روز کا معمول تھا۔ میں باہر سے آتا، دروازہ کھٹکھٹاتا، دوسری طرف سے جمعراتی کی اماں کے کھانسنے کھنکھارنے کی آواز قریب…
افسانہ
-
-
محلّے میں پہنچ گیا تھا مگر اسے خالہ کا مکان نہیں مل رہا تھا۔ چارپانچ سال پہلے جب وہ بٹلہ ہاؤس آیا…
-
ایک روز انہوں نے مل کر فیصلہ کیا تھا کہ اب گائے کو بوچڑ خانے میں دے ہی دیا جائے۔ اب اس…
-
اپنی مرضی سے میری زندگی کے بنائے اصولوں میں مزید اضافہ و ترمیم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے.یہ اختیار آپ کا…
-
تھوڑی دیر بعد وہ سب چہرے بھول جاتی تھی۔ بیٹھے بیٹھے اچانک نمو کو یاد آتا ہے کہ وہ اپنے سب بہن…
-
تابش اپنے ماں باپ کے ساتھ بس سے نیچے اترا اور اپنی خالہ کے گاؤں کی طرف جانے والے کچے راستے پر…
-
’ آوازیں زندہ رہتی ہیں ‘ It’s impossible to live in a country as wild where the people are assassinated over political…
-
’’سنبل پلیز…!اگر تم اس طر ح سے ہمت ہار بیٹھو گی تو پھر میں جا نہیں سکوں گا۔‘‘حیات نے اس کے ہاتھ…
-
دائروی کینوس پر تین فلک بوس ٹاور۔ کنارے کے دونوں ٹاوروں کے رنگ و روغن روشن۔ درمیانی ٹاور چمک دمک سے خالی۔…
-
لکشمی ناراین جی بستر پر کروٹیں بدلتے رہے۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اگنی کے سات پھیرے، ساتھ جینے مرنے کی…

