکھتاہے اور نہ پدرانہ معاشرے میں دورتک سرایت کیے ہوئے تعصبات سے الگ تانیثی انداز قرأت کا ثبوت فراہم کرسکتاہے۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو شاعری کی کلاسیکی شعریات – پروفیسر ابو الکلام قاسمی )

تانیثیت پسند مصنّفین کا موقف یہ بھی ہے کہ مردوں کی طرف سے بھی عورتوں کے لیے تخلیق کردہ متن کو تفریقی انداز میں پڑھنا اور اس کی تعبیر کرنا مربّیانہ نہیں بلکہ برابری کی سطح پر ہونا چاہیے۔ چنانچہ جب تک متن کا مطالعہ اس طرح نہ کیا جائے کہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ متن میں جنسی تفریق پر مبنی جو تصو ّرات یا مفروضات یا تعصبات ہیں ان کی نوعیت کیا ہے اور ان کے محرکات کیاہیں، کہیں یہ تصو ّرات محض جنسی تفریق پر مبنی تو نہیں، ایسی تفریق پر جو عورت کو بطور طبقہ تسلیم ہی نہ کرتی ہو، تانیثیت پسندوں کے مطمح نظر کے مطابق کچھ تجربات صرف عورتوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی ایسے معاشرے میں جو اس حدتک پدری نظام کا زائیدہ اور مردوں کے جنسی تعصبات پر مبنی ہو، ان تک مرد قاری کا پہنچنا قریب قریب ناممکن ہوتاہے۔ ایسے معاشروں میں جہاں عورت بھی خود تعبیر متن کا حوصلہ نہیں رکھتی یا تو وہ مردوں کی تعبیرات کو قبول کرتی ہے یا پھر اس کو کسی اور طرح کے الفاظ میں دُہراتی رہتی ہے۔ تانیثیت کا نقطۂ نظر اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ عورتوں کے بارے میں جو اسٹیریوٹائپ معاشرے میں رائج ہے اور جس طرح اس کا اظہار ادبی متن میں بھی ہوتا رہتاہے، اس کا تجزیہ کیا جائے اور اس کے رائج ہونے کے محرکات کے ساتھ اس کی صداقت یا عدم صداقت کا پتہ لگانے کی کوشش بھی کی جائے۔ تانیثی تنقید دراصل عورت کو نہ صرف ادب میں اس کا صحیح مقام دلانا چاہتی ہے بلکہ عورت کے نقطۂ نظر کے فقدان کی تلافی بھی کرنا جانتی ہے۔ ماضی قریب میں چوںکہ مغرب میں شعوری طورپر مردوں کے تخلیق کردہ متن سے مختلف متن، عورتوں نے تیار کرنے پر توجہ صَرف کی ہے۔ اس لیے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عورت کے لکھے ہوئے متن کو مرد نہ تو پوری طرح سمجھ سکتاہے اور نہ اس کے مضمرات تک رسائی حاصل کرسکتاہے۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ تانیثیت پسند مصنّفین کا کہنا ہے کہ پدرانہ معاشرے کے معتقدات اور رائج تصو ّرات، اس وقت تک ایک عورت کے لیے مبنی بر تعصب بن جاتے ہیں جب وہ اس معاشرے میں تخلیق ہونے والے متن کا مطالعہ بہ طور طبقہ (Gender) ایک عورت کی امیج یا کردار کے ساتھ انصاف کی تلاش و جستجو کرتی ہے۔ اس ضمن میں ان کا کہنا ہے کہ اندازِفکر کی کسی معمولی تبدیلی سے اس کا حق ادا ہی نہیں ہوسکتا، اس لیے اس طرزِفکر کے برخلاف اور متوازی اب ایک نوع کے Paradigm Shift کی ضرورت ہے۔ (یہ بھی پڑھیں "ابوالکلام قاسمی ” – ناصر عباس نیّر )

تانیثیت، کے بنیادی مقدمات کی روشنی میں تانیثی تنقید کا بنیادی موقف بالکل واضح ہوجاتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس بات کی ضرورت باقی رہتی ہے کہ ماضی کے متن سے جنسی تعصبات پر مبنی عناصر کا اخراج کیوںکر کیا جاسکتاہے۔ چنانچہ مغرب کی یونیورسٹیوں میں متعدد ایسی کوششیں تانیثیت پسندوں کی طرف سے ہوئی ہیں اور آج بھی ہورہی ہیں، تاکہ کلاسیکی شعروادب کو تانیثی انداز قرأت سے گزارکر ایسے متون سے جنسیاتی تفریق اور طبقاتی تعصبات کو کسی طرح منہا کیا جاسکتاہے۔ اس نوع کی بعض کوششیں پاکستان کی تانیثی تنظیم ’وعدہ‘ کے پلیٹ فارم سے سامنے آنے لگی ہیں۔ اس ادارے میں شامل فہمیدہ ریاض، خالدہ حسین اور فاطمہ حسن نے خاموشی کی آواز اور اردو ادب کی تانیثی ردّتشکیل کے نام سے متعدد کتابیں شائع کی ہیں، جن میں ڈپٹی نذیراحمد، پریم چند، قرۃالعین حیدر، عصمت چغتائی اور بعض دوسرے مرد اور عورت مصنّفین کے متن کی تانیثی ردتشکیل (یعنی ان کو Deconstruct) کرنے کی بہت کامیاب کوششیں کی ہیں۔

اگر تانیثیت کو محض رسمی طورپر نسائیت یا زنانہ پن کی تلاش سے الگ اس کے مخصوص دائرۂ کار تک محدود رکھا جائے تو ہم کسی بھی متن کو نمونہ بناکر تانیثی نقطۂ نظر سے اس کی ردتشکیل کرسکتے ہیں۔ زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے عملی اطلاق کے نمونے کے طورپر ایک ایسی نظم کو پیش کیا جاسکتاہے جو ایک مرد، درگاپرشاد سرور جہان آبادی نے ’پدمنی‘ کے عنوان سے لکھی تھی۔ سرور نے پدمنی کے کردار کے ساتھ اپنی پوری نظم کو بھی عظمت، عفت اور پاکیزگی کا نمونہ بنانے کی کوشش کی ہے اور پدمنی جو دراصل علاء الدین خلجی کے زمانے کی ایک ایسی عورت ہے جو سپاہ گری اور شوہر کی ہلاکت کے بعد بے دست وپا ہوکر رہ جاتی ہے۔ بالآخر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنی عصمت و عفت کے تحفّظ کی خاطر آگ کے شعلوں میں جلنا گوارہ کرتی ہے مگر کسی غیرمرد کی چیرہ دستیوں کا شکار نہیں بننا چاہتی۔ درگاپرشاد سہائے نے پدمنی کو وفا کی دیوی اور عصمت و عفت کی ملکہ جیسے القاب سے نوازاہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ صفات خود عورت کے لیے بھی بطور ایک طبقہ قابلِ شناخت ہیں بھی یا نہیں۔ کیا یہ صفات عورت کے لیے ہی مخصوص ہیں؟ کیا مرد کا باعصمت ہونا، پاکیزہ ہونا، ظلم و جور کے ساتھ کسی بے قصور خاتون کا اپنا لقمہ ہوس بنالینا، کچھ مثبت یا قابلِ تعریف صفات ہیں؟ اب ذرا پدمنی، نظم کے دو بند ملاحظہ کیجیے:

عندلیبوں کو ملی آہ و بکا کی تعلیم

اور پروانوں کو دی سوز فضا کی تعلیم

جب ہر اک چیز کو قدرت نے عطا کی تعلیم

آئی حصے میں ترے ذوقِ فنا کی تعلیم

نرم و نازک تجھے اعضا دیے جلنے کے لیے

دل دیا آگ کے شعلوں پہ پگھلنے کے لیے

رنگ تصویر کے پردے میں جو چمکا تیرا

خود بخود لوٹ گیا جلوۂ رعنا تیرا

ڈھال کر کالبد نور میں پتلا تیرا

ید قدرت نے بنایا جو سراپا تیرا

بھر دیا کوٹ کے سوز غم شوہر دل میں

رکھ دیا چیر کے اک شعلہ مضطر دل میں

ان مصرعوں سے اندازہ ہوتاہے گویا عورت کی بنیادی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنے وجود کو دوسرے ہی نہیں بلکہ دوسرے مرد یا شوہر کے وجود کے لیے قربان کردے۔ اس نظم کا شاعر اس حدتک مردوں کے ذریعے طے کردہ زنانہ صفات سے مشروط ہے کہ اس سے الگ ہوکر کچھ سوچ ہی نہیں سکتا۔ تمہید یہ قائم کرتاہے کہ جب خالق کائنات نے اپنی مخلوق کی جبلّتوں کا تعین کیا تو جس طرح بلبل کو آہ و بکا کی صفت عطاکی، اسی طرح پروانوں کو شمع کے عشق میں جل مرنے کی جبلت کا تعین کیا۔ علی ھٰذالقیاس عورت کو اس حدتک ضمنی اور مرد پر انحصار کرنے والی مخلوق بنایاکہ اس کی بنیادی صفات وفا، یا عصمت، یا پاکیزگی، یا قربانی یا جذباتیت سے اسے سرشار کردیا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اے پدمنی تم صرف اور صرف اپنے شوہر کی چِتا پر جلنے کے لیے بنائی گئی اور تمھارے نرم و نازک اعضا صرف اس لیے بنائے گئے کہ وہ آسانی سے شوہر کی عزّت کی بقا کی خاطر جل کر خاکستر ہوسکیں۔ مزید یہ کہ تم کو دل بھی صرف اس لیے عطا ہواکہ وہ عشق کے شعلوں سے تابندہ ہونے کے بجائے آگ کے شعلوں میں پگھل جائے اور اس طرح تم مردوں کی نصف ثانی یا نصف بہتر ہونے کی حیثیت مرد اساس معاشرے کی عظمت کی نمائندہ بن جاؤ:

ناز آیا ترے حصے میں ادا بھی آئی

جاں فروشی بھی محبت بھی وفا بھی آئی

یا ایک اور ٹیپ کے بند میں وہ کہتے ہیں کہ:

آگ پر بھی نہ تجھے آہ، مچلتے دیکھا

تپش حسن کو پہلو نہ بدلتے دیکھا

اگرچہ اس نظم کا تاریخی پس منظر نہ بھی ہوتا جب بھی نظم اپنی کلیت میں عورت کی اس قربانی کی تمثیل بنائی گئی ہے جو صرف اور صرف مرد کے لیے باعث تسکین ہوسکتی ہے۔ اگر تاریخی سیاق و سباق کو الگ کرکے اس نظم کو پڑھا جائے تو اس سے زیادہ ہیبت ناک تصویر اُبھرتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا پوری نظم میں ستی کی رسم کی پُرزور تائید کرکے مردوں کے معاشرے کی نہایت شقی القلب اور ظالمانہ تصویر کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

abul kalam qasmiابو الکلام قاسمیتانیثیت
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ریجیکٹ – الف عاجز اعجاز
اگلی پوسٹ
فریاد ہے اے کشتئ ملت کے نگہباں” امارت شرعیہ کے تناظر میں – انوار الحسن وسطوی 

یہ بھی پڑھیں

تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس...

مئی 5, 2026

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –...

جنوری 10, 2026

دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –...

جولائی 10, 2025

جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

جون 20, 2025

شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

دسمبر 5, 2024

کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –...

نومبر 19, 2024

کوثرمظہری کے نصف درجن مونوگراف پر ایک نظر...

نومبر 17, 2024

کوثرمظہری کا زاویۂ تنقید – محمد اکرام

نومبر 3, 2024

علامت کی پہچان – شمس الرحمن فاروقی

مئی 27, 2024

1 comment

ابوالکلام قاسمی بحیثیت نقاد - پروفیسر قاضی عبیدالرحمان ہاشمی - Adbi Miras جولائی 25, 2021 - 8:20 شام

[…] تحقیق و تنقید […]

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں