واقعۂ کربلا کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس نے متاثر نہ کیا ہو: مولانا سید اطہر علی کاظمی
قر بانی کا جذبہ ہمیشہ جیت سے بڑا ہو تا ہے: پروفیسر نیلو جین گپتا
شعبۂ اردو سی سی ایس یومیں’’واقعات کربلا کی عصری معنویت:‘‘ عنوان پر پرو گرام کا انعقاد
میرٹھ04؍اگست2023ء
واقعۂ کربلا کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس نے متاثر نہ کیا ہو۔ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ واقعہ کربلا نے ہماری زندگی پر کیسا اثر ڈا لا۔ اس محفل کا مقصد نو جوان نسل میں قربانیٔ امام حسین کے پیغام کی روح پیدا کرنا ہے تاکہ وہ ظالم طاقتوں کی بیعت قبول کرنے یا برائیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے سر کٹانا منظور کرلیں اور ہمیشہ باطل کے سامنے سینہ سپر رہیں۔یہ الفاظ تھے پروفیسر زین الساجدین کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’واقعات کربلا کی عصری معنویت‘‘ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیدنا امام حسین نے باطل کا مقابلہ کردار سے کیا ہتھیاروں سے نہیں۔ جب کوئی انسان حق اور دیانت داری کے لیے لڑتا ہے تو یہ اس انسان کا امتحان ہوتا ہے۔ کیو نکہ خدا بادشاہت یا گنگالی دے کر آزماتا ہے۔ حق کے لیے لڑنا اور باطل کو ختم کرنا ہی امام حسین کا ایمان تھا۔شہادت انسان کا اعلیٰ عروج ہے مگر قربا نی دے کر اس شہادت کو پانا اور بھی بڑا کام ہے۔ حضرت امام حسین کے پیغام کو گھر گھر پہنچا نا ہما را فرض ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز بی اے سال اول کی طالبہ فاطمہ نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت پی ۔ایچ۔ڈی کی طالبہ فرح ناز نے پیش کیا۔ بعد ازاں میرٹھ کے معروف شاعر فخری میرٹھی نے منقبت پیش کی۔ پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب و ناقد اور صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے فرمائی ۔صدارت کے فرائض معروف اسکالراور شہر قاضی میرٹھ پروفیسر زین الساجدین نے انجام دیے اورمہمان خصوصی کے بطورمنصبیہ عربی کالج کے مولانا سید محمد اطہر کاظمی نے شرکت فرمائی۔جب کہ مقررین کے بطور مولانا سیدراشد علی زیدی،مولا نا محمد جبرئیل اورمولانا انیس الرحمن نے شر کت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی ،نظامت کے فرائض ڈاکٹرعفت ذکیہ اور شکریے کی رسم ڈاکٹر شاداب علیم نے ادا کی۔
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آ فاق احمد خاں نے کہا کہ آ ج کا اجلاس تاریخ ساز ہے حا لانکہ شعبے میں ہر موضوع پر پروگرام ہو تے رہتے ہیں لیکن آ ج کے پرو گرام کی نو عیت ہی الگ ہے۔ کر بلا کا پیغام ایک آ فاقی پیغام ہے جو با طل کے آ گے نہ جھکنے کا درس دیتا ہے۔ امام حسین بھی تعداد کم ہو نے کے باوجود باطل کے آ گے نہیں جھکے اور اپنی قربانی پیش کردی لیکن باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے۔
صدر شعبۂ زو لو جی پروفیسر نیلو جین گپتا نے کہا کہ قر بانی کا جذبہ ہمیشہ جیت سے بڑا ہو تا ہے اور یہ احساس ہما رے طلبہ میں بھی پیدا ہوجائے۔ شعبۂ اردو نے بہت عمدہ پروگرام کا اہتمام کیا ہے ۔ میں صدر شعبۂ کو اس کے لیے مبارک باد پیش کرتی ہوں اور شعبۂ اردو بڑے پرو گرام منعقد کرے میںچودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کی کلچرل کائونسل کی جانب سے ہر ممکن مدد کا وعدہ کرتی ہوں۔
مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ آج شعبۂ اردو نے جس مو ضوع کا انتخاب کیا وہ اہم بھی ہے اور وقت کا تقا ضا بھی۔ حضرت امام حسین ایسے گھرا نے سے تعلق رکھتے تھے جو علم و عمل سے منور تھا اور یہ وہی خوشبو ہے جو کربلا میں کام آئی۔ کر بلا سے ہمیں حق، صداقت ،ایمان اور انسا نیت کا درس ملتا ہے۔
مولاناسید راشد علی نے کہا کہ ظا ہری طور پر کربلا تلواروں کی جنگ ہے اور باطنی طور پر یہ کرداروں کی جنگ ہے۔ہم نے تلواروں کی کربلا کو دیکھا ہے ہمیں کرداروں کی کربلا کو دیکھنا چاہئے۔کربلا تلواروں کی جنگ نہیں کرداروں کی جنگ تھی۔ امام حسین نے پہلے اپنے اور یزید کے کردار کو واضح کیا پھر فرمایا کہ مجھ جیسا یزید جیسے بد کردار کی بیعت نہیں کرسکتا ہے۔ یزید ایسا انسان ہے جو فاسق ہے۔ فاجر ہے ،جس کی نظر میں انسانیت کی کوئی وقعت نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امام حسین نے اپنا اعلیٰ کردار پیش کر کے انسانیت کو نجات دی تھا کہ حق باطل کی تقلید نہیں کرسکتا۔ہمیں آج اپنے عمل کے ذریعے اپنے اس کردار کو پیش کرنا ہوگا جو امام حسین کا کردار تھاکربلا میں انسانیت کا جو دمن ہو رہا تھا اسی انسانیت کی بقا کے لیے آپ نے اپنی شہادت پیش کی۔
مولا نا محمد جبرئیل نے کہا کہ اگر کسی کو محمدؐ سے محبت ہے تو اسے حسن اور حسین سے بھی محبت ہوگی۔ اگر محبت حسنین نہیں ہے تو وہ محبت نہیں ہے۔ شہادت اچھی چیز ہے مگر ظالمانہ شہادت کا سامنا کرنا پڑا یہ افسوس کی بات ہے۔ اسلام کے معنی ہی سلامتی کے ہیں جہاں جانور، پرندے، چیونٹی وغیرہ کی حفاظت کی جاتی ہے اور اسلام نے درختوں کو بھی کاٹنے سے منع کیا ہے۔ جس طرح ظلم کرنا گناہ ہے اس طرح ظالم سے ہاتھ ملانا بھی ظلم ہے۔
مولا نا محمد اطہر کاظمی نے کہا کہ واقعۂ کربلا کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس نے متاثر نہ کیا ہو جب جب ہمیں یزیدیت گھیرے گی ہمیں واقعات کربلا یاد آ ئے گا۔ اگر کوئی انسان پریشا نی میں پھنسنے پر پروردگار کو بھول جائے وہ ایمان والا نہیں۔ اگر پریشا نی کا حل مل سکتا ہے وہ کربلا کا میدان ہے ۔جب جب امت کی اصلاح کی ضرورت پڑے گی واقعات کربلا کو یاد کیا جائے گا۔۔اگر یہ واقعہ نہ ہو تا ہمارے مذہب کی حقیقت ہم تک نہ پہنچتی۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان ایک خط امتیاز تھا اور اس نے ہمیشہ کے لیے یہ ثا بت کردیا ہے کہ باطل کتنا بھی بظا ہر طا قتور کیوں نہ ہو جائے حق کو اپنے سا منے نہیں جھکا سکتا۔امام حسین نے انسانی سماج اور اچھے معاشرے کی تشکیل کے لیے کام کیا، حق کو زندہ کرنے کی بات کی تو واقعہ کربلا اس کی عمدہ مثال ہے۔آج ہمارے چاروں طرف یزیدیوں کی ایک فوج ہے جو ہمیں حق بات کہنے سے روکتی ہے۔ آج کا ماحول اتنا خراب ہو چکا ہے کہ حق پر رہنا دشوار ہو گیا ہے۔ واقعات کربلا میں شہید ہونے والے کرداروں کو اپنی زندگی میں اتارنے کی ضرورت ہے۔آج ہمارے درمیان بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ حسین جیسا کردار سامنے نہ آ ئے۔ آج ہم قدم قدم پر یزیدیوں سے گھرے ہوئے ہیں۔
اس مو قع پر نا یاب زہرا زیدی،ڈاکٹر ارشاد سیانوی، ڈاکٹڑ ارشاد علی،عابد سیفی،چودھری عبد القادر، محمد عابد، عما ئدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

