میں چونکہ بہت کم عمری میں دارالعلوم دیوبند گیا تھا، اس لیے ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت دونوں چیزیں اپنے ابا جان سے بھر پور ملی تھیں ۔رات میں کمرے میں پڑھائی کیلئے مجھ پر کبھی دباؤ نہیں ڈالا گیا ۔ابا جان سے ملنے جلنے والے اکثر طالب علم کبھی کبھی ابا جان سے کہتے بھی کہ سجاد کو پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تو فرماتے اس کی عمر پڑھنے کی نہیں ابھی کھیلنے کی ہے ۔پڑھنے کی عمر ہوگی تو خود پڑھے گا ۔۔۔ہاں کچھ طلباء کرام میری پڑھائی کے طریقے تلاش کر لیتے تھے ۔ابا جان کے بہت ہی قریب اور عزیز مولانا شعیب رحمانی رحمۃاللہ علیہ تھے ۔حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام رحمۃاللہ علیہ کے بھانجے انہوں نے کہا حضرت سجاد کو فارسی میں پڑھاوں گا ۔دن میں بارہ بجے کے قریب کمرے میں آتے میری کتاب آمد نامہ اپنے بغل میں دباتے اور مجھے اپنے ساتھ پان کی دکان پر لیجاتے خود پان کھاتے مجھے ٹافی کھلاتے پھر مسجد دارالعلوم فوقانی میں لے جاتے کہتے سجاد آگے آگے میں گردانتا ہوں پیچھے پیچھے تم گردانو ۔پھر کہتے اب انہیں صیغوں کو آگے آگے تم گردانو پیچھے پیچھے میں گردانتا ہوں ۔یہ پڑھانے کا انکا انوکھا انداز تھا ۔جب انکو اطمینان ہو جاتا کہ پختہ یاد ہوگیا تو کہتے اب چلو ۔پھر پان کی دکان پر آکر پان کھاتے مجھے ٹافی کھلاتے اور ابا جان کے کمرے میں پہونچا دیتے ۔مجھ سے دوستوں کے انداز میں گفتگو کرتے تھے ۔میں ہر دوپہر خود ہی انکا انتظار کیا کرتا تھا ۔آمد نامہ فارسی کی پہلی اور دوسری کتاب اس شوق و ذوق سے پڑھائی کہ فارسی کی دوسری کتابیں میرے لیے بہت ہی سہل ہو گئیں ۔مولانا شعیب صاحب کا تعلق ابا جان سے بہت گہرا تھا ۔ابا جان نے انکا نام پگلا رکھا ہوا تھا ۔کسی بھی طالب علم سے انکے متعلق پوچھتے تو اسی لفظ کا استعمال کرتے، ارے آج تم نے میرے پگلے کو دیکھا ہے ۔میرا پگلا ملے تو بھیج دینا ۔۔۔۔۔۔مولانا شعیب صاحب حد درجہ ذہین و فطین تھے ۔نہایت عمدہ شاعری کیا کرتے تھے ۔زود گو اور پر گو شاعر تھے ۔اس زمانے میں طلباء دارالعلوم اکابر بہار نمبر قلمی رسالوں کا نکالا کرتے تھے ۔مولانا شعیب صاحب پورا کا پورا رسالہ اردو نظم میں لکھتے اور مولانا شمس تبریز آروی مکمل رسالہ فارسی نظم اور فارسی نثر میں لکھتے تھے۔دونوں حضرات ہمیشہ ابا جان کے پاس حاضر ہوا کرتے تھے ۔مولانا شمس تبریز آروی سنجیدہ زیادہ تھے اور مولانا شعیب رحمانی آزاد مزاج، خوش مذاق، خوش گفتار اور بذلہ سنج ۔۔۔۔مولانا شعیب صاحب کبھی کبھی رات کے گیارہ بارہ بجے ابا جان کا دروازہ پیٹنے لگتے ۔ابا جان یہ کہتے ہوئے دروازہ کھولتے لگتا ہے میرے پگلے نے کوئی تازہ غزل کہی ہے ۔مولانا شعیب صاحب کہتے جی حضرت ایک بہت اچھی غزل کہی ہے ۔آپکے علاوہ اس رات کے وقت کس کو جگاتا ۔ابا کہتے میں منہ ہاتھ دھوتا ہوں جب تک تم چاے بناو ۔چاے پیتے ہوئے غزل سنتے اور فرمائش کرکے سنتے رہتے ۔۔۔۔بچپن میں ایک مرتبہ بقرعید کے موقع سے گھر آگیا تو مولانا شعیب رحمانی صاحب دیوبند لیجانے کے لیے میرے گھر آئے اور اپنے ساتھ اپنے یہاں جالے لے گئے اور پھر دیوبند ۔۔۔ان حضرات کے خلوص و محبت اور تعلقات کی گہرائی کا اندازہ ہم جیسے بے بہرہ لوگ نہیں لگا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جب میں گریڈیہہ میں اسکول میں استاذ تھا تو اپنا ٹرانسفر شمالی بہار میں کرانا چاہتا تھا ۔اس وقت مولانا شعیب صاحب رانچی یونیورسٹی میں استاذ تھے ۔رانچی شہر میں آپکی شخصیت بہت ہی مشہور و مقبول تھی ۔وزیر تعلیم رانچی کے تھے ۔۳۰۔۔۳۵ سال سے زیادہ عرصہ مولانا شعیب صاحب سے ملے ہو گیا تھا ۔میرے ایک آشنا جو رانچی کے آس پاس رہتے تھے انہوں نے کہا کہ رانچی چلیے ممکن ہے مولانا کے ذریعے کوئی سفارش ہوجائے ۔ورنہ ملاقات تو ہو جائے گی ۔میں انکے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہوگیا ۔ان صاحب کو سختی کے ساتھ میں نے منع کر دیا کہ میرا تعارف آپ نہیں کرائیں گے ۔مولانا کے کمرے میں اجازت لیکر ان صاحب کے پیچھے میں داخل ہوا، ان صاحب سے سلام مصافحہ کرتے ہوئے حالات معلوم کیے، جہاں وہ صاحب رہتے تھے وہاں کے بہت سے لوگوں کے بارے میں نام بنام حالات دریافت کئے، بیٹھتے ہوے میں نے سلام عرض کیا اور مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا، میرا ہاتھ جکڑ کر پکڑ لیا، دماغ پر زور دیتے ہوئے کہنے لگے یہ تو جانتا ہوں کہ یہ شخص میرا بہت ہی اپنا ہے، اس سے میرا روحانی رشتہ ہے ۔مگر میری یادداشت بالکل کام نہیں کر رہی ہے ۔دیر تک کرب و اذیت میں مبتلا رہے اور کہتے رہے یہ شخص میرا بہت ہی اپنا ہے، بہت ہی اپنا ہے ۔۔۔انکی اذیت ناک حالت کو دیکھ کر میں نے آہستہ سے اپنا نام لیا احمد سجاد سنتے ہی اچھل پڑے ارے سجاد، میرے شاگرد، میرے حضرت مفتی صاحب کے صاحبزادے بے تحاشہ خوشیوں سے انکا چہرہ تمتمانے لگا ۔چلا چلا کر گھر کے لوگوں کو وہیں سے کہنے لگے میرا شاگرد آیا ہے، سجاد آیا ہے ۔میرے حضرت مفتی صاحب کا لڑکا آیا ہے ۔۔۔ناشتہ بھیج دو کھانے کی تیاری کر لو۔جب میں نے پڑھایا تھا اس وقت چھ سات سال کی عمر تھی کتنا بڑا ہو گیا ہے سجاد ۔۔۔۔ناشتہ پر ناشتہ کے بعد اور پھر کھانے پر اور اسکے بعد بھی مسلسل گفتگو ہوتی رہی، انکی گفتگو ختم ہی نہیں ہورہی تھی ۔میرے ساتھی شروع سےاخیر تک ہکا بکا منہ تکتے رہے اور صرف سنتے رہے ۔میں نے عرض کیا کہ آج شام کو مجھے واپس جانا ہے ۔صبح تک پہونچ کر اسکول کرنا ہے ۔اتوار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آگیا ۔اس خبر سے کچھ مضمحل ہوگئے ۔شکایت کرنے لگے کبھی کبھی آکر مل لیا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے کہا ایک ہفتہ بعد ٹرانسفر کے سلسلے میں پٹنہ جانا ہے، اگر اس میں آپکی کوئی سفارش یا تعاون ممکن ہو تو کیجئے ۔فرمایا اس میں میں کوئی تعاون نہیں کر سکوں گا ۔پھر فرمایا یہاں رانچی کے کانکے میں جگہ خالی ہے تم صرف درخواست لکھدو میں تمہارا ٹرانسفر کرالوں گا ۔میں نے کہا کہ دوری کیوجہ سے میں دربھنگہ، مدھوبنی یا سمستی پور جانا چاہتا ہوں ۔رانچی کی دوری تو دوگنی ہو جائے گی ۔فرما نے لگے تم نزدیک آجاو گے تو مجھے بڑا سہارا مل جائے گا ۔خالد بھی حیدرآباد چلا گیا ۔۔اس بہت بڑی بھیڑ میں بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہوں ۔۔دیر تک خالد سیف اللہ رحمانی کے تذکرے رہے ۔۔۔۔۔۔چلنے سے پہلے فرمایا پٹنہ جانا تو ریڈیو اسٹیشن میں شمیم فاروقی صاحب رہتے ہیں میرے دوست ہیں ان سے ملکر پوچھنا اس سلسلے میں وہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں یا نہیں ۔میں نے کہا کہ انکے نام کوئی پرزہ لکھ دیجئے، جھٹکے کے ساتھ کہا ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اسے پرزہ لکھوں ۔اس انداز اور جواب پر میری طبیعت کچھ مکدر ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ بعد ٹرانسفر کے سلسلے میں پٹنہ جانا ہوا جناب عبد الباری صدیقی صاحب میرے عزیز ترین دوست اور رشتہ دار ہیں، انہیں کے یہاں فروکش ہوا دوسرے دن ڈائرکٹر سے ملاکر سفارش کر دی اور میں مطمئن ہوگیا ۔۔۔۔شمیم فاروقی صاحب کے نام پرچہ یا خط نہیں لکھنے کی وجہ سے میری طبیعت مولانا شعیب صاحب سے کچھ مکدر تھی ۔مگر انکے اخلاص و محبت کا میں گرویدہ تھا ۔انکے اخلاص میں کوئی شبہہ مجھے نہیں تھا بلکہ انکے عمل سے حیران ضرور تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے کام سے فارغ ہو کر میں نے فاروقی صاحب سے ملنے کا فیصلہ کیا ۔پٹنہ ریڈیو اسٹیشن میں شمیم فاروقی صاحب سے ملاقات کی میں نے کہا ،میں ہائی سکول میں گریڈیہہ میں استاذ ہوں ۔چاہتاہوں سمستی پور میں ایک خالی جگہ پر ٹرانسفر کرالوں، ابتک فاروقی صاحب تحمل کے ساتھ برداشت کر تے رہے ۔۔۔۔۔۔۔پھر کچھ لجاتے ہوئے میں نے کہا ۔رانچی گیا تھا، مولانا شعیب رحمانی صاحب نے کہا تھا آپ مل لوں ۔مولانا شعیب صاحب کا نام سنتے ہی کرسی سے اچھل پڑے کھڑے ہوئے مجھے ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا، گلے لگا لیا، ہاتھ پکڑے ہوے کینٹین میں لے گئے، عمدہ ناشتہ، مٹھائی اور چاے سے ضیافت کی ۔اسکے بعد میری درخواست کی ایک کاپی ہاتھ میں لیکر غور سے پڑھا، وزیر تعلیم کے پی۔اے ۔کو فون لگاکر کہا میرا بھائی گریڈیہ میں ٹیچر ہے، سمستی پور کے فلاں اسکول میں اردو ٹیچر کی جگہ خالی ہے، اس جگہ پر انکا ٹرانسفر کرانا ہے ۔اگر آپ وعدہ کریں تو انہیں کل میں آپکے پاس بھیج دوں، نہیں تو میں خود آکر وزیر صاحب سے مل لیتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ میں کافی ہوں، آپ زحمت نہ کریں ۔اس بعد فاروقی صاحب میرا ہاتھ پکڑے ہوے اپنے گھر لیجانے لگے، آپ سفر سے آئے ہیں تھکےہوں گے ۔میں نے عرض کیا فاروقی صاحب میں اپنے ایک عزیز کے یہاں ٹھہرا ہوا ہوں ۔اس جملہ پر فاروقی صاحب بگڑ گئے، ایسا کیسے ہوسکتا ہے شعیب نے آپکو مجھ سے ملنے کہا اور آپ میرے علاوہ دوسرے کے مہمان رہیں ۔آپ میرے گھر چلیے آرام کیجئے ۔میں نے بڑی لجاجت سے ان سے معافی مانگ لی ۔لیکن انکے چہرے کی رنگت بتارہی تھی کہ انکا مہمان نہ بن پانے کی وجہ سے مجھ سے کہیں زیادہ وہ خود شرمندگی اور پشیمانی کے شکار ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے دل کا چور باہر نکلا، میں نے کہا مولانا شعیب رحمانی صاحب سے میں نے عرض کیا تھا کہ فاروقی صاحب کے نام ایک رقعہ لکھ دیجئے لیکن انہوں نے انکار کر دیا ۔۔۔اس جملہ کو سنتے ہی جناب شمیم فاروقی صاحب کا تیور بگڑ گیا ۔اونچی آواز میں بولے کیا کہا آپ نے؟ کیا شیعب کسی کام کیلئے مجھے رقعہ لکھے گا ۔نہ یہ اسکی ہمت ہے نہ میں اتنا گرا ہوں ۔اس کا نام ہی میرے لیے سب کچھ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

