اقبال سہیل(1884-1955)کی عام شہرت و مقبولیت ایک شاعر کی حیثیت سے ہے۔انھوں نے غزل، نظم،رباعی، مثنوی اور قصیدہ جیسے اصناف میں طبع آزمائی کی۔اس کے علاوہ انھوں نے نثر میں بھی اپنی یادیں چھوڑی ہیں، لیکن ان تک لوگوں کی رسائی کم ہی ہوئی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے نثری افکار پر لوگوں کی رائے نہیں ملتی۔اقبال سہیل نے ’حیات شبلی‘ لکھی، جسے ابھی شبلی صدی کے موقع پر جناب فضل الرحمن(ریسرچ فیلو، دار المصنفین، شبلی اکادمی، اعظم گڑھ) نے ترتیب دے کر شائع کیا۔اقبال سہیل نے جن چند کتابوں پر تبصرہ کیا ہے، اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے تبصرہ کا حق ادا کیا۔اس کے علاوہ مکتوبات اور وہ خطبات ہیں، جوانھوں نے مختلف مشاعرے میں صدارتی خطبے کے طور پر دیا تھا۔ان کے یہ خطبے زبان و ادب کا ایک بیش قیمتی سرمایہ ہیں؛کچھ اور بھی مضامین ہیں، جن میں ’اسلام اور اعلی انسانی قدروں کا تحفظ‘ کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔اقبال سہیل نے جو تبصرے کیے ہیں یا ’داستان تاریخ اردو اور مشرقی یوپی کے کچھ اہل قلم‘ میں جس طرح سے حامد حسن قادری کی مشہور کتاب’داستان تاریخ اردو‘کے تسامحات پر روشنی ڈالی ہے، اس سے ان کاانداز نقد واضح طور پر سامنے آتا ہے۔اس مضمون میں انھیں حوالے سے گفتگو کی جائے گی۔
علامہ شبلی نعمانی کی شخصیت اور ان کے کارنامے پر ان کی زندگی ہی میں لوگوں نے لکھنا شروع کر دیاتھا۔یہ سلسلہ ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔چونکہ اقبال سہیل علامہ نعمانی کے شاگردوں میں تھے، اس لیے انھیں اپنے استاد کو بہت قریب سے دیکھنے کو ملا۔انھوں نے ان کی شخصیت کو بہت قریب سے دیکھا۔انھوں نے اپنے تعلقات جو(1897-1914)تقریبا اٹھارہ برس پر محیط ہے،کوتفصیل سے بیان کیا ہے۔چونکہ یہ مضمون انھوں نے /18نومبر1944کو’ یوم شبلی‘ کے موقع پر پڑھا تھا۔اس مضمون میں انھوں نے علامہ شبلی کی جامعیت کا اختصار سے جائزہ لیا ہے۔چونکہ تعارفِ شبلی خود ایک تفصیلی مضمون چاہتا ہے؛لیکن اقبال سہیل نے مختصر اًشبلی نعمانی کے علمی کمالات کو بیان کیا ہے۔انھوں نے خود ہی لکھا ہے کہ ’ہر شعبۂ کمال کے متعلق صرف چند سرسری اشارات کافی ہوں گے، اور زیادہ دقت نظر اور شرح و بسط کی ضرورت نہ پیش آئے گی۔‘علامہ شبلی نعمانی کی ذات گوناگوں اور متنوع کمالات کی جامع تھی۔ان کے کسی ایک حصے پر گفتگو کے لیے تفصیل درکار ہے۔یہ صحیح کہا گیا ہے کہ’زندہ قومیں اپنے اکابرین اور اہل کمال کی یاد تازہ رکھ کر خود اپنی زندگی کے لیے روح عمل بیدار کرتی ہیں۔‘سچ بات یہ ہے کہ اردو کے لوگوں نے اپنے اکابرین کے کارنامے کو بہت حدتک سنجونے کی کوشش کی ہے، لیکن اسے کوشش ہی سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ شبلی نعمانی ہی کو لے لیجئے تو ان پر ابھی حالیہ دنوں میں جس طرح سے کام ہوا ہے، اس سے پہلے غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح سے کام نہیں ہوا، جس طرح سے ہونا چاہیے تھا۔علامہ شبلی نعمانی کے مکاتیب کے تعلق سے بھی اقبال سہیل نے مضمون لکھا ہے، لیکن ان کے مکاتیب کو لوگوں نے بعد میں کس کس طرح سے دیکھا ، اس کا اندازہ ڈاکٹر خالد ندیم کی کتاب’شبلی کی آپ بیتی‘ اور ڈاکٹر عمیر منظر کی کتاب’شبلی، مکاتیب شبلی اور ندوۃ العلما‘سے بخوبی لگایاجا سکتا ہے۔شبلی نعمانی پر ڈاکٹر الیاس اعظمی نے جس طرح سے کام کیا ہے، یہ ان کی شبلی سے محبت اور علم کی قدر کی واضح مثال ہے۔ شبلی نعمانی کو فارسی میں غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔اس کا اعتراف سب نے کیا۔لیکن اقبال سہیل نے ایک واقعے سے علامہ نعمانی کی فارسی دانی کو پیش کیا ہے۔انھوںنے لکھا ہے: (یہ بھی پڑھیں اقبال سہیل کی نظم نگاری:فکر ونظر کے چند پہلو- ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
’’ جس زمانے میں علامہ شبلی علی گڑھ کالج میں السنہ مشرقیہ کے پروفیسر تھے، ایک ایرانی شاعر تقی الدین کلام سنجر طہرانی وارد ہندوستان ہوا، اس وقت تک شرفائے ہند میں زبان فارسی کا خاصہ رواج تھا، اس باکمال ایرانی کی غیر معمولی آؤ بھگت ہوئی، اور اہل زبان ہونے کی وجہ سے اکثر مشاعروں میں سہرا اسی کے سر رہا،…….سنجر نے دہلی، لکھنؤ، رام پور، جیسے شہروں میں بازیاں جیت لینے کے بعد علی گڑھ کا رخ کیا، مولانا اس وقت تک نوجوان تھے، عمر کے ساتھ علم کا بھی شباب تھا، شعر وسخن سے کافی دلچسپی رکھتے تھے، طلبہ قریب قریب مولانا کے ہم عمراور کافی بے تکلف تھے، علی گرھ میں سنجر کے ورود سے طلبہ کو ایک دلچسپ مشغلہ ہاتھ آگیا، اورنوبت بانیجا رسید کہ طلبہ نے مولانا اور سنجر کی پالی بدو ملی، دودن کا وقت دیا گیا، اور یہ طے پایا کہ دونوں با کمال ایک ایک بہاریہ قصیدہ لکھ کر ایک مجلس میں پڑھیں، اس وقت یہ اندازہ کیا جا سکے گا، کہ میدان کس کے ہاتھ رہا،……..دونوں اساتذہ نے اپنی اپنی جگہ پر فکر سخن شروع کر دی، ابھی مولانا نے چند اشعار لکھے تھے کہ انھی میں سے کسی صاحب نے ان کی نقل سنجر تک پہنچا دی، نتیجہ معلوم تھا، سنجر انھی چند اشعار سے اتنا مرعوب ہوئے کہ ڈپٹی نذیر احمد کی عبارت میں رات ہی کو چپکے سے سٹک دئے۔‘‘
(افکار سہیل۔مرتبین، شوکت سلطان،علی حماد عباسی۔شبلی نیشنل کالج، اعظم گڑھ۔1957،ص، 76)
اقبال سہیل کے درج بالا جملے سے واضح ہوتا ہے کہ علامہ شبلی نعمانی کو فارسی زبان میں غیر معمولی صلاحیت تھی۔یہی وجہ ہے کہ ان کے چند اشعار کو خفیہ طور پر پڑھ کر ایک ایرانی نہ صرف مقابلے سے ہٹ گیا، بلکہ بھاگ گیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ علامہ شبلی نعمانی کی فارسی شاعری بڑے بڑے فارسی شعرا کے مقابلے میں رکھی جا سکتی ہے۔لیکن علامہ نعمانی نے شاعری کی طرف توجہ کم ہی کی ۔اس کے علاوہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے، وہ جگ ظاہر ہے، مولانا کے کارنامے اتنے متنوع ہیں کہ ان کے مخالفین بھی علامہ کے علمی کمالات کے قائل ہیں۔اس مضمون میں اقبال سہیل نے علامہ نعمانی کے کسی خاص پہلو پر گفتگو نہیں کی ہے، البتہ اس مضمون میں انھوں نے مختلف واقعات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ اقبال سہیل اور علامہ نعمانی کے رشتے واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔انھوں نے ان کے جس کارنامے کا ذکر کیا وہ اس لیے بھی بہت دلچسپ ہے، کیونکہ وہ اس کے چشم دید تھے۔انھوں نے علامہ نعمانی کے اس مضمون کا بھی ذکر کیا ہے ، جو ’مسلمانوں کی پولٹیکل کروٹ‘ کے عنوان سے ’مسلم گزٹ، لکھنو1912‘میں کئی اشاعتوں میںشائع ہوا تھا، اس تناظر میں علامہ نعمانی نے جو نظم کہی تھی، اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اس مضمون کے مطالعے سے شبلی نعمانی کے بہت سے شعری حصے کے شان نزول کا علم ہوتا ہے۔اس مضمون میں اقبال سہیل کا محوردراصل شاعری ہی ہے۔پورا مضمون اسی حوالے سے ہے۔
علامہ شبلی کے مکاتیب، میں اقبال سہیل نے شبلی نعمانی کے خطوط کی وہی اہمیت بیان کی ہے، جسے حالیہ دنوں میں لوگوں نے ان کے خطوط سے بعض نئے پہلوؤ ں کی تلاش کی ہے۔ڈاکٹر خالد ندیم نے ’شبلی کی آپ بیتی‘شبلی نعمانی کے خطوط سے مرتب کی تو ڈاکٹر عمیر منظر نے ندوۃالعلماء کے تعلق سے شبلی نعمانی کے جو بھی خیالات تھے، اسے’شبلی، مکاتیب شبلی اور ندوۃالعلماء‘ میں یکجا کر دیا ہے۔البتہ دونوں صاحبان نے جس طرح سے مقدمہ لکھا ہے، اس سے اس کی اہمیت اور بھی دو چند ہو گئی ہے۔مکاتیب شبلی میں جن چیزوں کی طرف لوگوں نے اب توجہ دی ہے، اس کی طرف اقبال سہیل نے بہت پہلے اشارہ کر دیا تھا،انھوں نے لکھا ہے:
’’ استاذالامام علامہ شبلی نعمانی کے مکاتیب، غالب کے خطوط کی طرح محض تفریح طبع یا مکالمہ کی غرض سے نہ تو لکھے گئے ہیں، اور نہ اس حیثیت سے ان پر نگاہ ڈالی جا سکی ہے، ان کے خطوط زیادہ سے زیادہ محض ان کی بیاگرفی یا سوانح حیات کا سامان ضرور فراہم کرتے ہیں، اور جو نظریات، علمی مباحث، یا عملی مسائل میں ان کے نصب العین تھے، ان کے خطوط سے کافی طور پر واضح ہو جاتی ہیں، اور مختلف ادوار میں ان کی رائیں قومی اورملی مسائل میں کیا تھیں وہ بھی انھی خطوط سے کافی طور پر پیش نظر ہو جاتی ہیں۔‘‘ (ایضاً۔ص،103) (یہ بھی پڑھیں ” غالبؔ کا مابعدنوآبادیاتی مطالعہ ” :خطوط اوردستنبو کے تناطرمیں- محمد عامر سہیل )
اقبال سہیل نے لکھا ہے کہ انھوں نے علامہ شبلی نعمانی کو تقریر کے دوران شعر پڑھتے ہوئے نہیں سنا، البتہ علوم دینیہ کے ساتھ علوم جدیدہ میں مہارت پر زور دینے کے لیے جو شعر پڑھتے تھے، اس کا ذکر انھوں نے کیا ہے۔ جن دو اشعار کاذکر کیا گیا ہے، وہ دونوں فارسی کے ہیں۔اقبال سہیل نے لکھا ہے کہ یہ ایک الگ بات ہے کہ اگر موضوع تقریر کسی شاعر کا کلام ہو یا اس پر تبصرہ رہا ہو۔ایسے میں اشعار کا پڑھنا بسا اوقات نا گزیر ہو جا تاہے۔اقبال سہیل کا تنقیدی نظریہ کسی خاص مسلک سے نہیں رہا ہے۔اسی لیے انھوں نے تبصرہ کی صورت میں اپنی تنقید ی بصیرت کا جو کارنامہ چھوڑاہے، وہ اس لیے بہت اہم ہے کہ انھوں نے جن کتابوں پر تبصرہ کیا ہے، اس کی اہمیت موجودہ وقت میں بھی بہت ہے۔ذکر بالامضمون میں اقبال سہیل نے جن باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے، اس پر بعد کے لوگوں نے بہت تفصیل سے لکھا ہے۔
اقبال سہیل کا مضمون’داستان تاریخ اردواور یوپی کے مشرقی اضلاع کے کچھ اہل قلم‘ میں ان کا تنقیدی رویہ واضح طور پرسامنے آتا ہے۔اس مضمون میں انھوں نے حامد حسن قادری پر علمی اور مذہبی دونوں اعتبار سے تنقیدی اظہار کیا ہے۔جہاں انھوں نے ’داستان تاریخ اردو‘ کی تعریف کی ہے، وہیں قادری کے تسامحات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ان کے تحقیقی رویے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے اپنا ہی ایک واقعہ نقل کیا ہے، جسے حامد حسن قادری نے کسی اور تناظر میں لکھاہے۔اقبال سہیل نے اپنے اس مضمون میں واضح طور پر بیان کیا ہے کہ صرف یوپی کے مشرقی اضلاع کے کتنے ہی ایسے مصنفین ہیں، جنھوں نے نثر میں بہت کچھ کیا ہے، لیکن انھیں نظر انداز کیا گیا ہے۔اقبال سہیل نے بہت سے ایسے لوگوں کا ذکر کیا ہے، اور ان کے کارناموں کا ذکربھی کیا ہے۔انھوں نے حامد حسن قادری کی کتاب پر تنقیص نہیں کی ہے،بلکہ علم کی خاطر قادری صاحب کی توجہ صرف مبذول کرانے کے لیے لکھا ہے، تاکہ اگلی اشاعت میں ان اکابرین کی طرف بھی توجہ کی جائے۔حامد حسن قادری اشاعت ثانی کے لیے اپنی کتاب’داستان تاریخ اردو‘میں ترمیم و اضافہ کرنا چاہتے تھے، لیکن کتاب کی مانگ اس قدر بڑھی کہ اشاعت ثانی میںاتنا وقت ہی نہیں ملا۔ممکن ہے کہ اقبال سہیل نے جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا تھا، ان کو بھی شامل کیا جاتا، لیکن ایسا ہوا نہیں۔البتہ وہابیت اور قادریت کا ذکر کرتے ہوئے اقبال سہیل کا انداز ذرا تلخ ہو گیا ہے، لیکن یہ تلخی بھی علم کی بنیاد پر ہے۔کیونکہ حامد حسن قادری نے مولانا عبدالحئی کا ذکر نہیں کیا، جب کہ’گل رعنا‘کے علاوہ بھی انھوں نے نثر میں بہت کچھ لکھا ہے۔جن میں کچھ کا تعلق مذہب سے ہے اور کچھ کا ادب سے۔ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب میں مذہبی لوگوں کو شامل نہیں کیا ہے۔سید عبدالحئی کے علاوہ بھی اقبال سہیل نے کئی نام کا ذکر کیا ہے۔سید عبد الحئی کا ذکر کرتے ہوئے اقبال سہیل کا انداز تھوڑا سا تلخ ہو گیا ہے۔لکھتے ہیں:
’’مشرق و مغرب کا نقطۂ اتصال اودھ ہے، مگر یہاں بھی ایک قابل زکر ادیب کے تذکرہ سے تغافل کیا گیا ہے، مولانا سید عبد الحئی مرحوم ناظم ندوۃ العلماء جو ایک نہایت مستند تذکرۂ شعراء کے مصنف ہیں، اور مدتوں تک حضرت الاستاذ علامہ شبلی کے رفیق کار رہ چکے ہیں، کم سے کم چند سطروں کے ضرور مستحق تھے، فاضل مولف کے وسعت قلب کاتو یہ عالم ہے کہ نا صر نذیر صاحب فراق دہلوی پر بھی پورے دو صفحے صرف کر دئے ہیں، اور ضمنا حسن نظامی اور ملا رموزی تک کو اس بزم ادب میں بار یابی دیدی ہے، مولانا سید عبد الحئی مرحوم کم سے کم اس فہرست میں تو آجاتے، مگر غالبا ان پر نگاہ انتخاب یوں نہیں پڑی کہ وہ حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کے اسباط میں تھے، جن کو فاضل مصنف نے ’’داستان‘‘ میں فرقۂ وہابیہ کا بانی لکھا ہے۔‘‘ (ایضا۔ص، 87-88)
اقبال سہیل نے اسی مضمون میں آگے مولوی عبد الحق کو جس طرح سے اپنی تنقیدکا نشانہ بنایا ہے، وہ بے جا اس لیے نہیں ہے کہ انھوں نے جس طرح سے علامہ شبلی نعمانی کو بد نام کرنے کے لیے ان کے ان خطوط کا سہارا لیا ہے، جسے انھوں نے عطیہ فیضی اور ان کی بہن کو لکھا تھا۔ اس تناظر میں اقبال سہیل نے مولوی عبدالحق کے تعلق سے جو کچھ لکھا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح سے انھوں نے شبلی نعمانی کو نشانہ بنایاتھا؛لیکن سچ بات یہ ہے کہ وقت سب کا فیصلہ کر دیتا ہے۔اور واقعی وقت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔خواجہ غلام الثقلین کی مخالفت کی وجہ بھی بیان کر دی ہے کہ شبلی نعمانی نے الفاروق، غازی اورنگزیب رحمۃ اللہ علیہ اور شہنشاہ جہانگیر کے متعلق جو مجتہدانہ مقالات لکھے تھے، اس سے شیعہ مورخین کی صدیوں کی محنت ایک طرح سے رائیگاں ہو گئی تھیں۔لیکن مولوی عبد الحق نے سب سے پہلے شبلی کو حالی مخالف بنا کر پیش کیا اور اس کی بنیاد علامہ شبلی نعمانی کے اس قول کو بنایا، جو انھوں نے حیات جاوید کو ’مدلل مداحی‘سے تعبیر کیا تھا۔اقبال سہیل نے واضح لفظوں میں بیان کیا ہے کہ:
’’تعجب ہے کہ مولوی عبدالحق صاحب جو غالباً زمانۂ قیام علی گڑھ میں علامہ مرحوم کے فیض یافتہ مولانا کے اعزہ اور تلامذہ مثلاً مولانا حمید الدین فراہی مرحوم، مولوی ظفر علی خاں، مولوی سید محفوظ علی وغیرہ کے مخلص دوست اور انجمن ترقی اردو کی مسند نظامت پر علامہ کے جانشین بھی ہیں، ان خطوط کو دوسرے زاویۂ نگاہ سے دنیاکے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں، اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس سعی نا مشکور سے ان کی اصلی مراد کوئی شیخ طریقت تو تھے نہیں، کہ مریدین بد گمان ہوکر فسخ بیعت کر لیں گے، اور صاحب سجادہ کی فتوحات میں کمی آجائے گی، رہا مولانا کا علم وکملا وہ ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے، جس کو مولوی صاحب کیا، ان جیسوں کی ایک فوج کوئی گزند نہیں پہنچا سکتی البتہ دو محترم مسلمان بہنوں کے متعلق بے جا سوے ظن کی اشاعت اور’’چشم بد اندیش‘‘ کے حق میں دعاے سعدی کا اعادہ لازمی ہے۔‘‘(ایضاً۔ص، 99)
اقبال سہیل کے درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولوی عبد الحق نے کس طرح سے بے بنیاد بات پر مخالفت کی عمارت تعمیر کی۔وہ یہ بھول گئے کہ عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔اگر کسی کے ساتھ برا چاہیں گے تو خود کے ساتھ وہی ہوگا۔شبلی کے علمی کمالات کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ ہر روز کے ساتھ ان کے علمی معاملات کے قدر دانوں میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔مولوی عبدالحق اور ان کے چند احباب نے وقتی طورپر ممکن ہے کہ اپنی تخریب کاری میں کامیاب ہو گئے ہوں، لیکن حقیقت سے جب پردہ اٹھا تو، کتنے اس میں ننگے ہو گئے، اس کا اندازہ بھی ہو گیا۔شبلی صدی تقریبات کا انعقاد نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دوسرے ملکوں میں جس تزک و احتشام کے ساتھ کیا گیا، دوسروں کی اس طرح کی مثال کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔یقینا یہ شبلی نعمانی کے خلوص اور ایمانداری کا ہی نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں کشور ناہید کی تحریروں میں تا نیثی رحجان- عبد العزیز ملک )
اقبال سہیل نے کچھ کتابوں پر تبصرہ اور کچھ کتابوں پر مقدمہ بھی لکھا تھا۔جن میں نشاط روح(اصغر گونڈوی) جلوۂ صد رنگ(حبیب احمد صدیقی) خرمن عشق(شفیق جونپوری) گنجینۂ تحقیق(مولفہ بیخود موہانی) حدیث حسن(فطرت واسطی) نغمۂ دل(دل شاہجہانپوری) جیسی اہم کتابیں ہیں۔ اقبال سہیل نے بیخود موہانی کی کتاب’گنجینۂ تحقیق‘جو مضمون لکھا تھا، اسے قسط وار معارف، اعظم گڑھ نے نومبر، دسمبر1931اور جنوری1932میں بالترتیب شائع کیا تھا۔
اقبال سہیل نے ن کتابوں پر تبصرہ کیا ہے، عام طور پر انھوں نے کتاب کی خوبیوں سے قارئین کو آگاہ کر دیا ہے۔البتہ بیخود موہانی کی کتابوں پر کچھ کمزور چیزوں کی طرف اشارہ ضرور کیا ہے۔اقبال سہیل نے ’خرمن عشق‘ کا مقدمہ لکھتے ہوئے عرض کیا تھاکہ جو محاسن مجھ کو نظر آئے اس کو بیان کر دیا۔جہاں تک تعلق معائب کا سراغ لگانا ہے تو اسے چشم بد بین کے حوالے کر دیا ہے۔ان کے ان خیالات سے یہ مطلب واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ انھوں نے کسی حد تک جانب داری کا ثبوت دیا ہے۔علمی دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی فن پارے کا غیر جانبدارانہ محاسبہ کیا جائے۔یہاں اقبال سہیل نے علمی معاملات میں تعلقات کو اوپر رکھا، اور مصلحت پسندی سے کام لیا۔شفیق جونپوری کی شاعری کے متعلق لکھا ہے:
’’شفیق کی دوسری خصوصیت ان کی جامعیت ہے، جملہ اصناف نظم پر ان کو کافی قدرت حاصل ہے، غزلیات، قصائد، رباعیات، قطعات، تاریخیں، قومی نظمیں، غرض کہ ان کے کلام میں آپ کو متداول اقسام نظم میں سے ہر قسم کا نمونہ اور قابل اعتنا نمونہ مل سکتا ہے، اور بڑی بات یہ ہے، کہ خود صاحب علم و بصیرت ہیں، اور ارباب کمال سے استفادہ کیا ہے، اس لئے ان کی شاعری ان ادبی و لسانی اغلاط سے بالکل پاک ہے، جو آج کل کی خوررو شاعری کا طرۂ امتیازہیں۔‘‘ (ایضاً۔ص، 155)
درج بالا اقبال سہیل کے جملوں سے اندازہ ہوتا کہ جو لوگ ارباب کمال سے استفادہ کرتے ہیں، ان سے غلطیوں کا ہونا کفر ہے۔یہ ارباب کمال کون لوگ ہیں؟کیا ارباب کمال سے مستفید ہونے والوں سے غلطیوں کا ہونا ناممکن ہے؟اگر ایسا ہے تو ہر کوئی کسی نہ کسی سے اپنے طور پر مستفید ہوتا ہے۔اس اعتبار سے غلطیوں کا معاملہ بالکل ختم ہوجانا چاہیے۔شاید یہی وجہ تھی کہ اقبال سہیل نے مقدمہ لکھتے وقت یا تبصرہ کرتے وقت اس اعتبار سے مطمئن تھے کہ یہ حضرات ارباب کمال سے مستفید ہیں، اس لیے غلطیوں کا ہونا ناممکن ہے۔ایک طرف شفیق جونپوری کا انھیں لوگوں میں شمار کرتے ہیں، جو ارباب کمال سے مستفید ہیں، اور پھر آگے یہ بھی لکھتے ہیں کہ معائب کا سراغ لگانا چشم بد بین کا کام ہے۔اپنی ہی باتوں کو چند جملوں کے بعد خود ہی نکارتے نظر آرہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا کسی فن پارے کا مطالعہ کرتے وقت صرف اور صرف محاسن ہی کو بیان کرنا علمی دیانتداری کا تقاضہ ہے۔تنقید کا جو تقاضہ ہے، اسے پورا کرنا ہی چاہیے۔کیونکہ اس سے اصلاح بھی ہوتی ہے اور بعد کے لکھے جانے والے ادب میں پختگی بھی آئے گی،اسی طرح سے جس طرح سے قاضی عبد الودود نے تحقیق میں محتاط ہونے کی جو بات کی تھی اور اس حوالے سے انھوں نے جو سخت تبصرے کیے، وہ اردو تحقیق کے لیے معیار عطا کر گیا۔اقبال سہیل خود شاعر تھے، اور شاعری کے رموز سے اچھی طرح واقف تھے، اگر انھوں نے تبصرہ یا مقدمہ لکھتے وقت ان حوالوں سے گفتگو کی ہوتی تو یقینا اردو ادب کے لیے بطور خاص شاعری کی تنقید میں کچھ نہ کچھ اضافہ ضرور ہوتا۔لیکن ایسا ہوا نہیں۔آج اقبال سہیل کی جو شہرت ہے وہ صرف شاعری کی وجہ سے ہے۔البتہ انھوں نے بیخود موہانی کی کتاب پر جو کچھ لکھا ہے، وہ غیر جانب داری کی مثال ہے۔اس مضمون میں ان کا تنقیدی شعور نظر آتا ہے۔انھوں نے جہاں بھی بیخود سے اختلاف کیا ہے، س کی واضح مثال بھی پیش کی ہے۔اسی طرح سے انھوں نے سیماب اکبر آبادی کی نظم’موحد اعظم‘ پر جو تنقیدی خط رسالہ ادیب، دہلی کے نام لکھا ہے، اس خط میں اقبال سہیل نے جس طرح سے اس نظم پر تنقید کی ہے اور اس کی خامیوں کی طرف اشارہ کیا ہے ، وہ بھی ان کے تنقیدی شعور کی بہترین مثال ہے۔
اقبال سہیل نے مختلف مشاعرے میں صدارت بھی کی تھی۔ان کے خطبات کی تعداد گو کہ چار ہے، لیکن انھوںنے ہندی اردو زبان کے تعلق سے جو کچھ بیان کیا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے اردو زبان کو زیادہ وسیع علاقے میں پایا ہے۔ہندی زبان کے مقابلے میں اردو زبان کی وسعت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔چونکہ زبان کسی کے ختم کرنے سے ختم ہونے والی نہیں ہے۔یہ اظہار کا مسئلہ ہے۔اور اظہار رائے کی آزادی بہر حال ہے۔جب اظہار ہے تو اس کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے، اور ذریعہ بھی اسی اظہار کی طرح آزاد ہے، ایسے میں کسی زبان کا ختم ہونا یا کرنا، یہ کوئی آسان کام نہیں۔بطور خاص اس صورت میں جب کسی زبان میں ادب کی تخلیق ہو رہی ہو، تنقید اور تحقیق کی کتابیں ہر دن منظر عام پر آرہی ہوں، تو ایسے میں یہ تصور بھی بے جا لگ رہا ہے کہ کوئی زبان ختم ہونے کے در پر ہے۔اقبال سہیل نے لکھا ہے:
’’اردو یا ہندی یا ان دونوں کی صورت مسخ ہونے پر بھی، ہندوستان میں ایک متحدہ زبان کا مسئلہ ویسا ہی لاینحل رہے گا، بنگالی، سندھی، کشمیری، گور مکھی، پنجابی، تامل، تیلگو، اور خدا جانے کتنی زبانیں باقی رہ جائیں گی، جن کا ذبیحہ اتنا آسان نہ ہوگا، کشمیری، پنجابی اور گورمکھی میں فارسی اور پشتو کی کافی آمیزش ہے، سندھی میں عربی کی بھی آمیزش ہے اور رسم الخط بھی عربی ہے، تامل تیلگو ہندی کیا سنسکرت بھی اصلا مختلف نہیں، بنگالی زبان کا لٹریچر اتنا ترقی یافتہ ہے کہ اہل زبان کسی طرح اس کو مٹانے پر آمادہ نہیں کئے جا سکتے ………کم سے کم اردو کا جنم تو اس رواداری کے سنگم پر ہوا ہے، جن امیر خسرو، خان کاناں، فیضی اور دارا شکوہ نے بھاشا اور سنسکرت کی طرف نگاہ التفات اٹھائی تو ہندو بھائیوں نے بھی فراخ دلی کا جواب بلند حوصلگی سے دیا ……….اس یاد گار عہد محبت کو ذریعہ تفریق بنانا کتنی لغو بات ہے، اور کسی فریق کا اس کو اپنی تنہائی ملکیت سمجھنا اس سے بھی زیادہ غلط ہے، مگر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی، کہ اگر ایک فریق ہٹ دھرمی سے اس طرح کا جھوٹا دعوی کرے تو دوسرافریق اس جھوٹ کو سچ کر دکھانے کی کوشش کیوںکرے اور کیوں ملکیت مشترکہ کو فریق غاصب کے قبضہ میں چھوڑ کر اپنے حقوق سے دست بر دار ہو۔‘‘
(ایضاً۔ص، 231-232)
اقبال سہیل کے درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں متحدہ مسئلہ زبان، وہ کئی اعتبار سے لا ینحل ہے۔جس وقت انھوں نے یہ بات کہی تھی، اس وقت تو یہ واقعی بہت بڑا مسئلہ تھا، لیکن آزادی کے بعد ایک طرح سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور ہندی کو ہندوستان کی قومی زبان کا اعزاز حاصل ہے، لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ہندی اپنے ہی ملک میں محکوم ہو کر رہ گئی ہے۔علاقائی زبانوں کا اس طرح سے غلبہ ہے کہ، ہندی تو نظر نہیں آتی، سوائے کچھ صوبے کے۔یہاں تک کہ شاہراہ پر فاصلہ بتانے کے لیے جو تختی لگی ہوتی ہے، اس پر انگریزی کے ساتھ عام طور پر علاقائی زبان ہی میں لکھا جاتا ہے۔کاغذ پر اسے(ہندی) قومی زبان کا اعزاز ضرور حاصل ہے، لیکن اصل میدان میں استعمال کم ہی نظر آتا ہے۔ اقبال سہیل نے جن باتوں کی طرف غلام ہندوستان میں اشارہ کیا تھا، وہ آزاد بھارت میں لفظ بلفظ صادق آرہا ہے۔ہندوستان میں زبان کا جو مسئلہ ہے، وہ اس لیے بھی دوسرے ملکوں سے مختلف ہے ، کہ یہاں بے شمار بھاشائیں بولی جاتی ہیں۔جن میں کچھ زبانیں دوسرے ملکوں میں بھی بولی جاتی ہیں۔اقبال سہیل کے خطبات بھی نئے نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور اس حالات کی کسی نا کسی حد تک منظر کشی کرتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں پنڈت آنند نرائن ملا کی ترجمہ نگاری – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
بحیثیت مجموعی کہا جا سکتا ہے کہ اقبال سہیل کے جو نثری پیرائے ہیں، اس کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ابھی تو اقبال سہیل کی شعری کائنات کا ہی اس طرح سے جائزہ نہیں لیا گیا، جس کی وہ متقاضی ہے۔البتہ کچھ رسائل میں ان کی شاعری کے حوالے سے مضمون نظر آتے ہیں، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ یہ سلسلہ بھی ماند پڑتا جا رہا ہے۔کچھ لوگوں نے ان کے کارنامے پر تحقیقی مقالے بھی لکھے ہیں،اور کہیں ان پر پی ایچ۔ڈی کا مقالہ لکھا بھی جا رہا ہے؛لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے کارنامے پر بحث و مباحثے کا اہتمام کیا جائے، اور ان کی خدمات کا جائزہ لیا جائے۔انھوں نے نثر میں جو کچھ کیا ہے، اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔بطور خاص ان کا وہ خطبہ جو انھوں نے زردو زبان کے حوالے سے دیا تھا۔اقبال سہیل نے اگر نثر میں تھوڑی سی توجہ کی ہوتی تو اور بھی کچھ چیزیں ادب میں اضافے کا سبب ہوتیں۔ تنقیدی صلاحیت ان میں تھی، لیکن اپنی اس صلاحیت کو بھر پور طریقے سے نہیں پیش کر سکے۔لیکن علمی اعتبار سے اس کی اہمیت سے یکسر انکار نہیں کیا جا سکتا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
[…] تحقیق و تنقید […]
[…] تحقیق و تنقید […]