تابش اپنے ماں باپ کے ساتھ بس سے نیچے اترا اور اپنی خالہ کے گاؤں کی طرف جانے والے کچے راستے پر چلنے لگا۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ بڑے جوش و خروش میں تھا۔ مارے خوشی کے اس کے قدم زمین سے نہیں لگ رہے تھے۔
ہر سال چھٹیاں آنے سے پہلے ہی وہ اپنے والدین کو یہاں آنے کے لئے تیار کر لیتا تھا اور پھرکچھ دنوں تک اس کا دل پڑھائی لکھائی سے بالکل اچاٹ ہو جاتا تھا۔ وہ بس گاؤں کے خواب دیکھتا رہتا تھا اور نئی نئی سر گرمیوں کا منصوبہ بناتا رہتا تھا۔
لوجی وہ جگہ آگئی جس سے تابش پہچاناکرتاتھا کہ وہ گاؤں کی دہلیز پہ قدم رکھ چکا ہے اور اب چند منٹوںمیں وہ خالہ کے گھر پر لسی پی رہا ہوگا۔ یعنی ایک جھونپڑی نما دکان جس میں ایک انتہائی بوڑھا شخص بیڑی، چائے اور بیسن کے لڈو بیچتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے مظفر علی گنج شروع ہو تا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں سہرا – فیصل ہاشمی )
معلوم نہیں کیوں آج یہاں پہنچتے ہی تابش کو لگا جیسے ہر طرف اداسی چھائی ہوئی ہے۔ فضا میں تازگی اور سرشاری نہیں ہے۔ کھیت کھلیان بجھے بجھے سے ہیں۔ پرندے بھی جیسے افسردہ ہوں کہ ان کی چہچہاہٹ غائب ہے۔ جانور سب بھی ماند پڑے ہوئے ہیں۔ سقف و فرش اور در و دیوار بھی ماتمی لباس اوڑھے ہوئے ہیں۔
ادھرادھردیکھتا ہوا تابش خالہ کے گھر کے قریب پہنچا۔ اس کے دل میں خیال گزرا کہ گاؤں تو وہی ہے لیکن جیسے اس کی رنگت اور رونق چھین لی گئی ہے۔ لوگ بھی وہی ہیں لیکن جیسے ان کے چہرے کا نور سلب کر لیا گیا ہے۔
یہ کیا ماجرا ہے؟ یہاں نحوست کیوں برس رہی ہے؟اس نے اپنے آپ سے سوال کیا۔
خالہ دروازے پر کھڑی راہ تک رہی تھیں۔ انہوں نے بانہیں پھیلا کر تابش کا استقبال کیا۔ چھوٹی بہن سے بغل گیر ہوئیں۔ بہنوئی کے سلام کا جواب دیا۔ اور پھر سب کو لے کر گھر کے اندر آئیں۔
ہاتھ منہ دھو کر سب ایک ساتھ جمع ہوئے۔ سب کے ہاتھ میں ٹھنڈی ٹھنڈی لسی کا ایک ایک گلاس آگیا۔ خیر خیریت پوچھنے کا دور شروع ہی ہوا تھاکہ خالہ نے مغموم لہجے میں کہا: پڑوس میں نرگس رہتی تھی نا، وہ بیچاری گزر گئی۔
تابش کی ماں نے تاسف سے ’اناللّٰلہ و انا الیہ راجعون‘ پڑھا اور پوچھا:کیا ہوا تھا اُسے؟
کچھ نہیں۔ اچھی بھلی تھی۔ اچانک شام میں طبیعت بگڑی اور چٹ پٹ ہوگئی۔ وہ۔۔۔خیر ہٹاؤ۔
خبر سنتے ہی تابش کادل بیٹھ گیا۔ اس کاجی چاہاکہ خالہ کے سامنے سوالوں کے ڈھیر لگادے۔ کب کی بات ہے؟کیسے ہوا؟ اچانک کیسے ؟ کوئی ڈاکٹر نہیں ملا تھا کیا؟ لوگ صدر اسپتال نہیں لے گئے تھے؟ وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس نے محسوس کیا کہ خالہ اس موضوع پر کھل کر بات نہیں کرنا چاہ رہی ہیں۔ اور سچ تو یہ بھی ہے کہ بڑوں کی محفل میں اس کا ہیاؤ نہ کھلا۔
لسی اب اسے زہر لگنے لگی۔ اس نے گلاس کو لے جاکرباورچی خانے میں رکھ دیا اورگھرسے باہر کی طرف جانے لگا۔
’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘ماں نے پوچھا۔
’’ابھی آیا‘‘کہتا ہوا وہ گھر سے باہر نکل گیا۔
آج سے پہلے تابش نے کبھی ایسی بے چینی اور افسردگی محسوس نہیں کی تھی۔ ہر سال جب بھی وہ چھٹیوں میں آتا تھا تو نرگس کے ساتھ بھی وقت گزارتا تھا۔ نرگس عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن دونوں ہم جولی لگتے تھے۔ نرگس اوٹسٹک تھی اور صحیح سے بول بھی نہیں پاتی تھی۔
نرگس کی معصوم ادائیں، ایک خاص طرح کی پھنسی پھنسی آواز اور عجیب و غریب قسم کی ہنسی، تابش کو بڑی دلچسپ معلوم ہوتی تھی۔ تابش کو لگتا تھا کہ جیسے خدا نے کوئی نئی مخلوق تیار کی ہے جس میں جھوٹ، غیبت، نفاق، ریا، چرب زبانی اور دغابازی کا شائبہ تک نہیں ہے۔
جب بھی کوئی نرگس کو ڈانٹتا پھٹکارتا یا اس پرہنستا توتا بش کو بڑی کو فت ہوتی تھی۔ وہ کسی سے کچھ نہیں بولتا ،مگر دل میں رنج و قلق لیے وہاں پر سے اٹھ جایا کرتا تھا۔
تابش کی آنکھوں میں نرگس کا چہرہ گھوم رہا تھا اور دماغ میں اس کی آواز گونج رہی تھی’’چھام کم… خے خے …خے خے…خیل…خے خے۔‘‘
اسے لگ رہا تھا جیسے درد سے اس کا سر پھٹ جائے گا اور کسی بھی لمحہ اُس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جائے گا اور وہ گر پڑے گا۔
وہ لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا واصف کے گھر پہنچا۔
’’ارے واہ! تم آگئے۔بہت اچھا۔ اب تو مزہ آئے گا۔‘‘ واصف نے گرمجوشی کے ساتھ استقبال کرتے ہوئے کہا۔
’’چلو چل کر اسلم سے ملاقات کرتے ہیں۔‘‘ تابش نے کہا۔
’’ہاں چلو‘‘ ۔
واصف کا گھر تابش کی خالہ کے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر تھا۔ گاؤں کی مسجد سے بالکل سٹے ہوئے اور اس کے ٹھیک پیچھے والی گلی میں اسلم کا مکان تھا۔
تینوں دوست تقریباً ایک ہی عمر کے تھے۔تابش جب بھی گاؤں آتا تو گھر سے باہر زیادہ تر اوقات انہی دوستوں کے ساتھ گزارتا تھا۔
تینوں کو فطرت کی گود میں کھیلنے اور جو کھم بھرے کام کرنے میں بڑا مزہ آتا تھا۔ اونچے اونچے ٹیلے سے ندی میں چھلانگ لگانا اور دیر تک تیرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ درختوں پر چڑھ کر بیر، املی اور امرود توڑنا اور کھیت میں جا کر پمپ پر نہانا بھی انہیں بہت پسند تھا۔
لیکن ایک جگہ ایسی تھی جہاں تابش کے لیے سب سے زیادہ حیرت اور انبساط کا سامان موجود تھا۔ یہ جگہ تھی جہاں گنے کے رس سے گڑ تیار کیا جاتا تھا۔
بیل کا ایک دائرہ میں گردش کرنا اور اس سے پیدا ہونے والی توانائی سے گنے کا پیڑا جانا، رس اور کھوجڑ کا الگ الگ جمع ہونا، ایک دلکش منظر پیش کرتا تھا۔
گنے کے رس کو ایک سوتی کپڑے سے چھان کر گھڑوں میں رکھا جاتاتھا۔بعدمیں ان گھڑوں کو ایک کڑاہ میں خالی کیا جاتاتھا۔ اورپھر اس کڑاہ کو بھٹی پر رکھا جاتاتھا۔ تقریباً سات سے آٹھ گھنٹوں میںگاڑھا لس دار مادہ وجود میں آجاتاتھا، جسے ایک مستطیل حوض میں ٹھنڈا ہونے اور جمنے کے لئے چھوڑ دیاجاتا تھا۔ اس طرح گڑتیار ہوتاتھا جسے گاؤں میں سب میٹھا کہتے تھے۔
تابش کو کاشتکاروں کی مہمان نوازی بہت متاثر کرتی تھی۔ ان کاشتکاروں نے اعلان کر رکھا تھا کہ گاؤں کا کوئی بھی فرد یا مسافر جب بھی وہاں سے گزرے تو جتنا جی چاہے گنے کا عرق، جسے وہاں کے لوگ کتاری کار س کہتے تھے، پی سکتا تھا۔
رہی بات گاؤں میں آئے ہوئے مہمانوں کی تو ان کا کیا ہی کہنا۔ ان کی تو ایسی آؤ بھگت ہوتی تھی گویا بادشاہ سلامت پدھارے ہوں۔
تابش جب بھی وہاں جاتا تو لوگ اصرار کرکے اسے گنے کا رس پلاتے، کھانے کو گڑ دیتے، اور دو چار گنے کاٹ اور باندھ کر اس کے ہاتھ میں دے دیتے تھے۔
تکلف سے عاری ان کا تخاطب اور تصنع سے پاک ان کا تبسم تابش کو بڑا دلٓاویز معلوم ہوتا تھا۔ ایک دو فقرے تو ایسے تھے جنہیں وہ ہر ملاقات میں سنتا تھا لہٰذا وہ اس کے ذہن میں محفوظ ہو گئے تھے۔ ’’رام رام۔ کا ہو بوّا۔سب ٹھیک با نو؟کہاں سے آوا تڑا؟‘‘ وہ اپنے آپ سے کہتا کہ یہ لوگ شہر والوں سے کتنا مختلف ہیں۔
تابش کو گاؤں کے پکوان بڑے اچھے لگتے تھے۔ بیسن اور میتھی کے لڈّو،گڑانبہ، خرمے اور چنے کے حلوے، پیٹھے اور آنولے کے مربّے، شکر پارے، نمک پارے، کلیجی کے سالن کے ساتھ چاول کے آٹے کی روٹی اس کی پسندیدہ چیزوں میں شامل تھیں۔
گنے کے رس سے تیارکیا ہوا روا بھی اسے بڑا لذیذ معلوم ہوتا تھا۔ وہ بار بار خالہ سے مانگ کر کھاتا تھا۔ اور اگر خالہ نہ ہوتیں تو خود ہی گھڑے سے نکال کر لے لیتاتھا۔ اگر کبھی اُسے کھانے کو کھیس، جسے وہاں سب پھینس کہتے تھے،سے بنی کھیر مل جاتی تب تو اس کی عیش ہو جاتی تھی۔
ہاں، ایک کام تھاجس سے تابش مکمل اجتناب کرتا تھا۔وہ تھاکنویں میں کود کر نہانا۔ اپنے دوستوں کے لاکھ اصرار اور خوشامد کے باوجود وہ آج تک اس کے لیے راضی نہیں ہوا۔ وہ واصف اور اسلم کو کنویں میں ڈبکی لگاتے، تیرتے اور باہر نکلتے دیکھا کرتا تھا۔ مگر کنویں میں جانے کے نام سے اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے۔
البتہ تابش کو قدرت کے مناظر میں بڑی دلچسپی تھی۔ رنگا رنگ سبزے، انواع و اقسام کے پرندے، بھانت بھانت کے جانور، ندی، پہاڑ، تالاب، کھیت، کھلیان۔۔۔غرض ہر چیز میں اس کے لیے تحیر اور تجسس کا سامان مہیا تھا۔
لیکن آج تو معاملہ ہی عجیب تھا۔ تابش کا دل بجھ ساگیا تھا۔ کل تک جو چیزیں اسے خوش کرتی تھیں آج وہ بالکل بے رنگ اور غیر دلچسپ معلوم ہو رہی تھیں۔
اپنے دوستوں کے ہمراہ وہ ندی کے کنارے پر آیا۔ تینوں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ تابش نے انہیں چاکلیٹ نکال کر دی۔ اپنے حصے کی چاکلیٹ بھی اس نے ان دونوں کے بیچ بانٹ دی۔ اور پھر ان سے مخاطب ہوا: ’’خالہ بتا رہی تھیں کہ نرگس چل بسی۔‘‘
اسلم اور واصف نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا اور دونوں کے چہرے کمہلا گئے۔
چند ثانیئے ماحول پر سکوت طاری رہا۔ اس دوران واصف نے ہمت جٹائی اور گویا ہوا:
تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ لوگ نرگس کو جانوروں کے زمرے میں رکھتے تھے۔بلکہ جانوروں کا بھی کوئی مصرف ہوتا ہے۔ وہ تو بالکل بے مصرف تھی۔
اُس کی ماں صبح اٹھ کر اسے کچھ کھانے کو دے دیتی تھی اور پھر بکریوں، بطخوں اور مرغیوں کے ساتھ ساتھ اسے بھی باہر ہانک دیا کرتی تھی۔ نرگس بھی جانوروں کی طرح چرتی چگتی، ادھر ادھر ماری پھرتی اور دن ڈھلنے پر انہیں کی طرح گھر لوٹ آتی تھی۔
آج سے تقریباً آٹھ مہینے پہلے ایک غلیظ سایہ اس پر پڑا اور اس کا پیٹ پھولنا شروع ہو گیا۔
تمہیں تو معلوم ہے نرگس کے باپ بہت سے لوگوں کی طرح کلکتہ میں نوکری کرتے تھے۔( ہجرت تو گویا اس صوبے میں رہنے والوں کی مقدر میں لکھی ہوئی ہے۔یہاں نہ تو تعلیم کے مواقع ہیں اور نہ روزگار کے۔) وہ چھٹیوں پہ گاؤں آنے والے تھے۔ جیسے جیسے ان کے آنے کا دن قریب ہوتا جا رہا تھا ویسے ویسے نرگس کا پیٹ پھولتا جا رہا تھا۔ جب نرگس کے باپ کے آنے کا دن بالکل قریب آ لگا تب اس کا پیٹ پھول کر گھڑے کی طرح ہو گیا۔
ادھر اس کی ماں کی سانس پھولنے لگی تھی۔ وہ ہرروز اپنے بال نوچتی، گریبان پھاڑتی، دہاڑیں مار مار کر روتی، لوگوں کو کوستی اور گالیاں دیتی اور کبھی کبھار نرگس کو دو ہتھڑ مارتی ۔
آخر کار شایداسے کچھ نہ سوجھی تو ایک شام اس نے دودھ میں کرم کش دوا ملا کر نرگس کو دے دیا۔ اور نرگس ’’خے ۔خے ۔ماں۔خے۔خے‘‘ کہتے ہوئے غٹ غٹ پی گئی۔
واصف کے چپ ہوتے ہی تابش کی نظر ندی پر پڑی جس میں ڈھیر سارا پانی آچکا تھا۔اب سمجھا یہاں عذاب کیوںاتر رہے ہیں۔ تابش نے دل ہی دل میں کہا ۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور چلنے لگا۔ وہ چلتا ہی گیا یہاں تک کہ اسے ایک چھوٹی سی بستی دکھائی دی جس پرمکمل سکوت طاری تھا لیکن وہاںرحمت اورنور کی بارش ہو رہی تھی۔وہ اندر داخل ہوا۔ وہاں اس کی نظرایک جگہ پر گئی جہاں تھوڑے سے سبزے کے بیچوں بیچ تازہ تازہ نرگس کاایک پھول کھلا تھا۔ اُس نے ہاتھ اٹھاکر دعا کی: خدایا تواس پھول کی نگہبانی فرما اور اسے سر سبز و شاداب رکھ۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

