Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ

اجنبی چہرے – جیلانی بانو

by adbimiras نومبر 12, 2020
by adbimiras نومبر 12, 2020 0 comment

تھوڑی دیر بعد وہ سب چہرے بھول جاتی تھی۔

بیٹھے بیٹھے اچانک نمو کو یاد آتا ہے کہ وہ اپنے سب بہن بھائیوں کے چہروں کی تفصیل بھول چکی ہے۔اب وہ کہیں مل جائیں تو جانے وہ پہچان سکے گی یا نہیں؟ کوئی اس سے پوچھ بیٹھے کہ بڑے بھائی گورے ہیں یاکالے؟ تو وہ کیا جواب دے گی۔۔۔؟ اسی لیے تو میکے جانے کے نام سے اس کا دم نکلتا تھا۔ رضا اس بات پرخوش ہوتا کہ نمو اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکتی۔ میکے والے کہتے تھے کہ جانے کیسی محبت کرنے والی سسرال ملی ہے کہ نمو اپنا میکہ بھول گئی۔ اور وہ ڈرتی تھی کہ کسی دن وہ اماں کو نہ پہچان سکی تو۔۔۔

اپنی اسی کمزوری پر وہ سوچتے سوچتے بیمار سی رہنے لگی تھی۔

بھلا یہ بھی کوئی تک ہے کہ آپ ہمیشہ اپنے ساتھ رہنے والوں کو اچانک بھولنے لگیں۔

آدمی صرف اپنے چہرے سے ہی تو پہچانا جاتا ہے۔ ورنہ دلوں کا حال تو ایکسرے سے بھی معلوم نہیں ہوتا۔ یہ کارڈیوگراف بھی کیسی اچھی چیز ہے۔ کتنی بار نمو کا جی چاہا کہ وہ دل کے کسی شدید مرض کابہانہ کرکے اپنے شوہر رضا سے کہے کہ اس کے دل کا کارڈیوگراف کرادیں۔

وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ آنکھوں کے ساتھ ساتھ کیا دل نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ سنا ہےاس مشین پر سنیما کے پردے کی طرح دل کے اندر چھپی ہوئی ایک ایک لکیر نظر آتی ہے۔ کیا پتہ اس کے دل میں بھی چھپا ہوا بہت کچھ نکلے اور وہ رضا کے آگے مزید پشیمان ہو۔

اللہ جانے یہ مرض کب اور کیسے شروع ہوا تھا۔

اسے اچھی طرح یاد تھا کہ شادی سے پہلے تو وہ ہر ایرے غیرے کو جھٹ پہچان لیا کرتی تھی۔ اسکول کے زمانے کی سہیلیاں کہیں ملتیں تو وہ ایک جھلک دیکھ کر ادھر دوڑتی۔ کوئی پاس پڑوس کی خالہ گھر میں آتیں تو انہیں ہمیشہ ان کے نام کے ساتھ مخاطب کرکے سلام کرتی۔ بڑے تاؤ کو اس نے منجھلے یا چھوٹے تاؤ نہ کہا۔ حالانکہ یہ پانچوں بھائی اس غضب کی مشابہت رکھتے تھے کہ اکثر خود ان کی بیویاں دھوکہ کھاجاتیں۔ اور تو اور بڑی آپا کی چودہ اولادوں کے ایک سے چہرے اس نے ہمیشہ الگ الگ یاد رکھے۔ جب کہ خود بڑی آپا کو یاد نہ رہتا کہ یہ منو ہے چنو۔۔۔ گڈو ہے یا پپو۔

مگر جانے اچانک کیا ہوا نمو کے دماغ کا وہ حصہ ہی کچھ خراب ہوگیا جہاں لوگوں کی صورتیں محفوظ رہا کرتی ہیں۔ اور کم بخت یہ مرض ایسا تھا کہ کسی سے کہو اور اپنا مذاق بنوالو۔

اکثر ایسا ہوا کہ اچانک رضا ڈرائنگ روم سے چلانے لگا، ’’نموذرادیکھو تو آج کون آیا ہے ہمارے گھر۔‘‘

اور نمو پر جیسے بجلی گر پڑتی۔

’’کیا آج ’وہ‘ پھر آگیا؟‘‘ کہیں اس کی زبان سے آج پھر کچھ اور نکل جائے۔۔۔ ممکن ہے رخشی ہو۔ کٹنی شادی سے پہلے رضا کا رستہ گھیرتی تھی۔

اب بھی کیا پیچھا نہ چھوڑے گی۔

من من بھر کے پاؤں رکھتی۔ اپنے آپ کو سنبھالتی ہوئی وہ کمرے میں پہنچتی تو اپنے سامنے ایک اجنبی عورت کو دیکھ کر اور گھبراجاتی۔

کون ہے۔۔۔ یہ کون ہے۔۔۔؟ مارے خوف کے مارے وہ کانپنے لگتی۔ سارا بدن پسینے میں بھیگ جاتا۔ اور سرخ چہرے سے چھلکتا ہوا خون چھپائے نہ چھپتا۔

’’اوئی ایسا بھی کیا دل کمزور ہوگیاہے تمہارا کہ خوشی بھی برداشت نہیں ہوتی،‘‘ آنے والی بی بی ہنس ہنس کر کہتی تو نمو اور گھبراتی۔

ممانی بیگم، طاہر کی بہن۔۔۔ نہیں اس کی چھوٹی نند ہے۔ تو کیا اسے سلمیٰ کہوں؟ اپنی بے بسی پر تلملاکے وہ آنے والی سے لپٹ کر سچ مچ رونے لگتی تھی۔

’’اوئی اب بس کرو۔ تین مہینے کا بچہ بھی کوئی ایسی چیز تھا کہ تم رو رو کر اپنے آپ کو ہلکان کیے دیتی ہو۔ اللہ تمہیں اتنے بچے دے گا کہ گنتے گنتے بھول جاؤگی۔‘‘

سب ہنسنے لگتے او ر وہ گھبراکے سوچتی۔۔۔ کیا بچوں کو بھی بھول جاؤں گی! کیا مجھے اپنے بچوں کی شکلیں یاد نہ رہیں گی۔۔۔؟ اچھا تو یہ چھوٹی آپا ہیں! یا اللہ تونے سارے چہرے اتنے ایک سے کیوں کر دیے ہیں کہ الگ الگ یاد رکھنا چاہو مگر سب گھال میل ہوجاتے ہیں۔

اب یہی دیکھ لو کہ بڑی آپا اور چھوٹی آپا میں بھی کوئی فرق ہے۔ بس ذرا بڑی آپا کا رنگ صاف ہے۔ مگر چھوٹی آپا کے مقابلے میں وہ کتنی موٹی ہیں، سچ مچ انھیں منوں سے تولناپڑے۔ مگر جانے کیوں نمو دونوں آپاؤں کو الگ الگ یادنہ رکھنے پاتی۔ بس صرف یہ یاد رہتا کہ چھوٹی آپا جہاں دل کے زخموں پر پھائے رکھنے میں ماہر ہیں، بڑی آپا وہیں دل پر گھاؤ لگانے سے کبھی نہیں چوکتیں۔ نمو ان دونوں بہنوں کا فرق اسی وقت جانتی جب وہ کسی سے بات کر رہی ہوں۔ ورنہ یہ ہوتا کہ چھوٹی آپا کی ناک بڑی آپا کے چہرے پر جڑجاتی۔ کبھی بڑی آپا کی آنکھیں بالکل چھوٹی آپا کی لگتیں اور وہ گھبراکے سوچتی کہ آنکھیں تو بڑی آپا کی ہیں۔ اب انہیں بڑی آپا کہوں یا چھوٹی اپیا۔۔۔

اللہ جانے باقی لوگ کس طرح ہر ہر چہرے کو الگ الگ یاد رکھتےہیں۔ اتنے سے دماغ میں اتنی جگہ کہاں سے آجاتی ہے کہ لائبریری کی طرح ہر ہر صورت کو الگ الگ خانوں میں رکھتے پھرو۔

پھر نمو سوچتی کہ اگر کسی دن رضا کو پتہ چل جائے کہ اس کا دماغ اتنا کمزور ہے تو۔۔۔ پوری سسرال میں بات پھیل جائے گی۔ اس کی نندیں تو پہلے ہی ہر بات پر ناک بھو ں چڑھاتی ہیں۔ اب اور انگلیوں پر نچائیں گی۔۔۔ اور خود رضا۔۔۔ (جس کی وہ سر سے پیرتک ہوچکی ہے) کتنا پچھتائے گا۔ کیا اسے کوئی اچھی بھلی صحیح و سالم عورت نہ ملتی کہ اس نے مجھ ادھوری کا انتخاب کیا! اور پھر کیسا جی جان سے چاہتا ہے۔ دنیا میں ایسے مرد کتنے کم ہوں گے جو ہر بار اپنی بیوی کو دیکھ کر مسکراسکیں۔

یا پھرممکن ہے سب ہی مردوں کی یہ عادت ہوتی ہو۔

یہ مردوں کی ملتی جلتی عادتیں ہی تو انہیں الگ الگ نہیں کرپاتیں۔

یہیں پر ساری گڑبڑ ہوتی ہے۔

جب گھر میں نمو کے بیاہ کا شور مچا تو وہ لاکھ لاکھ سوچتی۔ مگر کسی ایسے مرد کا تصور زہن میں نہ آتا جو ’اس کے‘ سوا کوئی اور ہوسکتا ہے۔ اور وہ تھک کے ہار جاتی کہ اب تو اپنے پتوار رکھ دیے ہیں چاہے نیا پار لگے کہ ڈوبے۔

جب ’وہ‘ نہیں ہے تو اب کوئی بھی سہی۔

مگر ہوا یہ کہ نمو کا دولہا ’وہ‘ نہیں تھا۔ مگر پھر بھی اسی کی طرح ہنستا، ایسی ہی باتیں کرتا۔ اسی طرح اس کی تعریف کرتا۔ یوں ہی نمو کو دیکھ دیکھ کر مسکرائے جاتا۔

نمو کو یقین ہوگیا کہ مردوں کی عادتوں اور پیار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پھر اس نے خواہ مخواہ ’اس کے‘ لیے رو رو کر جان گنوائی۔

یہی بات جب اس نے شادی کے کئی مہینے بعد اپنی ایک رازدار سہیلی آفتاب کو سنائی تو اس نے بڑے طنز کے ساتھ کہا، ’’یوں کہو تم اب اسے بھول گئیں۔ چلو اچھا ہوا۔ ورنہ عورت کے لیے زندگی بھر کسی یاد کو سنبھال سنبھال کر رکھنا بڑا کٹھن کام ہے۔‘‘

’’ارے واہ۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ میں اسے کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔!‘‘

نمو نے سوچا۔۔۔ ’’آفتاب مجھ سے جل گئی ہے۔ وہ خود بھی تو ’اس‘ پر مرتی تھی نا۔۔۔ حالانکہ میں اب بھی ’اسے‘ دن میں دس بار یاد کرتی ہوں۔ مگر جانے کیا بات ہے کہ ’اس‘ کا تصور کرو تو رضا کے نقش ابھرنے لگتے ہیں۔

پھر ایک دن وہ اکیلی گھر میں بیٹھی ننھے ننھے کپڑے سی رہی تھی کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔

لو بھلا۔۔۔ ایسے وقت مجھے اٹھانے کون آگیا۔۔۔ وہ اپنے پیٹ کا منو بوجھ اٹھائے گئی اور دروازہ کھول کر پوچھ بیٹھی۔

’’آپ۔۔۔؟ آپ کون ہیں۔۔۔؟‘‘

’اس‘ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس گردن جھکائے واپس چلا گیا۔

تب نمو نے سوچا۔۔۔ یہ تو وہی تھا۔۔۔ بالکل وہی۔۔۔ مگر شاید ’وہ‘ نہ ہو۔

تو پھر ’وہ‘ واپس کیوں چلا گیا! میری حالت بھی تو ایسی ہو رہی ہے، وہ منہ نہ پھیر لیتا تو کیا کرتا۔ مگر میں نے اسے پہچانا کیوں نہیں۔۔۔! ہائے میری آنکھوں کو کیا ہوگیا تھا۔ کہیں ایسا تو نہ ہو کہ میں اب سب ہی صورتیں بھولنے لگوں؟ اور وہی ہوا۔۔۔ وہ دن اور آج کا دن، نمو کے ذہن سے ہر چہرہ محو ہونے لگا۔ صرف زبان سے کہی ہوئی بات یاد رہتی۔ یا دل پرلگائے ہوئے زخم نہ سوکھتے۔ باقی صورتیں تو سب کی ایک سی تھیں۔ جانے کیسے لوگ صورت دیکھ کر اپنے دوست دشمن کو پہچان لیتے ہیں۔ اسے تو سب چہرے ایک سے لگتے تھے۔ اپنے آس پاس کے نام وہ بار بار زبان سے دہراکے یاد کرتی جاتی تھی کہ فلاں آدمی وہی ہے یا کوئی دوسرا ہے۔

نمو کو لوگوں کی یادداشت پر رشک آتا تھا کہ دیکھتے ہی ہر آدمی کو پہچان لیتےہیں۔ اور ایک وہ خود ہے کہ دیوانوں کی طرح ہر طرف جانے کسے ڈھونڈے جاتی تھی۔ ایک بار یونہی خود کو نہ پہچاننے پر اس کی نند نے طنز کیا تھا۔

’’بھابی کی نظروں میں تو بس ایک ہی صورت بس گئی ہے۔ اب کوئی اور کیوں نظر آئےگا۔۔۔!‘‘

نمو جانتی تھی کہ اس کی چھری کی طرح کٹیلی نند کو اپنے بھائی کے چھن جانے کا بڑا دکھ ہے اور وہ معصوم سمجھتی ہے کہ ہرعورت کی نظروں میں صرف اس کا شوہر ہی بسا ہوتا ہے۔

حالانکہ جو چیز سامنے ہو اسے کوئی کیوں ڈھونڈنے میں جان گنوائے گا۔ مگر یہ بات اپنی نند سے کہنے کی تو نہ تھی۔ لوگوں کو تو طعنے دینے سے کام تھا۔۔۔ ’’ارے اب تو بڑی بیگم صاحب بن گئی ہیں نجمہ بیگم۔ بھلا ہمیں کیوں یاد کریں گی۔ اتنے قیمتی زیور کپڑوں میں چھپ کر غریب آدمی کب یاد رہتے ہیں۔۔۔!‘‘

’’خدا کے لیے ایسا نہ کہو۔۔۔‘‘ وہ سچ مچ اپنے آنسو پونچھ کر کہتی۔

میں کسی کو نہیں بھولی۔ میرے دماغ پر کچھ اثر ہوگیا ہے۔ سچ مچ نمو کو شک ہو رہا تھا کہ کوئی سایہ اس پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ جادو ٹونا ’اسی‘ نے کروایا ہوگا۔ کیوں کہ وہ اکثر خوابوں میں نمو کو نظر آتا تھا۔ گھر میں چاروں طرف اس کی صورت ڈوبتی ابھرتی۔ جیسے ابھی یہاں تھا۔ ابھی وہاں تھا۔ لو اب رضا کے فوٹو میں چھپ کر مسکرا رہا ہے۔ ذرا دیر بعد سنو تو کوئی مدھم مدھم سرگوشیوں میں پکارتا۔

نمو۔۔۔ نمو۔۔۔ وہ چونک کر دیکھتی تو سامنے رضا کھڑا مسکرا رہا ہے۔

خوف کے مارے اس کی چیخ نکل جاتی تھی۔۔۔ یہ ’وہ‘ ہے یا رضا۔۔۔!

ممکن ہے اس نے رضا کا روپ دھار لیا ہو۔

پھر ایک دن وہ اپنی بھاوج کے ساتھ چپکے سے شاہ جی کے ہاں گئی۔ پانچ روپے گئے بھاڑ چولہے میں۔ شاہ جی کی فیس دینے کے بعد اس کے دل میں قرار تو ضرور آجائے گا۔

مگر شاہ جی نے آگ اور بھڑکادی۔

پانچ جمعراتوں کا چلہ کھینچنےکے بعد انہوں نے کہا، ’’تو نے کسی بزرگ کی بے ادبی کی ہے، جس کی سزا میں تیرے دل کا چین اڑگیا ہے۔ اور یہ کہ تو جسے اپنا سمجھتی ہے وہ بھی تیرا نہیں ہے۔۔۔ پانچ پیسے کا گنڈا اس نے اپنے دل کے پاس لٹکا لیا تھا۔ مگر اپنی قسمت پر پہروں روئے جاتی۔

جانے کس وقت اس نے کسی بزرگ سےبے ادبی کی ہوگی۔ جناتوں کے بادشاہ اپنے اڑن کھٹولے پر بیٹھے کہیں جارہے ہوں گے۔ جلالی صورت، شاہی لباس۔ ممکن ہے نمو کے گھر آتےہوں۔ اور اس نے کوئی ڈھونگی فقیر سمجھ کر انہیں دھتکار دیا ہوگا۔۔۔ ’’آپ۔۔۔؟ آپ کون ہیں۔۔۔؟‘‘

کہتے ہیں جناتوں کو خالی ہاتھ لوٹادینے کی بڑی سزا ہوتی ہے۔ بے ادبی کرنے والا خود بھی خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔

جبھی تو وہ بھی میرا نہیں ہوگا جسے میں اپنا سمجھتی ہوں۔

شاہ جی نے چار گنڈے دیے تھے کہ رضا کے پلنگ کے چاروں پانوں تلے دبادو۔ اور وہ دعا جو صبح سویرے رضا کے منہ پر پھونکنا پڑتی۔ اللہ مارا کیسا جان جوکھوں کا کام ہوتا۔ وہ منہ قریب لے جاتی تو میاں جانے کس خوش فہمی میں پڑجاتے، اور ہنسی ہنسی میں اس دن کی دعا پھر رہ جاتی تھی۔

ادھر پلنگ کے چاروں کونوں کی حفاظت کرنا بھی بڑا مشکل کام تھا۔ کیوں کہ نمو کی ساس کوضد تھی کہ مہترانی جھاڑو دینے آئے تو سب پلنگ کھینچ کھینچ کر اپنی جگہ سے ہٹادے۔ جیسے ایک کونے میں جھاڑو نہ لگی تو قیامت آجائے گی پتہ نہیں لوگ ظاہری صفائی پر کیوں اتنا مرتے ہیں۔ کبھی اپنے اندر بھی تو جھانک کر دیکھیں کہ کتنی گندگی سمیٹ رکھی ہے۔

رفتہ رفتہ نمو پر ایک اور خوف چھانے لگا کہ کہیں وہ رضا کو نہ بھول جائے۔ ہائے جویوں ہوگیا تو کیا ہوگا؟ وہ تو کہیں کی نہ رہے گی۔ لو بھلا ایک شخص دل و جان قربان کردے ہمارے اوپر، اپنی خوشی کو ہماری خوشی بنالے، ہماری اداسی پر خود رونے بیٹھ جائے۔ اور ہم ہیں کہ ایک دن اچانک اسےپہچان نہ سکیں۔

اب رضاکا چہرا ہر وقت ذہن میں محفوظ رکھنے کے لیے وہ کیسے کیسے جتن کر ڈالتی۔ صبح وہ آفس جانے کے لیے اسکوٹر باہر نکالتا تو نمو پاس کھڑی بار بار اسے دیکھےجاتی۔

’’کیا بات ہے۔۔۔؟‘‘ کئی بار رضا ٹھٹک کر پوچھتا۔ پھر کوئی جواب نہ پاکر پانچ روپے کا ایک نوٹ اسے تھما دیتا۔

’’اچھا تو آج پھر سلمیٰ کے ساتھ پکچر کا پروگرام بنا ہے؟ جاؤ عیش کرو۔ اللہ نے تمہاری قسمت میں عیش لکھا ہے تو ہم روکنے والے کون ہوتے ہیں۔‘‘

نمو بے دلی سے نوٹ لے لیتی اور کیسا کیسا اس کا جی چاہتا کہ اس نوٹ کے عوض وہ ذرا سا مسکرادے۔ مگر توبہ کیجیے۔ دل کا چور تو مارے ڈالتا تھا۔ وہ جاتے وقت رضا کو بھرپور نظروں سے دیکھ کر یاد کیے جاتی۔

دائیں گال پر زخم کا نشان۔۔۔ اور گردن پر سیاہ تل۔۔۔

شام کو وہ سب کام چھوڑ کر کھڑکی میں چلی جاتی اور لاکھ یاد کرنے پر بھی یاد نہ آتا کہ آج رضا سیاہ پینٹ پہن کر گیا ہے یا سفید!

کپڑے ہی تو ایک ایسا امتیازی نشان ہیں کہ جھٹ کسی شخص کو پہچان لو۔

اگر رضا کالا پینٹ پہن کر آفس جائے گا تو کالا ہی پینٹ پہن کر واپس آئے گانا! واہ یہ تو بڑی آسان ترکیب مل گئی رضا کو پہچاننے کی۔

نمو نے جلدی سے کمرے میں آکر رضا کی الماری کھولی۔ کھونٹیوں پر دیکھا۔ کالا پینٹ کہیں نہیں تھا۔ بس آج تو وہ رضا کو سڑک کے موڑ سے ہی پہچان لے گی۔ کالا پینٹ۔۔۔ سفید شرٹ۔۔۔ دائیں گال پر زخم کا نشان۔۔۔ اور گردن کے نیچے۔۔۔ اللہ! میں کہیں یہ سب باتیں بھول تو نہ جاؤں گی۔۔۔؟ بس اب دس منٹ اور رہ گئے ہیں۔ وہ سارے گھر میں یوں حیران پریشان سی گھوم رہی تھی جیسے کسی بری خبر کی منتظر ہو۔

دروازے پر اسکوٹر کا ہارن گونج اٹھا۔ ہارن کی آواز پر نمو دروازے کی طرف بھاگتی اور اسکوٹر تھامے اس کے ساتھ ساتھ اندر آتی۔ اس وقت وہ کتنا خوش ہوتا تھا۔ کسی دن وہ اپنی ساس کے بتائے ہوئے کسی کام میں الجھ کر نہ اٹھتی تو رضا کا موڈ خراب ہوجاتا تھا۔

اج بھی نمو دروازے کی طرف لپکی۔۔۔ مگر پردے کے نیچے سے سفید پینٹ میں چھپی اجنبی ٹانگیں دیکھ کر واپس آگئی۔

’’کیا بات ہے۔ آج مجھے دیکھ کر منہ کیوں پھیر لیا۔۔۔؟‘‘

نمو آواز سن کر پلٹی۔۔۔ دائیں گال پر زخم کا نشان اور گردن کے نیچے۔۔۔

’’اوہ آپ! میں سمجھی جانے کون ہے،‘‘ وہ سچ مچ سہمی جارہی تھی۔

’’تو گویا اب نئے سرے سے تعارف کروانا پڑے گا آپ سے؟‘‘ رضا شرارت سے مسکرایا تو وہ اور سہم گئی۔۔۔ یا اللہ اب کیا ہوگا! کہیں انہیں معلوم ہوگیا کہ میں انہیں نہیں پہچانا تو!

کپڑے بدل کر رضا باہر آیا، اس نے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ نمو پر ڈالی۔

’’یہ تمہاری صورت پر ٹھیکرے کیوں برس رہے ہیں آج۔ اتنا بھی کیا کام ہے کہ بال سنوارنے کی فرصت نہیں ملتی، نہ کپڑے بدلنے کی۔ ہزار بار کہا کہ آج کل چوڑی دار پاجامے اور شرٹ کا فیشن ہے۔ مگر جب دیکھو وہی فرتوس ساریاں لپٹی ہوتی ہیں۔‘‘

وہ بڑبڑاتا ہوا باتھ روم میں چلا گیا۔

دوسرے دن نمو نے بڑے اہتمام سے کپڑے پہنے۔ سنگار کیا۔۔۔ یہ چوڑی دار پاجامہ اور تنگ شرٹ مجھ پر کیسا سجے گا۔۔۔ یہ تو نوعمر لڑکیوں کالباس ہے۔ مگر وہ مجھے جانے کون کون سے روپ دیکھنا چاہتا ہے۔

ابھی نمو آئینے کےسامنے سے ہٹی نہ تھی کہ رضا کی آواز نے اسے چونکا دیا، ’’ارے آج تو رخشی آگئیں ہماری قسمت جگانے۔‘‘

نمو نے پلٹ کر دیکھا، اچانک رضا گھبراگیا۔ یوں جیسے کسی نے اسے کھینچ مارا ہو۔

’’ارے توبہ۔۔۔ لو آج میں تمہیں بھول گیا۔۔۔ ایسا لگا جیسے۔۔۔ جیسے رخشی۔۔۔‘‘

رضا ہنسنے لگا۔ مگر نمو روپڑی۔

نہیں نہیں۔۔۔ وہ بھی مجھے نہیں پہچانتا ہے۔ وہ بھی زبردستی کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہے۔ شاہ جی نے ٹھیک ہی تو کہا تھا تو جسے اپنا سمجھتی ہے وہ بھی تیرا نہیں ہے۔۔۔اب ساری زندگی وہ بار بار یہی کہتا رہے گا۔

’’ارے آج تو رخشی آگئیں ہماری قسمت جگانے۔۔۔ لو آج میں تمہیں بھول گیا نمو۔‘‘

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ajnabi chehreاجنبی چہرےادبی میراثافسانہجیلانی بانو
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ساقی نامہ – علامہ اقبال
اگلی پوسٹ
اویناش امن سچا افسانہ نگار:مجموعہ شیر کا احساس کے حوالے سے‎ – ڈاکٹر خان محمد رضوان

یہ بھی پڑھیں

مس مہوشں – وقار احمد

جون 27, 2026

 تنگ ہوتی زمین – غزالہ قمر اعجاز

جون 14, 2026

زندگی کے درمیاں – وصی الحق وصیؔ

اکتوبر 11, 2025

بُت اگر بولتے – قیُوّم خالد

جنوری 20, 2025

بھیگے ہوئے لوگ – اسلم سلازار 

جنوری 6, 2025

شیشے کے اُس پار – ڈاکٹر عافیہ حمید

ستمبر 18, 2024

دو دوست /موپاساں – مترجم: محمد ریحان

ستمبر 9, 2024

غریبِ شہر- ڈاکٹر فیصل نذیر

ستمبر 8, 2024

راج دھرم – ڈاکٹر ابرار احمد

اگست 7, 2024

پہلی نظر – تسنیم مزمل شیخ

جون 18, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (187)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (121)
  • تخلیقی ادب (602)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,055)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (540)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (220)
      • غزل شناسی (207)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (481)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,143)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (35)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (128)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (230)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں