احمد کمال حشمی کا ۔۔۔’’سنگ بنیاد‘‘ – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
فن پارہ کیا ہے بس جذبات کا لفظی اظہار۔چونکہ غزل ایک مقبول ترین صنف ہے اس لیے اس کے پیمانے میں شاعر شعریات کے حدود میں رہ کرقاری کے سامنے اپنے احسا سات وجذبات کوپیش کرتا ہے۔اگر اس فن پارے کو اجتماعی شعور کا حصہ بنے میں کامیابی ملتی ہے تو اس کا خالق عوامی شاعرکی صف میں کھڑا ہوجاتا ہے اور مقبولیت کا تاج اس کے سر پر رکھاجاتا ہے۔اس کتاب میں شامل تمام شعراء کے سر پر زمانے نے یہ تاج رکھا ہے۔اس لیے احمد کمال حشمی ان تاجوروں کے ایوان شاعری پر دستک دی ہے۔صرف دستک ہی نہیں دی ہے بلکہ ان کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے ان کی ایک غزل کے پانچ اشعار کو منتخب کرکے ان پر تضمین کی شاعری کرنے کی جسارت کی ہے۔بقول عاصم شہنواز شبلی:
’’احمد کمال حشمی کا کمال یہ ہے کہ وہ تضمین کو اظہار مطالب کا وسیلہ بنانے کے لیے کسی دوسرے شاعر کے شعر یا مصرعے پر اس طرح گرہ لگاتے ہیں کہ نہ صرف شعر کی اجنبیت اور نامانوسیت ختم ہوجاتی ہے،بلکہ تضمین شدہ شعر یا مصرع ان کے اپنے کلام ہی کا حصہ معلوم ہونے لگتا ہے۔‘‘ ص:۱۲
کوئی بھی فن پارہ ذہنی اپیل سے زیادہ جذباتی اپیل کرنے لگے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ فن کار کے نزدیک جذباتی زندگی کے مسائل زیادہ زیر غور ہیں۔اس کتاب میں جن شعرا ء کی غزلوں کا انتخاب ہوا ہے ان میں ذہنی کم اور جذباتی اپیل زیادہ ہے لیکن اس جذباتی اپیل سے زمانے کی تہہ وبالاگی نہیں ہورہی ہے بلکہ ایک آسودگی کا احساس ہوتا ہے جو صحرا میں سفر کے دوران اچانک ملے شجر سایہ دار کی چھائوں میں میسر ہوتی ہے۔ایسا اس لیے کہ بیشتر منتخب کلام رومانیت کے گارے سے تشکیل ہوئے ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں نصرت مہدی کی شعری کائنات – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی )
زیر نظر کتاب میں میر تقی میر سے لیکرحشم الرمضان تک جو بھی نامور شعراء آئے وہ سب کے سب احمد کمال حشمی کے مطالعے میں آئے ہیں پھر انہیں کے رنگ میں تضمین سامنے آیا ہے۔کل انچاس شعراء کے رنگ و لہجہ ،فضاء اور شعریات کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی بات کوپیش کرنا ناممکن نہیں تو اتناترنوالہ بھی نہیں ہے لیکن احمد کمال حشمی نے اس پل صراط سے گذرتے ہوئے’’سنگ بنیاد‘‘ کوایوان ادب کے ادبی میزان پر رکھ کربنگال کے پہلے صاحب کتاب تضمین نگار ہونے کاشرف حاصل کیا جو ایک بڑی بات ہے کیونکہ اس سے ادب کی ارتقائی کڑیا ں دراز ہوتی ہیںاور ارتقائی کڑی کی درازی ادب کی بنیاد کو پائیدار بناتی ہے۔
اپنی ٹھوکر سے ہٹا ڈالے ہیں روڑے ہم نے
ضربِ سر مار کے پتھر بھی ہیں توڑے ہم نے
بحر سے بر کے تعلق بھی ہے جوڑے ہم نے
’’دشت تو دشت ہیں دریابھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے ‘‘
احمد کمال حشمی نے زیر نظر کتاب میں شامل شعراء کے مزاج اور ان کی شاعری کے رنگ میں پہلے خود کو ڈھالا ہے اس کے بعدان شعراء کی غزلوں کے اشعار کو سنگ بنیاد بناکر تضمین کا عمل پورا کیاہے۔ان کے یہاں یہ شعور جاگزیں ہے کہ تضمین نگار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ جس شاعر کے اشعار کو تضمین کے لیے منتخب کرے اس کی فضاء،اتارچڑھائو،ذہنی کیفیت تضمین کے مصرعے میں قائم ودائم رہے ورنہ تضمین کو دو لخت ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جس شاعر کے شعر کو سنگ بنیاد بنایا ہے اور اس کے اوپربطورتضمین تین مصرعے کہے ہیں وہ کہیں بھی دو لخت نہیں ہو ئے ہیں بلکہ ان کے ہنر کا کمال یہ ہے کہ پانچوں مصرعے ایک اکائی کی صورت قاری کی نگاہوں کے سامنے آتے ہیںجس کے باعث ان کی تضمین نگاری پر کرومولوجی کا یہ نظریہ صادق آتا ہے کہ دوالگ الگ رنگوں کو ملانے سے ایک تیسرا رنگ پیدا ہوتا ہے جس کی اپنی انفرادیت ہوتی ہے۔احمد کمال حشمی کی تضمین نگاری سے فکر کی ایک نئی جوت نکلتی ہے جو قاری کے ذہن میں منتقل ہوتی ہے ۔اس عمل کے دوران ترسیل کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔کہنے کا لب و لباب یہ ہے کہ احمد کمال حشمی اپنی ذاتی فکر کی روشنی کو کسی بڑے شاعر کے ایک شعر کی مدد سے اسی رنگ،اسی فضا،اسی لہجے میں ڈھالنے کے دوران کہیں بھی لڑکھڑائے نہیں ہیں بلکہ ایساگماں ہوتا ہے کہ پانچوں مصرعے ایک ہی شاعرکے کہے ہوئے ہیں۔
مٹی کو لہودینے سے گیلی نہ ہو مٹی
دن بھر کی مشقت سے بھی حاصل نہ ہو کچھ بھی
دو وقت بھی تھا لی میں نہ چاول ہو نہ روٹی
’’جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو‘‘
اس کتا ب میں بیشترشعراء کی ایسی غزل کا انتخاب عمل میں آیا ہے جو رومانیت کے گارے سے تیار ہو ئی ہے۔ناصر کاظمی کے یہاں شہر ِبے چراغ میںشب فراق ادھر ادھر بھٹکتی ہے ،احمد ندیم قاسمی کی شعری کائنات میں ہوا کے جھونکے پر محبوب کی آمد کا تذبذب ہوتا ہے۔جون ایلیا کے آنگن میں دوہنسوں کا جوڑا اب بچھڑنے کے کگار پر ہے لیکن باشعور ہے۔ وہ عبث تماشہ شوروغوغا کے بغیر بچھڑنے کو ترجیح دیتاہے۔غلام ربانی تاباں کے یہاں عزم سفر کا دریا خشک نہیں ہوتا ہے۔ ہر موڑ پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے منزل بہت قریب کھڑی ہے۔خمار بارہ بنکوی کے یہاں نامراد عاشق جب زمانے کے ستم سے دلبراداشتہ ہوتا ہے اس وقت وہ تاعمر جشن مرگ منانے کا فیصلہ کرتا ہے۔اس کائنات میں احمدکمال کے اندر کا تضمین نگار موجود ہے وہ ان پیکروں کی دلی کیفیت اورجذبوں کے ارتعاش کا مطالعہ غور سے کرتا ہے ۔حسن وعشق کے اس ر زم گاہ جاں میں عاشق ومعشوق کے اندر پیچ وتاب کھاتے جذبات اوران کے داخلی جذبے نیز ہجرکے ان لمحوں کی کیفیت کو محسوس کرتا ہے اورہنر مندی کے ساتھ نجی خیال کو تضمین کے سانچے میں ایسے ڈھالتا ہے کہ دل عش عش کراٹھتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں پروین شاکر کی شاعری میں اسلامی تاریخ کا منظرنامہ- ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی )
کوچے میں آنے جانے کی کوئی اساس ہو
دل میں دوبارہ ملنے کی تھوڑی سی آس ہو
اس وقت کام آئے گی جب دل اداس ہو
’’رنج سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاکِ کوچئہ دلبر ہی لے چلیں‘‘ (ناصر کاظمی)
محبت کی راہیں بڑی جاں گسل ہوتی ہیں۔اس راہ میں کوچہ دلبر کی خاک عاشق اور معشوق کی پیشانی پرمثل صندل لگے ہوتے ہیں نتیجتاًان کاواسطہ سنگ اور شرارے دونوں سے ہوتاہے۔زمانے کی ستم گری اوررقیب کی کجروی سے سامنابھی ہوتاہے۔اس نسب وفراز میںکبھی کبھی دوہنسوں کے جوڑے بچھڑ بھی جاتے ہیںاور سسکیوں وہچکیوں کی آواز تاعمر ان کے اندر کی ویران حویلی سے آتی رہتی ہے۔ احمد کمال حشمی کے اندر کا تضمین نگار جب عرفان صدیقی کے ایوان ادب پر دستک دیتا ہے اس وقت اس کو ایسی ہی کیفیت سے دوچارعرفان صدیقی کے تراشیدہ شعری پیکرسے ملاقات ہوتی ہے جو حق کی فتح کیوں نہیں ہو ئی کی رٹ لگائے گریہ و جاری کررہا ہے اوردل کے بجھ جانے پر ماتم کناں ہے۔اس وقت یہ تضمین نگاراستفہامی لہجہ اپناتے ہوئے گویا ہوتاہے۔
گزری تھی میرے کوچے سے ؔظلمت کدے کی شب
وہ بن گئی تھی میری تباہی کا اک سبب
کرتا ہوں اک سوال،ملے گا جواب کب
’’آخر اسی خرابے میں زندہ ہیں اور سب
یوں خاک کوئی میرے سوا کیوں نہیں ہوا‘‘
واپسی میںیہ تضمین نگار پروین شاکر کی کھڑکی سے جھانکنے کی کوشش کرتاہے جہاں ایک خودارنسائیت کی زندہ لاش ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی ہے لیکن کوئی آہ و فغاں نہیں، کوئی نوحہ نہیں، بس چہرے پر اداسی اور لب پر خاموشی کی لکیریں ہیں لیکن دل کے اندر کسک کی آنچ بہت تیز ہے۔
بھیگا موسم بھی ہے،بھیگی ہیں یہ پلکیں بھی مری
رائیگاں جائیں گے کیا اشک بھی آہیں بھی مری
آخری سانس ہے چاندی ہوئیں زلفیں بھی مری
’’شام بھی ہوگئی،دھندلاگئیں آنکھیں بھی مری
بھولنے والے میں کب تک ترارستا دیکھوں‘‘
اس کتاب میں شامل دوسرے شعراء کے یہاں بھی اس کے مماثل مناظر دکھائی دیتے ہیں ۔ یہاں محبت کا نصاب پڑھنے کے بعد سراب کی حقیقت نظر آتی ہے۔ایسے میں آنکھیں موسم کا عذاب سہتی ہیں خوابوں کی مرجھائی کلیاں آواز دیتی ہیں۔پروین شاکرکے کوچے سے نکل کر یہ تضمین نگار احمد فراز کے ایوان شاعری پر حاضری دینا ضروری سمجھتا ہے ۔ وہاں بھی اس کرب کی پرچھائیاں اس کو نظر آتی ہیں۔لیکن اس ایوان شاعری میں احمد کمال کو ایک باغی سے ملاقات کا صرف حاصل ہوتا ہے جو دار پر کھنچنے کا تذکرہ پھر اس کا یہ تیقن کہ اس کا یہ عمل تاریخ کے اوراق پرمنجمد رہے گااور بچے اس کو نصابوں میں پڑھیں گے،تضمین نگار کو متاثر کرتا ہے ۔ایسے میں احمدکمال حشمی احمد فراز کے تراشے اس پیکر کے برانگیختہ جذبے کی ترجمانی اپنے تضمین سے یوں کرتے ہیں۔
جن کو کہتے ہوئے لگتا تھا زمانے کو ڈر
لب پہ آتے ہی اتر جاتے تھے شانوں سے سر
ہم نے وہ باتیں کیں مقتل میں بھی بے خوف و خطر
’’آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں ‘‘
جاں نثار اختر کی زندگی نسب وفراز سے گذری بسلسلہ ملازمت وہ ایک کالج سے منسلک تھے لیکن نامساعد حالات کے پیش نظر اپنے عہدے سے استفادے کربمبئی چلے گئے لیکن ان کی شریک حیات صفیہ لکھنوء میں ہی ایک کالج کی لیکچر ربنی رہیں ۔صفیہ جب انتقال کیں اس وقت وہ اپنی شریک حیات کے سرہانے کھڑے نہیں تھے ۔اس کرب کا اظہار انہوں نے اشعار کی شکل میں کیا۔ احمد کمال حشمی نے اس کو اپنے تضمین کے لیے منتخب کیا اور اس کو یوں مکمل کیا ہے۔
کچھ اس طرح سے اپنی کٹی ہے یہ زندگی
چین اور سکون سے نہ کبھی اک بھی سانس لی
ہر پل ہر ایک لمحہ رہی دل میں بے کلی
’’کوئے غم حیات میں اک عمر کاٹ دی
تھوڑا سا وقت داں بھی گذار آئے یہ نہیں ‘‘
مظفر حنفی کے آنگن کا منظر بڑا سہانا ہے۔جہاں شیتل پروا،من کی پھلواری،پریم نگر،پگڈنڈی کی یادیں،ساون کی چھٹی کے آنے اور ہرن کی چال چلنے کا تذکرہ بہت دل لبھاون ہے لہذااس ایوان غزل سے بھی ایک غزل کے چنداشعار کو اپنے تضمین کے لیے بطور سنگ بنیاد منتخب کرتے ہیں۔ایوان بشیر بدر پر جب حاضری ہوتی ہے جہاں اندھیرے کا شکوہ ہے بھری برسات میں شاداب بیلوں کے سوکھنے کا کاقصہ ہے۔دل کے کوزے میں محبت کاسوم رس ہونے کا ذکر ہے بچھڑتے وقت بدگماں ہونے کی دعامانگی جارہی ہے۔ اس اداس ماحول میں احمد کمال بشیر بدر کے ایک شعر کے اوپر اپنے خیالوں کے تین مصرعے یوں رکھ دیتے ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں شہنازرحمن کا افسانہ”شب تاب“ ایک مطالعہ – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
کسی بھی دل میں خوشیوں کا گذر پیہم نہیں ہوتا
یہاں کوئی نہیں ایسا کہ جس کو غم نہیں ہوتا
کہیں بھی تو ہمیشہ ایک سا موسم نہیں ہوتا
’اداسی کا یہ پتھر آنسوں سے نم نہیں ہوتا
ہزاروں جگنوئوں سے بھی اندھیرا کم نہیں ہوتا‘‘
احمد کمال حشمی کی تضمین نگاری کا اصل جوہر تضمین بر ضرب المثل کے اشعار پر کھل کر دیکھائی دیتاہے۔دیکھائی ہی نہیں دیتا ہے بلکہ ذہن ودل کو تھوڑی دیر تک سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔
مانتا ہے آدمی کب آدمی کا فیصلہ
معتبر ہوتا نہیں ہے ہر کسی کا فیصلہ
وقت ہی اک دن کرے گا برتری کا فیصلہ
’’اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا ‘‘
افواج کی تسخیر پہ کرتا ہے بھروسہ
ہر طرح کی تدبیر پہ کرتا ہے بھروسہ
خنجر پہ کبھی تیر پہ کرتا ہے بھروسہ
’’کافر ہے تو شمیشر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ‘‘
لطف جو طوفان میں ہے وہ کہاں ساحل میں ہے
دیکھیں گے ہم کس قدر مشکل کسی مشکل میں ہے
اب ہمارا عزم اپنی آخری منزل میں ہے
’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے ‘‘
بہرحال کتاب کاگیٹ اپ متاثرکن،قیمت مناسب ہے اور مہندی رنگ سرورق سے مہندی کی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔!
ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
ہولڈنگ نمبر1-A،بی ایل نمبر 23،
کیلا بگان ،جگتدل ،نارتھ 24 پرگنہ(مغربی بنگال)،پن کوڈ: ۷۴۳۱۲۵
mob:9339327323 ای میل:mail.com ahashmi3012@g
HNO:1/A,BL.NO:23,KELA BAGAN,
JAGATDAL,NORTH 24 PARGANAS,W.B,PIN:7431
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

