شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی کے زیراہتمام یک روزہ قومی سمیناربعنوان’ہندوستان میں نسائی شاعری کی صورت حال‘کاانعقاد
نئی دہلی:شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی کے زیراہتمام اوراردواکادمی،دہلی کے تعاون سے یک روزہ قومی سمیناربعنوان’ہندوستان میں نسائی شاعری کی صورت حال‘ کاانعقادآرٹس فیکلٹی کے ہال میں کیاگیا۔اس موقع پرتمام مہمانوں کااستقبال گلدستہ پیش کرکے کیاگیا۔سمینارمیں تمام مہمانوں ،شرکااورطلبہ وطالبات کااستقبال کرتے ہوئے صدرشعبہ اردو پروفیسرنجمہ رحمانی نے کہاکہ شاعری کے عہدزریں میں خواتین کابھی حصہ کم نہیں ہے ۔لیکن بوجوہ ان کی شاعری منظرعام پرنہیں آسکی۔روایت یہ بھی ہے کہ میرکی صاحبزادی شاعری کرتی تھیں۔لیکن میرنے ان کی شاعری ضائع کردی ۔خواتین شاعرات کے تذکرے بھی لکھے گئے ۔لیکن ان تذکروں کامقصدمثبت سے زیادہ منفی تھا۔چٹخارے کے لیے وہ تذکرے لکھے گئے ۔لوگ کہتے ہیں کہ خواتین کی شاعری میں وہ بات نہیں ،جومردوں کی شاعری میں ہے ۔دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ خواتین کواظہارمافی الضمیرکے مواقع کہاں ہیں۔ہندوپاک دونوں ملکوں میں بہت سی خواتین بہت ہی اہم ہیں۔اکثریت واقلیت کے درمیان کافرق اکثراقلیتوں کی خواتین پرزیادہ پڑتاہے ۔ہماراسماج بتدریج شناخت کے بحران سے گزراہے،جس کااثرسماج اورادب دونوں پربڑاگہراپڑتاہے۔ ان چیزوں کااثراردوشاعری پربالخصوص خواتین کی شاعری پرپڑاہے ۔میں بصمیم قلب اس سمینارمیں آپ سب کااستقبال کرتی ہوں ۔
اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسرسیدسراج اجملی نے کہاکہ نسائی شاعری کی شناخت اس چیز سے ہوتی ہے،جسے لہجہ اناث کہاجاتاہے ۔بیسویں صدی تک خواتین شاعرات کے نام بھی مخفف ومخفی ہوتے تھے۔اٹھارہویں اورانیسویں صدی میں خواتین شاعری کررہی تھیں۔لیکن اظہارات میں آپ خواتین کے لہجے کی شناخت نہیں کرسکتے ہیں۔نسائی شاعری کاسب سے توانااسلوب ریختی ہوسکتاتھا۔لیکن پدری نظام میں اس اسلوب کوخواتین کی تحقیروتذلیل کاذریعہ بنالیاگیا۔امتدادزمانہ کے ساتھ تحقیری رویہ تبدیل ہوتاگیا۔اب صورت حال کچھ اورہے ۔معاشرہ ایساجبرہوتاہے،جس سے باہرنکلناممکن ہی نہیں ہے۔ مروجہ نسائی شاعری سیاست کاحصہ ہے اورنسائی حسیت دوسری چیز ہے،نسائی حسیت کوکسی طرح نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔نسائی حسی لب ولہجے کی کمی کے باوجود کئی بہت اہم شاعرات ہمارے یہاں موجودہیں۔نظمیہ نسائی شاعری میں مزاحمتی رویہ غالب عنصرکے طورپرسامنے آتاہے ،جس کے ذریعہ خواتین شاعرات نے اپنے لہجے کی صلابت قائم کی ہے اورہندوستان میں نسائی شعری اظہارکی قابل قدرصورتیں دامن توجہ کواپنی جانب کھینچتی ہیں۔
مہمان خصوصی محمداحسن عابد،سکریٹری اردواکادمی،دہلی نے کہاکہ اس موضوع پرسمینارکے انعقادکے لیے شعبہ اردوبالخصوص پروفیسرنجمہ رحمانی قابل مبارک باد ہیں ۔یہ سوال بہت اہم ہے کہ پاکستان کی طرح ہندوستان میں خواتین شاعرات اپنے جذبات واحساسات کااس طرح اظہارکیوں نہیں کرتیں یا اس طرح کی نمائندہ شاعرات ہمارے یہاں کیوں نہیں پیداہوتیں۔میراتعلق اردواکادمی، دہلی سے ہے،لیکن اس اعتراف میں مجھے کوئی جھجک نہیں ہونی چاہئے کہ اردوکویہاں اس طرح کے مواقع بھی حاصل نہیں ہیں، جس سے نسائی لٹریچرکوتقویت ملتی ۔
سمینارکے مہمان ذی وقارآرٹس فیکلٹی کے ڈین پروفیسرامیتابھ چکرورتی نے کہاکہ اس سمینارکے انعقادپرمیں شعبہ اردواورشعبے کی صدر کومبارک بادپیش کرتاہوں ۔شعبہ اردوآرٹس فیکلٹی کامتحرک وفعال شعبہ ہے۔اس شعبے کے تیسرے یاچوتھے سمینارمیں میری شرکت ہورہی ہے ۔اہم موضوعات پریہاں سمیناروں اورپروگراموں کاانعقادہوتاہے ۔یہ صداقت پرمبنی ہے کہ ہندوستانی زبانوں کی خواتین شاعرات وادباکاذکر عمومانہیں ہوتایاہوتابھی ہے توبرائے نام،کئی ہندوستانی زبانیں ایسی ہیں،جن میں خواتین ہمیشہ متحرک وفعال رہی ہیں ۔لیکن تاریخ میں انھیں ان کاحصہ نہیں دیاگیا ۔
افتتاحی اجلاس کے صدرپروفیسرمعین الدین جینابڑے نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایاکہ پروفیسرسراج اجملی نے پروفیسرقمررئیس کے سوالوں سے اپنے کلیدی خطاب کاآغازکیاتھا۔سراج اجملی نے قدیم وجدیدنسائی شاعری پربھرپورروشنی ڈالی ہے ۔معاصرسیاق میں بھی انھوں نے خواتین شاعرات کودیکھا ۔اکثرغیرتانیثی ادب کوتانیثی نظرسے بھی دیکھاجاتارہاہے ۔ریختی میں ان امورسے گفتگوکی جاتی ہے،جوخواتین سے مخصوص ہیں۔اس زمانے میں شاعری کے مستقبل پربھی سوالیہ نشان قائم ہوچکاہے ، چوںکہ اردوجس قوم سے منسوب زبان ہے،اس قوم کی زندگی ،عزت اورجائیدادکی کوئی ضمانت نہیں ہے اورجہاں ان تین چیزوں کی ضمانت نہیں ہوتی۔وہاں شاعری نہیں ہوتی ۔
افتتاحی اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے شعبہ کے استاذڈاکٹرارشادنیازی نے کہاکہ عام طورپراردوسماج میں اس طرح کے موضوعات پرسمینارکاانعقادنہیں کیاجاتا،صدرشعبۂ اردوکی دلچسپی سے یہ سمینارمنعقدہورہاہے،جس کاعصری تقاضابھی ہے ۔معاصرزمانے کی نسائی شاعری کودنیاکے سامنے ہمیں پیش کرناچاہئے ۔
پہلے اجلاس کی صدارت شعبۂ اردوکے استاذڈاکٹرارشادنیازی اورنظامت شعبہ کی استاذڈاکٹرشاذیہ عمیرنے کی ۔اس اجلاس میں ڈاکٹرنکہت پروین نے دونسائی لہجے اداجعفری اورشفیق فاطمہ شعری ،ڈاکٹرعلی احمدادریسی نے ماہ لقاچندابائی اردوکی اولین آواز،ڈاکٹرشاذیہ عمیرنے نسائی شاعری کااحتجاجی لہجہ غزل کے حوالے سے،ڈاکٹرحناآفرین نے ہندوستانی شاعرات کی نظموں کااحتجاجی لہجہ اورڈاکٹرفرحت کمال نے نئی نسائی غزل کے رنگ کے عناوین پراپنے مقالات پیش کیے ۔
سمینارکے دوسرے اجلاس کی صدارت شعبہ اردوکی صدرپروفیسرنجمہ رحمانی اورنظامت ڈاکٹرعلی احمدادریسی نے کی ۔اس اجلاس میں چارمقالات پیش کیے گئے ۔ڈاکٹرمعیدالرحمان نے زاہدہ زیدی اردوشاعری کی ایک منفردآواز،ڈاکٹرشاداب تبسم نے ہندوستان میں نسائی شاعری کااحتجاجی لہجہ،ڈاکٹر سفینہ بیگم نے ہندوستان میں معاصرنسائی نظم میں موضوعاتی تنوع اوریشیکاساگرنے ساجدہ زیدی کی شاعری میں نسائی حسیت کے عناوین پراپنے مقالات پیش کیے ۔
اس یک روزہ سمینارمیں پروفیسرمظہراحمد،پروفیسرارجمندآرا،پروفیسرمحمدکاظم،پروفیسرمشتاق عالم قادری،ڈاکٹرمتھن کمار،ڈاکٹر احمد امتیاز، ڈاکٹرشمیم احمد،ڈاکٹرعارف اشتیاق ، ڈاکٹرشاہ فہدنسیم، ڈاکٹر زاہدندیم احسن،ڈاکٹرسنیل کمار،شعبہ اردوکے ریسرچ اسکالرز،طلبہ وطالبات اوردیگرشعبوں کے اساتذہ وطلبانے بالخصوص شرکت کی ۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

