خواب میں باپو نے آکر ایک بڑھیا سے کہا
کیا ہمارے قاتلوں کا بھی چلا کوئی پتہ
کیا ووستھا ہے مرے بھارت میں کیا ہے انتظام
اب تو گاندھی کو نہیں کہنا پڑےگا "ہائے رام”
دائیں بائیں دیکھ کر بڑھیا نے چپکے سے کہا
کیا کہا باپو ! کہ بھارت ہے ابھی بھی آپ کا ؟
اب یہاں نایک کہا جاتا ہے ایسے ویر کو
مار سکتا ہو جو گولی آپ کی تصویر کو
کیسے دھرتی پتر ، کیا مزدور کیا ،بے بس عوام
اب تو پورا دیش ہی چلا اٹھا ہے ہائے رام
دست بستہ عرض کی بڑھیا نے "ہے باپو شما ”
میری ونتی ہے پلٹ جاؤ ، نہ ٹہرو اب یہاں
ورنہ ای ڈی ، آئی بی ، گودی صحافت، اے ٹی ایس
آپ پر بھی درج کردینگے یہاں دوچار کیس
یوں تو سنسد میں بھی باپو مجرموں کی دھوم ہے
آپ کے قاتل کہاں ہیں یہ کسے معلوم ہے
"بے لکھا ” اک فیصلہ ہے ” ان کہا ” آدیش ہے
دیش گاندھی کا نہیں اب گوڈسے کا دیش ہے
سن کے یہ باپو پہ اک لرزہ سا طاری ہو گیا
گولیوں کے زخم سے پھر خون جاری ہو گیا
خواب جب ٹوٹا تو دیکھا آج کے اخبار میں
اک درندہ لاش پر کودا بھرے بازار میں
اب چھڑی ہے بحث بڑھیا پر لگے گی کیا دفعہ
جرم آخر جرم ہے یہ خواب کیوں دیکھا گیا
سرفراز بزمی
دو اکتوبر گاندھی جینتی
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

