ازض فلسطین ایک دینی روحانی اور تاریخی سرزمین ہے،نہایت بابرکت اور مقدس خطہ ہے،انبیاءکرام کا مدفن ہے،صحابۂ کرام کا مسکن ہے،لا تعداد علماء اور صلحاء کی آخری جاءے سکونت ہے ،مسجد اقصیٰ اور قبۃالصخراءاسی سر زمین پر واقع ہے،یہی معراج اور حشر نشر کی سر زمین ہے ،الغرض فلسطین بڑی اہمیت،فضیلت اور برکت والی سر زمین ہے۔
اٹھے گا کب تلک شعلہ فلسطین کے مکانوں سے:وہی فلسطین آج یورشوں،بم دھماکوں اور دشمن طاقتوں کی زد میں ہے،وہاں ہرروز ظلم و ستم کی نئی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہیں،ہلاکتوں اور سفاکیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے،ارض فلسطین پر مالکانہ تصرف کے حصول کی خاطر صیہونی طاقتیں،شیطانی ایجنڈے اور باطل پرست درندے متحد ہوکر وہاں کی معصوم نہتے اور بے بس عوام پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھی ہے،کویٔ ان مظلوموں کی آہوں کو سننے والا نہیں۔
رسولوں کی زمیں کا پاس رکھتے ہو اگر کچھ بھی
فلسطین کے یتیموں کی ذرا لے لو خبر کچھ بھی
علم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں: طاقت وقوت کے نشہ میں سرشار اسرائیل ارض فلسطین پر ظالمانہ قبضہ جما کر ہر گری پڑی حرکت اور جاءز وناجائز ہتھکنڈے استعمال کررہی ہیں،اسےموروثی حق قرار دے کر مکمل تصرف قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں،دوسری طرف اسرائیل نواز ممالک اور صہونیت پرست عالمی طاقتیں اس کے ساتھ ہاں میں ہاں ملا کر اپنی تابعداری اور نمک خواری کا بھرپور ثبوت دے رہی ہیں۔نتیجتا ظلم و استحصال، حق تلفی اور ناہمواریی کی فضا بن گئی ہے اور وہاں کے عوام الناس کا سانس لینا بھی مشکل ہو گیاہے۔ مگر شاید ان ظالموں کو معلوم نہیں کہ
ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیں
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ارض فلسطین سے متعلق تمام تاریخی شواھد،حقائق،ایمانی اور روحانی تقاضے،دینی حالات،ماضی کے واقعات،موجودہ سربکف کشمکش اور مستقبل کی پیشین گوئیاں سب کے سب صاحب ایمان کے حق میں بہترین دلیلیں ہیں،فتح نصرت کی ضمانت ہیں،اس لیےمایوس ہونے کے بجائے عزم ہمت ایمان و یقین اور جوابی اقدام کی ضرورت ہے۔
فلسطین جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہم مقام ہے اپنے محل وقوع کی وجہ سے اسے یورپ، ایشیا، اور افریقہ کا تینوں براعظموں کا نقطہء اتصال قرار دیا جاسکتا ہے ،عالمی کیا طاقتوں کا مرکز بننے اور پوری دنیا کے لئے ریموٹ کنٹرول ہونے کی حیثیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ آج صیہونی طاقتیں اسے اپنا دینی، اقتصادی ،عسکری اور سیاسی مرکز بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔
فلسطین دنیا کا قدیم ترین متمدن علاقہ ہے،کنعانی اور یہوبی یہاں کی سب سے قدیم آبادی ہے،حضرت ابراہیم کا دارالہجرت،حضرت لوط کی جاءے سکونت اور بےشمار انبیاء ورسل کا مدفن ہونے کی فضیلت اسے حاصل ہے۔سر زمیں فلسطین مختلف ادوار میں مختلف قوموں کے زیر اقتدار رہ چکی ہے،کبھی باہلی حکومت قائم ہوئی تو کبھی فارسی ،کبھی یونانی تو کبھی رومی،عہد فاروقی میں خطۂ زمین اسلام کے سایہ میں آیا ،حضرت عمر نے اس کی دینی،اعتقادی اور تاریخی حیثیت کے پیش نظر بذات خود تشریف لے گئے اور نامہ ٔصلح تحریر فرمایا،پھر عہد اموی اور عہد عباسی میں بھی یہ مقدس سرزمین اسلامی چہل پہل اور چمک دمک کاحصہ بنی رہی،لیکن گیارہویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی غفلتوں ، نادانیوں، اور لاپرواہیوں کے نتیجہ میں ایک بار پھر فلسطین پر اسلام دشمن صلیبیوں کا قبضہ ہوگیا،صلیبیوں کا قبضہ ہوگیا،جسے بالاآخر 583ھ1187ءکو صلاح الدین ایوبی نے فتح کیا،اور ایک بارپھر ایمانی غیرت،اسلامی حمیت اور دینی شان و شوکت کا لوہا منوا لیا،مگر افسوس صد افسوس! گزشتہ ایک صدی سے مسلمانوں کی نااہلی،پسپاءاور عزم و حوصلے کی کمی کے بدولت ارض فلسطین پھر دشمن یہود کا بازی گاہ بن چکی ہے۔حق وباطل کی کشمکش پورے شباب پر ہے اور صاحب عزم و ایمان فلسطینی مجاہد اپنی ہتھیلی پرجان رکھ کر انکا مقابلہ کر رہے ہیں۔
اے فلسطینی مجاہد مرحبا صد مرحبا
مسکرا کر خون دیتا ہے چمن کے واسطے
دے رہا ہے ایک نئی تاریخ کو ترتیب تو
مبتلا ہوکر مصائب میں وطن کے واسطے
فلسطین کی اہمیت اس وقت دوبالا ہو جاتی ہے جب کہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تین زندہ،اہم اور بڑے مذاہب ( یہودیت،عیساءیت،اور اسلام)کے ماننے والوں کی ایک تعداد اس خطہ ارضی میں رہتی آرہی ہے،اور ہر ایک کے مذہبی تقدسات اور تاریخی یادگاریں اس سے وابستہ ہیں۔
عیسائیوں کے چند تقدسات اور یادگاریں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں،مثلا مسجد اقصیٰ سے صرف سو گز کے فاصلے پر عیسائیوں کا سب سے بڑا اور مقدس کلیسا جس ہر روز شام شمعیں اٹھاے قطار در قطار پادری حضرت عیسیٰ کی یاد مناتے ہیں،اسراءیل سے چند میل باہر شہر بیت منعم کے ایک غار میں بی بی مریم کے یہاں حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی تھی اور اسی مناسبت سے یہ شہر تعمیر کیاگیا تھا۔یروشلم میں دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر ہے جس کے بارے میں عیساءیوں کا عقیدہ ہے کہ یہیں پر عیسائی کو سولی دی گئی،اسی گرجا گھر کو تمام گرجاءوں کی ماں کہا جاتا ہے،اسی گرجا گھر کے ٹھیک پیچھے مسجد عمر واقع ہے،اسی طرح طویل عرصے تک عیسائیوں نے یہاں راج کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی فلسطین پر اپنا حق بتا کر اس کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔
یہودی فلسطین کو ارض موعود سے تعبیر کرتے ہیںاور خود کونسل براہیمی کی جانب منسوب کر کے عہدالہی کا بتا تے ہیں۔ان کا دینی وروحانی تعلق اور دیگر تمام مقدسات اسی علاقے سے وابستہ ہیں، خصوصا قبتہ الصخرا کے متعلق یہ مشہور کیے ہوے ہیں کہ اسی جگہ ہیکل سلیمانی موجود ہے جی دوبارہ تعمیر اسرائیلیوں کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
فلسطین اور مسلمان: فلسطین وہ ارض مقدس ہے جس کو قرآن نے بار بار بابرکت مقدس سرزمین کہا ہے،احادیث کا بڑا ذخیرہ اس کی فضیلت میں موجود ہے ،یہی وہ مسجد اقصیٰ ہے جس کی زیارت کی نہ صرف ترغیب آئی ہے بلکہ کہ اسے کا ثواب بتلا گیا ہے،یہیں وہ قبتہ الصخرا ہے جہاں سے نبی آخر الزماں معراج پر تشریف لے گئے ،تمام انبیاء کی امامت کی، اور اپنی سواری براق کو باندھا تھا،یہی اسماعیل واسحاق پیدا ہوئے،یہیں یعقوب اور ال یعقوب پروان چڑھے ،اسی چمن میں عیسیٰ نے آنکھ کھولی ،یہیں داود وسلیمان کی سلطنتیں قائم ہوئیں،یہاں کی فضائیں انفاس رسالت سے مہکتی ہیں اور یہاں کے ذرات انوار نبوت سے دمکتے ہیں ،اور ملت براہیمی سے روحانی تعلق کی بدولت یہ سر زمین حقیقی طور پر مسلمانوں کا ہی م موروثی حق ہے ،الغرض مسلمانوں کو دینی ،روحانی ، تاریخی اور موروثی ہر اعتبار سے فلسطین سے گہرا تعلق اور مستحکم رشتہ ہے۔
ارض فلسطین پر حق ملکیت کا دعوی یہود کو بھی ہے اور مسلمان کو بھی،مگر اس کا حقیقی وارث آخر کون ہے؟یہود دو بنیادوں پر ارض مقدس کو اپنی میراث کہتے ہیں،ایک ابراہیم سے نسبتی اور موروثی تعلق کی بنا پر،دوسرے حضرت موسیٰ کی بشارتوں کی وجہ سے جو توریت میں جا بجا مذکور ہیں ،موروثی تعلق پر موجودہ یہودیوں کے پاس کوئی پختہ دلیل موجود نہیں ہے ،بفرض محال مان بھی لیا جائے تب بھی ان میں وہ خصلتیں مفقود ہیں جو انہیں براہمیی نسبت سے سرفراز کرے ،کیوں کہ قرآن میں اللہ تعالی ظالموں کو ذریت ابراہیم سے خارج کرتا ہے اور موجودہ یہود دنیا کی سب سے زیادہ ظالم قوم ہے ،ارشاد باری تعالیٰ "لا یزال عھدی الظالمین "اور ان کی جگہ حقیقی وارث اور براہیمی ذریت صاحب ایمان کو قرار دیا ہے،ارشاد ہے "ان اولی الناس بابراھیم للذین اتبعوہ و ھذا النبی والذین آمنوا”(ابراہیم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ان کے متبعین اور یہ نبی( محمد)اور ایمان والے ہیں)اور کہیں” ملۃ ابیکم ابراھیم ۔۔۔۔۔۔الخ” کہ کر ابراہیم کو مسلمانوں کا روحانی باپ قراردیاہے،اسی طرح حضرت موسی کی بشارتیں یہودیوں کے لئے مشروط تھیں،انہوں نے جب وہ وعدہ اور شرط پوری نہیں کی اور رب کا عہد توڑا تو کیسے زمین مقدس کے حق دار ہو سکتے ہیں، عدم ایفائے عہد کی وجہ سے ہر قدم پر ذلت و مسکنت اس پر تھوپ دی گئی ابھی اور وہ در بدر بھٹکنا اس کا مقدر بن گیا لہذا ارض پاک کا اصل حقدار یہود نہیں مسلمان ہیں۔
موجودہ میڈیا کا کردار! میڈیا مثبت اور منفی ہر دو پہلو کا جامع ہے،انقلاب یا ارتداد اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے،اگر میڈیا کا رخ درست ہو،صداقت و امانت کا پاس و لحاظ ہو اور مثبت طرز فکر کے ساتھ دنیا کی رہنمائی کرے تو ہر جگہ انقلاب آ سکتا ہے،لیکن اگر یہی میڈیا اپنا فرض بھول جائے،بددیانتی،حق تلفی اور حقیقت پر پر پردہ پوشی کرنے لگے،جھوٹ، ملمع سازی، فریب اور سیاسی چال بازی کا شکار ہو جائے جائے تو پھر انسانوں کا اللہ ہی حافظ و ناصر ،بدقسمتی سے موجودہ دور میں میڈیا کا کردار انتہائی مجروح اور ناقابل یقین حد تک پست ہے،آپ نے غلط بیانی،تعصب پسندی،بے جا مداخلت اور بے تکی باتوں کی وجہ سے کافی بدنام ہے،آج آج میڈیا پر مخصوص لوگوں کی اجارہ داری قائم ہے،اور وہ افراد خصوصا مسلم مخالف اور اسلام دشمن کیمپ سے تعلق رکھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آج ہر جگہ مسلمانوں کی بستی ذات و خواری اور نا اہلی کو بار بار دکھا کر اور ایک جھوٹ کو سو سو بار کہ کر پوری دنیا کے مسلمانوں کو ذہنی اور فکری کے اعتبار سے بدل مایوس اور ناامید بنا دینا چاہتے، عملی میدان میں مفلوج مضمحل اور بے کار کر دینا چاہتے ہیں،مسلمانوں کی اچھائیوں کو دباتے اور ان کے عزم و ایمان کی شعاؤں کو دبا کر بالکل بجھا دینا چاہتے ہیں۔
مسئلہ فلسطین تیل حق و باطل کی کشمکش کا نقطہ عروج ہے،مسلم و غیر مسلم کی باہمی آویزش کا سب سے بڑا مظہر ہے،اسلام دشمن طاقت آپسی اختلاف کے باوجود مسئلہ فلسطین میں ایک خیمہ کے اندر جمع ہوگئی ہیں،ان تمام سرگرمیوں میں میڈیا کا رویہ انتہائی شرمناک اور مجروح کن رہا ہے،وہ تو صرف اپنے آقاؤں کی زبان جانتا ہے،طوطی کی طرح رٹی رٹاءی بات کو بار بار کہنا اور ظالم نا خداؤں سے واہ واہی حاصل کرنا میڈیا کے دن رات کا مشغلہ بن گیا ہے۔میڈیا پر یہود اور امریکہ کا سو فیصدی تسلط ہے،میڈیا کے توسط سے صرف وہی باتیں دنیا کے سامنے آتی ہے جو وہ لوگ چاہتے ہیں، فلسطین میں آئے دن جن جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے خون کی ہولیاں کھیلی جا رہی ہیں،ان میں ساٹھ ،سترفیصدی واقعات کو دبا دیا جاتا ہے،وہاں کی مظلوم عوام اگر فریاد کرتی ہے ،دہاءی دیتی ہے تو میڈیا بجائے اس کی مدد کرنے کے ان کی آواز کو اور دبا دیتا ہے ،یہود اور یہود نواز تحریکیں،تنظیمیں،اور ممالک بلند نعروں کے ساتھ دنیا کے سامنے اپنی باتیں پیش کرتی ہیں مگر مسلمانوں کی کی صدائے باز گشت اپنی ہی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہے،وہ تو شوشل میڈیا کا کچھ احسان ہے اور کچھ حق پسند افراد کی دین ہے،جن کے توسط سے وہاں کے حالات و واقعات اور معمولی تفصیلات ہم تک پہنچ جاتے ہیں ورنہ ان ظالموں نے تو جیسے قسم کھا رکھے ہیں کہ میڈیا کو صرف اپنے مفاد میں استعمال کرتا ہے چاہے ساری دنیا جہنم میں چلی جائے،فلسطین کے تعلق سے میڈیا حقائق پر پردہ ڈالنے اور مثبت کے بجائے منفی اثرات کو عام کرنے پر اپنا سارا زور صرف کر رہا ہے۔
الغرض مجموعی طور پر موجودہ میڈیا کا رویہ ناقابل اطمینان بلکہ ایک حد تک پریشان کن ہے،خصوصا فلسطین کے حقائق سے پردہ اٹھانے میں بجائے تعاون کے تعصب اور تعدی سے کام لے رہا ہے،آج ضرورت اس بات کی ہے کہ فلسطین کے تاریخی منظر نامہ،حقائق و شواہد اور اصلی چہرہ کو سامنے لایا جائے تاکہ ایک بار پھر وہ امن عامہ بحال ہوجائے اور فتنہ و فسادات کا خاتمہ ہو۔
WAQAR TAOHEED
Deptt. Of Education (M.Ed), CTET &NET QUALIFIED,
Acharya Nagarjuna University, Guntur – 522510(A.P)
Mob. 9334540656
Email: waqartaoheednadwee@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

