Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

غزال ضیغم کے افسانوں میں عورت – ڈاکٹر محمد غالب نشتر

by adbimiras فروری 27, 2021
by adbimiras فروری 27, 2021 0 comment

مابعد جدید خواتین تخلیقی فن کاروں میں غزال ضیغم(۱) کانام کافی اہمیت کاحامل ہے ۔انھوں نے نئے عہدکے تناظرمیں ہونے والی تبدیلیوں کا فن چابک دستی سے محاسبہ کیاہے ۔ساتھ ہی پرانی تہذیبی روایات کی بکھرتی اقدارکونئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔ان کے افسانوں کا کینوس ہندومسلم کے مابین تہذیبی تصادم ،سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے بعدسماجی سطح پرہونے والی تبدیلیوں،گاؤں محلّے کی تہذیبی وثقافتی اقدار،شہری زندگی کی ریاکاریاں،دیہی زندگی میں پرورش پارہے سادہ لوح انسان اورعورت کے مسائل کے اردگرد گھومتا ہے۔

غزال ضیغم کاافسانوی سفر دو دہائی کے عرصے پرمحیط ہے ۔اس دورانیے میں انھوں نے دیڑھ درجن سے کم ہی افسانے لکھے ہیں۔ ان کی افسانہ نویسی کی رفتار کافی سست ہے ۔ان کے مطبوعہ افسانوں میں’’سوریہ ونشی چندرونشی ‘‘،’’نیک پروین‘‘،’’ایک ٹکڑا دھوپ کا‘‘،’’مشتِ خاک‘‘اور’’مدھوبن میں رادھیکا‘‘وغیرہ نے کافی مقبولیت حاصل کی ہے اورناقدین نے اُن کے فن کو کافی سراہاہے ۔ان کے افسانوں کا فکری کینوس جاگیردارانہ نظام کے خاتمہ ،نئی وپرانی تہذیب کاتصادم ،شہری و دیہی زندگی کی آمیزش ،مسلم ہندو کلچر اور جنس کے ارد گرد گھومتا ہے گویا سماجی مسائل کابیان اُن کے افسانوں میں بہ کثرت ہوا ہے ۔مجموعہ ’’ایک ٹکڑا دھوپ کا‘‘کے افسانے اس کے غمّاز ہیں۔اس مجموعے کا نمائندہ افسانہ’’سوریہ ونشی چندرونشی‘‘  ہے ۔اس کی اہمیت اس لیے بھی مسلّم ہے کہ مذکورہ نوعیت کافسانہ اردو میں خال خال بل کہ نہیں لکھاگیاہے ۔یہ افسانہ روحی خان کی داخلی کرب اورمذہب کے تئیں ہونے والے شدیدجذبے کوپیش کرتا ہے ۔روحی خان کے گھرکاماحول یوں تو دقیانوسی ہے جہاں عورتیں گھر کی زینت ہیں اور پڑھائی لکھائی کے واسطے گھر سے باہر قدم رکھنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ایسے پرسکون ماحول میں روحی خان کا،گھر والوں کے بنائے گئے فرسودہ روایات کی مخالفت کرناکسی خطرے سے کم نہیں ہے ۔وہ بہ ضد ہو کرتعلیم کاحق مانگتی ہے ۔ہاسٹل میں رہ کر’’لا‘‘کی تعلیم مکمل کرتی ہے تاکہ ہندوستان کے قوانین ،عورتوں کے حقوق اور اسی طرح کے دوسرے حقوق سے آگہی حاصل ہوسکے ۔گھر والوں نے اس سے اپنا رشتہ توڑ لیا ہے ۔بہت مشکل سے وہ تعلیم حاصل کرپاتی ہے ۔ایسے حالات میں اس کی دوست سریتاسایہ بن کر نمودار ہوتی ہے تو روحی خانکی اذیت میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ وجے سنگھ کے انڈر میں پریکٹس کرنے لگتی ہے ۔

روحی خان کے بارے میں چنندہ لوگوں کوہی معلوم ہے کہ وہ کنورٹیڈ مسلم ہے اوروہ سوریہ ونشی ہے ۔یہ بات کسی طرح سے وجے سنگھ تک پہنچتی ہے جوکہ وہ چندرونشی ہے ۔ایک دن باتوں ہی باتوں میں اپنے چندرونشی ہونے کی خوش خبری روحی خان کو دیتا ہے لیکن اُس کے چہرے پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیوںکہ ایک زمانے سے اس نے ہنسناترک کردیاہے ۔شب و روز اپنی سست رفتاری سے گزررہے ہوتے ہیں۔ایک اداس سی برسات کی شام جب نیم کے کسیلے پھولوں کی نرم مہک اوربھیگی بھادوں کی ہوا پورے ماحول میں تحلیل ہورہی ہوتی ہے ،بارش کے قطرے درختوں پر ٹھہر چکے ہوتے ہیں کہ اچانک چمبرکی بجلی چلی جاتی ہے اورایسے ہی پرسکون ، اداس اورخوف زدہ ماحول میں وجے سنگھ سرگوشی میں پرپوز کردیتاہے ۔کافی سوچ بچارکے بعد دونوں کی شادی ہوجاتی ہے ۔ملاحظہ ہوں یہ اقتباسات:

’’پھرایک دن ہائی کورٹ میں ہی چند دوستوں کی موجودگی میں روحی خان مسزسنگھ بن گئیں لیکن وہ اپنی ضدکے لیے ہمیشہ روحی خان ہی لکھتیں۔حالاںکہ اس کو شکست کا احساس ہونے لگاتھا۔ سریتا سریواستو کہتی بھی تھی ۔

کب تک بھٹکتی رہوگی؟

جب تک سنبھلوں گی نہیں!

کب سنبھلوگی؟

جب بھٹکناچھوڑدوں گی!

اورشاید وہ بے منزل تلاش میں بھٹک گئی تھی ،سوتی تھی عجیب عجیب خواب آتے ۔بار بار آنکھ کھل جاتی ۔پسینے سے نہاجاتی تھی ۔ پاس لیٹے وجے کو اٹھانا چاہ کربھی نہ اٹھاپاتی ۔جگابھی دیتی تووہ اس کو سیزوفرونک کہہ کرجھڑک دیتا۔

نیندکے خمارمیں لگتا دَلدل میں پھنسی جارہی ہے ۔وہ اپنے ریزہ ریزہ ہوتے ہوئے وجود کو سمیٹنا چاہتی تووہ اوربکھرجاتا۔ آوازیں، کردار۔سب ہیولے بن جاتے ۔دھند میں چہرے گم ہوجاتے ۔

’’السلام علیکم ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔بڑے چچا آرہے ہیں۔

دماغ میں مندرکاگھنٹہ ٹن سے بولتا۔بوڑھے پنڈت کے بول گونج جاتے :

سنکٹ ہرے مٹے سب پیرا

جوسُمرے ہنومت بل بیرا

ابّی کے چہرے کی جھرّیاں مسکراتیں۔سبھی کردارماضی میں تحلیل ہوجاتے ۔اذان کی آواز میں شنکھ کی آوازشامل ہو جاتی‘‘۔(۲)

افسانہ اپنے اختتام تک پہنچ کرشکست خوردگی کی علامت بن جاتاہے ۔یہاں روحی خان ہی شکست خوردہ نہیں ہے بل کہ ان جیسے وہ تمام لوگ ہیںجن کی اپنی شناخت مٹ جاتی ہے اور وہ اپنے وجود کوتلاش کرنے کے لیے سرگردا ںہیں۔

عورت ،غزال ضیغم کے افسانوں کا محبوب استعارہ ہے ۔ان کے افسانوں میں عورت کا روپ ہر طور پرنظر آتا ہے ۔افسانہ ’’خوشبو‘‘ میں ایک بہن ،ماں کے روپ میں ہے اوروہ اپنی والدہ کی وفات کے بعد بھائی کی ہربات کاخیال رکھتی ہے تو افسانہ ’’بے دروازے کاگھر ‘‘ میں اک عورت خودکفیل ہے اور اپنی آنکھوں سے دنیا دیکھناچاہتی ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اپنوں کی محبت سے محروم ہے ۔افسانہ ’’اجیل پاک اندھیرپاک ‘‘کی چندنیا اپنے’’او‘‘کے لیے پریشان ہے اور اس کے دل میں شوہر سے محبت کاجذبہ کسی طور پر بھی کم نہیں ہوا ہے جب کہ افسانہ ’’نیک پروین‘‘میں کنیز فاطمہ رضوی اس بات کی آرزو مند ہے کہ وہ نیک بیوی بن کرمعاشرے میں اپنا اور اپنے شوہرکا نام اونچا کرے گی لیکن معاشرہ اورخوداُس کاشوہرجس کے اندر انسانیت اورحیوانیت یکساں طورپر موجود ہیں ،اُسے نیک نہیں بننے دیتے۔ بالآخرانتقام کاجذبہ اس کے اندرپنپنے لگتاہے ۔وہیں دوسری طرف غزال ضیغم کے نسائی کرداروں میں ’’جاسمین بلموٹ‘‘اور’’نجمہ باجی‘‘بھی ہیں جن کے اندرجنس کاجذبہ پوری شدت سے کارفرماہے ۔گویا افسانہ نگارنے عورتوں کے تمام پہلوؤں کی طرف نشان دہی کی ہے ۔عورت کی دو  متضاد شخصیت کومدنظر رکھتے ہوئے دوافسانوں کا ذکرضروری معلوم ہوتاہے ۔اس ضمن میں پہلاافسانہ ’’نیک پروین‘‘اوردوسرا افسانہ ’’مدھوبن میں رادھیکا‘‘ہے ۔

پہلے افسانے میں کنیزفاطمہ رضوی کانکاح شبیرحسین رضوی سے بہ حسن و خوبی انجام پاتاہے تومحلّے کی عورتیں دلہن کو نیک مشوروں سے نوازتی ہیں۔ دلہن بھی ٹھان لیتی ہے کہ وہ بالکل نیک بیوی بن کرمحلّے والوں کو دکھادے گی کہ وہ بھی کن خوبیوں کی مالک ہے لیکن اس کاشوہر خوابوں پہ پانی پھیردیتاہے ۔اس کے اندر ایک خرابی یہ ہے کہ وہ ایک عورت پر ٹکنے والانہیں ہے بل کہ ہرچھ ماہ میں لڑکیاں تبدیل کرتاہے ۔اس کے اندرانسانیت اورحیوانیت یکساں طورپرموجودہے ۔دلہن کے لاکھ منع کرنے کے باوجودوہ غیرمحرم لڑکیوں کا ذکر پرُلطف طریقے سے کرتا ہے اورفخر بھی محسوس کرتاہے ۔ملاحظہ ہویہ اقتباس :

’’وہ موڈ میں ہوتا تومزے لے لے سناتا۔الگ الگ ذائقے ،لذت،لطف وحسن کے داؤ پیچ بیان کرتا۔عجب تھاوہ۔۔۔۔۔۔

وہ قلمی آم کی طرح شیریں تووہ تخمی آم کی طرح ترش ،وہ میک ڈونل کابرگرہے تو دوسری پزّااورجوہی دیسی مزہ ہے ارہرکی دال، چاول اورکمرُخ کی چٹنی کی طرح ۔۔۔۔۔شوبھ اسرسوں کے ساگ جیسی‘‘۔(۳)

اتناکچھ بیان کرنے کے بعدجب اُسے اپنی غلطی کااحساس ہوتاتو’’سوری‘‘کہہ کرمعافی مانگ لیتا۔لیکن اس کے حرکات وسکنات میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی تابالآخرنیک پروین نے ہی اپنارویّہ تبدیل کرلیا اورآج نوبت یہ آن پڑی ہے کہ اس کے پاس فلم ’’فائٹر‘‘کے دوٹکٹ ہیں اورجلد ازجلد سینما پہنچ جانا چاہتی ہے ۔اس طرح سے یہ افسانہ عورتوں کی بے بسی اور مردوں کی بے مروتی کی طرف دلالت کرتاہے ۔

اس ضمن کا دوسرا افسانہ ’’مدھوبن میں رادھیکا‘‘ہے جو مجموعے میں شامل نہیں ہے ۔اس افسانے میں نجمہ باجی کا کردار نیک پروین سے بالکل مختلف ہے ۔نیک پروین توحالات کی ستم رسیدہ ہے لیکن نجمہ باجی نے زمانے پرستم ڈھایا ہوا ہے ۔اُنھیں مردوں سے شدیدنفرت ہے اوریہ بات اُن کے افسانوں میں جابہ جا بکھری پڑی ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے تمام  احباب مردہی ہیں۔ کیوںکہ وہ عورتوں کو بے وقوف ،غیرمہذّب اورگنوارسمجھتی ہیں اوراُن سے دوستی رکھنا اپنی ہتک تصورکرتی ہیں۔وہ تقریباً بیالیس بہاریں دیکھ چکی ہیں لیکن مرنے کی بات ہے کہ وہ دوستی پینتیس سال سے زیادہ عمرکے مردوں سے نہیں کرتی ہیں۔ان کے دوستوں میں ساجد کا نام سب سے اہم ہے جس کایہی کہناہے کہ مکمل عورت کیاہوتی ہے یہ نجمہ باجی کوجان کردیکھو۔نجمہ باجی کے حوالے سے یہ بات متفقہ طورپرکہی جاسکتی ہے کہ وہ مردمارعورت ہے جوکسی بھی خوش حال گھرانے کوتباہ کرسکتی ہے ۔اس افسانے کے راوی کااُن کے تئیں یہ بیان دل چسپی سے خالی نہیں :

’’Classicکی خاص خوشبو اُن کے اردگردپھیلتی رہتی ۔۔۔۔۔۔۔سگریٹ ختم کرنے کے بعدوہ فوراً اپنابڑاساپرس کھولتیں۔کسی گہرے رنگ کی لپ اسٹک نکالتیں اورچھوٹے سے گول آئینے میں دیکھ دیکھ کربڑے اسٹائل سے ہونٹ رنگتیں۔پھردھیرے سے مسکراتیں ۔۔۔۔  پھر زور سے ۔۔۔۔۔۔۔پھرایک زوردارقہقہہ فضامیں بکھرجاتا ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ زندگی بہار بن جاتی۔۔۔۔۔۔ان کاکہناتھاکہ لپ اسٹک لگائے بغیرConfidenceہی نہیں آتا۔نہ ہی وہ اچھا افسانہ لکھ پاتی ہیں۔لپ اسٹک اورسگریٹ بنیادی ضرورتیں ہیں‘‘۔(۴)

ایک زمانہ ہوگیاوہ اپنے شوہرسے الگ رہتی تھیں۔وجہ یہ تھی کہ شوہراُن کی چھوٹی بہن میں دل چسپی لینے لگے تھے ۔اب وہ طلاق نامے پردستخط کرانے کے لیے پریشان تھیں لیکن بعد کے دنوں میں پتا چلا کہ انھوں نے خود کشی کرنے کی کوشش کی تھی وجہ صرف مردتھے ۔یہاں غزال ضیغم کے افسانوں میں یہ فرق صاف طور پرمحسوس کیاجاسکتاہے کہ عورتوں کی نفسیات کو ہر زاویے سے انھوں نے قریب سے دیکھا،محسوس کیااوربرتاہے ۔

غزال ضیغم کے افسانوں میں عورت کے اندرچھپی خوب صورتی کو بھی صاف طور پردیکھاجاسکتاہے ۔خاص طورپراُن کے دیہی کرداروں میں عورت کی معصومیت ،شرم وحیااوراحسان مندی جیسے جذبات قدرے مختلف ہوتے ہیں۔دیہی عورتوں کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ’’مشت خاک‘‘ اور’’اجیل پارک اندھیرپارک‘‘ کامطالعہ ازحدضروری معلوم ہوتاہے چہ جائے کہ دونوں افسانوں کاپس منظر اودھ کادیہات ہے ۔

انھوں نے اودھ اورنواح اودھ کے قصبات کی منظرکشی نہایت خوب صورت طریقے سے کی ہے خاص طورپراُس وقت جب وہ دیہی مکالمات اپنے کرداروں سے کراتی ہیں۔ایسے مواقع پران کی زبان اورادبی ذوق اوربھی زیادہ نکھرکرسامنے آتاہے ۔اودھ کے نواح کاذکراس لیے کہ انھوں نے الٰہ آباد، لکھنؤ،فیض آباد اورسلطان پوروغیرہ کے خاص لب ولہجے کو اپنی کہانیوں میں سمویا ہے اوران کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے ۔اسی لیے وہ زمین داری کے خاتمے کا ذکر بار بار اپنے افسانوں میں کرتی نظرآتی ہیں۔’’بے دروازے کا گھر‘‘،’’زندہ آنکھیں مردہ آنکھیں‘‘،’’مشت خاک‘‘جیسے افسانوں کو مثال کے طورپرپیش کیاجاسکتا ہے ۔افسانہ ’’مشت خاک ‘‘ قاضی عبدالستارکے ’’ٹھاکر دوارہ‘‘کی یاددلاتاہے ۔وہاں بھی پس منظرمیں زمین داری کاخاتمہ اورالیکشن تھا اوریہاں بھی زمین کاخاتمہ اور الیکشن کی نئی صورت حال ہے ۔اس افسانے میں اطہرمیاں کے اباگزشتہ نصف صدی سے گاؤں کے پردھان بنتے چلے آرہے تھے ۔ ان کے اسقبال کے بعد اطہرمیاں کے چچازاد بھائی پردھانی کی کرسی پربراجمان ہوئے ۔گاؤں میں کسی کی مجال نہیں کہ زمین دارصاحب کے مدّ مقابل کھڑا ہوسکے لیکن جب زمینداری کاخاتمہ ہو اور زمین داروں کی ٹھاٹ ماندپڑگئی تب سرکارنے عورتوں کو تیس فی صد ریزر ویشن الیکشن میں دے دیاہے پنچایتی الیکشن میں سجّن بھیّا نے پُھلوا کو کھڑا کیا تاکہ سجّن بھیا خود پردھانی کریں اور پُھلوا نام نہاد پردھان رہے ۔الیکشن میں پُھلواجیت جاتی ہے ۔سجّن بھیاگیندے کے پھولوں کا ہاربنواکراُس کے سواگت کے لیے پُھلواکے دروازے پر کھڑے ہیں۔ اگلا منظر ملاحظہ ہو:

’’اے پھلوا!باہرنکل کے دیکھ بھیّاجی آئے ہیں۔سلام مار‘‘۔

سجّن بھیّا کے مصاحب نے ہانک لگائی ۔

پھلوا اپنی ٹوٹی پھوتی جھونپڑی سے باہرنکلی ۔چھپّرمیں کھڑے مصاحب نے ہاربڑھایا۔ہارلے کراس نے پاس بنی بھینس کی ناند میں ڈال دیا۔مصاحب کوگھورا۔’’اب ہم پہلے والی پھلوا نہیں ہَن جی کو جیسے چاہو پکارلو۔جانوکہ ناہی؟ناہی ہم تمھرے ہکائے پہ ہکے چلے والے جن اور ہن۔اب ہم کو پردھان کہہ کر پکارو جانے کہ ناہیں؟‘‘۔(۵)

پُھلوجذباتی ہوکرسجّن بھیااوران کے مصاحب کومنہہ توڑجواب دیتی ہے اوراس کی نظروں کے سامنے اطہرمیاں اورا ن کے خاندان کے احسانات یکے بعددیگرے آتے جاتے ہیں اور پُھلوا اطہر میاں کے پاؤں پراپنا سررکھ دیتی ہے سجّن بھیاحیرت وغصے سے اپنے ہاتھ میں لٹھ لیے کھڑا ہوکریہ سارا منظر اپنی آنکھوں میں جذب کرلیتا ہے ۔زبان وبیان کے حوالے سے غزال ضیغم کے افسانوں کا محاسبہ کریں تو ان کے افسانے ’’اجیل پاک اندھیر پاک ‘‘کا ذکرضروری معلوم ہوتاہے جہاں انھوں نے دیہی زبان کو نہایت خوب صورتی سے برتاہے ساتھ ہی ایک گاؤں کی غریب عورت کاجس کے اندردنیاکی عیاروں کا شائبہ تک نہیں، گہرا مشاہدہ کیاہے ۔یہاں چندنیاکو اس بات کاذرابھی احساس نہیں کہ اُ س کا شوہر یعنی ’’اُو‘‘اُسے چھوڑ بھی سکتاہے اوروہ اپنے ’’او‘‘کے لیے پاگل ہوئے جارہی ہے حتیٰ کہ جہاں وہ کام کرتی ہے وہاں کے ہرفرد سے اس کے آنے کا وقت اورپتاپ وچھتی پھرتی ہے ۔ملاحظہ ہویہ اقتباس :

’’چھوٹی بی بی!تم داگدری پڑھت ہو۔۔۔۔۔سب جانت ہو۔۔۔۔۔۔ہم کا اَس دوائی دئی دوکہ ’’او‘‘ہمکاچاہے لاگے‘‘۔

چاہے لاگے۔۔۔۔۔۔مجھے اس کی بدعقلی پر زورسے ہنسی آئی اورمجبوری وبے کسی پرشدت سے روناآیا۔

میں نے سمجھاتے ہوئے کہا۔’’چندنیا بھلا ایسی دوا کیسے ہوسکتی ہے کہ جس کوکھاکرکوئی کسی کوچاہنے لگے ۔ایسا ہوتا توسب ہی ایسی دوا کھاتے ‘‘۔

’’چھوٹی بی بی ۔۔۔۔۔۔۔تم ہمکا آئیس دوائی پلائی دو۔۔۔۔۔۔چاہے ہمارسب گہناپاتارہن دکھائے دو۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

وہ میرے قدموں پر اپناسرپٹخنے لگی ۔میں بے حد گھبرائی ۔تبھی خانساماں لپک کرمیرے پاس آگیا اورچندنیا کوڈانٹنے لگا۔ ’’ چل اٹھ ۔۔۔۔۔۔۔مری جات ہے اُوکے لیے ۔۔۔۔۔۔۔اُوکا کچھ اتاپتا ہے؟کاکرہے اُونرموہی کی یادمابگلی بن جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔چل اب گھر جا‘‘۔(۶)

اب چندنیاتھکی اورلٹی سی گھرکی سمت چل پڑی شایداُسے احساس ہونے لگاتھاکہ اب اس کا’’او‘‘کبھی واپس نہیں آئے گا۔

مندرجہ بالاافسانوں کی روشنی میں بلاتردد یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ غزال کو زبان وبیان پرگرفت حاصل ہے ۔موقع ومناسبت سے لفظوں کو بدل کرجملوں میں دل کشی پیداکرتی ہیں ساتھ ہی عورت کو انھوں نے اپنے افسانوں میں ہرروپ میں دکھانے کی کوشش کی ہے ۔

 

 

 

حوالہ جات:

۱۔غزاضیغم ۱۷؍دسمبر۱۹۶۸ء کوسلطان پور(یوپی )کے چھوٹے سے گاؤں باہرپور میں پیداہوئیں جو گنگاجمنی تہذیب کی نمائندہ مثال ہے ۔ زمین دار گھرانے میں میر انیس کے مرثیوں،نجم آفندی کے نوحوں،میروغالب کی غزلوں،کرشن چندر،عصمت چغتائی اورقرۃ العین حیدرکے افسانوں کی فضا میں غزال ضیغم کابچپن گزرا۔الٰہ آبادیونی ورسٹی سے علم نباتات میں ایم ایس سی کیا۔قانون کی ڈگری لی،اردوزبان وادب میں ایم اے کیا۔ ساتھ ہی فلم اورٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ ،پونا سے فلم اپری سی ایشن کورس مکمل کیا۔ان دنوں محکمۂ  اطلاعات ورابطۂ عامہ ،لکھنؤ میں فلم پروڈیوسرکے عہدے پرفائزہیں۔ افسانوں کافقط ایک مجموعہ ’’ایک ٹکڑادھوپ کا‘‘کے عنوان سے ۲۰۰۰ء میں شائع ہوا۔اسی مجموعے کادوسراایڈیشن ۲۰۰۵ء  میں منظرعام پرآیا۔اس کے علاوہ امرتاپریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘کاانھوں نے اردومیں ترجمہ کیا۔اردوکے علاوہ ہندی،انگریزی میں ان کی تخلیقات شائع ہوئی ہیں۔

۲۔غزال ضیغم ۔افسانہ’’سوریہ ونشی چندرونشی‘‘مشمولہ ’’ایک ٹکڑادھوپ کا‘‘۔یونائیٹڈبلاک پرنٹرس،لکھنؤ۔۲۰۰۰ء صفحہ نمبر۲۴

۳۔غزال ضیغم ۔افسانہ’’نیک پروین ‘‘ مشمولہ ’’ایک ٹکڑادھوپ کا‘‘۔یونائیٹڈبلاک پرنٹرس،لکھنؤ۔۲۰۰۰ء صفحہ نمبر۶۵

۴۔ غزال ضیغم ۔افسانہ’’مدھوبن میں رادھیکا‘‘مشمولہ ’’پہچان‘‘،الٰہ آبادصفحہ نمبر۷۰

۵۔ غزال ضیغم ۔افسانہ’’مشت خاک‘‘مشمولہ ’’ایک ٹکڑادھوپ کا‘‘۔یونائیٹڈبلاک پرنٹرس ،لکھنؤ۔۲۰۰۰ء ۔صفحہ نمبر۱۰۹

۶۔ غزال ضیغم ۔افسانہ’’اجیل پاک اندھیراپاک‘‘مشمولہ ’’ایک ٹکڑادھوپ کا‘‘۔یونائیٹڈبلاک پرنٹرس ،لکھنؤ۔۲۰۰۰ء ۔صفحہ نمبر۵۰

٭٭٭

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
کشش اور گریز – سید کامی شاہ
اگلی پوسٹ
مظہر الاسلام:ایک حیران کن کہانی کار – ڈاکٹر محمد غالب نشتر

یہ بھی پڑھیں

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں