’’سنبل پلیز…!اگر تم اس طر ح سے ہمت ہار بیٹھو گی تو پھر میں جا نہیں سکوں گا۔‘‘حیات نے اس کے ہاتھ تھام کر محبت سے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’لیکن میں تمہارے بغیر کیسے رہ پاؤں گی!‘‘
’’میں بھی تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔مگر جان!یہ میری مجبوری ہے۔اتنا اچھا چانس مل رہا ہے اور میں اسے مِس نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ جلدی لوٹ آئوں گا۔دیکھو مجھے زیادہ دولت کی ہوس نہیں ہے بس وہاں چند سال رہ کر میں اتنا روپیہ جمع کرنا چاہتاہوں کہ واپس آکر اپنا کوئی بزنس شروع کر لوں۔ تمہیں اور عائشہ کو اچھی زندگی دے سکوں، پھر ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔‘‘حیات نے بڑے احسن طریقے سے اسے سمجھایا۔
’’لیکن یہ چند سال …!‘‘سنبل نے آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھا۔
’’بس پلک جھپکتے گزر جائیں گے…!‘‘
حیات نے اس کی بات درمیان میں کاٹتے ہوئے کہا۔
تبھی ڈور بیل بج اٹھی۔
’’عائشہ آگئی…!دیکھو اب تم اپنے یہ آنسو صاف کر لو ورنہ ہماری بیٹی پریشان ہو جائے گی۔‘‘
حیات نے اپنی انگلیوں سے اس کے رخساروں پر بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا اور دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
’’السلام علیکم پاپا…!‘‘
حیات نے جیسے ہی دروازہ کھولا،اس کی چار سالہ بیٹی عائشہ نے اسے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام بیٹی…!‘‘
حیات نے مسکرا کر اسے گود میں اٹھا لیا۔
’’آج ہماری بیٹی نے اسکول میں کیا کیا؟‘‘
حیات نے عائشہ کو کرسی پر بٹھاتے ہوئے محبت سے پوچھا۔
’’پاپا…!آج میں نے ثوبیہ کی پٹائی کر دی ۔‘‘
وہ اس طرح بولی جیسے کوئی بڑا معرکہ سر کیا ہو۔
حیات اور سنبل اس کی معصومیت پر مسکرا دئیے۔
’’بری بات عائشہ!کسی کی پٹائی نہیں کرتے،نہ کسی سے جھگڑا کرتے ہیں۔‘‘
سنبل نے پیار سے اسے سمجھایا۔
’’ارے بھئی!ہماری بیٹی کو بھوک لگی ہوگی،جلدی سے کھانا لگواؤ۔‘‘
حیات نے عائشہ کے جوتوں کے تسمے کھولتے ہوئے کہا تو سنبل اٹھ کر کچن میں آ گئی۔
سنبل کی شادی کو پانچ سال ہو گئے تھے لیکن آج بھی دونوں کی محبت ایسی ہی شدید تھی جیسے کسی نئے شادی شدہ جوڑے کی ہوتی ہے۔دونوں کو ایک دوسرے کے بغیر قرار نہیں آتا تھا اور عائشہ میں تو ان دونوں کی جان تھی۔
حیات ایک پرائیویٹ فرم میں جاب کرتا تھااور اس کی آمدنی اتنی تھی کہ وہ لوگ خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے لیکن جب سے عائشہ ان کی زندگی میں شامل ہوئی تب سے حیات کو اپنی آمدنی بڑھانے کی فکر لاحق ہو گئی تھی، جس کا اظہار اس نے ایک دن سنبل کے سامنے بھی کر دیا۔
’’بس ایک مرتبہ مجھے باہر جانے کا موقع مل جائے تو پھر تم دیکھنا جان!میں اپنی بیٹی کے لیے دنیا کی ساری آسائشیں لاکر اس کے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا۔‘‘
’’نہیں حیات!میں تمہیں باہر نہیں جانے دوں گی۔اچھی بھلی خوشحال زندگی گزر رہی ہے ہماری،دولت کی زیادہ ہوس بھی ٹھیک نہیں ہوتی۔‘‘سنبل نے فوراً اس کے ارادہ کو مسترد کر دیا۔
’’سنبل!میری خواہش ہے کہ میں تمہیں اور عائشہ کو ایک پُر آسائش زندگی دوں۔‘‘
حیات اس کا ہاتھ تھام کر بولا:’’جب تم گھر کے کام اپنے ان خوبصورت ہاتھوں سے کرتی ہوتو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔‘‘
’’اس میں دکھ کی کیا بات ہے…؟‘‘وہ حیران ہو کر بولی۔
’’گھر کے کام عورتیں اپنے ہاتھوں سے ہی کرتی ہیں اور مجھے بھی یہ سب کرنا اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’نہیں سنبل!میرا جی چاہتا ہے کہ تم کو کوئی کام نہ کرنا پڑے،بس سجی سنوری بیٹھی رہو،ایک رانی کی طرح…!‘‘
سنبل اس کی بات سن کر ہنس پڑی۔
’’میرے بھولے راجہ!اتنی خواہشیں کرنا اچھا نہیں ہوتا۔دنیا میں انسان تبھی خوش رہ سکتا ہے جب وہ اپنی خواہشات کو محدود رکھے۔بعض اوقات انسان اپنی خواہشات کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایسے کام کر گزرتا ہے جو انسانیت سے پرے ہوتے ہیں۔‘‘
’’تم نہیں سمجھوگی سنبل!‘‘
’’میں سمجھنا بھی نہیں چاہتی۔‘‘
تبھی عائشہ آگئی۔
’’پاپا…!مجھے آئس کریم کھانی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے بیٹا…!ابھی چلتے ہیں،اپنی بیٹی کو آئس کریم کھلائیں گے۔‘‘
’’سنبل!تم بھی تیار ہو جاؤ،آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔‘‘
…………………
سنبل کچن میں مصروف تھی ،تبھی حیات آگیا۔
’’جلدی سے کھانا لگا دو،بڑے زور کی بھوک لگی ہے۔‘‘اس نے ٹائی کی گرہ کھولتے ہوئے کہا۔
’’آپ کپڑے بدل کر آئیں میں کھانا لگاتی ہوں۔‘‘
کھانا کھانے کے دوران حیات نے سنبل کو بتایا کہ اس کی دبئی کی ٹکٹ کنفرم ہو گئی ہے اور اگلے سنڈے اس کی فلائٹ ہے۔
سنبل کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر جکڑ لیا ہو۔
اس کا مسکراتا ہوا چہرہ بجھ گیا۔
’’ارے تمہیں خوشی نہیں ہوئی!‘‘حیات نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’مجھ سے دور رہ کر کیا تم خوش رہ سکتے ہوحیات!‘‘
سنبل نے اداسی سے پوچھا۔
حیات اپنی جگہ سے اٹھا اور ا س کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔اس نے سنبل کے شانوں کو آہستگی سے تھاما اور بولا:’’تم اچھی طرح جانتی ہو میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں تمہارے بغیر میں ایک دن بھی جینے کا تصور نہیں کر سکتا لیکن اپنے لیے نہیں،میرے لیے نہیں،بس ذرا عائشہ کے لیے سوچو۔وہ ہماری اکلوتی بیٹی ہے،میں چاہتا ہوں کہ اس کی پرورش بہترین ہو اس کو اعلیٰ تعلیم دلوائوں اور جب وہ بڑی ہو جائے تب اس کی شادی اتنی دھوم دھام سے کروں کہ لوگ اس کی قسمت پر رشک کریں۔ذرا سوچو تو سنبل جب عائشہ کی شادی ہو جائے گی تب ہم کتنے اکیلے ہو جائیں گے۔‘‘
وہ ایک لمحہ کے توقف کے بعد بولا:’’اسی لیے میں کہتا ہوں،اب عائشہ کا ایک بھائی بھی آجانا چاہیے۔‘‘وہ شرارت سے مسکرایا۔
لیکن سنبل مسکرا بھی نہ سکی!
وہ تو یہ سوچ کر ہی وحشت زدہ ہو گئی تھی کہ حیات اس سے دور چلا جائے گا۔
’’اچھا ،چلو کھانا کھا لو،پھر اطمینان سے بیٹھ کر باتیں کریں گے۔‘‘
حیات کھڑا ہو گیا۔
سنبل نے بغیر کھانا کھائے ہی خاموشی سے برتن سمیٹے اور کچن میں آ گئی۔
…………………
حیات دبئی جانے کے انتظامات میں مصروف تھا۔
سنبل اس کی ان مصروفیات سے الجھنے لگی تھی ۔حیات محبت اور نرمی سے اسے سمجھاتا لیکن اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ جب اپنے وطن میں اچھی بھلی زندگی گزر رہی ہے تو مزید عیش وعشرت کا سامان مہیا کرنے کے لیے دیار غیر جانے کی کون سی تک ہے بھلا!
’’ہمارے مقدر میں جتنی آسائشیں رب عظیم نے لکھ دی ہیں وہ یہاں رہ کر بھی مل سکتی ہیں بس بندے کو ذرا سی جدوجہد کرنی چاہیے۔‘‘
لیکن حیات اس کے اس نظریۂ فکر سے متفق نہ ہو سکا۔
اور بالآخر وہ وقت بھی آپہنچا جب وہ رخت سفر باندھے ائیر پورٹ جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔
’’جان!میں تم سے شرمندہ ہوں کہ تمہاری خوشی کے بغیر جا رہا ہوں لیکن وعدہ کرتا ہوں کہ میں جلدی ہی لوٹ کر آؤں گا۔ تم اپنا اور عائشہ کا خیال رکھنا۔محض تم دونوں کی خاطر ہی میں جدائی کا کرب سہنے کے لیے تیار ہوا ہوں۔تم دونوں کو ڈھیر ساری خوشیاں دینے کا میں نے خود سے وعدہ جو کیا ہے۔دیکھو اب مسکرا دو ورنہ تمہارا یہ اداس چہرہ مجھے وہاں سکون سے رہنے نہیں دے گا۔‘‘
سنبل نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
وہ،جو اس کا رفیق زندگی تھا…اس کی کائنات…وہ اس کی خاطر اتنی دور جا رہا تھا۔صرف اس کے لیے!
نم آنکھوں کے ساتھ وہ دھیرے سے مسکرائی اور اس کے مضبوط ہاتھوں کو تھام لیا:’’حیات !جلدی لوٹ کر آنا میں تمہارے بغیر تنہا نہیں رہ پاؤں گی۔‘‘
حیات نے عائشہ کو پیار کیا اور بولا:’’بیٹا!ہم آپ کے لیے ڈھیر سارے کھلونے لینے جا رہے ہیں۔آپ ممی کو پریشان مت کرنا۔‘‘
’’اچھا پاپا…!‘‘وہ سعادت مندی سے سر ہلا کر بولی۔
’’پاپا !میرے لیے چاکلیٹ اور بڑی سی ڈول بھی لائیے گا۔‘‘
’’جی بیٹا!ہم ضرور لائیں گے۔اب آپ جلدی سے اپنے پاپا کو پیار کیجیے۔‘‘
عائشہ نے اس کے گلے میں اپنے بازو ڈال کر اس کے رخسار پر پیار کیا۔
حیات نے محبت سے اس کی پیشانی چومی اور اسے سنبل کی گود میں دے دیا۔
’’اچھا اب اجازت دو…اللہ حافظ…دیکھو رونا دھونا بالکل نہیں،میں پہنچتے ہی فون کروں گا۔‘‘
حیات کے جانے کے بعد کتنی ہی دیر تک سنبل دروازے کی چوکھٹ تھامے کھڑی سوچتی رہ گئی۔
کیا جسم سے جان یوں ہی جدا ہو جاتی ہے…!
…………………
حیات دبئی ائیر پورٹ پر کھڑا افروز کا انتظار کر رہا تھا۔افروز اس کا وہی دوست تھا جس نے اسے جاب آفر کی تھی۔وہ کئی سال سے یہاں مقیم تھا۔ اس کا اپنا بزنس تھاجس کی تفصیل سے اس نے حیات کو آگاہ نہیں کیا تھا۔
وہ اپنی سوچوں میں گم تھا۔
کبھی اس جاب کے متعلق سوچتا، جس کے لیے وہ یہاں آیا تھااورکبھی اس کی سوچ کا دائرہ سنبل اور عائشہ کے گرد گھومنے لگتا۔
دفعتاً وہ چونک گیا۔اس نے اپنی رسٹ واچ پر نظر ڈالی۔
’’میرے خدا!‘‘
ایک گھنٹہ گزر گیا یہاں کھڑے ہوئے۔افروز ابھی تک نہیں آیا تھا۔جبکہ اس نے کہا تھاکہ وہ حیات کو ائیر پورٹ پر رسیو کر لے گا۔اس نے اپنا ایڈریس نہیں دیا تھا۔
’’اب کیا کروں…!‘‘
وہ پریشان ہو گیا۔
کئی منٹ اور خاموشی سے سرک گئے۔
وہ ائیر پورٹ سے باہر آگیا۔
چاروں طرف لوگ اپنی اپنی مصروفیات میں گم تھے۔
وہ حیران وپریشان کھڑا گزرتی ہوئی گاڑیوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔شاید کسی گاڑی میں افروز نظر آجائے۔
تبھی ایک معمر شخص اس کے نزدیک آئے۔
’’کیا بات ہے بیٹا…آپ کچھ پریشان نظر آرہے ہو…؟‘‘
’’جی…جی ہاں…!‘‘
حیات نے کچھ گھبرا کر انہیں دیکھا۔
وہ بلیک پینٹ اور وائٹ شرٹ میں ملبوس تھے۔ان کے چہرے پر بڑی اور گھنی مونچھیں تھیں،جو ان کی شخصیت کو بارعب بنا رہی تھیں۔
’’کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟‘‘
’’جی…جی ہاں ،دراصل بات یہ ہے کہ میں یہاں اجنبی ہوں ۔میرے دوست نے مجھے یہاں سروس کی آفر کی تھی۔اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ مجھے ائیر پورٹ پر رسیو کر لے گا مگر مجھے یہاں آئے ہوئے دو گھنٹے گزر گئے اور اس کا کہیں پتہ نہیں۔‘‘حیات نے ایک ہی سانس میں انہیں اپنی پریشانی سے آگاہ کیا۔
’’ارے تو آپ مجھے اس کا ایڈریس بتائیں میں آپ کو وہاں پہنچا دوں گا،نو پرابلم…!‘‘انہوں نے خفیف سی مسکراہٹ کے بعد کہا۔
’’پرابلم تو یہی ہے جناب کہ مجھے اس کا ایڈریس معلوم نہیں…!‘‘
’’کیا…!‘‘انہیں حیرت کا جھٹکا لگا۔
’’کوئی فون نمبر بھی نہیں ہے آپ کے پاس…!‘‘
’’نہیں…!‘‘اس نے مایوسی سے سر ہلایا۔
’’ہاں…ایک فوٹو ہے میرے پاس اس کا …!‘‘حیات نے جیب سے پرس نکالا اور اس میں سے پاس پورٹ سائز کا ایک فوٹو نکال کر انہیں دکھایا۔
فوٹو دیکھ کر وہ چونک گئے۔
’’اب آپ کیا کریں گے؟‘‘انہوں نے چند لمحے توقف کے بعد پوچھا
’’سمجھ میں نہیں آرہا۔‘‘اس نے پیشانی رگڑتے ہوئے کہا۔
’’اگر آپ مناب سمجھیں تو اس وقت میرے ساتھ چلیں،پھر کسی نہ کسی طرح ہم آپ کے دوست کو ڈھونڈ نکالیں گے۔‘‘
اجنبی کی اس آفر پر حیات کو بڑا سکون محسوس ہوا۔
لیکن پھر بھی اس نے کہا:’’آپ کو زحمت ہوگی‘‘
’’میرے ساتھ آئیے۔‘‘وہ حیات کی بات کا جواب دینے کے بجائے آگے بڑھتے ہوئے بولے۔
اس نے خاموشی سے اپنا سامان اٹھایا اور آہستہ قدموں سے ان کے پیچھے چل دیا۔
گاڑی ایک شاندار سے بنگلہ کے سامنے رکی تو حیات نے چاروں طر ف دیکھا۔بنگلہ کے باہر ی آثار سے ہی اس کے طول وعرض کا اندازہ ہو رہا تھا۔
’’آؤ اندر چلتے ہیں۔‘‘وہ اسے لے کر ڈرائنگ روم میں آگئے۔
’’تم نے ابھی تک اپنا نا م نہیں بتایا…!‘‘
اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ خود بھی اس کے سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گئے۔
’’جی…میرا نام حیات ہے۔‘‘
وہ ان کی شان وشوکت سے کچھ مرعوب سا ہو گیا تھا۔
’’اور مجھے زاہد حسن کہتے ہیں۔‘‘انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔
تبھی پردہ ہٹا اور ایک لڑکی وہیل چیئردھکیلتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
’’السلام علیکم…!‘‘اس نے پہلے حسن صاحب اور پھر حیات کی جانب دیکھتے ہوئے سلام کیا۔
’’جی…السلام علیکم…!‘‘وہ کچھ گڑ بڑا کر کھڑا ہو گیا۔
’’لگتا ہے،آپ ابھی تک پریشان ہیں ۔گھبرائیے نہیں جب تک آپ کو آپ کی منزل نہیں مل جاتی آپ اس گھر کو اپنا گھر سمجھیں انشاء اللہ یہاں آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔‘‘زاہد صاحب نے اس کی ڈھارس بندھائی۔
’’جی شکریہ…!‘‘وہ زبردستی مسکرایا۔
’’آپ نے ان کا تعارف تو کرایا نہیں پاپا…!‘‘
’’بیٹی!یہ انڈین ہیں ۔ان کے ایک دوست نے انہیں یہاں سروس کے لیے بلایا تھا لیکن وہ انہیں ائیر پورٹ رسیو کرنے نہیں آیا۔یہ سڑک پر پریشان کھڑے تھے۔دریافت حال کے بعد میں انہیں یہاں لے آیا۔جب تک ان کے دوست کا پتہ نہیں معلوم ہو جاتا یہ ہمارے گھر میں ہی رہیں گے اور تمہیں ان کا خیال رکھنا پڑے گا۔‘‘
آخر میں زاہد صاحب نے اپنی بیٹی کو ہدایت کی۔
’’او کے پاپا…موسٹ ویلکم!‘‘وہ دلکش انداز میں مسکرائی۔
’’آپ نے ان کا نام تو بتایا نہیں۔‘‘
’’میرا نام حیات ہے۔‘‘اس نے پہلی مرتبہ اسے مخاطب کیا۔
’’حیات…!‘‘وہ زیر لب بولی۔
’’اچھا نام ہے…!‘‘
’’اور مجھے گلاب کہتے ہیں۔‘‘
’’بیٹی!یہ لمبے سفر سے آرہے ہیں ،تھک گئے ہوں گے ۔تم ملازم کو بھیجو،وہ انہیں باتھ روم دکھا دے تاکہ یہ نہا کر فریش ہو جائیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے پاپا…!‘‘اس نے آہستہ سے اپنی وہیل چیئر موڑی اور ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی۔
حیات بغور اسے جاتے دیکھ رہا تھا۔
زاہد صاحب نے کھنکار کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا اور بولے:’’گلاب میری اکلوتی اولاد ہے۔اس کی والدہ اس کے بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھیں۔تقریباً تین سال پہلے ایک المناک حادثے میں یہ اپنی ایک ٹانگ گنوا بیٹھی۔تب سے اس کی زندگی وہیل چیئر سے وابستہ ہو گئی ہے۔‘‘
زاہد صاحب نے بڑے ہی افسردہ لہجے میں اپنی بیٹی کے متعلق اسے بتایا۔
’’بہت افسوس ہوا۔‘‘اس نے تاسف بھرے لہجے میں کہا۔
’’آپ لوگ یہاں اکیلے رہتے ہیں؟‘‘
’’نہیں ،ہم دونوں کے علاوہ اس بنگلہ میں کئی ملازمین بھی ہیں جو اپنی اپنی فیملی کے ساتھ یہاں مستقل رہائش پذیر ہیں۔‘‘
’’آپ کے رشتہ دار وغیرہ تو ہوں گے۔‘‘حیات نے جاننا چاہا۔
’’ہان بہت سے رشتہ دار ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں جسے صحیح معنوں میں اپنا کہہ سکوں۔میرے بھتیجے سے گلاب کی منگنی ہوئی تھی لیکن اس حادثہ کے بعد اس نے بھی رشتہ منقطع کر لیا۔‘‘وہ رنجیدہ ہو گئے۔
’’اوہ…!‘‘حیات کو ان کے حالات جان کر واقعی بہت افسوس ہوا تھا۔
تبھی ایک ملازم نے آکر باتھ روم تیار ہونے کی اطلاع دی تو زاہد صاحب چونک گئے لیکن پھر ہنس کر بولے:’’ارے!میں نے بھی تمہیں کن باتوں میں الجھا دیا ، چلو نہا لو پھر کھانا کھائیں گے۔‘‘
حیات نہا کر نکلا تو ایک ملازم نے ڈائننگ ہال تک اس کی رہنمائی کی ۔زاہد صاحب اور ان کی بیٹی گلاب ،کھانے کی میز پر اس کے منتظر تھے۔کھانے کے دوران زیادہ تر خاموشی ہی رہی۔کبھی کبھی گلاب یا پھر زاہد صاحب حیات کو کسی ڈش کی جانب متوجہ کرتے۔
کھانے سے فراغت کے بعد زاہد صاحب کھڑے ہو گئے۔
’’بیٹا…!مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے،اب تم بھی آرام کرو۔‘‘
گلاب نے ایک ملازم کو بلا کر حیات کو اس کے کمرے تک پہنچانے کی ہدایت کی۔
وہ بھی کافی تکان محسوس کر رہا تھا۔بستر پر لیٹتے ہی نیندکی وادی میں پہنچ گیا۔
…………………
زاہد صاحب اپنے آفس میں بیٹھے کسی کی فون کال کے منتظر تھے۔تقریباًپانچ منٹ بعد بیل بجی تو انہوں نے جلدی سے فون رسیو کیا :’’ہیلو !کیا خبر ہے؟‘‘
’’سر…!آپ کا خیال بالکل صحیح نکلا ۔یہ وہی افروز ہے لیکن اس وقت وہ ہسپتال میں ہے۔‘‘دوسری جانب سے ان کے ایک ماتحت نے اطلاع دی۔
’’ہسپتال میں کیوں ہے؟‘‘زاہد صاحب نے حیرت سے پوچھا۔
’’سر…!کل اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔‘‘
’’اوہ،اچھا ٹھیک ہے ،اب تم واپس آجاؤ۔‘‘انہوں نے فون بند کرکے میز پر رکھ دیا۔
…………………
ڈوبتے سورج کی نارنجی کرنیں بلند و بالا درختوں کی شاخوں سے چھن چھن کر نیچے آرہی تھیں۔گلاب نے ایک نظر غروب ہوتے سورج پر ڈالی اور پھر تھکے ہوئے انداز میں اپنی آنکھیں موند لیں۔
اسے وہ دن شدت سے یاد آرہے تھے جب ایسی ہی خوبصورت شام وہ سیف کے ساتھ ہوتی تھی۔
سیف اس کے تایا کا بیٹا تھا۔دونوں ایک ساتھ ہی کھیل کود کر بڑے ہوئے تھے لیکن جذبۂ محبت نے کب انہیں اپنے شکنجے میں قید کیا اس کا اندازہ نہ سیف کو ہو سکا اور نہ ہی گلاب کو!
اس خوبصورت خواب سے وہ اس وقت چونکی جب تائی اماں نے ایک خوبصورت سی رِنگ اس کی مخروطی انگلی میں ڈال کر اس کی پیشانی پر محبت سے بوسہ دیا۔
اس نے ایک نظر اپنے پہلو میں بیٹھے سیف پر ڈالی جس کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی اور شرمیلے انداز میں اس نے سر جھکا لیا۔
منگنی کے کچھ دن بعد تک تو وہ سیف سے شرماتی رہی لیکن پھر رفتہ رفتہ یہ شرم دور ہوتی گئی۔سیف روز شام کو اس کے گھر آجاتا اور وہ دونوں لان میں بیٹھ کر دنیا جہان کی باتیں کرتے۔کبھی کبھی وہ دونوں لانگ ڈرائیو پر نکل جاتے۔
لیکن پھر اچانک ہی اس کی زندگی میں ایک خطرناک موڑ آیا۔سیف کہیں باہر گیا ہوا تھا۔وہ اکیلی ہی کہیں لانگ ڈرائیو پر نکل کھڑی ہوئی۔سیف کے خیالوں میں مگن وہ گاڑی چلا رہی تھی کہ تبھی سامنے سے آتے ایک تیز رفتار ٹرک نے اس کی گاڑی میں ٹکر مار دی۔وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور سنبھلتے سنبھلتے بھی ایک درخت سے گاڑی ٹکرا بیٹھی۔
جب اسے ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھی،سرہانے پاپا کھڑے تھے۔
’’پاپا…میں …!‘‘وہ اسی قدر بول سکی۔
’’ہاں بیٹا…!تم بالکل ٹھیک ہو۔‘‘انہوں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔
پھر نرس نے اس کے باز و میں کوئی انجکشن لگایا اور وہ ارد گرد سے غافل ہو گئی۔
دوسری مرتبہ جب اسے ہوش آیا تو وہ خود کو کافی بہتر محسوس کر رہی تھی۔
’’پاپا…مجھے گھر جانا ہے۔‘‘اس نے زاہد صاحب سے کہا۔
ہاں…بیٹی !ابھی چلتے ہیں۔‘‘انہوں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر محبت سے دبایا۔
گلاب بیٹھنا چاہتی تھی۔اس نے اٹھنے کے لیے اپنے پیروں کو موڑنا چاہا تو دایاں پیر تو اٹھ گیا…مگر بایاں پیر…اس نے ایک بار پھر کوشش کی …پھر ذرا سا سر اٹھا کر پیروں کی سمت دیکھا،اس کے جسم پر ایک چادر پڑی تھی…سفید چادر اس نے سرکائی…اور دفعتاً اس کے لبوں سے ایک چیخ نکل پڑی:’’پاپا…!‘‘
’’بیٹی…میری جان…!‘‘زاہد صاحب نے اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیااور بے ساختہ رو پڑے۔
گلاب کی بائیں ٹانگ اس منحوس حادثہ کا شکار ہو گئی تھی،وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
جب وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہوئی تو ایک ملازمہ اس کے لیے وہیل چیئر لے آئی۔
زاہد صاحب نے اس کی مدد سے گلاب کو وہیل چیئر پر بٹھایا تو اپنی بے بسی پر وہ رو پڑی۔
’’نہیں بیٹا…!اس طرح ہمت نہیں ہارتے۔‘‘
انہوں نے گلاب کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
’’تم بہت بہادر لڑکی ہو…تمہیں اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ حالات کے مطابق ہی چلنا ہے۔اگر تم اس طرح روؤگی تو میری ہمت بھی پست ہو جائے گی۔‘‘
زاہد صاحب نے محبت سے اسے سمجھایاتو اپنے پاپا کی بھیگی آنکھیں دیکھ کر وہ بے قرار ہو گئی۔
اور پھر جب وہ گھر آئی تو اس کی عیادت کرنے والوں کی بھیڑ سی لگ گئی۔ اس کی سہیلیاں ،عزیزواقارب،سب اس سے ہمدردی جتانے چلے آئے۔
پھر ایک روز سیف آگیا۔
وہ وہیل چیئر پر بیٹھی کوئی میگزین پڑھ رہی تھی،تبھی ایک جانی پہچانی سی خوشبو اس کی قوت شامہ سے ٹکرائی۔
اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
سامنے سیف کھڑا تھا۔
اور پھر سیف کے شانے پر سر رکھ کر وہ اتنا روئی کہ اس کی ہچکی بندھ گئی۔بڑی مشکل سے وہ نارمل ہوئی تو اسے یہ احساس ہوا کہ سیف کو دیکھ کر وہ جتنی بے قرار ہوئی تھی ،اُس کی جانب سے اسے کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی۔
سیف کے انداز و اطوار میں ایک اجنبیت سی تھی۔
کچھ دیر ٹھہر کر وہ واپس چلا گیا۔
نہ کوئی تسلی…نہ کوئی دلاسہ…!
اگلے دن گلاب نے اسے فون کیا لیکن کسی نے فون رسیو نہیں کیا ۔اس نے پاپا سے بات کی تو انہوں نے بہت نرمی اور محبت سے اسے سمجھایا۔
’’بیٹی…!یہ زندگی ہم دونوں کو اب تنہا ہی گزارنی ہے۔‘‘
’’بھول جاؤ کہ کبھی کوئی سیف بھی تمہاری زندگی میں آیا تھا…!‘‘
’’پاپا…!‘‘اس نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
’’ہاں …بیٹی…!‘‘وہ رنجیدہ ہو گئے۔
تب اس نے اپنی انگلی میں پڑی ڈائمنڈ کی رِنگ کو دیکھا اور پھر نہایت خاموشی کے ساتھ انگوٹھی اتار کر پاپا کے سامنے ٹیبل پر رکھ دی۔
زاہد صاحب افسردہ ہو گئے تھے!
…………………
وہ نہ جانے کتنی دیر سے ماضی کی کچھ خوشگوار اور کچھ کربناک یادوں سے گزر رہی تھی،تبھی حیات کی آمد نے اسے چونکا دیا۔
وہ کافی دیر سے کھڑا اس کے گلابی رخساروں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کو دیکھ رہا تھا،جب اس سے برداشت نہ ہو ا تو وہ مداخلت کر بیٹھا۔
’’آپ رو رہی ہیں…!‘‘
’’نہیں تو…!‘‘اس نے دھیرے سے مسکرا کر ہتھیلیوں سے آنسو صاف کیے۔
’’گلاب!کیا آپ مجھے اپنا دکھ بتانا پسند کریں گی۔شاید میں اسے دور کرنے کی کوشش کر سکوں…!‘‘
’’حیات صاحب!‘‘اس نے ایک سرد آہ بھری۔
’’جو دکھ انسان کے مقدر میں روز اول سے ہی رقم کر دئیے جاتے ہیں،وہ تدبیر کی ہزار کوشش کے باوجود بھی نہیں مٹ سکتے۔‘‘اس نے افسردگی سے کہا۔
حیات کا دل اس کے لیے رنجیدہ ہو گیا تھا۔وہ اس کی بھیگی پلکوں کو دیکھتے ہوئے بولا:’’ہم تقدیر سے تو نہیں لڑ سکتے گلاب!لیکن ہاں ہمارے اندر اتنا حوصلہ ضرور ہونا چاہیے کہ اپنے مقدر میں لکھے دکھوں کو برداشت کر سکیں۔‘‘
’’آپ کو علم ہے گلاب…!جس انسان پر جتنی زیادہ تکالیف آتی ہیں وہ اُتنا ہی اللہ کے نزدیک ہوتا ہے۔اس جہان فانی میں اللہ اپنے نیک بندوں کا امتحان لیتا ہے اور جو اس امتحان کو ہنسی خوشی برداشت کر لیتے ہیں وہی لوگ بارگاہ الٰہی میں سرخرو ہوتے ہیں۔‘‘
حیات نے دھیمے لہجے میں اسے سمجھایا تو اس نے اپنی ہتھیلیوں سے دونوں آنکھیں رگڑ ڈالیں۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں،مجھے اس طرح سے کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔اللہ مجھ سے ناخوش ہو جائے گا۔آئندہ کبھی میری آنکھوں میں آنسو نہیں آئیں گے۔‘‘اس نے ایک عزم سے کہا۔
’’شاباش…!آپ تو بہت بہادر لڑکی ہیں۔‘‘حیات نے مسکرا کر کہا۔
تبھی زاہد صاحب آگئے۔
’’کیا ہو رہا ہے…!‘‘انہوں نے مسکرا کر گلاب کے سر پر تھپکی دی۔
’’بس پاپا…ایسے ہی باتیں ہو رہی ہیں۔آپ بیٹھیے میں آپ لوگوں کے لیے چائے بھجواتی ہوں۔‘‘
وہ وہیل چیئر دھکیلتی ہوئی اندر چلی گئی۔
’’میری بیٹی بہت بہادر ہے۔‘‘زاہد صاحب نے محبت سے کہا۔
’’جی ہاں…!‘‘حیات صرف اسی قدر کہہ سکا۔
ملازم چائے کی ٹرالی لے آیا تھا۔
چائے پیتے ہوئے زاہد صاحب حیات سے بولے:’’افروز سے تمہاری دوستی کتنی پرانی ہے؟‘‘
’’انٹر تک وہ میرا کلاس فیلو رہا،پھر اس نے پڑھائی ترک کر دی تھی اور اپنے والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگا تھا۔‘‘
’’کیا تمہیں علم ہے کہ اس نے تمہیں یہاں کس جاب کے لیے بلایا تھا؟‘‘انہوں نے پوچھا۔
’’جی نہیں!اس نے صرف اتنا ہی بتایا تھا کہ اس کی فرم میں ایک ویکنسی ہے۔ میں کافی عرصہ سے اس تلاش میں تھا کہ کہیں اچھی سروس ملے تو اپنا مستقبل سنوار لوں اور جب افروز نے مجھے آفر کی تو میں نے سوچا کیوں نہ یہیں سے اپنی قسمت آزمائی کروں۔‘‘
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد زاہد صاحب کہنے لگے:’’آج میں نے افروز کے متعلق معلومات حاصل کروائی ہیں۔‘‘
’’کیا…اس کا ایڈریس مل گیا…؟حیات نے بے چینی سے پوچھا۔
’’ہاں…اس کا ایڈریس تو مل گیا مگر شاید اس کے متعلق جان کر تم کو مایوسی ہو ۔‘‘انہوں نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا…!‘‘وہ حیران ہوا۔
’’کیا تمہیں علم ہے کہ افروز منشیات کا ناجائز کاروبار کرتا ہے؟‘‘
’’نہیں…!‘‘حیات کو زبردست شاک لگا۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں…؟‘‘اس نے بے یقینی سے انہیں دیکھا۔
’’میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔‘‘وہ سنجیدگی سے بولے۔
’’تو…تو پھر اب کیا ہوگا…؟‘‘چند لمحوں کے توقف کے بعد حیات نے بے حد پریشانی کے عالم میں کہا۔
’’جو تم چاہوگے…!‘‘انہوں نے اس کے پریشان چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اگر تم بھی تباہی کے دلدل میں پھنسنا چاہتے ہو تو افروز کے پاس شوق سے جاؤ،دوسری صورت میں مجھے بھی ایک ایماندار شخص کی ضرورت ہے اپنے بزنس کے لیے۔‘‘انہوں نے نہایت سنجیدگی سے اسے مشورہ دیا۔
حیات نے تعجب سے انہیں دیکھا۔
وہ تو اس کے لیے فرشتۂ رحمت ثابت ہو رہے تھے۔
’’اور اگر تم واپس جانا چاہو تو میں تمہارا ٹکٹ کروا دوں گا۔‘‘
’’اچھی طرح سوچ کر مجھے بتا دینا۔‘‘
وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔
گلاب نے اسے دیکھا اور بولی:’’آپ…کیا سوچ رہے ہیں،میرے خیال میں آپ کو پاپا کی پیشکش منظور کر لینی چاہیے۔ویسے جہاں پاپا کو ایک ایماندار منیجر کی ضرورت ہے وہیں مجھے بھی ایک اچھے اور مخلص دوست کی ضرورت ہے۔‘‘اس نے مسکرا کر کہا۔
حیات نے حیرت سے اسے دیکھا اور بولا:’’میں سوچ رہا ہوں کہ خدا مجھ پر کتنا مہربان ہے!‘‘
’’تو کیا آپ کو پاپا کی ماتحتی اور میری دوستی قبول ہے۔‘‘
اس نے پوچھا تو حیات نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
…………………
اگلے روز سے ہی حیات نے زاہد صاحب کا آفس سنبھال لیا تھا۔وہ بڑی مستعدی سے اپنا کام انجام دے رہا تھا۔کچھ ہی دنوں میں زاہد صاحب اس پر مکمل اعتماد کرنے لگے تھے۔
بزنس کے چھوٹے بڑے سارے مسائل میں وہ اس سے مشورہ کرتے اور وہ انہیں سلجھانے کے لیے ایسے ایسے نکتے بتاتا کہ وہ اس کی صلاحیتوں پر حیران رہ جاتے۔وہ ان کے گھر میں ہی قیام پذیر تھا کیونکہ زاہد صاحب نے اسے کہیں اور جانے نہیں دیا تھا۔
زاہد صاحب اپنے بزنس کو لے کر پچھلے کچھ عرصے سے عجیب سی الجھن میں گرفتار تھے لیکن اب حیات نے ان کی ساری الجھنیں رفع کر دی تھیں۔انہیں اس پر مکمل اعتماد ہو گیا تھااور انجانے میں وہ اس سے بہت سی توقعات وابستہ کر بیٹھے تھے۔
آج کل گلاب بھی کافی خوش رہنے لگی تھی۔
گئے وقت نے اسے جو زخم دئیے تھے وہ اب مندمل ہونے لگے تھے۔
حیات کو جب پہلی تنخواہ ملی تو اس نے کچھ روپیہ اپنی ضروریات کے لیے بچا کر باقی سب روپے سنبل کو بھیج دئیے۔ساتھ میں ایک تفصیلی خط بھی لکھا،جس میں اسے زاہد صاحب اور گلاب کے متعلق بھی بتایا۔
حیات کا خط پڑھ کر سنبل کی بے چین طبیعت کو کچھ قرار ملا ۔حیات جب بھی اسے فون کرتا تو وہ اسے جلدی واپس آنے کی تاکید کرتی اور حیات کو ایسا محسوس ہوتا کہ وہ یہاں سے واپس جابھی سکے گا یا نہیں کیونکہ جس طرح زاہد صاحب کی مہربانیوں اور گلاب کے خلوص نے اس کی ذات کو اپنے حصار میں لے لیا تھا،اس سے نکل پانا اسے بہت مشکل لگ رہا تھا۔زاہد صاحب نے رفتہ رفتہ اپنے بزنس کی ساری ذمہ داریاں اس کے کندھوں پر ڈال دی تھیں۔
بعض اوقات اسے سنبل اور عائشہ کی بڑی شدت سے یاد آتی اور اس کا جی چاہتا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے وطن واپس چلا جائے مگر پھر زاہد صاحب کی مہربانیاں اس کے قدم روک لیتیں۔اسے گلاب کا بھی خیال آتا۔
وہ اکثر اس سے کہتی تھیـ:’’حیات!جب سےتم یہاں آئےہو،مجھےاپنی زندگی سےدلچسپی محسوس ہونےلگی ہے۔‘‘
وہ حیات کے ساتھ مختلف موضوعات پر باتیں کرتی رہتی۔
اس کے گلابی چہرے اور روشن آنکھوں میں مسرتوں کی جگمگاہٹیں رقص کرنے لگتی تھیں۔
پھر ایک دن زبردست سانحہ ہو گیا…!
گلاب کی قسمت میں شاید ابھی مزید دکھ باقی تھے۔
زاہد صاحب کا ایکسیڈنٹ ہو گیااور وہ بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔
ڈاکٹروں نے انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا ہوا تھا۔
گلاب کا رو رو کر برا حال تھا۔
زاہد صاحب کو جب ذرا سا ہوش آیا تو ڈاکٹر نے ان سے ملنے کی اجازت دے دی۔
گلاب اور حیات جب ان کے پاس گئے تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ انتہائی نحیف آواز میں کہنے لگے:’’بیٹے!اب مجھے اپنی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں… نہ جانے کب میری آنکھیں بند ہو جائیں…بس مجھے گلاب کی فکر ہے…میری معذوربچی اس خود غرض دنیا میں کیسے رہ پائے گی؟‘‘
’’سر!آپ کیسی مایوسی کی باتیں کر رہے ہیں…؟انشاء اللہ آپ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘حیات نے ان کا ہاتھ تھام کر تسلی دی۔ (یہ بھی پڑھیں انجانی تشنگی -ڈاکٹر شہناز رحمن )
’’نہیں بیٹے!تم میری حالت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔‘‘وہ نہایت ہی نحیف آواز میں بولے۔
’’بیٹے…!کیا تم مجھ سے ایک وعدہ کروگے؟‘‘تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولے۔
’’کیسا وعدہ سر!اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’میرے مرنے کے بعد میری بچی کا سہارا بن جانا…!‘‘ان سے بولا نہیں جا رہا تھا مگر وہ زبردستی اور رک رک کر بول رہے تھے۔
’’حیات بیٹے!میری خواہش ہے کہ تم گلاب سے نکاح کر لو۔‘‘
’’جی…؟‘‘اسے زبردست شاک لگا۔
اس کی نگاہوں میں سنبل کا چہرہ گھوم گیا…ہنستا،مسکراتا،خوبصورت چہرہ!
اس نے آنکھیں پھاڑ کر انہیں دیکھا۔
یہ کیسی خواہش کر بیٹھے تھے وہ…!
’’بیٹے!یہ میری تم سے التجا ہے…!‘‘
انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑ دئیے۔
’’سر!یہ آپ کیا کر رہے ہیں…؟‘‘اس نے ان کے جوڑے ہوئے ہاتھوں کو الگ کیا۔
’’بیٹے…!‘‘وہ صرف اتنا ہی بول سکے۔
ان کے حلق میں آنسوؤں کا پھندا اٹک گیامگر وہ گلاب کے سامنے رونا نہیں چاہتے تھے۔
وہ تو پہلے ہی ان کے قدموں میں سر رکھے سسک رہی تھی۔
’’مجھے مایوس مت کرنا بیٹے…!‘‘انہوں نے بڑی پُر امید نظروں سے حیات کو دیکھا۔
اور پھر حیات نے ان کے سامنے سر جھکا دیا۔
زاہد صاحب کی مہربانیوں اور خلوص کی قیمت ادا کرنے کے لیے اسے سنبل کو پس پشت ڈالنا پڑا۔
زاہد صاحب کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔وہ چاہتے تھے کہ گلاب کا نکاح فوراً ہو جائے۔
لہٰذا ہسپتال میں ہی قاضی کو بلایا گیا اور ان کے سامنے ہی حیات نے گلاب کو اپنی منکوحہ بنا لیا۔
زاہد صاحب کی نگاہیں ان دونوں پر ہی ٹکی تھیں۔گلاب مستقل روئے جا رہی تھی۔
نکاح پڑھانے کے بعد قاضی نے زاہد صاحب کو مبارک باد دی لیکن وہ کوئی جواب نہ دے سکے اور ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
ڈاکٹر نے آہستہ سے ان کی آنکھیں بند کر دیں!
گلاب کی دلخراش چیخیں کمرے میں گونج اٹھی تھیں۔
زاہد صاحب کا جنازہ گھر لے جایا گیا،جہاں ان کے بہت سے عزیزو اقارب اکٹھا ہوئے اور بعد نماز مغرب انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔
گلاب کی حالت بہت خراب تھی۔ڈاکٹر نے اسے نیند کا انجکشن دے دیا تھا۔
حیات اس کے سرہانے بیٹھا سوچوں میں گم تھا۔
کتنی جلدی سب کچھ ہو گیا تھا۔زاہد صاحب کا ایکسیڈنٹ،پھر ان کا انتقال اور اس کا نکاح…ہاں…گلاب سے نکاح…!
اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ سنبل کے بعد وہ کسی اور سے بھی نکاح کر سکتا ہے۔مگر اب تو سب کچھ ہو گیا تھا۔
سنبل کو یہ سب کیسے بتائے گا…!
کس منھ سے گلاب کو اس کے سامنے لے کر جائے گا…!
سنبل اور گلاب …وہ بیک وقت دونوں کے متعلق سوچ رہا تھا۔
تبھی گلاب نے کراہ کر کروٹ بدلی تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔
’’گلاب!‘‘اس نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر آہستہ سے اسے آواز دی۔
گلاب نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
’’کیسی طبیعت محسوس کر رہی ہو…؟‘‘
گلاب کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔
’’مجھے بٹھا دو…!‘‘وہ دھیرے سے بولی۔
’’حیات نے اسے سہارا دے کر بٹھایااور خود بھی کرسی چھوڑ کر اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیااور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سہلانے لگا۔
محبت کا لمس پا کر وہ بے اختیار رو دی۔
’’نہیں گلاب!اس طرح نہیں روتے…صبر کرو…اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔تمہارے اس طرح رونے سے پاپا کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔‘‘
گلاب کی سسکیاں آہستہ آہستہ مدھم ہونے لگیں۔
’’یہ سب کیا ہو گیا حیات!میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پاپا مجھے تنہا چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔‘‘وہ دوپٹہ سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’موت پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا گلاب!خدا نے ہمیں یہ زندگی عطا کی ہے اور وہ جب چاہے ہم سے واپس لے سکتا ہے۔ کوئی بھی انسان رب عظیم کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتا۔‘‘اس نے نرمی سے اسے سمجھایا۔
’’لیکن…اب میں تنہا کیسے رہ پائوں گی…!‘‘
’’تم تنہا نہیں ہو گلاب!میں تمہارے ساتھ ہوں۔تم شاید بھول رہی ہو کہ اب تم میری ذات سے منسوب ہو چکی ہو۔‘‘
گلاب نے اپنی متورم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
’’ہاں گلاب! اب ہم دونوں کا دکھ سکھ ،سب مشترک ہے۔‘‘
اس نے گمبھیر لہجے میں کہا اور اس کا سر اپنے کندھے سے لگا کر سہلانے لگا۔
گلاب ایک بار پھر رودی۔
لیکن اب اس کے آنسوؤں میں سکون و اطمینان کا عنصر بھی شامل ہو گیا تھا۔
…………………
حیات کے بہت سوچنے اور غوروفکر کرنے کے بعد یہ ساری صورتحال سنبل کو لکھ بھیجی۔
زاہد صاحب کے انتقال کو چالیس روز ہو چکے تھے ۔ایک دن حیات نے گلاب سے سنبل کے متعلق بات کی۔
گلاب کے تو یہ سن کر ہوش ہی اڑ گئے کہ حیات نہ صرف شادی شدہ بلکہ ایک بیٹی کا باپ بھی ہے۔
اس نے بڑے دکھ اور افسوس بھرے لہجے میں کہا:’’حیات!میں نے تمہیں عام مردوں سے یکسر مختلف سمجھا تھا ۔میں اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ تم سیف جیسے نہیں ہو مگر تم تو سیف سے زیادہ گھٹیا انسان نکلے۔تم نے میرے ساتھ منافقت کی ۔میں نے تم کو ہمیشہ ایک اچھا دوست سمجھا ،اپنے دکھ سکھ تمہارے ساتھ شیئر کیے مگر تم نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ تم شادی شدہ ہو۔‘‘وہ سانس لینے کو ذرا رکی اور پھر بولی:’’دوسرا فریب تم نے میرے ساتھ یہ کیا کہ مجھے نکاح کے بندھن میں باندھ لیا۔‘‘
اس کا چہرہ دکھ اور غصے کے باعث سرخ ہو رہا تھا۔
’’گلاب!پلیز مجھے غلط مت سمجھو،میں نے تمہارے ساتھ کوئی منافقت نہیں کی ۔دراصل میں نے کئی بار تمہیں بتانے کی کوشش کی مگر درمیان میں کوئی دوسری بات نکل آئی اور پھر میں بھی بھول گیا۔بے شک میں شادی شدہ ہوں اور اپنی بیوی سے بہت پیار بھی کرتا ہوں مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں گلاب!کہ تم بھی مجھے ہمیشہ سنبل کی طرح ہی عزیز رہو گی۔‘‘
اس نے گلاب کا ہاتھ تھام کر اسے یقین دلانا چاہا لیکن وہ پھر بدک گئی۔
’’اور کیا سنبل میرے وجود کو تسلیم کر پائے گی!‘‘
’’ہاں کیوں نہیں…اسے تسلیم کرنا پڑے گا ،آخر تم بھی میری بیوی ہو۔‘‘
’’نہیں حیات نہیں …تمہاری ان جھوٹی تسلیوں سے میں مطمئن نہیں ہو سکتی۔‘‘وہ پھر رو پڑی۔
’’خدا کے لیے گلاب!مجھ پر یقین کرو …زندگی کی کڑی دھوپ میں ،میں ہمیشہ تمہارا سائبان بن کے رہوں گا۔‘‘
’’میں اگر معذور نہیں ہوتی تو حیات شاید تمہاری بات کا یقین کر لیتی مگر ایسی پوزیشن میں ،میں خود کو تمہارے لیے محض ایک بوجھ ہی سمجھوں گی۔‘‘
’’گلاب…!‘‘حیات کو اس کی بات سے بہت دکھ پہنچا ،اس نے افسردہ لہجہ میں کہا:’’گلاب…!تم نہیں جانتیں کہ تم مجھے کتنی عزیز ہو گئی ہو اور اپنی عزیز شخصیت کبھی بوجھ محسوس نہیں ہوتی وہ تو ایک خوش نما اور معطر پھول کی مانند ہوتی ہے جو ہمیشہ دل کے قریب رہتی ہے۔‘‘
گلاب نے اپنی بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
حیات کی نگاہوں میں یقین کے روشن دئیے جھلملا رہے تھے اور ان کی روشنی سے اس کے دل کا آنگن جگمگا اٹھاتھا۔
…………………
حیات جب گلاب کو لے کر ہندوستان پہنچا تو سوچ رہا تھا کہ معلوم نہیں سنبل اس کے ساتھ کیسا سلوک کرے مگر جب وہ گھر میں داخل ہوا تو سنبل نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس کاا ستقبال کیا۔
’’کیا تمہیں میرے آنے کی خوشی نہیں ہوئی؟‘‘حیات نے مسکرا کر پوچھا۔
’’کیوں نہیں!تم واپس آگئے ہو ،میرے لیے یہ بات کسی معجزے سے کم نہیں۔میں تو تمہارے آنے کی آس ہی کھو بیٹھی تھی۔‘‘اس نے آہستہ سے جواب دیا۔
’’نہیں سنبل!ایسا نہ کہو۔تم جانتی ہو،میں نے گلاب سے کن حالات میں نکاح کیا ہے۔وہ ایک بڑی ہی مظلوم لڑکی ہے سنبل! اور پھر اس کے والد کے مجھ پر بڑے ہی احسانات ہیں ۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم اس کے ساتھ بہتر سلوک کرو اور اسے کبھی احساس کمتری نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
اس نے سنبل کو بڑے احسن طریقے سے سمجھایا۔
سنبل کو اس وقت زبردست شاک لگا تھا جب اسے حیات کے نکاح کے متعلق معلوم ہوا تھا اور اس کے دل میں گلاب کے خلاف نفرت وعداوت کا طوفان برپا ہو گیا تھالیکن گلاب کو دیکھنے کے بعد نہ جانے کیوں اس کے اندر کی آگ کچھ سرد ہوتی محسوس ہوئی تھی اور دل کے کسی گوشے میں گلاب کے لیے جذبۂ ہمدردی پیدا ہو گیا تھا۔
وہ اپنی اس کیفیت کو خود بھی نہیں سمجھ پائی تھی۔یہ سب شاید اس لیے ہوا تھا کہ وہ فطرتاًایک نہایت ہی نرم دل اور مذہب پرست عورت تھی۔وہ ہر بات ،ہر مسئلہ پر مذہبی نقطۂ نظر سے غوروفکر کرتی تھی اور بہت سوچنے کے بعد وہ یہ رائے قائم کر سکی تھی کہ حقیقتاًگلاب ایک رحم طلب لڑکی ہے۔
…………………
ناشتے کے میز پر حیات،سنبل اور گلاب تینوں موجود تھے۔سنبل خاموشی کے ساتھ چائے بنانے میں مصروف تھی۔اس نے ایک کپ حیات کو دیا اور دوسرا گلاب کے سامنے رکھ دیا۔
’’آپ شاید مجھ سے ناراض ہیں…؟‘‘گلاب نے آہستہ سے سنبل سے پوچھا۔
سنبل نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’نہیں تو…!‘‘وہ دھیرے سے بولی۔
’’میں جانتی ہوں آپ اور حیات ایک دوسرے سے کتنی محبت کرتے ہیں اور میں انجانے میں ہی آپ دونوں کے درمیان آگئی۔ میں آپ کی زندگی میں زہر گھولنا نہیں چاہتی کیونکہ میں جانتی ہوں عورت تمام دکھ برداشت کر سکتی ہے مگر سوتن کا وجود کبھی نہیں برداشت کر سکتی…کبھی نہیں!اس لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں واپس چلی جاؤں گی۔‘‘اس کی آواز بھرا گئی۔
’’گلاب!یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘حیات فوراً بول پڑا۔
سنبل نے دیکھا وہ سر جھکائے رو رہی تھی۔
کچھ لمحوں کے توقف کے بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور گلاب کے نزدیک بیٹھ گئی۔اس نے گلاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور کہنے لگی:’’ہر انسان اپنے مقدر کے دکھ سکھ جھیلتا ہے۔میں نے حیات کی ذات سے بہت سے سکھ حاصل کیے ہیں ۔اب وہی سکھ پانے کا رب عظیم نے تمہیں موقع دیا ہے تو میں تمہارے درمیان نہیں آؤں گی۔شاید ہم دونوں کا مقدر اسی طرح ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور میں تمہیں یہ یقین دلاتی ہوں کہ اب تمہارا دکھ ،میرا دکھ ہے۔‘‘
سنبل کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ اٹک گیا ۔اس نے بڑی مشکل سے اپنی آنکھوں میں آئے اشکوں کے سیلاب کو روکا تھا۔
گلاب نے حیرت اسے دیکھا۔اور حیات تو ساکت رہ گیا تھا!
’’سنبل!آج تم نے میرے یقین کو معتبر کر دیا۔میں بھی یہ وعدہ کرتا ہوں کہ تم دونوں میں کبھی تفریق نہیں کروں گا۔‘‘
حیات نے محبت سے اس کے ہاتھ تھام کر ایک عزم سے کہا تو سنبل اور گلاب دونوں کے دل بیک وقت طمانیت سے لبریز ہو گئے!
…………………
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

