دستک-6 : ایک مطالعہ – عبید الرحمن
اردو میں رسالوں کی ایک روشن تاریخ رہی ہے۔ رسالے قومی ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں بڑے پیمانے پر علمی، ادبی، سیاسی، سماجی، مذہبی، تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی اقدار کا اظہار ہوتا ہے۔ گزشتہ ایک برس سے ہم کووڈ-19 کے وبائی دور میں سانس لے رہے ہیں، ایسے میں اگر کوئی ادارہ اپنی علمی و ادبی سرگرمیوں کو جاری رکھ رہا ہے تو اس کی داد دی جانی چاہیے۔ شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی کا ششماہی جرنل "دستک” لاک ڈاؤن کے باوجود وقت مقررہ پر شائع ہوکر علمی و ادبی حلقوں تک پہنچ رہا ہے جس کے لیے ہمیں مدیر اور ان کے معاونین کا ممنون ہونا چاہیے۔ یہ رسالہ تین برس مکمل کر چکا ہے۔ اتنی کم مدت میں اس نے اپنی شناخت قائم کر لی ہے۔
میرے سامنے دستک شمارہ-6 ہے۔ سر ورق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے یو جی سی کی کیئر لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ دستک کے قارئین جانتے ہیں کہ اس کے ہر شمارہ میں کسی ایک موضوع پر خصوصی گوشہ شامل ہوتا ہے لیکن دستک-6 میں اس قسم کا کوئی خصوصی گوشہ نہیں ہے، لیکن تحقیق و تنقید کے باب میں اتنے معیاری اور منفرد مضامین شائع ہوئے ہیں کہ خصوصی گوشہ کی عدم موجودگی کا احساس نہیں رہا۔ تحقیق کے ضمن میں پانچ اور تنقید کے ذیل میں آٹھ مضامین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ "یاد رفتگاں” کے تحت سات مضامین ہیں۔ مدیر رسالہ پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے زیر نظر اپنے اداریے میں موجودہ صورت حال پر عمدہ گفتگو کی ہے۔ اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر برسر مقتدری کی خاموشی اور میڈیا کے منفی کردار پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے ادبی تحریک کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مرزبوم : یہ توہم کا کارخانہ ہے – ڈاکٹر عبد السمیع )
تحقیق کے باب میں پہلا مضمون پروفیسر آفتاب احمد آفاقی کا "یادگار غالب: چند تحقیقی مباحث” ہے۔ تحقیق اور غالب سے شغف رکھنے والوں کے لیے یہ مضمون معلومات افزا ثابت ہوگا۔ اس میں حالی کی غالب سے عقیدت اور بیان واقعہ کی صداقت کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس امر کا اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ یادگار غالب سے تفہیم غالب میں آسانیاں تو پیدا ہوئی ہیں لیکن بعض مقامات پر عقیدت حاوی ہو گئی ہے۔ اس باب میں دوسرا مضمون ڈاکٹر سید شاہد اقبال کا "کالی داس گپتا رِضا” ہے۔ یہ مضمون کالی داس گپتا رضا کی سوانح اور ان کے علمی کارناموں کے تعلق سے ایک اہم مضمون ہے۔ اس کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں انٹرویو کے حصے اور ذاتی خطوط پیش کیے گئے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر کالی داس گپتا رضا کی زندگی کے اہم پہلو سامنے آ جاتے ہیں۔ تحقیق کے باب میں تیسرا مضمون "لداخی زبان: لسانی بحث” محترمہ رقیہ بانو کا ہے۔ شعبۂ اردو کی استاذ ڈاکٹر رقیہ بانو کا آبائی وطن لداخ ہے۔ لداخی زبان کے حوالے سے اسے تحقیقی مضمون کہا جا سکتا ہے۔ لسانیات سے شغف رکھنے والوں کے لیے یہ تحریر اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں لداخی زبان کے آغاز و ارتقا، تخلیقی سرمائے اور اس کی موجودہ صورت حال سے بحث کی گئی ہے۔ چوتھا مضمون "رومیِ ثانی و گنجِ معانی: بوعلی قلندر شاہ” ہے۔ ڈاکٹر مغیث احمد نے اس مضمون میں صوفی عالم حضرت شاہ شرف الدین المعروف بو علی قلندر شاہ کی سوانح اور کارناموں کا تعارف پیش کیا ہے نیز انھیں رومی ثانی کیوں کہا جاتا ہے، اس نکتے سے بھی بحث کی ہے، ساتھ ہی مولانا روم اور بوعلی قلندر شاہ کے اشعار کا تقابلی مطالعہ بھی پیش کیا ہے۔ بابِ تحقیق کا پانچواں اور آخری مضمون "پروفیسر مختارالدین احمد سے ایک ملاقات” ہے۔ اس گفتگو کو پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے 24 مئی 2010 کو ریکارڈ کیا تھا۔ پروفیسر مختارالدین آرزو کا انتقال اسی برس ہوا تھا۔ پروفیسر مختارالدین احمد نے سوالوں کا جواب دیتے ہوۓ اپنی ابتدائی تعلیم، بیرون ممالک کے اسفار، ایوارڈز اور اپنی تصنیفات کے بارے میں بتایا ہے۔
دستک کے مشمولات کا دوسرا حصہ تنقیدی مضامین پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس مرتبہ اس حصے میں آٹھ مضامین ہیں۔ پہلا مضمون "غالب کا نقد تصور” ہے۔ بہار و جھارکھنڈ میں اردو کے لیے جن لوگوں نے خود کو وقف کر رکھا ہے ان میں ایک نمایاں نام پروفیسر ابوذر عثمانی کا ہے۔ غالب کے تعلق سے ان کا یہ مضمون نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ معلومات افزا بھی ہے۔ اس میں انھوں نے غالب کی تنقیدی بصیرت پر روشنی ڈالی ہے۔ اسے غالب تنقید کا نیا زاویہ کہا جاسکتا ہے۔ اس باب کا دوسرا مضمون "شوق کی مثنوی نگاری اور مثنوی زہر عشق” ہے۔ مضمون نگار امتیاز احمد نے مرزا شوق لکھنوی کی مثنوی نگاری (اسلوب اور تکنیک) پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا مضمون "پڑھنا کیا ہے؟” ایک تنقیدی بلکہ فلسفیانہ مقالہ ہے۔ اس میں پڑھنے کے پیچھے انسان کی جبلتوں اور اس کی ذہنی دنیا کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ مطالعے کی اہمیت کے ساتھ پڑھنے کے تین مراحل بیان کیے گئے ہیں۔ مضمون کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ مصنف قاری کو پڑھنے کی ترغیب دے رہے ہیں، اور جب پڑھا جائے تو خود کو باہر کی دنیا سے الگ کرکے متون کے حوالے کر دیا جائے۔ "سوانح نگاری اور حالی کا طریقۂ کار” میں ڈاکٹر ابو بکر عباد نے حالی کی سوانح نگاری اور طریقۂ کار سے بحث کی ہے۔ حالی کی تینوں سوانحی کتب حیات سعدی، یادگار غالب اور حیات جاوید کا تذکرہ کرتے ہوئے ہر ایک کہ محاسن و معائب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تحقیق کے باب میں پروفیسر آفاقی نے "یادگار غالب” کے حوالے سے جن نکات کی جانب اشارے کیے ہیں اسی قسم کے نتائج اس مقالے میں بھی اخذ کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر سرور الہدٰی کا مضمون "محمد حسن کی تنقید: شناسا چہرے کی روشنی میں” محمد حسن کی ایک کتاب کے مشمولات پر ایک طویل مخاطبہ ہے۔ تنقید کے باب میں ایک اہم مضمون "یقین کا واہمہ ساز: محمود یٰسین ” ہے۔ مقالے کی ابتدا میں ڈاکٹر عبد السمیع نے اردو افسانے کے ارتقائی سفر کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے۔ جدیدیت کے رجحان پر بات کرتے ہوئے انھوں نے اس رجحان کے ایک اہم افسانہ نگار محمود یٰسین کے افسانوی مجموعہ "نئی بستی کا رزمیہ اور دیگر افسانے” کی روشنی میں ان کی افسانہ نگاری سے بحث کی ہے۔ آخری تنقیدی مضمون "کئی چاند تھے سر آسماں: مابعد نوآبادیاتی مطالعہ” ہے۔ ڈاکٹر سفینہ بیگم نے اس مضمون میں مابعد نوآبادیاتی مطالعہ کے تحت اردو کے اہم ناولوں کا تذکرہ کرتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی کے ناول "کئی چاند تھے سر آسماں” کے مرکزی کردار "وزیر خانم” کی زندگی اور اس کی سوچ و فکر کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں رشید حسن خاں کا ایک دیباچہ- ڈاکٹر عبدالسمیع )
رسالے کے تیسرے حصے "یاد رفتگاں” میں شمس الرحمن فاروقی، منگلیش ڈبرال، راحت اندوری، مظفر حنفی، حنیف ترین اور ظفر احمد صدیقی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ آخری میں شعبۂ اردو کی سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو رسائل کی بھیڑ میں ریسرچ جرنل "دستک” اپنے معیاری مشمولات اور پیش کش کی وجہ سے جامعاتی رسائل میں اپنی منفرد شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہے۔ جس کی گواہی دستک کا زیر تبصرہ شمارہ بھی دیتا ہے۔
عبید الرحمن
ریسرچ اسکالر،
بنارس ہندو یونیورسٹی

