Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

رشید حسن خاں کا  ایک دیباچہ- ڈاکٹر عبدالسمیع 

by adbimiras ستمبر 7, 2020
by adbimiras ستمبر 7, 2020 0 comment

اردو کے ایک اہم اور معتبر محقق کے طور پر رشید حسن خاں کا نام کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ لیکن ان کی تحقیقی کاوشوں کا مکمل اور معروضی جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے تحقیقی طریقۂ کار اور تحقیقی خدمات پر عمومی گفتگو کے ساتھ ساتھ ان کی کتابوں پر الگ الگ گفتگو کی جائے، تاکہ ان کی تحقیقی خدمات کو مختلف حوالوں سے نشان زد کیا جاسکے۔اس وقت میرے مطالعے کا موضوع انتخاب سودا کا دیباچہ ہے۔ ایک متنی نقاد کے طور پر رشیدحسن خاں کی اہمیت کا سب نے اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے سودا کے شعری متن کا انتخاب جس ذمہ داری کے ساتھ کیا ہے اس سے ان کی تحقیقی حسّاسیت کا پتہ چلتا ہے۔یہ دیباچہ چونکہ شعری متن سے تعلق رکھتا ہے لہذا اس دیباچہ کا مطالعہ شعری متن کی قرأت کے بغیر ممکن نہیں۔اس انتخاب اور دیباچہ کا مطالعہ میں نے اپنی تعلیمی ضرورت کے تحت کیا ہے۔اردو قصائدمیں سودا کو جو مرتبہ حاصل ہے اس سے سبھی واقف ہیں۔مگر سودا کی عظمت میں قصائد کے ساتھ ساتھ ان کی غزل گوئی کا بھی اہم حصہ ہے۔کلاسکی شاعروں میں سودا کے ساتھ الحاقی کلام کا مسئلہ جتنا الجھا ہوا ہے ، وہ کسی اور شاعر کے کلام میں دکھائی نہیں دیتا۔سودا کے کلام کی دریافت اور اصل حوالوں کی نشاندہی رشیدحسن خاں کے علاوہ دوسروں نے بھی کی ہے۔ مثلا شیخ چاند، قاضی عبدالودود، خلیق انجم، محمدحسن اور نسیم احمد وغیرہ۔

رشیدحسن خاں کے دیباچہ کی نوعیت بنیادی طور پر تحقیقی ہے۔لیکن انھوں نے کلامِ سودا کی قدروقیمت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔انتخابِ سودا کے دیباچہ میں رشیدحسن خاں لکھتے ہیں:

’’اب تک کی معلومات کے مطابق کلیات سودا کا قدیم ترین مطبوعہ نسخہ، مطبع مصطفائی، دہلی کا چھپا ہوا ہے۔ اس کی تصحیح ، مومن کے شاگرد عبدالرحمن آہی نے کی تھی۔سال تکمیل طباعت ۱۲۷۲ھ (۱۸۵۶ء)ہے۔ ‘‘  ۱؎

یہ وہی نسخہ ہے جس کے تعلق سے قاضی عبدالودود نے ایک طویل مقالہ تحریر کیا تھا۔قاضی عبدالودود کا یہ مقالہ ’سویرا‘لاہور میں شایع ہوا تھا۔قاضی عبدالودود نے عبدالرحمن آہی کے مرتبہ نسخہ میں ۱۱۰ غزلوں کو الحاقی قرار دیا ہے۔کلیات سودا کا دوسرا مطبوعہ نسخہ دو جلدوں میں نول کشور سے شایع ہوا تھا۔ اس کی ترتیب و تصحیح کا کام عبدالباری آسی نے کیا تھا۔ اس کلیات کے تعلق سے رشیدحسن خاں لکھتے ہیں:

’’آسی صاحب نے ترتیب کلام بدل دی ہے اور بعض دوسرے اختلافات بھی ہیں۔۔۔۔نسخۂ مصطفائی میں الحاقی کلام کے علاوہ ، اغلاط بکثرت ہیں ۔ نسخۂ آسی میں غلطیاں تو اس قدر نہیں لیکن الحاقی کلام بدستور موجود ہیں۔‘‘۲؎

رشیدحسن خاں کے پیش کردہ حقائق کی روشنی میں سودا کے ان مطبوعہ نسخوں کو مجموعی طور پر معتبر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن تاریخی اعتبار سے ان نسخوں کی اپنی اہمیت ہے۔ محمدحسن کا مرتبہ کلیات سودا، نسخۂ جانسن پر مبنی ہے۔ اس نسخہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سودا کی زندگی میں ہی تیار ہوگیا تھا۔ اس اعتبار سے نسخۂ جانسن کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔محمدحسن کے مرتبہ نسخے کے سلسلے میں محققین نے عام طور پر بے اطمنانی کا اظہار کیا ہے۔اس کی وجہ متن میں راہ پا جانے والی غلطیاں ہیں۔لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مطبوعہ نسخہ اپنی کمیوں کے باوجود اس قلمی نسخہ پر مبنی ہے جو سودا کی زندگی میں تیار ہوا تھااور اسے پہلی مرتبہ محمدحسن نے مرتب کیا۔رشیدحسن خاں نے اپنے دیباچہ میں محمدحسن کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انھوں نے انھیں نسخۂ جانسن کے عکس سے استفادہ کا موقع دیا۔ رشیدحسن خاں نسخۂ جانسن کو کلیات کے طور پر قبول کرنا نہیں چاہتے ۔لکھتے ہیں:

’’اس نسخہ کو کلیات کے نام سے تو یاد نہیں کا جاسکتا ۔ کیونکہ کچھ کلام ایسا بھی ہے جو اس میں شامل نہیں ہوسکا، لیکن یہ ضرور ہے کہ جو کلام اس نسخے میں ہے وہ بالیقین سودا کا ہے۔‘‘ ۳؎

رشیدحسن خاں نے ایک دلچسپ مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ کلام سودا میں صرف قصائد کا حصہ ایسا ہے جو الحاقی کلام سے محفوظ رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں غزلیں اور مثنویاں خاص طور سے الحاق کا شکار ہوئی ہیں۔ بعض اجزا ایسے بھی ہیں ، جن کے متعلق قطعیت کے ساتھ کوئی بات اس وقت تک نہیں کہی جاسکتی جب تک کہ سارے اہم خطّی نسخوں کا جائزہ لے کر ، کلیات کی تدوین نہ کی جائے۔ایسے اجزا میں مرثیے بھی شامل ہیں۔ مطبوعہ کلیات کے نسخوں میں (مصطفائی و نولکشوری) دیوان مراثی شامل ہیں۔ لیکن نسخۂ جانسن میں ایک بھی مرثیہ موجود نہیں جب کہ سودا کا مرثیہ گو ہونا مسلّم ہے۔‘‘۴؎

مذکورہ اقتباس سے ہمیں تین باتیں معلوم ہوتی ہیں۔پہلی تو یہ کہ کلام سودا میں صرف قصیدہ ہی الحاق سے محفوظ ہے۔ دوسری بات یہ کہ کلیات سودا کا کوئی مطبوعہ نسخہ پوری طرح اطمنان بخش نہیں۔ اور تیسری بات یہ کہ مراثیٔ سودا میں الحاقی کلام شامل ہے یا نہیں اس سلسلہ میں کوئی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی۔ رشیدحسن خاں نے بار بار اس بات پراصرار کیا ہے کہ قصائد سودا میں الحاقی کلام شامل نہیں ہے۔لیکن شیخ چاند کی تحقیق کچھ اور کہتی ہے:

’’بندرابن راقم، سودا کا شاگرد تھا۔ اس کا ہجویہ قصیدہ چودہ شعر کا سودا کے قدیم مطبوعہ کلیات میں داخل ہے۔‘‘۵؎

اور دوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’حکیم اصلح الدین کا قصیدہ جو مصحفی کی ہجو میں تحریر ہے، سید مطلب حسین عالی بی۔اے۔ لکھنؤ نے سودا سے منسوب کردیا ہے۔اور اپنے انتخاب میں شامل کردیا ہے۔ حالانکہ قصیدے کے ہر شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا لکھنے والا سودا کا حمایتی اور شاگرد ہے۔‘‘۶؎

شیخ چاند نے ’حمایتی ‘اور’ شاگرد‘ جیسے الفاظ استعمال کر کے تحقیق اور تنقید کی ایک تہذیب کی طرف اشارہ کیا ہے۔شاید کسی نے بھی سودا کے الحاقی کلام کے سلسلے میں یہ الفاظ استعمال نہیں کیے۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ شیخ چاند اور رشیدحسن خاں نے قصائد سودا کی قرأت میں کن بنیادوں کو پیش نظر رکھا ، جن کے سبب یہ اختلافات پیدا ہوئے۔آخر کوئی تو بات ہوگی کہ رشیدحسن خاں قصائدسودا کو سودا ہی کا کلام قرار دیتے ہیں۔اور شیخ چاند سودا کے بعض قصائد کو سودا کے کسی حمایتی اور شاگرد کابتاتے ہیں۔ خلیق انجم نے اپنی کتاب ’سودا‘ میں سودا سے منسوب ایک قصیدہ کو احسن اللہ خان بیان کا قرار دیا ہے۔۷؎

رشیدحسن خاں نے قصائد سودا پر بہت تفصیلی گفتگو کی ہے۔یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’قصائد کی صورت یہ ہے کہ نسخۂ مصطفائی میں کل ۴۵ قصیدے ہیں، ان میں ایک قصیدہ ’’درتعریف مسجد نو‘‘ فارسی میں ہے۔۔۔۔اس طرح مصطفائی میں اردو کے کل ۴۴ قصیدے ہیں ۔ ان ۴۴ قصیدوں میں سے صرف ایک ہجویہ قصیدہ:(ساجدا کیوں نہ وہ پرواز کرے تا بہ فلک) نسخۂ آسی میں موجود نہیں۔ باقی سب قصیدے اس میں موجودہیں۔۔۔ نسخۂ جانسن میں کل ۳۹ قصیدے ہیں۔‘‘۸؎

اسی طرح یہ بھی لکھا ہے کہ وہ قصیدہ جو نسخۂ جانسن میں رچرڈجانسن کی مدح میں ہے، وہ اول الذکر دونوں نسخوں میں موجود نہیں ۔ پھر وہ ان مباحث کے بعد لکھتے ہیں :

’’اس طرح فارسی کے ایک قصیدہ کونکال دینے کے بعد ، کل قصیدوں کی تعداد ۴۵ ہوتی ہے۔‘‘۹؎

رشیدحسن خاں نے سودا کے اردو قصیدے کی جو تعداد بتائی ہے اور جس پیرائے میں بتائی ہے وہ محلِّ نظر ہے۔وہ لکھتے ہیں’فارسی کے ایک قصیدہ کو نکال دیں تو قصیدے کی کل تعداد ۴۵ ہوتی ہے ‘ ایسا لگتا ہے اس جملہ میں ایک لفظ’مطبوعہ‘ شامل ہونے سے رہ گیا ہے۔اگر یہ جملہ اس طرح ہوتا کہ’ مطبوعہ قصیدے کی تعداد ۴۵ ہوتی ہے‘ تو زیادہ مناسب ہوتا۔ اس لیے کہ کچھ قصائد ایسے بھی ہیں جو کلیات میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں۔شیخ چاند نے ایسے قصائد کی تعداد ۱۱ بتائی ہے۔

رشیدحسن خاں نے اپنے اس دیباچہ میں قصیدے کے حوالے سے جتنی تفصیلی گفتگو کی ہے وہ کسی اور صنف کے سلسلے میں نظر نہیں آتی۔ غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس انتخاب کا بیشتر حصہ قصیدے پر مشتمل ہے۔مرثیہ اور مثنوی پر گفتگو بہت کم ہے۔غزل کا تذکرہ صرف اتنا ہے کہ منتخبہ غزلوں کو نسخۂ جانسن سے لیا گیا ہے۔ رشیدحسن خاں نے غزلوں کے انتخاب میں نسخۂ جانسن کوترجیح  اس لیے دی کہ اس میں الحاقی کلام شامل نہیں۔ لہذا عام قاری کے لیے غزلیات سودا کا اس سے بہتر انتخاب بھی نہیں ہوسکتا تھا۔رشیدحسن خاں نے انتخاب سودا میں سودا کی شاعری کے تمام ہیئتی نمونوں کو پیش کیا ہے۔مگر مرثیہ کی غیرموجودگی سے ایک خلا کا احساس ہوتا ہے۔سودا کی مرثیہ گوئی پر تو کافی لکھا جا چکا ہے۔اور یہ بات سب نے لکھی ہے کہ مرثیہ کو مسدس کی ہیئت میں فروغ دینے کا ابتدائی کام سودا نے کیا تھا۔کلیات سودا کے مطبوعہ نسخوں میں جومراثی شامل ہیں انھیں الحاق سے پاک نہیں قراردیا جاسکتا۔ لیکن پھر بھی مراثیٔ سودا کے اصل متون دریافت کر کے پیش کیے جاسکتے تھے۔ اور یہ کام رشیدحسن خاں بخوبی انجام دے سکتے تھے۔اسی طرح غزلوں کے باب میں کیا یہ مناسب نہیں تھا کہ کلیات سودا کے دیگر نسخوں سے بھی نسخۂ جانسن کی غزلوں کا موازنہ کرلیاجاتا اور متن میں موجود اختلاف کی نشاندہی کردی جاتی۔رشیدحسن خاں نے قاضی عبدالودد کے اس تحقیقی کام کی پذیرائی کی ہے جس کا تعلق کلیات سودا میں موجود الحاقی کلام سے ہے۔شاید اسی لیے انھوں نے الحاقی کلام اور اختلاف متن کی نشاندہی کو اپنے تحقیقی دائرۂ کارمیں شامل نہیں کیا۔

جیسا کہ مضمون کی ابتدا میں لکھا جاچکا ہے کہ رشیدحسن خاں کے انتخاب سودا کے دیباچہ کی نوعیت تحقیقی بھی ہے اور تنقیدی بھی۔تحقیقی نقطۂ نظر سے اس دیباچہ کے جو امتیازات ہیں ان کی طرف میں نے چند اشارے کیے ہیں۔ رشیدحسن خاں نے کلام سودا کو جس تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا ہے اس کی اہمیت آج بھی پہلے کی طرح برقرار ہے۔وہ سودا کی شاعر ی کو اس عہد کی سماجی اور تہذیبی صورت حال کی روشنی میں بھی دیکھتے ہیں۔اور ساتھ ہی ادبی اصولوں کی روشنی میں بھی ان کا جائزہ لیتے ہیں۔سودا کی شاعری میں معاشرتی اور سماجی حسّیت کا اظہار جس اسلوب میں ہوا ہے اس کی طرف رشیدحسن خاں نے جس طرح توجہ کی ہے وہ مطالعۂ سودا میں ایک اہم حوالہ کی حیثیت رکھتی ہے۔عموما اردو شاعری میں معاشرتی اور مقامی صورت حال کی عکاسی کے ضمن میں نظیراکبرآبادی کی شاعری کوبنیادی حوالہ بنایا جاتا ہے۔ یہ رویہ غلط بھی نہیں، لیکن اس کی ابتدائی صورت دکنی شعرا کے یہاں اور سوداکی شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔ رشیدحسن خاں نے سودا کی شاعری کو زمانہ کی قید سے ماورا اور ہمہ گیر بتایا ہے۔بلکہ وہ اس ہمہ گیری کو اردو شاعری میں نایاب بتاتے ہیں۔

رشیدحسن خاں نے سودا کے دو اہم معاصرین میرؔ اور دردؔ کے غزلیہ اسلوب کو کم و بیش ایک جیسا قراردیا ہے۔ وہ میرودرد کے اسلوب کی تعریف تو کرتے ہیں مگر اسے سمٹا ہوا قراردیتے ہیں۔انھیں محسوس ہوتا ہے کہ سودانے اس اسلوب کی یکسانیت سے ہٹ کر ایک الگ پیرایہ اختیار کیا ، جس سے اردو غزل عہد میر میں ایک دیگر اسلوب کی طرف گامزن ہوئی۔رشیدحسن خاں نے عہدمیر میں رائج لہجہ کی یکسانیت کے ساتھ ساتھ موضوع کی یکسانیت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’اس زمانے میں سودا نے اردو شاعری کو صلابت بخشی، اندازبیان میں توانائی کو سمویا، لہجے میں تلوار کی کاٹ پیدا کی۔اسلوب کو بلندآہنگی سے روشناس کیا اور مجموعی طور پر شاعری کی زبان اور پیرایۂ بیان میں خارجی وسعت کا اضافہ کیا۔دل کی دنیا تو غزلوں سے آباد ہوچکی تھی، سودا نے طلسم باطن کی طرف توجہ کرنے سے زیادہ لفظ و معنی کے ظاہری رشتوں پر توجہ صرف کی۔شاعری کے دائرے کو اس طرح وسیع کیا کہ ہر اچھی بُری بات اس میں سما سکے اور کہیں سے اتری ہوئی معلوم نہ ہو۔ ‘‘۱۰؎

رشیدحسن خاں کی یہ بات متاثر کرتی ہے کہ سودا نے شاعری کے دائرے کو وسعت بخشی تاکہ ہر اچھی بُری بات اس میں سما سکے۔یہ بات درست ہے کہ سودا نے غزل میں بھی بلندآہنگی اور توانا لہجہ کو برتنے کی کوشش کی ورنہ عام طور سے غزل کے لہجہ میں انفعالیت اور دبے دبے سے رہنے کا رواج عام تھا۔ سودا نے غزلیہ شاعری کو پہلی بار انفعالی لہجہ سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ سودا کی کاوشوں سے ہی غزل کے لہجہ میں تنوع پیدا ہوا۔رشیدحسن خاں نے سودا کی شاعری میں مستعمل زبان اور لہجہ کو بہت ہی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔سوہ سودا کی شاعری کے لیے صلابت، انداز بیان کے لیے توانائی اور لہجہ کے لیے تلوار کی کاٹ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اصل میں سودا سے قبل اور ان کے بعد بھی غزل واردات قلب بالخصوص شکستگی کے اظہار کا وسیلہ تصور کی جاتی رہی ہے۔سودا نے غزل کو واردات قلب اور شکستگی کے حجرۂ ہفت بلا سے نکالنے کی اولین کوشش کی۔رشیدحسن خاں کی نظر میں سودا کا یہ کارنامہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ رشیدحسن خاں کسی بھی وسیلۂ اظہار کو کسی مخصوص موضوع کے ساتھ ضم کر کے نہیں دیکھتے۔ اردو شاعری خصوصا غزل کے موضوعات اور لب و لہجہ کی یکسانیت انھیں پسند نہیں۔انھوں نے جب کلام سودا کا مطالعہ کیا توانھیں احساس ہوا کہ ایک ایسے دور میں جب زبان کی شکل وصورت واضح نہیں ہوئی تھی۔ سودا نے اردو کے ابتدائی زمانے میں شاعری کو کئی اسالیب سے روشناس کیا اور طرح طرح کے مضامین باندھے۔ لیکن یہ بات جزوی طور پر میرؔ اور ان کے دیگر معاصرین کے لیے بھی کہی جاسکتی ہے۔میرؔاوردردؔ کے یہاں ایسے مضامین بھی موجود ہیں جنھیں غزل کے مخصوص موضوعات سے کوئی علاقہ نہیں۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رشیدحسن خاں کے ذہن میں وسعت کا کیا تصور تھا۔ان کا یہ اقتباس دیکھیے:

’’میرودرد نے زبان و اسلوب کے ایک رخ کی تکمیل کی تھی۔آج بھی دل کی باتیں کہنے کا، اوردل کی ویرانی کے مذکور کا، مثالی انداز وہی معلوم ہوتا ہے جس کو میر صاحب نے اس زمانے میں اختیار کیا تھا۔لیکن شہر کی ویرانی اور سماجی شکست وریخت ، پر زور تشبیب اور شاندار مدح ، تیکھی مذمت اور کٹیلی ہجو، لطیف طنز اور قہقہہ در آغوش ظرافت، ان سب کے لیے الگ الگ پیرایۂ اظہار کی ضرورت تھی۔اس میں بعض کے دھندلے دھندلے خاکے موجود تھے اور بعض گویا ناترشیدہ تھے۔سودا نے ان دھندلے خاکوں کو اس طرح روشن کیا کہ واضح اور مکمل پیرایۂ بیان کے قالب بن گئے۔ ان کی بے مثال ، بلکہ بے پناہ ذہانت اور قادرالکلامی نے بعض پیرایوں کی اس طرح صورت گری کی، جیسے بڑاصنّاع کسی نئے انداز کی تشکیل کرتا ہے۔لیکن اس سے بھی بڑا کام یہ انجام دیا کہ ان سارے پیرایوں کی تکمیل اور فروغ کے لیے زبان کی اس سطح کو بلند کیا ، جس پر یہ نشوونما پا سکیں۔ یہ عہد آفریں کام تھا۔ خاص طور سے اس لحاظ سے کہ سودا کا زمانہ زبان کے فروغ کا ابتدائی عہد تھا۔‘‘ ۱۱؎

رشیدحسن خاں کے اس اقتباس سے واضح ہے کہ سودا کے یہاں کئی اسالیب موجود ہیں اور یہ سب مل کر سودا کو ان کے دیگر معاصرین سے مختلف بناتے ہیں۔اس اقتباس کی بیشتر باتوں کا تعلق سودا کے قصیدے سے ہے۔ان کی غزلوں میں بھی ایسی کچھ خوبیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔لیکن اظہار کی اتنی صورتیں اپنے پورے رکھ رکھائو کے ساتھ ان کے قصیدے میں موجود ہیں۔رشیدحسن خان کلام سودا مین موجود مختلف اسالیب اور موضوعات کے تنوع اور اس کے اظہار کے طریقۂ کار کو دیکھ کر ہی وہ سودا کو صنّاع کہتے ہیں۔یہ ایسی صنّاعی ہے جو پیرایہ بیان کی سطح کو بلند کرنے میں کامیاب ہوئی۔ رشیدحسن خاں نے سودا کی لسانی خدمات کو ان کا تاریخی کارنامہ قرار دیا ہے۔کلامِ سودا میں زبان کاجو تنوع ہے اس کی نظیر اس زمانہ میں بلکہ کسی حد تک اس کے بعد بھی نہیں ملتی۔سودا نے جس وقت اردو زبان کو قصیدے کی شکل میںالفاظ اور اصطلاحوں کا عطیہ دیا تھا اسے تاریخی کارنامہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ایسے زمانہ میں جب اردو زبان ابھی شیرخوارگی کے ایام سے گزر رہی تھی، اردوشاعری میں غزل کے مخصوص لہجہ کے سوا کوئی اور اسلوب رائج نہ تھا۔ اچانک اتنے اسالیب اور طرز اظہار کے کامیاب تجربے معجزے سے کم نہیں۔اردو زبان جو ابھی تک دل والوں کی زبان تھی ذہن و عقل والوں کی زبان بن گئی۔اس میں اتنے الفاظ در آئے کہ مدح و ذم، طنزوظرافت اور چھیڑچھاڑ کے مضامین مختلف اسلوب میں بیان کرنا آسان ہوگیا۔رشیدحسن خاںسودا کی لسانی خدمات کا اعتراف اس لیے بھی کرتے ہیں کہ ان کے یہاں فطری بے تکلفی پائی جاتی ہے۔وہ انھیں صناع تو کہتے ہیں مگر سودا کی صنّاعی کا تعلق تصنع سے نہیں بلکہ فطری کاریگری سے ہے۔    جس  رشیدحسن خاں غزلوں کے حوالے سے سودا کو میر اور درد سے مختلف بتاتے ہیں اور غیر ضروری طور پر ان شعرا سے تقابل نہیں کرتے۔ ان کا اصرار ہے کہ سودا کا مزاج بہت مختلف تھا۔ لہذا فطری طور پر ان کی غزلوں کا آہنگ بھی میر اور درد سے الگ ہے۔ ان کے یہ الفاظ دیکھیے:

’’حقیقت یہ ہے کہ سودا نے اپنی شخصیت کی طرح غزل کو بھی ہمہ رنگ بنانا چاہا، ان کی غزلوں میں مضامین تو وہی نظم ہوئے ہیں جو اس صنف میں بالعموم نظم کیے جاتے تھے۔ فرق بس انداز بیان کاہے۔ سودا نے غزل کی زبان میں تب وتاب پیدا کی۔اس کے گہرے حزنیہ لہجے کو ، نشاطیہ توانائی سے بھی آشنا کیا۔۔۔سودا نے غزل کے اسلوب کو جو نرم، دھیما،مدھم اور افسردہ سا تھا، روشن اور توانا بنایا۔ اس میں جھنکار اور کھنک کا اضافہ کیا۔‘‘۱۲؎

ہمارے بیشتر نقادوں نے سودا اور میر کی غزلوں کو دوکناروں کی طرح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سودا کا کلام ’واہ‘ہے اور میر کا کلام’آہ‘۔ رشیدحسن خاں کے مطالعۂ سوداکی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ سودا کی انفرادیت کی تلاش میں سودا کو اتنا منفرد اور نرالا بھی ثابت نہیں کرتے ، جس سے یہ لگے کہ سودا اردو شاعری کی ایسی روایت کے علم بردار ہیں جو ابھی وجود میں ہی نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سودا کو مختلف بھی بتاتے ہیں اور جہاں کہیں مماثلتیں دکھائی دیتی ہیں ان کی طرف بھی اشارے کرتے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے:

’’استادی اور مشّاقی کی برکت سے ان کی غزلوں کے بہت سے شعر رنگِ میر سے بھی قریب ہو گئے ہیں، لیکن ان کا اپنالہجہ چھپتا نہیں۔بار بار ابھرتا ہے اور چھا جاتا ہے۔‘‘۱۳؎

رشیدحسن خاں سودا کے لیے بار بار پیرایۂ بیان کی ترکیب استعمال کرتے ہیں۔ان کی نظر میں سودا کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ سودا کی غزلوں میں طویل قطعوں کی تعداد دوسرے شعرا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔طویل قطعات کو غزل کی پوری داخلی اور خارجی فضا سے ہم آہنگ کرنا سودا کا ایک اہم کارنامہ ہے۔یہ محض اتفاق نہیں کہ اخترانصاری نے اپنی کتاب’غزل کی سرگذشت‘ میں اٹھارہویں صدی کی غزل کے تین اسالیب کا ذکر کرتے ہوئے میردرد اور سودا کو بھی اس تثلیث میں شامل کیا ہے۔وہ یوں تو میر کے اسلوب کو اس عہد کا نمائندہ اسلوب بتاتے ہیں اور دوسرے اسلوب کے سلسلے میں خواجہ میر درد کے اسلوب کا حوالہ دیتے ہیں۔لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ میردرد کے اسلوب کے لیے لکھتے ہیں:

’’اسی کے پہلو بہ پہلو خواجہ میر درد کا اسلوب تھا‘‘ ۱۴؎

’اسی کے پہلو بہ پہلو‘ سے مراد میرکا اسلوب ہے۔ رشیدحسن خاں نے اٹھارہویں صدی کے غزلیہ اسلوب کے سلسلے میں تقریبا وہی رویہ اختیار کیا ہے جو اختر انصاری کا ہے۔اختر انصاری نے سودا کے اسلوب کے لیے خارجیت، ٹھوس ارضیت، مرئی حقائق جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ رشیدحسن خاں سودا کے غزلیہ اسلوب کے سلسلے میں کم و بیش وہی باتیں لکھتے ہیں جو دیگر نقادوں نے لکھی ہیں۔لیکن زمانی اعتبار سے دیکھا جائے تو رشیدحسن خاں کا یہ دیباچہ شیخ چاند اور خلیق انجم کی کتابوں کی اشاعت کے بعد سامنے آیا۔ مگر سودا کے غزلیہ اسلوب کی شناخت کے سلسلے میں رشیدحسن خاں نے جس دقّتِ نظری کا ثبوت پیش کیا ہے وہ اس سے پہلے کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اشارے تو سب نے کیے تھے، لیکن رشیدحسن خاں نے سودا کے غزلیہ اسلوب کو نشان زد کرنے کے لیے کچھ ایسے الفاظ اور کچھ ایسی اصطلاحیں استعمال کیں،جن سے سودا کو سمجھنے میں آسانیاں پیدا ہو گئیں۔گو کہ انھوں نے بہت تفصیلی گفتگو نہیں کی ،لیکن ان کے چند جملوں سے دیکھا جاسکتا ہے کہ سودا کا اسلوب ان کی نظر میں اپنے تمام شعری لوازمات کے ساتھ موجود ہے۔

رشیدحسن خاں نے سودا کے قصیدوں پر جو رائیں پیش کی ہیں، وہ بھی ان کی گہری تنقیدی نگاہ کا پتہ دیتی ہیں۔ وہ سودا کی غزل کے کمالات کی نشاندہی کے بعد جب قصیدوں اور ہجووں کی طرف آتے ہیں تو، انھیں سودا ایک معیار سرا بھی نظر آتے ہیں اور بے مثل بھی۔یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ جس طرح میر کی غزل گوئی کا مطالعہ کرتے ہوئے سودا کو زیربحث لایاجاتا ہے ۔ اسی طرح سودا کے قصیدوںپر گفتگو کرتے ہوئے ذوق کا ذکر ضروری سمجھا جاتا ہے۔اس موازنے اور تقابل کے عمل میں عموما جذباتیت غالب آجاتی ہے۔رشیدحسن خاں نے بھی سودا کے قصیدوں پر بحث کرتے ہوئے ذوق کو یاد کیا ہے۔اور دونوں کے یہاں پائے جانے والے افتراق و اشتراک کو نشان زد کرنے کی کوشش کی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’قصیدوں کا ان سے پہلے بس نام سا تھا۔ ان کے زمانے میں بھی دوسروں کے یہاں بس نام ہی رہا، اور ان کے بعد بھی صرف انھی کے قصیدے مثال و معیار میں پیش کیے گئے۔ مصحفی نے ان کو اس فن کا نقّاش اول کہا ہے اور بجا طور پر کہا ہے، اس پر اتنا اضافہ کرنا چاہیے کہ یہ نقش اول ہی نقش آکر بن کر رہ گیا۔‘‘۱۵؎

رشیدحسن خاں کی مندرجہ باتوں سے شاید ہی ادب کا کوئی طالب علم انکار کرے۔ بلاشبہ سودا کے قصیدے ہی نقش اول بھی ہیںاور نقش آخر بھی۔انھوں نے اس نکتہ سے بھی بحث کی ہے کہ سودا کا نام قصیدے کی صنف میں اتنا نمایاں صرف ان کے تخیل اور زبان و اظہار پر قدرت کے سبب ممکن ہوسکا۔اسے قصیدے کی صنف سے سودا کا فطری لگائو کا نام دیا جا سکتا ہے۔یہ بات بالکل سامنے کی ہے کہ قصیدے میں شِکوہ کی فضا اگر نہ ہوتو قصیدہ اصل کے اعتبار سے قصیدہ نہیں رہ پاتا۔خود رشیدحسن خاں سودا کے قصیدوں کے لیے زورشور اور دھوم دھام جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ سودا کے قصیدے سودا کے مزاج کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔ اس مزاج کو سودا نے نہ تو اپنی غزل میں اوپر سے اوڑھا ہے اور نہ قصیدے میں۔ سودا کے یہ اسالیب خود سودا کے اندرون اور داخلی تجربے کا لازمی نتیجہ ہیں۔رشیدحسن خاں نے کلامِ سودا کے مطالعے میں جن اصطلاحوں کے ذریعہ سودا کی انفرادیت اور اختصاص واضح کرنے کی کوشش کی ہے، وہ بہت خوب ہے۔وہ سودا کے لیے باربار اسلوب کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اصل میں سودا کے کلام کا مطالعہ اردو شاعری کے مختلف اسالیب کا مطالعہ ہے۔ سودا کو پڑھتے ہوئے عموما اس نکتہ کو نظرانداز کردیا جاتاہے۔ رشیدحسن خان کی نگاہ سودا کے تمام انفرادی پہلوؤں تک جاتی ہے۔ یہی وہ حقائق ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ رشیدحسن خاں کی تنقیدی نگاہ کس قدر متن اور صاحب متن کی تلاش میں تیز اور سرگرداں ہے۔ لیکن کہیں کہیں رشیدحسن خاں اپنی ترجیحات ور تحفظات پر قابو رکھنے میں کامیاب نظر نہیں آتے۔ان کی یہ بات محل نظر ہے:

’’کہا جاتا ہے کہ اردو میں دو قصیدہ نگار پیدا ہوئے، ایک سودا،دوسرے ذوق۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کے قصیدوں میں اندھیرے اجالے کا فرق ہے۔ سودا کے یہاں معنی آفرینی کا لطف، نئے مضامین کا حسن، تشبیہوں کی جدّت اور استعاروں کی ندرت کاجو عالم ہے ، وہ اس پیمانہ پر ذوق کے یہاں نہیں ملتا۔کہیں کہیں چنگاریاں چمک جاتی ہیں اور کہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پرچھائیاں کانپ رہی ہیں۔‘‘۱۶؎

سودا اور ذوق کے قصیدوں کے فرق کو اندھیرے اجالے کا فرق کہنا انتہا پسندی ہے۔ اس پوری بحث میں رشیدحسن خاں نے جو رویہ اختیار کیا ہے اسے پوری طرح متوازن اور معروضی نہیں کہا جاسکتا۔ وہ اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ جو معنی آفرینی سودا کے یہاں ہے وہ ذوق کے یہاں نہیں۔ یہاں بھی معنی آفرینی کے لیے معنی یاب طبیعت کا ہونا لازمی قرار دیتے ہیں اور یہ طبیعت سودا کے یہاں موجود تھی۔معنی آفرینی کس طرح پیدا ہوتی ہے اس کے لیے رشیدحسن خاں نے قوت مشاہدہ، قوت آخذہ اور قوت فکر جیسی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کے مطابق ذوق کا تخلیقی ذہن مذکورہ خوبیوں سے خالی ہے۔رشیدحسن خاں کی اس سخت گیری کاایک فائدہ نئے طالب علموں کو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ذوق کے قصیدوں کو ایک نئی نظر سے دوبارہ دیکھیں گے۔ رشیدحسن خاں نے قصیدے کے باب میں ذوق کے مقابلہ میں غالب کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ انھیں ذوق کے یہاں موضوعات کا تنوع نظرنہیں آتا۔ اس لیے وہ لکھتے ہیں کہ ذوق نے خود کو صرف مدح سلطان تک محدود رکھا۔ وہ ذوق کے یہاں جذبے اور احساس کی گرماہٹ نہ ہونے کی شکایت بھی کرتے ہیں۔ ذوق کے سلسلے میں اتنا سخت گیر رویہ اختیار کرنے کے بعد انھیں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ باتیں تو ذوق کے حق میں بھی جانی چاہیے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’ذوق کے قصیدے، اس میں شک نہیں کہ (بہ استثنائے غالب) اور شاعروں سے خوب تر اور بلندتر ہیں، دوسروں کو یہ بات بھی نصیب نہ ہوسکی۔‘‘۱۷؎

رشیدحسن خاں کی نظر میں تخلیقی مزاج کی بڑی اہمیت ہے۔اور یہ ایک ایسا تنقیدی نکتہ ہے جو عام طور پر ہمارے نقادوں کی دسترس میں نہ آسکا۔اسی لیے نقادوں نے دو مختلف مزاج کے حامل تخلیق کاروں کے درمیان تقابل اور موازنے کا سلسلہ جاری رکھا۔رشیدحسن خاں جزوی طور پر ذوق کے قصیدے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ذوق کی کمیوں اورکوتاہیوں کو تلاش کرتے ہوئے ان کی نگاہ فطری طبیعت کی طرف جاتی ہے۔اس سلسلے میں انھوں نے محمدحسین آزاد کی فراہم کردہ معلومات کو راہ نما بنایا ہے، جس میں اس نکتہ کی طرف اشارے ملتے ہیں کہ ذوق کے مزاج میں سادگی تھی۔ یہ سادگی سودا کی ہنگامہ آرا طبیعت کے سامنے نمایاں نہ ہوسکی۔لیکن ایک اور بات رشیدحسن خاں نے لکھی ہے جو نہایت اہم ہے:

’’شاید یہ کہا جائے کہ ذوق کا ممدوح ہی کمزور تھا، تو مدح میں زور کہاں سے آتا۔ لیکن قصیدے کی خوبی میں ممدوح کی شوکت کو اتنا دخل نہیں ہوتا جتنا شاعر کی طبیعت کو۔ قصیدہ ممدوح کی نہیں ، شاعر کی نمائندگی کرتا ہے۔ ‘‘۱۸؎

رشیدحسن خاں نے اپنے دیباچہ میں قصیدے کی معنویت سے بہت تفصیلی بحث تو نہیں کی ہے لیکن اختصار کے ساتھ انھوں نے قصیدے کی ادبی اہمیت کی طرف واضح اشارے کیے ہیں۔ عموما یہی کہا جاتا ہے کہ قصیدہ ہماری ادبی تاریخ کا اہم حصہ ضرور ہے لیکن حسّی بنیادوں پر ہم اس سے کوئی بامعنی رشتہ استوار نہیں کر سکتے۔اس لیے کہ قصیدہ جن مقاصد کی تکمیل کے لیے لکھا گیا ، اب نہ وہ مقاصدہیں اور نہ ان مقاصد کو تکمیل تک پہنچانے والے لوگ۔رشیدحسن خاں نے ان لوگوں کے لیے بہت سخت لہجہ اختیار کیا ہے جو قصیدے کو قصۂ پارینہ سمجھ کر اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے لیے رشیدحسن خاں نے بدمذاق،کم نظر، محدودنظر اور پست ذوق جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔جاگیردارانہ نظام کو بُرا بھلا کہنے والوں کو رشیدحسن خاں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں:

’’قصیدہ نگاری کو آج بہت سے لوگ نہ معلوم کیا کیا کہتے ہیں۔ دورجاگیرداری کا پروردہ تو کہتے ہی ہیں۔ لیکن اس بات کو فراموش کردیا جاتا ہے کہ فنون لطیفہ کی ترقی اسی نظام کے زیرسایہ ہوئی ہے۔‘‘۱۹؎

رشیدحسن خاں کے یہاں روایت کا تصور انتخابی نوعیت کا نہیں ہے۔وہ ادبی روایت کو کُل کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ہجویات کے حوالے سے گالی گلوچ کو بھی تہذیبی تقاضوں کے نام پر بُرا بھلا نہیں کہا ہے۔وہ گالی گلوچ کو ادبی مذاق کا لازمی حصہ قرار نہیں دیتے، البتہ اسے زندگی کے کچھ مخصوص لمحات کی تصویریں ضرور قرار دیتے ہیں۔رشیدحسن خاں شعروادب میں گالی گلوچ کو شعریت اور ادبیت کے ساتھ پیش کرنے کی وکالت بھی کرتے ہیں۔انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گالی گلوچ کے سپاٹ اظہار سے لطف و انبساط کی کیفیت بہت سمٹ جاتی ہے۔

عموماً ادب میں گالی گلوچ کے اظہار کو غیر اخلاقی قرار دے کر اس سے چشم پوشی کی جاتی ہے، لیکن گالی گلوچ کے پیچھے سماجی محرکات ہوتے ہیں۔ اسے غصے کے اظہار کا علامیہ بھی کہا جاسکتاہے۔اس سیاق میں رشیدحسن خاں نے سودا کی بہت تعریف کی ہے۔ رشیدحسن خاں سودا کو اردو کا منفرد اور بڑاشاعر قرار دیتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں سودا کی عظمت اس نکتہ میں پوشیدہ ہے کہ سودا نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور ہر صنف کو ایک سطح عطاکرنے کی کوشش کی ہے۔سودا کی ہمہ گیری ہی اس کی انفرادیت ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ سودا کا مطالعہ صرف قصائد یا غزلیاتِ سودا کی قرأت سے ممکن نہیں۔ سودا کے اختصاص و انفرادتک رسائی کے لیے سودا کے جملہ کلام کا اسلوبیاتی مطالعہ ضروری ہے۔رشیدحسن خاں کا دیباچہ کلامِ سودا کے اسلوبیاتی مطالعہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

٭٭٭

 

مراجع ومصادر

۱؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۳۳

۲؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۳۳

۳؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۳۳

۴؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۳۴

۵؎  شیخ چاند؛سودا؛مکتبہ اردو ادب دہلی ۱۹۷۲ص:۱۲۸

۶؎  شیخ چاند؛سودا؛مکتبہ اردو ادب دہلی ۱۹۷۲ص:۱۲۴

۷؎  خلیق انجم؛سودا؛ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی ص:۴۸۰

۸؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۳۴،۳۵

۹؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۳۵

۱۰؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۱۰

۱۱؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۱۰،۱۱

۱۲؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۱۱

۱۳؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۱۲

۱۴؎  اختر انصاری؛ غزل کی سرگذشت؛ایجوکیشنل بک ہائوس علی گڑھ ۱۹۸۵ء ص۳۳

۱۵؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۱۲،۱۳

۱۶؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۱۳

۱۷؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۱۵

۱۸؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۱۵

۱۹؎  انتخاب سودا؛ مرتبہ رشیدحسن خاں ؛مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی ص:۱۶

 

 

نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی میں استاد ہیں۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں