Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

مُستنصرحسین تارڑکے ناول "بہاؤ” کافکری وفنی مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین 

by adbimiras جون 30, 2021
by adbimiras جون 30, 2021 0 comment

مُستنصرحسین تارڑ عہد حاضرکے معروف تخلیق کاروں میں شمارکیے جاتے ہیں ۔انھوں نے نثرنگارکی حیثیت سے اپنے تخلیقی سفر کاآغازکیااوراُردوادب میں بطورنثرنگاراپنی ایک شناخت اور پہچان قائم کی ۔مستنصر حسین تارڑ ایک معروف ٹی وی اینکر،صحافی ،کالم نگار،ڈراما نگار ،افسانہ نگار ،سفر نامہ نگار،اداکار اورناول نگار ہیں ۔یوں تو انھوں نے ان تمام اصناف میں طبع آزمائی کی مگر اُن کی خاص پہچان بطورسفر نامہ نگار اور ناول نگار ہے۔عہد حاضرمیں وہ پاکستان کے مشہور سفرنامہ نگار اور ناول نگار ہیں۔اس وقت تارڑ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہیں ۔اب تک ساٹھ سے زیادہ کتب لکھ چکے ہیں  اُن کی معروف تخلیقات میں "نکلے تری تلاش میں” ، "اُندلس میں اجنبی”، "راکھ”،”بہاؤ”،”خس وخاشاک زمانے”، "اے غزالِ شب”، "جپسی”،”پکھیرو”اور” الو ہمارے بھائی ہیں "،”شامل ہیں ۔

بہاؤ (ناول)،پاکستان سے شائع ہونے والا اُردو ناول ہے ۔جس کو معروف تخلیق کار مستنصر حسین تارڑ نے  تحریر کیا۔یہ ناول 272صفحات پرمشتمل ہے جس کو 1992ء میں پہلی مرتبہ سنگِ میل پبلی کیشنز لاہورنے شائع کیا اوراب اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔ یہ ناول ایک تاریخی وتہذیبی ناول ہے  جس میں آج سے ہزار سال قبل وادیِ سندھ کی تہذیب کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔

ناول "بہاؤ ” کو لکھنےاورایک ایسی تہذیب جوبالکل منہدم ہوچکی تھی جس کے آثار تک باقی نہ تھے  اس کوموضوعِ بحث  بنانے کاخیال تارڑ کے ذہن میں کیسے آیااور اس کوتخلیق کرنے کے لیے اُن کوکیا کچھ کرنا پڑا۔یہ ساری رودادانھی کی زبانی ملاحظہ ہو۔

"دراصل مجھے رات میں اٹھ کر پانی پینے کی عادت ہے ۔میں سائیڈ ٹیبل پر پانی سے بھراگلاس رکھ لیتا ہوں ۔اور میں شیشے کا گلاس نہیں رکھتا۔مجھے پکے گلاس میں پانی پینے کی عادت ہے ۔تووہ بہت گرم رات تھی ۔جب نیم غنودگی میں اٹھ کر میں نے پانی پیا ،تو احساس ہوا کہ گلاس میں ،میرے اندازے کے مطابق ،جہاں تک پانی ہونا چاہیے ،وہ اس سے تھوڑا کم ہے ۔بیرونی حصے میں پانی کی ٹھنڈ یا نمی وہاں محسوس نہیں ہوئی،جہاں پہلے ہوا کرتی تھی۔وہ پہلا موقع تھا ،جب "بہاؤ” کا ابتدائی خیال کہ پانی خشک ہورہا ہے ،میرے ذہن میں آیا۔(1)

یہ تھی ناول "بہاؤ” کی وجہ تسمیہ اب ذراناول کو تخلیق کرنے کے لیے تارڑ کو کیا کچھ کرنا پڑا وہ بھی اُن کی کہانی اُن کی  زبانی ملاحظہ ہو۔

"اُسے لکھنے میں وقت نہیں لگا۔ اصل وقت تحقیق میں لگا۔زبان کا کیا رنگ ڈھنگ ہونا چاہیے ؟ یہ اہم سوال تھا۔”(2)

مستنصرحسین تارڑ کا ناول”بہاؤ” وادی سندھ کی قدیم ترین اور گم شدہ تہذیب کے موضوع پراُردوزبان میں لکھا گیا اپنی نوعیت کا واحد ناول ہے جس میں وادی سندھ کی  پانچ ہزارسال پرانی گم شدہ تہذیب کوتارڑ نے زندہ تہذیب کاروپ دیا ہے۔”بہاؤ” ناول ہمیں آج سے پانچ ہزار سال پرانی ایک ایسی بستی میں لے جاتا ہے جو دریائے سندھ کے کنارے آباد تھی اور اس کا زمانہ موہنجوداڑو کی تہذیب کا ہم عصر زمانہ تھا۔موہنجوداڑو کے متعلق انسانی معلومات وہاں سے کھدائی کے دوران نکلنے والے کھنڈرات اور چند قدیم باقیات تک محدود ہیں ۔اس سے آگے انسانی معلومات میں سوائے حیرت و تجسس کے کچھ نہیں ۔مگرتارڑ صاحب کے مضبوط تخیل کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اتنی کم اور نہ ہونے کے مترادف معلومات کی بنا پرموہن جوداڑو کے گردونواح میں موجود بستی پر ایک بھرپور ناول لکھ دیا۔ (یہ بھی پڑھیں "اللہ میاں کا کارخانہ "سماج  اور قدرت کا آئینہ خانہ – ڈاکٹر محمد  کامران شہزاد )

ناول”بہاؤ” کا بنیادی موضوع تو وادی ِ سندھ کی قدیم تہذیب ہے  جوکہ ایک مرکزی کہانی ہے مگر اس مرکزی کہانی کو مکمل اور بامعنی بنانے کے لیے بہت سی ضمنی کہانیوں کا سہارالیا گیا ہے۔ناول میں ایک مکمل تہذیب دکھائی گئی ہے اس لیے اس تہذیب کو تمام پہلوؤں کومدِنظر رکھا گیا ہے ۔جس کے لیے مختلف چھوٹی چھوٹی کہانیاں جن میں دریاکے بہاؤ اور خشک ہونے کی داستاں،کاشت کاری ،طرزِ بودوباش،رہن سہن کے طورطریقے ،مال مویشی  اور اُن سے جڑی داستاں، رسم ورواج ،خدااور مخلوقِ خدا کاتعلق،توہمات کاذکر،دیہی طرزِ زندگی اور اس سے متعلقہ مذہبی،سماجی اور معاشی رسم ورواج پر مبنی کہانیاں مرکزی کہانی کو مکمل اور مفصل بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔تارڑ ایک عمیق اور گہرا مشاہدہ وتجربہ رکھنے والے تخلیق کار ہیں لہذا انھوں نے کہانیوں کی بُنت میں اس قدر محنت سے کام لیا ہے کہ اُن کی کہانیاں اور کہانیوں سے جڑے واقعات میں ایک مضبوط اور گہرا تعلق پیدا کیاہے تاکہ کوئی واقع یا کہانی اضافی یا فالتو نظر نہ آئے۔اگرمرکزی کہانی اور ضمنی کہانیوں میں ربط اور تعلق نہ ہوتو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ تخلیق کار نے بھرتی سے اپنی تخلیق کا پیٹ بھرنے کی کوشش کی ہے مگر "بہاؤ” کوپڑھنے سے ایک بار بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اس میں کوئی اضافی چیزہے بلکہ اس میں سے کسی واقع،کہانی ،اقتباس یاایک جملے کو نکالنے سے بھی کمی کمی اور ادھورا پن نظر آئے گا۔

ناول کے عنوان اور موضوع میں اس قدرمماثلت ہے کہ دونوں کوایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔کیوں کہ اس میں دریاکے پانی  کا بہاؤ،زندگی اور متعلقاتِ زندگی کا بہاؤاور لوگوں کے آنے جانے کا بہاؤموضوع ِ بحث ہے۔لفظ بہاؤ جو کہ ناول کا عنوان ہے سے پورے ناول میں بہاؤ کی سی کیفیت پیدا کردی گئی ہے جو تارڑ کی فکری وفنی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔بہاؤ ناول ایک معدوم ہوتی اور مٹتی ہوئی تہذیب کی آخری آوازہے جواسی تہذیب کی زبان سے قاری سے ہم کلام ہے ۔سوکھتے،خشک ہوتے ،ریت ہوتے دریاکی داستان ہے۔یہ ایک ایسے دریاکی داستان ہے جوآہستہ آہستہ خشک ہورہا ہے، جس میں آئے دن ،آئے سال پانی کے بہاؤمیں کمی واقع ہورہی ہے۔اور دریا کے کنارے آباد لوگ پریشان ہیں کہ دریاسوکھ رہا ہے جس سے اُن کی زندگی اور متعلقاتِ زندگی خطرے میں ہے ۔قدیم دورمیں لوگ دریاؤں کے کنارے رہتے تھے کیوں کہ وہاں پانی وافر مقدارمیں میسر ہوتا تھا ۔زندگی اور ضروریات زندگی کے لیے پانی اہم ضرورت ہے اس لیے لوگ دریاؤں کے کنارے بسا کرتے تھے اور جتنی قدیم تہذیبوں کے آثارملے ہیں وہ دریاؤں کے کنارے آبادتھیں ۔یہ بستی بھی دریائے سرسوتی کے کنارے آباد تھی اوران کی زندگی کادارومدار دریاکے پانی پرتھا ۔اب جب کہ پانی خشک ہورہا تھا تو وہ لوگ پریشان تھے کہ ان کی فصلیں ،جانور اور وہ خود پانی کے بغیرکیسے جی پائیں گے ۔مگراس سب کے باوجود اُن میں اُمید کی کرن تھی اور وہ پانی آنے کے انتظار میں تھے ۔ایک اقتباس دیکھیے جس میں وہ پانی آنے کا انتظارکررہے ہیں ۔

"دھکڑ دھکڑ کی آوازیں دور ہورہی تھیں اور ہولے ہولے دور ہوگئیں۔سروٹوں کے اوپر دھول اٹھ رہی تھی۔پاروشنی نے ایک بار پھر پانی کے بہاؤ پر اپنا کان لگایااور اُدھردیکھا جدھر سے جھاگ آیا کرتی تھی اور جدھر سے دریا کے بولنے کی آواز آنی چاہئیے تھی۔”(3)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن میں پانی کے آنے کا کس شدت سے انتظار تھا۔وہ پانی نہ آنے پر کتنے اداس،پریشان اور غم زدہ تھے مگر اس سب کے باوجود وہ مایوس اور ناامید نہیں تھے بلکہ ایک امید اور انتظارمیں تھے۔اُن میں زندہ رہنے کی خواہش ،تمنا،آرزو اور تڑپ موجود تھی ۔وہ زندگی سے تنگ آ کر خود کشی نہیں کرنا چاہ رہے بلکہ جینے کی تمنا کررہے ہیں ۔اب دیکھتے ہیں کہ مستنصر حسین تارڑ کا ناول بہاؤ اپنے عنوان اور موضوع  ومواد کی طرح قارئین کو کس طرح اپنے سحراور بہاؤ میں لاتاہے۔ (یہ بھی پڑھیں نذیر احمد کا ناول ایامیٰ اور نو آبادیاتی جدیدیت – پروفیسر ناصر عباس نیرّ )

اب ناول ‘بہاؤ’ کا فکری و فنی جائزہ ناول کی شعریات کے تناظر میں لیتے ہیں کہ آیا تارڑ کا مذکورہ ناول شعریات ناول پر پورا اترتا دکھائی دیتا ہے ؟اگر شعریات پر پورا اترتا ہے تو کن کن حوالوں سے اور کیا کیا سقم رہ گئے ہیں۔جن شعریات کے تناظر میں دیکھا جائے وہ کونسی شعریات ہیں۔ناول کی شعریات یا ناول کے بنیادی عناصر کے حوالے سے ڈاکٹر نسیم عباس ساحر اپنی کتاب "انتقاد اردو فکشن” میں یوں رقم طراز ہیں۔

"ناول کے بنیادی عناصرپلاٹ،کردار،مکالمہ،منظر نگاری اور اسلوب ہیں۔”(4)

ان عناصر کے پیش نظر "بہاؤ” کا جائزہ لیتے ہیں۔

پلاٹ ناول کا بنیادی جزو ہے ۔اس سے مراد واقعات کی حسنِ ترتیب ہے ۔ پلاٹ واقعات کوجوڑنے اور اُن میں ربط وتعلق پیدا کرتا ہے۔آغاز،وسط اور انجام کے اجزا سے واقعات کی منطقی ترتیب وقوع پذیر ہوتی ہے ۔جس سے واقعات میں ایک تعلق اور تسلسل برقرار رہتاہے۔مستنصرحسین تارڑ نے "بہاؤ”کے پلاٹ میں بڑی سمجھ داری اور دانش مندی سے کام لیتے ہوئے واقعات کومنطقی طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ ایساجوڑا ہے کہ تمام ضمنی واقعات ،مرکزی کہانی کےساتھ اس طرح جڑے نظرآتے ہیں کہ اُن کوایک دوسرے سے جداکرنابہت مشکل ہے ۔اوراگراُن کوجداکربھی لیاجائے تونہ مرکزی کہانی نامکمل اورادھوری لگے گی کیوں کہ ضمنی واقعات اُس کو ایک مکمل کہانی کاروپ دئیے ہوئے ہیں ۔یہ کسی تخلیق کار کی محنت،لگن اور اپنے فن سے گہری دل چسپی کامنہ بولتاثبوت ہوتاہے کہ وہ کوئی اضافی یافالتوچیز زیرِبحث نہ لائےاورتمام واقعات کوایک لڑی میں پررُوکرپیش کرے۔ ناول کا پلاٹ افسانے کی طرح سادہ نہیں بلکہ پچیدہ پلاٹ ہوتا ہے کیوں کہ اس میں ایک طویل کہانی اوراس سے جڑی چھوٹی کہانیاں شامل ہوتی ہیں اس لیے اس کے لیے سادہ پلاٹ ناممکن ہے ۔ناول "بہاؤ”کا پلاٹ بھی پچیدہ پلاٹ ہے مگر مصنف نے اس میں وحدت ِ تاثراس طرح پیدا کی ہے کہ وہ پچیدہ کی بجائے سادہ پلاٹ نظر آتا ہے۔اور ناول کوشروع سے آخرتک پڑھنے سے وحدتِ تاثر ٹوٹنے نہیں پاتا۔عموماَ ناولوں کے پلاٹ ایسے پچیدہ اور ماٹھے ہوتے ہیں کہ ناول کے شروع سے جو تاثربنتاہے درمیان میں وہ بھول چکا ہوتاہے اور مکمل کرنے پرپہلا تاثربالکل غائب ہوچکا ہوتاہے مگر”بہاؤ” کوشروع سے آخرتک پڑھنے سے وحدتِ تاثر قائم رہتاہے جواس کے مضبوط ،جان داراور بہترین پلاٹ کی وجہ سے ہے۔ (یہ بھی پڑھیں محبت مردہ پھولوں کی سمفنی” کا جمالیاتی جائزہ – نثار علی بھٹی)

ناول کی تکنیک بھی ناول کومعیاری بنانے میں اپنا کرداراداکرتی ہے۔تکنیک اور تخلیق کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ہرتخلیق کی تکنیک،ایک ڈھانچے اور سانچے کاکام کرتی ہے۔ناول بھی ایک تخلیق ہے لہذااس کی بھی کچھ تکنیک ہیں جوناول کو ایک شکل دیتی ہیں ۔ناول کی تکنیک کے حوالے سے ڈاکٹر محمداحسن فاروقی اپنے ایک مضمون "ناول کی ہئیت” میں رقم طرازہیں ۔

"ناول میں زندگی پیش کرنے کے دو خاص طریقے ہوسکتے ہیں جواپنی جگہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ایک مصورانہ(Panoramic)طریقہ جوٹالسٹائی کا ہے اور دوسرامنظریہ (Scening)طریقہ جوفلابیرؔ کا ہے۔”(5)

احسن فاروقی نے جن دوتکنیک کاذکر کیا ہے ان کو مدِنظر رکھتے ہوئے اگر”بہاؤ” کی تکنیک کودیکھا جائے تووہ منظریہ تکنیک ہے ۔تارڑاس بستی اور تہذیب کے مناظر پیش کرتے ہیں اور وہ منظرپیش کرکے خودنظرنہیں آتے بلکہ قاری کواُن مناظر میں چھوڑدیتے ہیں اور قاری ان مناظرمیں ایسا گم ہوجاتا ہے کہ اس کووہ سب کچھ سامنے ہوتانظر آتاہے ۔وہ اس کہانی کاخود کو بھی کردارسمجھ کراس میں اتناگم ہوجاتا ہے کہ اس کے سحرسے نکلنا مشکل ہوجاتاہے اور وہ پوراناول پڑھے بغیر نہیں رہ پاتا۔منظریہ تکنیک کے ذریعے ناول میں دل چسپی پیداہوتی ہے ۔ایک کے بعددوسرامنظر دیکھنے کی خواہش پوراناول پڑھے بغیر چین نہیں لینے دیتی۔منظرنگاری کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔

"لکڑی کے سانچے جن میں دس اینٹیں ایک بار بنتی تھیں بڑے بھاری تھے ۔ڈروگا اس سانچے کو گارا ڈالنے والے کے سامنے رکھتا اور جونہی وہ کسی سے گارا اٹھا کر  سانچے میں بھرتا تووہ اسے دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کر بھاگتا ہوااُس میدان کی طرف جاتا جہاں دھوپ میں ان گنت اینٹیں سُوکھتی تھیں ۔وہاں پہنچ کروہ بھاری سانچے کو اُلٹا کر اُسے دھچکا سا دیتا اور پھر اٹھاتا تودس اور گیلی اینٹیں دھوپ میں سوکھنے لگتیں ۔وہ سانچے کواٹھا کر سرپر رکھتا اور دوڑتا ہواواپس آتا۔یہاں وہ سانچے کو ریت کے ایک ڈھیر پررکھ کر اپنی ہتھیلیوں سے ریت سمیٹ سمیٹ کر اُس میں بھرتا اور پھر فوراَ ہی اسے الٹا کر خالی کردیتا ۔یوں اینٹوں کے سانچوں میں گیلی لکڑی پرتھوڑی سی ریت لگ جاتی اور جب گارا اُن میں ڈالا جاتا تووہ لکڑی کے ساتھ چمٹنے کی بجائے پوری کی پوری اینٹ کی شکل میں آرام سے باہر آجاتا۔”(6)

منظریہ تکنیک کومزیدنکھارافسانوی زبان وبیان اور ڈرامائیت  دیتی ہے ۔بہاؤ ناول کی تکنیک نے بھی اس کی کہانی کو خوب صورت ،توانا،جان دار اور متحرک بنا دیا ہے ۔جس وجہ سے ناول کی سحر انگیزی میں مزید اضافہ ہواہے اور اس کا اثرتادیر باقی رہتا ہے کیوں کہ وہ منظر کاقی وقت تک قاری کو اپنے سحر میں رکھتے ہیں اور قاری اس بستی میں خود کو گھومتے محسوس کرتا رہتا ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں محبت مردہ پھولوں کی سمفنی” کا جمالیاتی جائزہ – نثار علی بھٹی )

کردارنگاری بھی ناول کا ایک اہم جزوہے ۔کرداروں کے ذریعے کہانی چلتی ہے ۔جس ناول کے کردارجتنے متحرک ،جان دار اورناول کی کہانی کے مطابق ہوں گے وہ ناول اتناپرکشش اورمعیاری ہوگا۔ کردار کہانی میں جان ڈالتے ہیں اگر کرداروں میں خود جان نہ ہوتو وہ کہانی میں خاک جان ڈالیں گے ؟   وہ تو الٹا کہانی کو کمزور،سست،ماٹھا اور ڈھیلا کریں گے ۔کردارجان دارہوئے تو کہانی میں تحرک،چستی ،پھرتی اورروانی نظرآئے گی جو بہترین کہانی کا طرہ امتیاز ہے ۔

ناول "بہاؤ” کا مرکزی اور مضبوط  کردار پاروشنی ہے۔اس کے ساتھ کچھ ذیلی کردار بھی ہیں جن میں چیوا، ماتی، سمرو، ورچن، مامن ماسا،پکلی،مندرا،ماتی،کومی،گجرو،دھروا،جبو،سکھی،بوٹا،ڈروگا اورپورن شامل ہیں ۔ہرکرداراپنی ایک خاص پہچان اور شناخت رکھتا ہے ۔ناول کا مرکزی کردار پاروشنی ایک دانش ور کا کردار ادا کرتی ہے ،توورچن کے اندر ایک سیاح موجودہےجواسے ایک جگہ سکون سے رہنے نہیں دیتا،پکلی ایک ظروف سازہے،توسمرو ایک کسان ہے۔

تارڑ نے ناول کے کردار وں کواس عہد کے مطابق  بنا کرپیش کیا ہے جوہرکردار کے نام ،پیشے،مکالمے اور طرزِ زندگی سے دکھائی دیتا ہے ۔ تارڑ نے آج کے کرداروں  کوآج سے پانچ ہزارسال قبل کے کردار بنا کرپیش کیا ہے ۔ناول کے مرکزی کردارپاروشنی کے حوالے سے اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے  ہیں ملاحظہ ہو۔

"پاروشنی ایک ایسی لڑکی تھی ،جو بہت خوب صورت تھی۔میرے اور اس کے درمیان ایک رشتہ تھا ۔Understandingکارشتہ،یااور محبت کا رشتہ کہہ لیں ۔پاروشنی اسی کا سراپا ہے ۔چال ڈھال ،جسمانی خطوط میں نے وہاں سے لیے ،مگر میں اسے پانچ ہزار سال پیچھے لے گیا۔”(7)

تارڑ نے کرداروں کواس تہذیب کے مطابق بنا کرپیش کیا ہے ۔اگروہ کرداروں کواس تہذیب میں نہ ڈھالتے توکہانی میں وہ لطف پیدا نہ ہوتا جواب موجود ہے ۔انھوں نے اس تہذیب کی زبان کا کھوج لگایا اور وہی زبان ناول میں استعمال کی جوتقریبااسی تہذیب کی محسوس ہوتی ہے ۔اورکرداروہی زبان بولتے محسوس ہوتے ہیں ۔ تارڑکیوں کہ ایک دیہی بستی کی کہانی بیان کرتے ہیں لہذاانھوں نے کرداروں کو بھی دیہی ماحول کے مطابق بنا کرپیش کیا ہے ۔

کردارنگاری میں کرداروں کے شخصی خاکے بھی ملتے ہیں جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کردار ہمارے سامنے کھڑا ہم سے گفتگو کررہا ہے ۔جس سے اجنیبت کی بجائے اپنائیت کا عنصر پیدا کیا گیاہے۔ جب کسی تخلیق میں اپنائیت کا عنصر پیدا ہوجائے تو وہ تخلیق پُرتاثیر اور سحرانگیز ہوجاتی ہے جوقاری کو بوریت سے بچاکر مسرت وشادمانی سے ہم کنار کرتی ہے ۔شخصی خاکوں کے ذریعے اپنائیت اس قدر ہے کہ قاری اس تہذیب میں زندگی گزارتا خود کو محسوس کرتاہے۔پاروشنی کا شخصی خاکہ ملاحظہ ہو جس میں مکمل جزئیات نگاری سے کام لیتے ہوئے مختصر مگرجامع اندازمیں اس کی تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے ۔جس سے پاروشنی ہمارے سامنے کام کاج کرتی نظر آتی ہے ۔

"پاروشنی اپنی نسل کا خاص قد بت لیے ہوئے تھی۔ہلکا سیاہی مائل رنگ،گھنگریالے اور بھورے بال جو ایک ستھرے گھونسلے کی طرح  سر  پر رکھے ہوئے تھے۔بھنویں اوپر کو اٹھی ہوئیں،ناک چوڑی مگر اونچی،جبڑا ذرا آگے کو نکلتا ہوا جیسے بھوکے جا نور کا ہوتا ہے۔قد بت ایسا  کہ کنک کی فصل میں چلتے ہوئے پہلی نظر پر دکھائی دے۔اور سروٹوں میں گم ہو جائے۔ہونٹ موٹے اور بھرے بھرے اور کولہے پھنیر سانپ کے پھیلے ہوئے پھن کی طرح”(8)

ناول "بہاؤ” کے کرداروں کو دیکھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ تمام کردار متحرک ،جان داراور اپنے خاص پیشے سے وابستہ ہیں ۔کوئی کردارایسا نہیں جو اضافی یا فالتو ہو ۔تارڑ نے ناول "بہاؤ” مختصرکرداروں کے ذریعے اس پوری تہذیب کی عکاسی جس خوب صورت انداز سے کی ہے یہ انھی کا خاصہ ہے وگرنہ چھوٹے اور کمزورتخلیق کار ایک افسانے کے لیے اتنے کردار لیتے ہیں کہ کہانی کرادروں میں نظر نہیں آتی۔ کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ کس کردارکا کہانی میں کیا کردار ہے اور اس کو کہانی میں کیوں دکھایا گیاہے ؟مگرتارڑکے تمام کرداراپنا کام کرتے نظر آتے ہیں جو اُن کے اعلی ٰ تخلیق کارہونے کا ثبوت ہیں ۔چندکرداروں کو اپنے مخصوص فن کے مظاہرے کرتے دیکھیے۔ (یہ بھی پڑھیں غلام باغ اور بدلتی ہوئی سماجی صورتحال – سیدہ ہما شیرازی )

پکلی ایک ظروف سازہے اور وہ مٹی کے برتنوں پر ظروف سازی کے لیے کیاہتھیار استعمال کرتی ہے ،ملاحظہ ہو۔

"تب سمرو نے دیکھاکہ اُس کی مٹھی ایک گیلی اور چھلی ہوئی ٹہنی پر بند ہےجسے وہ کچھ چھپا کر پیٹھ پیچھے رکھتی ہے ۔”یہ بوٹا کیسا ہے َ” ،”پکلی کے لیے ہے” وہ شتابی سے کہنے لگی ،مورتیں اُلیکنے کے لیے ٹہنی ہے ۔”(9)

ورچن ایک سیاح ہے اور وہ ایک جگہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتا۔وہ ادھرادھرجاتاہے ،اس حوالے سے دیکھئیے۔

"ورچن ایک بار پھر بستی چھوڑنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔ہم کوئی رُکھ(درخت) ہیں کہ ایک جگہ پرجمے رہیں ،کچھو ہیں کہ دریا میں سے رینگ کر کنارے کے سروٹوں میں اور پھرواپس دریا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ ہری یوپیا جانا چاہتا تھا۔”(10)

پاروشنی ایک گھریلوخاتون ہونے کے ساتھ ساتھ دانش وراور عقل مند کردارکے طورپرلائی گئی ہے ،اس کی عقل ودانش اور خانہ داری کااندازایک ہی اقتباس میں ملاحظہ ہو۔

"بستی میں دھول بہت اوپر تک جاتی ہے ۔۔۔۔۔آخر میں ورچن نے کہا۔کس بستی میں ؟ پاروشنی سبز توریاں ہانڈی میں ڈال رہی تھی تویہ سن کر کہ بستی میں دھول بہت اوپر تک جاتی ہے وہ ٹھٹھکی اور بولی۔اس بستی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔جسے ہم نے آج تک کوئی نام نہیں دیا۔۔۔۔۔۔ڈروگا کہتا تھا مینہ بہت کم آتا ہے اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔”(11)

ناول "بہاؤ” کی کردارنگاری، ناول  کے پلاٹ،کہانی اور بنت کے ساتھ اپنی جڑت کی عمدہ مثال ہے۔ تارڑ نے نہ کوئی اضافی یا فالتوکردارلانے کی کوشش کی ہے اور نہ کم ۔اگراضافی کردارہوتے توبھی کمزور  پہلو نکلتا اوراگرکہانی سے کم کردارہوتے تب بھی کمزور پہلو ہوتا مگر انھوں نے کہانی کے مطابق کردارلاکر،ان کو متحرک دکھاکر اوران سب سے بڑھ کرتہذیب کے مطابق پیش کرکے ناول کو مزید جان دار بنادیا ہے۔

کرداروں سے جڑی چیز مکالمہ نگاری بھی ناول کا ایک جزوہے ۔کیوں کہ ناول زندگی کی ایک چلتی پھرتی تصویر ہوتا ہے ۔جس میں زندگی اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ نمایاں ہوتی ہے ۔زندگی انسان کے دم سے ہے اورانسان مکالمے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے اور معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے اسے مختلف انسانوں سے واسطہ پڑے گا۔جب اس کودوسرے انسانوں سے واسطہ پڑے کا تواس کوکوئی ہتھیارچاہیے ہوگاجس کے ذریعے وہ اپنامسئلہ یا مدعا دوسرے شخص کے سامنے رکھ سکے،وہ ہتھیارزبان ہے اور زبان کی تقریری صورت ،تقریری صورت میں مکالمہ ہوگا ۔کیوں کہ جب کسی سے کوئی بات کرنی ہے تواس کا جواب بھی دیاجائے گا جودولوگوں میں گفتگوکا تبادلہ ہوگا جسے مکالمہ کہا جاتا ہے ۔

بہاؤ ناول بھی ایک تہذیب کا آئینہ دار ہے جس میں ایک پوری تہذیب دکھائی گئی ہے اور جس میں جیتے جاگتے لوگ موجود ہیں ۔وہ آپس میں مکالمہ بھی کرتے ہیں ۔دیکھتے ہیں کہ تارڑ نے اُن کے درمیان کس طرح کی گفتگو دکھائی ہے ۔بہاؤ ایک دیہی زندگی کی پیش کش ہے جس میں اُن پڑھ لوگ موجود ہیں ۔دیکھتے ہیں کہ کیا کرداروں کی ذہنی،علمی،سماجی اور دیہی ماحول کے مطابق گفتگو ہے یا اس سے مختلف ،چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں ۔

1۔”یہ کون بولا ؟ ماسا نے کان کھڑے کردئیے،کون بولا؟

میں اور کون؟ ایک رکھ بولا،میں میں ۔۔

۔دوسرا کہنے لگا،،اور میں ۔۔۔۔ایک پیپل کے پتے کھڑکے۔”   (12)

2۔ "پانی کا بوٹا ہے؟ سمرو نے آگے ہوکرپھر پوچھا۔

نہیں ۔پاروشنی اٹھنے لگی۔

ورچن پتا نہیں آئے کہ نہ آئے۔

پاروشنی بیٹھ گئی۔

یہ منکا میں نے ابھی بنایا ہے ۔تجھے چاہیے تو رکھ لے۔”(13)

تارڑ نے کرداروں کے حساب سے اُن سے مکالمے کروائے ہیں ۔ورچن سیاح ہے تواس کی گفتگو سیاحت کے حوالے سے ہوگی ۔پاروشنی ایک خاتونِ خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ عقل مندی کی علامت ہے تواس کی گفتگومیں یہی رنگ نمایاں ہوگا،پاروشنی ناول کا مرکزی کردارہے توزیادہ گفتگو کرتے بھی اسی کودکھایا گیاہے اور تمام کرداروں پر اس کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ پاروشنی ایک خوب صورت لڑکی کے کردارکے طور پرپیش کی گئی ہے جس سے ہرکوئی اپنی خواہش کا اظہار چاہتا ہے تواس حوالے سے سمروکی گفتگو دیکھی جاسکتی ہے۔سمروایک کسان اور ٹھرکی مزاج شخص دیکھا گیا ہے لہذااس کی گفتگوکھیتی باڑی سے متعلق ہوگی یا پاروشنی سے چھیڑ خوانی پرمبنی نظر آئے گی ۔

مختصریہ کہ کردار اپنے پیشے اور شخصیت کے مطابق گفتگو کرتے دکھائے گئے ہیں ۔کہیں غیر ضروری مکالمہ نظر نہیں آتا۔صرف ضرورت کے تحت آپس میں گفتگو کرتے کرداردکھائے گئے ہیں ،جواس چیز کی طرف اشاراہے کہ تمام کردار اپنے کام کاج میں مصروف ہیں۔اگرفضول کی مکالمہ نگاری ملتی تو اس سے یہ کمزوری پیدا ہوسکتی تھی کہ اس میں کردار اضافی ہیں یاکرداروں کو کوئی کام کاج نہیں اور صرف باتوں سے کام لینااُن کی عادت ہے مگر تارڑ نے ان تما م پہلوؤں کا خیال رکھتے ہوئے مکالمات پیش کیے ہیں۔(یہ بھی پڑھیں اردو ناول اور استعماریت:انیسویں صدی کے ناولوں کا مابعد نو آبادیاتی مطالعہ – حنا اصغر )

"بہاؤ’کی منظرنگاری اور تصویرکشی اتنی عمدہ ہےکہ آغازہی سے قاری کواپنے ساتھ محو کرلیتی ہے اور قاری اپنے آپ کو اُس قدیم بستی جو آج سے تقریباَ پانچ ہزارسال قبل ختم ہوگئی تھی کا مکیں بن  کر خودکواس بستی کے گلی ،کوچوں ،کھیت،دریا،جنگل اور ریگستاں میں گھومتا محسوس کرتا ہے۔تارڑ نےجہاں اُس کی تصویر کشی کی ہے ساتھ ہی اس دور کے لوگوں کے رہن سہن،رسم ورواج،عادات اور طورطریقوں کو بھی اس ڈھنگ اور سلیقے سے پیش کیا ہے کہ اُن میں اجنبیت کی بجائے اپنائیت نظر آتی ہے ۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آنکھوں کے سامنے موجودہیں اور اپنے کام میں مصروف ہیں ۔ایسی اپنائیت پیدا کی گئی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ اُن کا طرزِ زندگی ،ہمارااپناجیون ہے ۔اُن کے طور طریقے ،ہمارے اپنے ہیں ۔دیہات کے اندرآج بھی وہی رسمیں موجود ہیں جوآج سے پانچ ہزار سال قبل کی ایک دیہی بستی میں موجود تھیں ۔رسم ورواج کی منظرنگاری اورتصویرکشی کے حوالے سےچند مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔

برتن پرظروف نگاری کارواج آج سے پانچ ہزارسال قبل موجود تھا اورآج بھی موجود ہے ۔اس حوالے مثال ملاحظہ ہو۔

"سمرو نے پتھرکے ایک ٹکڑے کوآگ پانی میں ڈبویا اور منکے کے ایک کونے میں ایک شکل بنادی ۔اب جو کوئی بھی دیکھے گا وہ جان جائے گا کہ یہ سمرولکھا ہے اور اسی نے یہ منکا بنایا ہے۔”(14)

عمارتوں کی منظرنگاری کا نمونہ پیشِ خدمت ہے۔

"وہ عمارتوں کے پچھواڑے سے نکل کر گلی میں آئے ،انھیں پہلی گلی کی طرف جانا تھا اور وہ دونوں چپ چلتے تھے اور اُن کے ساتھ گھوڑے کے چارط سُم چلتے تھے ۔پہلی گلی کے دائیں ہاتھ پر تنگ اور نیچی چھتوں کی وہ کوٹھڑیاں تھیں جن میں باہر سے آنے والے رات گزارتے تھے اور ان کے ویہڑے میں کئی بڑے بڑے تنور گرم ہوتے تھے اور ان میں روٹی پکتی تھی۔یہ سرائے مردہ آدمی کی گلی کے بائیں ہاتھ پر تھی ۔وہ تینوں اُدھر سے گزرے اور پھر پہلی گلی میں سے ہوکر اس گھر کے اندر چلے گئے جس کا دروازہ موہنجو کے تما م گھروں کی طرح پچھواڑے میں تھا اور پہلی گلی کی طرف اس کی سیدھی دیوارٰیں تھیں جن میں کوئی کھڑکی نہ تھی اور وہ بالکل سیدھی چلی جاتی تھیں اور ان کے آخر میں روشنی کے لیے دوتین ترچھے سوراخ تھے۔”(15)

ڈروگاکودریامیں  نہلانے کا منظر ملاحظہ ہو۔

"تجھے اگر ہزار سال اپنے حصے کا پانی نہیں ملا تو یہاں بہت ہے ۔۔۔۔۔جتنا جی چاہے لے۔۔۔۔تمہاری ہزار سال کی میل دھل جائے گی۔۔۔۔چل دریا کے اندر،ناں ۔۔۔۔۔۔ڈروگا دونوں ہتھیلیاں آگے کئے اپنے آپ کو بچانے لگا اور پیچھے ہونے لگا۔۔۔۔تب ان دونوں نے اس کی کچھوں میں ہاتھ دے کر اسے آسانی سے اٹھایا اور کھنچتے ہوئے پانی تک لے گئے۔دیکھو دیکھو۔۔۔۔۔دھیان کرو۔۔۔۔ڈروگا چیخ رہا تھا اس کی حالت دیکھنے والی تھی ۔جیسے کوئی چھوٹا سا بچہ ہو،،دیکھومیں مرجاؤں گا ۔۔۔۔بالکل ڈوب جاؤں گا پورا کا پورا۔۔۔۔درشدوتی میں نہیں ڈوبا تو یہاں ڈوب جاؤں گا۔۔۔ مرجاؤں گا۔”(16)

چیزوں کے بدلے فصل لینے کا رواج تھا اس حوالے سے ایک جملہ ملاحظہ ہو۔

"کنک آنے پریاد رکھنا۔۔۔۔پردیکھ لے چھوٹی جھجھر لے جارہی ہوں اوراسی کو بھر کر کنک دوں گی۔”(17)

جھجھر لینے کے بدلے کنک(گندم) دینے کی بات ہے ۔چیز کے بدلے اناج کا رواج تھاکیوں کہ بستی کے اکثرلوگوں کا پیشہ زراعت تھا اورجو ہنرمند افراد تھے وہ پورا سال اُن کی گھریلو اور زرعی ضروریات پورا کرتے تھے جس کے بدلے وہ فصل وصول کرتے تھے۔شایداس دورمیں کرنسی ،نوٹ یاروپے پیسے کا تصور تک نہ تھاکیوں کہ پورے ناول میں اس کا کہیں ذکرتک نہیں لہذافصلی کاروبار تھے اور اسی پرضروریات زندگی کا انحصار تھا۔آج لمحہ موجود میں جب روپے ،پیسے کا عام چلن ہے اور روپے کے علاوہ گزاراتک نہیں ،مگرآج بھی دیہات میں وہی طریقہ کارمستعمل ہے۔ہنرمندافرادساراسال زمین دارکے کام کرتے ہیں اور سال میں دودفعہ یا ایک دفعہ فصل لیتے ہیں جس عمل کوہمارے علاقے میں سیپ اور کام کرنے والے کوسیپی بولا جاتاہےاور جن کا کام کرتا ہے وہ اس کے پرہب کہلاتے ہیں ۔اسی طرح دوکان دار ساراسال ادھاردیتے ہیں اور فصل پر تیار فصل اٹھا لیتے ہیں ۔مٹی کے برتن بنا کر فروخت کرنے والے آج بھی برتن کے بدلے وہی بھرابرتن گندم وصول کرکے برتن فروخت کرجاتے ہیں ۔لہذاآج بھی جب اس ناول کا مطالعہ کیا جاتا ہے تواس میں وہی اپنائیت محسوس ہوتی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ہم اسی تہذیب کے باسی ہیں۔پورے ناول میں جگہ جگہ تصویر کشی اور منظر نگاری ملتی ہے جو ناول کے کرداروں اور اس تہذیب  کو متحرک ،جان دار اور چلتا پھرتا دکھاتی ہے،تبھی قاری اس کے سحر سے نکل نہیں پاتا۔منظر نگاری وتصویر کشی کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو۔

"پاروشنی بولی نہیں ، دیوار کی طرف گئی اور ایک گٹھا اٹھا کر باڑے کے اندر لے گئی ۔پیشاب اور لید میں لتھڑے ہوئے بیلوں نے چارہ لانے والے کی چال اور ڈھنگ میں فرق جانا تو موندھی ہوئی آنکھوں کو کھولا اور پھر اپنی دُمیں باریک لید میں چلا کر پہلے سے بھی زیادہ چوڑے ہوکر جُگالی کرنے لگے ۔کل چھ گٹھے تھے اور پاروشنی انھیں ڈھوتے ہوئے یوں نڈھال ہوئی کہ باڑے میں جولید اور پیشاب کی بُو تھی وہ اس کے اندر اتھل پتھل کرتی تھی۔”(18)

چارے کے گٹھے اٹھا کر رکھنے ،بیلوں کے تاثرات اور ان کے نیچے زمین کا منظر،گٹھوں کی تعداداوران کواپنی جگہ رکھنے کے بعد پاروشنی کی صورتِ حال کا منظرجس طرح پیش کیا گیا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے پاروشنی یہ سب کچھ کررہی ہے ۔جس وجہ سے ناول کی بنت میں جادوئی سحر طاری ہوتا ہے جوقاری کو اپنے سحر سے نکلنے نہیں دیتا اور جب تک اس کی مکمل ورق گردانی نہ کرلی جائے چین نہیں آتا۔یہ سارامنظر مصنف کے گہرے اور مثالی مشاہدے کا منہ بولتا ثبوت ہے وگرنہ اتنی چھوٹی چھوٹی کیفیات کی تصویر کشی کرناآساں نہیں ہے ۔یہی تصویرکشی و منظر نگاری ناول میں دل چسپی کا عنصر پیدا کرتی ہے اورقاری اس کے سحر میں ڈوبتا چلا جاتا ہے ۔

تارڑ کا یہ ناول”بہاؤ” ایک پوری چلتی پھرتی تہذیب ہے ۔جس کے اندر زندہ رہنے کی خواہش ہے ۔وہ پانیوں کے نہ آنے سے گھبرا تو گئے ہیں مگرمایوس نہیں ،وہ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ کائنا ت کا نظام ازل سے چل رہا جوابد تک جاری رہے گا ،کل جو چیزیں تھیں ،آج نہیں ہیں اور اگر آج ہم ہیں توآنے والے کل میں ہماری جگہ بھی نئے چہرے آجائیں گے مگر یہ نظام یونہی چلتا رہے گا ۔اس بات کا اُن لوگوں کو فہم تھا۔جس کا اشاراناصر کاظمی نے اپنے ایک شعر میں کیا ہے۔

؎ دائم آباد رہے گی دُنیا

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا(19)

ناول "بہاؤ” سے اسی فکرکی منظرکشی پیش ِ خدمت ہے ۔

” ہر پاسے دن رات کا عجب چکر ہے ۔نہ کوئی شے جاتی ہے نہ آتی ہے ۔جو ہوتی ہے وہی رہتی ہے یااُس کی جگہ پراسی طرح کی کوئی اور آجاتی ہے ۔رکھوں میں مور ہیں ،ہرن اور سیہے ہیں اور بھینسیں ہیں اور ہمیش سے ہیں ۔ادھر بستی میں ہم سب ہیں اور زمانے سے ہیں ۔ایک جاتا ہے تو دوسراآجاتا ہے ۔حیاتی کا یہ چکر کہاں سے چلا یہ پتا نہیں پر یہ پتا ہے کہ یہ ختم نہیں ہوگا ،بیج اسے آگے آگے لیے جاتا ہے ۔دریا کے پانی بھی ہمیش اتنے ہی رہتے ہیں ،ختم نہیں ہوتے،کم ہوجاتے ہیں اور پھر اتنے ہی ہوجاتے ہیں تو پھر حیاتی تو ہمیش کی ہوئی یہ مٹی تو نہیں ہوتی ۔رہتی ہے وہیں پر ۔اور پانیوں میں بسنے والے بھی اتنے ہی رہتے ہیں ،مچھلیاں ،کچھو،مگرمچھ اور دوسرے۔مچھلیاں جو پکلی اپنے گھڑوں اور جھجھروں پر اُلیکتی ہے اور مگر مچھ جو میں سمرو انھی مہروں پر بناتا ہوں ۔میں بناتا ہوں یا وہ جنور خود بنتے ہیں ؟ میں اگر نہ ہوں تو بھی بنتے جائیں گے۔”(20)

ناول "بہاؤ” میں منظرنگاری وتصویر کشی سے جس طرح وہ تہذیب چلتی پھرتی دکھائی گئی ہے جودریا کے کنارے آباد تھی اور جس کاانحصار دریا کے بہاؤ اور روانی پر تھااس حوالے سے یہ ناول "بہاؤ” اپنے موضوع ومواد اور اپنی بُنت کاری  کے حوالے سے مجید امجدؔ کی نظم "کنواں ” سے ملتا ہے۔اس نظم میں بھی پانی کے ساتھ زندگی کی ہریالی دیکھائی گئی ہے اور پانی کے ختم ہونے سے زندگی بنجرنظر آتی ہے اس ناول میں بھی یہ سب دکھایا گیا ہے۔مجید امجدؔ کی نظم "کنواں”  سے ایک بند پیشِ خدمت ہے۔

” کنواں چل رہا ہے ! مگر کھیت سوکھے پڑے ہیں نہ فصلیں ،نہ خرمن ،نہ دانہ ،

نہ شاخوں کی باہیں ،نہ پھولوں کے مکھڑے ،نہ کلیوں کے ماتھے،نہ رُت کی جوانی

گزرتا ہے کیاروں کے پیاسے کناروں کو یوں چیرتا تیز ،خوں رنگ،پانی

کہ جس طرح زخموں کی دکھتی تپکتی تہوں میں کسی نیشتر کی روانی

ادھر دِھیری دِھیری

کنوئیں کی نفیری

ہے چھیڑے چلی جارہی اک ترانہ

پُر اسرار گانا”(21)

دونوں میں ایک موضوع کی مناسبت سے جس طرح منظر نگاری سے کام لیا گیا ہے ،اس نے وہ پورے منظر آنکھوں کے سامنے لاکھڑے کیے ہیں ۔جن سے محسوس ہوتا ہے کہ قاری خوداُن مناظر میں شریک ہے اوریہی کسی تخلیق کی اور تخلیق کار کی خوبی ہوتی ہے کہ وہ قاری کوتخلیق کا ایک کردار بنانے کے لیے تخلیق کی اس طرح بُنت کاری کرے کہ قاری پڑھتے ہوئے اس تخلیق میں اتنا محو ہوجائے کہ وہ خود کو اس کا ایک کردار تصورکرے ۔تب جاکر تخلیق ،معیاری تخلیق کے زمرے میں آتی ہے۔ تارڑکا ناول” بہاؤ "اس کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

منظر نگاری وتصویرکشی میں جزئیات کااس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ کوئی معمولی بات بھی رہنے نہیں دی۔اوراس قدیم مٹی میں ملی تہذیب کو لمحہ موجود کی تہذیب کے طورپر پیش کیا ہے ۔

تصویرکشی ومنظرنگاری کے ساتھ ساتھ جزئیات نگاری بھی اس ناول کی اہم خوبی ہے ۔مصنف نے جب بھی کسی منظرکا نقشہ بنایا ہے تواس میں کسی چیز کوچھوڑا نہیں بلکہ اس عمل کومکمل دکھاتے ہوئے تمام جزوکو بطور احسن پیش کیا ہے تاکہ وہ منظریوں لگے جیسے آنکھوں کے سامنے وقوع پذیرہواہے یا ہورہا ہے ۔پاروشنی کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے جس قدر جزئیات نگاری کا خیال رکھا گیا ہے اُس کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔

"پاروشنی اپنی نسل کا خاص قد بت لیے ہوئے تھی۔ہلکا سیاہی مائل رنگ،گھنگریالے اور بھورے بال جوایک ستھرے گھونسلے کی طرح سرپر رکھے ہوئے تھے۔بھنویں اُوپر کو اٹھی ہوئیں،ناک چوڑی مگراونچی،جبڑاذراآگے کو نکلتا ہواجیسے بھوکے جنور کا ہوتاہے،قدبُت ایسا کہ کنک کی فصل میں چلتے ہوئے پہلی نظر پر دکھائی نہ دے اور سروٹوں میں گم ہوجائے ۔ہونٹ موٹےاور بھرے بھرے۔اور کولہے پھنیر سانپ کے پھیلے ہوئے پھن کی طرح۔”(22)

پاروشنی کاحلیہ بیان کرتے ہوئے اس قدر جزئیات نگاری سے کام لیا گیا ہے کہ پاروشنی سامنے کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔جس قدر مصنف نے پورے ناول میں منظرنگاری وجزئیات نگاری سے کام لیا ہے اکتاہٹ کا باعث بن سکتاتھا مگر مصنف نے افسانوی اسلوب کی مٹھاس سے اس قدر سحرپیدا کیا ہے کہ اکتاہٹ کی بجائے دل چسپی کا سماں باندھ دیا ہے ۔درج بالا اقتباس میں پاروشنی کے حلیے کوتشبیعات سے اس قدر لطیف اور سحرانگیز بنادیا ہے کہ قاری اس کے سحرسے نکل نہیں سکتا۔مصنف نے گوشت پوست کے ٹکڑے کو ایک جیتا جاگتا خوب صورت انسان بنا کرقاری کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جواس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سامنے کھڑا نظر آتاہے۔

ایک بھٹے پر کام کرتے مزورپر بات کرتے ہوئے جس قدر جزئیات سے کام لیا گیا ہے اس کی مثال ملاحظہ ہو۔

"ریت کے بغیر گارا اندر ہی رہتا اگر باہر آتا تو اینٹ کی بجائے کیچڑ کی صورت میں گرنے لگتا ۔سووہ سانچے میں ریت بھر کر اسے الٹ کر پھر کسی والے کے سامنے رکھتا جو فوراَ ہی اسے پھر گارے سے بھر دیتا ۔سانچہ اٹھا کر وہ اندھا دھند بھاگنے لگتا۔اینٹیں دھوپ میں الٹاتا ساری ریت بھر کر سانچہ الٹاتا اور پھر ڈروگا ساری حیاتی یہی کرتا رہا۔کبھی کبھار اسے بھٹی پرالاؤ کودھیما رکھنے پر بھی لگا دیا جاتا۔”(23)

ناول ” بہاؤ” میں اس قدر جزئیات نگاری ملتی ہے کہ جہاں بھی تارڑ نے منظر کشی کی ہے اور کوئی منظر دکھایا ہے تواس میں مکمل جزئیات کا خیال رکھا گیا ہے تاکہ کوئی کیفیت رہ نہ پائے ۔اگرکوئی کیفیت رہ جاتی تو وہ کمزور پہلو لگتا اور اس میں ادھوراپن نظر آتا مگر تارڑ نے منظر کشی کے دوران جزئیات نگاری سے کسی چیزکو رہنے نہیں دیا اور تمام کام ہمارے سامنے ہوتے نظر آتے ہیں ۔جن کے بارے میں ہم تفصیل سے بتا سکتے ہیں کہ وہ ایسے ہوا۔یہ تب ہوتا ہے جب ہم نے کوئی کام بڑے غور سے ہوتے دیکھا ہو۔”بہاؤ”کوپڑھنے کے بعداس کے تمام کرداروں کے افعال کواسی طرح بیان کیا جاسکتا ہے ۔یہ ہونا بہترین منظرنگاری میں بہترین جزئیات نگاری کی دین ہے ۔جس نے ناول کی تاثیر کو مزید سحرناک کردیاہے ۔

شعریاتِ ناول میں اسلوب بھی ایک اہم عنصر ہے ۔ناول میں زبان وبیان اور اسلوب کی چاشنی قصے کو مزید چارچاند لگا دیتی ہے ۔زبان کی شستگی ،روانی،برجستگی،حسن آفرینی،محاورات،ضرب الامثال اور تشبیہات واستعارات کہانی میں رنگ بھردیتے ہیں ۔کہانی چاہے جتنی بھی خوب صورت اور مفکرانہ ہو ،جب تک بیان کے لیے خوب صورت الفاظ کوایک منطقی ترتیب سے نہ برتا جائے کہانی میں کہانی پن نہیں رہتا اور اس کی تاثیر کمزور نظر آتی ہے۔کہانیاں یا خیال تو ہرانسان کے ذہن میں پیداہوتی ہیں مگروہ لفظوں کے کھیل سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے اُن کو کاغذ پر انڈیل نہیں پاتے ۔تخلیق لفظوں کا کھیل ہے اور جولفظوں سے کھیلنے کا ہنر جانتا ہے وہ اپنے خیالات کو صفحہ قرطاس پر لا کر تخلیق بنا دیتا ہے ۔اچھی تخلیق کے لیے خوب صورت الفاظ کی بہترین ترتیب لازم جزوہے ۔ تارڑ لفظوں کے کھیل کےایک مایہ نازکھلاڑی ہیں اور لفظوں کو جوڑنے توڑنے کے عمل سے خوب واقفیت رکھتے ہیں جواُن کے ناول”بہاو کے اسلوب سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے۔

ناول کی زبان اس تہذیب کے مطابق استعمال کی گئی ہے تاکہ جس تہذیب کو پیش کیا جارہا ہے زبان بھی اسی کی لگے ۔ایسا نہ ہو کہ تہذیب آج سے پانچ ہزارسال قبل کی بیان کررہے ہیں اور زبان لمحہ موجود کی ۔ اس تہذیب کی زبان تک رسائی کے لیے انھیں کافی تحقیق سے کام لینا پڑا ہوگا ۔تاکہ اس دور کی زبان اور پھر کردار اس زبان میں مکالمہ کرتے دکھائی ۔

اسلوب میں زبان ،زبان کا لہجہ ،محاورات ،ضرب الامثال وغیرہ تمام چیزیں دیکھی جاتی ہیں ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ تارڑ نے کس سلیقے سے اں چیزوں کو برتا ہے ۔ناول میں سےاسلوب کی چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں ۔

  • 1۔ ’’ میں نے تمہیں بتایا نہیں کہ میں اس زمین کا جم پل ہوں ۔میری رنگت ہولے
  • ہو لے بدل جائے گی اور میں تم جیسا ہو جاوں گا ۔‘‘

2۔                 ’’رات کے پچھلے پہر ہوا اُدھر سے آئی جدھر کو سندھو تھا اور سندھو کے پانیوں پر سے آتی ہوا میں پالا بہت تھا ۔اور اس پالے کی کاٹ سے وہ کروٹیں بدلتے تھے اور سوتے نہ تھے ۔‘‘            (24)

اسلوب کی ایک اور مثال ملاحظہ ہوجس میں تشبیہ سے کس قدر جملے میں معنویت پیدا کی گئی ہے ۔

’’نہیں مجھ میں کچھ بھی نہیں ہے ۔میں خالی ہوگئی ہوں جیسے منڈیر پر رکھا بوکا ہوتا ہے ۔‘‘         (25)

اسی طرح شاعرانہ اسلوب کی ایک اور مثال پیشِ خدمت ہے ۔

’’تمہارے بالوں میں سجے پھولوں کے پیچھے شہد کی مکھیاں آتی ہیں اور میں انھیں دیکھ کر جان جاتا ہوں کہ تم آتی ہو ۔اور تمہارے کانوں  کی بالیاں اندھیرے میں بجلی کی طرح چمکتی تھیں اور تمہارے گھنگھریالے بال تمہاری پیٹھ پر آوارہ تھے۔‘‘(26)

طرزِ بیان کو خوب صورت بنانے کے لیےتارڑ نے محاورات سے کام لیتے ہوئے ،اس دور کی اور خاص کر دیہی تہذیب سے جڑے محاورات سے ناول کی کہانی مزید نکھری نکھری نظر آتی ہے ،محاورات کو برتتے وقت تارڑ نے اس بات کا خاص اہتمام کیا ہے کہ دیہی تہذیب کے عکاس محاورات اور دیہی ماحول سے جڑے محاورے برتے ہیں ۔چند معروف محاورات میں تیوڑی چڑھانا،ڈھیم مارنا، آسے پاسے ، ٹھڈے کھا نا، کان پکانا ، چُرمُر کرنا، بھانڈا ٹنڈر، ڈانگ ٹیکنا،چیتر بیتنا اور وساکھ چڑھنا، آرے کی راکھی  اور اوندھی ہونا شامل ہیں ۔

محاورات کے ساتھ ساتھ الفاظ کا چناو بھی دیہی ماحول کا مکمل عکاس نظر آتا ہے جو بہاو کے اسلوب کو چست اور رواں دواں بناتا ہے۔پورا ناول خوب صورت لفاظی کی ایک داستاں ہے مگر چندالفاظ دیکھیں جن میں  کنک،پرالی ،سروٹے ،مہاندرے ،پنڈلیاں اور جسہ وغیرہ خاص کر دیہی ماحول اور طرزِ زندگی کے عکاس الفاظ ہیں ۔

محاورات ،بدیسی الفاظ ،تشبیہات واستعارات اور خالص دیہی زبان کے استعمال نے کہانی کو ایسا روپ دیا ہے جوقاری کو اپنی لپیٹ میں لیے بغیر نہیں رہتا اور اس کے سحر میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اس کے سحر سے باہر نکلنا مشکل لگتا ہے ۔یہ تارڑکی لفظی ہنر مندی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انھوں نے جس تہذیب کو دکھانے کاارادہ کیا اس کو فکروفنی حوالے سے خوب بنا سنوار کر پیش کیا جس سے وہ چلتی پھرتی تہذیب نظر آتی ہے۔

مختصراََ ناول اپنے موضوع ومواد اور اپنی تکنیکی بُنت کے ساتھ ساتھ اسلوبیاتی لہذا سے بھی اہمیت کا حامل ناول نظر آتا ہے ۔تارڑ نے مذکورہ ناول میں اپنے فکری و فنی تجربات کے کھل کر جوہر دکھلائے ہیں ۔جوناول کی بُنت اور منطقی جُڑت سے واضح ہیں ۔موضوع،مواد،عنوان اورکہانیوں میں اس قدر تسلسل و ربط موجود ہے کہ کسی بھی چیزکو دوسری سے جدا کرنا مشکل ہی نہیں بہت مشکل ہے ۔تارڑ کا یہ ناول اپنے فکرو فن کے حوالے سے ایک معیاری اور اہم ادبی شاہکار ہے جس کا اثر اور مانگ تادیر اُردو ادب میں رہے گونجتی رہے گی ۔

حوالہ جات   :

1۔ مستنصر حسین تارڑ سے خصوصی مکالمہ، اقبال خورشید ،کراچی: سہ ماہی اجرا، ۲۹ اپریل ۲۰۱۴ء

2۔ ایضاََ

3۔مستنصرحسین تارڑ،بہاو،لاہور: سنگِ میل پبلیکیشنز،۲۰۰۹ء،ص۲۱

4۔ نسیم عباس احمر،ڈاکٹر،انتقادِ اُردو فکشن،فیصل آباد: مثال پبلشرز،۲۰۱۹ء،ص ۳۳

5۔ احسن فاروقی ،ڈاکٹر،مشمولہ اُردو نثر کافنی ارتقاء،مرتبہ (ڈاکٹر فرمان فتح پوری) ،لاہور: الوقار پبلی کیشنز،۲۰۲۰ء،ص ۹۶

6۔ مستنصر حسین تارڑ،بہاو،لاہور: سنگِ میل پبلی کیشنز،۲۰۰۹ء،ص۷۵

7۔ مستنصرحسین تارڑ سےخصوصی مکالمہ،اقبال خورشید،کراچی:سہماہیاجرا،۲۹اپریل۲۰۱۴ء

8۔ مستنصرحسین تارڑ،بہاو،لاہور: سنگِ میل پبلیکیشنز،۲۰۰۹ء،ص۲۰

9۔ محولا بالا،ص۲۷

10۔محولا بالا ،ص۱۳۸

11۔ محولا بالا،ص ۱۶۷

12۔ محولا بالا،ص ۱۶۷

13۔ محولا بالا،ص ۲۷

14۔ محولا بالا،ص ۲۶

15۔ محولا بالا،ص ۶۵۔۶۴

16۔ محولا بالا،ص ۱۰۸

17۔ محولا بالا،ص ۱۸

18۔ محولا بالا،ص ۱۴

19۔ توصیف تبسم (مرتب) ،انتخاب ناصرکاظمی (دل تو میرا اُداس ہے ناصرؔ) ،اسلام آباد: نیشنل بُک فاونڈیشن ،۲۰۱۳ء،ص ۱۵۲

20۔ مستنصرحسین تارڑ،بہاو،لاہور: سنگِ میل پبلیکیشنز،۲۰۰۹ء،ص۴۳

21۔مجید امجد،کلیاتِ مجید امجد ؔ، لاہور: الحمد پبلی کیشنز،۲۰۱۴ء،ص ۵۹

22۔ مستنصرحسینتارڑ،بہاو،لاہور: سنگِ میل پبلیکیشنز،۲۰۰۹ء،ص۲۰

23۔ محولا بالا،ص ۷۵

24۔ محولا بالا،ص ۳۰۔۲۹

25۔ محولا بالا،ص ۲۰۵

26۔محولا بالا ،ص ۱۱۷

 

عمیرؔ یاسرشاہین     

پی۔ایچ۔ڈی(اسکالر) 

جامعہ سرگودھا

(03037090395)

     

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

بہاؤعمیر یاسر شاہینمُستنصرحسین تارڑ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
جمہوری ادب کا تصور – پروفیسر عبدُ البرکات
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں