اسمہ عبد الرحمٰن کی اکلوتی بیٹی تھی، عبد الرحمٰن اور اُس کی بیوی نے بڑے لاڈ اور پیار سے اپنی بیٹی کو پالا پوسا اور پڑھ لکھ کر بڑا کر دیا۔ اسمہ اب گریجویٹ ہو چکی تھی اور ماسٹرز کرنا چاہتی تھی لیکن کامران اُس کو مجبور کر رہا تھا کہ وہ دہلی میں ماسٹرز ڈگری کا داخلہ لیں کیونکہ وہ خود بھی دہلی میں ہی پڑھتا تھا۔ اسمہ اگرچہ کامران سے محبت کرتی تھی اور اس کی ہر بات مانتی تھی لیکن اس معاملے میں وہ لگاتار کامران کو منع کرتی رہی کہ بابا نہیں مانیں گے، میں اُن پر اپنی پڑھائی کا اتنا بڑا خرچہ نہیں ڈال سکتی اور جب کامران کو لگا کہ اسمہ کسی صورت ماننے والی نہیں ہے تو اُس نے اسمہ کو چھوڑ دینے کی دھمکی دی اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ یا تو اپنے بابا کو مناؤ یا مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھول جاؤ اور اُس محبت کی ماری نے پیار سے، محبت سے، لڑ جھگڑ کر بڑی مشکلوں سے آخر اپنے باپ کو منا لیا اور ماسٹرز کے لئے دہلی پہنچ گئی ۔ اسمہ جب دہلی پہنچی تو کامران نے والہانہ محبت سے اُس کا استقبال کیا۔ اب دونوں یونیورسٹی میں فارغ وقت میں ایک ساتھ ہی بیٹھتے تھے، گھومتے پھرتے تھے۔ وہ دونوں ایک ساتھ بہت موج مستیاں کرتے تھے۔ اسمہ کو دہلی آئیں تین مہینے سے زیادہ وقت گذرا تھا اور وہ بہت خوش تھی کیونکہ کامران اُس کے پاس تھا اور وہ جب چاہے تب کامران سے مل سکتی تھی۔
صبح ہوتے جب اسمہ یونیورسٹی کے لئے نکلی تو اُس نے کامران کو کال کی لیکن کامران کا فون بند جا رہا تھا، وہ یونیورسٹی پہنچی تو کامران وہاں بھی نہیں تھا وہ بہت پریشان ہوگئی، اس کا کلاس میں بھی جی نہیں لگا، وہ پریشانی کی حالت میں کلاس سے باہر آرہی تھی کہ اس کو کامران کا مسیج موصول ہوا "اسمہ میں گھر جا رہا ہوں، تمہیں اس طرح چھوڑ کر جانے کا دل تو نہیں کر رہا ہے لیکن گھر پر ایمرجنسی آگئی ہے، بابا کی طبیعت بہت خراب ہوگئی ہے وہ ہسپتال میں ہے، اس لئے مجھے ایمرجنسی میںنکلنا پڑا ۔ وہ جیسے ہی ٹھیک ہو جائیں گے میں تمہارے پاس واپس آجاؤں گا۔ اپنا خیال رکھنا“۔ کامران کا مسیج دیکھ کر وہ بہت اُداس ہوگئی، اُس کی آنکھیں نم ہوگئی اور وہ سوچ میں پڑ گئی کہ اتنے بڑے شہر میں وہ کامران کے بغیر کیسے رہے گی۔ لیکن اُس نے خود کو سنبھال لیا۔ کامران فون پر اسمہ سے رابطے میں تھا لیکن وہ دہلی واپس نہیں آیا اور اسمہ جب بھی اُس سے واپس آنے کا پوچھتی تھی وہ ہمیشہ ٹال دیتا تھا۔ اسمہ اس سب سے بہت تنگ آگئی تھی اور ایک دن اسمہ نے کامران کو فون کر کے دو ٹوک الفاظ میں بات کی اور واپس آنے کا پوچھ لیا تو کامران نے اُس کو بتایا وہ اب دہلی واپس نہیں آسکتا کیونکہ اُس کا بابا معزور ہو چکا ہے اور گھر کی ساری ذمہ داری اُس پر آگئی ہے۔ اُس نے اپنے باپ کا سارا کاروبار سنبھال لیا ہے اور وہ اب اپنی ذمہ داریوں سے منھ نہیں موڑ سکتا۔ ( یہ بھی پڑھیں وائرس – ڈاکٹر ذاکر فیضی )
اسمہ: لیکن کامران تم نے کہا تھا تم جلدی واپس آؤ گے۔ تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو۔
کامران: میں نے کیا کیا ہے اسمہ تمہارے ساتھ کوئی بے وفائی تو نہیں کی جو تم اتنا ناراض ہو رہی ہو۔ بس مجبوری میں مجھے بابا کا کاروبار سنبھالنا پڑا تو میں نے سنبھال لیا۔
اسمہ: اور مجھے اتنے بڑے شہر میں اکیلا چھوڑ گئے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ صرف تمہاری ضد کی وجہ سے میں یہاں آئی ہوں۔
کامران: ہاں تو یہ کون سی بڑی بات ہے تم بھی گھر واپس آجاؤ۔
اسمہ: کٹپتلی نہیں ہوں جو تم مجھے جیسا نچانا چاہو گے میں ناچوں گی۔ تمہاری خاطر اپنے باپ سے لڑ کر یہاں آئی ہوں اور اب گھر جاؤں گی تو ماسٹرز مکمل کر کے ہی جاؤں گی اپنے بابا کی خاطر۔
کامران: تو ٹھیک ہیں نا اسمہ کر لو ماسٹرز مکمل میں صرف اس لئے کہہ رہا تھا کیونکہ تم کہہ رہی تھی میرے بغیر کیسے رہو گی۔
اسمہ: اب رہ کے دکھاؤں گی۔ اور فون کاٹ دیا۔
کامران کی جدائی نے اسمہ کو بڑا دکھی کر دیا لیکن اُس نے اس بات کا اثر اپنی پڑھائی پر نہیں پڑھنے دیا اور ہمت کر کے اپنی پڑھائی جاری رکھی ۔اسمہ کو لگتا تھا کہ کامران نے مجھے دھوکا دیا ہے اور رفتہ رفتہ وہ کامران سے دوری اختیار کرنے لگی اور اکثر بیشتر اُس کو نظر انداز کرتی تھی، اُس کا فون نہیں اُٹھاتی تھی اور اگر کبھی اُٹھا بھی لیتی تو پڑھائی کا بہانہ بنا کر گھنٹوں کے بجائے صرف منٹوں میں ہی بات ختم کر دیتی تھی۔ اُس کو اب کامران میں زیادہ دلچسپی نہیں رہی تھی اور اُس نے یونیورسٹی میں کچھ نئے دوست بنائے تھے اُن کے ساتھ ہی پورا دن گزارتی تھی، گھومتی تھی پھرتی تھی، موج مستیاں کرتی تھی خاص کر شاہذین کے ساتھ کیونکہ وہ بڑا ذہین تھا اور ہر ایک کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور اُس کی یہ خوبی اسمہ کو بہت پسند تھی۔ لیکن دوسری طرف کامران پر عشق کا بھوت سوار تھا وہ اسمہ کو کسی بھی صورت چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھا اور جب سے اسمہ نے اُس کو نظر انداز کرنا شروع کردیا تو اُس کو اسمہ پر شک ہونے لگا کہ وہ کسی اور میں دلچسپی رکھتی ہے اور طرح طرح سے اُس نے اسمہ کو تنگ کرنا شروع کیا۔ اُس کی سہیلیوں کے ذریعے اُس کو منانا چاہا کہ وہ مجھےمعاف کر دے اور رشتہ قائم رکھے۔ مگر اسمہ کسی صورت ماننے کے لئے تیار نہ ہوئی تو کامران نے اسمہ کو ستانا شروع کیا، وہ اُس کو دھمکیاں دیتا تھا، بلیک میل کرنے لگا، یہاں تک کہ اُس نے اسمہ کی تمام سہیلیوں کی ہمدردی سمیٹ لی اور اُن کو بھی اپنی طرف کردیا اور اب وہ بھی بات بات پر اسمہ کو بے وفا ہونے کا طعنہ مارتی تھی، کامران سے بات کرنے کے لئے مجبور کرتی تھی۔ یہاں تک کہ کامران سے تنگ آکر اسمہ خودکشی کرنے لگی۔
اسمہ میٹرو اسٹیشن پر بیٹھے بڑبڑاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ کامران نے میرے ساتھ بہت بُرا کیا اسمہ بہت بُرا لیکن یہ بات تم کسی کو بتا بھی نہیں سکتی اب اپنے کسی دوست سے بات کرتی لیکن یہاں کوئی ایسا ہے ہی نہیں جو مجھے سمجھے۔ میری اپنی سہلیاں بھی اُس کو صحیح مانتی ہے اور مجھے غلط، مجھے سمجھنے والا کوئی نہیں ہے اسمہ کوئی بھی نہیں، یاد کرو پاگل اسمہ کس طرح کامران کے لئے اپنے باپ سے لڑ کر آئی تھی یہاں اور اب وہی کامران مجھے بدنام کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اگر مجھے اپنے والدین کی عزت ذرا بھی پیاری ہے تو کامران سے مکمل چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا اور جب تک میں زندہ ہو تب تک یہ ممکن نہیں کیونکہ وہ تمہارے جیتے جی تمہیں چھوڑنے والا نہیں ہے۔ اسلئے میرا مر جانا ہی بہتر ہے بار بار کی اذیت سہنے سے اچھا ہے کہ بندہ ایک ہی بار میں قصہ ختم کر لیں۔ مر جانا ہی بہتر ہے اس مصیبت سے ۔ اور ہاتھ میں زہر کی بوتل کو دیکھنے لگی تو اس کے چہرے پر موت کا خوف پھیل گیا لیکن یہ بدنامی کے خوف سے زیادہ خوفزدہ نہیں تھا۔ اسمہ بوتل کو گور رہی تھی اور سہمے ہوئے ہاتھوں سے بوتل کو کھولنے لگی تھی کہ شاہذین کا گزر بھی وہاں سے ہوا۔ اسمہ کو اچانک وہاں دیکھ کر وہ حیران ہوا اور اس سے بات کرنے چلا گیا۔
یہاں اسمہ بوتل پینے والی تھی کہ شاہذین نے پیچھے سے اس کو آواز دی تو خوف کے مارے چونک کر بوتل اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ ( یہ بھی پڑھیں پورٹریٹ – اقبال حسن آزاد )
شاہذین بوتل اٹھاتے ہوئے ارے یار میں ہوں شاہذین میری آواز پر تو ایسے چونک کیوں گئی جیسے کوئی بھوت آگیا ہو اور بوتل کو دیکھتے ہوئے یہ کیا گرا دیا۔
زہر کی بوتل، اسمہ یہ زہر کی بوتل تمہارے پاس کیا کر رہی تھی اور تم یہاں کیا کر رہی ہو۔
اسمہ خود کو سنبھالتے ہوئے کچھ نہیں شاہذین، آپ یہ بوتل مجھے دے دیجیے۔
شاہذین: میں نہیں دوں گا اسمہ، پہلے یہ بتاؤ یہ بوتل تمہارے پاس کیسے، کیا یہ تمہاری ہے۔
اسمہ: غصے سے جی یہ میری بوتل ہے۔
شاہذین: کیا! لیکن اس بوتل کا تمہارے پاس کیا کام۔۔۔۔۔۔۔
اسمہ: کام ہی تو ہے اسی لیے خریدا ہے، اپنی پریشانیوں کا خاتمہ کرنے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بوتل مجھے لوٹائیں اور خدا کے لئے اکیلا چھوڑ دیجیے مجھے۔
شاہذین: تم خودکشی کرنا چاہتی ہو اسمہ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ خودکشی حرام ہے۔
اسمہ: شاہذین مجھے میری بوتل لوٹا دیجیے اور چلے جائیں یہاں سے، اور ہاں جب لوگ آپ کا جینا حرام کر دیتے ہیں تو خودکشی حرام نہیں لگتی۔ میں بھی سکون چاہتی ہوں یار اور میرے مرنے میں ہی سب کی بھلائی ہے۔
شاہذین: بوتل کو پھینکتے ہوئے اسمہ سنبھالو خود کو، ادھر بیٹھ جاؤ اور بتاؤ مجھے کیا مسلہ ہے۔ اتنی آسانی سے تمہیں مرنے نہیں دوں گا۔
اسمہ: شاہذین آپ سمجھتے کیوں نہیں میری ساری پریشانیوں کا آخری حل موت ہے صرف موت۔
شاہذین: مجھے بھی تو بتاؤ کہ ایسا کیا ہوگیا ہے جو تم موت کو گلے لگانا چاہتی ہو۔
اسمہ: آپ کیا کریں گے میرا مسلہ جان کر اور ہاں آپ نے آج مجھے مرنے دیا ہوتا اور بوتل نا پھینکی ہوتی تو بہت اچھا ہوتا ویسے بھی مجھے اب کوئی سمجھتا نہیں ہے یہاں۔
شاہذین: زندگی میں اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں لیکن اِس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم جینا چھوڑ دیں اور ہاں تمہارا دوست ہوں کوئی دشمن نہیں جو اتنی آسانی سے تمہیں مرنے دوں گا۔
اسمہ: دوست، اب تو دوستی کے نام سے بھی خوف آنے لگا ہے۔
شاہذین: اسمہ یہاں ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا، تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہاری پریشانیاں حل کرنے میں تمہارا بھرپور ساتھ دوں گا۔
شاہذین کے اسرار پر اسمہ نے اس کو پورا واقعہ سنایا کہ کیسے کامران کے کہنے پر وہ والدین سے لڑ جھگڑ کر دہلی پہنچ گئی اور کیسے کامران اس کو دہلی بُلا کر واپس گھر چلا گیا اور کبھی پلٹ کر واپس نہیں آیا۔ اسمہ اپنی روداد سنائی جا رہی تھی اور روئے جا رہی تھی۔
آپ کو پتہ ہے شاہذین ایک تو کامران نے میری محبت پر اپنی ذمہ داریوں کو فوقیت دی اور اوپر سے مجھے بے وفا ہونے کا طعنہ دے کر اتنا ستایا کہ مجھے موت کے سوا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ میں اپنی حالت زار بھی کسی سے بیان نہیں کر سکتی کیونکہ اس نے میری تمام سہیلیوں کو بھی اپنی طرف کر دیا ہے اور مجھے اس مقام تک پہنچانے میں انہوں نے بھی کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی۔ میرا دم گھٹتا ہے ہاسٹل میں ذہنی مریض بن چکی ہوں میں کیونکہ وہاں کامران کے حمایتی رہتے ہیں اور میں وہاں کچھ نہیں کر سکتی اس لئے سب سے بھاگ کر اسٹیشن آئی ہوں تاکہ سکون سے مر سکوں اور ہاں شاہذینمجھے مرنے کا کوئی شوق نہیں ہے لیکن اگر کامران نے اپنی دھمکیوں پر عمل کیا تو میرے ساتھ ساتھ میرے والدین کی بھی بدنامی ہوگی اور بدنامی کے داغ سے بچنے کے لئے اچھا ہے کہ خودکشی کے داغ کو اپنے ماتھے پر سجاؤں ۔ ( یہ بھی پڑھیں دس سروں والا بجوکا – پرویز شہریار )
شاہذین اسمہ کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے واقعی اسمہ تمہارے ساتھ بہت برا ہوا ہے، کامران نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا لیکن یار موت اس سب کا حل نہیں ہے۔ تمہیں ہمت سے کام لینا ہوگا اور دیکھنا ہم مل کر اس سب کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالیں گے۔
تم بہت ہی بہادر لڑکی ہو اسمہ۔ سوچو ذرا اگر تم کامران کی خاطر اپنے والدین سے لڑ جھگڑ کر یہاں آسکتی ہو تو کیا خود کی عزت کی خاطر تم کامران سے نہیں لڑ سکتی بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ عورت کی عزت پر بات آجائیں تو وہ پہاڑوں کا سینہ چیر کر رکھ دیتی۔ شاہذین اسمہ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
اسمہ واپس ہاسٹل نہیں جانا چاہتی تھی لیکن شاہذین کے سمجھانے پر وہ راضی ہوگئی کیونکہ اب وہ اکیلے نہیں تھی اب اس سے دوست کی صورت میں ایک مضبوط کاندھے کا سہارا مل گیا تھا۔ شاہذین نے ایک طرف جہاں اسمہ کا بھر پور ساتھ نبھایا وہی دوسری طرف کامران نے اسمہ کی سہیلیوں کے ساتھ مل کر اس کو ذہنی مریض بنانے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی۔ رفتہ رفتہ کامران سے تنگ آکر اسمہ کمزور پڑتی گئی اور ایک رات اس سب سے ہار کر وہ کمرہ چھوڑ کر پھر سے اپنی جان دینے پر مجبور ہوگئی اور شاہذین کو اطلاع دے دی کہ وہ اس کی لاش اس کے گھر والوں تک پہنچا دے کیونکہ اب اس کی برداشت جواب دے چکی ہے۔ یہ سنتے ہی شاہذین اسمہ کی تلاش میں نکل پڑا اور بڑی مشکل سے اس کو ڈھونڈ کر سمجھا بجھا کر واپس ہاسٹل چھوڑ آیا لیکن اب اسمہ کی ذہنی حالت اتنی خراب تھی کہ شاہذین کے نکلتے ہی وہ دوبارہ کمرے سے بھاگ گئی۔ یہاں تک کہ حالات سے مجبور ہوکر شاہذین اس کو اپنے ساتھ اپنی عزت کی پرواہ کئے بغیر اپنے کمرے پر لے آیااور بڑی مشکل سے سمجھا بجھا کر حوصلہ دے دے کر اس نے اسمہ کو ذہنی تناؤ سے باہر نکالا۔
شاہذین کے اس طرح سے اسمہ کا ساتھ نبھانے کا اسمہ پر ایسا اثر پڑھ گیا کہ اس نے شاہذین سے اظہارِ محبت کر دیا اور خود کو شاہذین کے لئے حاضر رکھتے ہوئے یہاں تک کہہ گئی کہ آپ چاہے تو اپنی ہر جنسی خواہش پوری کر سکتا ہے، میں آپ کے محبت میں گرفتار ہو چکی ہوں شاہذین میں اپنے کپڑے بھی اتار دوں گی آپ بس میرے ہوجائے شاہذین ۔ لیکن شاہذین نے یہاں بھی سمجھداری اور دوستی کا بے مثال ثبوت پیش کیا اور اسمہ کو سمجھاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ اسمہ میں تمہیں یہاں اپنی ذمہ داری بنا کر لایا ہوں اپنی عزت کی پروا کئے بغیر تاکہ کوئی اندھیری رات کا فائدہ اُٹھا کر تمہاری عزت نیلام نہ کریں اور تم کہہ رہی ہو کہ خود اپنے ہاتھوں سے تمہاری عزت نیلام کر دوں، نہیں میرا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا، مجھے تمہارے جسم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، تمہاری عزت کی حفاظت کرنا میری ذمہ داری ہے اور ہاں اسمہ محبت کرنا حرام نہیں ہوتا لیکن محبت کو شفاف نہ رکھ پانا حرام ہوتا ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ محبت پر انسان کا کوئی بس نہیں چلتا لیکن اِسی محبت کو صاف و شفاف رکھنے پر تو ضرور ہوتا ہے۔ تم بے فکر ہوکر سو جاؤ میں یہی ہوں تمہارے ساتھ اور ہمیشہ رہوں گا۔ کل تمہارے رہنے کا کہیں اور انتظام کروا دوں گا۔
صبح ہوتے ہی شاہذین نے نئی جگہ اسمہ کے رہنے کا بندوبست کر دیا اُس کا فون نمبر بھی تبدیل کروایا اور اُس کی پڑھائی پھر سے جاری کروائی۔ اِس واقعے کے بعد سے کبھی بھی شاہذین نے اسمہ کو اکیلا نہیں چھوڑا، ہر وقت ایک مضبوط کاندھے کی صورت میں اُس کے ساتھ کھڑا رہا۔ اور آخر کار جب دونوں پڑھائی مکمل کر کے گھر چلے آئیں تو گھر آکر بھی شاہذین اسمہ کا مسلسل ساتھ نبھاتا رہا۔ اب اُن کے گھریلو تعلقات بھی جُڑ چکے۔ شاہذین نے اس قدر اسمہ کا ساتھ دیا کہ ایک دن عبد الرحمٰن نے شاہذین سے متاثر ہوکر اُس کے سامنے اسمہ کی شادی کی پیشکش رکھ دی۔
عبد الرحمٰن شاہذین سے کہتا ہے شاہذین بیٹا میں ہمیشہ اپنی بیٹی کو لے کر یہ خواب دیکھتا رہا کہ اُس کو کوئی ایسا لڑکا ملنا چاہیے جو مجھ سے بھی زیادہ اُس کو پیار دے، اُس کا خیال کریں اور تمہیں دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے میری دعا سُن لی وہ لڑکے تم ہو جو میری بیٹی کی ایک آواز پر اُس کے سامنے حاضر ہو جاتے ہو۔ بیٹا میں ایک بیٹی کے باپ کی حیثیت سے تم سے التجا کرتا ہوں کیا تم میری بیٹی کو اپناؤ گے۔ اسمہ سے شادی کرو گے۔
شاہذین: انکل آپ کی بیٹی ہے ہی اتنی پیاری کہ اُس کو کوئی تکلیف پہنچا ہی نہیں سکتا۔ یہ میری خوش نصیبی ہوگی اگر آپ کی بیٹی میری زندگی میں آئیں گی تو۔ میں کل ہی اپنے والدین کو لے کر آتا ہوں اور اِس طرح دھوم دھام سے دونوں کی شادی ہوگئی۔
ختم شد
الف عاجز اعجاز
کلسٹر یونیورسٹی سرینگر

