۔ طلبا کو جاننا چاہیے کہ تاریخ اہم واقعات و شخصیات کی ڈائری ہے تو جغرافیہ ہماری دھرتی کاشناخت نامہ ہے:ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی
حافظؔ کرناٹکی کی نئی کتاب ’’ بچوں کے امیر خسرو ‘‘ کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب جہاں اردو کے آغاز وابتداء کی کہانی سناتی ہے ۔وہیں اردو ادب اور ہندوستان کی تاریخ کی داستان بھی بیان کرتی ہے:ڈاکٹر محمد فاروق اعظم حبان رحیمی قاسمی
آج بروز سنیچر ۱۷؍دسمبر ۲۰۲۲ء کو گلشن زبیدہ شکاری پور میں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی صدارت میں بچہ، بچوں کا ادب اور تاریخ و جغرافیہ کی اہمیت پر ایک معنیٰ خیز جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ اس جلسے میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خانوادہ رحیمیؒ کے گل سرسبد حکیم بے بدل اور نظم و نثر کے قلمکار و فنکار مولانا ڈاکٹر محمد فاروق اعظم حبان رحیمی قاسمی صاحب مہتمم دارالعلوم محمدیہ بنگلور، مدیر ماہنامہ ’’نقوش عالم‘‘ بنگلور نے شرکت فرمائی۔ ان کے علاوہ حضرت مولانا مفتی محمد اظہر الدّین اظہر ندوی، ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی، جناب انیس الرّحمن صاحب نائب سرپرست گلشن زبیدہ، جناب فیاض احمد صاحب صدر ایچ کے فاؤنڈیشن، انجنیئرمحمد شعیب، جناب نذراللہ مڈی، عبدالعزیز صاحب، میر معلم زبیدہ ہائیر پرائمری اسکول، رضوان باشا،مولانا عبدالحفیظ ندوی،مولانا عبد الرقیب ندوی ، مفتی محمد شاہد قاسمی، مولانا عرفان قاسمی، مولانا ایوب قاسمی ،اشفاق فاتح، قاری محمد سہیل، حافظ عارف مدنی، حافظ ریحان مدنی،مولانا عطاء اللہ ندوی، ابوطلحہ، اور شیخ مدثر وغیرہ کے علاوہ بہت سارے اسکول و مدرسے کے اساتذہ اور طلبا نے شرکت کی۔
اس موقع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمدفاروق اعظم حبان رحیمی قاسمی صاحب نے کہا کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی اور ان کی قائم کردہ اکیڈمی کرناٹکا اردو چلڈرنس اکادمی اور ان کا تعلیمی گلشن گلشن زبیدہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی ذہنی و فکری بلندی اور ادبی بلند پروازی، اور ہمہ جہت مطالعے کے ذوق کی پرواز کا بہت اچھا اہتمام و انتظام کررہا ہے۔ چوں کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی خود ایک تعلیمی مدبر، عالمی شہرت یافتہ شاعر و ادیب، اور حافظ و عالم ہونے کے ساتھ ساتھ جدید ترتعلیمی رجحانات کے واقف کار ہیں، اس لیے ان کی فکر بہت بلند اور لاجواب ہے۔ انہوں نے نظم و نثر کے ذریعے بچوں میں ماحول، تاریخ، جغرافیہ، حساب، شہریت، سائنس سبھی مضامین کو پیش کیا ہے، اس لیے ان کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے لیے تاریخ اور جغرافیہ کا علم اور اس کا گہرا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ اس لیے کرناٹکا چلڈرنس اردو اکادمی کے اس سیریز پروگرام کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گاکہ اس طرح کے پروگرام کی طرف دوسرے اداروں کو بھی توجہ دینی چاہیے۔ ڈاکٹر محمد فاروق اعظم حبان رحیمی قاسمی نے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی نئی کتاب ’’ بچوں کے امیر خسرو ‘‘ کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب جہاں اردو کے آغاز وابتداء کی کہانی سناتی ہے ۔وہیں اردو ادب اور ہندوستان کی تاریخ کی داستان بھی بیان کرتی ہے۔ قارئین اس کتاب سے ادب کی لذت اور تاریخ کی بصیرت حاصل کریں گے، مجھے یقین ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمد اظہر الدّین اظہر ندوی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مدینۃ العلوم شکاری پور میرا مادرعلمی ہے۔ یہاں سے نکل کر میں نے جامعہ اسلامیہ بھٹکل ہوتے ہوئے ندوۃ العلما تک کی تعلیم حاصل کی۔ میں بچپن سے ہی ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو اور بچوں کے روشن تعلیمی فکر کی ان کی تڑپ کو دیکھ رہاہوں۔ وہ دینی اور عصری تعلیم و تعلّم کے بہترین سنگم ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ طلبا جو بھی علم حاصل کریں اس میں مضبوطی ہو اردو پڑھے تو زبان پرگرفت حاصل ہوجائے۔ سائنس، جغرافیہ، تاریخ، یادینیات پڑھے تو اس پردسترس حاصل ہو جائے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہمارے بہت سارے طلبا شہریت، اور شہریت کے حقوق سے واقف نہیں ہیں، وہ جمہوریت، سیکولرزم، اور تاریخ کے مختلف گوشوں سے کماحقہ واقف نہیں ہیں۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ادب اطفال کو بھی ا س طرح کی ذمہ داریاں قبول کرنی چاہئیں جس کی عملی مثالیں وہ اپنی نظم و نثر میں پیش کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ؛
آج جس موضوع کو یہاں مرکز میں رکھ کر گفتگو کی گئی ہے وہ نہایت خوش آئند بات ہے۔ یہ شروعات ہے، میری پوری کوشش ہوگی کہ یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلاجائے۔ طلبا کے درمیان کیمپ لگائے جائیں، انہیں تاریخ اور جغرافیہ کی اہمیت کا احساس دلایا جائے، انہیں بتایا جائے اعلیٰ تعلیم کی منزل ان مضامین کے بغیر سرنہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادب اطفال کو بھی محض مخصوص دائرے میں قید نہیں ہوناچاہیے۔ اسے تاریخی واقعات، تاریخی شخصیات، تاریخی عمارات، تاریخی ادوار کو ادب کے سانچے میں ڈھال کر پیش کرنا چاہیے۔ ماحول، شہریت، براعظم، بحراعظم، زمین کی ساخت وغیرہ کے حوالے سے نظمیں، کہانیاں، اور مضامین پیش کرنے کی طرف فنکاروں کو راغب کرنا چاہیے۔ طلبا کو جاننا چاہیے کہ تاریخ اہم واقعات و شخصیات کی ڈائری ہے تو جغرافیہ ہماری دھرتی کاشناخت نامہ ہے۔ اس لیے ان مضامین سے کبھی غفلت نہیں برتنی چاہیے۔اور ادب اطفال کے قلم کاروں کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔انہوں نے اپنی کتاب بچوں کے امیر خسرو کو بھی تاریخ و تہذیب اور سوانح کے تسلسل کی کڑی بتایا ہے۔
ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے کہا کہ؛ ادب اطفال بچوں اور طلبا کے لیے ذہنی غذا کی سی اہمیت رکھتا ہے۔اور ہم جانتے ہیں کہ جس خوراک میں جتنی زیادہ اقسام کی غذائیت ہوتی ہے وہ خوراک اتنی ہی مفید ہوتی ہے۔ ادب اطفال چوں کہ بچوں کا من بھاتا کھاجاہے اس لیے اس اس میں سائنس، سماج، تاریخ، جغرافیہ، ماحول، اخلاق، دینیات، سوانح سب چیزوں کو شامل کرنا چاہیے تا کہ اس کی قدر وقیمت، افادیت، اور اس کا ذائقہ بڑھ سکے۔ اس طرف ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی صاحب نے بہت اہم پیش رفت کی ہے۔ ادب اطفال کے لیے لکھی گئی ان کی نظم و نثر کی کتابوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔جب کہ ان کی تازہ ترین مثال ’’ بچوں کے امیر خسرو ‘‘ ہے۔ جس کا ابھی ابھی اجراء کیا گیاہے۔ یہ اپنی نوعیت کی بے مثال کتاب ہے۔
جناب انیس الرّحمان صاحب نے کہا کہ یہ سلسلہ بہت ہی خوش آئند ہے۔ اس طرح کے جلسوں سے بچوں کے ذہن میں تازگی پیدا ہوگی۔ ادب اطفال کا جمود ٹوٹے گا۔ اور ادب اور تعلیم و تدریس کا رشتہ باہم مضبوط اور مفید بنے گا۔
جناب انجنیر محمد شعیب نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ادب اور علم میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے۔ بچوں کا ادیب اور فنکار جتنے علوم سے واقف ہوگا ان کے ادب میں ان تمام علوم کے اسنس ضرور پیدا ہوں گے۔ اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیے۔ اس سے یقینا طلبا اور ادب اطفال دونوں کا فائدہ ہوگا۔ جناب فیاض احمد نے کہا کہ بچے ہماری دنیا کے مستقبل کے معمار ہیں۔ اس لیے انہیں ہر طرح کے علوم سے آگا ہوناچاہیے۔ اور خاص طورسے تاریخ اور جغرافیہ میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس چراغ سے اور بھی کئی چراغ جلیں گے۔ یہ جلسہ مولانا عرفان قاسمی کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

