حیات انسانی خود ایک کہانی سے معنون ہے اور اگر کوئی شخص اپنے اندر کہانی لکھنے کا داعیہ پیدا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنی زندگی کو دہرا رہا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے کہ کوئی کہانی کار اپنے گزرے ہوئے نا مساعد حالات، مشاہدات اور تجربات کو منظر عام پر لانے کی سعی کرے-اللہ تعالی نے بہت کم انسانوں میں یہ وصف پیدا کیا ہے-مگر ایسے لوگ بھی خال خال ہیں جو تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال ہیں اور اپنی جودت طبع کو ہوادے کر فنی اور تخلیقی خوبیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں-انسان خدا کی عظیم شاہ کار ہے، یہ اس کی عظمت ہی ہے کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروے کار لاکر طبعی اور فطری رویے سے لوگوں کو روشناس کراتا ہے- ( یہ بھی پڑھیں پاکستان میں اردو افسانہ(ساٹھ کی دہائی میں) – محمد غالب نشتر )
اویناش امن کا شمار ہمارے انھیں ہم عصروں اور پرعزم تخلیق کاروں میں ہوتاہے جنھوں نے نہ صرف اپنی خفتہ صلاحیتوں کو پہچاناہے بلکہ خدا کی عظیم شاہ کار ہونے کا اظہار بھی کیا ہے، مگر یہ سچ ہے کہ:
عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہ کار پر
دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ
اویناش امن بیک وقت شاعر اور افسانہ نگار ہیں گوکہ شیر کا احساس ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے مگر انھوں نے اسے اس طرح تراش خراش کر سامعین کی نذر کیا ہے کہ یہ گمان ہی نہیں ہوتا کہ یہ ان کا پہلا مجموعہ ہے- زبان اور بیانیہ کی سطح پر انھوں نے کافی محنت اور جستجو سے کام لیا ہے ورنہ کم ہی ایسے افسانہ نگار ملیں گے جنھیں بالخصوص زبان کے اعتبار سے معتبر قرار دیا جاسکتا ہے اور اگر زبان درست ہو تو بیانیہ خود بہ خود موثر ہوجاتاہے-موضوعات کی سطح پر بھی اویناش امن کے یہاں رنگا رنگی اور تنوع کا احساس ہوتاہے، ان کا تخلیقی کینوس دیگر تخلیق کاروں سے کئی معنوں میں قدرے مختلف ہے وہ یوں کہ ان کے یہاں کہانی انسانی مسائل ومعاملات کا عکاس ہے-مافوق الفطری واقعات ان کے یہاں ضمنی حیثیت رکھتے ہیں-ان کا فکری تنوع خیالات کی بلندی اور بلند آہنگی پر دال ہے ساتھ ہی مشاہداتی اظہاریہ حقائق پر مبنی ہوتے ہیں-
یہ کتاب ان کی پندرہ کہانیوں کا خوبصورت مجموعہ ہے، یہ نام علامتی ہے اور ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ علامتی پیرایہ بیان میں طنزوتعریض کرنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں، اشارے ، کنایے اورعلامتی زبان میں وہی شخص بات کرسکتا ہے جو انھیں برتنے کا ہنر جانتاہے ورنہ یہ کام جوے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا-یہ ان کی ذہانت اور تخیل پردازی کی مظہر ہے، اس کتاب کی پہلی اشاعت 2019 میں ہوئی تھی جس کی طباعت مجھے ذاتی طور پر پسند نہیں آئی تھی، دوست ہونے کے ناطے میں نے انھیں کچھ مشورے دیے اور یہ بھی کہا کہ جب اس کتاب کو دوسری دفعہ شائع کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو مجھے بتائیے گا، مگر ہوایوں کہ صرف دوماہ کے اندراندرپہلا ایڈیشن ختم ہوگیا جب اویناش امن نے مجھ سے کہا کہ اول ایڈیشن ختم ہوگیا ہے اور لوگ فون کرکے کتاب طلب کررہے ہیں تو بتائیے کیا کیا جائے، میں نے انھیں کہا کہ آپ فکر مند نہ ہوں میں جلد ہی اشاعت ثانی کا انتظام کرواتاہوں مگر کیا کیجے ہماری تنگ دامنی کو میر نے یوں کہا ہے کہ:
فکر معاش یعنی غم زیست تابہ کے
مرجائیے کہیں کہ ٹک آرام پائیے
علامہ اقبال نے اسے اس طرح کہا ہےکہ:
عصرحاضر ملک الموت ہے تیراجس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش
اب اس پس منظر میں مزید کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہاں کسی کو کسی کی ذاتی سروکار سے کوئی دل چسپی نہیں، باقی اللہ کریم ہے، وجہ تاخیر یوں ہے کہ تقریباتین ماہ یونہی گزرگئے، جب کہ وجود کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے صرف تھمی ہے وہ اس لیے کہ اب تک جو ہوا وہ صرف پریوگ تھا، اس پریوگ میں سینکڑوں جانیں تلف ہوئیں، ہزاروں دکانیں اور مکانات خاکستر کردیے گئے، غریبوں اور مزدوروں کے ہاتھ سے نوالے چھین لیے گئے باوجود اس کے حاکم وقت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا اور پڑے بھی کیوں یہ جانیں تو مرنے ہی کےلیے تھیں، یہ املاک کسی امیر اور جاگیردار کے تو تھے نہیں جس پر پہرےداری ہوتی یا جس کا ملال ہوتا،ایسی انا کی جنگ شاید ہی دنیا نے کبھی دیکھی ہو جس میں ایک حاکم کی ناک کے عوض سینکڑوں رعیت کی گردنیں قلم کرادی گئی ہوں مگر یہ اکیسویں صدی ہے اس صدی میں سب کچھ روا ہے،اس کس مپرسی کی صورت میں تین ماہ کا قیمتی عرصہ کیسے ہاتھ سے نکل گیا کچھ پتا ہی نہیں چلا اور اب جب احساس ہوا ہے تب بہت کچھ پیچھےچھوٹ گیا ہے جس کے حصول کی کوشش لاحاصل ہے-
بہر کیف اس خوبصورت مجموعہ کی طباعت کا عہد وفا اب اپنی اسی صورت میں اپنی مرضی اور پسند سے کرارہا ہوں جس میں افسانہ نگار کا کوئی دخل نہیں ہے، اگر فن کار کی مرضی شامل ہوتی تو شاید یہ مجموعہ ابھی دوچار سال اور منظر عام پر نہیں آتا-
یہاں مجھے کہانیوں کے تجزیے یا ان کی تفصیل میں نہیں جانا ہے، اس مجموعے میں بیشتر کہانیاں اہم اور قابل ذکر ہیں، یہاں صرف ایک کہانی کے تعلق سے اظہار خیال مقصود ہے-
اس مجموعے کی پہلی کہانی "کہانی کے آگے کی کہانی” ہے،یہ کہانی اس وجہ سے اہم ہے کہ اس کہانی کی تکمیل کم سن بچی مشابہ کی زبانی ہوئی ہے،دل چسپ بات یہ ہے کہ باپ نے نا مکمل کہانی شروع کی جس کو تکمیل تک کم سن بچی نے پہنچایا، دراصل یہ کہانی ایک راجا اور رعایاکی سچی داستان ہے، ہر عہد کا راجا سیاسی ہوتا ہے اور سیاست میں جھوٹ شراب کی طرح پیا جاتا ہے، اور اسے معیوب بھی تصور نہیں کیا جاتا-
اس کہانی کا مرکزی عنون سچ بولنا اور سچائی کو پھیلانا ہے، نیزیہ فطرت کے غیر فطری رویے کے خلاف جنگ بھی ہے، ہم اسےحاکم وقت کی نفسیاتی داستانی بھی کہہ سکتے ہیں، اور جھوٹ کا سچ کے خلاف جنگ بھی، جہاں جھوٹ پر سچائی کی جیت ہوجاتی ہے-
سچ تو یہ ہے کہ یہ ایک علامتی کہانی ہے جس میں حاکم وقت کی نفسیات کا گہرا مطالعہ پیش کیاگیاہے،اور یہ بتایا گیا ہے کہ ظلم حکمراں طبقے کی فطرت کا حصہ ہوتاہے، بغیر حکمراں کے رعایا کا تصور ممکن نہیں اور بغیر رعایا کے حکمراں کا تصور نہیں کیاجاسکتا، اس بات کا احساس حکمراں کو تو ہوجاتا ہے مگر رعایا کو نہیں ہوپاتا- یہی وجہ ہے کہ حکمراں رعایا کو اندھیرے میں رکھ کر بے وقوف بناتارہتاہےاور اپنی حکمرانی چلاتارہتا ہے،مگر جب رعایا کو یہ احساس ہوجاتاہے کہ یہ ہم پر ظلم ہے اور ہمارا استحصال ہورہا ہے، تب جاکر حکمراں کی بالادستی کمزور ہوتی ہےاور اس کی چودھراہٹ سے رعایا کو نجات مل جاتی ہے- جیسا کہ اس کہانی میں بتایاگیا ہے کہ جب اس لکڑہارے کو جو کہ سچا اور ایمان دار تھا احساس ہوگیاکہ ہمیں ہرحال میں سچ بولنا ہے اور جھوٹ کے خلاف جنگ لڑنا ہے تب جاکر ہمیں سچ بولنے کاانعام اس طرح ملاکہ جان بخشی ہوئی، اور اگر سچ بولنے کے جرم میں سرقلم بھی کردیا گیا تب بھی سرکٹا کر سچ کو سربلند کرنے کی یہ ایک سچی داستان ہے، یہ کہانی ہر عہد کے حمراں طبقے کی نفسیاتی داستان ہے، اس طرح اس کہانی میں یہ دکھایا گیاہےکہ سچ اس وقت تک بولاجاناچاہیے جب تک سچ ہوری طرح مستحکم نہ ہوجاے-
آج جو ہندستان میں غریب، کمزور، مزدور اور بالخصوص اقلیت کے خلاف جس طرح کی گندی اور بے ہودہ چالیں چلی جارہی ہیں وہ دنیاکی تاریخ کا سیاہ باب ہیں،جس طرح اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف ظلم کا بازار گرم ہے اور انھیں ملک سے دربدر کرنے کی سازش رچی جارہی ہے وہ جبر وظلم کی گھناونی داستان ہے اور حکمراں طبقے کی جانب سے جس طرح پے درپے جھوٹ بول کر عوام کو ورغلایاجارہاہے، یہ کہانی علامتی طورپر ہندستانی سیاست کے اس کھیل کی عکاس معلوم ہوتی ہے-مگر اس کہانی میں ٹوئسٹ اس وقت پیداہوجاتا ہے جب مشابہ اہنےباپ کو روک کر کہتی ہے کہ:”آپ بھی نہ ابوجان-کچھ بھی سنادیتے ہیں-اب میں اتنی بے وقوف تھوڑے ہوں-کہیں عادتیں بھی اتنی جلدی بدلتی ہیں؟ آپ کی کہانی ٹھیک تھی مگر اس کا خاتمہ بالکل غلط تھا-”
تو کیسے ہونا چاہیے تھا، تم ہی بتاؤ-” میں نے تجسس سے پوچھا‘‘۔
کون کہتا ہےکہ تمہیں سولی ہر چڑھایا جائے گا؟”
کہتاہوا راجا نے اپنی تلوار نکالی اور ایک ہی جھٹکے میں لکڑہارے کا سر دھڑ سے الگ کردیا-اس طرح سچ کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کردی گئی-
اس کہانی سے پتا یہ چلا کہ ہمیشہ سچ کی جیت ہوتی، سچ کبھی ہارتا نہیں یا سچ کو کبھی موت نہیں آتی، دوسرے یہ کہ شعبدہ بازوں کی فطرت کبھی بدلتی نہیں وہ ہمیشہ اپنے غیر فطری رویے پر ہی قائم رہتے ہیں-پھر یہ کہ کم عمر بچے بھی جھوٹ اور سچ کو سمجھتے ہیں،بایں طور ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ موجودہ نسل اپنے ماقبل کی نسلوں سے زیادہ ذہین ہے-
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کہانی میں تجربے اور مشاہدے ہراول دستے کی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں نئی نسل کی تربیت کے پیش نظر تعمیری اوراقداری پہلووں کو مضمر رکھا گیاہے-
مختصر یہ کہ اویناش امن کی کہانیاں پڑھ کر واضح طور پر یہ اندازہ ہوتاہے کہ ان کے یہاں کہانی کے سب سے بڑے وصف بیانہ پر اچھی گرفت ہے، ساتھ ہی رواں اور شستہ زبان کہانی کے ارتقا میں معاون ثابت ہوتے ہیں،ان کے یہاں کہانی کی بنت اپنے موضوع کے اعتبار سے تشکیل پاتی ہے-اکثر مقامات پر علامتی پیرایہ نظر آتاہے لیکن ان کے یہاں وہ علامت نہیں جو ابہام اور اغلاق پیدا کرنے اور کہانی کی ترسیل کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرے-
اویناش امن کے موضوعات اپنے گردوپش سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس اختصا اور انفرادکے ساتھ کہ وہ حددرجہ جاذب اورپر کشش ہونے کے ساتھ ہمیں عصری آگہی کا ادراک بھی کراتے ہیں-ہمیں امید ہی نہیں اس کا پورا یقین ہے کہ شیر کے احساس کی کہانیاں اپنے قارئین کو متاثر کیے بغیرنہیں رہیں گی، اوریہ مجموعہ گزشتہ دو دہائیوں کے درمیان منظر عام پر آئے ہوئے مجموعوں میں منفرد مقام مستحکم کرے گا-
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

