دل میں دیوار اک اٹھا لی ہے
غم سے دیوار کو سجا لی ہے
وقت کو سونپ کر مقدر کو
آسماں سے نظر ملا لی ہے
جس کی نظروں کا میں عزیز رہا
وہ نظر آج کیوں ہٹا لی ہے
راہ جس موڑ پر ختم ہو گئی
بس وہیں راہ اک نکالی ہے
تتلیاں رات میں نکل آئیں
تو نے سورج کہاں سے پالی ہے
وہ اسی زعم میں رہا اکڑا
اس نے دنیا الگ بنا لی ہے
قول پہچان ہے ہماری سن
آگ دینے کو گھر جلا لی ہے
ایک اخلاق ہے ہمارا بس
جس پہ کردار کو بنا لی ہے
خود کو تونے سمجھ کیا رکھا
اشک کی بات ہی نرالی ہے
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال


3 comments
بہت خوب ۔۔۔۔ماشاء اللہ۔۔۔۔۔اللہ آپکو مزید اچّھا لکھنے کی توفیق عطا کرے۔آمین یارب العالمین
واہ
بہت عمدہ
بہت عندہ