دل میں دیوار اک اٹھا لی ہے غم سے دیوار کو سجا لی ہے وقت کو سونپ کر مقدر کو آسماں سے…
تخلیقی ادب
-
-
اب کوئی یوں سر بازار نہ رسوا ہوگا ہم نہ ہونگے تو محبت کا نہ چرچا ہوگا ریت ہی ریت تھی پھیلی…
-
معصوم نے قاتل کی جانب موبائل بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”بھیّا……..م…….می…….میری……ماں سے کہنا…….میں مرگیا۔“ یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے اس نے اپنے جسم…
-
کردار: شبیر(پروٹاگونسٹ/ہیرو) اصغر (شبیر کا دوست) جناب اجمل (شبیر کے کالج کے اردو پروفیسر) مسز شبانہ(شبیر کی امی جان) مسٹر وقار(شبیر کے…
-
سلیم کے پڑوس کے گلی میں ایک کتیا نے چار بچوں کو جنم دیا ۔ سردی کے موسم میں وہ اکثر انہیں…
-
یہ اُس وقت کی بات ہے کہ جب پریم چند کی کہانی کا ’ہوری‘ پچہترسال کا ہو چکا تھا۔ سارے بال سفید…
-
آبادی سے تھوڑی دور ہٹ کر جنگلوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ اسے گھنے جنگلوں سے خوف آتا۔ رام دین مالی…
-
بڑے بھیا نے اپنی شادی کیلئے حامی بھر لی ہے اس خبر سے گھر میں سارے افراد کے چہرے خوشی سے دمک…
-
جب آرزو ضیاء صاحب کے مکان کی چھت پر پہنچا تو اس وقت سورج کی آخری کرنیں دم توڑ رہی تھیں عنقریب…
-
آنکھوں کی جھیل میں جب کبوتر نہانے لگتا ہے تو منظر بڑا دلگداز ہوجاتا ہے۔!! پیپل کا وہ گھنیرا پیڑجس کی ننھی…

