(الٰہ آباد،پریس ر یلیز) ضیائے حق فاؤنڈیشن اردو ہندی زبان و ادب کے فروغ کے لیے خصوصی کام کرتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ادارہ وقتا فوقتا مختلف ادبی ،علمی ،لٹریری پروگرام،ویبینار کا انعقاد کرتا ہے ۔جس میں بزرگ شعرأ و ادبائ کے ساتھ ساتھ نئے قلم کاروں کو بھی پلیٹ فارم دیا جاتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ادبی خدمات کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے نظریے کے تحت اس فاونڈیشن نے 26 ستمبر2021 کو آن لائن پروگرام ’’ایک شاعر پانچ کلام ‘‘ کا انعقاد کیا ،جو کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم مثلا یو ٹیوب ،فیس بک پر بھی لائیو رہا ،جس کو دنیا بھر کے لوگوں نے سنا ،یہ پروگرام یو ٹیوب چینل ’’اردو ہندی لو ‘‘ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔اس پروگرام میں نوجوان قلمکار ضیا العظیم نے اپنے کلام کو پیش کیا ۔انھوں نے نعت پا ک کے ان اشعار کے ساتھ اس پروگرام کا آغاز کیا ملاحظہ فرمائیں :
میں نعت نبی گنگنانے لگا ہوں میں سویا مقدر جگانے لگا ہوں
نبی کی اطاعت ہے حکم الٰہی یہ پیغام سب کو سنانے لگا ہوں
ہے توفیق رب علی اور کرم ہے جو سجدے میں سر کو جھکانے لگا ہوں
اسی طرح ان کیاس پروگرام میں پیش کردہ غزلوں کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
اس طرح دور کرتا ہوں سر سے بلا کو میں رکھتا ہوں اپنے ساتھ جو ماں کی دعا کو میں
شاید مرے خلوص میں کوئی کمی رہی حاصل نہ کر سکا جو تمہاری وفا کو میں
رسوا نہیں کروں گا ضیائ اپنے اشک کو پلکوں پہ روک لوں گا امڈتی گھٹا کو میں
٭٭٭
زندگی کے لیے ہمسفر چاہیے اور پاکیزہ اک رہ گزر چاہیے
ہاتھ اٹھے اگر عرش بھی جھوم اٹھے اب دعاؤں میں ایسا اثر چاہیے
اس پروگرام میں محمد ضیائ العظیم کی ادبی خدمات اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے سند سے بھی نوازا گیا ،یہ سند محمد عظیم الدین رحمانی صاحب (پرنسپل ،مدرسہ اسلامیہ ،سمن پورہ پٹنہ )کے دست مبارک سے دیا گیا ۔ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں،اس موقع پر انھوں نے کہا:
’’اس طرح کے پروگرام نوجوان قلمکاروں کی حوصلہ افزائی اور ان میں جو ش و جنون کا جزبہ پیدا کرنے کے لیے بے حد اہم ہے ،شعر و شاعری اوراردو ادب ہمارے تہذیب و معاشرت کا اہم سرمایہ ہے۔ لہٰذا آج اکیسویں صدی میںجب ہر طرف ٹکنالوجی اور سوشل میڈیا کا بول بالا ہے ایسے میں شعر وادب سے نئی نسل کی دوری کوئی تعجب کی بات نہیں ۔لیکن شعر و ادب سے نوجوانوں کا رشتہ استوار کرانا ہم بزرگوں کی بھی اہم ذمہ داری ہے ۔کیونکہ چراغ سے چراغ روشن ہوتا ہے ،ضیائے حق فاؤنڈیشن کی یہ کوشش یقینا چراغ کا کام کر رہی ہے ۔میں اس فاؤنڈیشن کے اراکین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کی اس کاوش کا خیر مقدم کرتا ہوں۔‘‘ ْْ‘‘
اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر صالحہ صدیقی نے کی اور اظہار تشکر محمد غفران نے انجام دی ۔اس پروگرام میں تلاوت قرآن پاک محمد عمر نے، شخصی تعارف ڈاکٹر نازیہ امام صاحبہ نے اور اظہار تشکرابو شحمہ انصاری نے انجام دیا ۔جس میں دیگر اہم مہمانان میں ڈاکٹر نازیہ امام ،ڈاکٹر راہین ،محمد عمر ،میر حسن صاحب (ایڈیٹرتریاق)معروف و مشہور شاعر ذکی طارق بارہ بنکوی ، محمد زاہد رضا بنارسی ،ابو شحمہ انصاری (ایڈیٹر صدائے بسمل ) وغیرہ شامل رہے ۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

