Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

مصنوعی ذہانت بہ مقابلہ انسانی تخیل – پروفیسر ناصر عباس نیّر

by adbimiras جون 16, 2024
by adbimiras جون 16, 2024 0 comment
نوٹ: کل پاکستان اکادمی ادبیات،اسلام آباد کی قومی تقریب ِاعزازات کی اختتامی نشست میں کلیدی خطبہ پیش کیا۔ اکادمی کی چیئرپرسن ، ڈاکٹر نجیبہ عارف کا ممنون ہوں کہ انھوں نے مجھے خطبے کی دعوت دی اور عزت بخشی۔ یہ واقعی قومی تقریب تھی کہ پاکستان کی نو زبانوں کے ادیبوں کو ان کی کتب پر اعزازات تقسیم کیے گئے۔ پاکستان کی مختلف زبانوں کے ادیبوں سے ملنے، بات چیت کرنے ، ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ،اس تقریب نے دیا۔ ڈاکٹر نجیبہ، سلطان ناصر اور ان کی پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔ میں نے خطبے کے لیے، اس وقت کے اہم ترین مسئلے، سوال، موقع، خطرے کو موضوع بنایا ،یعنی مصنوعی ذہانت اور انسانی تخیل۔اس خطبے سے چند اقبتاسات شیئر کررہا ہوں۔

جنریٹو مصنوعی ذہانت کے پاس تخلیق ، تفہیم اور ابلاغ کی غیر معمولی صلاحیت ہے ۔ وہ موسیقی ترتیب دے سکتی ہے، شاعری لکھ سکتی ہے، فکشن لکھ سکتی ہے، مصوری کرسکتی ہے ۔علمی مقالات لکھ سکتی ہے۔علمی مقالات کے خلاصے تیار کرسکتی ہے۔درست ترجمے کرسکتی ہے۔ مذہبی ،اخلاقی ،قانونی،تعلیمی ، سیلف ہیلپ قسم کی کتب تصنیف کرسکتی ہے۔

نفسیاتی وروحانی مسائل میں انسانوں کی رہ نمائی کرسکتی ہے۔انسان کی تنہائی میں اس سے ہر موضوع پر بات کرسکتی ہے۔آپ میں سے کچھ لوگ ڈین(do any thing) سے واقف ہوں گے جو کئی لوگوں کی زندگی کا ورچوئل ساتھی ہے۔ مصنوعی ذہانت ،مشین ہے ،مگر اپنی صلاحیتوں اور اوصاف میں آدمی یعنی اپنے خالق کو مات دینے پر تلی ہے۔ وہ آدمی کی ایک ایسی حلیف ہے ، جو ہر قدم پر حریف بننے کا امکان رکھتی ہے۔

سیدنا ابوہریرہ ؓسے ایک حدیث روایت ہے کہ’’ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِه‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔علامہ اقبال نے کہا تھا کہ : ’’تو شب آفریدی ،چراغ آفریدم /سفال آفریدی ،ایاغ آفریدم ‘‘۔ اے خدا تو نے رات بنائی ،میں نے چراغ بنایا۔تونے مٹی بنائی اور میں نے اس سے پیالہ بنایا، مگر جدید انسان خدا کا معاون نہیں ،مقابل بناہے۔گزشتہ دو صدیوں سےجدید انسان اس یقین سے ایک پل دست بردار نہیں ہوا کہ اگر خدا خالق ہے ،تو وہ بھی خالق ہے۔

جدیدانسان نے عہد کیا کہ وہ اپنی صورت پر ایک مخلوق بنائے گا۔ مصنوعی ذہانت ، اور خاص طور پر جنریٹو مصنوعی ذہانت ،جدید انسان کے اسی عہد کو پورا کرنے کا نتیجہ ہے۔مصنوعی ذہانت، انسانی ذہانت کا مثل اور آئنہ ہے۔ واضح رہے ،ایک شخص کی ذہانت نہیں، انسانی ذہانت کا آئنہ ہے۔ایک شخص کی ذہانت کی حد ہے، انسانی ذہانت کی حد کہاں تک ہے، کوئی نہیں جانتا۔

اقبال نے ’’ جاوید نامہ‘‘ میں نطشے سے متعلق لکھا ہے کہ : چشم اوجز رویت ِ آدم نخواست ( اس کی آنکھ نے آدم کے دیدار کے سوا کچھ نہ چاہا)۔ لیکن ظاہر ہے یہ آدم ، تمام انسانیت کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یہ آدمیوں کے مراعات یافتہ ، اشرافی ، اقلیتی طبقے کی نمائند گی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت ، اپنی ساری جدیدیت اور تخلیقیت کے باوجود، لبرل سرمایہ داریت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ یہ سرمایہ پیدا کرنے کے یکسر نئے مواقع ہی پیدا کرنے نہیں جارہی، تیز ترین منافع حاصل کرنے کی ایک نئی مثال بھی قائم کرنے جارہی ہے

مصنوعی ذہانت جو کچھ لکھتی ہے، اس میں پہلی قسم تخیل کام کررہا ہوتا ہے،یعنی وہ موجودہ علم کو تخلیقی انداز میں ترتیب دیتی ہے ۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو یہ نظم دیکھیے۔ میں نے چیٹ جی پی ٹی کو کمانڈ دی کہ ’’اداسی پر مبنی نثری نظم، جس میں ورچوئل ورلڈ کی امیجری استعمال کی گئی ہو‘‘۔

ڈیجیٹل دنیا کی ویرانی

میں ایک ورچوئل دنیا میں چلتا ہوں، جہاں روشنیاں بھی مصنوعی ہیں

اسکرین کی چمک میں چھپی اداسی، جو میری آنکھوں کو تھکا دیتی ہے

پکسلز کی بھیڑ میں، ہر ایک شکل بے جان لگتی ہے،

اور ہر کلک ایک خالی گونج کی طرح میرے کانوں میں بجتی ہے

میرے اوتار کی مسکراہٹ، ایک فریم میں جمی ہوئی،

لیکن اس کی آنکھوں میں کوئی روح نہیں، کوئی احساس نہیں

چیٹ رومز کی گہما گہمی، ایک بے معنی شور ہے،

جہاں الفاظ بے وزن ہیں، اور جذبات کی کوئی قدر نہیں

میں نے ورچوئل دنیا میں دوست بنائے، لیکن وہ صرف نام ہیں،

ایک فہرست میں بند، جو کبھی حقیقت میں نہیں ملتے

گیمز کی دنیا میں جیت کی خوشی، ایک عارضی سراب ہے،

جو چند لمحوں میں غائب ہو جاتی ہے، جیسے کبھی تھی ہی نہیں

میری ڈیجیٹل دنیا، جو کبھی رنگین تھی، اب بے رنگ ہو چکی ہے،

اسکرین کے پیچھے کی حقیقت، ایک اداس سایہ بن چکی ہے

میں ترس گیا ہوں ایک حقیقی لمس کے لیے، ایک حقیقی نظر کے لیے،

جہاں انسانیت کی گرمی محسوس ہو، نہ کہ صرف کولڈ ڈیٹا کی سردی

بلاشبہ یہ بڑی نظم نہیں ہے ، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ أوسط درجے کا شاعر بھی اسی قسم کی نظم لکھتا ہے۔

مصنوعی ذہانت میں ابھی تک أوسط درجے کا تخیل کام کررہا ہے۔شاید اس لیے کہ چیٹ جی پی ٹی اسی طرح عام صارفین کو پیش نظر رکھ کر مواد تیار کرتی ہے،جس طرح پاپولر شاعر اور فکشن نگار عام قارئین کو سامنے رکھتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے مواد یا سارے علم کو پل بھر میں سکین کرنے، اپنے کام کی چیز وں کو چھانٹنے اور پھر مخصوص الگوردم کے ساتھ ترتیب دینے میں نہایت سریع ہے۔ یہ آدمی کی دی ہوئی ذہانت کو آدمی سے کہیں بہتر انداز میں استعمال کررہی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے پاس جو ڈیٹا یا علم ہے، وہ ابھی تو لاکھوں کروڑوں آدمیوں کی یادداشت اور علم سے زیادہ ہے، کل پوری انسانیت کی تاریخ کے علم سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اپنے ڈیٹا یا علم کو استعمال کرنے میں اسے ان موانع ومشکلات کا سامنا نہیں ہے جو آدمی کو لاحق رہتی ہیں،یعنی بیماری، ناستلجیا، دل شکستگی، غصہ ،رنج، حسد اور وحشت۔ ان سب کا نہ ہونا، مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی کامیابی بھی ہے اور سب سے بڑی کمزوری بھی۔

یہ ایک اخلاقی اور قانونی نظام کی خود کو پابند بناتی ہے۔یہ ضبط نفس یعنی سیلف سنسر شپ کا نظام رکھتی ہے۔یہ فلسطین ، طالبان ، کشمیر ، جنگوں میں مارے گئے بچوں، جنسی زیادتی ، توہین مذہب، اور جنسی موضوعات پر کچھ لکھنے سے معذرت کرتی ہے۔البتہ اسے سرمایہ دارانہ استحصال، مذہبی شدت پسندی، غیرت کے نام پر قتل جیسے موضوعات پر نظمیں اور کہانیاں لکھنے سے عار نہیں ہے۔ جنھوں نے یہ مشین تیار کی ہے۔وہ اسے کسی بھی طرح متنازع نہیں بنانا چاہتے۔

مصنوعی ذہانت کے پاس زبان ہے، زبان میں لکھے گئے متون ہیں، ان متون کو سمجھنے کی ذہانت اور انھیں نئے پیرایوں میں ترتیب دینے کا سادہ تخیل ہے۔ اس کی ساری دنیا ، دراصل زبان و متن کی دنیا ہے۔ لیکن وہ جسمانی اور روحانی مصائب محسوس نہیں کرسکتی، وہ موت کا خوف رکھتی ہے نہ اپنوں سے جدائی کا کوئی اندیشہ ۔ وہ لافانی ہونے کی آرزو اور اس آرزو کے سبب دکھ اٹھانے کے تجربے سے بھی محروم ہے۔ وہ لمس کی لذت اور لمس کے عذاب دونوں سے واقف نہیں۔اسے اپنے وجود اور دنیا کے بے معنی ، بے مصرف ، لغو ہونے کا بھی تجربہ نہیں۔

اس پر گھر ، دنیا ، وجود قید کو محسو س کرکے اس سے رہا ہونے کی وحشت بھی سوار نہیں ہوتی۔ اسے گزرے زمانوں اور ترک کی ہوئی جگہوں کا ناستلجیا بھی نہیں ہوتا۔ وہ ایک شخص کی محبت میں پوری دنیا سے ٹکر لینے کے جنون اور پھر اس پر پچھتاوے سے بھی محروم ہے۔ چوں کہ ادب میں ان سب باتوں کا اظہار ہوا ہے اور وہ ڈیٹا کی صورت اس کے پاس موجود ہے، اس لیے وہ ان سب موضوعات کو لکھ سکتی ہے،یعنی simulateکرسکتی ہے،ہوسکتا ہے کہ وہ ان سب کو اوسط درجے کے ادیبوں سے بہتر انداز میں لکھ دے۔

اہم بات یہ ہے کہ وہ بغیر احساس اورتجربے کے جملہ انسانی احساسات اور تجربات لکھ سکتی ہے۔واضح رہے کہ ا س کا لکھنا simulation ہے ، جس میں نقل ،ترتیب ِنو، بین المتونیت شامل ہے۔وہ بہترین عناصر کو منتخب کرکے، انھیں ایک بہترین اسلوب میں ظاہر کرسکتی ہے۔ہر زمانے میں ایسے ادیب موجود رہے ہیں جن کے لیے لکھنایہی simlationرہا ہے۔وہ ادبی روایت میں سے عناصر منتخب کرکے ، انھیں نئی ترتیب میں پیش کرتے رہے ہیں۔ وہ نئے جذبات کو نہیں،ادب میں رجسٹر ہونے والے جذبات کو لکھتے رہے ہیں۔ان کے لیے اپنے شخصی جذبات سے زیادہ ،جذبات نگاری کی روایت اہم رہی ہے۔ وہ خود کو منہا کرتے رہے ہیں، روایت وعلامت بننے والے تجربات کا اثبات کرتے رہے ہیں۔

یہ بات از حد حیران کن ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ادبیاتِ عالم کی پوری تاریخ ،اور اس کے جملہ اسالیب از بر ہیں ،ان اسالیب کا تنقیدی شعور بھی اسے ہے، یعنی وہ جو کچھ لکھتی ہے، اس کے پیچھے موجود نظام یا شعریات سے بھی کسی غلطی کے بغیر آگاہ ہے۔ وہ اپنے پروگرام، اپنی گرامر، اپنے نظام سے انحراف نہیں کرتی۔ وہ خطا کے تصور سےآشنا ہے، گناہ اور تاسف سے نہیں۔وہ خطا کا علم ہونے پر ،اسے درست کرلیتی ہے اور پہلی حالت پر لوٹ آتی ہے۔ آدمی، گناہ پر تاسف اور توبہ کے بعد بھی سابق حالت پر لوٹ نہیں سکتا۔

معاصر ادب کے سامنے جنریٹو مصنوعی ذہانت یہ چیلنج سامنے رکھتی ہے کہ وہ یکسر نیا تخلیق کرسکتے ہیں یا نہیں۔ چوں کہ ابھی تک مصنوعی ذہانت اوسط درجے کا ادب تخلیق کرنے تک محدود ہے،اس لیے اوسط درجے کی،یا معمول کی ادبی تخلیقات کا چراغ ، اس کے آگے نہیں جل سکتا۔ کم ذہین اور معمولی تخیل کے ادیبوں کے لیے جنریٹو مصنوعی ذہانت، پیام مرگ کی مانند ہے۔

وہ یہ چیلنج دیتی محسوس ہوتی ہے کہ ادیب اس مشینی ذہانت کے ڈیٹابیس کی حدوں سے باہر جاسکتے ہیں یا نہیں؟

ہماری رائے میں ادیب ،مشینی ذہانت کی دنیا کے آخری کناروں سے آگے جاسکتے ہیں۔

ہمارے خیال میں انسان کے پاس دو ایسی چیزیں ہیں ، جو صرف انسانوں سے مخصوص ہیں،اوران کی مثل انسان خود تیار نہیں کرسکتا ۔گویا اس ضمن میں انسان کی اپنی بے بسی ہی اس کی نجات کا باعث ہوگی۔

پہلی چیز عدم ، نامعلوم اور خوابوں سے نئی چیزیں خلق کرنے والا تخیل ہے۔ ایک بات کا ہمیں یقین ہے کہ مشینی ذہانت خواب نہیں دیکھ سکے گی۔ خواب دیکھنے کے لیے ، سونا، داخلی وقت کا تجربہ کرنا،جو خارجی وقت سے یکسر مختلف ہے ، روح وبدن اور خیر وشر کی آویزش سے گزرنا اور اس کے نتیجے میں بلند ترین آدرش ترتیب دینا، اور ایک گہرے اضطراب کا ہونا ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت کے پاس یہ سب نہیں ہے۔

دوسری چیز وحشت ودیوانگی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے پاس دانائی ہی دانائی ہے۔ اعلیٰ آرٹ ، دانائی اور دیوانگی کا عجب،سررئیل قسم کا مجموعہ ہوتا ہے۔وحشت و دیوانگی کی اپنی منطق، قدر، اخلاقیات ، طاقت اور بساط ہے اور چیزوں کی ساری معلوم ترتیب کو الٹادینے کی خو ہے۔یہ معلوم دنیا کے دوسری طرف بے خوف جانے کا نام ہے۔یہ سب حدوں کو قید سمجھ کر انھیں اپنی جاں کی بازی لگا کر توڑ ڈالنے کا نام ہے۔

دشت نجد یاس میں دیوانگی ہو ہر طرف ہر طرف محمل کا شک ہوپر کہیں محمل نہ ہو (منیر نیازی)

یاد رکھیے ، وحشت کا لازمی نتیجہ تنہائی ہے۔ ایک ایسی تنہائی، جس کے بارے میں نطشے نے کہا تھا کہ پارسا لوگ کبھی تنہا نہیں ہوتے کہ ان کے پاس ہر لمحہ آسمانی سہارا ہوتا ہے۔ صرف نابغے تنہا ہوا کرتے ہیں، جن کے سر پر کوئی سایہ ہوتا ہے نہ ہمراہ کوئی سایہ ہوتا ہے۔ وہ اپنےو جود کی تپتی دھوپ میں تن تنہا ہوا کرتے ہیں۔ عدم تک رسائی والے تخیل، اضطراب خیز خوابوں اور وحشت اور تنہائی کو عام ،سمجھ دار انسان نہیں سہار سکتا۔ عام انسان معمول کی طرف ،اپنے گھر کی طرف،معمولی سے انحراف کے بعد مطابقت کی طرف لوٹنےو الا ہوا کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے اس سیلاب کے آگے اگر کوئی ٹھہر سکتا ہے تو و ہ نابغہ ہے جس کے پاس اپنے وجود کی تپتی دھوپ کو تنہا سہنے، علم کی تمام معلوم حدوں ، سرحدوں ، کناروں سے باہر جانے،حسیات کے جملہ معروف سانچوں کو شکست دینے، دشت امکاں کو ایک نقش پا سمجھنے اور ’’یا اپنا گریبان چاک یا دامن یزداں چاک ‘‘ کی گستاخی وجرأ ت کی فراوانی ہو۔

بیسوی صدی کے نابغوں میں سے ایک ہپسانوی پابلو پکاسو بھی ہے، جس نے گورنیکا جیسی جنگ مخالف پینٹنگ بنائی اور آرٹ کو اس کی آخری حدوں میں لے گیا ۔ اس نے ایک جگہ لکھا کہ کمپیوٹر بے کار ہیں کہ وہ صرف جواب دیتے ہیں۔ سوال صرف آدمی کے پاس ہیں۔مصنوعی ذہانت بھی ہمارے سوالوں کے جواب دیتی ہے۔ ہمار اامتحان اب یہ ہے کہ ہم اپنے سوالوں کی حس کو زندہ رکھتے ہیں یا نہیں اور نئے ، حیرت انگیز سوال اٹھاتے ہیں یا نہیں؟

ناصر عباس نیّر

۱۳ جون ۲۰۲۴ء

نوٹ: یہ مضمون پروفیسر ناصر عباس نیر صاحب کے فیس بُک سے لیا گیا ہے، ہم ان کے بے حد ممنون ہیں۔

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasAIchat gptادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف عاجز اعجاز
اگلی پوسٹ
پہلی نظر – تسنیم مزمل شیخ

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں