"مسلم خون سے بھیگی سرحد” مختصر جائزہ – اسما جبیں
معروف مصنف و کئی کتابوں کے مترجم انیس چشتی کی شخصیت دور جدید کے قابل قدر مصنفین میں سے ایک تھی۔ ملک و بیرون ملک میں اپنی علمی،فکری اور تعلیمی فعالیت کی وجہ سے موصوف کی شخصیت محتاج تعارف نہیں بالخصوص بعد از اشاعتِ کتاب ‘ مسلم خون سے بھیگی سرحد، جو تاریخی حقائق کے ساتھ محترم کی حب الوطنی کو بھی عام کر گئی۔
کتاب کا معنی خیز سرورق کسی بھی تاریخ بالخصوص مسلم تاریخ میں دلچسپ قاری کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے کافی ہے۔کسی بھی کتاب کا انتساب قاری کی دلچسپی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔زیر نظر کتاب کا انتساب بھی اسی اہمیت کا حامل ہے۔مصنف نے یہ کتاب بھارت کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سپوتوں و معصوموں کے نام کی ہے۔
اس کتاب کے دو مقالے ہیں،دونوں کی حیثیتیں گو کہ جُدا جُدا ہیں لیکن مقصد اور نقطہ نظر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو منفرد نہیں یہی وجہ ہے کہ دونوں کو اکٹھا شائع کیا گیا۔
پرکشش عنوان کے ساتھ لکھا گیا یہ ایک ایسا تحقیقی مقالہ ہے جس میں نہایت غیر جانبداری اور بیباکی سے تاریخی شواہد کی روشنی میں ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے پیش کی جانے والی قربانیوں کو منظر عام پر لایا گیا ہے
بقول مصنف
"سوغات عشق لائے ہیں کوئے بتاں سے ہم”
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں سے ہم ہند کی و تاریخ پڑھ رہے ہیں جس میں دانستہ طور پر مسلم رہنما و علماء کے ناقابل تردید مجاہدانہ کردار کو بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا۔
تاریخ ہند کی اسی جھوٹی تفہیم کی بنیاد پر آج دلوں میں نہاں نفرتیں مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوالات کی صورت میں عیاں ہو رہی ہیں۔
ایسے میں ہم پر اُن حقائق کا انکشاف جن سے ہماری حب الوطنی پر اٹھائے گئے سوال کا جواب مخالف کو چاروں شانے چت کر دے ہمارے لیے کسی سوغات سے کم نہیں۔
مختصر تمہید کے بعد کتاب کے درمیانی صفحے پر مصنف نے مشہور مورخ مولانا اکبر شاہ خان صاحب کا ایک تاریخی اختباس بطور دلیل پیش کیا۔وہ لکھتے ہیں کہ” جس زمانے میں منگولوں کی قتل و غارت گری کے سبب خون کے فواروں کے ساتھ آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے،اس زمانے میں بھارت میں غلام بادشاہوں کی ہندو پرجا امن اور شانتی کے ساتھ آنند کے ستار بجا رہی تھی اور سلطان غیاث الدین بلبن کا چچا زاد بھائی شیر خان اور بیٹا شہید خان بھارت کی مغربی سرحدوں پر منگولوں کے حملوں کو روکنے اور بار بار شکست دے کر بگھا دینے میں مصروف تھے۔اس طوفانی زمانے میں غلام بادشاہوں نے جس طرح امن و امان قائم رکھا اُس زمانے کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
سلاطین مغلیہ کے تعلق سے کچھ غلط فہمیاں جن کی تشہیر آج بھی ہر مخالف کے ذہن میں بٹھائی گئی ہیں مصنف اپنے الفاظ میں جواباً لکھتے ہیں کہ
"مغل تاجدار اکبر اعظم کے جانشین جہانگیر کا نام آتے ہی ذہن میں انار کلی کا تصوّر اُبھرنے لگتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ شہزادے سلیم کو سوائے رقص و سرود کی محفلوں کے آراستہ کرنے اور انار کلی سے عشق فرمانے کے کوئی دوسرا کام ہی نہ تھا۔لیکن حقیقت حال اس کے بلکل برعکس ہے”
ان غلط فہمیوں کی اصل وجہ انگریزوں کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی تھی
اس کے تعلق سے اپنی تحقیقات کی دلیل پیش کرتے ہوئے مصنف نے اس نفرت و اشتعال کے واحد ذمےدار انگریزوں کو قرار دیا جنہوں نے مسلم بادشاہوں کے خلاف اہل ہند کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا کی۔پھر آزادی کے بعد باقی ساری ذمےداری فرقہ وارانہ،نفرت و اشتعال پھیلانے والے ملک دشمن اور انسانیت بیزار مورخین و مصنفین نے انجام دی۔اور یہی فتنہ سامانیاں اپنے سنگین نتائج لیے آج مسلمانوں کے سامنے کھڑی ہیں۔
اس نفرت کی تشکیل کے لیے بھی نشانہ مسلم حکمرانوں کو بنایا گیا اُنہیں ہندو کش اور مندر توڑنے والا ثابت کیا گیا جس میں سب سے زیادہ مشہور اورنگ زیب اور محمود غزنوی کو کیا گیا،جبکہ تاریخی حقائق میں وہ منظر بھی رقم ہے جب منگول ہر طرح سے ہند کی سرحدوں میں داخل ہونے کو اپنی ضرورت سمجھ کر میدان میں آئے تب اُن کی ہر ممکن کوشش کو کامیاب ہونے سے روکنے والے مسلمان ہی تھے۔اگر اس وقت یہی مسلمان بادشاہ اگر اپنی جان کی بازی لگا کر سرحدوں کی حفاظت نہ کرتے اور درباروں اور محلوں میں رنگ رلیاں مناتے رہتے تو آج بھارت میں کونسا مندر بچ پاتا؟
اس کتاب کے دوسرے مقالے میں مصنف نے ہندو مسلم اتحاد کی دیوار میں پائے جانے والے شگاف پر اظہار افسوس بھی کیا ہے کہ بھارتی عوام کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ انگریزوں کے ہاتھوں سے چھوٹتے ہی ان کے ايجنٹوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوئی وہی لوگ سرکاری دربار میں بیٹھے ہیں اور اسکول و کالج میں تاریخ کی ایسی کتابیں پڑھوا رہے ہیں جن میں بغیر کسی تاریخی حوالے اور ثبوت کے بھارت کی عوام اور ان کی نئی نسلوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر بھرا جا رہا ہے
اصل تاریخ میں پلاسی میں بہنے والا نواب سراج الدولہ کا خون بھی مسلم قربانی کا ثبوت ہے تو پانی پت کی تیسری لڑائی میں بھی مرد مجاہد سلطان ٹیپو کی شہادت بھی بے مثال ہے ان جیسے شیر ہند کی وفات کے بعد ہی جنرل ہارس جیسے یہ کہنے کی جرات کر پاتے ہیں کہ "آج سے ہندوستان ہمارا ہے”
بغاوت کے علم بلند کرنے والے شاہ ولی اللہ و شاہ عبدل العزیز محدث دہلوی جیسے علماء اکرام کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں تو محض ۲۷ سال کی عمر میں وطن عزیز کے لیے تختہ دار پر چڑھنے والا وہ نوجوان بھی مسلم اشفاق اللہ خان ہی تھا
اگر ہم جھانسی کی رانی کی تاریخ جانتے ہیں تو برطانوی فوج کو شکست دینے میں پیش پیش مسلم خاتون بیگم حضرت محل سے واقفیت بھی تاریخ کے ساتھ انصاف ہے
بات چاہے انگریزوں سے لڑائی کی ہوں یا پرتگیزوں سے ، منگول سے ہو یا ڈچ سے وطن عزیز کی سرحدوں پر بہنے والا خون رگ مسلم سے بہا ہے
آخر میں مصنف نے ان سارے حقائق کے نچوڑ میں لکھا ہے کہ "مسلمانوں کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ اتنی قیمتی جانوں کا نذرانہ اُنہوں نے اس سر زمین کے لیے پیش کیا”
مختصر یہ کہ اس عنوان پر مسلمانوں کی قربانیاں ہزاروں صفحات مانگتی ہیں لیکن افسوس کہ اپنا خون دے کر بھی آج حُب الوطنی کے اعزاز سے محروم یہ عظیم قوم اگر اپنی روشن تاریخ سے اپنے رشتے جوڑ لے تو شاید مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کا حق ادا ہو جائے۔
گویا اقبال اسی پس منظر میں کہہ گئے ہیں کہ
خریدیں نہ ہم جس کو اپنے لہو سے
مسلماں کو ہے ننگ و پادشاہی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

