حضرت شیخ سعدیؒ نے اپنی فارسی غزل میں سفر کی بابت کہا ہے کہ:
بسیار سفر باید تا پختہ شود خامی
صوفی نشود صافی تا درنکشد جامی
(پیہم سفر اختیار کرنے سے نہاں خانہ دل و دماغ میں تازگی، شگفتگی اور پختگی خیال کے ساتھ گنجینہ تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔
اے جامی صوفی اس وقت تک اہل بصیرت نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ مرد کامل کی چوکھٹ چوم کر استفادہ نہ کرے!)
سفر انسان میں وسیع النظری پیدا کرتا ہے اور مسافر کو جسمانی طور پر متحرک اور چاق و چوبند رکھتا ہے۔ سفر تجربے کی وسعت اور معلومات میں اضافے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ اس میں نئے افراد سے نہ صرف روبرو ملاقات ہوتی ہے بلکہ ان کی خوبیوں اور خامیوں سے بھی واقفیت ہوجاتی ہے۔ عالموں، دانشوروں، فن کاروں اور دیگر عظیم شخصیات سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ اردو میں پہلا سفرنامہ یوسف خاں کمبل پوش کا “عجائباتِ فرنگ المعروف بہ تاریخِ یوسفی” ہے جو پہلی بار 1847ءمیں منظر عام پر آیا۔ سفرنامہ وہی موثر ہوتا ہے جس کو پڑھنے والا مصنف یا سیاح کا ہم سفر بن جائے۔ عصر حاضر میں اردو سفرنامے نے ترقی کی نت نئی منزلیں طے کی ہیں اور جدید تکنالوجی کے تعاون سے روایتی سفر کی صعوبتوں کو الوداع بھی کہا ہے۔
ہم سب واقف ہیں کہ انیسویں صدی سے سفرنامہ ایک مستقل فن کی حیثیت حاصل کرچکا ہے۔ اردو میں سفرناموں کی روایت بہت قدیم ہے۔ سرسید کا سفرنامہ’ مسافرانِ لندن‘، شبلی کا سفرنامہ ’روم و مصر و شام‘، قاضی عبدالغفار کا سفر نامہ’ نقش فرنگ‘، بیگم حسرت موہانی (نشاط النساءبیگم) کے دو سفرنامے’ سفرنامہ عراق‘ اور ’سفرنامہ حجاز‘سید سلیمان ندوی کاسفرنامہ ’سیرافغانستان‘ کو ادبی حلقوں میں پذیرائی مل چکی ہے۔ احتشام حسین کا سفرنامہ ’ساحل اور سمندر‘ بھی اہم ہے۔ حال کے سفرناموں میں خواجہ غلام السیدین ،ابنِ انشاء، جگن ناتھ آزاد، آل احمد سرور، رام لعل، گوپی چند نارنگ، مجتبیٰ حسین وغیرہ کے سفرنامے ادبی حلقوں میں پسند کئے گئے ہیں۔راقم الحروف نے بھی کئی سفر کئے اور ان کی روداد مختصر سفرناموں کی صورت میں قلم بند کی۔ میں نے 1991ءمیں کراچی (پاکستان)، 2007ءمیں جدہ(سعودی عربیہ)، 2010ءمیں کٹک (اڈیشہ) ، 2017ءمیں اگرتلہ(تریپورہ )، 2019ءمیں آسام اور 2022ءمیں بھوپال(مدھیہ پردیش) کا سفر کیا ۔

شہر بھوپال ریاست مدھیہ پردیش کا مرکزی شہر اور دارالحکومت ہے۔ ملک کے وسط میں ہونے کی وجہ سے اسے ہندوستان کا دل بھی کہا جاتا ہے۔ گیارہویں صدی عیسوی کی ریاست مالوہ کے راجا بھوج نے اس شہر کو قائم کیا تھا۔ جدید بھوپال شہر کی بنیاد ایک افغان سردار دوست محمد خان نے رکھی تھی۔ مدھیہ پردیش میں کل 52اضلاع ہیں جن میں سے ایک بھوپال ہے۔ یہ ایک میٹروپولیٹن شہر ہے جس کی آبادی 2011ءکی مردم شماری کے مطابق 1,917,051 ہے۔ معتدل موسم والا یہ شہر جہاں اپنی قدیم تہذیب و ثقافت ، خوبصورت عمارتوں، جھیلوں، سبزہ زاروں، تالابوں اور باغوں کے لیے مشہور ہے وہیں دسمبر 1984ءمیں یونین کاربائیڈ کارخانے سے مہلک گیس اخراج کے سبب ہزاروں افراد کی تکلیف دہ موت کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔اس حادثے سے متاثر ہوکر راقم الحروف نے ایک غزل کہی تھی جس کا ایک شعر یوں ہے:
زہریلی گیسوں کے باعث سانس بھی لینا مشکل ہے
لیکن اس عالم میں بھی کچھ چہروں پر ہیں پھول کھلے
اعلیٰ تعلیم کے لئے یہاں تقریباً 19 ادارے قائم ہیں جن میں گریجویشن ، پوسٹ گریجویشن اور ڈاکٹورل سطح کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اردو میں فاصلاتی تعلیم کے لیے مانو کا ریجنل سینٹر یکم فروری 2005ءسے کارکرد ہے۔ علاوہ ازیں مانو کالج آف ٹیچرس ایجوکیشن میں بی ایڈ / ایم ایڈ وغیرہ کے کلاسز ہوتے ہیں۔ ریاست مدھیہ پردیش کے گورنر منگوبھائی چھگن بھائی پٹیل ہیں جب کہ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان (بھارتیہ جنتا پارٹی) ہیں۔ شہر بھوپال میں میونسپل کارپوریشن قائم ہے جس کے پچھلے میئر الوک شرما (بھارتیہ جنتا پارٹی) تھے۔ یہاں کے وسیع و عریض تال کے سلسلے سے ایک مثل مشہور ہے:
تال تو بھوپال تال اور ہیں تلیّاں
رانی تو کملا پتی اور ہیں رنیّاں
ریاست بھوپال میں مسلم حکمرانوں کا سلسلہ بانی ریاست بھوپال نواب دوست محمد خاں (1708ء-1726ء) سے آخری فرمانروا نواب حمید اللہ خاں (1926ء-1949ء) تک جاری رہا۔ 9 نوابوں اور 4 بیگمات نے تقریباً سوا دو سو سال تک حکومت کی۔ یہاں کی بیگمات اور نواب حمید اللہ خاں نے تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی۔ یہاں چار خواتین نواب گوہر قدسیہ بیگم، سکندر جہاں بیگم، شاہ جہاں بیگم اور سلطان جہاں بیگم تسلسل کے ساتھ یعنی چار پشتوں تک نواب رہیں جو ہندوستان نہیں دنیا میں خواتین حکمرانوں کی واحد مثال ہے اور انھوں نے درجنوں مساجد ، مدارس اور درس گاہیں تعمیر کرائیں۔ ریاست بھوپال کا پہلا باقاعدہ مدرسہ سلیمانیہ جسے 1853ءمیں نواب سکندر جہاں بیگم نے قائم کیا تھا جس میں دیگر دینی علوم کے ساتھ عربی، فارسی، اردو، انگریزی کی تعلیم کا انتظام تھا۔ 1892ءمیں نواب شاہجہاں بیگم نے اپنے عہد میں اس کا الحاق کلکتہ یونیورسٹی سے کرایا تھا جس کی وجہ سے اس کے تعلیمی وقار میں اضافہ ہوا۔ بھوپال کا دوسرا مخصوص کارنامہ موتی محل مدرسہ تھا جسے نواب سکندر جہاں بیگم نے شاہی خاندان کے بچوں کی تعلیم کے لئے قائم کیا تھا۔ موصوفہ علم و ادب کی قدر داں تھیں۔ انہوں نے ہندوستان میں سب سے پہلے 1859ءمیں اردو کو ریاست بھوپال کی سرکاری زبان کا درجہ عطا کیا اور قصبات میں کافی مدرسے قائم کئے۔ تمام بیگمات تعلیمِ نسواں کی حامی تھیں اور اس مقصد کی برآوری کے لیے ریاست میں مدرسہ وکٹوریہ قائم کیاگیا تھا۔ خواتین کی پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ میں یہاں کی بیگمات اور آخری فرمانروا نواب حمید اللہ خاں کے کاموں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ڈاکٹر محمد احسن ریجنل ڈائریکٹر مانو بھوپال (مدھیہ پردیش) کی دعوت پر راقم الحروف (ڈاکٹر امام اعظم، ریجنل ڈائریکٹر مانو کولکاتا) پہلی بار 28فروری 2022ءکی شب کوہِ فزا کے ’میزبان گیسٹ ہاؤس‘ پہنچا۔ راجیہ شکشا کیندر مدھیہ پردیش کی اردو میڈیم درسی کتب کے جائزہ اور نظر ثانی پر ایک ورک شاپ کا اہتمام مانو ریجنل سینٹر اور سی ٹی ای مانو بھوپال نے مدھیہ پردیش راجیہ شکشا کیندر بھوپال کے اشتراک سے مانو ریجنل سینٹر ، 12 احمد آباد پیلس روڈ ،کوہ فزا، بھوپال-462001 میں یکم مارچ تا 5مارچ 2022ءکو کیا تھا جس کے کنوینر ڈاکٹر محمد احسن (ریجنل ڈائریکٹر) اور کوآرڈی نیٹر پروفیسر نوشاد حسین (پرنسپل، مانو سی ٹی ای، بھوپال )تھے۔ اس ورک شاپ میں راقم الحروف،ڈاکٹر نصرت جہاں (صدر، شعبہ اردو، سریندر ناتھ ایوننگ کالج ، کولکاتا) اور ڈاکٹر ابو محمد حلیم اختر (صدر، شعبہ فارسی ، تلکا مانجھی یونیورسٹی ، بھاگلپور ) کے علاوہ ڈاکٹر آصف سعید(اردو کوآرڈی نیٹر، راجیہ شکشا کیندر، بھوپال)، شبانہ پروین، محمد سادات خان (اے آر ڈی ، مانو ، بھوپال)، ڈاکٹر صالحہ کوثر، ڈاکٹر ترنم، احمد حسین، ذکی ممتاز، ڈاکٹر تلمیذ فاطمہ، ڈاکٹر عابدہ شبنم، پروفیسر نوشاد حسین، ڈاکٹر محمد احسن، ثنا انصاری وغیرہ مقامی شرکاء تھے۔ مذکورہ ورک شاپ بحسن و خوبی انجام پذیر ہوا۔

شہر بھوپال کی عمر تقریباً 287 سال ہے۔ اس شہر کو دیکھنے کا اشتیاق مجھے بچپن ہی سے تھا۔ یہاں کے قدرتی حُسن اور نرم گفتاری کے چرچے سنتا آیا تھا ۔یہاں سے 40 میل دور رائے سین میں 11ویں صدی میں یہاں کی بیگم نے توپ سے افطار اور سحری کا آغاز کرایا تھا۔ صدیوں بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔یہاں میرے خالو سید انور کریم عرف مرضی مرحوم موضع دانی، دربھنگہ مدفون ہیں اور میرے بزرگ معروف ناقد اور شاعر جناب محمد سالم محلہ مہدولی، دربھنگہ جو اِن دنوں امریکہ میں مقیم ہیں بھارت ہیوی الیکٹریکلز لمیٹڈ(BHEL) میں ملازم (1958ءتا 1968ء) تھے۔ میرے عزیز دوست علی اظہر زیدی جو نودیہ ودیالیہ پچاڑھی، مدھوبنی میں استاد ہیں اور نوجوان افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کے ذریعہ بھی بھوپال کی تعریف سنتا آیا تھا ۔یہ لوگ ورک شاپ میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
اس شہر کے بیحد فعال ادیب، شاعر، صحافی اور دانشور اقبال مسعود ہیں جنہوں نے شہر اور بیرون شہر کے ادیبوں ،شاعروں اور صحافیوں محمد خالد عابدی، عارف عزیز، نعیم کوثر، عالمی شہرت یافتہ شاعر منظر بھوپالی، ڈائریکٹر مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی ڈاکٹر نصرت مہدی، پروفیسر اختر الواسع ، پروفیسر خالد محمود، پروفیسر تسنیم فاطمہ، ضیاءفاروقی، ڈاکٹر رضیہ حامد، ڈاکٹر افشاں ملک(علی گڑھ) وغیرہ سے ملاقات کرائی اور شہر کے کئی تاریخی مقامات کی سیر بھی کرائی۔اقبال مسعود صاحب سے میری پہلی ملاقات مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے جشن اقبال میں ہوئی تھی۔ بر صغیر کی 5اہم مساجد میں شمار ’تاج المساجد‘ بھی میں نے دیکھی جس کی بنیاد شاہ جہاں بیگم نے 1886ءمیں ڈالی تھی۔ اس مسجد میں تقریباً ایک لاکھ مصلّیان نماز ادا کر سکتے ہیں۔ بزرگ ادیب و صحافی عارف عزیز کی کتاب ”مساجدِ بھوپال“ کے مطابق شہر میں تقریباً 400 مساجد 2003ءتک تعمیرہوچکی تھیں اور آج ان کی تعداد 450 سے زیادہ ہے۔ یہاں کی ’تاج المساجد ‘دنیا کی تیسری بڑی مسجد شمار ہوتی ہے۔ نواب شاہجہاں بیگم نے 1877ءمیں اپنے محل کے نزدیک دنیا کی بڑی مسجد بنانے کا ارادہ کیا تب ان کے خزانے کی حالت بہت اچھی نہیں تھی۔ اس مسجد کے معمار کا نام اللہ رکھا تھا۔ یہ مسجد اونچی جگہ پر بنی ہے۔ اس کا وسیع احاطہ اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کا صدر دروازہ 47 فٹ اونچا ہے۔ اندرون میں شمال کی جانب زنانہ حصہ ہے جس میں پردہ نشیں خواتین نماز ادا کرسکتی ہیں ۔ مغرب میں عبادت کی جگہ جس میں ستونوں پر 9 دروازے ہیں۔ چھت پر 27 گنبد بنائے گئے ہیں۔ ہرسال تبلیغی جماعت کا سہ روزہ اجتماع اس مسجد اور اس کے وسیع احاطہ میں پابندی کے ساتھ 1948ءسے 2001ءتک منعقدہ ہوتا رہا۔ بعد میں انتظامی دشواریوں کے باعث اسے شہر بھوپال کے مضافات میں منتقل کردیا گیاجس میں ملک و بیرون ملک کی جماعتیں شرکت کرتی رہی ہیں۔ نواب شاہجہاں بیگم (30جولائی 1938ء- 16جون 1901ء) ریاست بھوپال کی دسویں حکمراں اور تیسری بیگم بھوپال تھیں۔ انھوں نے ریاست بھوپال پر تقریباً 57 سال تک حکمرانی کی ۔ وہ فطرتاً بیدار مغز اور عادتاً جفاکش خاتون نیز علم وادب کی قدر شناس تھیں۔ سرسیّد کی قائم کردہ سائنٹفک سوسائٹی علی گڑھ کی سرپرست تھیں۔ ادیبہ اور شاعرہ بھی تھیں۔ تاجور اور شیریں تخلص کرتی تھیں۔ ان کی مشہور تصانیف میں ’تہذیب النسواں‘ اور ’خزینة اللغات‘ ہیں۔ مثنوی صدق البیان، تاج الکلام اور دیوان شیریں ان کی یادگار ہیں لیکن ان کی عمر نے وفا نہیں کی اور وفات ہوتے ہی مسجد کی تعمیر کا کام بند ہوگیا جس کو ایک اولوالعزم عالم دین مولانا محمد عمران خاں ندوی ازہری نے پورا کیا ۔ اس مسجد میں دارالعلوم ندوة العلماءکی پہلی شاخ 1951ءمیں قائم ہوئی اور دارالعلوم تاج المساجد کے نام سے یہ جاری ہے۔ نواب شاہ جہاں بیگم نے بیسویں صدی کے عبقری عالم دین صدیق حسن صاحب سے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح کرلیا تھا۔ ان کے زمانہ میں یہاں علم و ادب کا زبردست فروغ ہوا۔
ریاست بھوپال کی آخری خاتون نواب سلطان جہاں کے دور میں بھی اردو زبان و ادب کے ہرشعبہ میں ترقی ہوئی۔ موصوفہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور روشن خیال خاتون تھیں۔ ان کی کل 34 کتابیں اشاعت کے مرحلے سے گزریں۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر علمی کتابیں تحریر کرائیں۔ محمد امین زبیری، نیاز فتح پوری، علامہ محوی صدیقی، محمد یوسف قیصر، مانی جائسی، محمدمہدی اور عبدالرزاق البرامکہ اس کام میں پیش پیش تھے۔ ریاست سے باہر کی بے شمار علمی کتابیں حکومت کے مالی تعاون سے بھی شائع ہوئیں۔ یہاں کے مالی تعاون سے شائع کتابوں میں علامہ شبلی نعمانی کی ’سیرة النبی‘، سید سلیمان ندوی کی ’سیرة عائشہؓ ‘اہم ہیں۔ انہوں نے دو ماہنامے ’الحجاب‘ اور ’ظل السلطان‘ بھی نکالے۔ وہ اچھی خطیبہ بھی تھیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ اس یونیورسٹی کی اول اور دوم دو مرتبہ چانسلر بھی ہوئیں۔ علامہ شبلی نعمانی کے قائم کردہ ادارہ دارالمصنّفین اعظم گڑھ کی سرپرست تھیں ۔ 1905ءمیں شبلی سے سلطان جہاں کی ملاقات ہوئی۔ وہ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ’الندوة‘ میں ایک جامع مضمون قلم بند کردیا۔ شبلی کے اشعار دیکھیں:
مصارف کی طرف سے مطمئن ہوں میں ہر صورت
کہ ابر فیض سلطان جہاں بیگم زر افشاں ہے
رہی تالیف و تنقید روایت ہائے تاریخی
تو اس کے واسطے حاضر میرا دل ہے، میری جاں ہے
غرض دو ہاتھ ہیں، اس کام کے انجام میں شامل
کہ جن میں اک فقیر بے نوا ہے، ایک سلطاں ہے
دارالمصنّفین کے دو رفقاءمولانا عبیداللہ کوٹی ندوی اور مولانا عمیر الصدق ندوی (معارف) کا بھی تعلیمی سلسلہ یہاں سے رہا ہے۔
علامہ اقبال کئی مرتبہ بھوپال تشریف لائے اور نواب حمید اللہ خاں کے مہمان رہے۔ 13جنوری 1935ءسے 8مارچ 1935ءریاض منزل میں، دوسری بار 17جولائی 1935ءسے 28اگست 1935ءشیش محل میں اور تیسری بار 2مارچ 1936ءسے 8اپریل 1936ءمیں شیش محل میں قیام کیا۔ گویا مجموعی طور پر پونے چار ماہ علاج کے سلسلے میں بھوپال میں قیام ہوا۔نواب صاحب اور علامہ اقبال کے درمیان تعلق پیدا کرنے والی ایک کڑی سرسید کے پوتے سرراس مسعود تھے۔ اس شہر سے علامہ اقبال کو خاص نسبت رہی کیونکہ لاہور اور سیالکوٹ کے علاوہ جس مقام پر انہوں نے سب سے زیادہ وقت گزارا وہ شہر بھوپال ہی ہے۔ دراصل بھوپال سے علامہ اقبال کی قربت کی وجہ نواب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال اور ریاست بھوپال کے سربراہِ تعلیم سر راس مسعود سے دیرینہ اور گہرے مراسم تھے۔ نواب حمید اللہ خاں کے زمانہ میںانہیں حکومت بھوپال سے پانچ سو روپے ماہانہ وظیفہ جاری ہوا۔ علامہ اقبال نے اپنے مجموعہ کلام’ ضرب کلیم‘ میں نواب موصوف سے انتساب کے طور پر فارسی میں اشعار تحریر کئے ہیں:
زمانہ با اُممِ ایشیا چہ کرد و کند
کسے نہ بود کہ ایں داستاں فرو خواند
تو صاحبِ نظری آنچہ در ضمیرِ من است
دلِ تو بیند و اندیشہ تو مے داند
بگیر ایں ہمہ سرمایہ بہار از من
’کہ گل بدستِ تو از شاخ تازہ تر ماند‘
(ترجمہ: ایشیا کی امتوں (قوموں)کے ساتھ زمانے نے کیا کیا اور کیا کرے گا؟ داستان پڑھنے والا کوئی نہیں تھا۔ آپ صاحبِ نظر ہیں اور جو میرے دل( ضمیر) میں ہے اس کو آپ کا دل دیکھتا ہے اورآپ کا خیال جانتا ہے۔مجھ سے موسم بہار کا یہ سرمایہ لے لو کیوں کہ پھول آپ کے ہاتھ میں شاخ سے بھی زیادہ تروتازہ رہتا ہے۔ )
علامہ اقبال نے بھوپال میں قیام کے دوران 14 نظمیں لکھیں۔ علامہ نے علاج و معالجہ کے سلسلے میں اپنی عمر کا آخری کچھ حصہ جب وہ گلے کے مرض میں مبتلا تھے ، نواب موصوف کی میزبانی میں گزارا۔ ان کے بیٹے جاوید اقبال اور ان کے خادم نبی بخش بھی ان کے ہمراہ یہاں آچکے ہیں۔ اقبال کی وفات کے بعد بھی یہاں ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی اور 1984ءمیں حکومت مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ آنجہانی ارجن سنگھ نے شہر کے کھرنی والے میدان کو علامہ اقبال سے منسوب کرکے اُس کا نام اقبال میدان کردیا۔ اقبال سمان کا سلسلہ بھی شروع ہو ا جو آج تک جاری ہے۔
غالب اور داغ کے کئی شاگرد یہاں رہے۔ بالخصوص غالب کے دو دیوان بھوپال (پہلا 1918ء، دوسرا ’نسخہ بھوپال بخطِ غالب‘ 1969ء) سے ہی شائع ہوئے۔ ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری (مشیر تعلیم ) بھی یہاں مقیم رہے اور یہیں 1918ءمیں وفات پائی۔ ٹیگور کی ”گیتانجلی “ کی چند شہرہ آفاق نظموں کا اردو ترجمہ ڈاکٹر بجنوری نے کیا جو بے حد مقبول ہوا۔ یہ نظمیں ’باقیاتِ بجنوری‘ میں شامل ہیں۔ دیوانِ غالب کے لیے بجنوری کا مقدمہ جس کا پہلا جملہ ”ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں : ایک وید مقدس ، دوسری دیوانِ غالب “ پہلی مرتبہ انجمن ترقی اردو ہند کے رسالہ ”اردو“ کے پہلے شمارہ جنوری 1921ءمیں شائع ہوا تھا۔ بعد میں جب مفتی انوار الحق (ڈائریکٹر، تعلیماتِ ریاست بھوپال) نے نواب حمید اللہ خاں کی ایما پر دیوانِ غالب کا نسخہ حمیدیہ مرتب کیا تو بجنوری کے مقدمہ کو نسخہ حمیدیہ میں شامل کیا۔ بعد میں انجمن ترقی اردو ہند نے اس مقدمہ کو محاسن کلامِ غالب کے نام سے علیحدہ طور پر شائع کیا۔
ملا رموزی گلابی اردوکے بانی بھوپال کے تھے جو گلابی اردو کے موجد اور خاتم تھے۔ انہوں نے گلابی اردو پر مشتمل 3 کتابیں ’انتخابِ گلابی اردو1920ء‘، ’مجموعہ گلابی اردو‘ 1922ءاور ’مقالاتِ گلابی اردو‘ 1922ءلکھیں اور اس صنف سے نئی نسل متعارف ہوئی۔ انہوں نے طنز و مزاح پر تیس کتابیں تحریر کیں جس سے بھوپال کا نام زبان و ادب کے حوالے سے تاریخ ساز بن گیا۔ وہ ایک خوش فکر شاعر بھی تھے۔ ان کا ایک شعر دیکھئے :
شرابِ کیف کے کیا خم کے خم لنڈھائے ہوئے
اٹھے ہیں بزم سے، جب وہ نظر جھکائے ہوئے
پروفیسر خالد محمود نے 2013ءمیں ”کلیاتِ ملا رموزی“ (ناشر : قومی کونسل براے فروغِ اردو زبان ) 5 جلدوں میں ترتیب دی ہے۔
1929ءمیں مہاتما گاندھی بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے چندے کے سلسلے میں نواب حمید اللہ خاں ، بھوپال کے مہمان بنے اور یہاں انھوں نے بے نظیر گراؤنڈ پر ایک بڑے جلسے کو خطاب کیا تھا نیز چندے کی اپیل کی تھی۔ مولانا محمد علی جوہر کے داماد شعیب قریشی اس زمانے میں ریاست بھوپال میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے۔ ان کی خواہش پر ہی گاندھی جی بھوپال تشریف لائے تھے۔
بھوپال کے متعلق مشہور ہے کہ برّو کو کاٹ کریہاں آبادی قائم کی گئی اس لئے پرانے بھوپالیوں کو برّو کاٹ بھوپالی کہتے ہیں۔ فلم ’شعلے‘ میں جاوید اختر نے سورما بھوپالی (جگدیپ) کا کردار پیش کیا جو خاصا مقبول ہوا۔ سورما بھوپالی نے جے اور ویرو کو خاں سے مخاطب کیا تھا۔ جگدیپ کا اصل نام سید اشتیاق حسین جعفری تھا۔ انہوں نے بعد میں فلم ’سورما بھوپالی‘ بھی بنائی۔ مشہور فلمی نغمہ نگار جاوید اختر، صوفیہ اختر اور جاں نثار اختر کے بیٹے ہیں۔ ان کی تعلیم بھوپال میں ہی ہوئی ہے۔ بھوپال کو جھیلوں (Lake) کا شہر اور مساجد کا شہر بھی کہتے ہیں نیز بھوپال کو شہر ِغزل سے بھی پکارا جاتا ہے۔ بھوپال ریلوے اسٹیشن پر آج بھی رکشا والے اور آٹو والے مسافروں کو کیوںخاں، کیو ںخاں کہہ کر آواز لگاتے ہیں۔ بھوپال کی ملی جلی تہذیبی وراثت کی یہ نشانی ہنوز قائم ہے۔ بھوپال میں بیشتر مساجد خواتین کے نام پر ہیں اور ان کی تعمیر کردہ ہیں۔ بہار ، سرمیرا کے عبدالغفور شہباز بھی یہاں سرشتہ تعلیم میں ڈائریکٹر رہے۔ راقم الحروف کے مونو گراف’ ہندوستانی ادب کے معمار: عبدالغفور شہباز‘ (مطبوعہ2011ء) میں یہ درج ہے کہ جب خان بہادر نواب عبداللطیف 1885ءمیں ریاست بھوپال کے وزیر اعظم ہوئے تو عبد الغفور شہباز کو اپنا پرنسپل اسسٹنٹ مقرر کرکے بھوپال بلالیا۔ انھوں نے 2فروری 1886ءکو جوائن کیا ۔ چند ماہ بعد حکومت انگلشیہ کے دباﺅ میں بیگم بھوپال انگریز وزیر اعظم بنانے پر مجبور ہوئیں تو خان بہادر نواب عبداللطیف نے استعفیٰ دے دیا اور بھوپال سے 10جولائی 1886ءکو عبدالغفور شہباز کے ہمراہ کولکاتا لوٹ آئے ۔ پھر دوسری بار 1905ءمیں نواب شاہجہاں بیگم نے پروفیسر عبدالغفور شہباز کو غیر معمولی استعداد اور ان کی ادبی اہلیت سے متاثر ہوکر ریاست بھوپال کے محکمہ تعلیمات کی نظامت کا عہدہ جلیلہ پیش کیا لیکن وہ ایک ڈیڑھ سال ہی اس منصب عالی پرمامور رہے۔ اس دوران اُن کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا اور وہ واپس کولکاتا آگئے۔ پروفیسر حنیف نقوی بھی یہاں سہسوان سے آئے تھے۔ بعد میں بنارس ہندویونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوگئے۔ یہاں کے مشہور شاعر سُہا مجددی (پستہ قد) تھے جنہوں نے ”مطالب الغالب“ (شرح) لکھی جو کلام غالب کی شرحوں میں سب سے معتبر تسلیم کی جاتی ہے۔ 1922ءمیں ان کا انتقال ہوا ۔ مدفن بھی یہیں ہے۔ 1946ءمیں دسنہ (بہار) کے علامہ سید سلیمان ندوی یہاں قاضی القضاة رہے۔ نواب حمید اللہ خاں نے انہیں اصرار کرکے بلایا تھا۔ دارالمصنّفین کے قیام میں سلطان جہاں بیگم نواب حمید اللہ خاں کی والدہ کا اہم رول ہے۔ سرسید کے پوتے سر راس مسعود یہاں وزیر تعلیم اور وزیر تعمیرات تھے۔ انہوں نے یہاں ایک نورتن قائم کیا تھا ۔ ”نصاب اردو“ ، ”انتخابِ زرّیں“ اوردیگر کتابیں شائع کرائی تھیں۔ اس کا الحاق کلکتہ سے تھا۔ یہاں کے پرانے شعرا کے دواوین بھی انہوں نے شائع کرائے۔ آنجہانی ڈاکٹر شنکر دیال شرما (سابق صدر جمہوریہ ہند ) ریاست بھوپال کے پہلے اور آخری وزیر اعلیٰ رہے ۔ انہوں نے حصولِ تعلیم (قانون ) کے دور میں لکھنو سے ایک اردو رسالہ ”مراة“ نکالا تھا۔ آنجہانی ارجن سنگھ (سابق مرکزی وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل ) بھی مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ رہے۔ شہر بھوپال دو حصوں میں منقسم ہے جسے پرانا بھوپال اور نیا بھوپال کہتے ہیں۔ قلعہ فتح گڑھ آج بھی موجود ہے جہاں حمیدیہ اسپتال قائم ہے اور ریاست کے بانی نواب دوست محمد خاں کا مزار بھی یہیں ہے ۔ اس سے متصل مارکیٹ میں خاصی چہل پہل دیکھنے کو ملتی ہے۔ ڈاکٹر سلیم حامد رضوی کی کتاب ’اردو ادب کی ترقی میں بھوپال کا حصہ‘1957ءمیں پہلی بار چھپی تھی دوسرا ایڈیشن ترمیم و اضافہ کے ساتھ شائع ہوا۔ ساہتیہ اکیڈمی انعام یافتہ اردو کے ممتاز شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کی رہائش گاہ بھی بھوپال میں ہے۔ وہ ان دنوں صاحب فراش ہیں۔ ان کا یہ شعر مجھے بے حد پسند ہے ، جو زبان زد خاص و عام بھی ہے :
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے
ڈاکٹر رضیہ حامد” فکر و آگہی“ نکالتی ہیں۔ انہوں نے نواب صدیق حسن خاں پر پی ایچ ڈی کی اور یہ کتاب شائع بھی ہوئی۔ اس کتاب کا مقدمہ مولاناابوالحسن علی ندوی نے لکھا۔ان سے راقم الحروف کا فون پر رابطہ رہا ہے۔ انہوں نے بطور خاص مجھ سے میری مرتب کردہ کتاب ”سہرے کی ادبی معنویت“ طلب کی تھی۔انہیں اس موضوع سے دلچسپی تھی۔ بھوپال پر ڈاکٹر رضیہ حامد نے کافی کام کئے ہیں۔ بشیر بدر فن و شخصیت، نقش بھوپال، محمد احمد سبزواری ایک مطالعہ، رہبر جون پوری کی شخصیت و شاعری، ارمغانِ اخترسعید خاں، بھوپالی اردو، نواب سلطان جہاں بیگم اور نواب شاہ جہاں بیگم وغیرہ پر کتابیںقابل ذکر ہیں ۔ یہاں کے بزرگ شاعروں میں ظفر صہبائی سے واقف ہوں۔ ان کے چار مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ یہاں خواتین عالماﺅں اورقلم کاروں میں محترمہ طیبہ بی صاحبہ، سورج کلا سہائے سرور، ڈاکٹر شفیقہ فرحت، ڈاکٹر عارفہ سیمیں، ڈاکٹر کشور سلطان، ڈاکٹر انیس سلطانہ، ڈاکٹر بلقیس آفاق، ڈاکٹر صفیہ ودود، ڈاکٹر حدیقہ بیگم، ڈاکٹر کوثر جہاں، ڈاکٹر ارجمند بانو افشاں، ڈاکٹر پری بانو وغیرہ اہم نام ہیںجن کے بغیر بھوپال کی ادبی تاریخ نامکمل ہے۔ڈاکٹر ابو محمد سحر، پروفیسر آفاق احمد، اقبال مجید، پروفیسر عبدالقوی دسنوی، پروفیسرمظفر حنفی، پرفیسر صغریٰ مہدی،محمد خالد عابدی، رشید انجم ، اقبال مسعود، کوثر چاندپوری اور ان کے بیٹے نعیم کوثر وغیرہ بھی یہاں کی ادبی تحریکات میں پیش پیش رہے ہیں۔پروفیسر عبدالقوی دسنوی جو دسنہ (بہار) کے تھے۔ ان کا تقرر 1960ءکے آس پاس سیفیہ کالج کے شعبہ اردو میں ہوا۔ سی ایم کالج دربھنگہ میں ان کے بڑے چچازاد بھائی پروفیسر منظر الحق (صدر ، شعبہ اردو ) تھے۔ پروفیسر دسنوی نے بھوپال میں رہ کربھوپالیات پر کافی کام کئے اور اس دیار کو جگمگایا۔ ان کی کتابوں کی فہرست بھی طویل ہے۔ ’بمبئی سے بھوپال تک‘، ’اقبال اور بھوپال‘ وغیرہ ان کی کتابیں ہیں۔ انہوں نے یہاں کافی تحقیقی کام کئے۔ ان کی ایک کتاب ”ایک شہر پانچ مشاہیر“ (اشاعت: 1973ء) میں راجندر سنگھ بیدی، جگرمرادآبادی، علامہ اقبال ، سر راس مسعود اور امیر مینائی پر مضامین ہیں۔ ان حضرات کا تعلق کسی نہ کسی طرح بھوپال سے رہا ہے۔مصنف موصوف نے راجندر سنگھ بیدی کے تاثرات درج کئے ہیں کہ انہوں نے 23دسمبر 1966ءکو شعبہ اردو سیفیہ کالج کا کتب خانہ دیکھا اور اپنے تاثرات لکھے: ”یہ کسی نے صحیح کہا ہے کہ بھوپال آئے بغیر اردو کا ادیب صیقل نہیں ہوتا۔ یہی بات لکھنو اور حیدرآباد کے بارے میں کہی جاسکتی ہے….۔“ ان کے مشہور شاگردوں میں پروفیسر مظفر حنفی ، پروفیسر خالد محمود، اقبال مسعود وغیرہ ہیں۔ پروفیسر دسنوی سے میری خط و کتابت رہی ہے۔ ان کے 2 خط شاہد اقبال کی مرتّبہ کتاب ’چٹھی آئی ہے‘ میں شامل ہیں۔ معروف ترقی پسند شاعر جاں نثار اختر اور ان کی اہلیہ پروفیسر صفیہ اختر(شعبہ اردو ، حمیدیہ کالج، بھوپال ) کا بھی یہاں قیام رہا۔ 1949ء میں انجمن ترقی پسند مصنّفین کی کل ہند کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس کی رپورتاژ عصمت چغتائی اور صفیہ اختر نے لکھی تھی جو کئی رسالوں میں شائع ہوئی تھی۔ اس جلسے میں کرشن چندر، جوش وغیرہ بھی شریک ہوئے تھے۔ 14کتابوں کے مصنف، ناقد، ادیب، سفرنامہ نگار،نامور صحافی اور کالم نگار عارف عزیز ہیں اور ڈاکٹر مرضیہ عارف مشہور ادیبہ برکت اللہ یونیورسٹی شعبہ فاصلاتی تعلیم میں استاد اور 5 کتابوں کی مصنفہ ان کی بیٹی ہیں۔ قرآن کریم کی قَسموں پر ان کا تحقیقی کام ’قرآن کریم کی قَسموں کا ادبی و سائنسی جائزہ ‘کے عنوان سے شائع ہوکر مقبول ہوچکا ہے۔ ان کے مضامین کے 3مجموعے بھی شائع ہوئے ہیں۔ پروفیسرمحمد نعمان خاں(ریٹائرڈ پروفیسر این سی آر ٹی ، نئی دہلی) بھی یہیں کے ہیں۔ ان سے میرے مراسم 2001ءسے ہیں۔ ان سے دہلی میں ملاقات ہوتی رہی ہے۔ پھر کولکاتا کے ایک سیمینار میں بھی ملاقات ہوئی۔ موصوف تقریباً 20سال بھوپا ل کے سیفیہ کالج سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد این سی آر ٹی ، نئی دہلی سے وابستہ ہوگئے۔ جن دنوں میں بھوپال میں تھا وہ کہیں باہرگئے تھے۔ نہایت مخلص انسان ہیں۔ انہوں نے ایک درجن کتابیں تصنیف کیں۔’ بھوپال ادب کے آئینے میں، بھوپال میں اردو- انضمام کے بعد، تلاش و تجزیہ، تفہیم و تاثر، سرمایہ ادب، مشاہیر ادب اور بھوپال، ملّا رموزی، ابراہیم یوسف، فلسفہ تعلیمات وغیرہ۔ موصوف کا ایک رشتہ بہار سے بھی ہے وہ یہ کہ پروفیسر عبدالقوی دسنوی کے خویش ہیں۔ یہاں کی ایک اہم ملّی شخصیت ملا فخر الدین بھی رہے جو سیفیہ ایجوکیشن سوسائٹی کے سکریٹری کے علاوہ بھوپال کے بیشتر اداروں کے سربراہ تھے۔ پروفیسر خالد محمود (سابق صدر، شعبہ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی ) بھی سرونج ( بھوپال ) ہی کے ہیں۔ کوثر صدیقی ’کاروانِ ادب‘ نکالتے تھے۔ صہبا لکھنوی نے بھی عرصہ تک یہاں قیام کیا۔ماہنامہ ’افکار‘ جاری کیا۔ بعدہ کراچی منتقل ہوگئے اور وہیں سے ’افکار‘ نکالتے رہے۔ ان کی مشہور کتاب ’اقبال اور بھوپال‘ ہے جو 1973ءمیں شائع ہوئی۔ بھوپال کے ذی علم گھرانے کی دو خواتین ادیبہ اختر جمال اور زہرہ جمال کا نام معروف رہا ہے۔ اختر جمال افسانہ نگار تھیں۔ ان کی والدہ قمر النساءبیگم بھی ادیبہ تھیں۔ ان کی ادارت میں خواتین کے لئے ایک ہفت روزہ ”امہات“ (اجراء: 1920ء) نکلا۔ ڈاکٹر ابو محمد سحر کی تجویز پراحمد آباد کے پرفضا مقام پر نئی بستی کا نام کوہ فزا رکھا گیا اور ایک بڑی آبادی یہاں رہتی ہے۔ احمد آباد پیلس روڈ پر نواب منصور علی خاں پٹوڈی جن کی نانیہال یہاں تھی کے نام سے موسوم ہے۔مشہور اداکارہ شرمیلا ٹیگور، ان کی اہلیہ اور یہاں کی بہو ہیں۔ ڈاکٹر سید حامد حسین انگریزی کے استاد تھے لیکن اردو میں خوب لکھا، گروہی عصبیت کے شکار رہے۔ یہاں کے حکیموں کی بھی طویل فہرست ملتی ہے۔ یونانی تعلیم کے لیے طبیہ آصفیہ کالج تھا۔ یہاں سے فارغ طلبا آسفک لکھا کرتے تھے۔ حکیم ضیاءالحسن حکیم اجمل خاں کے مشہور شاگرد تھے۔ حکیم قمر الحسن (مدیر و مالک ’ندیم‘، بھوپال) کا اخباریہاں سے ’78 سال سے نکل رہا ہے۔ ان کے بیٹے سید عارف حسن اور سید پرویز حسن اِسے شائع کررہے ہیں۔ یہ ہندوستان کے قدیم دو تین اخباروں میں شامل ہے۔ یہاں سے کلکتہ کا روزنامہ ’اخبار مشرق‘ بھی ابھی حال تک نکلتا رہا ہے۔ اس کے 8 ایڈیشنوں میں جو ملک کے مختلف شہر بشمول دہلی و لکھنو میں عارف عزیز 12 سال سے اخبار کا ضمنی ایڈیٹوریل رقم کررہے ہیں۔ عارف عزیز 24 سال سے جو کالم لکھ رہے ہیں وہ ملک کے ایک درجن اخبارات میں نقل ہورہا ہے۔ وہ اب تک 42 ہزار کالم اور مضامین لکھ چکے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ یہاں کے امام باڑے بھی مشہور ہیں جس میں چوکی امام باڑہ،مفتی شاہ کا امام باڑہ وغیرہ۔ ’دارالسعادت‘ جہاں موئے مبارک کی زیارت ہوتی ہے۔ برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال میں ہی ہے جہاں اردو میں پی جی کے کلاسز نہیں لگتے۔ ماتحت کالجوں سے پی جی کی سہولت ہے۔ نائب صدر جمہوریہ ہند جسٹس ہدایت اللہ بھوپال کے مضافاتی شہر’ سیہور‘ کے تھے۔ محمد خالد عابدی نومبر 2009ء میں آکاش وانی سے سبکدوش ہوئے ۔ مکتبہ عابدیہ 50 سال سے چلا رہے ہیں۔ یہاں کی علامہ اقبال لائبریری (قائم شدہ : 1937) بڑی مشہور رہی ہے۔نواب حمید اللہ خاں کے نام پر حمیدیہ لائبریری ، جس کے منتظم اعلیٰ عبدالرحمن بجنوری تھے ۔ تقریباً 30 کیلومیٹرکے فاصلہ پر قصبہ سرونج واقع ہے جہاں سے ڈاکٹر سیفی سرونجی’ انتساب‘ اور ’عالمی زبان‘ بھی نکالتے ہیں۔ ان سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔موصوف سے ساہتیہ اکیڈمی دہلی کے سیمینار میں ملاقات ہوچکی ہے۔ وہ اسی روز عمرہ پر جانے والے تھے۔ استوتی اگروال بھی سرونج کی ہیں۔ اردو سے بے حد لگاﺅ ہے اور ’انتساب‘ سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ اردو کمپوزنگ میں ماہر ہیں۔ مضامین بھی لکھتی ہیں۔ بھوپال کا صنعتی شہر اندور تقریباً 200 کیلومیٹر پر واقع ہے۔ وہاں مشاعروں کے پسندیدہ شاعر ڈاکٹر راحت اندوری مرحوم کے ساتھ راقم الحروف نے کئی مشاعرےممبئی ، مدھوبنی اور کولکاتا میں پڑھے ہیں۔ وہاں کے شاعرمحمد نوشاد نورنگ کی شاعری ’تمثیل نو‘ میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اسی شہر میں میرے نسبتی بھائی جناب شہیر امام (ولدممتاز شاعر جناب مظہر امام مرحوم) ایک عرصہ تک انڈس انڈ بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ ان دنوں وہ سیشلز (ساﺅتھ افریقہ) کے سرکاری بینک میں وائس چیئرمین ہیں۔پدم شری حکیم ظل الرحمن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ ان کا وطن بھی بھوپال ہے ۔ انھوں نے ایک کتاب ”بھوپال کا ادبی کارواں “ لکھی تھی جو بے حد مقبول ہوئی۔ بھوپال کے پروفیسر آفاق حسین صدیقی جو مادھو کالج ، وکرم یونیورسٹی اجین میں صدر شعبہ اردو کے عہدہ سے13جولائی 2006ءکو سبک دوش ہوئے ، کی دو کتابیں ”جاں نثار اختر : شخص اور شاعر“ اور ”آزادی کے بعد مدھیہ پردیش میں اردو تحقیق و تنقید “ شائع ہوچکی ہیںاور ملک کے مختلف جریدوں میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اسی طرح میرے بزرگ ادبی دوست قادر الکلام شاعر ، مورخ ، ادیب اور صحافی نقشبند قمر نقوی بخاری بھوپالی جن سے برسوں سے میری مراسلت ہے ، ان کا تعلق بھی بھوپال سے ہے۔ وہ عرصہ سے تلسا (امریکہ) میں قیام پذیر ہیں۔
بھوپال پہلے بھوجپال (بھوپال) کہلاتا تھا۔راجہ بھوج یہاں کا راجہ تھا جس کے نام پر ایئرپورٹ قائم ہے۔دھارنگری (جو اَب شہر پیران دھار) کے راجہ، راجہ بھوج بھی معجزہ شق القمر کے عینی شاہد تھے اور انہوں نے تحقیق حال کے لئے اپنے چار نمائندے مع تحائف حضوراکرم کی خدمت میں بھیجے ، وہ چاروں حضور کی خدمت میں پہنچے اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔ وہ جب ہندوستان واپس آئے اس وقت راجہ بھوج بسترِ مرگ پر تھے اور جب انہوں نے معجزہ شق القمر کی شہادت دی تو راجہ مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ بھوپال راجہ بھوج کے نام پر بسایا گیا خوبصورت شہر ہے۔علامہ قاضی سید وجدی الحسینی نے ”ہندوستان اسلام کے سائے میں “لکھی ہے۔ اس کے علاوہ ایک درجن اور کتابیں لکھیں۔ بڑے لائق ادیب، مورخ اور زود گو شاعر و خطیب تھے۔ محمد خالد عابدی کی پی ایچ ڈی کا موضوع تھا ”19ویں صدی میں اردو کا مکتوباتی ادب“ پروفیسر عبدالقوی دسنوی کی نگرانی میں نامکمل رہا۔ پورا مسودہ ضائع ہوگیا۔ بحیثیت افسانہ نگار انہیں شہرت ملی۔ ان کا افسانوی مجموعہ ”زخموں کے دریچے“ (اشاعت: 1988ء) شائع ہوچکا ہے۔ انہوں نے افسانچے بھی لکھے۔ ان کا مجموعہ ”نقطہ نو گریز“ (اشاعت: 2009ء) بھی شائع ہوچکا ہے۔ انہیں ڈراما نگاری سے بھی دلچسپی رہی ہے۔ ان کے ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ ”آواز نما“ (اشاعت:1975ء) شائع ہوا نیز نونہالوں کے لئے ڈرامہ ”ٹیچر کے بغیر“ (اشاعت: 1994ء) منظر عام پر آیا۔ ان کے یہاں طنزیہ و مزاحیہ تحریریں بھی ہیں۔اس موضوع پر یہ کتاب شکایتاً عرض ہے (اشاعت:1991ء) شائع ہوچکی ہے۔ انہوں نے ”باغِ فکرمعروف بہ مقطعات نساخ“ (اشاعت:1977ء) کی ترتیب و تدوین کی۔ ان کے مضامین کا مجموعہ ”مضامین خالد“ (اشاعت:1995ء) بھی شائع ہوچکا ہے۔ ان کے انٹرویوز اور ملاقاتوں کے مجموعوں ”اردو انٹرویو“ (اشاعت:1992ء) اور ”اردو مراسلاتی انٹرویو“ شائع ہوچکے ہیں۔ انہیں فلموں سے بھی دلچسپی رہی ہے۔ کتاب ”ہماری فلمیں اور اردو“ (اشاعت:2009ء) بھی منظرِ عام پر آچکی ہے۔ ان سے راقم الحروف کے 1995ءسے روابط ہیں۔ نثارراہی، ضیاءفاروقی، آفاق حسین صدیقی، اظہر راہی، آفاق احمد مرحوم ، ہفت روزہ ’صدائے اردو‘ نعیم کوثر نکالتے تھے جو ابھی بند ہے۔ رفیع بشیر ڈراما نگار تھے۔ ”بھوپال پنچ“ طنز و مزاح کا ایک یادگار اخبار تھا۔ اس کا پہلا شمارہ یکم جنوری 1960ء کو منظر عام پر آیا۔ اس کے ایڈیٹر تخلص بھوپالی (عبدالاحد خاں) تھے۔ پاندان والی خالہ اور غفور میاں اس اخبار کے دو بڑے مشہور کردار تھے جو اپنے علاقے سے جڑے ہوئے تھے اور اپنے عہد سے بھی یعنی بھوپال کی زوال آمادہ تہذیب کے نمائندہ تھے۔ ڈاکٹر ہارون ایوب کے ناول شائع ہوچکے ہیں۔ وسیم بانو قدوائی کے ناول بھی شائع ہوچکے ہیں جو یہاں معلمہ تھیں ۔ نسیم بک ڈپو نے ان کے ناول شائع کئے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت میں تین جمالیاتی شاہکار فطرت کی عکاسی کرتے ہیں مثلاً صبحِ بنارس، شامِ اودھ اور شبِ مالوہ۔ تاریخ میں ارضِ مالوہ کی شاندار خصوصیت رہی ہے۔ اسی سے وابستہ ’اُجین‘ ہے جہاں سے کالی داس اور بھرتری ہری کا تعلق ہے۔ حضرت امیر خسروؒ کا بھی ذکر ملتا ہے لیکن صوفی امیر خسرو نہیں اُن کے ہم نام تھے ۔ بھوپال ریاست سے لگا ہوا ’ساگر‘ بھی ہے جہاں کی ہری سنگھ گوڑ سنٹرل یونیورسٹی مشہور ہے۔ پروفیسر مظفر حنفی کے چند اشعار بھوپال، دہلی اور کولکاتا کے حوالے سے بے حد معروف ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
اے مظفر کس لئے بھوپال یاد آنے لگا
کیا سمجھتے تھے کہ دلّی میں نہ ہوگا آسماں
پردیش نہ جانا کبھی بنگال کو ہم نے
کلکتہ میں دلّی کبھی بھوپال بچھایا
سولہ دلّی میں کٹے، سترہ برس بھوپال میں
بارہ برساتیں گزاریں مغربی بنگال میں
رئیس صدیقی اور اہلیہ ثمینہ صدیقی یہیں ہیں۔ رئیس صدیقی جو بچوں کے ادیب ہیں اور آکاش وانی سے وابستہ رہے ہیں۔ شکیلہ بانو بھوپالی مرحومہ مشہور قوالہ، شاعرہ اور اداکارہ تھیں،ان کی رہائش بھی دیکھی۔
2مارچ 2022ءکو ریجنل سنٹر مانو ، بھوپال پر اقبال مسعود نے محمد خالد عابدی اور عالمی شہرت یافتہ شاعر منظر بھوپالی صاحبان کو راقم الحروف کے بارے میں اطلاع دی اور یہ حضرات تشریف لائے۔ کافی دیر تک مختلف امور پر گفتگو ہوتی رہی۔ اردو کی موجودہ صورت حال پر باتیں ہوئیں۔ مشہور ادیب رشید انجم سے ملاقات نہ ہونے کا صدمہ ہے۔ ان کے متعلق خبر ملی کہ وہ اسپتال میں بغرضِ علاج داخل ہیں۔ ان سے مراسلت رہی ہے۔ان کا ایک خط شاہد اقبال کی مرتّبہ کتاب ”چٹھی آئی ہے“ میں شامل ہے۔انہیں بھی فلموں سے کافی دلچسپی ہے۔ اللہ انہیں صحت و سلامتی عطا فرمائے۔ آمین!جناب رئیس صدیقی جن کی تحریریں میری ادارت میں شائع ہونے والے رسالہ ’تمثیل نو‘ دربھنگہ شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ان سے میری ملاقات دہلی ریڈیو اسٹیشن میں ہوئی تھی۔ وقت کی تنگی کے سبب ان سے نہیں ملنے کا افسوس ہے۔
یہاں مانو کا ریجنل سنٹر یکم فروری 2005ءکو قائم ہوا تھا۔ ڈاکٹر محمد احسن مانو ریجنل سنٹر کے سربراہ ہیں ۔ محمد سادات خاں اے آر ڈی ہیں۔ اس دفتر میں ذی النورین عثمانی (سیکشن افسر)، محمد محسن خاں منصوری، (یو ڈی سی) اور حافظ ندیم عثمانی (ڈاٹا آپریٹر) ہیں۔ ابراہیم خاں صاحب بھی دفتر کے رابطہ میں رہتے ہیں۔ ظہرانہ کے بعد اقبال مسعود کی اسکوٹی سے بھوپال کے مشہور صحافی اور ادیب جناب عارف عزیز سے ان کی رہائش گاہ (20گھاٹی بھڑبھونجہ روڈ، تلیّا، بھوپال-462001) پر ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنی کتاب مساجد بھوپال، صحافت و ادب کی جہتیں، تلاش و تاثر، نبض دوراں پیش کیں نیز ڈاکٹر مرضیہ عارف کی کتاب ’کاوش قلم‘ عنایت کی۔ عارف عزیز کی تحریروں کو یکجا کرکے نعمت اللہ ندوی نے ’عکس جمیل‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ بھوپال کی شخصیات پر یہ ان کا چوتھا مجموعہ ہے۔’قدر و قیمت‘ بھوپال کے 28شعراء پر تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ’مسافرِ حرم‘ حج کا سفرنامہ ہے۔ انعام اللہ خاں لودھی اور معروف ادیبہ ڈاکٹر مرضیہ عارف کی مرتبہ کتاب ’عارف عزیز: ایک تجزیہ‘ عنایت کیں نیز ماہنامہ’ اردو ہلچل‘، بھوپال شمارہ جولائی 2012ء(مدیران: جاوید یزدانی، عارف عزیز) بھی دیا۔انعام اللہ خاں لودھی کی دو کتابیں’میرے اساتذہ کرام‘ اور ’بھوپال کے جواہرات‘ شخصیتوں پر مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر کھیل پر کافی لکھتے رہے ہیں۔ عارف عزیز یہاں کے بزرگ صحافی ہیں۔ پورے ملک کے اخبارات میں ان کے کالم نقل ہوتے ہیں۔ روزنامہ ’ندیم‘ بھوپال سے وابستہ ہیں۔ روزنامہ ’اخبار مشرق‘ سے بھی منسلک ہیں۔ انہیں میں نے پروفیسر خالد حسین خاں کی کتاب ”جہانِ ادب کے سیاح: ڈاکٹر امام اعظم“ پیش کی۔ وہاں سے اقبال مسعود صاحب نے بزرگ اور معتبر افسانہ نگار نعیم کوثر کے یہاں لے گئے۔ وہ شملہ ہلز میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنا افسانوی مجموعہ ’کہرے کا چاند‘ عنایت کیا۔ وہ پہلے ’کاروانِ ادب‘ نکالتے تھے۔ موصوف حکیم کوثر چاندپوری مرحوم کے فرزند ہیں۔ اسی طرح اقبال مسعود صاحب نے اپنی کتاب’ نعیم کوثر کی افسانوی کائنات‘ پیش کیں اور وفا صدیقی کا شعری مجموعہ’ تابندہ نقش‘ پیش کیا۔ ان دونوں کتابوں میں ان کے جامع مقدمے شامل ہیں۔ ڈاکٹر محمد اعظم (بھوپال) نے ایک جامع مضمون ’اقبال مسعود :ایک مثالی شخصیت‘ لکھا ہے جو روزنامہ ’نیا نظریہ‘ (دہلی، بھوپال، اجین) میں 27فروری 2022ءکو شائع ہوا ہے۔اقبال مسعود کا یہ شعر مجھے بے حد پسندہے:
ریت پہ جو میں نے لکھا تھا سب دریا کی نذر ہوا
سارے منظر ڈوب چکے تھے ایک کنارہ روشن تھا
اقبال مسعود صاحب وہاں سے کملا پارک لے گئے جہاں کی مسجد دیکھی، توپ دیکھی ، Lower lake اور Upper lake کے مناظر بھی دیکھے ۔ خوبصورت نظارہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔میں نے دیواروں میں نصب دو کتبوں کی تصویریں لیں جن پر موجود عبارت کچھ اس طرح ہے۔ پہلا کتبہ: ”کملا محل مشرقی سمت کی جانب قدیم بند پر واقع ہے جسے بھوپال بھی کہا جاتا ہے۔ اس عمارت کو پرمار راجہ بھوج (1010ء-1055ء) نے تعمیر کرایا تھا اور اسی سے موجودہ بھوپال کا نام ماخوذ ہے۔ موجودہ عمارت اس محل کا ایک حصہ ہے جسے رانی کملاپتی بیوہ نظام شاہ منتظم گنور گڑھ نے 1722ءمیں تعمیر کرایا تھا۔ اس محل کے مغربی جانب پہاڑی پر فتح گڑھ قلعے کے آثار قدیمہ قابل دید ہیں جسے سردار دوست محمد خاں (1708ءتا 1726ء) نے تعمیر کرایا تھا جنہوں نے جدید بھوپال کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔ شہر بھوپال میں واقع کملاپتی کا محل 18ویں صدی کو ابتدائی سیکولر طرز تعمیر کا سب سے اولین اور بہترین نمونہ ہے۔ یہ دو منزلہ عمارت لکھوری اینٹوں سے بنی ہوئی ہے جس کے سامنے کا خوبصورت حصہ ہلالی محرابوں کی شکل میں ستونوں پر قائم ہے جو کمل کی پنکھڑیوں کی شکل میں چھجوں کو سہارا دے رہے ہیں۔ اس عمارت کو بھارت سرکار نے 1989ءمیں اپنی تحویل میں لے لیا جس کے بعد یہ محکمہ آثار قدیمہ کے زیر تحفظ ہے۔“ دوسرا کتبہ:” بھوپال ریاست کے تیسرے نواب فیض محمد خاں (1777ء-1742ء) کا مقبرہ ہے۔ 5 فٹ اونچائی پر بنے اس مقبرہ کا داخلی حصہ ہے۔ چاروں جانب سے منقش دیواروں سے گھرے مزار کے اوپر گول گنبد ہے۔ مزار کے چاروں جانب ایک فٹ اونچا سنگ مرمر کا چبوترہ ہے۔تکیہ کے نیچے فارسی میں کتبہ لگا ہے جس میں فیض بہادر و ہجری 1191ھ(1813ء) اور اس کے چاروں طرف عربی میں آیتیں درج ہیں۔ اس کے پچھّم میں ان کی اہلیہ کا مزار ہے جو ایک کمرے میں ہے۔ جس کے چاروں جانب 16 ستون لگا کر کھڑا کیا گیا ہے۔ مقبرے کے ساتھ مسجد ہے جسے اوسان بی بی کا روضہ بھی کہتے ہیں۔فیض محمد خاں ایک مذہبی اور فقیر منش انسان تھے اور لوگوں کے لئے یہاں فقیر کی طرح رہتے تھے۔“
اس کے بعد ہم لوگ منٹو ہال گئے جس کا نام بدل گیا ہے ۔جہاں 40 سال تک مدھیہ پردیش اسمبلی کے اجلاس ہوتے رہے ہیں۔ اس کے مقابل راج بھون یعنی گورنر ہاﺅس ہے۔ شہر میں آلودگی نہیں ہے۔ شیاملا ہلز، نیو مارکیٹ، کملا پارک، پالی ٹیکنک چوراہا، گوہر محل، پیر گیٹ وغیرہ جگہوں کا بھی دورہ کیا۔ مجھے ٹریفک کا شور سڑکوں پر نظر نہیں آیا۔ہندی کا زور ہے۔ اس شہر کا نام پہلے بھُوپال تھا اب بھوپال ہے۔کچھ لوگ بھوجپال بھی کہتے ہیں۔
میں کولکاتا سے25فروری 2022ءکی شام انڈیگو کی پرواز سے دہلی آیا۔ وہاں ابوالفضل انکلیو ، نزد چاند مسجد ، نئی دہلی میں چھوٹے بھائی انجینئر سید ظفر الاسلام ہاشمی کے مکان میں ٹھہرا جہاں ان کے بچوں اور برادر نسبتی انجینئر نشاط کریم شوکت سے بھی ملاقات ہوئی۔ دوسرے چھوٹے بھائی سید خرم شہاب الدین کی رہائش گاہ میں اماں جی، بھتیجیوں، بھتیجے اور بھانجے سے ملاقات ہوئی۔ 26فروری کی صبح سب سے پہلے معروف افسانہ نگار ابواللیث جاوید سے ملا۔ ان کی عیادت کی پھر میور وِہار، پاکیٹ ون، فیز ون، دہلی-19 گیا جہاں میری چچی ساس افسانہ نگار محترمہ مبینہ امام (بیگم مظہر امام مرحوم) رہتی ہیں۔ ان دنوں علیل ہیں۔ ان کی بھی عیادت کی پھر شام کے حصہ میں قادرالکلام شاعر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی سے ان کی رہائش پر ملاقات کی۔انہوں نے اپنی دو کتابیں دیں۔ 28 فروری کومعروف ادیب پروفیسر شیخ عقیل احمد( ڈائرکٹر این سی پی یو ایل، نئی دہلی) سے ان کے دفتر میں ملا اور ان کو پروفیسر خالد حسین خاں کی کتاب ”جہانِ ادب کے سیاح: ڈاکٹر امام اعظم“ پیش کی اور موصوف نے بھی اپنی کئی کتابیں عنایت کیں۔ بےحد خلوص سے ملے۔ پھر معروف ناقد حقانی القاسمی کے ساتھ چائے نوشی کی اور انہوں نے بھی اپنی کتاب”اندازِ بیاں“ عنایت کی۔ اسی روز شام کی فلائٹ سے بھوپال پہنچا۔ راجہ بھوج ایئرپورٹ سے جناب حافظ ندیم عثمانی اور محسن خاں منصوری ریسیو کرکے لائے اور کوہِ فزا ریجنل سنٹر سے متصل ’میزبان‘ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا جہاں سکون ہی سکون ہے۔ کوکاتا سے سریندر ناتھ ایوننگ کالج کی صدر شعبہ اردو ڈاکٹر نصرت جہاں بھی اس ورکشاپ میں شریک تھیں۔وہ اس سے پہلے بھی یہاں ورکشاپ اور سیمینار میں آچکی ہیں۔ 3مارچ کو دن کے گیارہ بجے مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت تین روزہ ’جشن اردو‘ (3-5 مارچ 2022ء) میں بھی شریک ہوا۔ پروگرام کی شروعات اردو اکیڈمی کی ڈائرکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے ’جشن اردو‘ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”اکیڈمی ہذا کی یہ کوشش ہے کہ جو بھی پروگرام ہوں وہ زبان و ادب کے فروغ کے نظریے سے بامقصد ہوں۔ اسی سلسلے کی اہم کڑی یہ ’جشن اردو‘ ہے۔“
ڈاکٹر نصرت مہدی، پروفیسر خالد محمود اور ان کی بیگم پروفیسر تسنیم فاطمہ (سابق پرو وائس چانسلر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی ) ، پروفیسر اخترا لواسع (سابق وائس چانسلر ، مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھپور، راجستھان) کے علاوہ ضیا فاروقی، محمد خالد عابدی، ڈاکٹرمحمد اعظم، اقبال مسعود، ڈاکٹر ضیا رانا (اجین)، حمید گوہر امین سے ملاقات ہوئی۔ محمد خالد عابدی کے مشورے سے سید عابد علی وجدی الحسینیؒ (سابق قاضی القضاة بھوپال) کی کتاب ”تاریخ ریاست بھوپال“ میلے کے کاﺅنٹر سے خریدی ۔مارچ 2022ءکا’ اردو دنیا ‘ نئی دہلی خریدا جس میں کولکاتا کے بزرگ شاعر و ادیب حلیم صابر کا تبصرہ ، پروفیسر خالد حسین خاں کی کتاب ’جہانِ ادب کے سیاح: ڈاکٹر امام اعظم‘ شامل ہے۔ اقبال مسعود صاحب کے ہمراہ اسکوٹی پر نکلا۔ وہ کئی اہم مقامات پر لے گئے۔ سیر کرائی پھر ریجنل سنٹر واپس آئے۔ اس روز عشائیہ محمد سادات خاں (اے آر ڈی مانو) کے یہاں تھا۔ ہم لوگ اقبال مسعوداور ڈاکٹر نصرت جہاں کے ساتھ پہلے ڈاکٹر محمد احسن کے یہاں ان کی رہائش پر آئے ۔ وہ ”مرجان“ فلیٹ میں رہتے ہیں۔ وہاں زیرہ سے تیار مشروب پیش کیا گیا۔ پھر سادات صاحب کے یہاں پہنچے۔ شاندار عشائیہ تناول فرمایا۔ ان کی رہائش ویلا بیل، ہائی ٹیک سٹی، بھوپال میں ہے۔ وہاں سے مانو کا کیمپس قریب ہی ہے۔ ان کے یہاں سے واپسی پر ڈاکٹر آصف سعید کی ہمشیرہ ڈاکٹر صالحہ کوثر کے یہاں ڈاکٹر محمد احسن، اقبال مسعود،جاوید ایم خاں (مدیر روزنامہ ’اردو، ہندی ایکشن‘ بھوپال) اور ڈاکٹر نصرت جہاں پاپیادہ آئے۔ چائے سے ضیافت کی ۔ پھر رات کے 8 بجے اپنے مستقر ’میزبان گیسٹ ہاؤس ‘کوہ فزا پہنچے ۔ 4مارچ کو دن کے گیارہ بجے جشن اردو کے سیمینار’ اردو میں نسائی ادب‘ میں راقم الحروف (ڈاکٹر امام اعظم ) اور ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ نے بھی شرکت کی۔اس سیمینار کی صدارت بھوپال کی بزرگ ادیبہ ڈاکٹر رضیہ حامد نے فرمائی جبکہ نظامت محمود ملک نے بحسن و خوبی انجام دی۔ اجلاس کی ابتدا میں اکیڈمی کی ڈائرکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے مہمانان کا استقبال کیا اور فرمایا کہ” اردو میں بھی خواتین نے معیاری ادب تخلیق کیا ہے۔ اس میں وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی نظر آتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں کھل کر اظہار کرنے میں وقت لگا مگر جب ان کی تخلیقی صلاحیتیں منظر عام پر آئیں تو معاشرے نے انہیں قبول کیا۔“ انہوں نے اپنا شعر بھی پیش کیا:
میں زندگی کی کتاب میں اک فسانہ بے اثر نہیں تھی
ورق کو جلدی اُلٹ گئے تم میں قصہ مختصر نہیں تھی
معروف ادیب اور شاعر پروفیسر خالد محمود نے اردو میں نسائی ادب موضوع کے تحت اردو کی خواتین سفرنامہ نگار صغریٰ مہدی کے خصوصی حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”اردو ادب میں اچھی شاعرات، افسانہ نویس اور ناول نگار خواتین کی کمی نہیں۔ خصوصاً فکشن میں تو خواتین کی خدمات تو اس قدر اعلیٰ و ارفع ہیں کہ ان کی تخلیقات کا معیار عالمی ادب کا مقابلہ کرتا ہے۔ “ڈاکٹر افشاں ملک نے کہا کہ ”نسائی ادب کسی ملک کی سماج کے نصف حصے کی عملی و فکری صلاحیتوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ نسائی ادب میں خواتین کے احساسات و جذبات اور تجربات و مشاہدات کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے اور اس میں مکمل طور سے کسی ملک یا سماج کی تہذیب کو دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔“ یہ تمام پروگرام رویندر بھون میں منعقد ہوئے۔
ڈاکٹر نصرت مہدی نے ابتدا میں نسائی ادب پر خوبصورت گفتگو کی۔ جمعہ کا وقت ہوچکا تھا۔ ہم لوگ وہاں سے آٹو سے کوہ فزا پہنچے، وضو کیا اور بغل کی مسجد نور میں جمعہ پڑھ لی اور پھر ورکشاپ کے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ ڈاکٹر نصرت مہدی صاحبہ سے ملاقات 2007ءمیں جدہ کے عالمی مشاعرہ میں ہوچکی تھی۔ گاہے گاہے اپنا رسالہ ’تمثیل نو‘ بھی انہیں بھیجتا رہتا تھا۔ ان کی 2بہنیں ڈاکٹر مینا نقوی جو اب مرحوم ہوچکی ہیں اور علینہ عترت کافی معروف ہیں۔ شام تقریباً ساڑھے 5 بجے اقبال مسعود، ڈاکٹر محمد احسن اور راقم الحروف ، منظر بھوپالی کی رہائش گاہ ’بادبان ‘ (2147 وی آئی پی روڈ، بھوپال-1) پہنچے جہاں انہوں نے ناشتہ کے بعد عشائیہ بھی کرایا۔ یہاں انہوں نے کئی سیلفی لی ۔ ان کا مکان اپر لیک کے بالکل سامنے ہے۔ بڑا ہی خوشنما منظر ہے۔ ان کے مکان کی چھت سے جھیل کا نظارہ آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت کچھ اور ہے۔ جھیل کے پار ہی امیتابھ بچن کے خسر ترون جی بھی قیام کرتے تھے اور کسی انگریزی اخبار سے وابستہ تھے۔ منظر بھوپالی صاحب کا فارم ہاﺅس شہر سے کچھ دور ہے۔ انواع و اقسام کے درخت ، پودے اور جانور ہیں۔ راقم الحروف نے ان پر ایک مضمون ”منظر بھوپالی کی غزل گوئی“ عنقریب شائع ہوگا۔ ان کا یہ شعر مجھے بے حد پسند ہے :
جینے کا قرینہ ہے یہاں اور ہی منظر
سچ بولتے رہئے گا تو سر جائے گا اک دن
وہاں سے واپس اپنی قیام گاہ میزبان پہنچے۔ 5 مارچ کو شعبہ لسانیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا دو روزہ قومی سیمینار 5-6 مارچ 2022ءکو تھا جہاں مجھے آن لائن مقالہ پیش کرنا تھا لہٰذا ریجنل سنٹر بھوپال پر ڈاکٹر محمد احسن نے سارا انتظام کردیا اور میں نے مقالہ پیش کردیا۔ پروگرام کے بعد احسن صاحب کی رہائش گاہ کوہ نور ٹاور ’ مرجان‘ فلیٹ، بی- بلاک، گل مہر نزد حج ہاﺅس، گرین ویلی انکلیو، ایئرپورٹ روڈ، بھوپال گیا جہاں ظہرانہ میں انھوں نے اپنی بیگم کے ذریعہ بنائی لذیذ کھچڑی کھلائی۔ پھر ان کے ہمراہ مانو کیمپس پہنچا جہاں سی ٹی ای مانو بی ایڈ کالج اور ریجنل سنٹر بھوپال کی عمارت دکھائی۔ تقریباً 6ایکڑ اراضی پر مشتمل کیمپس احسن صاحب کی کدو کاوش کا نتیجہ ہے۔ 2017ء میں اس وقت کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اس کا سنگ بنیادرکھاتھا۔ وہاں سے واپس کوہ فزا آیا۔ عصر کی نماز کے بعد حافظ خالد ندیم عثمانی جو مانو میں ڈاٹا آپریٹر ہیں ’ تاج المساجد‘ لائے جہاں ان کے رشتہ دار کے نکاح میں شریک ہوا۔ وہاں سے ہم لوگ ’لال املی ‘مسجد آئے جو Upper lakeاور راجہ بھوج سیتو سے متصل ہے وہاں مغرب کی نماز پڑھی۔ ندیم عثمانی نے بڑی محبت سے تمام مقامات کو دکھایا پھر اپنے مستقر پر واپس آگیا۔ریجنل سنٹر کے عملوں نے ہم لوگوں کا خاصا خیال رکھا۔ یکم مارچ2022ءکو ڈاکٹر محمد احسن نے شاندار عشائیہ کا اہتمام ’کوہ فزا‘ میں کیا جس میں ان کے خویش و اقارب کے علاوہ دوست و احباب، مانو سی ٹی ای کے پروفیسران ڈاکٹر عبدالرحیم اور دیگر عملے نے بھی شرکت کی۔ یہاں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ واضح ہو کہ یہاں کا مقبول ناشتہ پوہا جلیبی ہے جو راجستھان کے لوگوں کے ذریعہ یہاں رائج ہوگیا ہے۔ آر سی بھوپال کے اے آر ڈی محمد سادات خاں کے والد بزرگوار پروفیسر ایم حلیم خاں عرصہ سے مدھیہ پردیش کے بڑے مسلم ادارہ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن اندور (ماتحت اسلامیہ کریمیہ سوسائٹی اندور) جس میں نرسری تا پی جی کی پڑھائی ہوتی ہے کے سکریٹری ہیں۔ 6مارچ کی صبح ساڑھے 6بجے حافظ ندیم عثمانی مجھے دہلی کے لئے راجہ بھوج ایئر پورٹ ، بھوپال چھوڑنے آئے جہاں 8:40 کی فلائٹ تھی ۔ وہاں سے 1:35 کی فلائٹ (اسپائس جیٹ ) سے ساڑھے 3 بجے دربھنگہ ایئرپورٹ پہنچا ۔ یہ میرا دربھنگہ کا پہلا ہوائی سفر تھا۔ دربھنگہ ہوائی اڈے سے بذریعہ آٹو رکشہ اپنے غریب خانہ ’ادبستان‘ (متھلا محل کمپلیکس) گنگوارہ دربھنگہ پہنچا اور پھر اسی روز شام 5:20 کی ٹرین’ گنگا ساگر ‘سے سوموار 7مارچ 2022ءکو صبح 7 بجے سیالدہ پہنچا اور آفس کے کاموں میں مصروف ہوگیا ۔مانو ریجنل سنٹر، بھوپال اور سی ٹی ای مانو کا دو روزہ قومی سیمینار14-15مارچ 2022ءبہ اشتراک این سی پی یو ایل، نئی دہلی’تھا اس کے لئے مقالہ لکھا اور 15مارچ کو آن لائن مقالہ پیش کیا۔
’سفر تمام ہوا اک نئے سفر کے لیے!‘
٭٭٭
ریجنل ڈائریکٹر (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ) ، کولکاتا ریجنل سینٹر
1-اے/1، چھاتو بابو لین ، (محسن ہال ) ، تیسری منزل کولکاتا-14 موبائل : 08902496545 / 9431085816
ای میل : imamazam96@gmail.com بلاگ : drimamazam.blogspot.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
ڈاکٹر امام اعظم صاحب کا سفر نامہ پڑھ کر محظوظ ہو ا۔ سفر نامہ معلو ماتی اور دلچسپ ہے۔ جتنی اردو کی تا ریخی حقائق کا ذکر ہے اس لحاظ سے اسکا صحیح عنوان” بھوپال کا ادبی سفر” ہو نا چاہیے ۔ امام صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ” شنکر دیال شر ما بھو پا ل کے پہلے اور آخری وزیر اعلی تھے” ۔ لفظ آخری شاید غلطی سے چھپ گیا ۔
امام ا عظم صا حب نہا یت کامیاب مصنف، شاعر اور صحافی ہیں۔ اپنے مضامین نہایت محنت اور ریسرچ کے بعد قلم کرتےہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
ہماری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کے سا تھ لمبی عمر عطا فرمائے، اور وہ گیسو ءے ارد سنوا رتے رہیں۔
آمین۔