خارجی یا داخلی تحریک سے روح جب وجد میں آتی ہے تو قرطاسِ ادب پر فن پارے کا نزول ہوتا ہے۔ زندگی نے پروین شاکر کے دل کو زخموں کی جو سوغات دی اس کی ترجمانی کو انہوں نے اپنی شاعری کا نصب العین بنایا۔نتیجہ یہ ہواکہ پوری زندگی غم کی اس سوغات کو موصوفہ اپنے قاری کے درمیان تقسیم کرتی رہیں۔ اس عمل کے دوران ان کا اسلوب اور استعارہ سازی کا ریشمی چلمن حسنِ معنی کے دیدار میں مانع نہیں ہوتا ہے بلکہ شوقِ؎نظارگی کے شعلوں کو ہوا دیتا ہے ایسا اس لیے کہ قوتِ اظہار کا مظاہرہ تب اوجِ ثریا پر کمندیں ڈالتا ہے جب فنکار کے قلم میں زبان و بیان کی پختگی اور جادو گری در آتی ہے۔پروین شاکر کے یہاں یہ خوبیاں اپنے پورے آب وتاب کے ساتھ قرطاسِ ادب پر اپنا جلوہ بکھیرتی ہیں۔
پروین شاکر نے ایک راسخ العقیدہ مسلم گھرانے میں آنکھ کھولی۔اس لیے ان کے شریانوں میں اس مذہب سے عقیدت،اس کے پیغمبر سے محبت،ان کی عظمت لہوبن کر گردش کرتی رہیں۔طیبہ کی زمین پر شعورِحسن ِحیات کی سوغات لے کر جب ہمارے نبی کونین حضرت محمد مصطفٰے ﷺ کی تشریف آوری ہوئی تو کائنات کے شجر و ہجر نے سر جھکاکر ان کا استقبال کیا۔سلطانِ انبیاء،محبوب کبریا،دائی حلیمہ کی آغوش میں پلے اور بڑھے۔طیبہ کے اس پھول کی خوشبو پہلے مکہ کی گلیوں پھر مدینہ کے علاوہ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئی لیکن اس سے پہلے ایک ایسا مرحلہ درپیش آیا جو صرف اور صرف نبییوں کے حصے میں آتا ہے۔ہمارے نبی اکرم کا یہ مرحلہ غارحرا میں طے ہوتا ہے جہاں سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کا پہلا پیغام اقراء کا درس دیاتھاجس کو پروین شاکر اپنی شاعری کا موضوع یوں بناتی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں خوابوں کے چاک پیرہن کی شاعرہ :پروین شاکر – حقانی القاسمی )
وہ رات بھی ارتکاز کی ایک رات تھی
جبکہ لمحہ بھر کو
فضاپہ سناٹا چھا گیا
اور ہواؤں کی سانس رک گئی تھی
ستارہ شب کے دل کی دھڑکن ٹھہر گئی تھی
گریز پاساعتیں تحیرذدہ تھیں
جیسے وجود کی نبض تھم گئی ہو
یکایک اک روشنی جمال و جلال کے سارے رنگ لے
فضا میں گونجی
”پڑھو!“
فضائے بے نطق جیسے اقراء کا ورد کرنے لگی تھی
خوشبو ”وحی“
لہذاپنے نارسا دکھوں کی صلیب اٹھائے،شہر آذر سے دوراپنے قیمتی لمحے کوغارِحرا کے خواب آسا سکوت کو سونپنے والے حضرت محمدﷺایک ان دیکھی روح کل کے وجود کا اعتراف کرکے اپنی قوم کے لیے جو نسخہ کیمیا اپنے ساتھ لائے اس نے قوم کی کایا پلٹ دی۔آپ ﷺ نے حرا سے اتر کر جب نبوت کاا علان کیا تو ایک زمانہ اُن کی مخالفت میں صف آرا ہوگیا۔ایسا اس لیے کے چاروں طرف گھنگورظلمت کے اندھیرے کا بول بالا تھا۔پھر کیا تھاچہار جا نب سے سنگوں کی بارش شروع ہوئی اورچہرہ مبارک لہولہان ہوگیالیکن ایسے میں بھی آپ ﷺ نے سنگ اٹھانے والوں کے لیے لب پر دعارکھی کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے اور ان کو رحمت العالمین کا خطاب عطاکیا گیا تھا۔ان کوجاہلیت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دنیا کو انسانیت اور حقانیت کا نور پھیلانا مقصود تھا۔اس لیے زمانے کے ہر ستم کو سہتے ہوئے اللہ کی خوشنودی کے لیے کار نبوت کے کام کو انجام دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔پروین شاکر انہیں کی امت کا ایک فرد ہیں۔لہذا سوئے قوم کی عظمت وشان کو پیش کرتے ہوئے اپنے جذبے کا نذرانہ عقیدت یوں پیش کرتی ہیں۔
اے دیں آخری پیمبر
تھا لطف خدا کا خاص مجھ پر
بھیجا تھا تجھے بنا کے رحمت
ساری دنیا کے بے کسوں پر
ہوتی رہی تجھ پہ سنگ باری
ہونٹوں پہ رہیں دعائیں جاری
کائنات کا زرہ زرہ سرور کونین حضور اکرم کے اخلاق حسنہ اور پاکیزہ کردار کا معترف ہے۔آپ ﷺ نے دنیا کے سامنے اخلاق اور انصاف کا جو نمونہ پیش کیا اس نے پوری دنیا کو راہ دیکھائی۔ اس ضمن میں پروین شاکر نے عشق رسول میں جو لفظی گلہائے عقیدت پیش کیا ہے وہ قرطاسِ ادب پر حضوراکرم کے کردار، ان کے صفات، ان کی سیرت اور ان کے انصاف کا مشک عنبر لٹاتا ہے۔
ہر سود کو کر دیا باطل
ہر خون کو معاف کردیاتھا
تلواریں نیام میں رکھا دیں
چادر میں اٹھا کے سنگ اسود
خوددار مسافرت کی تفسیر
عقبہ کی وہ باوقار بیعت
گھر چھوڑا کچھ اس طرح سے تونے
ہجرت کو مثال کردیا تھا
نواسہ رسول حسینؑ اور ظالم وقت یذید کا معرکہ لب ِ فرات پر میدان کربلا میں ہی ختم ہوگیالیکن اس کی روداد سے اردو دنیا کے ادبی اوراق قاری کی آنکھوں کو نم کرتے رہتے ہیں۔ حسن نعیم نے ساحل فرات کو اپنا خراج عقیدت اپنے حسینی مزاج سے پیش کیا۔عرفان صدیقی کے یہاں بازوبریدہ ہوتے ہیں لیکن بیعت نہیں ہوتی۔خلیل الرحمان اعظمی زندگی بھر اپنی گلیوں میں حسین کی تلاش کرتے رہے۔کیفی اعظمی نے صحرا صحرا لہو کے خیمے اور ہر پیاسے کو لب فرات پر دیکھا اور پروین شاکر مقتل میں جانے کے مدتوں بعد بھی درِ خیمہ حسین کی تصویر دیکھتی رہیں۔ وہ میدان کربلا جہاں علی اصغر کے حلقوم سے خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے لیکن ظالموں کی آنکھیں نم نہیں ہوئیں۔گلستان کے ہر پھول مرجھاگئے، پورا کربلا مقتل بن گیا لیکن مجاہدو ں کے حوصلے نے سپر نہیں رکھا۔اہل بیت کی خواتین کی رداوئں کی طرح حسینؑ کے تن پاش پاش ہوگئے لیکن سینے میں جلتی شمع حق کی لو کو بجھنے نہیں دیا۔حسین ابن علی اپنے ہاتھوں سے اپنے شیر خواروں کی تربت بنائی لیکن کف افسوس نہیں ملا کہ: دی ہوئی اسی کی تھی٭حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ظلمت کے اس دل دوز منظر نامے پر سب خیمے جلارہے تھے،بجھاتا کوئی نہیں تھا۔نتیجہ کیا ہوا پروین شاکر کے یہاں دیکھئے۔
اجنبی شہر کی اولیں شام ڈھلنے لگی،پرسہ دینے جو آئے۔۔گئے
جلتے خیموں کی بجھتی ہوئی راکھ پر بال کھولے ہوئے بیبیاں رہ گیں
”خوشبو“
گرچہ لکھی ہوئی تھی شہادت امام کی
لیکن مرے حسین نے حجت تمام کی
زینب کی بے ردائی نے سر میرا ڈھک دیا
آغاز صبح نو ہوئی وہ شام،شام کی
وہ کربلا کا میدان جہاں حسین کی شہادت ہوئی اور عباس علم دار کے دونوں بازو قلم ہوئے۔علی اصغر کے حلق میں نیزہ لگا۔وہ شام کا بازار جہاں رسیوں میں جکڑی زینب اور آل رسول کی صاحب زادیوں کے سروں سے ردائیں چھینی گیئں۔سروں کا سنگ سے مقابلہ ہوا۔خیمے جلے،مصبتیں آئیں۔تیروں کی بارش ہوئی۔شمشیریں ہر جانب چمکیں۔ فرات پر پہرے بیٹھائے گئے اور عباس علم دار تیر کھا کھا کر مشکیزہ کو بچاتے رہے۔ستم کی اس داستان کا نوحہ پروین شاکر کے یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
جلے ہوئے راکھ خیموں سے کچھ کھلے سر
ردائے عفت اڑھانے والے بریدہ بازہ کو ڈھونڈتے ہیں
بریدہ بارو۔۔۔۔کہ جن کا مشکیزہ
ننھے حلقوم تک اگر پہنچ نہ پایا
مگر وفا کی سبیل بن کر فضا سے اب تک چھلک رہا ہے
برہنہ سر بیبیاں
ہواؤں میں سوکھے پتوں کی سرسراہٹ پہ
چونک اٹھتی ہیں
باد صر صر کے ہاتھ سے بچنے والے پھولوں کو چومتی ہیں
چھپانے لگتی ہیں اپنے اندر
بدلتے،سفاک موسموں کی اداشناسی
چشم حیرت کو سہم ناکی کا مستقل رنگ دے دیا ہے
نگاہ تخیل دیکھتی ہے
چمکتے نیزوں پہ سارے پیاروں کے سر سجے ہیں
کٹے ہوئے سر۔۔۔۔ صدبرگ:”شام غریباں“
حسین ؑ کے والد محترم علی کرم اللہ وجہہ کو شیر خدا،مشکل کشا اور فاتح خیبر کہاجاتا ہے۔کم وبیش اسلامی تاریخ کی تمام جنگیں انہوں نے لڑیں۔ان کی پامردی اور شجاعت کی تاریخ سے اسلامی تواریخ کے اوراق روشن ہیں۔مشکل سے مشکل ترین دنوں میں علی کرم اللہ وجہہ اسلا م اور اس کے ماننے والوں کی حفاظت کے لیے سینہ سپررہے اور بہادری کے ساتھ دشمنوں سے نہ صرف نبرد آزما رہے بلکہ ان کے سربھی کچلے اورمذہب اسلام کے ساتھ ساتھ نبی کی امت کی حفاظت اورپرچم اسلام کوسر نگوں ہونے نہیں دیا۔باطل کو غالب آنے سے روکا۔ ظلمت کے اندھیروں میں نبی کریم نے جو حقانیت کاچراغ روشن کیا اس کے لیے فانوس بنے۔پروین شاکرتخیل کی رف رف پر سوار ہوکر کربلا کے تپتے ریگزار میں آل رسول اور مجاہد اسلام کے تڑپتے لاشے کو دیکھتیں ہیں۔بیبیوں کے سروں سے چھنتی رداؤں کابے حس منظرنامہ آنکھوں کے کیمرے میں قیدکرتی ہیں۔زینب کبریٰ کی آہ وزاری سنتی ہیں۔ علی اکبر کی لٹتی جوانی کاکرب ناک منظر دیکھتیں ہیں۔علی اصغر کے چھیدے حلقوم سے نکلتی دل سوز خون کے فوارے اورآواز کو سنتی ہیں۔شام کے بازار میں برہنہ سرخاک اڑاتی بیبیوں کے قافلے کی بے بسی کو دیکھتی ہیں۔سحر بانواور صغریٰ کی گریہ و جاری سنتی ہیں۔قید خانے سے سکینتہ الکبریٰ کی میت نکلتے دیکھتی ہیں۔ عباس علم دار کے بریدہ بازو ریت پرتڑپتے دیکھتی ہیں۔ذوالجنا ح کی پشت سے بے وطن،خستہ تن حسینؑ کونیچے آتے دیکھتی ہیں۔ یہاں تک کے کربلا کے تپتے ریگ زاروں میں حسین کو اپنے لہو سے وضو کرتے دیکھتیں ہیں اور حسین کے لب مبارک سے ”واوف بعہدک“کی آواز بھی سنتی ہیں۔لہذامصیبت کی اس گھڑی میں پروین شاکرشیر کو پچھاڑنے اور درِخیبر کواکھاڑنے والے علی مشکل کشا کو یاد کرتے ہوے فریاد کرتی ہیں۔
کیسے کیسے دشت بلا میں آب تیغ کی پیاس بنا
کس کس کوفہ،کس کس شام میں پامردی کی اساس بنا
لیکن سورج خوروں کی اس بستی تک آکر تو
تیرا نام بھی رک جاتا ہے
فاتح خیبر!
اپنے ہاتھوں کو پھر جنبش دے
ہم اپنی نامراد انا سے ہار چکے ہیں
ساقی کوثر
ایک دفعہ نظریں تو اٹھا
دیکھ کے تیرے ماننے والے
ذراسی پیاس پہ کیسے فرات کو وار چکے!
صدبرگ ”علی مشکل کشاسے“
وہ عاشورے کی رات تھی۔درِ خیمہ حسین نے آواز لگائی۔زینب نے خیمے کے پردے کو ہٹایا۔حسین نے اپنا کہنہ مانگا۔لشکر کو دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ٹکروں میں تقسیم کیا۔ اپنے بہتر جاں نثاروں میں نیزے کے ٹکڑے،تلوار کے ٹکڑے،بلم کے ٹکڑے جس کے پاس کچھ نہیں تھا اس کے ہاتھوں میں پتھر وں کے ٹکڑے دے دیئے۔باطل طاقت اپھان پر آتی ہے۔گھوڑوں کی ٹاپیں اوپر اٹھتی ہیں۔یلغار ہو کی صدابلند ہوتی ہے۔نیزوں کی بارش شروع ہوجاتی ہے۔تلواروں اورڈھالوں کی جھنکار سے میدان کربلا گونج اٹھتا ہے۔رن میں جس کے پاس تیر تھا اس نے تیر چلائی،جس کے پاس نیزے تھے نیزہ چلایا،جس کے پاس تلوار تھی تلوار چلائی،جس کے پاس بلم تھا اس نے بلم چلایا اور جس کے پاس کچھ نہیں تھاوہ۔۔۔۔پتھر۔۔۔۔!ایسے میں پروین شاکر کا رشحات قلم یوں جادو بکھرتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں پروین شاکر کی شاعری میں ہنودی تاریخ کا منظرنامہ – ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی )
تمام زخموں سے چور ہوں میں
مگر شہادت گہ وفا میں
لہوسے رسم وضو کی تکمیل کرنے سے قبل
اپنے سجدے کی ستجابی کی تہنیت مجھ کو مل چکی ہے
میرا یہ اعزاز کم نہیں ہے
کہ اتنے تیروں میں ایک بھی تیروہ نہیں تھا
کہ جو کسی پشت سے نکالا گیا ہو
ہنگام عصر۔۔۔مقتل سے سرخروہوں
کہ میرے توشے میں جتنے وعدے تھے۔۔۔اتنے سر ہیں
صدبرگ ”واوف بعہدک“
بہر حال جب جن پارے کے لفظوں میں قلم کار کے جذبے کی تڑپ سمٹ آتی ہے تو فن پارہ اوّل درجے کا ہوجاتا ہے جو اجڑتی انسانیت کو زندگی کی امید دیتی ہے۔پروین شاکر کی شاعری بڑی شاعری ہے اس لیے بقول شمس الرحمٰن فاروقی:
”بڑی شاعری کی تنقید اور تعبیر کے امکانات کبھی ختم نہیں ہوتے۔!“شمس الرحمٰن فاروقی نمبر ۶۹(اردو چینل)
ڈاکٹر عظیم اللہ ہاشمی
ہولڈنگ نمبر1-A،بی ایل نمبر 23،کیلا بگان،
جگتدل،نارتھ 24 پرگنہ(مغربی بنگال)،پن کوڈ: ۵۲۱۳۴۷
mob:9339327323 ای میل:mail.com ahashmi3012@g
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

