ڈاکٹر تاثیر صدیقی دور ِحاضر کے توانا لب و لہجہ رکھنے والے جدیدشاعرہیں۔ پیشے کے لحاظ سے آپ ایک اُستاد ہیں اور احمد آباد گجرات (انڈیا) کی یونیورسٹی میں بطور وزیٹنگ پروفیسر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔Phd finance جیسے خشک مضمون میں کرنے والے اس نوجوان شاعر کو اردو ادب سے گہری وابستگی نے سچے جذبوں کا شاعر بنا دیا ہے۔ انہوں نے رسمی طور پر اردو زبان میں تعلیم حاصل نہیں کی لیکن چونکہ ان کے والدین کا تعلق امروہیہ سے تھا اور گھر میں اردو زبان بولی جاتی تھی اسلیے انہیں شروع سے ہی اردو زبان سے محبت تھی اسی محبت نے انہیں بعد ازاں اردو کے شعرائ کے فہرست میں لا کھڑا کیا۔
اُن کی شاعری کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو انہوں نے اپنے شعری اظہار کے لیے غزل، رباعی، دوہے، ثلاثی جیسی مشہور شعری اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ان کی زیر مطالعہ کتاب،
” سبز آسمان ”ہے جو ان کی غزلیات کا پہلا مجموعہ ہے۔انہوں نے غزل کو مروجہ رسمیات اور کاریگری سے نکال کر نئے موضوعات کو متعارف کروا یا ہے۔ان کی شاعری کے بنیادی قضیے فطرت، رومانویت اور سماجیات سے جڑے ہوئے ہیں۔
اُن کا شعری بیانیہ سہل اور فکر انگیز ہے جبکہ اُن کے یہاں مصرعوں میں روانی بہتے ہوئے پانی کی طرح رواں دواں ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ تاثیرصاحب کی شاعری پرانی اور نئی زمیوں کی تازہ کاری کا حسین امتزاج ہے۔انہوں نے جس انداز میں نئی زمینوں کو خوش سلیقگی کے ساتھ برتا ہے یہ اُن کی فنی مہارت کا کامل ثبوت ہے۔
تاثیر صاحب فطرت کے شاعر ہونے کی وجہ سے گہری کیفیتوں کو تمثال گری کے فن میں لپیٹ کر پیش کرنے کے ہنر سے مکمل آگاہی رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ غزل کے تمام فنی و فکری پہلوؤں اورمشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ فنِ غزل کی مشکل پسندی پر اُن کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے!
تم سمجھتے ہو فقط لطف کا ساماں ہے غزل
شاخِ الفاظ پہ زخموں کی بہاراں ہے غزل
٭٭٭
جذبوں میں ورافتگی کے ساتھ ان کی شاعری میں طنز کی گہری کاٹ پائی ہے۔مثلاً ایک جگہ وہ اردو ادب کے خادمین پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
خادمِ اردو کا اعزاز ملِا ہے جن کو
واسطے ان کے تو بس عیش کا ساماں ہے غزل
٭٭٭
ان کی شاعری موضوعات کی رنگا رنگی سمیٹے ہوئے ہے۔
اردو غزل کلاسیکی دور سے جس رنگِ تغزل کی روایت پر چلی آ رہی ہے تاثیر صدیقی اس روایت کے امین ہیں۔ان کی غزل میں انسانی جذبات و احساسات، حسن و عشق، ہجر و وصال، نشاط و غم کی کیفیات کا تذکرہ ملتا ہے۔
بقول شاعر۔۔
اس میں تاثیر کے سو رنگ ہوا کرتے ہیں
کبھی نشتر تو کبھی درد کا درماں ہے غزل
٭٭٭
جدید لب و لہجے کے شاعر ہونے کی وجہ سے ان کے لب و لہجہ میں نیا طرزِ ادا اور انوکھا پن بھی موجود ہے۔ایک شاعر میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے کہ وہ صرف لفظوں کی ترتیب ہی نہیں بلکہ انسانی جذبات و احساسات اور مشاہدات کی صورت گری کا بھی ضامن ہو۔
تمثال گری ہو یا اوزان و آہنگ،لفظوں کی بازیافت ہو یا ندرت آفرینی،بنت کاری ہو یا تازہ کاری،کلاسیکیت ہو یاجدت،صوتی آہنگ سے واقفیت ہو یا لسانی منظر نامے پر گہری نظر، عروض پر دسترس ہو یا لفظیات اور تراکیب کا درست استعمال یہ سب شاعری کے بنیادی لطیف پہلو تصور کئے جاتے ہیں جن کو سمجھنا اور ان پر مکمل عبور رکھنا اچھے شاعر کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ ہمیں ان کی شاعری میں مذکورہ بالا تمام خوبیاں دیکھائی دیتی ہیں۔
جذبوں میں وہ سچے اور کھرے انسان ہونے کے ناطے اپنے اشعار میں سچ کے علمبدرار بھی نظر آتے ہیں۔
بقول شاعر وہ کہتے ہیں۔۔
دیکھا سُنا،سہا تھا جو میں نے کہا وہی
یعنی کبھی غلو کو بنایا نہ شاعری
مذید لکھتے ہیں۔۔
فقط تماشہ ہے لفظوں کا اور کچھ بھی نہیں
جو چھو سکے نہ دِلوں کو وہ شاعری کیا ہے
٭٭٭
صداقت پر یقین رکھنے والے یہ شاعر معاشرے میں پھیلی ہوئی جھوٹ کی فضائی سے بیزرا ہیں۔
اس حوالے سے انہی کا یہ شعر ان کی دلی ترجمانی کا عکاس ہے۔
دُلہن بنی ہوئی ہیں سب جھوٹ کی دُکانیں
فٹ پاتھ پر کھڑے ہیں سچائیوں کے ٹھیلے
٭٭٭
مزید یہ شعر ملاحظہ فرمائیے!
کیسے بنائیں جھوٹ کو ہم اور پُر کشش
چرچا یہ ہو رہا ہے سیاسی سبھاوں میں
٭٭٭
ہندوستان کی فضائی میں بلعموم و بلخصوص سیاسی طور پر ہندو مسلم پر امن انداز میں زندگی گُزرانا چاہتے ہیں جبکہ آج کل ہر جگہ کے سیاسی اطوار اس امن کی راہ میں اپنے سیاسی مفادات کے پیشِ نظر رخنہ ڈالتے رہتے ہیں تاثیر صاحب نے نہایت نرمی سے اس بات کی طرف توجہ دلا کر عوم میں ہندو مسلم بھائی چارے کے فروغ کو جلا بخشنے کی کوشش کی ہے۔
اس حوالے سے اُن کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے!
ہندو مِلا رہا تھا مُسلماں سے اپنا ہاتھ
منظر یہ دیکھ کر ہی سیاست اُداس ہے
٭٭٭
اس ضمن میں وہ انسانیت کا درس دیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔
یہ شعر دیکھئیے!
کیوں پریشان رہیں ہندو مُسلماں کے لئے
آئیے باتیں کریں بیٹھ کے انساں کے لئے
٭٭٭
گزشتہ دو سال کرونا کی وجہ سے جہاں لوگ بہت سی مشکلات کا شکار ہوئے وہی سماجی تعلق داریاں بھی متاثر ہوئیں ہیں یہی وجہ ہے کہ ادیب و شعرا کے کلام پر بھی اس کا اثر دیکھنے کو ملتاہے اسی لیے بہت سے شعرائ نے اس موزی مرض پر نثر، نظم، رباعی ا ور غزل کی ہتیوں میں بہت کچھ لکھا ہے ڈاکٹر تاثیر صاحب بھی اپنے مخصوص شاعرانہ انداز میں اس حوالے سے کچھ یوں رقمطراز ہیں،
دور تک راہ میں ویرانی ہے
اِک وبا کر رہی من مانی ہے
گھر کے افراد ہیں گھر ہی میں سبھی
گھر کو اِس بات پہ حیرانی ہے
٭٭٭
نفرتیں بھی وباؤں کی طرح ہی ہوتیں ہیں جیسے وبا پھیلنے سیملک کے ملک، شہر کے شہر نیست و نابود ہو جاتے ہیں اسی طرح نفرتیں بھی رشتوں میں دراڈیں ڈالنے کا سبب بنتی ہیں نتجہ گھر کے گھر اجاڑ جاتے ہیں اس لیے شاعر نے اس وبائ کو نفرت سے تشبہ دے کر عوام الناس کو نرم پیرائے اور اہنے مخصوص ناصحانہ انداز سے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح ہاتھ دھونے سے وبائی جراثیم ختم ہو جاتے ہیں۔اسی طرح دل سے کینے اور حسد کو بھی صاف کر لیجیے تاکہ دلوں سے کدورتیں ختم ہو جائیں۔ غلطیاں انسانوں سے ہوتی ہیں اور معافی اور در گزر کے پانی سے ان کو باآسانی دھویا جا سکتا ہے۔
بقول شاعر!
ہاتھ دھوتے ہیں زرا دل کو بھی دھویا کیجے
نفرتیں بھی تو وباو?ں کی طرح پھیلتی ہیں
٭٭٭
کرونا کی بلا نے ملک در ملک،شہر در شہر،بستی در بستی کیسارے معاشی نظام کو ایک ہی آن میں مفلوج کر دیا جس کے نتیجے میں بھوک و افلاس نے جنم لیا۔غذائی قلت و قحط کی وجہ سے بہت سی انسانی جانوں کا زیاں ہوا ہے جو بہت درد ناک المیہ ہے۔شاعر نے بھی اس درد کو محسوس کیا ہے۔
بقول شاعر۔۔
باہر وبا کا زہر ہے گھر میں بلا کی بھوک
کس موت کو چنو میں زرا رائے دیجیے
٭٭٭
انہوں نے دیگر موضوعات کے ساتھ دُنیا کی نہ صرف بے ثباتی بلکہ اس کے عارضی پن کو بھی موضوع بنایا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی جانب عام طور پر توجہ زیادہ نہیں جاتی لیکن انہوں نے نہایت جامع انداز سے اس حقیقت سے پردہ اُٹھا یا ہے. وہ لکھتے ہیں
عارضی جِسم تھا اور روح تھی قائم دائم
ایک گھر ٹوٹتے ہی دوسرے گھر جانا تھا
٭٭٭
اِن کا اسلوب جدید بنیادوں پر استوار ہے۔انہوں نے عشق کے روایتی تناظرکو بیان کیا ہے۔اسی صفت نے انہیں اپنے ہم۔عصر دوسرے شعرائ سے ممتاز کیا ہے۔انہوں نے اپنے منفرد کلام سے اپنی الگ شناخت قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔اپنے کلام میں انہوں نے انوکھے رنگ دریافت کئے ہیں جس میں قوس و قزح کی دھنک کی ماند ہر رنگ ایک ساتھ بھی نظر آتا ہے اور جدا بھی۔
ان کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے!
سانولی شام کے مکھڑے پہ لٹیں بکھراکر
سبز منظر میں شفق رنگ مِلائے بادل
٭٭٭
مذید شعر ملاحظہ ہو!
بوندیں ہیں یا شجر پرشمعیں ہوئیں ہیں روشن
یہ بھیگی بھیگی شاخیں کیا جگمگا رہی ہیں
٭٭٭
تاثیر صاحب کے یہاں عشق کی ورادت بھی تہذیب کے سانچے میں ڈھلی ہوئی نظر آتی ہے۔
مثلاً اُن کا یہ شعر ملاحظہ ہو!
دیکھ کر مجھ کو مہک اُٹھتی ہیں آنکھیں اُس کی
سُرخ ہونٹوں سے پھر آداب کی خُوشبو نکلے
٭٭٭
تاثیرصاحب حقیقت پسند شاعر ہونے کی بنا پر زندگی کی تلخیوں سے بخوبی واقف ہیں۔اس لیے ان کی شاعری میں غمِ جاناں کے ساتھ،ساتھ غمِ روز گار کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔
سونی سونی آنکھیں میری خالی جیب کو تکتی ہیں
بچوں کے آگے شرمندہ کرنے آیا عید کا چاند
٭٭٭
مزید یہ شعر ملاحظہ فرمائیے!
شکل کو عقل کو پرکھیں گے نہ گویائی کو
لوگ دیکھیں گے فقط جیب کی گہرائی کو
٭٭٭
انہوں نے عشق میں ناکامی،بے روزگاری اور اداسی کی کیفیات کو امید،خوشی اور معانی فہمی کے شو خ رنگوں سے مزین کیا ہے۔
بقول شاعر۔۔
ہم فقیرانِ محبّت ہیں تیرے کوچے سے
گیت گاتے ہوئے اُلفت کے گُزر جائیں گے
٭٭٭
عشق جاوداں ہوتا ہے اور حسن عارضی،حسن کی اسی عارضی پن کے حوالے سے تاثیر صاحب کہتے ہیں۔
عمر کی تیسری منزل پہ بکھر جائے گا
آپ جو حُسن کا گلزار لئے آئے ہیں
٭٭٭
مذید لکھتے ہیں۔۔
زلفوں کی رہ گُزر سے سیاہی گُزر چکی
خیمے لگے ہیں اب تو سفیدی کے مو بہ مو
٭٭٭
تاثیر صاحب محبت کی طرح دوستی کے خالص جذبے پر یقین رکھتے ہیں۔
بقول شاعر۔۔
دوستی بھی تو عبادت کی طرح ہے تاثؔیر
فرض ہے دِل کا وضو ہاتھ مِلانے کے لئے
٭٭٭
خوبصورت بھیگتے کومل جذبے ہی کے نہیں بلکہ وہ خوبصورت لب و لہجے اور آواز کے بھی اسیر ہیں۔
اس ضمن میں ان کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے!
شریں سخن میں رنج ومحن کو بھی کر بیاں
لے چل زبانِ حال کو داؤدی لحن تک
٭٭٭
مختلف جذبوں کی طرح ان کی شاعری میں سبزے کی علامت اورپرندوں کی چہکار نے انسانی ذہن کے فکر رسائی خیالات کو ترواٹ بخشنے کا کام کیا۔
برسات نے بچھا دی دھرتی پہ سبز چادر
مِل جُل کے کوئلیں سب ملہار گا رہی ہیں
٭٭٭
جہاں تک ان کی شاعری کے فنی پہلوو?ں کا تعلق ہے وہ اس میں بھی ایک اچھے شاعر کی طرح بہت محتاط انداز میں جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔وہ اپنی گہری کیفیات کو دریافت کرتے ہوئے کمال مہارت سے تمثال گری کے جوہر دیکھاتے ہیں۔آواز کی نغمگی، بیان کی تاثیر،حسن کی تمکنت جیسے تحفہ خداوندی ہے اسی طرح شاعری بھی قدرت کا انمول عطیہ ہے ایسے میں قدرتی حسن کو اشعار کے قالب میں خوبصورتی سے سمو کر قاری کے ذہن کو تراوٹ بخشنا تاثیر صدیقی کے فنِ کا کمال ہے۔ان کی شاعری کی کونپلیں شاخِ ثمر بار سے سایہ شجر بار بننے تک کتنے کٹھن مراحل سے گزری ہے وہ سب ورادتیں ان کے اشعار سے عیاں ہیں۔
مثلاً یہ اشعار ملاحظہ ہو!
دھرتی کے چھالوں پر ملنے شاخوں کے زخموں کو بھرنے
سبز رنگ کا مرہم لیکرچھم چھم کرتا آیا بادل
٭٭٭
تاثیر صدیقی کی شاعری میں موسم،شجر،اشجار،رنگ،دھنک،بادل ہوا،بارش،آسمان کے استعارے بکثرت ملتے ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ فطرت کی قربت انہیں بہت پسند ہے۔
اس حوالے سے ان کیمزید چند اشعار ملاحظہ کیجیے!
بوڑھے درخت پر بھی ہے ممکن ابھی ثمر
بس چاہیے نگاہ ذرا دیکھ بھال کی
٭٭٭
تاثیر صدیقی صاحب موسمِ گل کو خوشیوں سے تشبہ دیتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہمیشہ غم کی صورتِحال میں چٹان کی ماند حوصلہ رکھو یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بلند ہمتی و حوصلگی پائی جاتی ہے۔
خوشیوں کے موسم میں شاخِ گُل کی طرح خمدار رہو
غم کی رتوں میں پربت بن کر جھکنے سے انکار کرو
٭٭٭
تاثیر صرف فطرت کے مناظر کا لفظی اظہار نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی شاعری میں عوام الناس کو مظاہرِ فطرت کے متعلق مفید مشوروں سے بھی نوازتے نظر آتے ہیں
دشت میں دھوپ کو رونے سے تو اچھا تھا کہ آپ
راہگیروں کے لیے پیڑ لگاتے جاتے
٭٭٭
یہ پودے جو فطرت کے مظاہر اور خدا کہ صناعی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان میں انسانوں کی طرح سانس لینے کی طاقت اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے رکھی ہے شاید اسی لیے انسانوں کو ان سے فطرتی لگاو ہے۔اسی لییفطرت کے عکاس ان اشعار کا مطالعہ کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے گویا پیڑ،پودے، پتے انسانوں کو دیکھ کر ان سے گفتگو کر رہے ہوں۔ سائنسی لحاظ بھی جنوری 1967 کے ایک شمارے دی لائف میگزین میں پودوں پر تحقیق کی گئی ہے جس میں پودوں کے دیکھنے کی حس کو بھی واضع کیا گیا ہے،
”Nature’s Amazing lenses”
کے عنوان کے تحت تحقیق کار ”Leninart Nilsson” کی کھنچی ہوئی تصویر بھی توجہ کا مرکزِ نگاہ بنی رہی
picture taken through the many lenses of leaf
کے تحت یہ عبارت ملاحظہ فرمائیے!
وہ لکھتے ہیں
” No picture like the one above has been taken or dreamed of before.it was taken through the lenses of a plant For plants through they cannot see have lenses by the thousands.All plans have the capacity to receive and utilize sun light in order to maintain vital processes of photosynthesis.No one is sure what function these lenses service ”.
Reference:
Life Asia Edition Special Double issue Photography.
Page 17 volume,42
No,1 Jan 23, 1967.
ڈاکٹر تاثیر صاحب کی شاعری کے تفصیلی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حساس اور نرم و گداز دل رکھنے والے انسان ہیں۔ان کے دل پر گہرے احساس سے مزین جو کیفیات وارد ہوتی ہیں انہوں بہت خوبصورتی ہے ان کو اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے۔ ان کا اشعار سے ان کی طبعیت کی حساسیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،مثلاً ان کا یہ خوبصورت شعر ملاحظہ فرمائیے!
پہلے لہجے کو مہکاؤ پھولوں سی خوشبو دیکر
شاعر کے تیکھے تیور سی پھر لفظوں پر دھار کرو
٭٭٭
چھوٹی بحر میں لکھی ہوئی عمدہ اسلوب اور سہل ممتنع کی حامل تاثیر صدیقی کی اس غزل کو
قارئین مطالعہ ملاحظہ فرمائیے!
غزل
مشکلوں میں بھی شان باقی ہے
حوصلے کی چٹان باقی ہے
ڈھل گئی عمر آرزو نہ ڈھلی
مَر گیا جِسم جان باقی ہے
وہ نہیں دور تک نگاہوں میں
ذہن میں اُس کا دھیان باقی ہے
کر لیے سر سب آسمان، بس اب
خاک کا امتحان باقی ہے
وقت کی دھوپ نے ُسکھا دیے اشک
میرے ہنسنے کا مان باقی ہے
کی ہے مغرب کی پیروی لیکن
ہم میں ہندوستان باقی ہے
گِر گیا اُس کے ہاتھ سے خنجر
مُنہ میں لیکن زبان باقی ہے
اے سرافیل ٹھیر صور نہ پھونک
ابھی تھوڑی تھکان باقی ہے
ُشکر ہے نیند کی دوپہری میں
خواب کا سائبان باقی ہے
٭٭٭
غزل کی نسبت رباعی ایک مشکل شعری صنف ہے لیکن ڈاکٹر تاثیر صدیقی رباعی کہنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔امید ہے ان کی رعبایات پر مشتعمل کتاب ان کے حالیہ مجموعے سبز آسمان کے بعد جلد منظرِ عام پر آئے گی۔
یہاں ان کی رباعیات کے چند نمونے ملاحظہ فرمایئے!
دریا میں کھُلے پیروں سورج اُترا
دھیرے دھیرے دن بھی سر تک ڈوبا
مزدور کہیں دور کیسی چھپر میں
قطرہ قطرہ بستر پر ہے پگھلا
بستر پہ نہا کے بیٹھی ہے گوری صُبح
اور کھینچ رہی ہے پلکوں کی ڈوری صُبح
کہتی ہے اندھیروں میں اُجالوں کو نہ کھوج
اُٹھ دیکھ تورے سامنے ہے توری صُبح
٭٭٭
اِک شوخ ندی کی طرح بہتی ہے یہ عمر
موسم کے روّیوں کو بھی سہتی ہے یہ عمر
میں تھامنا چاہوں مگر آتی نہیں ہاتھ
ہرنی طرح بھاگتی رہتی ہے یہ عمر
٭٭٭
ان کی غزل کی طرح رباعیات کے مصرعے بھی ترشے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔
سبز آسمان کے خالق تاثیر صدیقی صاحب عمدہ شاعر ہیں، مجھے اُمید ہے ان کی شاعری برصغیر میں اردو سمجھنے والے سنجیدہ حلقوں کی نہ صرف توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی بلکہ اِن شائ اللّٰہ عوام الناس میں مقبولیت کی اعلیٰ سطح کو بھی چھو کر اپنے ہونے کا احساس فراہم کرے گی۔ دُعا ہے رب العزت سے کے وہ ان کیعقل و فہم اور قلم کو مذید کامرانیاں و جولانیاں عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
۔۔۔ شمائلہ منیب شمائل
فیصل آباد، پنجاب، پاکستان
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

