اپنی مرضی سے میری زندگی کے بنائے اصولوں میں مزید اضافہ و ترمیم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے.یہ اختیار آپ کا نہیں بلکہ میرا ہے. یہ میری زندگی ہے اس میں دخل اندازی کی اجازت کسی کو نہیں ہے. اپنے فیصلے کا حاکم میں خود ہوں. اور آپ کا جو دائرہ بنا ہے برائے مہربانی اس دائرے سے تجاوز کرنے کوشش نہ کریں۔ اسی میں آپ کی بہتری ہو گی. اور ہاں آج کے بعد میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر ایک قدم بھی نکالا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا. سن رہی ہو میں کیا کہہ رہا ہوں.
’’جی جی جی. رمشا ہچکیاں لیتے ہوئے بولی.‘‘
پیشانی کو سکڑتی ہوئی سر کو خم کیے ہوئے دبی آواز میں کہا‘‘.
’’انسان کی انا اور ناپختگی وقت سے قبل بربادی کا سبب بن جاتے ہیں دانش صاحب.‘‘
’’کیا کہا‘‘.
’’کچھ نہیں.‘‘
’’اچھا تو اب تم مجھے بولنے کا طریقہ بتاو گی‘‘.
’’نہیں نہیں میں کون ہوتی ہوں آپ کی اصلاح کرنیوالی.‘‘
’’ شاید آپ کے والدین کی پرورش میں کوئی خامی رہ گئی ہے.‘‘
’’رمشا ‘‘تم سے آخری دفعہ کہہ رہا ہوں اپنی زبان سنبھال کے بات کرو‘‘
’’. کیونکہ میں اچھی طرح سے جانتا ہوں تم جیسے غریب لوگ کسی امیر کی چھت کا سہارا حاصل کرنے کے بعد اپنے عیبوں کو چھپانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں. لیکن اس طرح کی پردہ پوشی زیادہ دیر پا نہیں ہوتی. اس لیے کہ انسان جس چیز کا خوگر ہوجاتا ہے وقت کے ساتھ تبدیلی تو ہوتی ہے. مگر عادت نہیں. اور جو لڑکی اپنے والدین کی بے لگام گھوڑی رہ چکی ہو اسے قابو میں کرنا میں تو کیا اس کا باپ بھی نہیں کرسکتا.‘‘
’’دانش دیکھو آج ہماری شادی کی پہلی رات ہے ۔اور آج ہی سے آپ اتنے تنگ ذہنی کی باتیں کرتے ہیں. شادی سے پہلے بہت وعدے کیا کرتے تھے‘‘.
’’ہاں ہاں کیا تھا‘.
مگر وہ.میرا وہم تھا اس بار دانش اپنے ہاتھ سے پیشانی کو تھپکتے ہوئے کہا‘‘.
شادی مرد وعورت کے درمیان ایک جایز رشتہ قائم ہوتا ہے۔ جس کے تحت انسان کے لئے راحت و قرار کی زندگی گزارنے کا وسیلہ بنتا ہے. اس لیے اپنی قدیم عادتوں اور زچگی رویہ کو ترکے کرکے جدید اصول و ضوابط کو اپنی زندگی میں داخل کرنے کی ضرورت ہے.
جی میں آپ کے تمام احکامات کی تعمیل کرنے کی بھر پور کوشش کروں گی. لیکن میرا خیال ہے کہ آپ کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق زندگی تو اجیرن ہوجائے گی. انسان بیماری.ذہنی تناؤ نارسائی بے چارگی کا شکار ہو جاے گا. پھر تو اسے دوا سے زیادہ دعا کی ضرورت ہوگی. اور یہ کیسی زندگی ہے شادی شدہ لوگوں کی جس میں کھل کر سوچنے اور چہار دیواری سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں. کیو اب اس دایرے میں داخل ہونے کے بعد عورت ہی پر ساری پابندیاں عاید کی جاتی ہیں. کھانے میں نمک کی کمی ہوئی تو غصہ کا اظہار ہوتا ہے نتھنے تن جاتے ہیں. ہزار خامیاں تلاشی جاتی ہیں ڈوپٹہ سر پر نہ ہو تو آوارہ بد چلن کا تمغہ دیدیا جاتا ہے.
رمشا ایک بات یاد رکھنا ہمیشہ. اگر تم کو میرے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملا ہے تو کوشش یہ کرنا کہ ابھی جو تم نے یہ سارے بکھڑے سنائے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی دہرانے کی کوشش مت کرنا اسی میں تمہاری بھلائی ہوگی. اچھا اب سوجاو بہت رات ہوگی ہے اور مجھے صبح جلدی آفس بھی جانا ہے بہت سارے کام رکے ہوئے ہیں.اتنا کہتے ہوا دانش تکیہ پر سر رکھ کر دراز ہوگیا.
دانش آج ہماری سہاگ رات ہے یہ کوئی عام شب نہیں ہے جس کو آپ اتنی بے دردی سے ضائع کررہے ہو. کیا آپ کو معلوم ہے اس لیل کے انتظار میں ہر کوئی اپنی تمام تر دولت کو قربان کرنے پر راضی ہوتا ہے. آپ سن رہے ہو نہ میں کیا کہہ رہی ہوں. رمشا نے دھیرے سے دانش کے ہاتھ پر بوسہ لیتے ہوئے کہا.دانش نے ہاتھ جھٹکتے ہوئے رمشا کو ایک طرف کرتے ہوئے کہا شب بخیر۔
رات کی تاریکی اپنی آ ب وتاب سے مایوس ہوتی ہوئی نظر آنے لگی. پرندے اپنے آشیانے سے روزی کی تلاش میں چہچہاتے ہوئے نکلنے شروع ہوگیے۔ آسمان میں صبح کے نمودار ہونے کی جھلکیاں نمایاں ہورہی تھیں. صبح کی تھنڈی ہوائیں تنگ کھڑکیوں سے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہی تھیں. ایسے خوشگوار عالم میں دانش کی آنکھیں کھل گئیں کروٹ بدل کر بائیں جانب بستر پر نگاہ دوڑائی تو رمشا جاچکی تھی. رمشا کو بستر پر نہ پاکر دانش کے ذہن ودماغ میں کشمکش پیدا ہونے لگی.
آخر کہان گئی ہوگی..
…. شاید کچن میں گئی ہوگی.
….. لیکن میرے گھر میں کھانا بنانے والے تو موجود ہیں پھر اسے کیا ضرورت ہے وہان جانے
تذبذب کا شکار ہوکر چادر ایک طرف پھینک دیا.
آنکھوں میں لگے میل کو ہتھیلی سے صاف کرتے ہوئے زمین پر پڑے چپل کو گھسیٹتے ہوئے پہن لیا. غصے کی کوئی انتہا نہ رہی. بھاگتے ہوے رمشا کی تلاش میں آواز لگانے لگا. رمشا کہاں ہو تم. کیا تم کو معلوم نہیں ہمارے افراد خاندان میں کھانا بنانے کی اجازت کسی کو نہیں ہے. بولتے ہوئے کچن میں گیا. دیکھا تو ثریا ناشتہ بنانے میں مصروف ہے.
.. قریب جا کر دریافت کیا.
.. ثریا یہ رمشا کہاں غائب ہے ۔۔۔
۔میں بہت دیر سے اسے تلاش کررہا ہوں آخر کہاں چلی گء وہ…..
صاحب میں نے رمشا بی کو غسل خانے جاتے ہوئے دیکھا تھا…
.. اوہ… اچھا تو یہ بات ہے..
.. اتنا سننے کے بعد اطمینان بخش انداز میں دانش واپس منہ دھونے کی غرض سے واش روم جانے لگا کہ اچانک اس کی نگاہ ساتھ والے کمرے میں داخل ہوئی. جس کا دروازہ صرف ایک بالشت کھلا تھا…… رمشا فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد دونوں ہاتھ اٹھائے دعا میں مصروف تھی. اپنی نئی زندگی کی خلوص دل سے دعائیں مانگ رہی تھی. عقب میں کھڑا ایک ساکت بت کے مانند دانش ٹکٹکی باندھے اسے دیکھا رہا تھا. یہ.منظر دیکھتے ہی اپنے گھر کے حالات پر اسے افسوس ہوا کہ اب سے پہلے میں نے کسی کو اس گھر میں نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا. مغربی طرز پر زندگی گزارنے کا رواج اس گھر میں میرے بچپن سے موجودہے.۔
پردہ.مزہبی رسومات کی کوئی گنجائش نہیں تھی جدیدیت کے دھن میں ہر کوئی مست ومگن تھا. ماں نے کبھی دانش کو سیپارہ پڑھنے کی تلقین نہیں کی. ذاتی کاروبار میں والدین مصروف تھے ۔کبھی اولاد کے کی تربیت کے بارے میں گمان تک نہیں کیا. اس لیے دانش کی مرضی سے شادی کرنے پر کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا. لیکن وقت کی پابندی اصول و ضوابط اس گھر میں حد درجہ موجود تھے…
یہی سب باتیں سوچ رہا تھا کہ اچانک رمشا اپنی جائے نماز کا ایک سرا پکڑ کر اٹھا نے لگی. رمشا کو خبر نہ ہو دانش سرعت کے ساتھ وہاں سے رخصت ہوگیا. بھاگتے ہوئے واش روم گیا…..
رمشا کمرے سے باہر آکر ثریا کو آواز دی…
.. ثریا جلدی ناشتہ میز پر لگاو صاحب کو آفس جانے میں تاخیر ہوجائے گی…
.. جی بی بی جی ابھی آئی۔۔۔۔
. بس آملیٹ بنانے ہیں باقی سب تیار ہے.
ٹھیک ہے جلدی کرو..
.. ابھی ہم کھانے کی ٹیبل پر آتے ہیں.
. رمشا جلدی سے اپنے کمرے میں داخل ہوئی تاکہ دانش کو جگا دے..
.. کمرے میں دانش کو نہ پا کر واپس ہونے لگی کی دیکھا سامنے دانش توال سے اپنا منہ صاف کرتے ہوئے رمشا کے قریب آکر صرف سلام کرکے گذر گیا.اس انجانے انداز میں ایک تفکر تھا.
جس کی تاب نہ لاتے ہوئے تیز قدموں سے چلتی ہوئی رمشا دانش کے سامنے کھڑی ہوگئی.
.. سر پر ڈوپٹہ رکھتے ہوے بولی کیا بات ہے سب خیریت ہے..
.. نفی میں سر ہلاتے ہوئے دانش نے کہا جی اللہ کا شکر ہے.
اتنے میں دانش تیار ہوکر ناشتہ کے لیے جانے لگا لیکن رمشا کو کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ صرف ایک رات میں دانش کے اندر یہ تبدیلی سمجھ سے باہر ہے..کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا خدا ہمارے ساتھ ہے. سامنے رکھی ٹیبل پر گھڑی کو اٹھایا اور پیچھے پیچھے چلتی ہوئی ناشتہ کی ٹیبل تک گئے. جہان پر ایک طرف شیراز صاحب اوران کی بیگم نورین کرسی بیٹھے تھے۔ اور دوسری طرف دانش. سامنے کی کرسی خالی تھی….. سب کو سلام کیا….
. السلام علیکم…
…. سب نے ایک آواز میں جواب دیا وعلیکم السلام.
. ماں نے حالات دریافت کیے کیے کسیے ہو بیٹا.
.. جی امی جان اللہ کا شکر ہے.
…. دانش تیوری چڑھا کر بیٹھا کنکھیون سے دیکھا سامنے کرسی کی کرسی کے طرف اشارہ کرتے ہوئے ماں نے کہا کہ اجاو بیٹا جلدی ناشتہ کرلو
.. جی جی..
. رمشا نے جلدی سے پیلٹ لیا اور بریڈ ہاتھ میں لیکر مکھن لگانے میں مصروف ہوگئی. کہ ابو نے دانش کو مخاطب کیا. دانش صاحب کیسی رہی آپ کی شب زفاف. آپ کے چہرے سے صاف ظاہر ہورہا ہے اور خوشی کا یہ عالم ہے کہ دل میں شب برات کے پٹاخے پھوٹ رہے ہیں …..
عورت کی عزت پر اگر آنچ آے تو وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتی ہے. اب تک تو سنا تھا کہ عورت کو سماج میں بہت حقیر گردانا جاتا ہے. لیکن آج کا واقعہ دل کو دہلانے والا ہے یہاںتو عورت ہی عورت کو ذلیل کرنے کی جی توڑ کوشش کررہی ہے. میں تو سمجھی تھی کہ میری ماں اس دنیا میں نہ سہی مگر اس کی جگہ کو پر کرنے کے لیے میری ساس میرے لیے ڈھال بنے گی…..
. آج کا دن تو رمشا کے لیے نہایت غمزدہ ہوگیا. صبح کے نمودار ہوتے ہی اس کی زندگی کے سیاہ بادل چھانے لگے تھے. سارے ارمان کی عمارت منہدم ہوتے نظر آنے لگی.۔ دانش کے آفس جانے کے بعد رمشا اپنی ناآسودہ زندگی کی تابناکیوں کے بارے متفکر ہوئی. کیا قصور ہے میرا…. کیو ایسے سوالات کے انبار لگاے جانے لگے. کس کی دل آزاری ہوئی ہے میریے گھر میں داخل ہونے سے. سمجھ سے بالاتر ہے….
رمشا نے عزم مصمم کرلیا تھا کی آج شام کو دانش کے واپس آتے ہی کچھ فیصلہ کرلے گی. یا تو میں اس گھر کی عزت بنوں گی یا پھر میری ساسو ماں ہونگی. ۔میری زندگی میں اتنی مشکلات پیش آئیں گی یہ تو میرے غالب وگمان میں نہیں تھا… یہی سب رمشا اپنے کمرے دراز کرسی پر بیٹھے سوچ رہی تھی. کہ اچانک اسے خیال آیا کہ کیوںنہ دانش سے فون پر بات کرلو کہ کب گھر واپس ارہے ہیں. بے چینی کے طوفان نے اپنے شباب پر ہونے کا اعلان کردیا. دل کی دھڑکن تیز ہوچکی تھی. کبھی فون اٹھاتی تو کبھی رکھدیتی. کبھی ماںکی باتیں دل ودماغ میں کچوکے لگانے لگتی تھی….. تمہاری ماں کون ہے کون.. کون ہے… کہان ہے تمہارا گھر…. کہان کی رہنے والی ہو…. رمشا حالت اضطراب میں پاگل ہورہی تھی نگاہیں گرم آنسوں میں ڈبکیاں لگاتی رہی. دانش کی پسند کے کپڑے بھی پہن رکھے تھے. نئی زندگی کی تسکین کی خاطر بن سنور کر ہر کسی کے دل میں جگہ بنا نے کی بھرپور کوشش میں تھی.
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سوچا ہوا کام کبھی تکمیل کو نہیں پہونچتا. فون کی گھنٹی بجی رمشا نے جلدی سے آنسوؤں کو ڈوپٹے سے بہت احتیاط سے شہادت کی انگلی سے صاف کیا ۔کہ کہیں آنکھوں میں کاجل کی سیاہی مائل نہ ہوجاے. دیکھا تو دانش کی کال تھی اس نے سوچا چلو اچھا ہوا اسنے کال کیا….
ہلو.. اسلام علیکم..
جی وعلیکم السلام..
کیا حال ہے.. کیسے فون کیا اپنے…
کچھ نہیں بس ایسے ہی فون کیا. تمہاری خبر لینے کے لیے آفس آنے کے بعد بہت بے چین تھا.
کیو ایسی کیا بات ہے جو آپ پریشان ہورہے ہیں.
نہیں رمشا مجھے آفس آنے کے بعد احساس ہوا کہ صبح ناشتے پر ایسے لہجے میں مجھے بات نہیں کرنی چاہیئے تھی….
کوئی بات نہیں انسان کی پہچان اس کی زبان اور لہجہ سے ہوجاتی ہے…
اچھا بتاو کیا کررہی ہو….
کچھ نہیں اپنی بجھتی ہوئی زندگی کے غم میں آنسو بہارہی ہوں..
رمشا میں معذرت چاہتا ہوں صبح امی نے جو کچھ کہا……
اتنے میں دروازے پر آہٹ ہوئی مگر رمشا کو احساس نہیں ہوا.. وہاں پر ماں اپنے شک کو یقین میں بدلنے کی بھر پور کوشش کررہی تھی چپکے سے دروازے کے آوٹ میں کھڑی رمشا کی باتیں سننے لگی تھی… دل میں بد گمانی کا سمندر ٹھاٹھے ماررہا تھا.. اچھا تو اس کا مطلب ہے یہ کوئی نیا عاشق ہے جس سے دانش کی غیر موجودگی میں میں عشق لڑایا جارہا ہے…….
اچھا ٹھیک ہے آپ شام کو جلدی گھر واپس آجانا میں آپ سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتی ہوں…
اوہ اچھا جی تو اس کا مطلب ہے میری پیاری رمشا بیگم نے مجھے معاف کردیا ہے…
’’جی نہیں آپ کو غلط فہمی ہوگئی ہے.‘‘ بس بس میں اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا چاہتی ہون..
’’… دروازے کے عقب میں کھڑی ساس کو دل میں ہوک سی اٹھنے لگی..
’’ ہاے اللہ اس کے تو اور بھی عاشق ہیں….
’’ یہ کیا کیا میرے دانش تو نے..
… تو نے تو اپنے پیر پر خود ہی کلہاڑی مارلی ہے.
. درد کی شدت سے دل بیٹھنے لگا وہاں سے ہٹ کر اپنے کمرے میں واپس آگئے…..
ادھر فون پر رمشا ہر سوال کا جواب چیں بہ چیں دے رہی تھی.. کیسا فیصلہ……
کچھ نہیں بس آپ گھر آجاو اس کے بعد بات کریں گے…
رمشا آخر بتاو تو بات کیا ہے.
ٹھیک ہے اب فون رکھتی ہوں خدا-حافظ. ہلو…. ہلو….
دانش کی اس اچانک فون کٹ جانے نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا. اب شام ہونے کا بڑی شدت سے انتظار کرنے لگا. کاٹے نہیں کٹتے ہیں لمحے انتظار والی کیفیت دانش کے طاری ہوچکی تھی کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا. کبھی چپراسی کو ڈانٹنے لگتا تو کبھی سیکرٹری کو بلا کر چکانے لگتا. اگر آپ لوگوں کو کام کرنے نہیں آتا تو چھوڑ کر چلے کیو نہیں جاتے. سارے آفس کے لوگ پریشان کہ آخر ایسی کیا بات ہوگی اچانک. بوس کی تو ابھی دو دن پہلے شادی ہوئی ہے. اتنا عرصہ گزر گیا مگر کبھی کسی ملازم پر تیز آواز میں بات چیت کرتے تھے…….
بہر حال جیسے تیسے شام ہوئی۔ دانش جلدی سے گھر کی طرف روانہ ہوگیا. اسے اس بات کا خدشہ تھا کہ کہیں رمشا ماں سے جھگڑا نہ کرلے کیونکہ وہ روایت پسند نہیں بلکہ جدیدیت پسند ہے ادب احترام عزت سے عاری ہے کیا کروں گا اگر وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔. خدا خیر کرے وہ گھر سے قدم نہ نکالے انہیں سب خیالات کے منجدھار میں ڈبکیاں لگاتے ہوئے دانش گھر پہنچ گیا. گھر میں داخل ہوا تو ماں کو بے ہوش پایا. اس سے پہلے رمشا بحث کرکے گھر سے جاچکی تھی………. کہان گئی ہوگی؟؟؟؟
ہوتا وہی ہے جو منظور ہوتا ہے.دانش حیران و پریشانی کے عالم میں گھر پہونچا ۔دیکھا تو ماں بے ہوش پڑی ہے ۔جلدی سے ماں کو ہسپتال لے گیا. علاج کے بعد ماں کو ہوش آیا دیکھا تو سامنے دانش کھڑا تھا اپنے قریب بلا کر ماں نے کہا…..
بیٹا دانش تم رمشا کو جتنا جلدی ہوسکے گھر سے نکال دو… اسے طلاق دیدو…. میرا اس.کے ساتھ گزارا ممکن نہیں ہے…..
لیکن ماں ایسا کیا ہوا ہے پلیز بتائیں تو سہی….
بس میں جو کہہ رہی اسے کر گزرو مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرو…!
ماں آخر رمشا کا قصور کیا ہے ایسی کونسی بات ہے جو آپ اتنا بڑا فیصلہ سنا رہی ہیں…..
دانش ماں کی باتیں سن کر شش و پنج میں مبتلا ہوگیا۔ سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ کر سوچنے لگا… اپنی بد قسمتی پر غور و خوص کرنے لگا….
اسے یہ بھی خیال آیا شاید ہوسکتا ہے۔ ماں کو غلط فہمی ہوئی ہو..
پھر بھی ایک بار رمشا سے بات کرنی چاہیے. لیکن وہ تو جا چکی ہے کہاںگئی؟؟؟ اسے کیسے تلاش کروں. کس سے اس کا پتہ معلوم کروں…. پچھلے تین سالوں میں اس نے کبھی کوئی ایسی ویسی بات تو مجھ سے نہیں کی تھی. اچانک شادی کے بعد کیسے ممکن ہے.. باربار فون کررہا تھا رمشا کا فون بند ارہا تھا. ہوسکتا ہے اپنی کسی دوست کے پاس گئی ہو. کیونکہ اس کے والدین تو نہیں ہیں…
حالات کی ستم ظریفی انسان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لیے مجبور کرتی ہے چاہے وہ ازدواجی زندگی کے ہی کیوں نہ ہوں…
دوا علاج کے بعد دانش ماں کو گھر واپس لایا. ملازمہ نے خبر دی رمشا بی بی نے جاتے جاتے یہ خط دے گء ہیں.. دانش کے ہاتھ میں دے کر وہ چلی گئی تھی.ایک طرف ماں کی باتیں حیرانی کا باعث بن رہی تھی تو دوسری طرف رمشا کی زندگی میں پھر سے اندھیرے کا دکھ تھا…
عالم بے تابی میں دانش نے خط کھول کر پڑھنے لگا…
میرے پیارے دانش میرے اس طرح کے اچانک چلے جانے پر مایوس مت ہونا. کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ مجھے یہ سماج برداشت نہیں کرے گا. ہر.کسی کو ماں کی عزت پیاری ہوتی ہے. وہ الگ بات ہے کسی کو وہ مواقع بحسن و خوبی ملتے ہیں. جن کی زندگی خوشگوار گزرتی ہے. میں جانتی ہوںکہ اب آپ کی ماں نے میرے تعلق بہت سی باتیں بتائیں ہوں گی. لیکن اب اس کا سچ کرنا میرے بس میں نہیں تھا. میں مانتی میری ماں بچپن میں مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھی. مجھے ماں کا پیار نہیں ملا. مجھے نہیں معلوم ممتا کیا ہوتی ہے. جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو ایک فقیر کے گھر میں پایا. شام کے وقت روکھا سوکھا خاکر گزارا کرلیا کرتی تھی میرا گھر کوئی عالی شان نہیں بلکہ سڑک کے کنارے بنے فٹ پاتھ پر بدبو سے معمور جہان پر بھنبھناتی مکھیاں شہر کی غلاظت جمع ہوتی تھی۔ اس کے عقب میں بوسیدہ کپڑے کی بنی جھونپڑی میں میرا بچپن گزرا ہے.جب سن شعور کو پہونچی تو میرے بابا نے مجھے ہوٹل میں صاف صفائی کے کام پر لگا دیا. جہاں پر ہر کوئی مجھے چبھتی ہوئی نگاہوں سے دیکھا کرتا تھا. لیکن مجھے اپنی قسمت پر رونا نہیں آیا کیونکہ میری تقدیر میں یہی لکھا تھا.
کبھی کسی نے مجھے اس غلاظت بھری زندگی سے نکالنے کے آگے نہیں آیا. ہر کوئی قریب آکر اعلی زندگی کے سبز باغ دیکھایا اور پھر دور ہوگیا. میری بھی خواہش تھی کہ ایک اچھی اور عزت کی زندگی بسر کروں گی. لیکن یہ سماج مجھے اجازت نہیں دیتا. یہ تو آپ کی دریا دلی تھی کہ کچھ پل مجھے عیش و آرام کی زندگی گزارنے کا موقع دیا. میں بھی اپنی زندگی کی ساری خوشیاں محسوس کرنا چاہتی تھی. ایک بیٹی کے روپ میں. ایک بہو کے روپ میں. مگر یہ میرے لیے ممکن نہ ہوسکا. آپ کی خوشی کی خاطر اپنے بابا کو دکھ بھری زندگی گزارنے پر مجبور کرکے آپ سے شادی کرلی تھی. کیونکہ میری روز کی آمدنی بابا کے دوا علاج کے کام آتی تھی. بابا کے لیے صرف میراسہارا تھا. مجھے تو معلوم نہیں تھا کہ یہ معاشرہ بن ماں باپ کی لڑکی کو قبول نہیں کرتا۔
. دانش میں نے تم کا چاہا تھا اور بہت ٹوٹ کر چاہا. لیکن آج ماں جی نے پھر مجھے اپنی قدیم طرز پر زندگی گزارنے کے لیے مجبور کردیا مجھے ہوسکے تو معاف کردینا. میری تلاش کی کوشش نہ کرنا ہوسکتا ہے کہ ایسا کرنے سے آپ کی ماں ناراض ہوجائیں میرے وجہ سے آپ ماں کی نظر سے اتر جائینگے. جہان بھی رہیں خوش رہیں. آپ کی دوست رمشا……
خط ختم ہوا تو دانش کے پیروں تلے سے زمین کھسکتی ۔محسوس ہوئی قریبی کرسی پر دراز ہوگیا. خط کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اپنی بد قسمتی پر افسوس کرنے لگا. آنکھوں سے آنسو کی لڑی جاری ہوچکی تھی. دل بیٹھ رہا تھا سانس پھولنے لگی تھی قریب تھا کی غشی طاری ہوتی کہ اسی درمیان فون کی گھنٹی بجی لیکن اس سے انحراف کیا اپنی تاریک زندگی کے مسائل پر غور کرنے لگا. شاید آج اسے بہت افسوس بھی ہوا کی والدین کی مرضی کے بغیر شادی نہیں کرنا چاہیے. مگر پھر بھی ایک بات دل میں کھٹک رہی تھی. کہ رمشا کوئی بھی فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کرتی ضرور اسے کسی نے مجبور کیا ہے. اس کا پتہ کرنا ضروری ہے میں اس طرح رمشا کو برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتا. فوراً فون اٹھایا تو دیکھا کہ رمشا کی.مس کال ہے. واپس کال کیا….
ادھر سے آواز آئی.
ہلو.. ہلو
ہلو رمشا.. رمشا تم کہان ہو..
جی وہی پر جہان مجھے ہونا چاہیے تھا.
لیکن تم اچانک کیوں گئی..
کیوںآپ کو میرا خط نہیں ملا….
ملا تو ضرور مگر ایسے اچانک…..
اور آپ کی ماں نے بھی آپنا فیصلہ سنایا ہوگا آپ کو….
جی ہان وہ بات الگ ہے لیکن…..
لیکن کیا اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے…..
آپ کو سچ جاننا ہے….
جی ہان…..
تو پھر آپ جلدی سے طلاق کے کاغذات تیار کروا کر میرے پاس روانہ کردیں…
رمشا پلیز ایسی بات نہ کرو…..
کیو آپ اپنی ماں کی بات نہیں مانیں گے…
جی وہ تو ہے…..
لیکن سچ کیا ہے…
سچ بہت تلخ ہے جو آپ سن نہیں سکتے……
ایسا کیا ہے رمشا جو میں نہیں سن سکتا ہوں……
دیکھو دانش ہر بیٹے کو اپنی ماں کی عزت پیاری ہوتی ہے… وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ میری ماں کی عزت پر کوئی آنچ اے….
رمشا پلیز بات گھوما پھرا کر نہ کرو….
میں جو بات بولوں گی شاید اپ.مجھ سے بات کرنا بھی بند کردین گے…
جی نہیں..
تو آپ مجھے ایک بات بتایئں. کیا آپ کی خبر گیری کے لئیے میں آپ کو فون نہیں کرسکتی…
جی بالکل کرسکتی ہو…. اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے….
اب ہم میاں بیوی ہیں ایک دوسرے کی خبر رکھنا ضروری ہوتا ہے…
جی ہاں مگر وہ بات کیا جس سے تم ناراض ہوکر چلی گئی…
بات در اصل یہ ہے کہ کل صبح جب آپ آفس کے لیے نکلے تو آپ کے جانے کے بعد میں اپنے کمرے میں بیٹھ کر آپ سے فون پربات کررہی تھی……
جی ہاں. باتیں ہوئیں تھیں….
اسی وقت ماں جی کمرے کی اوٹ میں کھڑی ہوکر میری باتیں سن لی. بعد میں مجھ سے سوال کیا کہ اور کتنے عاشق ہیں تمہارے. میرے ہزار صفائی دینے کے باوجود ماں نے مجھے دھکے دے کر گھر سے باہر کردیا………
اتنے میں فون کٹ گیا رمشا کی آواز رندھ گئی تھی. دانش کو اپنی ماں کی بچکانہ حرکت پر غصہ تو بہت آیا. لیکن رمشا کی بے بسی پر دل بھر آیا. ماں کی بد گمانی پر تڑپ گیا……
عورت جب اپنا رنگ بدلتی ہے تو ناگن سے بھی خطرناک ہوتی ہے. لیکن جب کسی کو دل اپنا لیتی ہے تو پھر کوئی بھی طاقت اسے دل اتار نہیں سکتی ہے. ایسی حالت میں انسان بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے جس کی بے بسی دیکھ کر بے بسی بھی بے بس ہوجاے. وہ جتنی کمزور سمجھی جاتی ہے اس کے چار گنا طاقت ور ہے. یہ تو مردوں کی کم ظرفی ہے جو اسے لاغر و کمزور سمجھتے ہیں… کیونکہ دانش کوآج خیال آیا کہ عورت جانے سے پہلے جاچکی ہوتی ہے۔ اور پھر یہ تو رمشا ہے جسکے تعلق سے ہر کوئی بد گمانی کا شکار ہے. خط کو ماں کے پاس کھلا چھوڑ کر دانش بالا خانے کی کھڑکی کے پاس ہاتھ کی ہتھیلی پر اپنی تھوڑی کو ٹکائے کھڑا سوچ رہا تھا. سامنے سر سبز وشادب گلستان میں مختلف اقسام کے پھول تیز ہواؤں میں لہرا رہے تھے. لیکن آج اس باغیچے کی خوشبو بھی ہلکی محسوس ہورہی تھی. گلاب کے پھول کی طرف اسکی سرخی اور اہمیت پر پر غور کیا. کہ یہ پھول ہے جو ہر کسی کو پسند ہے کسی خوشیاں دیتا ہے تو کسی کو آنسو بہانے پر مجبور بھی کرتا ہے. پھر پھول. کانٹا. اور خوشبو ایک ہی شاخ پر پروان چڑھتے ہیں. ان کے درمیان کبھی کوئی تضاد نہیں ہوتا.
.
ماں بھی ایک ایسی ہستی ہے جس کے بہ نسبت گھر خاندان کی رونق ہوتی ہے اور اگر وہی بد ظن ہوجاے تو پھر کسی نیک نیتی کے مداخلت کی گنجائش نہیں ہوتی ہے..
دانش اور ماں کے درمیان ایک بدگمانی کی دیوار قایم تو ہوچکی تھی. لیکن حقیقت سے ماں کو آشنائی نہ ہوسکی. دانش کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ رمشا کے تعلق سے کچھ شفائی پیش کرے. نادم ،بے بس مجبور درد کی شدت سے چور انسان کبھی کسی کے لیے پختہ دیوار نہیں بن سکتا.
کھڑکی کے سامنے کھڑا دانش اپنے نصیب کی کرچیاں سمیٹ رہا تھا غم و الم کے سمندر میں غوطہ زنی کرکے تھک ہار کر بے حس و ساکت کھڑا تھا. آنکھوں سے گرم آنسوؤں کی.موسلا دھار بارش بھی اپنے شباب پر تھی آنکھوں کی سفیدی میں سرخی مائل ہوچکی تھی. نیم نگاہوں میں اچانک ایک ہرکت پیدا ہوئی دل و دماغ میں ہیجان برپا ہوا ۔ایک لمحہ کو دل میں خیال آیا کہ جاکر ماں کو سب کچھ سچ بتا دے. لیکن ماں نے اس قبل تاکید کردی تھی کہ پہلے اسے طلاق دو……. طلاق دو……
یہ باتیں دانش کے ذہن میں آتے ہی بدن میں سرسری دوڑ اجاتی تھی. آنسوؤں کی روانی نے گریبان کو تر بتر کردیا تھا..یکایک اسے اپنے پیروں میں لرزش محسوس ہوئی خود کو قابو نہ کرسکتا ۔اور زمین پر گرنے لگا اسی درمیان ماں دانش کے کمرے میں داخل ہوچکی تھی جلدی سے دانش کو سنبھالا… ماں ہر موڑھ پر اولاد کے لیے سہارا بنتی ہے. جلدی سے دانش کو بستر پر لٹا دیا ملازمہ کو آواز لگائی ۔ملیحہ کہان ہو جلدی ادھر او دیکھو میرے بچے کو کیا ہوگیا ہے…
کیا ہوا بی بی جی…
جاو فوراً ڈاکٹر کو فون کرو……
جی اچھا…
ملیحہ بھاگتی ہوئی ڈاکٹر کو فون کیا…
ہلو ہلو ڈاکٹر صاحب ہیں…
جی میں ڈاکٹر انور بات کررہا ہون…. اپ.کہاں سے بول رہی ہوں….
اپ.جلدی سید یوسف کے گھر آجائیں…
ٹھیک ہے پانچ منٹ میں آتا ہون….
شکریہ….
ملیحہ ،بھاگتی ہوئی گلاس میں پانی لے کر ماں کے پاس پہونچی تو دیکھا کہ دانش کے اوسان ساکت ہوچکے ہیں
ماں زار و قطار آنسوؤں کی ندیاں بہاے جارہی تھی. بار بار اپنی غلطی کو دہرا رہی تھیں دانش خدا کے واسطے آٹھ جاو میں نے تم کو غلط سمجھا تھا. تمہارے جانے کے بعد میں نے خط پڑھ لیا تھا. لیکن مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہوری تھی کہ تمہارے سامنے اس کا تشفیہ کرلوں..
ملیحہ، دائیں جانب کھڑی سسکیاں لے رہی تھی. کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی.. ماں نے ملیحہ کو متوجہ کیا دیکھو جلدی کون آیا ہے..
جی اچھا میں دیکھتی ہوں..
ملیحہ دروازے پر گء خفیہ سوراخ سے دیکھا تو ڈاکٹر صاحب اچکے تھے جلدی سے دروازہ کھولا… اور بولی…..
اسلام علیکم جی آپ آئیں اندر….
شکریہ….
کہان ہے مریض…
آپ میری طرف آئیں…
ملیحہ نے ڈاکٹر یو دانش کے پاس لے آء….
چیکپ کے بعد ڈاکٹر نے دانش کو انجکشن دیا ۔دانش کو.ہوش آگیا…….
یا اللہ تیرا لاکھ شکر ہے ماں نے دل کی گہرائیوں سے خدا کا شکر ادا کیا…
جاتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا…
میں نے انجکشن دیا ہے اور یہ کچھ دوائیاں لکھ دی ہیں آپ انہیں دے دینا انشا اللہ بہت جلدی ٹھیک ہوجائیں گے..بس انہیں زہنی دباؤ ہوگیا تھا توڑا آرام کی ضرورت ہے
جی شکریہ…. اب میں چلتا ہوں…. ملیحہ نے ڈاکٹر صاحب کو دروازے تک چھوڑ دیا…
دانش بیٹا مجھ سے باتیں کرو آنسو پوچھتے ہوئے کہا.. تمہارے جانے کے بعد میں نے پورا خط پڑھ لیا۔ میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں ماں نے پھر لرزش بھری آواز میں کہا..
نہیں ماں آپ بہت اچھی ہیں معافی تو مجھے مانگی چاہیے میری وجہ سے اپ.کو تکلیف ہوئی..
دانش اٹھو جاو رمشا کو واپس گھر میں لے کر آو وہ میری بیٹی کی طرح اس گھر میں رہے گی..
ماں رمشا جاچکی ہے ہم دونوں اس کی نظروں سے اتر چکے ہیں ماں.. اب کچھ نہیں ہوسکتا ہے…
کہان ہے وہ.بتاو میں اسے لیکر آتی ہون….
ماں وہ جہان رہتی ہے ہم وہان نہیں جاسکتے کیونکہ اسکی دنیا ہماری دنیا سے الگ ہے…. وہ اشٹیشن کے فٹ پاتھ پر جگی جھونپڑی میں رہتی ہے…
وہ.اپنی دنیا میں خوش ہے. اب کیوں اسے آپ گھر لانا چاہتی ہیں. وہ تو آپ کی حیثیت کی نہیں ہے اب دانش بھی جذبات سے لبریز ہوکر بول رہا تھا.. شرمندگی سے ماں دانش کی باتیں سن رہی تھی آج پہلی بار آنکھ سے آنکھ ملا کر دانش کو بات کرنے کا موقع ملا….
زندگی تو ایک. آہ. ہے لیکن اسے واہ کرکے پیش کی جاتی ہے. جس میں مردو زن کے جزبات کی کارفرمائی ہوتی ہے. خوب سے خوب تر بناے میں کبھی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو کبھی ناکامی. مگر کسی نہ کسی اعتبار سے کوشش ضرور ہوتی ہے.دو مہینے گزر گئے آج دانش کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ کبھی کبھی کچھ فیصلے خود سے ضرور کرنا چاہیے اگرچہ کہ اس کی خلاف ورزی ضرور ہوتی ہے لعن طعن کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ سب عارضی ہوتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے.
آج میری ماں اسی رمشا کو گھر میں لاکر رکھنے کی بے انتہا کوشش کررہی ہے. کل بھی وہی ماں تھی جو رمشا کو ایک منٹ کے لیے گھر میں برداشت کر نے پر آمادہ نہیں تھی. ماں تو ماں ہوتی ہے اس لیے اس دنیا میں سب سے زیادہ ماں کا مان ہوتا ہے پل میں خوش ہوتی ہے اور پل میں ناراض بھی.
دن چڑھ چکا تھا سورج بھی اپنی تمازت پھیلا ے مست و مگن تھا باہر نکلنا بہت مشکل تھا گرم ہواؤں کے تھپیڑے ایسے جو ہر قوی زی روح کو کمزور کرنے والے تھے. ایسے عالم میں ماں باہر نکلنے کو مجبورہے.
دانش یہ سب گھر میں بیٹھ کر دیکھ رہا تھا آنسو پوچھتے ہوئے ماں دانش کے قریب آء……. اور بہت انکساری میں مخاطب ہوئے….
دانش چلو جلدی رمشا بہت دور چلی جائے گی.
کہان ماں…… اس چلچلاتی دھوپ میں کہاں جائیں گے……
دانش اب ضد مت کرو میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں..
اچھا ٹھیک ہے تھوڑا آرام کرلو شام کے وقت چلیں گے….
نہیں نہیں دانش بیٹا رمشا اگر کہیں جلدبازی میں کچھ کرلے تو میں اپنے آپ کو معاف نہیں کرپاوں گی…….
ماں آپ ایک بار ،ذرا اطمینان سے غوروفکر کریں کہ اب ہم کس منہ سے اس کے پاس جائیں گے….
نہیں بیٹا میرا دل کہتا ہے وہ ضرور مان جاے گی…..
اچھا ٹھیک ہے اگر بے عزت ہونے کو تیار ہیں تو میں چلنے کو راضی ہوتا ہوں….
بہت اچھے میرے لال….لیکن ایک بار پھر سوچ لیں کی اب دوبارہ اسے زندگی بھر کسی کمی بیسی پر ڈانٹ ڈپٹ نہیں کریں گی….
اس بار ماں نے جزبات سے لبریز ہوکر کہا. بیٹا اب تم دیکھنا میں اسے اپنی بیٹی بناکر رکھوں گی. رانی بن کر اس گھر میں راج کرے گی…..
اچھا ٹھیک ہے چلو…
میں ڈرائیور کو کہتا ہون گاڑی نکالنے کو. جب تک آپ تیار ہوجاو..
چند منٹ بعد دونوں حیران و پریشان رمشا کی تلاش میں نکل گیے..
گرمی کا موسم. تیز دھوپ. گرم ہوائیں چل رہی تھی لیکن یہ سب ماں کو سرسبز و شاداب محسوس ہورہا تھا.گاڑی تیز رفتاری سے اپنی منزل مقصود تک سرپٹ دوڑ رہی تھی. ایک طرف دانش کے دل میں جزبات بھی امنڈ رہے تھے. اور دوسری طرف دانش خدشات کی وادیوں میں گھوم رہا تھا کہ اب اگر رمشا نے انکار کردیا تو میری زندگی ختم ہوجاے گی. کس منہ سے میں اس کا سامنا کروں گا. اس نے تو سارے تعلق ہی منقطع کردیئے تھے. ایک لمبی آہ بھری سانس لی من ہی من میں بڑبڑایا چلو اب جو ہوگا دیکھا جاے گا.
کیا ہوا دانش تم نے کچھ کہا.. نہیں امی جان کچھ نہیں بس آگے تھوڑی دور اور جانا ہے. ماں کے اوپر بے چینی کے اثرات مرتب ہوئے گھبراہٹ کے عالم میں کہا یا اللہ یہ راستہ ختم کیو نہیں ہورہا ہے….
امی آپ حوصلہ رکھیں انشائاللہ سب کچھ ٹھیک ہوگا..آگے چورستے سے گاڑی دائیں جانب موڑ کر چلنے لگی. جہان سے شہر کی غلاضت سے اٹا ہوا سڑک کے کنارے سے ایک سلسلہ شروع ہوگیا. ناقابل برداشت بدبو کبھی کبھی گاڑی کے ماحول کو اس قدر خراب کررہی کہ ابکائی آنے کی ڈر سے دونو رومال سے اپنی ناک بند کرلیتے تھے. سو گز کے فاصلے سے ٹوے پھوٹے مکانات اس کوڑا کرکٹ کے میدان میں نظر آنے لگے تھے جس کی دیواریں کپڑے کی تھیں کہیں پر ایک لمبی لکڑی کے سہارے کپڑے کی چھت والے مکان بھی دیکھای دیے ان گھروں کے سامنے ایسے بچے بھی کھیلتے ہوئے خوش و خرم نظر آئے جن کے تن کپڑے کی نمائش سے آزاد سے آزاد تھے.. اسی طرح کے گھروں کے سلسلے میں اچانک درمیان میں دانش نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کو کہا.. ماں جو گھر سے نکلتے جتنی زیادہ پر جوش تھی اس سے کہیں زیادہ مایوس ہوچکی تھی صرف اس جگہ پر بنے ہوئے مکانات کو دیکھ کر….
گاڑی روکی دانش باہر نکل کر ماں سے کہا…
امی جان باہر آیا جاے یہی پر آپ کی بیٹی رہتی ہے..
ماں اندر ہی اندر مایوس کن رہی مگر اب انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہی…
باہر آء….دانش نے طنزیہ انداز میں کہا…
یہ ہے رمشا کی دنیا اسی غلیظ جگہ میں وہ اپنی زندگی گزار رہی ہے جہان پر تمام شہروں کی غلاظت اکٹھاں ہوتی ہے…
مگر ماں نے اس بار کوئی جواب نہ دیا بس دانش کے پیچھے پیچھے چلتی رہی. اچانک ایک پھٹے پرانے کپڑوں سے بنی ہوئی دیوار والے مکان کے سامنے رک گیا. ماں نے ابھی تک رومال سے اپنی ناک منہ کو بند کرر کھا تھا اس کی ہمت نہیں ہوری تھی ایک بار پوچھ لے کہ یہان کون ہے کس کا گھر ہے.
یکایک ان دونوں کو دیکھ پاس پڑوس کے لوگ جمع ہوگئے اور چاروں اطراف سے ان دونوں کو گھیر لیا. دانش نے ایک بچے سے کہا جو ایک ہاتھ سے اپنے دونوں ٹانگوں کے درمیان کے الف چھپا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اپنی بہتی ہوئی ناک پر بیٹھتی مکھیوں کو بھگا رہا تھا. جاو اس گھر میں رمشا کو بلاو….
وہ دوڑتا ہوا اندرگیا اور دیکھتے دیکھتے رمشا کی انگی پکڑ کر بار لایا.. دانش کی نظر پڑی رمشا کا چہرہ فک ہوگیا آنکھوں میں انتقام کے شرارے ابھرنے لگے. لیکن دانش شرم سے اپنی نظر ماں کی طرف جھکا کر اپنی گردن کو ہلکی سے جنبش دی. گویا اب وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا ہے….
ماں نے پلک جھپکاتے ہوئے دانش کو تسلی دی…
السلامُ علیکم رمشا بیٹی..کیسی ہو…..
وعلیکم السلام اللہ کا شکر ہے جیسے آپ نے اپنے گھر سے رخصت کیا تھا.
تیوری چڑھاتے ہوئے ماں نے پھر کہا دیکھو ہم تمہارے گھر آئیں ہیں کیا گھر میں اندر نہیں بلاوگی….
منہ کو گول کرکے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے رمشا نے کہا آئیے ہم اتنے بے غیرت نہیں کہ گھر آئے مہمان کو دھتکار کے بھگا دین…! جی شکریہ دانش بت کے.مانند بے حس و حرکت کھڑا تھا اسکی ہمت نہیں ہوری تھی کی رمشا سے نظر ملا سکے.. دونوں اندر جانے لگے اتنے میں رمشا نے تمام لوگو کو اپنے اپنے گھروں کی طرف چلتا کیا جاو اب یہاں کوئی میلہ نہیں لگا ہے. اطراف میں کھڑی عورتیں کانا پھوسی کرتے وہاں سے رخصت ہوگئیں…
رمشا واپس اپنے گھر میں داخل ہوئی سر پر ڈوپٹہ سلیقے سے رکھتے ہوئے سامنے بچھی گرد آلود چادر پر بیٹھنے کو کہا..
ہڑبڑاتے ہوئے دونوں نے کہا نہیں ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں…کیوں، کیا ہوا آپ دونوں کو یہ میرا آشیانہ پسند نہیں ہے. یہی میری دنیا ہے جس میں رو ،گا کر پلی بڑھی ہوئی…جی بیٹی بہت اچھی بات ہے جس کے نصیب میں جو ہوتا ہے وہ ملتا ہے ہر کسی کی تقدیر ایک جیسی نہیں ہوتی ہے…..
بالکل سچ کہا آپ نے ماں جی یہ تقدیر کا کرشمہ ہے کہ آج آپ بھی اس غلاظت میں کھڑی ہیں…
اس بے رخے جواب پر دانش نے اپنی خاموشی توڑی. رمشا چلو جلدی کرو ہم سب تم کو لینے کے لئے آے ہیں….
کیو دانش صاحب اب تو آپ کی ماں کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا.ہوگئی تسلی آپ لوگوں کو دیکھ لیا میرے خاندانی سلسلے کو…. ہون…. ہون…… ہون…. رمشا دوپٹے میں اپنے سر کو چھپا کر رونے لگی تھی…..
ماں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر رمشا سے معافی مانگ لی. بیٹی مجھ سے بہت بڑی بھول ہوگئی مجھے معاف کردو.
نہیں ماں جی معافی تو مجھے مانگنی چاہیے جو آپکے سیدھے سادھے بیٹے کو پھنسا کر شادی کرلی…..
بیٹی میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں…ماں جی آپ بھی کمال کرتی ہیں ایک عورت کا گھر پہلے توڑتی ہیں پھر جوڑنے کی معافی بھی مانگتی ہیں..رمشا بس کرو اب ماں کی حالت تو دیکھو. تم کو پتہ ہے وہ کتنی خوشی خوشی تم لینے کے لئے آئے ہیں…. اور تم ہو کہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے لگی…نہیں نہیں نہیں دانش میں اس دنیا میں بہت خوش ہوں. اس بار رمشا نے چلاتے ہوئے کہا….
.رمشا میری بات کا یقین کرو ماں جی بدل چکی ہیں. اب یقین دلاتا ہون کہ زندگی میں کبھی بھی کچھ نہیں ہوگا…. اتنے میں پیچھے سے کسی کے آنے کی آہٹ ہوئی. رمشا نے اپنے حالات درست کرلیے سامنے دیکھا تو لاٹھی کے سہارے ایک پیر سے معذور اس کے بابا کھڑے تھے….کون ہے رمشا بیٹی یہ کون لوگ ہیں..جی بابا بابا میرے سسرال والے اے ہیں اوہ اچھا……ہان بیٹی تم کو اے ہوے بھی تو بہت دن ہوگیا تھا چلو اچھا ہوا اب تم ساتھ چلی جانا…
بابا کی باتیں سن کر دانش کے دماغ میں یہ بات رقص کرنے لگی کہ.لگتا ہے رمشا نے گھر میں کچھ نہیں بتایا ہے. ماں کی طرف غور سے دیکھا ماں نے بھی ندامت سے سر جھکا لیا…….اتنے میں بابا نے کہا…..دانش بیٹا رمشا کو میں نے بہت ناز سے اپنی استطاعت کے مطابق پالا ہے تم اسے کوئی تکلیف مت پہنچانا……
جی بابا……لیکن بابا آپ ایک بار اس سے کہیں تو سہی رمشا سے گھر جانے کے لیے…
کیو کوئی بات ہے…کیا ہوا رمشا بیٹی..بابا کوئی بات نہیں ہے… میں تو جانا چاہتی تھی لیکن کوئی لینے نہیں ارہا تھا….
اوہ اچھا ایسی بات ہے رمشا نے مسکرا کر بابا کی طرف دیکھا ہے خوشی کی ے آنسو چھلک اے تھے…
دانش اور ماں کے اوپر پہاڑ ٹوٹتے ہوے بچ گیا تھنڈی سانس لی خدا کا شکریہ اداکیا….. رمشا اگر تم کہو تو بابا کو بھی گھر ساتھ ساتھ لے چلیں….وہان انکی دیکھ بھال ہوتی رہے گی…..
ہان وہ تو ٹھیک ہے….. لیکن ماں جی…….اس بار ماں جی نے بہت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا بیٹی مجھے کوئی اعتراض نہیں بس تم جتنا جلدی ہوسکے واپس چلو……رمشا نے بہت سنجیدہ انداز میں ماں کے سامنے کھڑے ہوکر کہا. امی جان میں نے جزبات میں بہت کچھ آپ کو سنایا ہے مجھے معاف کردین..ارے بھگ پگلی تم تو میری اپنی بیٹی جیسی ہو یہ بھی کوی کہنے کی بات ہے مائیں اپنی اولاد سے کبھی غصہ نہیں ہوتیں..
ٹھیک ہے میں ابھی تیار ہوتی ہوں. جلدی سے سارا سامان رمشا باندھا دانش بھی رمشا کے ساتھ تیاری میں لگا رہا. چند لمحے میں سب ہنسی خوشی گھر کی طرف روانہ ہوگئے جاتے ہوئے رمشا نے گاڑی میں بیٹھ کر اپنے گھر کی طرف الوداعی نظر دوڑائی دل بھر آیا لیکن ایک نئی دنیا نے رمشا کو تسلی دی. خدا کا شکر ہے تونے میری سن لی………..
ابراہیم نثار اعظمی…….9611954067.
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

