کہتا ہے وہ
آکر مجھ سے
صورت اس کی
بھولی بھولی
پیشانی ہے
سورج جیسی
ابرو اس کی
تلواروں سی
آنکھیں اس کی
مئے کے پیالے
رخساروں میں
گل سی رنگت
لب ہیں اس کے
مخمل جیسے
دنداں اس کے
موتی جیسے
گیسو اس کے
بل کھاۓ ہیں
ناگن جیسے
لہراتے ہیں
تن ہے اس کا
سنگِ مرمر
اس کا چلنا
ہرنی جیسا
یعنی ہے وہ
سر سے پا تک
حسن کی دیوی
کیا بتلاؤں؟
دیکھا تھا جو
سپنا تھا وہ!
*****


1 comment
ماشاء اللہ سر، بہت ہی عمدہ کلام ہے۔ قابلِ تحسین۔
ادبی معراث کے سبھی اراکين سے میری التجا ہے کہ فرونٹ پیج کے ساتھ ساتھ اندرونی پیج کو بھی رنگین کریں تو کلام کی خوبصورتی میں اور اضافہ ہوجائے گا۔
امید ہے اس بات پہ غور کی جائیگی۔