اگر یہ کہا جائے کہ جتنی پرانی اُردو زبان کی تاریخ ہے اتنی ہی پرانی غزل کی تاریخ ہے تو بے جا نہ ہوگا اس میں کوئی شک نہیں کہ غزل ہر دل عزیز صنفِ سخن ہے۔اعتراضات اور اختلافات کے باوجود غزل نے اپنی مقبولیت، نزاکت،لطافت، موسیقیت، نفاست، غنائیت کا لوہا منوایا ہے۔حالیؔ کے اعتراضات اور کلیم لدین احمد کی حملہ آوری کے با وجود غزل ڈنکے کی چوٹ پر یہ مسلّم کہ ’غزل اردو شاعری کی آبرو ہے۔‘
امیرخسرو،کبیر،قلی قطب شاہ، ولی دکنی، سراج اورنگ آبادی، مرزامظہرجانِ جاناں، سوداؔ، مومنؔ، غالبؔ، آتشؔ، داغؔ، بیسویں صدی کے آتے آتے اقبالؔ،جگرؔ،فانیؔ،اصغرؔ،حسرتؔ اورپھر نشترخانقاہیؔ، بشیربدرؔ،ندافاضلیؔ،عرفان صدیقی، اظہر عنایتی،وسیم بریلوی اور شہریار وغیرہ تک اپنا ایک طویل سفر طے کرتی ہوئی غزل آگے بڑھ رہی ہے۔اور اب اکیسویں صدی میں داخل ہوکرافقِ ادب پر سائنسی،تکنیک،نیٹ انٹرنیٹ،ٹویٹر،فیس بُک جیسے نئے ذرائع ووسائل اور ترسیل و ابلاغ کی زبان سے انطباق و اختلاط اور ہم آہنگی پیدا کرکے نئے معرکے سر کر رہی ہے۔
بات چاہے موضوع کے اعتبار سے ہو،اسلوب کے لحاظ سے ہویا ڈکشن کا سوال ہو۔ہر سطح پر غزل نے توسیعیت اور کشادگی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔جس طرح سماج کے تیور بدلے،مزاج بدلے،نفسیات بدلی،ذہن میں نشیب وفراز آئے،سیاسی منظرنامہ بدلا،معاشی و اقتصادی مسائل پیدا ہوئے، لوگوں کے رہن سہن میں بھی بدلاؤآیا۔ٹھیک اسی طرح غزل کی رنگت بھی بدلی،اسلوب میں بھی فرق آیا،لفظوں کے انتخاب میں بھی نمایاں تبدیلی رونما ہوئی۔ظاہر ہے کہ ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے جس طرح سماج انقلابی دور سے گذرتا ہے اسی طرح ادب بھی تغیر آمیز ہوتا ہے ۔بدلاؤ لاتا ہے۔نئے سانچے تلاش کرتا ہے۔شاعروں نے بھی نئے فارم تلاش کئے،نئے روپ اختیار کئے،نئی چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹنا شروع کیا۔ اور اس طرح غزل مختلف چولے بدلتی اور ملبوس کرتی گئی ۔ اور جس چولے اور لباس کو اس نے زیبِ تن کیا ، وہی اس پر ایساپھبا کہ اس کے حسن اور فٹ نیس میں چار چاند لگ گئے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ جب کسی مرئی شیٔ میں چار چاند لگنے والی بات پیدا ہو جاتی ہے تو وہ ضرور نئے تیور ، نئے لب ولہجے ، نئی رنگت اور نئی جاذبیت سے ہم کنار ہو تی ہے ۔ اکیسویں صدی میں غزل میں منجملہ یہ تمام خصوصیتیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ اور جیسا کہ قدیم طرز و روش یعنی کہ گل و بلبل ، ہجرو وصال ، شمع و پروانہ ، زلف و رخسار جیسے محدود دائرے سے نکل کر غزل نے اپنا دامن کشادہ کیا تھا ، آج اکیسویں صدی میں اپنی اسی کشادگی کے وصف کے باعث گلوبلائزیشن کے اس دور میں اس نے تمام طرح کے مو ضوعات کو سمیٹ لیا ہے ۔ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ غزل نے ہر دور میں چولا بدلا ہے ہر نئے دور میں نیاپیراہن ملبوس کیا ہے اور پھر یہ بات تو یقینی ہے کہ جب جمہور چولا بدلتا ہے تو ادب بھی چولا بدلتا ہے ۔ جمہور نے نیا ذائقہ تلاش کرنا شروع کیا تو غزل نے بھی انہی عہدِ عتیق کے بالیدہ اور سرسبز درختوں سے نئے قسم کے ثمر دینے شروع کر دئے یا انہی جڑوں پر جینیٹکس اور پلانٹ بریڈنگ کی ایجاد کردہ نئی قلمیں اگالیں ، جن سے نئی کونپلیں پھوٹنی شروع ہوئیں ، نئے پھول لگنے شروع ہوئے ۔ جمہور نے عشق کی تعریف اور معنی و مفہوم میں بدلاؤ کیا تو غزل بھی اس سے پیچھے نہیں رہی ۔ اس نے عشق نامہ بجائے خطوط نویسی کے موبائل ، میسجز ، نیٹ ، انٹر نیٹ ، فیس بُک ، کال ، مس کالز ،رسیو اور ٹوٹ جیسی تکنیکی اصطلاحات کے ساتھ لکھنا شروع کر دیا اور ان سے ایسی ہم آہنگی ، مطابقت اور اختلاط پیدا کیا کہ واہ واہ اور عش عش کی صدائیں بلند ہونے لگیں ۔
غزل میں جس قدر اسلوب اور ساختیات کو اہمیت حاصل ہے ، ٹھیک اسی طرح تنوعِ موضوع کو بھی خصو صی مرکزیت حاصل ہے ۔ اور جیسا کہ ابھی بات ہوئی ہے کہ زمانہ بدلتا ہے تو ادب میں موضوع بھی بدلتے ہیں اور پھر غزل نے تو اب سے ایک صدی قبل فرسودہ اور قدامت پسندی سے نکل کر عالم گیریت و آفاقی حیثیت حاصل کر لی تھی نیز اب جب کہ ہم اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں ، انفور میشن ٹیکنولوجی کے دور میں جی رہے ہیں ، جوہری طاقتیں دنیا کے تمام ممالک کے پاس ہیں ، دہشت گردی ، ماؤواد ، نکسل واد جیسے مسائل ہمارے سامنے پیدا ہو رہے ہیں۔ مادیت پرستی نے اپنے ایسے پیر پھیلائے ہیں کہ انسانی اقدار کا شیرازہ منتشر ہو گیا ہے ۔ ایسا محسوس ہو تا ہے کہ نفسہ نفسی کا عالم چہار سو چھایا ہوا ہے ۔ ایسے نبرد آزما ، ناسازگار حالات ، اور دورِ خلفشار کا مشاہدہ و تجربہ ہمارے فنکار ، ژرف نگاہی ، گہرائی و گیرائی اور بصیرت و آگہی سے خوب کر رہے ہیں ۔ نیز سماج میں پنپتے ہوئے مسائل و موضوعات کو غزل کے سانچے میں فنی آب و تاب اور اپنے اپنے اسالیب ِ فکر کے ساتھ ڈھال رہے ہیں ۔ اور جیسا کہ بقول میرؔ ’’ دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے ‘ ‘ ہر دور میں میں غزل گو دل کی ویرانی ، بربادی وتباہی ، کرب و درد ، رنج و غم جیسے پہلوؤں کا ذکر کر تا رہے گا اور ہو تا رہے گا ۔ اکیسویں صدی میں بھی غزل گو ان تمام عناصر سے کام لے رہے ہیں ۔ کیوں نہ لیں ۔۔۔اگر چہ یہ میر یا غالب کا عہد نہیں ہے مگر ویرانیاں ، بربادیاں اور درد و غم تو اسی طرح ،لوگوں کے ہیں آج کے لوگوں میں بھی تو وہی دل دھڑکتا ہے اور پھر’’ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں‘ کے مصداق صرف منظر نامہ ہی تو بدلا ہے ، فقط چہرہ ہی تو سیاست کا تبدیل ہوا ہے، زخم تو آج بھی معاشرے کو اسی طرح مل رہے ہیں بلکہ اکیسویں صدی کا دائرہ تو انفورمیشن ٹیکنو لوجی نے اتنا وسیع ترکر دیا ہے کہ اب واقعی فنکار کا حساس دل پورے عالم کے لئے دھڑکتا ہے ۔ آج کے غزل گو کے یہاں موضوع کا تنوع اس قدر وسیع اور کشادہ ہو چکا ہے کہ آج کے غزل گو نے پوری دنیا کے مسائل کو اپنے یہاں سمیٹ لیا ہے ۔ چاہے بات امریکہ سے تعلق رکھتی ہو ، یا روس کی ہو ، فلیسطین کی ہو ، یا ہسپانیہ کی ہو ، ملکِ شام کی ہو ، یاعراق کی ہو ، افغانستان کی ہو ، یا ایران کی ہو ، لبنان کی ہو ، یا برما کی ہو، یا پاکستان کی ہویا پھر ہندوستان جیسے عظیم ملک کی جن کے اپنے مسائل ہیں جیسے دہشت گردی ، فرقہ پرستی ، ذہنی تعصب ، مذہبی ، علاقائی و لسانی تفریق وغیرہ عناصر سر اُٹھائے ہوئے ہیں ۔ ان سب سے ہمارے غزل گو خوب کام لے رہے ہیں اور غزل میں نت نئے تجربے کر رہے ہیںنیز غزل کونئے موضوعات ، مسائل اور اشوز سے ہم آہنگی پیداکر رہے ہیں ۔ ( یہ بھی پڑھیں شکیل جمالی: شہری مڈل کلاس کی آواز – مالک اشتر)
2000 کے بعدغزل کے بے شمارشعراء ادب کے منظر نامے پر نمودار ہوئے اور جو اپنی صلاحیت ، فنی شعور و بصیرت ، طرز ِ تحریر ، اسلوب نگارش ، تفحص الفاظ ، پروازِ تخیل اور نیچرلٹی کی بنیاد پر ایک مقام بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ یا پھر وہ غزل نویس جو پرانے چاول ہیں اور ابھی بھی اسی تابناکی اور شان و شوکت کے ساتھ مسلسل غزل فرسائی کر ہے ہیں اور اپنی غزلوں میں عصری تقاضوں کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے نئے میدان سر کر رہے ہیں ، ایسے کہنہ مشق غزل گوئیوں میں مظفر حنفی، ندا فاضلی،وسیم بریلوی ،حامدی کاشمیری ،بیکل اُتساہی ،شہپر رسول ، راحت اندوری ، منور رانا ، اظہر عنایتی ، فرحت احساس ، کرامت علی کرامت ، علقمہ شبلی ، گلزار دہلوی ، مخمور سعید، شباب للت ، عرش صہبائی ، کرشن کمار طور ، ظفر گورکھ پوری ، شاہد ماہلی ، خالد محمود ، حسیب سوز ، محبوب راہی نذیر فتحپوری ،فرید پربتی،فاروق بخشی، سردار پنچھی ، سیفی سرونجی ، انیس انصاری ،وغیرہ ایسے فنکار ہیں جو گذشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل غزل لکھ رہے ہیں لیکن ان کے یہاں بھی بجا طور پر وہ عناصر دیکھے جا سکتے ہیں یا وہ تمثیلات ، علامات ، استعارات اور اشارے و کنایے مل جائیں گے جوبلا واسطہ اور باالواسطہ عصریت کی غمازی کرتے ہیں یا ان میں اکیسویں صدی کا پر تو نظر آتا ہے۔اور پھر ادب تو ہے ہی Indirection کا نام ، اشاروں کا نام ، تمثیلات کا نام، استعاروں کا نام اور میں سمجھتا ہوں کہ جب ادب اس طرح کے وصف سے خالی ہو جاتا ہے تو وہ ادب نہ رہ کر خالص سپاٹ لہجہ اور تقریر بن کر رہ جاتا ہے ۔ ان ماتقدم شعرأ میں وہ غزل گوبھی ہیں جو خالص کلاسیکی روایتوںاور قدروں کے امین ہیں ۔بایں ہمہ ان کے یہاں وہ احساسات ، جذبات ، خیالات اور تفکرات تلاش کئے جا سکتے ہیں جن کا تعلق آج پوری دنیا میں پیدا شدہ مسائل، اشوز اور موضوعات سے ہے۔ یہ شاعر جمالیاتی فضا اور حدبندیوں میں بھی نیز وصفِ تغزل میں بھی بڑے پتے کی باتیں بیان کر جاتے ہیں ۔ مظفر حنفی ، کینہ پروری، بغض و حسد اور رنج و غم کو کچھ اس انداز سے غزل کی روح میں اتارتے ہیں ۔ شعر ملاحظہ فرمائیں :
ہم نے جھیلے ہیں زمانے کے نشیب اور فراز
پیچ و خم وادیٔ پُر خار کے دیکھے ہوئے ہیں
یہ بھی جلتا ہے کسی اور علاقے میں چلیں
یہ مناظر تو کئی بار کے دیکھے ہوئے ہیں
اور جیسا کہ اس مادیت پرستی کے دور میں انسانی قدروں کا زوال تیزی کے ساتھ ہو رہا ہے اور جو لوگوں کے اندر انسانیت دکھائی بھی دیتی ہے وہ لوگ بھی مصنوعی پیکر لگائے ہوئے ہیں ۔عرش صہبائی اس کیفیت کو فنی چاشنی کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں :
آج انسان کی پہچان بڑی مشکل ہے
آج انسان ہے اوڑھے ہوئے کتنے چہرے
ان مناظر سے نگاہیںکبھی مانوس نہ تھیں
عرشؔ آویزاں ہیں اک چہرے پہ کتنے چہرے
جیسا کہ ایک صدی قبل اقبال نے کہا تھاکہ ’’ ہے مریدوں کو تو حق بات گوارا لیکن ‘‘ مگر اکیسویں صدی میں اب شیخ تو شیخ مریدوں کا بھی برا حال ہو چکا ہے جس کو محبوب راہی نے بہت ہی عمدہ شعری پیراہن عطا کیا ہے ۔ واقعی شعر میں سادگی کے ساتھ نیچرلٹی قائم ہے :
یہ بے حسی ہے کہ پہچان ظرفِ اعلیٰ کی
پئے ہوئے ہیں سبھی ڈولتا نہیں ہے کوئی
لگائے بیٹھے ہیں تالے سبھی زبانوں پر
سبھی ہیں اہلِ زباں بولتا نہیں ہے کوئی
نئی نسل کس طرح تباہی و بربادی کی طرف جارہی ہے ، کس طرح ان کی ذہنی آبیاری کی جارہی ہے ، ان تأثرات و پہلوؤں کو دیکھئے کہ بیکل اُتساہی نے کس فنکاری کے ساتھ اپنے غزل کے سانچے میں جذب کیا ہے :
میں نے اپنے بیٹے کے بستے میں رکھی تھی کتاب
کوئی بتلائے کہ اس میں کیسے چاقو آگئے
اور پھر نئے تکنیکی اثرات نیز ترسیلیت کو یوں غزلیہ جامہ ملبوس کراتے ہیں :
رابطہ ہر اک سے اب بڑھنے لگا
گھر کے سب بچے موبائل ہو گئے
ڈاکٹر شباب للت مذہبی تفرقات اوراپنے مفاد کی خاطر کئے جارہے خون خرابہ و قتل وغارت گری کو اور اس سے پیدا شدہ کرب و دردکوغزل کے پیرائے میں بڑی سنجیدگی و متانت کے ساتھ یوں بیان کرتے ہیں :
یہ الگ بات ہے میں بفضلِ خدا ، زخم کھانے سے ہر بار بچتا رہا
دشمنوں کی طرف سے اندھیرے میں گو ، انگنت تیر مجھ پر چلائے گئے
کیا وہ ایشور کے رحمٰن کے گھر نہ تھے، واہگرو گاڈ اﷲکے مسکن نہ تھے
بادشاہت کی اندھی انا کے لئے وہ عبادت کدے جو گرائے گئے
اب میں یہاں مختصر طور پرایسے شاعروں کا ذکر کروں گا جنھوں نے بالخصوص 2000 کے بعد غزل کے میدان میں ایک جگہ بنائی ہے اور جنھوں نے عصرِ حاضر میں پیداشدہ مسائل و موضوعات و عناصر کو اپنے یہاں جگہ دی ہے ، نئے منظر ناموں کو سمجھا ہے ۔ چاہے وہ سیاسی و سماجی منظر نامے رہے ہوں یا اقتصادی و معاشی منظر نامے رہے ہوں یا صنعتی و حرفتی اور تکنیکی و سائنسی رجحانات رہے ہوں یا پھر مادیت پرستی کی بات ہو یا مٹتی ہوئی انسانی قدریں اور سنسکار ہوںیا پھر شکست وریخت ہوتی تہذیب و ثقافت ہو یا اخلاق و اخلاص کا فقدان پنپ رہا ہو۔ آج کے غزل گواپنے اپنے تجربات و مشاہدات کی بنا پر اپنے ارد گرد کے حالات و کیفیات کوغزل کے پیرائے میں فنی چاشنی دے کر بیان کررہے ہیں ۔
مغربی تہذیب ، گلو بل ولیج کے باعث آج پوری دنیا پرحاوی ہوتی جارہی ہے ۔ مشرقی سماج و معاشرہ بھی ذہنی اعتبار سے کافی متأثر ہو رہا ہے ۔ جسموں پر کم ہوتے لباس اور لوگوں کو فیشن کے نام پر، جدیدیت کے نام پر ، تہذیب و شائستگی کے نام ، لیونگ اسٹینڈرڈ کے نام ، ہائی سوسائٹی کے نام ، کلچرڈ کے نام ، مغلوب کر رہی ہے، متأثر کر رہی ہے ، مرعوب ومرغوب کر رہی ہے ۔ اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل و نتائج کو ہمارے فنکار بخوبی محسوس کر رہے ہیں ۔ چنانچہ غزل نگار ان تمام عناصر سے بھی کام لے رہے ہیں اور ان پہلوؤں کو اپنے اسلوب و ڈکشن کے ذریعہ غزل کے فارم میں اتار رہے ہیں،گوناگوں موشگافیاں کر رہے ہیں۔عطا عابدی اکیسویں صدی کا ایک ابھرتا ہوا نام ہے۔ان کے یہاں احساس اور جذبوں کی ایسی فراوانی پائی جاتی جس میںگیرائی و گہرائی کا عمل دخل بخوبی ہوتا ہے۔جب وہ کسی موضوع کو شعری پیراہن عطا کرتے ہیں۔ تو ایک وسیع کائنات آباد ہوتی ہے۔دیکھئے کہ مغربیت کی سرد و مشتعل زیریں لہروں کو وہ کس خوبصورتی اور فنکاری کے ساتھ پیش کرتے ہیں:
نئی تہذیب عریاں ہو رہی ہے
لبادے روشنی کے پھٹ رہے ہیں
نئے موسم کے پروردہ ہیں لمحے
لباسِ نو برہنہ چاہتے ہیں
عجائب گھر میں تہذیبیں ہیں اور ہم
ہوا کے رُخ پہ بہنا چاہتے ہیں
سیفی سرونجی کئی دہائیوں سے شاعری کی نوک پلک سنوار رہے ہیں۔انہوں نے نئے تجربے بھی کئے۔بالخصوص غزل کے میدان میں اور غزل کی لفظیات کو ڈکشن بھی عطا کیا اور موضوعات میں معنویت و وسعت بھی پیدا کی۔ان کے ان تجربوں میں زبان کی سادگی ،اسلوب کی جدّت و ندرت بجا طور پر دیکھی جاسکتی ہے جو وقت کی اہمیت بھی ہے اور ضرورت بھی۔ شعر بطور نمونہ دیکھئے:
گیا دسمبر جدائی میں سب
وصال اپنا تو جون میں ہے
وہ تارے چمکے وہ مون آیا
ہمارے سر پر جو جون آیا
نصیب اس کا عروج پر تھا
قدم قدم پر فلاپ تھا میں
تمام دنیا کو جاب دے دو
ہمیں ہمارا حساب دے دو
مظفر ایرج کے یہاں دردو غم ، کرب و یاس کا ایک بے کراں سمندر پایا جاتا ہے۔ مظفر ؔایرج کا تعلق کشمیر سے ہے اور جو افرا تفری ،بے چینی، افسردگی، پژمردگی،تشویش اور افرا تفری کا عالم یہاں مچا ہوا ہے اس کو مظفر ایرج غزل کی بھٹی میں تپا کر علامتوں ، اشاروں اور استعاروں کے ذریعہ بڑے موثر انداز کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں سوز، تڑپ اور درد کا ملا جلا سنگم پایا جاتا ہے جو قاری کے دل کو براہِ راست متاثر ہی نہیں کرتا بلکہ حالاتِ حاضرہ سے آگاہی بھی حاصل کراتا ہے جس باعث حساس قاری کا دل ملول اور ذہن فکر کے سمندر میں غوطے لگانے لگتا ہے۔شعر ملاحظہ فرمائیں۔:
قلم ہوتا تھا جن ہاتھوں میں ایرجؔ
انہی ہاتھوں میں بم ہے اور میں ہوں
یہ دل آتش فشاں صدیوں سے چُپ ہے
پھٹا تو ساتھ لے ڈوبے گا سب کچھ
ہے عہدِ نو کے تعاقب میں عہدِ رفتہ بھی
ہر ایک دور زمانے سے کربلا مانگے
رگ رگ سُن ہے چہرہ چہرہ نیلا ہے
اندیشوں کے ناگ نے سب کو سونگھا ہے
شہر کی بھیڑ سمٹ آئی چوراہے پر
شاید سانپ اُگ آئے ہیں دالانوں میں
مغربیت کی ایسی لہر اور تیز ہوا چلی ہے، بلکہ یوں کہوں کہ سائیکلون چلا ہے کہ ہر ایک فرد کو اپنی چپیٹ میں لے رہا ہے ۔اب چاہے دورِ حاضر میں عطا عابدی ہوں یا ہمارے دوسرے فنکار سبھی لگ بھگ مغربیت کے مضر اثر ات کو اپنی غزلوں میں نئے اسلوب، نئے الفاظ کے استنباطی عمل اور نئی فکر کے ساتھ ضم کر رہے ہیں۔ ابرارؔ نغمی دیکھئے بالکل جُدا اسلوب، اور نادر استعاروں کے ساتھ مغرب کے سائیکلون کو پیش کرتے ہیں:
بزم، دُکاں، آفس میں دیکھی
ہم نے نیم عریانی دھوپ
نیلی، پیلی، ہری، گلابی، دھانی، لال
گھر سے چل کر پارک پہنچ کر ٹھہری شام
مغربیت کی بلندہوتی عمارت اور مسمار ہوتی مشرقی دیوار کو پی پی سری واستو رندؔ بھی بڑی فکر مندی کے ساتھ بالکل نئے اسلوب کے ساتھ غزل کی زبان عطا کرتے ہیں کہ جہاں واقعی سوچوں کا سمندر اور جہان ندرت وجدّت کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے شعر دیکھئے:
اک زمانہ تھاکہ تہذیبیں بھی پتوں سے سجی تھیں
بے لباسی کا یہ پیمانہ کہاں سے آگیا ہے
خلوتوں کی بے لباسی نے بڑھادی ہے ہوس
یہ ٹھٹھرتی رات کا منظر تو پہلے ٹھیک تھا
اور پھر اسی جہانِ فکر کے ساتھ وہ اپنی غزلوں کی تلاش کا ذکر اس نوعیت اور شان سے کرتے ہیں کہ معنیٰ خیزی و داخلیت کا وصف بھی در آتا ہے:
پرانی عظمتوں کو مجھ میں ڈھونڈو
کہ میں بارہ دری کا ایک در ہوں
ایک امانت گاؤں کی تھی پُرکھوں کا جنگل
جس کی ہلچل نگل گیا شہروں کا جنگل
مغربی کلچر کی روش کو راجیش ریڈی بڑی سادگی کے ساتھ مگر استفہامیہ انداز میں یوں ذکر کرتے ہیں۔ جس میں ان کا بصری پیکر اس طرح ضم رہتا ہے کہ عصریت کا پرتو صاف دکھائی دیتا ہے نیزساتھ ہی نفسیاتی تقاضے بھی وا ہوتے نظر آتے ہیں ۔ جن میں سچائی کی تصویر بے ساختہ ہماری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔شعر ملاحظہ کیجئے:
آنکھوں کے سامنے ہے الگ منظروں کا سچ
ٹی وی دکھا رہا ہے الگ منظروں کی بات
تہذیب اُس جہان کی آنے لگی اِدھر
آداب اس جہاں کے اُدھر تو نہیں گئے
اور پھر راجیش ریڈی دہشت گرد ی پر یوں سرزنش اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں:
جنگ یہ کیسی ہے جس کے سپہ سالاروں نے
ننھے منوں کو بھی ہتھیار بنا کر چھوڑا
ایک کبوتر نے توپ سے پوچھا
کیا یہاں گھونسلہ بنا لوں میں
کلیم قیصر اپنے تجربات و مشاہدات کو شعری پیرائے میں بڑی فنکاری کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ شکست وریخت ہوتی قدریں،مٹتے ہوئے سنسکاروں اور اقتصادی و معاشی بحران یعنی روزی روٹی کی تگ و دو جیسے پہلوؤں کے ساتھ ہی وہ امن و آشتی اور بد امنی وخوف و ہراس کے ملے جلے ماحول کو بھی غزل کی چاشنی میں نئی آب و تاب ، جدّت و ندرت اور آفرینی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ بطور نمونہ چند اشعار دیکھئے:
ضرورت اپنی بیٹوں سے بتاتا ہے وہ شرما کر
بہت مجبور ہوکے باپ یہ احسان لیتا ہے
یہی بیٹے جنہیں وہ اپنا نورِ چشم کہتا تھا
خبر کیا تھی جواں ہوکر یہی آنکھیں دکھائیں گے
بچّوں کی ہر شام سجانے کی خاطر
صبح سے پہلے گھر سے نکلنا پڑتا ہے
خوف و دہشت کی زمیں پر بدگمانی چھوڑ کر
اُڑ گئے سارے کبوتر دانہ پانی چھوڑ کر
شمسؔ تبریزی کا طرزَ تحریر نہایت ہی جدا گانہ ہے ۔ ان کی غزلیں معاشرہ کی ان سمتوں کی آئینہ دار ہیں جہاں ایک عام ذہن سر سری گذر جاتا ہے۔ نئے سیاسی نظام ،قدروں کی بدلتی ہوئی فکر اور تہذیبی بدلاؤ ،شمسؔ تبریزی کی شاعری کے خاص مرکز ہیں۔انہوں نے اپنی غزلوں کو ان موضوعات سے سنوارا ہے جن کی آج کے بدلتے ہوئے ماحول میں بہت اہمیت ہے۔ان کے اس فکری روّیہ اور احساس کی شدّت کو اس طرح سمجھاجاسکتاہے:
گھر کے کچھ کام ہیں سو دلّی کی تیّاری ہے
کار دفتر کی ہے اور ٹور بھی سرکاری ہے
نہ جانے کون سی پگڈنڈیوں پہ چلتے ہیں
وہ چند لوگ جو سوکھے میں بھی پھسلتے ہیں
ہزار حادثے ہر روز ساتھ ہیں ان کے
وہ لوگ چائے کی جو پیالیوں پہ پلتے ہیں
انہی امور کے ساتھ شمس ؔ تبریزی روایتی عشق کے قائل نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں عشق کی نئی تعریف ملتی ہے اور وہ عشق کے رموز و کنایہ کو نئے رویوں کے ساتھ بدلنے کی تجویز پیش کرتے ہیں:
عشق کی تعریف کو تھوڑا بدل کر دیکھئے
گھر بھی رہئے اور گھر سے بھی نکل کر دیکھئے
وہ میرا دوست ہے لیکن وہ درد مند نہیں
طلسمِ ہوش ربا تو ہے ہوش مند نہیں
حالانکہ اس کے ہاتھ میں خوشبو کا پھول ہے
پھر بھی عجیب بات ہے چہرہ ملول ہے
مضطر افتخاری کی غزل کے لب و لہجہ میں بے باکی بھی ہے، حق گوئی بھی ہے، شفافیت بھی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جب اس طرح کے عناصر یکجا ہوجاتے ہیں تو وہ ایسا مرکب ہوجاتے جیسے ہم احتجاج یا بغاوت کا نام دے سکتے ہیں۔لیکن یہ جذبۂ صداقت اسی مرد مجاہدیا بہادر فنکار میں پایا جاتا ہے جو حالات سے نبرد آزما بھی ہونا جانتا ہے اور ٹکرانا بھی جانتا ہے ۔چند اشعار اس سلسلے میں بطور نمونہ پیش خدمت ہیںجن میں عصریت کا پرتو اور غمازیت بجا طور پر دکھائی دیتی ہے:
حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے
کمیشن پھر بٹھایا جا رہا ہے
میانِ شہر حج ٹاور بنا کر
ہمیں پھر سے منایا جا رہا ہے
جرم تو پہلے مرا مجھ کو بتایا ہوتا
پھر مجھے شوق سے سولی پر چڑھایا ہوتا
ان چند شعراء کے سرسری جائزہ سے یہ حقیقت ہے کہ اکیسویںصدی میںغزل کے تیور کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا تاہم اس اجمالی جائزہ سے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ 2000 کے بعد غزل ایک نئی آواز ،لب و لہجہ اور رنگ و آہنگ ، جدّت و ندرت ،معنیٰ آفرینی اور نئے ڈکشن و اسلوب کے ساتھ نمودار ہو رہی ہے۔اب اس کے پاس نئے میدان، نئے مسائل،نئی وجدانی کیفیت، نئے احساسات و جذبات و خیالات ہیں۔پرانی اور روایتی حسن و عشق کی باتوں کو بھی جدید تکنیکی قالب میں بڑی شان کے ساتھ پیش کر رہی ہے۔نیز ان متذکرہ شعراء کے ساتھ ہی 2000 کے بعد غزل کے افق کے یہ بے شمار ستارے اپنی تابانیوں کا احساس کرا رہے ہیں۔جن میں فاروق بخشی، شرافت حسین شرافتؔ،آفاق فاخری،شہباز ندیم ضیائی،مختار ٹونکی، ظہور احمد ظہورؔ،فرقان احمد سردھنوی،سراج دہلوی،روبینہ شبنم،نسیم نکہت،ملکہ نسیم،پیکر یزدانی، بسم اللہ عدیم،طالب شملوی، ڈاکٹر محمد ایوب خان، رئیس الدین رئیسؔ،ملک زادہ جاوید، اسد رضا، ضیاء ٹونکی وغیرہ کے نام خصوصیت سے لئے جاسکتے ہیں۔جو غزل کے میدان میں نئے شگوفے کھلا رہے ہیں،نئے خیالات پیش کر رہے ہیں اور حسن و عشق کی وادی میں نئے اسلوب ، نئے تجربوں اور نئے استنباطی عمل اور نئے تفحص الفاظ کے ساتھ غزل کو تراش خراش کر اسے نیا روپ اور جدید مجسمہ عطا کر رہے ہیں۔جن میں نئی طرزِ فکر کے ساتھ سماجیت، اقتصادیت، مادیت نیز تقاضائے حالات و حادثات کی غمّازی اور آفاقیت پوری حرارت و صداقت کے ساتھ موجود ہے۔( واضح رہے کہ میں نے یہاں انہی شعراء کا کلام بطور نمونہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے جن کا کلام 2000کے بعد زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہوا)۔
—-
ڈاکٹر محمد مستمر
ہریانہ اردو اکادمی ،
آئی پی ۔۱۶، سیکٹر ۔۱۴،
پنچکولہ۔134113
رابطہ: 90237 46092
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
بخدمت
اد میراث
و ڈاکٹر محمد مستمر
عرض یہ کہ فیس بک پر کچھ ہم خیال اردو نواز احباب ادبی فورم”صبا آداب کہتی ہے ” نام سے ایک فورم جاری کئے ہوئے ہیں یہ فورم گاہے اہے ایک ای میگزین بھی شائع کرتا ہے
ماہ جون 2021 کا شماری "غزل نمبر ہے ۔ ڈاکٹر محمد مستمر صاحب کا مضمور (اکیسویں صدی میں گزل کے تیور)فورم کے تازہ شمارے میں شمولیت کی اجازت مطلوب ہےَ
ڈاکٹر محمد مسترمر صاحب سے یہاں دیئے گئے موبائل نمبر اجازت طلبی کے لئے رابطہ کیا گیا مگر رابطے نہ ہو سکا۔
انتظامیہ؛ ادبی فورم "صبا آداب کہتی ہے”
مضمون کی اشاعت کی اجازت ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ آپ ادبی میراث کا حوالہ دے کر شائع کریں گے ، ہمیں خوشی ہوگی۔ ای رسالہ کی ایک کاپی ادبی میراث اور ڈاکٹر محمد مستمر صاحب کو بذریعہ ای میل بھیج دیں تو ہمیں بے حد خوشی ہوگی۔