داستان کے اوّلین نقّاد کلیم الدّین احمد – ڈاکٹر صفدر امام قادری

by adbimiras
0 comment

’ گلِ نغمہ‘،کی ترتیب وتدوین ، ’ اردو شاعری پر ایک نظر‘ اور ’ اردو تنقید پر ایک نظر‘ کی پَے بہ پَے اشاعت اور اردو کی ادبی فضامیں پیدا ہوئی ہل چل پر’’ اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘‘ کی اشاعت سے ماحول کا ہیجان کم ہوا۔ ابتدائی تین کتابیں اپنے مندرجات کی وجہ سے اردوتنقید کے جس عمومی ذائقے سے مختلف نتائج سے وجہِ اختلاف بنی رہیں؛ اس نئی کتاب کی اشاعت سے ایک علاحدہ کلیم الدّین احمد کی شخصیت سامنے آئی۔ اگر چہ کلیم الدّین احمد کی عمراب بھی صرف پینتیس برس کی تھی مگر ان کے دو ٹوک تجزیوں کی وجہ سے ایک عالَم یہ کہنے لگا تھا کہ وہ اردو کی کلاسیکی شاعری اورتمام ادب کے مخالف اور دشمن ہیں۔وہ اردو کی علمی روایت کو یکسر نہیں سمجھتے اور صرف مغربی ادب کے پیمانوں کو ہی مستحسن اور معتبر قرار دیتے ہیں۔1944ء میں’’ اردو داستان‘‘ کی اوّلین اشاعت سے ناقدینِ کلیم الدّین احمد کے متعدد بنیادی اعتراضات بے اصل ہو گئے اور یہ بات قابلِ توجہ بننے لگی کہ کلیم الدّین احمد اردوکے کلاسیکی ادبی سرمائے سے کما حقّہ  واقف ہیں اور جہاں انھیں کوئی بات پسند آتی ہے تو اس کا بر ملا اظہار کرتے ہیں۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ اردو کی داستانی روایت کو گہرائی سے دیکھنے اور اس کی تاریخ کا اس قدر فنّی اور موضوعاتی مطالعہ کرنے کی کو شش کیوںکر کرتے؟

اپنی خودنوشت میں کلیم الدّین احمد نے اپنے گھریلو ادبی ماحول کی تفصیلات پیش کی ہیں۔داستانوں کی جلدیں ان کے یہاں موجود تھیں اور وہ بہت پہلے سے ان کا مطالعہ کر چکے تھے۔ انھیں یوروپ اور مشرقی دنیا کی داستانی روایت سے بھی آگاہی تھی۔غور کریں تو اس کتاب میں بھی ’اردو شاعری پر ایک نظر‘ اور’ اردو تنقید پرایک نظر‘ کی تحریر کا انضباط قائم ہے۔ کسی موضوع کے تمام ملحقات کوترتیب سے قابلِ غور سمجھا جائے اور پھر اس کے مختلف اجزا پر مرحلہ وار ترتیب کے ساتھ گفتگو کر کے کسی نتیجے تک پہنچا جائے۔ یہ کلیم الدّین احمد کا خاص انداز ہے جو’ اردو شاعری پر ایک نظر‘ سے لے کر’ فنِ داستا گوئی‘ اور اس کے بعد کی تحریروں میں موجود ہے۔کلیم الدّین احمد نے داستان کی اہمیت اور داستان کے فن پر گفتگو کرنے کے بعد’ طلسمِ ہوش رُبا‘ اور’ بوستانِ خیال‘ کے ساتھ ساتھ ’باغ وبہار’ آرایشِ محفل‘ اور’ فسانۂ عجائب‘ جیسی مختصر داستانوں کوزیرِ بحث لایاہے۔ پھر اردو کی دو منظوم داستانوں ’سحرالبیان‘ او’ر گلزارِ نسیم‘ کو اپنے جائزے کا حصّہ بناتے ہوئے ایک مختصر خاتمے کے ساتھ کتاب کو انجام تک پہنچایاہے۔ ظاہری طور پر یہ اسی طرح منطقی اور سلسلے وار خاکہ معلوم ہوتا ہے جیسا ’اردو شاعری پر ایک نظر‘ اور ’اردو تنقیدپر ایک نظر‘کے صفحات پر دکھائی دیتا ہے۔

دنیا کے ہر علاقے میںداستان کی موجودگی اور مقبولیت کے باوجود تنقیدی اور تحقیقی امور میں زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ۔ شاید اس کی وجہ یہ بات ہو کہ جب تنقیدی اور تحقیقی اعتبار سے غوروفکر کا زمانہ شروع ہوا، وہ درد سائنسی بازیافت اور نئے تقاضوں سے لیس تھا۔جب چیزیں اپنے عہد میں بامعنیٰ نظرنہ آئیں تو ان پر غورفکر کے لیے کوئی کیوں کر متوجّہ ہو؟ مشرق اور مغرب دونوں حلقوں میں داستانوی ادب پر علمی اعتبارسے مباحث کی عدم موجودگی کو اِسی بدلتے ہوئے تناطر میں دیکھنا چاہیے۔ ایسا نہیں کہ اردو میںداستانوں  کی کمی تھی اور اردو کے علمی حلقے میں ایسے لوگ نہیں تھے جنھیں فارسی سنسکرت اور اردو کے داستانوی ادب سے معقول واقفیت نہ ہو۔فورٹ ولیم کالج اور بالخصوص ’باغ وبہار‘ کے حوالے سے تحقیقی امور میں گفتگو آگے بڑھی۔ ’فسانۂ عجائب‘ کے سلسلے سے تھوڑی بہت تنقیدی گفتگو     بھی ہوئی مگر وہ دبستانی چپقلش اور اسلوبیاتی دائرے سے آگے کہاں گئی؟

کلیم الدّین احمد نے اردو داستانوں پر جب گفتگو شروع کی ، اس وقت علمی اعتبار سے فنّی وتکنیکی معاملات پر ابھی بات چیت شروع بھی نہیں ہوئی تھی۔ کہنا چاہیے کہ علمی طورپر اندھیرا تھا جو یہاں سے وہاں تک پھیلا ہوا تھا۔اسی لیے کلیم الدّین احمد نے اس موضوع پر اردو کے کسی نقّاد اور محقق کی باتوں سے بحث نہیں کی ۔براہِ راست اردو داستانوں کے مجموعی سر مائے کو سامنے رکھا۔ جس انداز سے داستانیں لکھی گئی تھیں ان کے مطالعے سے فنِّ داستان گوئی کے عناصر تلاش کیے اور متعددداستانی تکنیکیں بھی پہچانیںجنھیں آزما کر ہمارے اردو داستان گو اپنی مقبولیت کا ثبوط فراہم کرتے رہے۔ داستان کے سلسلے سے جو مشہور اصطلاحات آج زیرِ بحث ہیں، ان کے بارے میں کلیم الدّین احمد نے نہ صرف یہ کہ اس کتاب میںان کی اوّلین وضاحتیں پیش کیں بلکہ ان کے حقیقی اسباب وعلل بتاتے ہوئے اس پس منظر کو روشن کرنا چاہا جنھیں داستان گو پسند کرتے تھے اور جس ماحول سے وہ واقفیت رکھتے تھے ۔ کلیم الدّین احمد نے داستان کی بعض مخصوص باتوں کا اردو میں پہلی بار فنّی جواز پیش کیا اور وضاحت کے ساتھ بتایا کہ کیوںکر انھیں عناصرترکیبی کے طور پر داستان گویوں نے آزمایا ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ کلیم الدّین احمد نے مافوق فطرت عناصر کی ایسی مدلّل تعبیر وتشریح کی ہے جن سے ہماری آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں۔سائنسی حقائق اور نفسیاتی عوامل کا یہاں حیرت انگیز توازن دیکھنے کو ملتا ہے۔

کلیم الدّین احمد نے صنفِ داستان کے ان عناصر پر خاص طور پر گفتگو کی جن کے بارے میں اکثر وبیشتر یہ بات کہی جاتی ہے کہ ان سے سائنسی عہد اور تقاضوں کی مخاصمت رہی ہے۔داستانوں کی طوالت، قصّہ درقصّہ، بناوٹ، مافوق فطرت عناصر، جادوگر اور عیّاروں کی قوت، ناقابلِ یقین مہمّات اور غیر عقلی بنیادوں پر کردار اور واقعات کا باضابطہ فروغ، عشقیہ واقعات کی بھیڑ چال اور ہمیشہ خطروں سے کھیلنے والے ہیرو اور ان کے مددگار جیسے امور پرکلیم الدّین احمد نے اصولی اور اطلاقی دونوں انداز کی بحث کی ہے۔ان موضوعات پر کلیم الدّین احمد سے پہلے جو لکھا گیاتھا،اس کی کوئی تنقیدی بساط نہیں۔کلیم الدّین احمد نے داستانوں کے سرمائے کو مجموعی حیثیت سے دیکھااور ان کے عہد کے تقاضوں کے مدِّ نظر مطالعے کے لیے کیسے علمی اور ادبی حربے مناسب ہو سکتے ہیں، ان موضوعات پر کلیم الدّین احمد نے جو اشارے کیے ہیں، ان پر داد نہ دینا انصاف کی بات نہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں  ’’شرح متن کے امکانات‘‘کا توضیحی مطالعہ – عرفان حیدر)

مافوق فطرت عنصر پہ کلیم الدّین احمد نے اپنے تاثرات سائنسی اور غیر سائنسی بحث کے حوالے سے نہیں پیش کیے۔اکثر وبیشتر نقّادوں کی نگاہ میں داستانوں کا سب سے بڑا نقص ان کا مافوق فطرت عنصر ہی ہے۔ مگر کلیم الدّین احمد نے بتایاکہ داستانوں میں موجود فوق فطرت عناصر حقیقتاًداستان گو کی تخیلی شخصیت کا ایک عکس ہے۔ داستان گو خیال کی سب سے اونچی کس اڑان کے سہارے داستان کی اگلی منزلوں تک جا سکتا ہے اس کے لیے اس کے پاس بنیادی وسیلہ یہی ما فوق فطرت عناصر ہوتے ہیں۔ کلیم الدّین احمد کا اصرار ہے کہ انھیں تخیّلی قوّت کی شناخت کے طَور پر دیکھنا چاہیے۔ما فوق فطرت عناصرپر گفتگو کرتے ہوئے وہ اس بات پر توجّہ دیتے ہیں کہ کس طرح داستان گو حقیقی اور غیر حقیقی قصّوں کی ترتیب میں تجربہ کرتا ہے۔قصّہ اجنبی ماحول کی پیشکش سے شروع ہوتا ہے مگر تفصیلات کے مرحلے میںآشنائی کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔پھر خواب اور حقیقت کا ایک مرحلہ وار سلسلہ قایم ہو تا ہے۔اسی لیے انھوں نے یہ بات اصول کے طور پر پیش کی کہ داستانوں کے قصّے نہ خلا میں سانس لیتے ہیں اور نہ ہی خلا میں پیدا ہوتے ہیں۔

ہر داستان میں عشق وعاشقی، حسیناؤں کا جمگھٹا، نامرادعشّاق کی کسمپُرسی ، ہوس کا روں کا سماجی زندگی میںطاقت ور ہونا جیسے معاملات کی پیش کش کوکلیم الدّین احمد اس عہد کی سماجی زندگی کا عکس قرار دیتے ہیں۔کلیم الدّین احمد اس عہد کے سماجی بندھنوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ داستان گو اگر زندگی کے اس ذائقے کی پیشکش میں آزادیاں حاصل نہ کرے تووہ نفسیاتی دباؤ سے فراغت نہیں حاصل کر سکتا ہے۔جہاں عشق وعاشقی پر جانے انجانے اتنے پہرے ہوں ،وہاں داستان گو اپنے سامعین اور قارئین کی زندگی کے اُس خلا کو پُر کرنے کے لیے عشق وعاشقی میں ہر لمحہ حد سے بڑھ جانے کی ایک خُو کا مظاہرہ کرتا ہے۔سامعین یا عوام کے دلوں کی حسرت داستان گو کے لفظوں میں ایک حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔اس لیے داستان کی عاشقانہ دنیا سامعین کے لیے بہر طور ایک جذباتی تکملہ کا کام کرتی ہے۔

کلیم الدّین احمد عشق وعاشقی کے واقعات کی پیشکش میں داستان کے موضوعاتی استحکام کی پہچان کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ محبت، نفرت ، رقبت، حسرت، تمنّا، یاس، غم وغصّہ جیسے جذبات سے داستانوں کی دنیا رنگین اور دلکش ہوجاتی ہے۔اسی عشق سے قصّے کی بُنَت میں پیچیدگی آتی ہے۔ پڑھنے یا سننے والے کے لیے تجسّس کے سامان بھی پیدا ہوتے چلتے ہیں۔کلیم الدّین احمد کا کہنا ہے کہ بیانِ عشق میں داستان گو جس ہیرو کی تلاش کرتا ہے، وہ بالعموم شاہِ وقت یا اسی رتبے کاہوتا ہے۔وہ عاشق ہے مگر اس کی زندگی اس سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ وہ بہادر ہے اور ملک وقوم سے لے کر ذات تک ہر مرحلے میں اپنی طاقت اور بہادری سے جیت تمام مورچوں پر حاصل کرتا ہے۔ داستان میں یہ عاشق ایک مثالی کردار کی طرح سے سامنے آتا ہے۔

داستانوں کوکلیم الدّین احمد تہذیبی اعتبار سے قوم کی ترجمانی کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تہذیب وثقافت کا اگر شعور نہ ہو توداستان گواپنی منزلیں سر نہیں کر سکتا۔داستان کے ہیرومیں مثالیت پسندی کے جوہر نظر آتے ہیں،اس سے ایک الگ انداز کی زندگی قایم ہو جاتی ہے۔وہ داستانوں کو کسی قوم کی مجموعی پہچان کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اسکے کرداروں کے آئینے میں افرادکی انفرادی کوششوں کی شناخت کرتے ہیں۔داستان شناسی کے لیے یہ ایسے اصول ہیںجن کے حوالے سے داستانوں کو دیکھتے ہوئے ان کی واضح قدروقیمت سمجھ میں آتی ہے۔یہ کلیم الدّین احمد خاص کارنامہ ہے کہ انھوں نے داستان کے قصّے کہانیوں میں اس قوم کے مزاج اور اندازواسلوب کو بہ غوردیکھنے اور سمجھنے کے لیے ہمیں آمادہ کیا۔

داستانوں کو قصّہ گوئی کا ایک پیچیدہ عمل ماننے کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ داستان گویوں کو یہ تکنیک معلوم تھی کہ قصّے کو بیان کے مرحلے میں اس قدر سادہ اور راست اظہار کا نمونہ ہونا چاہیے جس سے پڑھنے والے اور سننے والے آزادانہ طور پرایک مرحلے میں قصّے کی نئی دنیا کا حصّہ بن سکیں۔وہ اس بات کی وضاحت بھی کرتے ہیں کہ دقّتِ نظر اور غور وفکر کے امور اگر داستان گو قصّے میں شامل کر دے تواسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس لیے ایسی داستانوی فضا قایم کی جاتی ہے جس سے قصّے کی پیچیدگی ذائل ہو اور ساری کیفیت سطح پر سامنے آجائے۔کلیم الدّین احمد نے داستان گویوں کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی ہے کہ وہ ایک واقعے سے دوسری دنیا تک اتنی آسانی سے پہنچ جاتے ہیں جہاں سب کچھ چلتی پھرتی تصویروں کی طرح نظر آتا ہے۔یہ حَرَکی اور دوڑتی پھرتی زندگی بہت بعد میںسنیما کی شکل میں سامنے آئی۔کلم الدّین احمد اسے زماں ومکاں کی تبدیلی کے آئینے میں واضح کرتے ہیں۔ جس زمانے میں داستانیں لکھی جا رہی تھیں، اس وقت تخیُّل کے سہارے ہی داستان گو ساری تبدیلیاں زماں و مکاں کے حوالے سے بہ عجلت کر لیتا۔ کلیم الدّین احمد نے اس صفت کو داستان گویوں کا ہنر تسلیم کیا ہے۔

داستانوں کی زبان وبیان پر گفتگو کرتے ہوئے آرایشِ بیان اور پُر تکلّف انداز پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ داستان گو اسے ماحول سازی اور فَضاآفرینی کے لوازم کے طَور پر برتتے ہیں۔ انشاپردازی کی صفت داستان گویوں میں نہ ہوتی تو وہ لفظوں سے جس مہتم بالشّان روایت کی پیشکش کا فریضہ انجام دینا چاہتے تھے ،وہ ممکن نہیں ہوتا۔ یہ بھی واضح کرنا کلیم الدّین احمد ضروری سمجھتے ہیں کہ زبانی روایت سے داستان گویوں کوماحول کے اتار چڑھاؤ کے عوامل پیش کرنے تھے۔اس میں زبان کی کئی سطحیں درکار تھیں۔ انسانی زندگی اور حیات وکائنات کی الگ لگ کیفیات کی پیشکش میں زبان ایک بنیادی حربے کے طور پر کام کرتی ہے۔ کلیم الدّین احمد یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ داستان گویوں کو سامعین کو نگاہ میں رکھتے ہوئے بیان کے مشکل ڈھب کو نہیں آزمانا تھا۔ سننے والوں کے نقطہ نظر سے غور کریں تو یہ سچاّئی ہے کہ انھیں آزمایش میں ڈالنا داستان گویوں کے لیے خطرے سے کھیلنے کے مترادف تھا۔اسی وجہ سے اپنی انشا پردازی میں انھوںنے بہ قولِ کلیم الدّین احمد صرف لطافت اور فصاحت کے محاسن حاصل کرنے کی کوشش کی۔عبارت سریع الفہم نہ ہو، اس اصول کی وضاحت میں کلیم الدّین احمد نے یہ بات یاد دلائی ہے کہ کسی دوسری صنف کے لیے یہ بات ضمنی طور پر توجّہ کا باعث ہو سکتی ہے مگر داستانوں کے لیے یہ سب سے زیادہ اہم ہے کیوں کہ اگر عبارت ناقابلِ فہم ہوجائے تو عوامی دلچسبی ذائل ہو سکتی ہے۔

مختلف داستانوں میں داستان گویوں نے اپنے فن کے سلسلے سے گفتگو کی ہے۔ یہ باتیں گرچہ اکثر برسبیلِ تذکرہ سامنے آتی ہے۔کلیم الدّین احمد ان کے اقتباسات پیش کر کے یہ بتا دیتے ہیں کہ داستان گویوں کے پاس قصّہ گوئی کا ایک واضح شعور تھا اور وہ اپنے ذاتی اصول وضوابط کی روشنی میں قصّے کے واقعات ، اندازِ پیشکش اور زبان وبیان کی مختلف سطحیں واضح کر رہے تھے۔کلیم الدّین احمد سے پہلے شاید ہی کسی نے ہمارے بزرگ داستان گویوں کے تصوّرِ فن پر توجّہ کی ہو اور انھیں داد دی ہو۔اس بحث سے کلیم الدّین احمد یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ قصّہ گویوں نے محض وقت گزاری یا کسی کی فرمایش کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی داستانیں نہ کہیں ، بلکہ ان کے کچھ ذاتی تصوّرات قصّہ گوئی کے باب میںنشوونما پا چکے تھے جن کی رہنمائی میں انھوں نے اپنی داستانیں مکمّل کیں۔

داستانوں میں دلچسپی کے عناصر پر گفتگو کرتے ہوئے  اس کتاب میںانسانی نفسیات کے پیچ وخم پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ داستان گویوں نے ان قصّوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے بہت سارے لوازم ایک ساتھ استعمال میں لائے ہیں۔کلیم الدّین احمد دلچسپی کو بنیادی طَور مانتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ داستان گو اس کا واضح فہم رکھتے تھے۔ واقعات اور زبان دونوں کی عمومی اور عجیب وغریب صورتِ حال کی پیشکش سے حسبِ ضرورت قصّے میں رنگ بھرنے میں انھوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ داستانوں کو وہ ایک دلچسپ دنیا کی سیر سمجھتے ہیں اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے مطالعے کو تضیعِ اوقات سمجھنامناسب نہیں بلکہ حقیقیت یہ ہے کہ ان سے تخیُّل ، دماغ اور روح کی تازگی حاصل ہوتی ہے۔

کلیم الدّین احمد نے اپنی ناقدانہ زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے ’’میری تنقید: ایک بازدید‘‘میں’ اردو زبان اور فنِ داستان گوئی ‘کو بھی بطور موضوع پیشِ نظر رکھا اور چند صفحات میں اس کتاب کے مندرجات اور ان کے سلسلے سے اردو کے علمی حلقے کے ردعمل پر اپنے تاثرات رقم کیے ہیں۔ انھوں نے بجا طور پر یہ بات کہی کہ یہ کتاب  اردو داستانوں کا محض ایک تنقیدی جائزہ ہے۔انھوں نے ’طلسمِ ہوش رُبا‘، ’بوستانِ خیال‘ ’باغ وبہار‘ ، آرائشِ محفل‘، فسانۂ عجائب ‘ تک اپنی گفتگو محدود رکھی ہے۔ اس طرح منظوم داستانوں یعنی مثنویات کے حصّے سے ’سحرالبیان‘ او’ر گلزار نسیم ‘پراختصار کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کتابوں کا تمام وکمال تنقیدی جائزہ یہاں سامنے آگیا ہے مگر یہ بات توجّہ میں ہونی چاہیے کہ کلیم الدّین احمد نے مذکورہ کتابوں پر اپنے جو تنقیدی تاثرات پیش کیے ہیں، وہ اتنے نپے تُلے اور غور وفکر سے بھرے ہوئے ہیں جن پر اب بھی کسی بنیادی تبدیلی کی ضرورت سمجھ میں نہیں آتی۔ کلیم الدّین احمد کے بعد گیان چند جین نے داستانوں کی تحقیق پر بہ تفصیل کام کیا اور متعدد داستانوں کے خلاصے پیش کیے۔ اسی طرح پچھلے برسوں میں شمس الرّحمٰن فاروقی نے داستان کی شعریات کے حوالے سے کم وبیش چار جلدیں رقم کیں۔دونوں کی تنقید وتحقیق کی بنیاد اور نقطۂ آغاز کلیم الدّین احمد کی یہی مختصر کتاب ہے۔کم و بیش ان کے نتائج کے اساسی پہلو بھی کلیم الدّین احمد سے اخذ شُدہ ہیں۔داستان کے دوسرے نقّادوں نے بھی کلیم الدّین احمد سے ہی اپنے چراغ روشن کیے ہیں۔کہنے کو’ اردو زبان اور فنِ داستان گوئی‘ ایک مختصر سی کتاب ہے اور خود کلیم الدّین احمد بھی اس کتاب کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے مگر’اردو شاعری پر ایک نظر‘ اور’ اردو تنقید پر ایک نظر ‘ جیسی کتابوں کی طرح ہی اس کتاب میں اصول واطلاق کے بنیادی ذرایع موجود ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنی دوسری کتابوں کی طرح کلیم الدّین احمد نے اپنی اس کتاب پرنظرِ ثانی نہیں کی اور اشاعتِ اوّل کی ہی تکرار اب تک ہوتی رہی۔ اس کے باوجود اردو میں داستان کی تحقیق وتنقید کے لیے ماحول سازی اور افہام وتفہیم کے لیے ضابطہ بندی جیسے اوصاف کے سبب اس کتاب کواردو کی عہد ساز کتابوں میں شامل کیا جا نا چاہیے۔

 

DR. SAFDAR IMAM QUADRI,

Head, Department of Urdu,

College of Commerce, Arts & Science, Patna: 800020(Bihar)

Res: 202, Abu Plaza, NIT More, Ashok Rajpath,Patna-6(Bihar)

Email: safdarimamquadri@gmail.com  Mobile: 09430466321

You may also like

Leave a Comment