Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

خوابوں کی تعبیر:سیر کر دنیا کی غافل – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض

by adbimiras اگست 24, 2021
by adbimiras اگست 24, 2021 0 comment

بیسویں صدی کے نصف آخر میں جن چند خواتین نے اردو زبان و ادب میں اپنا مقام بنایا،ان میں ایک نام پروفیسر صغرا مہدی کا بھی ہے۔یوں تو صغرا مہدی ہمہ جہت شخصیت کی مالک تھیں۔لیکن وہ فکشن نگار کی حیثیت سے زیادہ معروف و مشہور ہوئیں۔جہاں انہوں نے ناول اور ناولٹ لکھے،وہیں افسانہ اور کہانی میں بھی خوب نام کمایا۔یہ بہت عام سی بات ہے کہ شخصیت کے مختلف پہلو ہونے کے باعث کوئی ایک حصہ ہی تمام چیزوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔اور یہی صغرا مہدی کے ساتھ بھی ہوا۔انہوں نے اکبر الہ آبادی کے کلام کا انتخاب کیا اوران پر مونوگراف بھی لکھا۔انہیں ’’اکبر الہ آبادی کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ‘‘پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی۔اور اکبر کے باب میں یہ کتاب حوالے کی کتاب مانی جاتی ہے۔انہوں نے ترتیب کا بھی کام کیا۔اس سلسلے میں انہوں نے اپنی ممانی(صالحہ عابد حسین)کی ڈائری’’تسبیح روز و شب‘‘ابھی حال ہی میں ترتیب دے کر جامعہ مکتبہ سے شائع کرائی۔عابد حسین کی خود نوشت’’حیات ِ عابد‘‘کو صغرا مہدی نے ترتیب دے کر شائع کرایا۔ واضح ہو کہ عابد حسین صاحب صغرا مہدی کے ماما تھے۔اور صالحہ عابد حسین کے شوہر تھے۔اس کے علاوہ انہوں نے ’’غلام ربانی تاباں:شخصیت اور ادبی خدمات‘‘کے عنوان سے بڑی زبردست کتا ب ترتیب دی۔جس سے غلام ربانی تاباں کی مکمل زندگی کا احاطہ کر لیا گیا ہے۔اور ابھی انہوں نے خواجہ احمد عباس کے افسانوں کا ایک انتخاب’’اگر مجھ سے ملنا ہے‘‘کے عنوان سے کیا ہے۔جس کی رسم اجرا ان کی وفات سے چند دن پہلے عمل میں آئی ۔ترجمے کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی شناخت بنائی۔اور اس ضمن میں ان کی دو کتابیں منظر عام پر آئیں۔ان میں سے ایک ہندی ناول کا ترجمہ’’راجدھانی میں ایک مہم‘‘ہے۔اور دوسری کتاب’’ہندوستان میں عورت کی حیثیت‘‘ہے۔آخر الذکر کے دو ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔طنز و مزاح کے باب میں بھی ایک کتاب’’بے خطر کود پڑے‘‘کے عنوان سے ہے۔جسے قاری حضرات نے خوب سراہا۔صغرا مہدی نے مختلف شہروں اور ملکوں کا سفر کیاہے۔اور اس سفر کی روداد انہوں نے اپنے سفر ناموں میں بیان کی ہے۔اس سلسلے میں ان کے دو سفر نامے شائع ہوئے۔ایک’’میخانوں کا پتا‘‘اور دوسرا’’سیر کر دنیاکی غافل۔۔۔‘‘کے عنوان سے ہے۔سیر وسیاحت کے لئے وہ اتنی مشہور ہوئیں کہ پروفیسر مشیر الحسن نے انہیں’’ابنِ بطوطی‘‘کا خطاب دیا۔اور مشہور طنز و مزاح نگار یوسف ناظم نے’’کچھ ابنِ بطوطی کے بارے میں‘‘کے عنوان سے ان پر ایک خاکہ بھی لکھا۔جو ان کے سفر نامے’’سیر کر دنیا کی غافل۔۔۔‘‘میں شامل بھی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اقبال سہیل کی تنقیدی بصیرت – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض)

صغرا مہد ی کا سفر نامہ’’سیر کر دنیا کی غافل۔۔۔‘‘کتابی صورت میں پہلی بار ۱۹۹۴ میں منظرِ عام پر آیا۔اس سے پہلے اس سفر نامے کے کچھ حصے قسط وار ’’کتاب نما‘‘میں شائع ہوئے تھے۔جیسے ’’مشاہداتِ ابن ِ بطوطی‘‘تین قسطوں میں شائع ہوا۔صغرا مہدی کا سفرنامہ ’’سیر کر دنیا کی غافل۔۔۔‘‘پڑھنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ،بیرون ملک کا سفر ان کے خوابوں کی حقیقی تعبیر ہے۔سیر و سیاحت کی ہر زمانے میں اہمیت رہی ہے۔اور تا وقتیکہ کی جاری ہے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ سفر کے لئے اتنی سہولیات میسر نہ تھیں۔اس کے باوجود لوگ سفر کی صعوبتیں اٹھا کر دور دراز کا سفر کرتے تھے۔اگر لوگوں نے یہ سفر نہ کئے ہوتے،تو دنیا کی تاریخ اتنی مبسوط نہیں لکھی جا سکتی تھی۔اور ہم بہت ساری چیزوں سے نا واقف ہی رہتے۔لوگوں نے سفر کر کے ہی نئی نئی چیزوں سے آگاہ کیا۔اور اسی توسط سے آنے والی نسلو ں کے لئے بہت سا سرمایہ اکٹھاکیا۔لیکن جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا گیا،اس طرح کی چیزوں کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کم ہوتی گئی۔لیکن اس کی اہمیت سے یکسر انکار ممکن نہیں۔اس سلسلے میں اگر ہم صغرا مہدی کاسفر نامہ’’سیر کر دنیا کی غافل۔۔۔‘‘کو دیکھیں تو ہمیں بہت ساری چیزوں کی معلومات ہوتی ہے ۔ویسے تو صغرا مہدی اردو کی معروف فکشن نگارہیں۔لیکن انکی اور جودوسری جہتیں ہیں،وہ بھی کچھ کم قابل توجہ نہیں۔ان کے یہاں جو طنزو مزاح کی چاشنی ملتی ہے،اسے ’’سیر کر دنیا کی غافل۔۔۔‘‘میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

صغرا مہدی کا سفر نامہ’’سیر کر دنیا کی غافل۔۔۔‘‘کا تہذیبی حوالے سے مطالعہ کیا جائے تو اس لئے بھی زیادہ مناسب ہوگا کہ ،جہاںانہوں نے بیرونِ ممالک کا ذکر کیا ہے،وہیں ہندوستان کا بھی ذکر کیا ہے۔اور موازنہ کرتے ہوئے کس طرح کا افسوس کیا ہے،اس کا اندازہ درج ذیل اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے:

’’ہمارے پیچھے ایک نوجوان خاتون کی باری تھی۔انہوں نے اطمینان سے بچے کو گود میں لیا اور پھر پریم کو فولڈ کیا اور پھر اطمینان سے بس میں چڑھیں اور پریم کو ایک کونے میں کھڑا کرکے بچے کو لے کرسیٹ پر بیٹھ گئیں۔میری نظروں میں کوئی اور ہی منظر گھوم رہا تھا۔دھکم دھکا،روتے،کچلتے بچے،بد تمیزیاں،بد زبانیاں کرتے کنڈکٹر ڈرائیور اور چلتی بسوں میں چڑھتے لوگ۔ ‘‘

(سیرکر دنیا کی غافل۔۔۔،صغرا مہدی۔مکتبہ جامعہ لمٹیڈ۔دسمبر۱۹۹۴۔ص۔۲۰)

درج بالا اقتباس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لندن اور ہندوستان کے (Bus Stop)اور اس کے بعد سوار ہونے کے مرحلے میں کس طرح کا فرق ہے۔جس خوبصورتی سے صغرا مہدی نے ہندوستان کی بسوں میں سوار ہوتے ہوئے لوگو ں کا نقشہ کھینچا ہے،ایسا لگتا ہے کہ پورا منظر نظروں کے سامنے آگیا ہے ۔ طنز ومزاح کی جو باتیں ان کے یہاں ملتی ہیں،وہ قابلِ توجہ ہیں اس لئے ہیں کہ ان میں بلا کی برجستگی ہے۔اور ایسا لگتا ہے کہ ایک دو جملے میں انہوں نے وہ ساری باتیں کہ دی ہیں،جس سے سامنے والا شخص سمجھنے کے ساتھ ساتھ لطف اندوز بھی ہو جاتا ہے۔

’’سیر کر دنیا کی غافل۔۔۔‘‘دراصل صغرا مہدی کے خوابوں کی تعبیر ہے۔کیونکہ انہوں نے ہندوستان کے بہت سے شہروں کا سفر کیا ہے۔اس سلسلے کا ایک حصہ اس کتاب میں’’بچپن کی تلاش‘‘کے عنوان سے ہے۔جس میں انہوں نے بھوپال اور آس پاس کے حصوں کو بڑے اچھے انداز میں پیش کیا ہے۔اس طرح کے اندرون ملک کے سفرسے دوسرے ممالک کی سیر کرنے کا شوق پیدا ہوا۔لیکن1980 کے آس پاس عام طور سے صرف سیر وتفریح کی غرض سے کم ہی لوگ ایسے تھے،جو اپنے شوق کے پیچھے اس طرح سے قرض لیکر سفر کرتے  تھے۔چونکہ وسائل بہت محدود ہوتے تھے۔اور آمدنی اتنی نہیں ہوتی تھی کہ کہیں سیر وتفریح کے لئے جایا جا سکے۔لیکن صغرا مہدی انہی چند لوگوں میں سے تھیں،جنہوں نے اپنے شوق کے لئے لوگوں سے قرض لیا۔اور سب سے پہلے انہوں نے لندن کا سفر کیا۔در اصل یہ سفر لندن کے ساترھ ساتھ اور دوسرے ملکوں کا بھی تھا۔لیکن ان سب کا ذکر ضمناً کیا گیا ہے۔اپنے لندن کے سفر کے متعلق لکھتی ہیں:

’’ٹکٹ تو آگیا مگر اپنے ساتھ لے جانے کے لیے ایک پیسا نہیں تھا۔اس کے لئے عزیزوں،دوستوں نے چندہ کرکے تین ہزار روپے کا انتظام کیا۔اسٹیٹ بینک سے فارن ایکسچینج میں گیا۔دو سو پچانوے پونڈ اور وہاں ستر ڈالر اور بھی ملیں گے۔اس کے لیے پھر چندہ۔سولہ کو کرنل زیدیکے گھر ہمارا رخصتی لنچ اور لنچ کے دوران ان کے سفر کے دلچسپ قصے۔اور اس سفر پر اظہار خوشی ومسرت۔اسی دن بر صغیر کی مشہور ادیبہ قرۃ العین حیدر بھی علی گڑھ سے دہلی آئیں اور بر بنائے وضع داری ہم سے ملنے ہمارے گھر آئیں تو ہم نے فرض کر لیا کہ وہ خاص طور سے ہمیں رخصت کرنے علی گڑھ سے آئی ہیں۔ایسی باتیںفرض کرنے میں کیا حرج ہے؟‘‘

)’’سیر کر دنیا کی غافل۔۔۔‘‘۔صغرا مہدی،جامعہ مکتبہ لمیٹڈ،جامعہ نگر۔1994ص۔ (12

درج بالا اقتباس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس حالت میں جب کہ ان کے پاس سب سے بڑا وسیلہ پیسہ نہ ہوتے ہوئے بھی ان کا حوصلہ مدھم نہیں پڑا۔ دوستوں سے قرض لیکر اپنا یہ شوق پورا کرنے کے لئے سامان سفر بھی تیار کر لیا،اورلندن کے لئے نکل پڑیں۔چونکہ صغرا مہدی ایک فکشن نگار تھیں اس لئے انہوں نے اپنی تیسری آنکھ سے وہاں کے سماج کو دیکھا۔حقیقت یہ ہے کہ لندن میں بھی انہیں ہندوستان ہی دکھتا تھا۔لیکن وہاں اور ہندوستان کے بیچ جو فرق ہے اسے بڑے درد سے بیان کیا ہے۔ان کا یہ سفر کل تین ہفتے پر مشتمل تھا۔ غرض کہ اپنے اس شوق کی تکمیل کے لئے انہیں قرض تک لینا پڑا۔اور قربان جائیے اس شوق پر کہ قرض کی ادائیگی کے بعد دوبارہ سفر کاارادہ بھی کر لیا۔ان کے سفر کے متعلق پروفیسر خالد محمود نے لکھا ہے :

’’صغرا مہدی کا کمال یہ ہے کہ وہ کم سے کم مدت میں زیادہ سے زیادہ گھومنے پھرنے اور ہر چیز کو بغور دیکھنے کی کوشش کرتی ہیں ۔یہ خوبی ان میں اس لئے پیدا ہوئی کہ وہ ایک حقیقی سیاح کی مانند سفر ہی کو اپنا مقصد اور منزل بنا کر گھر سے نکلی ہیں۔۔۔سفر ہی ان کا مقصود سفر ہے ،یہی وجہ ہے کہ وہ سفر میں اس قدر محو ہو جاتی ہیں کہ انہیں کھانے پینے اور آرام کرنے کا ہوش بھی نہیں رہتا۔سفر نامہ لکھتے وقت سفر کی یہی محویت اسلوب کی راہ سے ان کی تحریر میں اتر آتی ہی اور تحریر کے وسیلے سے قاری پر طاری ہو جاتی ہے ۔محویت کا سفر ہی دراصل سفر کے مقصود سفر ہونے کی دلیل ہے۔‘‘

ایضاً۔ص۔143

صغرا مہدی کے سفرنامے میں ایک سفر نامہ’’چلتے ہو تو موریشس چلیے‘‘کے عنوان سے ہے۔دراصل موریشس میں ایک عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔اور آئی۔سی۔سی آر ۔کی طرف سے ہندوستان سے ایک وفد جا رہا تھا۔جس میں شرکت کے لئے مختلف لوگوں کے نام میڈیا کے ذریعہ صغرا مہدی کو بھی پتا چلا۔انہوں نے اپنے دل میں اس پروگرام میں شرکت کی خواہش ظاہر کی۔اور ہوا بھی وہی کہ کچھ دنوں بعدان کو کسی صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ اس وفد میں آپ کا بھی نام ہے۔چونکہ صغرا مہدی کو ایک زمانے سے موریشس جانے کی خواہش تھی،اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے بہت سے شاگرد ِ عزیز وہاں تھے،جو ان کو برابر آنے کی ضد کرتے۔لیکن ایساکوئی خاص موقع انہیں نہیں ملا کہ وہ موریشس جا سکیں۔لیکن یہ ایک ایسا حسن اتفاق تھا کہ خواہشات کی تکمیل ایک تاریخ کا حصہ بن گئی۔سفرِ موریشس کے ارادے کے متعلق لکھتی ہیں:

’’ہماری ایک طالب علم یاسمیں بودھی بھی موریشس کی تھیں۔جب وہ تعلیم ختم کرکے جانے لگیں انہوں نے ہمیں موریشس آنے کی پر زور دعوت دی۔’’آپ موریشس کو بہت پسند کریں گی ضرور کبھی آئیے۔‘‘’’ضرور‘‘ہم نے فوراً وعدہ کر لیا۔اور اب جن ملکوں کی سیر کا ارادہ ہے ان میں موریشس کا اضا فہ بھی کر لیاہے۔وقت گزرتا رہا۔یاسمین پچھلے سال ہندوستان آئیں اور انہوں نے موریشس آنے کا وعدہ لیا۔ہم نے کہا ضرور جلد ہی آئیں گے۔‘‘

ایضاً ۔ص121.

درج بالا اقتباس سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ صغرا مہدی کو موریشس جانے کا شوق ایک زمانے سے تھا۔اور جب وہاں جانے کا موقع ملا تو وہ ایک خوشگوار اور تاریخی سفر بن گیا۔جب وہاںیا اور کہیںبھی اس کانفرنس کی بات ہوگی تو کسی نہ کسی حوالے سے صغرا مہدی کا بھی ذکر ہوگا۔ویسے موریشس ایک بہت خوبصورت ملک ہے ۔ہے تو ایک چھوٹا سا ملک،لیکن اپنی خوبصورتی کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہی سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔اب تووہاں لوگ اردو کو تیسری زبان کے طور پر سیکھتے اور پڑھتے ہیں۔اور وہاں روز بروز اردو ترقی کرتی جا رہی ہے۔وہاں کی خوبصورتی کے متعلق صغرا مہدی کے یہ جملے ملاحظہ ہوں: (یہ بھی پڑھیں ہند و عرب کے علمی تعلقات – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )

’’موریشس اپنے خوبصورت بیچوں کے لئے مشہور ہے دو ایک بیچ ہم نے بھی دیکھے۔چوڑے چوٹے ساحل اور دور تک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر،سمندر میں بوٹنگ کرتے جوڑے،اس دن اتوار کی وجہ سے کافی چہل پہل تھی۔واپسی میں ہم س بیچ پر اترے جہاں خواتین وحضرات بیچ کے روایتی لباس میں اِدھر ُادھر گھوم رہے تھے۔زیادہ تر غیر ملکی تھے اور لگتا تھا کہ یہ وہ  جگہ ہے جہاں زیادہ تر انگریز اور فرانسیسی لوگ رہتے ہیں۔‘‘

ایضاً۔ص۔129

صغرا مہدی نے موریشس کو جس طرح پایا اسی طرح بیان کر دیا۔چونکہ یہ عالمی اردو کانفرنس تھی تو بہت سے ملکوں کے ادیب و نقاد آئے ہوئے تھے۔اور ہندوستان سے بھی کئی اہم ادبی شخصیتوں کی شرکت ہوئی تھی۔اسی سبب ان کا یہ سفر بہت ہی کامیاب اور خوشگوار رہا۔

اس کتاب میں صغرا مہدی کے کل پانچ سفرنامے شامل ہیں۔دو لندن کے،ایک موریشس اور ایک پاکستان کا۔بیرون ممالک کے علاوہ ایک سفر نامہ ان کے آبائی وطن بھوپال کا بھی شاملِ کتاب ہے۔پاکستان ان کا کئی مرتبہ جانا ہوا۔لیکن وہاں کاکوئی بھی سفر ادبی سفر نہیں رہا۔بلکہ ان کی بڑی بہن وہاں تھیں تو اسی سبب صغرا مہدی کا وہاں کئی بار آنا جانا  ہوا۔صغرا مہدی نے وہاں کا جو نقشہ کھینچا ہے،وہ ہندوستان سے بہت مختلف نہیں نظر آتا۔مانگنے والوں کی تعداد نا یہاں کم ہے اور نا وہاں ۔بس انداز الگ الگ ہے۔بسا اوقات ان کا انداز اتنا مختلف ہوتا ہے کہ اندازہ کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔صغرا مہدی نے لاہور کوچ اسٹیشن پر مانگنے والوں کے انداز کے متعلق لکھتی ہیں:

’’ لاہور پر ایک نظر ڈالی خاصی چہل پہل تھی ۔مگر غضب کی گرمی تھی۔ہم ویٹنگ روم سے باہر نکلنے کو ہوئے تو ایک خاتون  آگے بڑھیں اور پنکھا جھلنے لگیں۔ہم نے شک گزار نظروں سے انہیں دیکھا۔سوچے ویٹنگ روم سے متعلق کوئی خاتون ہوں گی۔آگے بڑھے تو بولیں’’باجی ایک روپیہ بچہ بھوکا ہے۔‘‘ہم نے جلدی سے ان کو ایک روپیہ تھمایا۔اور بڑھے تو کئی اور خواتین پنکھے لئے آگے بڑھیں اور جھل جھل کر پیسے مانگنے لگیں۔ان سے پیچھا چھڑا کر ایک دکان پر گئے کہ کچھ ٹھنڈاپیئیں تو کئی اورخواتین  نے پنکھوں سمیت ہمیں گھیر لیا۔ہم نے دکاندار سے پوچھا’’یہ لوگ پنکھا کیوں جھل رہی ہیں‘‘بولے’’پیسے مانگنے کے لئے۔‘‘ہمیں ان کے پیسے مانگنے کا یہ انداز بہت بھایا۔‘‘

ایضاً۔ص۔116

اس اقتباس سے اس بات کا اندازہ تو ہوتا ہی ہے کہ فکشن نگار سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایک فکشن نگار ہی ہوتا ہے۔ واقعے کا بیان ،زبان کا چٹخارہ پن اور لفظوں کا برجستہ استعمال۔اس اقتباس میں سب کچھ موجود ہے۔بٹوارابجز چند لوگوں کے، عوام کے لئے کبھی بھی قابلِ قبول نہیں رہا۔اور اسی عوام کی فہرست میں صغرا مہدی بھی اپنے آپ کو شمار کرتی ہیں۔اور بٹوارا ان کے نزدیک گھر کے دو حصے کے ہی برابر ہے۔جہاں محبت بھی ہے،اپنا پن بھی ہے،اور ایک دوسرے کا خیال بھی۔وہ لکھتی ہیں:

’’ہندوستان ،پاکستان تو ہمیں ایسے لگتے ہیں جیسے ایک بڑے گھر میں رہنے والے دو بھائیوں نے لوگوں کے بہکانے اور کہنے سننے میں آکر بٹوارا کر لیاہے اور ایک لمبی اور اونچی دیوار کھڑی کر لی ہے مگر دونوں دیوار کے اِ دھر اُدھر ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے ذرا بھی غافل نہیںہوتے۔چھیڑ چھاڑچلی جاتی ہے،کبھی گالی گفتار کبھی ملاحیاں،آناجانابھی،روٹھنا اور مننا،طنز و طعن بھی اور بد گمانیاں اور صفائیاں بھی،اللہ بھلا کرے بھڑکانے والوں کا کہ بی جمالو پن سے باز نہیں آتے اور اب بٹوارے کو اتنے دن ہو گئے ہیں کہ،دیوار اتنی اونچی اور مضبوط ہے کہ اب اس گھر کے آدھے حصہ کا شمار پڑوس میں ہونے لگا ہے۔‘‘

ایضاً۔ص۔111

درج بالا اقتبا س سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ے کہ کس طرح سے ایک حصے کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ چونکہ یہ سارا کھیل کہیں نہ کہیں صغرا مہدی کے ہوش میں کھیلا گیا۔ان کے اس سفر پاکستان میں جس کی روداد ہمارے سامنے’’ذرا یہیں پڑوس میں‘‘کے عنوان سے ہے۔اس سفر میں کچھ پاکستان کے بڑے ادیبوں سے ملاقات بھی ہوئی۔اور کچھ نے پاکستان کی آمد پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔لیکن عدم ملاقات سے کہیں نہ کہیں ان لوگوں کو مایوسی ہوئی۔جو ان کو استقبالیہ دینا چاہتے تھے۔ویسے صغرا مہدی پہلے ہی سے ایک لمبی فہرست بنا لیتی ہیں کہ کہاں کہاں جانا ہے اور کیا کیا دیکھنا ہے۔مارکٹنگ کا ان کو بہت شوق تھا۔اس لئے اپنے اس محبوب مشغلے کے لئے وہ کیسے بھی کر کے وقت نکال لیتی تھیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے ہی سے ساری چیزیں تیار کر لیتی تھیں۔اسی وجہ سے وقت مقررہ پر نکل جاتی تھیں۔مارکٹنگ کے لئے وہ اس قدر مشہور ہو گئی تھیں کہ ،ہمسفر حضرات ان سے ہمیشہ اس کی تاکیدکرتے تھے کہ زیادہ وقت نہ لگائیں۔چونکہ انہوں نے اپنے سفر نامے کو ایک مضمون کی شکل میں لکھا ہے،اور اسی وجہ سے ان کے سفر نامے طویل نہیں ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں حامد حسن قادری کی زندگی کے چند روشن پہلو – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )

اس سفر نامے کے مجموعے’’سیر کر دنیا کی غافل۔۔۔‘‘میں ایک سفرنامہ ان کے آبائی وطن بھوپال کا ’’بچپن کی تلاش میں‘‘کے عنوان سے ہے۔جس وقت انہوں نے اپنا یہ سفر کیا تھا ،اس وقت جناب عزیز قریشی صاحب ریاست بھوپال کے وزیر تھے۔اور صغرا مہدی کی پہلی ملاقات اسی سفر میں ہوئی۔چونکہ ان کا بھوپال صالحہ عابد حسین کے ساتھ جانا ہوا تھا۔اور محترم وزیر(عزیز قریشی،موجودہ گورنر،اترا کھنڈ) صالحہ عابد حسین کی بڑی عزت کرتے تھے۔اور ان کے بڑے قدر دان تھے۔اسی سبب ان لوگوں کے ٹھہرنے کا بند وبست عزیز قریشی کے گھر ہی پر تھا۔شروع شروع میں ان کو وہاں کچھ عجیب لگا۔بار بار کسی ہوٹل میں ٹھہرنے کا مطالبہ کرتی رہیں۔لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا۔گھر والوں کے کردار سے انسیت بڑھتی گئی۔بالآخرجب تک بھوپال قیام رہا،ان کے گھر ہی مقیم رہیں۔بھوپال آبائی گھر ہونے کے ناطے ایک خاص لگاؤ فطری تھا۔اقبال مسعود،آفاق احمد صدیقی،آفاق احمد،مختار شمیم صاحبان جیسے حضرات بیک وقت کسی کو مل جائیں تو یہ دلچسپی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ان لوگوں نے صغرا مہدی سے ایک ایک چیز کا ذکر کیا،اور صغرا مہدی نے پوچھا بھی۔جہاں بھی جانے کی خواہش ظاہر کی ان تمام حضرات نے حتی الامکان پورا کرنے کی کوشش کی۔دراصل ان کے سفر نامے کا سلسلہ ان کے سفر بھوپال ہی سے شروع ہوا۔عزیز قریشی کی خالہ نے صغرا مہدی سے بھوپال کے کچھ خاص انداز کی چیزوں کا ذکر کرایا،جس کا تعلق وہاں کی رسم ورواج سے ہے،اس کو صغرا مہدی نے ان جملوں میں بیان کیا ہے:

’’بھوپال کی تہذیب اور رسم و راوج کے بارے میں وہ ہمیں تفصیل سے بتائیں۔شادیوں کے سلسلے میں انہوں نے بتایا،وہاں بہت زیادہ دھوم دھام نہیں ہوتی۔نکاح مسجدوں میں ہوتے ہیں۔براتیوں اور مہمانوں کی خاطرصرف پان اور ہار سے ہوتی ہے۔نکاح کے بعدمٹھائی یا چھوارے بٹتے ہیں۔اور بس۔وہاں سمدھنوں کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔۔۔۔۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اب منگنی کی رسم کو وہاں ’’پاندان‘‘نہیں کہتے بلکہ منگنی ہی کہا جاتا ہے۔‘‘

ایضاً۔ص۔97

درج بالا اقتباس سے اس بات کا اندازہ بڑی آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ آبائی وطن ہونے کی وجہ سے،جو دلی لگاؤ ہے وہ یہاں ان کے جملے سے عیاں ہوتا ہے۔ممکن ہے کہ ایسا کسی خاص حصے یا مخصوص لوگوں کے یہاں ہوتا ہو۔ورنہ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ایک طرف تو سمدھنوں کو خاص اہمیت دینا ،دھیرے دھیرے ہندوستانی تہذیب کا ایک حصہ ہوتا جا رہا ہے،جب کہ بھوپال میں دروازے پر آئے ہوئے مہمان( سمدھی)کو خاص اہمیت ہی نہیں دی جا رہی ہے۔

صغرا مہدی  کے سفرنامے کا یہ مجموعہ’’سیر کر دنیا کی غافل۔۔۔‘‘عام سفر نامے سے ہٹ کر ہے۔اس میں اس تفصیل سے کسی بھی چیز کا ذکر نہیں ہے،جو عام طور پر سفر ناموں میں ہوتا ہے۔پل پل کی معلوت مع تاریخ وسن۔لیکن یہ چیزیں عام طور پر صغرا مہدی کے سفر ناموں میں مفقود ہے۔ البتہ ان کے سفر نامے کی جو سب سے اچھی بات ہے،وہ یہ ہے کہ ان کے یہاں ’’میں‘‘نا کے برابر ہے۔کیونکہ وہ اپنے آپ کو نمایاں نہیں کرتیں۔اور جہاں ان کی معلومات نہیں ہے،تو وہ اپنی کم علمی کو چھپاتی بھی نہیں،بلکہ خود اپنے پر ہنستی ہیں۔اور اس چیز کو اس طرح سے بیان کرتی ہیں کہ قاری بھی اس سے خوب لطف اندوز ہوتا ہے۔اور یہی ان کے سفر نامے کی سب سے اہم کڑی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ وہ جھوٹ کا سہارا لیں،اور نا معلوم جگہوں کو بھی آشنا سمجھیں،تاکہ قاری ان کے ذہانت کی جھوٹی داد دے سکیں۔

صغرا مہدی نے اپنی پوری زندگی اردو زبان وادب کی خدمت کی نذرکر دیا۔انہوں نے واقعات کو جس طرح سے بیان کیا ہے ،وہ ان کا اپنا خاص انداز تھا۔یہی انفرادیت صغرا مہدی کی اپنی پہچان ہے ۔ایک ہی جملے میں قاری کوبہت ساری چیزوں کی طرف اشارہ کرا دیتی ہیں ۔اور اسی جملے میں چھپا ان کا طنز بھی دیکھا جا سکتا ہے۔اور اس طرح کے بے شمار واقعات اس سفر نامے میں بیان کیے گئے ہیں۔اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہیں،لیکن انکے یہ ادبی کارنامے آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بنیں گے

 

 (مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

شاہ نواز فیاضصغریٰ مہدی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
شاکر کریمی کی غزلیہ شاعری – ڈاکٹر نوشاد منظر
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں