تحقیق بڑے دل گردے کا کام ہے۔ اس کا عجلت پسندی سے دُور دور تک کا بھی رشتہ نہیں ہے۔ اس کے لیے بڑی ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ یہ ایک صبر آزما کام ہے۔ تحقیق کو نئے علم کی تحقیق یا موجودہ علم کے استعمال کو نئے اور تخلیقی انداز سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں نئے تصورات، طریقِ کار اور تفہیم کے نئے در وا ہوتے ہیں۔ تحقیق کا مقصد حقائق کی کھوج اور تغیر ، نئے حقائق کی روشنی میں قبول شدہ نظریات یا قوانین کے عملی اطلاق پر ہے۔ جس طرح کسی مریض کے موجودہ علاج میں بہتری کے لیے میڈیکل سائنس میں تحقیق کی جاتی ہے ، اسی طرح ادب کو صحتمند رکھنے یا توانا بنانے کے لیے تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ادب کے امکانات کو مزید روشن کیا جاسکے۔ یہ حقیقت تو سب پر عیاں ہے کہ انسان کی فطرت میں جستجو کا عمل ازل سے ہی رہا ہے اور آج بھی ہے۔ یہ کہنا غالباً مبالغہ نہ ہوگا کہ جستجو کے بغیر انسانی ارتقا کا تصور محال تھا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے مطابق:
” تحقیق کے معنی ہیں کسی مسئلے یا کسی بات کی کھوج لگاکر اس طور پر اس کی تہہ تک پہنچنا کہ وہ مسئلہ ، وہ بات اصل شکل اور حقیقی روپ میں پوری طرح سامنے آجائے۔ ”
لیکن تحقیق کے لیے تنقیدی شعور کا ہونا بھی لازم ہے کیونکہ اس کے بغیر تحقیقی کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی بھی محقق اپنی تنقیدی بصیرت سے ہی تحقیقی کام کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہ شعور جس محقق کے یہاں زیادہ ہوگا اس کا تحقیقی کام اتنا ہی قابلِ قدر ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ تحقیق کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ایک محقق پہلے گزشتہ تحقیق کو تنقیدی نظر سے دیکھتا ہے اور پھر اپنے کام کو موثر ڈھنگ سے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ البتہ اس کی تحقیق بالکل نئی اور اچھوتی ہو تو اس کی بالغ نظری اور اس کا جنون ہی اسے کامیابی کی منزل عطا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اردو تحقیق کی سرگرمیوں میں جہاں سینٹ فورٹ کالج ( چننئی) اور دہلی کالج کا نام آتا ہے وہیں رائل ایشیاٹک سوسائٹی اور فورٹ ویلیم کالج ( کلکتہ) کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ بنگال ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ آج میں جس شخصیت کے متعلق گفتگو کرنے جارہا ہوں ان کا تعلق بھی کلکتہ سے ہی ہے۔ وہ تقریباً پانچ دہائیوں سے علمی، ادبی۔ اور تحقیقی کام کررہے ہیں۔ تحقیق و تنقید، ترجمہ اور ترتیب و تدوین کا کام کوئی سہل کام نہیں ہے۔ ان موضوعات پر ڈاکٹر محمد منصور عالم کی پندرہ سے زائد کتابیں شائع ہوکر داد وتحسین حاصل کرچکی ہیں۔ ان کی تحقیقی بصیرت کا قائل صرف مغربی بنگال کا ادبی و علمی حلقہ نہیں بلکہ پوری اردو دنیا ہے۔
ابھی حال ہی میں ان کی ایک اور تحقیقی کتاب ” بیخود کی نثری شناخت ” سامنے آئی ہے جو اردو ادب کے لیے ایک قیمتی دستاویز ہے۔ اب تک دنیائے ادب ان کو ایک کامیاب معلم اور بطور شاعر پہچانتی تھی لیکن اس تحقیقی کتاب نے بیخود کی نثری صلاحیت کو منظرِ عام پر لاکر ان کے ادبی قد کو مزید بلندیوں سے ہم کنار کردیا ہے۔ ڈاکٹر محمد منصور عالم کا یہ کام بہت ہی اہم ہے اور آنے والی نسل اس کو بنیاد بناکر بیخود کی نثری صلاحیت پر نئے زاوئے پیش کرسکے گی۔
متذکرہ کتاب کے متعلق ڈاکٹر محمد منصور عالم کا کہنا ہے :
” بیخود صاحب ایک لائق و فائق استاد ہونے کے علاوہ ایک نامور شاعر و ادیب بھی تھے۔ کلکتہ کے علمی و ادبی حلقوں میں ان کا کیا مقام حاصل تھا ، یہ اہلِ علم حضرات سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ان کی شاعرانہ حیثیت مسلم تھی۔ خود علامہ وحشت نے ان کے مجموع? کلام ” جامِ بیخودی ” پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کی علمی استعداد اور نثری و شعری صلاحیتوں کا کھل کر اعتراف کیا ہے ، جو ایک سند ہے لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ بیخود صاحب کی نثر نگاری اور ان کی شخصیت پر آج تک نہ کوئی جامع کتاب لکھی گئی اور نہ ہی کوئی تحقیقی مقالہ ہی سپردِ قلم کیا گیا۔ ” ( صفحہ نمبر 35- 34)
زیرِ نظر کتاب کو ڈاکٹر موصوف نے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب میں عباس علی خان بیخود کی حیات و شخصیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دوسرے باب میں ان کے مضامین پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں ” مضامین بیخود ” کے عنوان سے ان کے پندرہ مضامین کا متن شامل ہے ۔ چوتھا باب ” وحشت بیخود کی نظر میں ” ہے جس میں بیخود کے پانچ مضامین ہیں جو بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں اقبال سہیل کی تنقیدی بصیرت – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
پہلے باب میں جہاں ڈاکٹر محمد منصور عالم نے بیخود کے سلسلۂ نسب، پیدائش، تعلیم و تربیت، ذریع? معاش، ملازمت ، ازدواج اور اولاد ، پابندئ وقت ، ملازمت سے سبکدوشی اور حج بیت اللہ کا ذکر کیا ہے وہیں انھوں نے انجمن ترقئ اردو ہند ، کلکتہ شاخ ، ایران سوسائٹی اور بزمِ احباب سے ان کی وابستگی کا بھی ذکر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ 1965 میں ہند و پاک جنگ کے وقت ان کی گرفتاری کا تذکرہ ہے۔ نیز بحیثیت شاعر وہ کیسے تھے اس کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
بیخود کی نثری صلاحیت کے بارے میں ڈاکٹر موصوف کا یہ کہنا ہے کہ اگر وہ صرف نثرنگاری پر توجہ دیتے تو بنگال میں ان سے بڑا کوئی نثر نگار نہیں ہوتا۔ خود علامہ وحشت ان کی نثر نگاری کے مداح تھے۔بیخود نے تقریباً بیس بائیس مقالات سپرد قلم کئے ہیں ۔ ان کے نثری کاموں میں جغرافیہ کی ایک کتاب ” مطالع? قدرت ” بھی ہے جسے انھوں نے 1940 میں چوتھی جماعت کے لیے لکھا تھا۔ اس کتاب کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس وقت اردو زبان میں جغرافیہ کی کوئی مستند کتاب نہیں تھی۔
اس باب میں معاصرین سے بیخود کے کیسے تعلقات تھے ، اس کا بھی تفصیلی ذکر ہے۔ ڈاکٹر موصوف کے مطابق بزرگ شعرائ و ادبائ کے ساتھ ان کے تعلقات نہایت مخلصانہ تھے اور یہ کہ ان کا حلق? احباب کافی وسیع تھا۔ پروفیسر پرویز شاہدی ، علامہ جمیل مظہری ، اجتبی حسین رضوی، سالک لکھنوی اور قمر صدیقی سے ان کے گہرے مراسم رہے۔ اس باب کا اختصاص یہ ہے کہ بیخود نے جھوٹی اور سستی شہرت کے لیے عامیانہ پن کا مظاہرہ کبھی نہیں کیا یا کبھی بھی پروپگنڈہ مشینری کا استعمال نہیں کیا۔ وہ ایک کامیاب شاعر کے علاوہ ایک بالغ نظر نقاد اور بہترین نثر نگار تھے ۔
” مضامین بیخود پر ایک طائرانہ نظر ” مذکورہ کتاب کا دوسرا باب ہے۔ اس باب میں بیخود کی نثری خدمات کا جائزہ لینے سے پہلے ڈاکٹر موصوف نے سید عبدالطیف اور پروفیسر عبدالستار کا قول نقل کیا ہے جس میں بیخود کی نثری صلاحیت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ نثر کی تعریف اور بیخود کی نثری خدمات کے حوالے سے جو مختلف رائے دانشوروں نے پیش کی ہیں، انھیں ثابت کرنے کے لیے ڈاکٹر منصور عالم نے ان کے مضامین ، مقالوں ، انشائیوں اور تقریظوں کی طرف دھیان دیا ہے تاکہ وہ یہ بتاسکیں کہ بیخود کا نثری شناخت نامہ صداقت پر مبنی ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے بیخود کے مضامین جو غالب، اقبال، داغ، شاد ، اصغر گونڈوی، پرویز شاہدی اور قمر صدیقی کی شاعری پر ہے ، اس کا حوالہ دیا ہے اور یہ بتانے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ بیخود ایک اچھے نثر نگار بھی تھے ۔
مندرجہ بالا سات شاعروں کے مضامین کے بعد بیخود کا آٹھواں مضمون ” تابان القادری” پر ہے جو ڈاکٹر محمد منصور عالم کے خیال سے بہترین نگارشات میں سے ایک ہے۔ اس میں ڈاکٹر موصوف نے یہ بتایا ہے کہ تابان القادری نے” گلدستہ جامِ نو” کے عنوان سے 46 نو مشق شاعروں کا کلام مع ان کے حالاتِ زندگی جب شائع کرنے کا ارادہ کیا تو وہ پروفیسر بیخود سے اس پر تبصرہ لکھوانے میں کامیاب ہوگئے۔ بیخود نے اس میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔
” اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعری کے لیے بلند تخیل ، مطالع? کائنات اور تحفصِ الفاظ بہت ضروری شرطیں ہیں اور ایک کمسن اور نوجوان کو مشکل سے یہ استعداد حاصل ہوسکتی ہے لیکن ایک چیز جو شاعری کی جان ہے یعنی زورِ طبع اور جوشِ بیان۔ یہ عمر کا تقاضہ ہے اور نوجوان کے کلام میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ بلاشبہ کہنہ مشق شعرائ کے کلام میں بڑی پختگی پائی جاتی ہے لیکن اکثر ان کے کلام میں انحطاطِ قوی کے ساتھ جوش کی کمی ہو جاتی ہے۔ ایک نکتہ چین نقاد باوجود سعیِ بلیغ کے بھی ان کے کلام پر انگلی نہیں رکھ سکتا لیکن اسے پڑھ کر صرف اہلِ فن ہی فن کی داد دے سکتے ہیں۔ صفحہ نمبر ( 84-83)
بیخود کا نواں مضمون ” آج کا شعری ادب ” ہے جس میں انھوں نے اپنے عہد کے شعری خ جائزہ لیا ہے اور دسویں مضمون میں اپنی طرزِ نگارش پر گفتگو کی ہے۔
” اعجازِ شعر ” کے عنوان سے ان کا گیارہواں مضمون ہے جس میں انھوں نے شعر کی اہمیت اجاگر کرنے کے ساتھ شاعری کو اعجاز سے تعبیر کیا ہے۔ بارہواں مضمون فارسی کی شاعرہ قرا? العین پر ہے۔ بیخود چونکہ بنیادی طور پر فارسی کے آدمی تھے لہذا انھوں نے فارسی کے شاعروں اور ادیبوں پر خوب لکھا۔ تیرہویں مضمون میں انھوں نے ” محمد علی باب اور بہاؤ اللہ : ایران میں بابی مذہب کی تحریک ” پر خامہ فرسائی کی ہے۔
چودھواں مضمون ” رنج و راحت ” بیخود کی انشائ پردازی کی ایک بہترین مثال ہے۔ بقول شمس الرحمٰن فاروقی ” نثر شاعری کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے اور زیادہ ہمت شکن مشغلہ ہے لیکن بیخود نے اس مشکل کو آسان کرکے پیش کردیا ہے۔” ( صفحہ نمبر88)
زیرِ نظر کتاب میں شامل بیخود کا پندرہواں مضمون ” خافی خان کی تنقید پر ایک ناقدانہ نگاہ ” بھی ڈاکٹر موصوف کے مطابق خوب ہے اور شعری تنقید کی بہترین مثال بھی۔ (یہ بھی پڑھیں ابوالکلام قاسمی بحیثیت نقاد – پروفیسر قاضی عبیدالرحمان ہاشمی )
سولہ سے لیکر بیس تک کے مضامین وحشت سے متعلق ہیں۔ ان کے بارے میں ڈاکٹر محمد منصور عالم کا کہنا ہے کہ بیخود کی نثر اپنے استاد وحشت کی نثر سے زیادہ متاثر معلوم ہوتی ہے۔ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں :
” موصوف کی نثرنگاری اور انشائ پردازی کا سب سے نمایاں اور ممتاز پہلو ان کی جامعیت اور ان کے علوم و مضامین کا تنوع ہے، ان کی ذات ان کی علمی گہرائی اور ادبی ذوق ، نقاد اور مبصر کی حقیقت پسندی اور سنجیدگی ، ادبا و انشائ پردازوں کی شگفتگی و حلاوت ، فکر و نظر کا لوچ اور مطالعہ کی وسعت کی خوبیاں اس طرح جمع ہوگئی تھیں جو شاذ و نادر ہی ایک شخص میں جمع ہوتی ہیں۔ ( صفحہ نمبر 94)
تیسرے باب میں مضامینِ بیخود کے متون ہیں جو کل پندرہ ہیں جس پر ڈاکٹرمحمد منصور عالم نے دوسرے باب میں طائرانہ نظر ڈالی ہے۔
” وحشت بیخود کی نظر میں ” زیرِ نظر کتاب کا چوتھا باب ہے جس میں پانچ مضامین ہیں ۔ (1) خان بہادر رضا علی وحشت ( 2) وحشت کے معاصرین اور شاگردان (3) وحشت اور تتبع غالب (4) وحشت کا اردو کلام اور (5) وحشت کی فارسی شاعری۔
زیرِ نظر کتاب میں ڈاکٹر محمد منصور عالم نے بیخود کی نہ صرف نثری خدمات کا تفصیلی ذکر کیا ہے بلکہ اپنی رائے سے بھی ہمیں نوازا ہے ۔ ساتھ ہی انھوں نے ایک کامیاب محقق کی طرح بیخود کے بیس (20) مضامین کو یکجا بھی کردیا ہے جو مستقبل قریب میں بیخود کی نثری خدمات کے حوالے سے تحقیق کرنے والوں کے لیے مددگار ثابت ہوں گے۔ اس تحقیقی کام کے لیے ڈاکٹر محمد منصور عالم یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔
بزرگ شاعر و ادیب قیصر شمیم کے مطابق:
” ڈاکٹر اسحاق کے بعد انھوں نے جس شخصیت پر خاص توجہ دی وہ ان کے کالج کے استادِ محترم پروفیسر عباس علی خان بیخود کی شخصیت ہے۔ ڈاکٹر منصور نے ” پروفیسر عباس علی خان بیخود : حیات و شخصیت ” کے نام سے ایک مسبوط کتاب لکھ کر 1999ئ میں شائع کی تھی اؤر اب۔۔۔۔۔ اس احساس کے تحت کہ بیخود صاحب کی شخصیت کا ایک پہلو عام طور پر لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور وہ ہے ان کی نثر نگاری……۔ منصور صاحب کی نئی کتاب ” بیخود کی نثری شناخت ” اسی پہلو سے تعلق رکھتی ہے۔ ” ( بیک کوور، بیخود کی نثری شناخت)
اس سلسلے میں ڈاکٹر پروفیسر منال شاہ القادری کا کہنا ہے ” میں سمجھتا ہوں کہ اس مجموعے سے بیخود کی ادبی تصویر کا دوسرا رخ بھی’ جو اب تک گمنام تھا ، اپنے تمام تر خد و خال کے ساتھ سامنے آگیا ہے۔ "( پیش لفظ /صفحہ نمبر 14)
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان میں فطری طور پر ذوقِ جستجو ہے اور یہی وہ جستجو ہے جو اسے نئی باتوں کو دریافت کرنے کے لیے اکساتا ہے اور وہ اس طرح تحقیق کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے اس کا تنقیدی شعور معاون ثابت ہوتا ہے کیونکہ تنقید سے ہی اس بات کا شعور ہوتاہے کہ کسی تحقیقی مسئلے کو کیسے حل کیا جائے۔ ڈاکٹر محمد منصور عالم ان تمام باتوں کے علاوہ اس بات سے بھی واقف ہیں کہ تحقیق و تنقید کی قدریں دائمی نہیں ہوتیں بلکہ فی زمانہ اس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں کیونکہ سوچنے کا نظریہ بدلتا رہتا ہے۔
زیرِ نظر کتاب کے سلسلے میں معروف افسانہ نگار انیس رفیع صاحب کا کہنا ہے :
” پروفیسر محمد منصور عالم کی اردو، فارسی ، انگریزی کی یہ پندرہویں تصنیف ہے۔ ان کی کتابوں میں کچھ ایسے اصحابِ ادب کے تذکرے ملتے ہیں جو گوشۂ گمنامی میں چلے گئے ہیں یا پھر ان کی ادبی شخصیت کا کوئی اہم پہلو نظر انداز ہوا یا کسی افسانے یا شاعری کی بے انتہا شہرت کے باوجود اس کے شعری سرمایہ کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہو ۔ یہ کتاب ایسی ہی تصنیف ہے جو نامعلوم کو معلوم تک پہنچانے کا فریضہ انجام دے گی۔ شاید اسی کو تحقیقی تجسس کہتے ہیں۔ ” ( استاذی پروفیسر بیخود کے نثر پارے /صفحہ نمبر 32)
مغربی بنگال کی ادبی تحقیق کے سلسلے میں کام کرنے والوں کی جو فہرست ہے بلاشبہ ڈاکٹرمحمد منصور عالم اس فہرست کے صفِ اول کے محققین میں شامل ہیں۔ ” بیخود کی نثری شناخت ” سے پہلے تحقیقی موضوع پر ان کی کئی کتابیں آچکی ہیں ۔ تحقیقی کام میں مطالعہ کے ساتھ ساتھ کافی بھاگ دوڑ کی ضرورت پڑتی ہے لیکن یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر موصوف کے یہاں وہی جوش اور ولولہ ہے جو جوانوں کے یہاں ہوا کرتا ہے۔ دراصل ان کے اندر کا محقق اس عمر میں بھی انھیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتا ۔ ڈاکٹر محمد منصور عالم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ موضوع کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی وہ خاصیت ہے جو انھیں درج? امتیاز عطا کرتی ہے۔ یہاں ایک بات اور بتاتا چلوں کہ ڈاکٹر موصوف کو اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں پر دسترس حاصل ہے اور انھوں نے اب تک ان زبانوں میں تقریباً 95 مضامین لکھ چکے ہیں۔ فارسی زبان میں ان کی نمایاں خدمات کے لیے ان کو 2011ئ میں صدارتی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
جلد ہی ان کی ایک کتاب ” وحشت بنام بیخود ” منظر عام پر آنے والی ہے۔؎
اس کے علاوہ کچھ اور آنے والی کتابوں کے نام ہیں(۱)وحشت کا فارسی کلام (۲)وارثینِ ٹیپو سلطان کی علمی و ادبی خدمات (۳)دیوانِ عبیدی۔۔۔۔ ایک مطالعہ (۴)جسٹس کے۔ایم۔ یوسف۔۔۔۔ ایک کثیرالجہات شخصیت اور (۵)نواب بہادر عبد الطیف : حیات و خدمات ( زیر طباعت )۔
اللہ ڈاکٹر محمد منصور عالم کو حصارِ خیر میں رکھے تاکہ تحقیق و تخلیق کا یہ سلسلہ دراز رہے اور مغربی بنگال کا اردو زبان و ادب اس چشمۂ فیض سے سیراب ہوتا رہے۔
عظیم انصاری
جگتدل، مغربی بنگال (9163194776)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

