اردو کی مشہور فکشن نگار خاتون قرۃ العین حیدر کی پیدائش کے قریب پانچ سال بعداور انتظار حسین کی پیدائش کے آٹھ سال بعدکناڈا میں ایلِس مُنرو کی پیدائش لیڈلا (Laidlaw) میں 1931 میں ہوئی۔ ’کناڈا کی چیخوف‘ سے مشہور ایلس منرو کو 2013 کے نوبل انعام برائے ادب سے نوازا گیا ہے۔ محترمہ متعدد بار نوبل انعام کے لیے نامزد ہو چکی ہیں۔ منرو کا پہلا افسانہ "The Dimensions of a Shadow,” 1950 میں ایک کالج میگزن میں شائع ہوا جب ان کی عمر محض انیس سال تھی۔ 1968میں منرو کا پہلا افسانوی مجموعہ Dance of the Happy Shadesشائع ہوا اور اس افسانوی مجموعہ کے لیے مصنفہ کو کناڈا کے ادب پر دیے جانے والے سب سے بڑے اعزاز’ گورنر جنرل اوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ نوبل انعام سے نوازے جانے کی اطلاع جب مسٹر پیٹر انگلنڈ ،جو نوبل کمیٹی کے پرماننٹ سکریٹری ہیں ، نے منرو کو دی تو وہ اس وقت ان سے فون پر رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ انہیں الکٹرانک پیغام دے کر ان کو دنیا کے سب سے بڑے اس ادبی اعزاز سے نوازے جانے کی اطلاع دی گئی۔
منرو نے اس اعزاز سے نوازے جانے پر اپنا ردّ عمل کچھ اس طرح دیا۔ ’’مجھے قوی امید ہے کہ اب لوگ مختصر افسانے کی صنف کو ایک اہم صنف تصور کریںگیـ۔‘‘بیبیسیکےآرٹایڈیٹرWill Gompertz نے مصنفہ کو نوبل انعام سے نوازے جانے پر فوری اظہارِ خیال کرتے ہو کہا کہ ’اگر ان کو یہ اعزاز موت سے پہلے پہلے نہیں ملتاتو یہ بہت بڑی چوک ہوتی۔‘
ابھی حال ہی میں یعنی 1912 میں منرو کا ایک افسانوی مجموعہ Dear Life شائع ہوا جس کے بارے میں مصنفہ نے یہ اعلان کیا کہ یہ ان کی زندگی کی آخری کتاب ہے۔ ایلس منرو کو خود کی تشہیر نہیں کرتیں۔ سیمیناروں میں جانا، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر انٹرویو دینا انہیں بالکل پسند نہیں تھا۔ December 10, 2013 کو ایک تقریب میں جو الفریڈ نوبل کے انتقال کی سالگرہ کا موقع بھی ہے، مصنفہ کو اس اعزاز سے باضابطہ نوازا جائیگا تاہم اس کا اعلان گذشتہ October 10, 2013 کو کیا گیا اور اس میں بھی منرو کسی وجہ سے شریک نہیں ہو پائیں۔
ایلِس منرو کی کہانیوں میں داخلیت کا عنصر خارجی پہلوئوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کی کہانیوں کے مقامات زیادہ تر ان کے آبائی وطن کے علاقے ہیں۔ وہ براہِ راست انگریزی میں لکھتی ہیں۔ ان کی شہرت نفسیاتی کہانیوں کی بنیاد پر ہے۔ ان کی مشہور کہانی ’’Dear Lifeـ‘‘بھی ایک نفسیاتی کہانی ہے۔عام طور پر ادبی افسانہ نگاروں کے یہاں یہ معاملہ ہوتا ہے کہ وہ ادیبوں کے لیے لکھتے ہیں اور قاری اگر خود ادیب ، نقّاد یا فلشن نگار نہ ہو توان فنی خوبیوں سے محظوظ نہیں ہو سکتا جو ادیب کو مقصود ہوتاہے۔ جب عام قارئین کی بات آتی ہے تو معاملہ کچھ یوں ہوتا ہے دنیا کے بڑے بڑے ادیبوں کو عوام نے سیدھے سیدھے خارج کر دیا جب کہ ادبا اور ادب فہم حضرات کے نزدیک وہ بڑے تخلق کار کہلائے۔ منرو کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ دونوں طبقات میں یکساں مقبول ہیں یعنی وہ ادیبوں کی اور عوام کی دونوں کی ادیب ہیں۔
ان کی مشہور کہانی ’’Dear Lifeـ‘‘میںلفظ Dear کو ہی لے لیجیے ۔ اس کا ایک مطلب ’مہنگا‘ اور ایک مطلب ’پیارا ‘بھی ہو تا ہے۔ خطاب کرنے کے لیے ہم آفیشیل خطوط میں ڈیر مسٹر فلاں لکھتے ہیں تو اس وقت اس انگریزی لفظ کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے۔ اس لفظ کا استعمال کسی بے حد پسندید ہ شئے یا شخص کے لیے انگریزی کی عام بول چال میں بھی کیا جاتا ہے، جبکہ امریکہ اور یورپ میں بہت سے لوگوں کا تکیہ کلام بھی ہے وہ ہر بات میں کہتے ہیں اوہ ڈیر!
اب آپ اس لفظ کو life کے ساتھ جوڑ کر دیکھیے آپ اس کی فصاحت اور بلاغت سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ Dear Life مصنفہ کا اب تک کا آخری افسانوی مجموعہ ہے۔ اس افسانوی مجموعے میںجو افسانے شامل ہیں ان میں مصنفہ نے خود کی زندگی کے حالات بیان کیے ہیں۔ جب Lisa Dickler Awano نے ایلِس منرو سے اس افسانوی مجموعے کی وجہِ تسمیہ کے متعلق سوال کیا تو منرو نے تفصیل یوں بتائی:
Those words are very wonderful to me because I heard them when I was a child , and they had all kinds of meaning. "Oh, for dear life!” would just mean that you were kind of overwhelmed with all that had been required of you . I liked the contrast between that and the words "dear life,” which are maybe a joyful resignation, but when you say "dear” —the word— it doesn’t bring up sadness. It brings up something precious.
(www.vqronline.org/articles/2013/spring/munro-interview/)
ڈیر لائف میں کل چودہ افسانے شامل ہیں اور ہر افسانہ صنفی لحاظ سے ناول کی خصوصیات کا حامل ہے۔ جہاں تک موضوعات کا سوال ہے عورتوں کے حقوق کا موضوع قریب ان کے تمام افسانوں میں موجود رہتا۔ ایک امتیازی حیثیت منروں کی کہانیوں کی یہ ہے کہ ان کی کہانیوں میں عورت ہمیشہ مظلوم یا ستائی ہوئی نہیں ہوتی ۔ Louise Doughty نے The Observer کے لیے Dear Life پر تبصرہ کرتے ہوئے جو لکھاوہ منرو کی کہانیوں میں موضوع کے تعلق سے بہت اہم ہے۔ وہ لکھتی ہیں:
Munro’s stories are full of smart young women wryly observing men’s desire for dominance and other women’s collusion with their own subservience. In "Dolly”, the narrator observes of a love rival, "men are charmed by stubborn quirks if the girl is good-looking enough… all that delight in the infantile female brain.”
(The Observer, Sunday 25 November 2012)
ایلس منرو کی پہلی شائع شدہ کہانی Dimensions of a Shadow کی ہیروئین بھی Miss Abelhart اس کہانی کا سب سے مضبوط کردار ہے۔یہ ایک ٹیچر کی کہانی ہے جو شہر میں نئی آئی ہے، اکیلی گھر کی طرف جاتی ہے ۔ لوگ اسے گھور گھور کر دیکھتے ہیں۔ اس کہانی میں اس ٹیچر کے داخلی جذبات کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ سن 2012 تک منرو کے کل چودہ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ عام طور سے منرو کی کہانیوں کا تقابل دنیا کے بڑے بڑے افسانہ نگاروں سے کیا جاتا رہا ہے۔ منرو کی کہانیوں میں جزیات نگاری زیادہ اہم ہوتی ہے۔ یہ چیخوف کی کہانیوں کی مشہور خصوصیت ہے ، اسی بنیاد پر منرو کو’ کناڈا کا چیخوفـ‘بھی کہا گیا۔
شادی سے پہلے الس منرو Alice Ann Laidlaw تھیں۔ ان کے والد لومڑی اور مِنک پالا کرتے تھے اور والدہ ایک اسکول میں پڑھاتی تھیں۔ جیمس منرو سے شادی کے بعد وہ ایلِس منرو کے نام سے مشہور ہوئیں۔ 1972 میں جیمس منرو سے طلاق کے بعد انہوں نے دوسری شادی Gerald Fremlinسے کی ۔ ان کی ایک بیٹی شیلا بھی مصنفہ ہیں انہوں نے LIVES OF MOTHERS & DAUGHTERS Growing Up with Alice Munroـنام کی مشہور کتاب تحریرکرکےایلس منرو کی قلمی وارث ہونے کااعلان کردیا ہے۔
منرو کی کہانیوں میں حقیقت نگاری، اور ناسٹلجیا اس طرح خلط ملط ہوتے ہیں کہ وہ جادوئی حقیقت نگاری کی خصوصیت کی حامل ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے اطراف کی عورتوں کی کہانیوں کو جگ بیتی بنا دیاہے۔ مصنفہ کی کہانیوں کی ایک تکنیک یہ ہے وہ عام سے کردار کو ایسی نفساتی حالات سے گذارتی ہیں کہ وہ کردار فوراََ آفاقی بن جاتا ہے۔ منفی معاملات کو پیش کرتے ہوئے منرو کچھ اس زاویے سے پیش کرتی ہیں کے قاری کو منفی کرداروں سے بھی ہمدردی ہونے لگتی ہے۔ Something I’ve Been Meaning to Tell You میں منرو نے ایک نوجوان لڑکی کے ڈر کو اس طرح سے پیش کیا ہے کہ یہ صرف اس لڑکی کی نفسیات نہیں بلکہ اس عمر کی لڑکیوں کی نفسات کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ہے۔ اس کہانی میں ـ’میکاڈو‘ ایک ایسی ہی لڑکی کا کردار ہے۔منروکی اس کہانی کے شروع میں مکالموں میں طنز آمیز گفتگو سے قارئین کو یہ معلوم کرتے دیر نہیں لگتی کہ یہ ایک عام لڑکی نہیں،اورپھرقارئین کا تجسس بڑھتا چلا جاتا ہے۔اسی کہانی میں آگے ایک کردار یم یم کی شادی نانکی پو سے ہوتی ہے جبکہ کٹیشا کی نگاہیں نانکی پو پر ٹک جاتی ہیں۔ کہانی میں آگے چل کر نانکی پو یہ انکشاف کرتاہے کہ کٹیشا اس سے شادی کرنا چاہتی ہے مگر وہ ایسا نہیں کرسکتا کیوں کہ وہ پہلے ہی سے شادی شدہ ہے مگر وہ اس سے شادی کرنے کی ضد کر رہی ہے لیکن اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کی بیوی جیتے جی مر جائے گی۔ اب اگر اس کہانی میں قاری کی ہمدردی نانکی پو سے ہے تو اس کہانی کا رخ ،یا بلکہ یہ کہیے کہ قاری کے ذہن میں پوری کہانی جیسی بنتی ہے، اگر وہی قاری اسی کہانی کو دوسرے زاویے سے یعنی اپنی ہمدردی کو کٹیشا کے ساتھ رکھے تو اس کی کہانی پوری دوسری ہو جاتی ہے اور تاثر بدل جاتا ہے۔ اس طرح Love Triangle میں ہر کردار کی ہمدردی پوری کہانی کو بدل دیتی ہے ۔ایک ہی کہانی میں اتنے زاویے پیدا کرنا ایک عام تخلیق کار کے بس کا کام نہیں۔ دوسری اہم بات یہ کہ اس افسانے کی اس خوبی کو در کنار کر کے بھی اگر ایک سیدھا سادا عام قاری اس افسانے کو پڑھتا ہے تو بھی وہ اس کہا نی کے سحر سے خود کو آزاد نہیں رکھ سکتا۔
ایک اور کہانی tell me yes or no میں کہان کی شروعات اس طرح ہوتی ہے کہ ـ’’میں نےتصور کرلیا کہ تم مرچکےہو۔۔۔‘‘ کہانی پڑھتے ہوئے قاری کے ذہن سے یہ جملہ غائب ہو جاتاہے۔ لیکن اگرقاری اس کہانی کو دوبارہ پڑھتا ہے تو یہ پہلا جملہ ہی اس کے ذہن کو جھنجھور کر رکھ دیتا ہے۔ اور وہ تصور میں پوری کہانی کو محسوس کر لیتا ہے لیکن وہ اس پہلے جملے کی شدت کو پہلی قرات میں کبھی محسوس نہیں کر سکتا۔ منرو کی کہانیوں کا ڈرامائی انداز ان کی فنی خصوصیتو ں کا دوسرا اہم پہلو ہے۔ منرو کی کہانیوں میں گھر کے روزمرّہ کی ضرورتیں اور واقعات قارئین کو متوجہ کرتی ہیں۔
منرو کی ایک مشہور کہانی face کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
“Nancy is a little girl,” my mother scolded. “She is a little girl, and you should treat her like a little sister.”
Which was exactly what I was doing. I did not think of her as weaker than me. Smaller, yes, but sometimes that was an advantage. When we climbed trees, she could hang like a monkey from branches that would not support me. And, in one fight, she bit me on my restraining arm and drew blood. That time, we were separated, supposedly for a week, but our glowering from windows soon turned into longing and pleading, and the ban was lifted. )The New Yorker, Sptember 8, 2008)
مندرجہ بالا اقتباس پہلی نظر میں آپ کو بہت عام سے واقعہ کا حصہ معلوم ہوتا ہے اور یہ ہے بھی، مگر ذرا اس کے آخری جملہ پر غور فرمائیے ۔ دو چھوٹے بچو ں کی نفسیات کو مصنفہ نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ وہ خود بھی چھوٹی بچی معلوم ہوتی ہیں۔ بچوں کی نفسیات کو بیان کرتے وقت وہ خود بھی ناسٹیلجک ہو جاتی ہیں۔ وہ کردار میں پوری طرح ڈوب جاتی ہیں۔ یہ معاملہ صرف بچوں تک ہی محدود نہیں وہ اپنے کسی بھی کردار کو اسی طرح مضبوط کر دیتی ہیں جیسے وہ خود ان محسوسات سے دو چار ہوں جن سے ان کے کردار ہو رہے ہوتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں شاید ہی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک بیان کنندہ کی حیثیت سے کہانی میں مداخلت کریں اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو ایسا کرنے کی نوبت اس لیے نہیں آتی کہ وہ ہر کردار میں خود کو سمو دیتی ہیں۔ اور اپنے خیالات کے بیان کا کام بھی وہ کرداروں ہی کے ذریعہ کر لیتی ہیں۔ ایک قد آور افسانہ نگار ، ایک باریک بین کہانی کار اور ایک نا قابلِ یقین فنکار ہونے کے باوجود آخر وہ کون سی وجوہات رہیں کہ نوبل کمیٹی کو ان کے فن کی پہچان کرنے میں اتنا وقت لگ گیاکہ جب ان کی عمر ۸۲ سال کی ہو گئی تب ان کو اس انعام سے نوازا گیا۔ حالانکہ متعدد بار ان کی نامزدگی ہوتی رہی۔ کناڈا کا فکشن پر ملنے والا سب سے بڑا انعام منرو کو تیس سال کے عرصے میں تین دفعہ ملا۔ مین بوکر پرائز سے بھی مصنفہ کو نوازا گیا۔
منرو کی کہانیوں کے تعلق سے قارئین کی عام رائے ہے کہ ان کی کہانیوں میں حقیقت نگاری کی جلوہ گری ہوا کرتی ہے ۔ خواہ وہ جادوئی حقیقت نگاری ہو یا موہوم حقیقت نگاری۔باوجود اس کے ان کی بہت سی کہانیوں میں مابعد جدید افسانوں کے عناصر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی حقیقت نگاری بھی ما بعد جدید پس منظر میں ہوتی ہے۔ وہ حقیقت کو اپنے افسانوں میں پیش تو کرتی ہیں مگر ایسا کرتے وقت ان پر کسی طے شدہ تحریک یا کوئی باہری طاقت ایسی نہیں ہوتی جس کا نظریہ ملحوظِ خاطر رکھنا منرو کی مجبوری ہو۔ ان کو جدیدت مخالف تو تسلیم کیا جاتا ہے مگر ما بعد جدید افسانہ نگار تسلیم نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ ان کی کہانیوں کے زیادہ تر پلاٹ دیہات یعنی سدرن اونٹیریو southern onterioکا احاطہ کرتے ہیں۔ اب اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ ان کو ترقی پسند تسلیم کر لیا جائے۔
در اصل ایک افسانہ نگار کو کسی نظریہ سے جوڑنا تب ہی ممکن ہے جب اس کی زیادہ تر تخلیقات کا محور کوئی ایک ہی نظریہ ہو۔ مگر منرو کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی کہانیاں کبھی رومانی معلوم ہوتی ہیںتو کبھی فیمینزم سے متاثر، کبھی علامتی معلوم ہوتی ہیں ،کبھی ما بعد جدید ،کبھی جادوئی حقیقت نگاری کی تو کبھی موہوم حقیقت نگاری کی غمّاز معلوم ہوتی ہیں۔ ہاں مگر ایک بات تو ضرور ہے کہ جنسی کشمکش ، علاقائیت اور جنسی ترجیحات مجموعی طور پر ان کی کہانیوں کے خصوصی عناصر ہیں۔ ویسے کناڈیائی فکشن اور فیمینزم دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں میں جنسی کشمکش کا بیان بہت واضح ہوتا ہے۔ Elisa Vancoppernolle نے اپنے ایک مقالے میں منرو کی کہانیوں میں موجود خصوصیت کو Gothic realism سے موسوم کیا ہے۔ گوتھک حقیقت نگاری حقیقت نگاری کی ایسی قسم ہے جس میں خوف اور رومانیت کا امتزاج ہوتا ہے۔ منرو کی ایک کہانی Too much happiness کا متنی تجزیہ کرتے ہوئے ایلیسا نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ منرو کی کہانیوں کے علاقے ما فوق الفطری نہیں ہوتے ۔ تہذیبی عناصر گھریلو ہوتے ہیں ۔Too much happiness کہانی ہے ایک ایسی عورت کی جو سولہ سال کی عمر میں ماں بن جاتی ہے۔ یکے بعد دیگر ے اس کے تین بچے ہوتے ہیں۔ ڈوری کے بچوں کے صحت مند ہونے کی وجہ لائڈ کم عمر ماں کا ہونا سمجھتا ہے۔ لائڈ عورتوں سے نفرت کرنے والا ایک انسان ہے۔ اسی نفرت کے نتیجے میں وہ ڈوری کو سولہ سال کی عمر میں ماں بننے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس کی نظر میں عورت کا کام صرف بچے پیدا کرنا اور پالنا ہے۔ ڈوری کے بجائے میگی بڑھاپے میں ماں بنتی ہے اور اس وجہ سے اس کے بچے دمہ اور الرجی سے پریشان رہتے ہیں۔لائڈ اپنے مطابق دنیا کو چلانا چاہتا ہے وہ اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجنا چاہتا انہیں گھر پر ہی پڑھانا چاہتا ہے۔ اس کا یقین یہ ہے کہ بچے اس کے ہیں نہ کہ شعبہ تعلیم کے۔ وہ عورتوں کو قابو میں رکھنا چاہتا ہے اور ان کو سوچنے کی آزادی دینے کا مخالف ہے۔ ڈوری بھی لائڈ سے اتفاق رکھتی ہوئی معلوم ہوتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ لائڈ نے ڈوری کو اپنی باتوں میں پھنسا کر اس کی سوچ کو قابو میں کر لیا ہے۔ مگر ایک خوف لائڈ کو پریشان کر رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میگی ڈوری کو سمجھا دے اور اسے اپنے حق کے لیے لڑنے اور اپنی سوچ پر عمل در آمد کرنے پر مجبور نہ کر دے۔ اس بات سے وہ ہمیشہ خائف رہتا ہے۔وہ ڈوری کو میگی سے ملنے دینا تک پسند نہیں کرتا مگر ایک دن ڈوری اس کی ایک نہیں سنتی اور میگی سے ملنے چلی جاتی ہے اس بات سے ناراض ہو کر وہ ڈوری کو سزا دینے کی سوچتا ہے۔ اور اپنے اور ڈوری کے بچے کا قتل کر دیتا ہے۔ عدالت لائڈ کو پاگل قرار دے کر باعزت بری کر دیتی ہے۔
اب اس کہانی کا پورا پلاٹ آپ کے سامنے ہے۔ اس کہانی کے داخلی عناصر پر غور کریں۔ لائڈ کا خوف جو اس کی خود مختاری پر حملہ کا ہے۔ ڈوری کا ہمیشہ اپنے شوہر کا وفا دار اور فرمانبردار رہنا اور ایک نا فرمانی اور پھر اس کی سزا ۔ میگی کی ذہنی کشمکش ۔قاری کا ذہن جس کردار کے ساتھ بھی ہو ایک خاص قسم کی الجھن اس کو پوری کہانی ایک خاص کیفیت کے ساتھ پڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ان کیفیات سے گذارنا منرو کی بڑی فنی خوبی ہے۔ اس کو الیسا نے گوتھک فکشن کے قریب بتایا ہے۔ گوتھک در اصل ایک زبان ہے جوگوتھ کمیونیٹی کی زبان ہواکرتی تھی۔اس زبان کی اہمیت یوں واضح ہو جاتی ہے کہ چوتھی صدی میں اس زبان میں بائیبل کا ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ اس زبان کا تعلق ہند یوروپی لسانی خاندان سے ہے اور جرمنی کی پرانی زبانوں میں سے ایک ہے۔ پرتگالی، ہسپانوی اور فرانسیسی زبانوں میں اس پرانی زبان کے الفاظ آج بھی موجود ہیں۔ گوتھک فکشن یا گوتھک ڈراونی کہانیا ں ہم معنی الفاظ تصور کیے جاتے ہیں۔ رومان اور خوف کے امتزاج سے گوتھک فکشن وجود میں آتا ہے۔ Horace Walpole, نے پہلی دفعہ 1764 میں ایک ناول The Castle of Otranto کے نام سے لکھا جو A Gothic Story کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ اس طرز کی کہانی ہے جس میں فرحت بخش خوف کا عمل دخل اور رومانی فضا افرینی ہوتی ہے۔ میلو ڈراما اور پیروڈی وغیرہ اسی گوتھک ادب کی مرہونِ منت ہیں۔ گوتھک فکشن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں عورتوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی تھی ۔ ان کہانیوں میں ما فوق الفطری کرادار بھی ہوا کرتے تھے جو خوف کی فضا قائم کرنے میں معاون ہوتے تھے۔ چونکہ منرو کی کہانیوں میں ما فوق الفطری کردار نہیں ہوتے اسی لیے شاید Elisa Vancoppernolle نے منرو کے افسانوں کو Gothic realism کی عمدہ مثال کہا ہے۔
ان تمام فنی خوبیوں کے باوجود سوال یہ ہے کہ نوبل کمیٹی نے نوبل انعام برائے ادب کے لیے منرو کا انتخا ب کیا صرف اس لیے کیا کے ان کی کہانیوں میں مندرجہ بالا فنی خوبیاں موجود ہیں یا پھر کوئی اور وجہ تھی؟ چلیے تسلیم کر لیتے ہیں کہ ان کی فنی خوبیوں کی بنا پر انہیں اس انعام سے نوازا گیا تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا وہ تمام خوبیاں ان کے یہاں 2011 یا 2012 میں نہیں تھیں؟ تو ان کو یہ انعام تب کیوں نہیں ملا؟
ایک عورت ہونا ان کی سب سے بڑی خامی تھی جس کی وجہ انہیں 82 سال کی عمر تک نوبل کمیٹی نے انعام کا مستحق نہیں سمجھا ۔ اگر یہ کناڈا کی نہیں ہوتیں تو ان کا حال بھی مہاشویتا دیوی اور قرۃالعین حیدر جیسا ہوتا۔ عورتوں کے ساتھ دوہرا معیار پوری ادبی دنیا کا خاصہ رہا ہے۔ یاد کیجیے کہ جب سن 2008 میں فرانس کے Jean-Marie Gustave Le Clézio کو نوبل انعام سے نوازا گیا تو انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان کی قرۃالعین حیدر اس انعام کی مستحق ہیں اور لوگوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ ان کا ناول آگ کا دریا کے انگریزی ترجمے کو جو انہوں نے خود کیا ہے پڑھیں یا پھر ماریشش کے ابھیمنیو کو جو ہندی زبان میں لکھتے ہیں۔ منرو پھر بھی خوش قسمت ہیں کہ عمر کے اس آخری پڑاو ہی میں سہی لیکن ان کو نوبل ملنے سے ان کی اہمیت تسلیم شدہ ہو گئی۔ بہت سی ایسی خواتین اب بھی ایسی ہیں جنہیں وہ پہچان اب تک نہیں مل پائی جس کی وہ مستحق ہیں۔ لی سلیزیو نے اپنے نوبل انعام کو قرۃالعین حیدر کو ہی منسوب کر دیا تھا۔ ایک بڑا سوال اب بھی ہے کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ اردو یا ہندی جیسی دنیا کی بڑی زبانوں میں اب تک نوبل انعام کسی کو بھی کیوں نہیں دیا گیا؟ المیہ تو یہ ہے کہ ان زبانوں میں کسی نے کبھی احتجاج بھی نہیں کیا اور نوبل کمیٹی کی اس منمانی کے خلاف کسی نے کبھی کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ اب تو یہ حال ہے کہ اردو اور ہندی سے نوبل کے لیے کوئی نامزد بھی نہیں کیا جاتا۔
بہت سے ایسے ادیب ہیں جو ہر سال کسی نہ کسی وجہ سے اس اعزاز سے محروم رہ جاتے ہیں۔ نوبل کمیٹی انہیں نامزد تو کرتی ہے مگر کسی نہ کسی سماجی، سیاسی یا کسی بھی دوسری غیر ادبی وجوہات کی بنا پر اس کو نوبل انعام نہیں مل پاتا۔ مثال کے طور پر اگر کسی ایشیائی کو ایک دفعہ نوبل انعام دے دیا گیا تو ظاہر ہے کہ اب اگلے دس سال تک بھلے ہی کوئی کتنا بھی مستحق کیوں نا ہو اس انعام کے اہل نہیں قرار دیا جائے گا۔ حالانکہ یوروپ اور امریکہ میں خواہ یہ انعامات لگاتار کتنی بار بھی دیے جائیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جاپان کے مشہور کہانی کار ہاروکی موراکامی ان ہی چند لوگوں میں سے ہیں جنہیں اس انعام کا مستحق محض اس وجہ سے نہیں سمجھا گیا کہ 2012 کا نوبل انعام تو پہلے ہی ایک ایشیائی ادیب مویان کو دیا جا چکا ہے۔ اب ہاروکی موراکامی کو ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔
ایشیا میں ایسے بہت سے شعرا و ادبا موجود ہیں جو نوبل انعام کے لیے بارہا نامزد ہوتے رہے ہیں یا پھر اس کی اہلیت رکھتے ہیں مثلاََ مہاشویتا دیوی، راجندر بھنڈاری، کے سچدانندن، تان توانگ اینگ ، جھمپا لہری، امیتابھ گھوش، وکرم سیٹھ وغیرہ۔ مندرجہ بالا میں بیش تر کے اندر وہ تخلیقی جواہر موجود ہیں جن بنیادوں پر اب سے پہلے تک نوبل انعامات دیے جاتے رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوبل کمیٹی پہلے یورپ نواز تھی اب امریکہ نواز ہو گئی ہے۔ آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو 2012 کا نوبل برائے ادب چین کے مویان کو کیوں ملا؟ بہت آسان سی بات ہے تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس! یعنی power worshipping۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ کسی چھوٹے موٹے ملک کے قلم کاروں کو اس طرح کے انعامات سے نوازا جائے ۔ اگر ایسا ہوتا تو صومالیہ کے نور الدین فرح کو کب کا نوبل انعام مل چکا ہوتا۔ اب وہ زمانہ نہیں کہ ٹیگور جیسے بنگالی ادیب کو بھی محض ان تخلیقی صلاحیت کی بنا پر نو بل انعام سے نوازا گیا۔
سیاسی وجوہات جن انعامات کی بنیادیں بنتی رہیں وہ انعامات خود ہی بے وقعت ہو گئے اور آئیند ہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ اگر نوبل انعام برائے ادب کی بنیاد واقعی ادبی اور تخلیقی صلاحیتیں ہیں تو اسی عزت کی نگاہ سے ہمیشہ دیکھی جاتی رہے گی لیکن اگر ایسا نہیں تو اس کا حشر بھی دوسرے اعزازات کا سا ہو گا۔
پچھلے سال نوبل انعام کے دعوے داروں میں چین کے مویان، جاپان کے ہاروکی موراکامی، امریکہ کے فلپ روتھ اور کناڈا کی ایلس منرو تھے۔ مویان اور ایلس منرو کو نوبل انعام کا اعزاز تو مل گیا مگر فلپ روتھ اور ہاروکی موراکامی کے ساتھ کیا واقعی انصاف ہوا؟ اگر صلاحیت کو بنیاد بنایا جائے تو ہاروکی موراکامی مویان اور منرو دونوں پر سبقت لے جاتے ہیں۔ کتب فروشوں کے مطابق ہاروکی موراکامی منرو سے زیادہ مقبول ہیں۔ ہاروکی موراکا می کی مشہور کہانی A little green monster ( ایک چھوٹا سبز دیو) ایک ایسی کہانی ہے جس میں علامتیں بھی ہیں پیغام بھی ہے اور نفسیات بھی۔ اس کہانی میں ایک لڑکی اپنے باغ میں تنہا بیٹھی ہوتی ہے کہ اچانک زمین سے ایک سبز دیو نمودار ہو جاتا ہے اور دھیرے دھیرے وہ لڑکی کی جانب بڑھتا ہے لڑکی بری طرح ڈر جاتی ہے ۔اسی لمحہ وہ دیو اس لڑکی سے ہم کلام ہوتا ہے اور وہ لڑکی یہ محسوس کر لیتی ہے کہ جو کچھ وہ سوچ رہی ہے در اصل اس دیو کو وہ سب عملاََ ہوتا ہو ا محسوس ہو رہا ہے۔ جب وہ سوچتی ہے کہ وہ اس دیو کا ہاتھ کاٹ رہی ہے تو دیو زور سے چیختا ہے اور کہتا ہے کہ خدا کے لیے ایسا مت سو چو مگر اس کو اپنی جان کا خطرا ٹلتا ہوا دکھتا ہے اس لیے وہ سوچتی جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ اس کا گلا دبانے اور جسم کے ہر حصے پر زخم دینا سوچتی ہے اور وہ سبز دیو اپنی جان کی بھیک مانگتا گڑگڑاتا ہوا زمین بوس ہو جاتاہے ۔ (یہ بھی پڑھیں شعر سودا کی داخلیت : ایک سوال – پروفیسر کوثر مظہری)
ایسی بہت سی ایسی کہانیاں آپ کو ہاروکی موراکامی کے یہاں مل جائینگی جو آپ کو دانتوں تلے انگلی دبانے اور سر دھننے پر مجبور کر دینگی ۔ ایسی کچھ کہانیا ں ہیں: The wind up bird and tuesday’s women, sleep, a window, The silence, family affair اور The dancing dwarf وغیرہ ان کہانیوں کی خصوصیات پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ ایک ایک کہانی پر مہینوں اور سالوں مذاکرے کیے جا سکتے ہیں۔ کے سچدانندن کی نظموں کے مقابلے ہم دنیا کی زبانوں میں نظمیں تلاش کر سکتے ہیں۔ تو آخر ایسی کون سی وجوہات ہیں جو ان جیسے حضرات کو نوبل انعام سے دور رکھ رہی ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ نوبل کمیٹی کا ہر فیصلہ نا انصافی پر مبنی ہوتا ہے۔ در اصل ہمار امقصد یہ ہے کہ نوبل کمیٹی بجائے بیلنس بنانے اور دنیا کے نام نہاد ٹھیکے داروں کو خوش کرنے کے اگر صرف اور صرف تخلیقی صلاحیتوں اور فنی خوبیوں کو اپنے انعام کا معیار بنائے تو یہ سیا سی وجوہات کو بنیاد بنانے کے مقابلے زیادہ بہتر ہوگا۔ نوبل کمیٹی اگر تاریخ پر غور کرے کہ جب 1935, 1942 اور 1943 میں کسی کو بھی نوبل انعام سے اس لے نہیں نوازا گیا کہ کوئی بھی نوبل کمیٹی کو اس انعام کا مستحق نہیں لگا۔ اور اسی طرح متعدد بار ایسا بھی ہوا کہ دو قلم کاروں کو نوبل انعام شیئر کرنا پڑا اور وہ اس لیے کہ دونوں میں سے کسی کو بھی دوسرے درجہ کا بتانا ممکن نہیں تھا۔ یہ قصے آج بھی دہرائے جا سکتے ہیں۔ آج نوبل انعام کی کوئی قدر باقی ہے یا رہے گی تو اس کی وجہ صرف شفافیت ہوگی اور اگر اس انعام کا وقار خطرے میں پڑتا ہے تو اس کی وجہ بھی اس کی شفافیت میں کمی اور نامعقول بنیادوں پر اس اعزاز کی تفویض ہی ہوگی۔
آخر آج اگر دو ایک پائے کے بڑے ادیب نوبل انعام کی دعوے داری میں سامنے آتے ہیں تو 1974کی طرح دو ادیبوں کو ایک ساتھ نوبل انعام کیوں نہیں دیا جا سکتا ہے۔ جس طرح ایوند جانسن اور ہیری مارٹنسن کو ایک ساتھ نوبل انعام کا اعزاز دیا گیا تھا۔ نوبل کمیٹی کو اب چاہیے کہ وہ شفافیت کو بنیاد بنا کر حقداروں کو ان کا حق دے یعنی جو لائق ہیں انہیں اس انعام سے نوازا جائے ایشیائی قلم کاروں کے ساتھ دوہرا معیار نہ برتا جائے۔ کیوں کہ تاریخ میں اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ وہ حضرات جو واقعی بڑے ادیب تھے اور ان کو نوبل انعام سے نہیں نوازا گیا ان کو وقت نے ثابت کر دیا کہ وہ واقعی بڑے ادیب تھے ہاں البتہ نوبل کمیٹی کی کرکری ہوئی کہ آخر ان ادیبوں کو اس انعام کے قابل کیوں نہ سمجھا گیا ۔ ٹالسٹائے ، چیخوف اور مارک توائن وغیرہ کو نوبل انعامات نہیں دیے جانے سے خود نوبل انعام کی بد نامی ہوئی ان قلم کاروں کو تاریخ نے وہ درجہ دے ہی دیا جس کے وہ مستحق تھے۔
بہر حال ایلس منرو جیسی شخصیات کو نوبل انعام سے نوازا جانا ایک خوش آئیند قدم ہے مگر ہاں علاقائی بنیادوں پر ہاروکی موراکامی ، کے سچدانند ن اور مہا شویتا دیوی جیسے تخلیق کاروں کو نظر انداز کیا جانا بے حد افسوس ناک ہے۔
نوٹ: مضمون نگار دی ونگس فاؤنڈیشن، نئی دہلی کے صدر ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

