حفیظ نعمانی ‘ایک عہد ایک تاریخ’ مختصر تعارف – زیبا خان
اویس سنبھلی ، اردو ادب کا ایک ابھرتا ہوا ممتاز ستارہ ہیں۔ جنھوں نے بیک وقت صحافت، شاعری ، تنقید اور مضمون نگاری میں اپنی قابلیت سے اردو ادب کے قارئین کو حد درجہ متاثر کیا ہے۔اویس سنبھلی کو اردو زبان پر دسترس حاصل ہے انھوں نے سیاسی اور سماجی پس منظر میں سیکڑوں مضامین تخلیق کیے جو صحافت میں ان کی وسیع النظری کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ اویس سنبھلی نے تقریباً سات کتابیں ترتیب دی ہیں جن میں ” اعتراف سعادت، بجھے دیوں کی قطار، پوپ کہانیاں، ذکر وفا، نذر شارب، افسانوی ادب اور حیات اللہ انصاری وغیرہ۔۔ہیں ۔ انہیں کی حالیہ ترتیب کردہ کتاب ” حفیظ نعمانی: ایک عہد- ایک تاریخ ” حفیظ نعمانی کے حوالے سے اردو کے صحافتی ادب میں ایک بہترین اضافہ ہے۔ جو 2020 میں شائع ہوکر منظر عام پر آئی۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ مستقبل میں حفیظ نعمانی پر کام کرنے والوں کے لیے ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کو اویس سنبھلی نے چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔
پہلا باب : حفیظ نعمانی گھر والوں کی نظر میں، جس میں چھ مضامین شامل ہیں جو حفیظ نعمانی کے بھائی اور بہنوں ، بھتیجے بتھیجیوں کی حفیظ نعمانی کے لئے شفقت و محبت اور حفیظ نعمانی کا اپنے بھائی بہنوں سے خلوص کا حسین پیکر ہیں۔ ” ہمارے ابو صاحب ” ، ریحانہ شمیم کے مضمون سے یہ اقتباس ان کے خلوص اور محبت کی مثال ہے،
” اس زندگی میں ابو صاحب ( حفیظ نعمانی) ہر حیثیت سے کامیاب اور ہر رشتے میں مکمل تھے۔ایک عظیم المرتبت باپ کے فرمانبردار بیٹے، بڑے بھائی کے سعادت مند بھائی۔ ایک مخلص شوہر، اپنے بچوں سے بہت محبت کرنے والے باپ، چھوٹے بھائی بہنوں کے بے تکلف بڑے بھائی، ہم بھتیجے بھتیجیوں اور بھانجے بھانجیوں کے چہیتے ابو صاحب نواسے نواسیوں،پوتے پوتیوں پر جان لٹانے والے ، اپنی بہوؤں کو بیٹیوں کی طرح سمجھنے والے ابو صاحب، اور اپنے ملازموں کے بہت ہی خیر خواہ اور شفیق مالک۔ یہ ابو صاحب کی زندگی کا وہ رنگ ہے جو شاید خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ قابل تقلید بھی۔ ”
( بحوالہ: مرتب اویس سنبھی، حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ، احساس ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن لکھنؤ، ص 129)
دوسرا باب "حفیظ نعمانی اربابِ علم و ادب کی نظر میں” ہے جس میں تینتیس مضامین شامل ہیں۔ جو پروفیسر شارب رودولوی، ڈاکٹر عمار رضوی،ڈاکٹر تابش مہدی، انور جلال پوری، مشرف عالم ذوقی جیسے دیگر اربابِ علم و ادب کے قلم سے نکلے ہوئے گوہر نایاب ہیں۔ جن میں ہمیں حفیظ نعمانی کی انسان دوستی، سچائی اور صداقت کے اعلی نمونے ملتے ہیں۔ ڈاکٹر تابش مہدی کے مضمون ” حفیظ نعمانی سے دو ملاقاتیں” کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں،
” جناب حفیظ نعمانی ایک دراک ، ذی فہم اور منجھے ہوئے اہل قلم تھے۔ ان کی زود رقمی اور سیال قلمی کے اپنے پرائے دونوں قائل و معترف تھے۔ وہ جب اور جس موضوع پر قلم اٹھاتے تھے بالکل آئینہ دکھا دیتے تھے۔ اغل بغل یا راست و چپ کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے تھے۔” (ص ، 161، حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ، اویس سنبھلی)
تیسرا باب : "اردو صحافت اور حفیظ نعمانی” ہے ، جس میں آٹھ مضامین شامل ہیں۔ جو حفیظ نعمانی کی صحافت میں گراں قدر خدمات پر احباب علم فن کا اعتراف ہیں۔ صحافت میں حفیظ نعمانی نے جو تاریخ رقم کی اس کا اندازہ ہم اویس سنبھلی کے مضمون "ندائے ملت اور حفیظ نعمانی” سے لگا سکتے ہیں۔ کہ حفیظ نعمانی محض ایک صحافی ہی نہیں بلکہ صحافت کا پورا ایک ستون تھے۔ اپنی ذات میں ایک کائینات تھے۔ اسی مضمون میں اویس سنبھلی نے ندائے ملت کے علی گڑھ نمبر کی چند جھلکیاں اور اس کی اشاعت پر موصول ہونے والے پانچ خطوط میں سے تین خطوط بھی نقل کئے ہیں۔ یاد رہے کہ ندائے ملت کے علی گڑھ نمبر کی اشاعت پر حفیظ نعمانی کو ان کے دو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا تھا۔سفیر ہند ٹوکیو ڈاکٹر سید محمود کے ایک خط سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو،
” ہمارے ہم وطنوں نے پہلی بار مسلمانوں سے مل کر 1857ء میں آزادی کی لڑائی لڑی مگر اس کی پاداش زیادہ تر مسلمانوں ہی کو برداشت کرنی پڑی۔ ایسی بے مثال تباہ حالی کے وقت علیگڑھ کا خواب سر سید نے دیکھا اور مسلمانانِ ہند کو دوبارہ زندگی دینے کے لئے واحد ذریعہ سمجھا۔ یہ حقیقت ہے اور واقعہ ہے کہ مرادآباد میں سر سید نے آنحضرتﷺ کو خواب میں دیکھا تھا اور حضور ﷺ نے سر سید کے پیر کے انگوٹھے میں جس میں بہت درد تھا اپنا لعاب مبارک لگایا تھا جس سے درد تو فوراً جاتا رہا مگر ایک ایسی روشنی پیدا ہوئی جس نے سر سید کو حیران کر دیا۔ اسی خواب کی روشنی کا نتیجہ علی گڑھ تھا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ روشنی تو اب بجھ گیی اور اس کو بجھانے کا سہرا دو نام نہاد مسلمانوں کے سر رہے گا۔ ”
(ص 337، حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ، اویس سنبھلی)
ندائے ملت کے علیگڑھ نمبر کے شائع ہوتے ہی اسے ضبط کر لیا گیا اور حفیظ نعمانی کو ساتھیوں سمیت جیل بھیج دیا گیا اور یہ خبر اس طرح شائع ہوئی،
"مسلم یونیورسٹی نمبر کی کاپیاں حکومت کے قبضے میں ہیں،مگر اس پیغام لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن گیا ہے۔ ہمارا احساس فرض ہم سے نہیں چھینا جا سکتا اور نہ طوق و سلاسل کی جھنکار وں میں حق کی آواز گم ہو سکتی ہے۔ ”
چوتھا باب ” روداد قفس اور حفیظ نعمانی ہے” ، جس میں آٹھ مضامین شامل ہیں۔ رودادِ قفس میں حفیظ نعمانی کے ندائے ملت کے علیگڑھ نمبر کی گرفتاری کے بعد تقریباً نو مہینے کی قید و بند کی صعوبتوں کا ذکر ہے۔ جسے مضمون نگاران نے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر عشرت ناہید کے مضمون "روداد قفس کا عندلیب : حفیظ نعمانی” سے یہ اقتباس ملاحظہ کریں،
“ اس میں( یعنی روداد قفس) کچھ اسیری کے اس وقت کی گواہ تحریریں ہیں جب قلم کی طاقت سے حکمراں طبقہ ڈر گیا اور انہوں نے تحریر کی روشنی کو جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بند کر دیا اور اس خوش گمانی میں مبتلا ہو گئے کہ اب اندھیرے سے قلم کی روشنائی کسی ذہن کو روشن نہیں کر پائے گی۔ لیکن یہ بھی تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زندان ظاہری نور کو قید کر سکتا ہے لیکن باطن کی دہکتی آگ کو بجھانے میں ناکام رہتا ہے ظالموں کے ظالمانہ اقدام حوصلوں کو پسپا نہیں کرتے بلکہ جلا بخشتے ہیں۔ ایسے ہی حوصلے کے ساتھ زندان کی تکلیفوں اور صعوبتوں کو برداشت کرنے کی داستان رودادِ قفس ہے۔” (ص 367، حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ، اویس سنبھلی)
پانچواں باب :” بجھے دیوں کی قطار اور حفیظ نعمانی” ہے، جس میں سات مضامین شامل ہیں۔ بجھے دیوں کی قطار حفیظ نعمانی کے خاکوں کا مجموعہ ہے جسے اویس سنبھلی صاحب نے مرتب کیا۔ اور چھٹا باب ” قلم کا سپاہی حفیظ نعمانی” ہے جس میں آٹھ مضامین شامل ہیں۔ ” قلم کا سپاہی ” حفیظ نعمانی کے مضامین کا مجموعہ ہے اسے بھی اویس سنبھلی صاحب نے مرتب کیا۔ اس کے علاوہ انگریزی اور ہندی میں سات مضامین ہیں جن میں حفیظ نعمانی کے چلے جانے کے غم میں ان کے چاہنے والوں نے انہیں یاد کیا ہے۔ تعزیت نامے اور غم نامے بھی کتاب میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کتاب حفیظ نعمانی کی تمام زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔
اویس سنبھلی صاحب کی محنت اور مشقت کو سلام ، جو انھوں نے اتنے سارے قیمتی مضامین کو جمع کرکے کتابی صورت میں شائع کروایا اور بطور ہدیہ یہ کتاب مجھے عنایت فرمائی، ورنہ ہم جیسے لوگ حفیظ نعمانی جیسی قدآور شخصیت کو پڑھنے سے محروم رہ جاتے ۔ اویس سنبھلی صاحب سے میری ایک چھٹ پٹی سے ملاقات لکھنؤ میں ہوئی ہے حالانکہ میں نے انہیں کیمپس دیکھا کئی بار ۔۔۔۔ اس وقت میں مانو لکھنؤ کیمپس میں ایم اے کی طالبہ تھی، آزاد ڈے سیلیبریشن کا آخری دن تھا جس میں انعامات وغیرہ تقسیم کئے گئے اور پروفیسر صابرہ حبیب جیسی بڑی بڑی شخصیات کو سننے کا موقع ملا۔ وہیں اویس سنبھلی صاحب بھی بطور مہمان تشریف لائے تھے، میں انہیں نام اور چہرے سے جانتی تھی ، لائیبریری کے قریب میں اور مینا آپی( ریسرچ اسکالر ) کھڑی ہوئی تھیں ، اطہر بھائی جو اویس صاحب کے ساتھ تھے انہوں نے مینا آپی کی طرف اشارہ کیا کہ یہ ہمارے کیمپس کی ریسرچ اسکالر ہیں لیکن اویس صاحب نے مجھے سمجھا وہ میری طرف متوجہ ہوئے۔۔ میں نے سلام کیا بڑی خوش اسلوبی سے جواب دیا۔۔۔اطہر بھائی ہنسنے لگے کہا یہ تو زیبا ہیں ہمارے کیمپس کی ایگزیکٹیو ممبر۔۔۔اویس سنبھلی صاحب بھی ہنسنے لگے اچھا اچھا نیتا جی۔۔۔یہ ایک چھوٹی سی ملاقات تھی ۔۔۔حالانکہ اب ان سے ملنے کی شدید خواہش ہے۔ میں معذرت چاہوں گی کتاب مجھے بہت پہلے مل گئی تھی لیکن میں ذاتی مصروفیات کی وجہ سے پڑھ نہیں سکی تھی اب پڑھا ہے تو اتنا لکھنے کی کوشش کی ہے۔ اویس سنبھلی صاحب کو بہت بہت مبارکباد۔۔۔۔اردو ادب کو ان سے مزید توقعات وابستہ ہیں جسے پورا کرنے میں وہ جی جان سے لگے ہوئے ہیں۔
بتاتے چلیں۔۔۔اس کتاب کا انتساب اویس سنبھلی نے ” گم شدہ بہار کی آخری یادگار حفیظ نعمانی کے بھائی مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کے نام کیا ہے۔” افسوس کہ کل ان کا بھی انتقال ہو گیا اور گم شدہ بہار کی یہ آخری کڑی بھی ٹوٹ گئی۔ 😥
زیبا خان۔۔۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

