by adbimiras
0 comment

’’جانے پہچانے لوگ‘‘ کا تنقیدی چہرہ/ صفدر امام قادری  -ڈاکٹر قسیم اختر

 

معاصر تنقید میں ڈاکٹر صفدر امام قادری کی تنقید مختلف خصوصیات کی بنیاد پر منفرد نظر آتی ہے۔ کیوں کہ وہ متن سے الجھتے ہیں اور معانی ومفہوم متعین کرتے ہیں۔کسی فن پارے پر لکھے گئے مضامین کی روشنی میں وہ کوئی مضمون تیار کر کے اپنی تنقیدی انفرادیت ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے خاکوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ شخصیات کو اپنی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ان کے اندرون میں اترتے ہیں اور وہاں سے مواد حاصل کرکے قلمی تصویر بناتے ہیں۔ اس لیے ان کے خاکے بھی موجودہ خاکہ نگاروں سے الگ نوعیت رکھتے ہیں۔ صفدر امام قادری نہ افسانوی رنگ خاکے لکھتے ہیں اور نہ افسانوی اختصار سے سروکار رکھتے ہیں۔ ان کے اکثر خاکے طویل ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے طویل خاکوں میں بہت کچھ پیش کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خاکوں میں تاثراتی رنگ بھی ابھرتا ہے اور سوانحی انداز بھی۔ تنقیدی سروکار بھی نظرآتا ہے اور تاثراتی احسا س بھی ۔

پیش نظر کتاب ’’جانے پہچانے لوگ‘‘میں کل سوا درجن خاکہ نما مضامین ہیں۔ان مضامین میں لطیف رشتہ یہ ہے کہ یہ تمام کے تمام مضامین فوت شدہ لوگوں پر لکھے گئے ہیں۔ اس لیے یہ کہا جاسکتاہے کہ دیگر خاکہ نگاروں کی طرح انھوں نے فرمائش پر خاکے نہیں لکھے ۔ فرمائشی تبصروں اور خاکوں کی حیثیت کیا ہوسکتی ہے ، ذرا بھی غور و خوض کرنے والا بہ آسانی سمجھ سکتاہے۔ صفدر امام تنقید کے لیے کتابوں کا انتخاب اپنی صواب دید پر کرتے ہیں۔ اس لیے خاکوں کے لیے شخصیات کا انتخاب بھی آزادانہ طور پر کرتے ہیں۔ اگر وہ فرمائشی خاکے لکھتے تو باحیات لوگوں کے خاکے اس مجموعے میں زیادہ ہوتے۔انھوں نے اس روایت سے بغاوت کی ہے اور فقط ان لوگوں پر ہی لکھا ہے جن سے انھوں نے کچھ نہ کچھ سیکھا ہو اور ان شخصیات کی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو نے خاکہ نگار کو متاثر کیا ہو۔

اس کے علاو ہ یہ بھی کہا جاسکتاہے کہ صفدر امام قادر ی کے تاثراتی مضامین کا رنگ یکساں نہیں ہے۔ گویا انھوں نے لکھنے کے لیے کوئی طے شدہ فارمولہ نہیں اپنایا جس شخصیت کی زندگی کے جس پہلونے انھیں متاثر کیا اسی پہلو کو پیش کردیا ہے۔ظاہر ہے ان پہلوؤں کو پیش کرنا اسی وقت ممکن ہوسکتاہے جب خاکہ نگار نے خاکے کی متعلقہ شخصیات کو گہری نظروں سے دیکھا ہو اور متعدد مواقع پر انھیں محسوس کیا ہو۔ صفدر امام قادری کے خاکوں میں گہرے تاثرات کے رویے بہت واضح ہیں۔اپنے والد سے متعلق لکھتے ہیں:

’’ہمار علاقہ بھوج پوری بولنے والوں پر مشتمل ہے مگر والد صاحب گھر اور باہر دونوں جگہ اردو زبان کا استعمال کرتے تھے۔ کبھی کبھی کسی موکل یا اسی طرح کے کم پڑھے لکھے آدمی سے وہ بھوج پوری میں بات کرتے تھے مگر بیش از بیش سماجی زندگی میں وہ اردو بولتے تھے اور وکالت میں انگریزی زبان ۔ جب ان کی تعلیم کا زمانہ تھا ، اس وقت ہندی سے آشنائی نہیں ہوئی تھی۔ انگریزی میڈیم میں ہی وہ چوتھی جماعت سے لگ گئے تھے۔ ہندی انھوں نے کچھ ادیبوں اور شاعروںکے بیچ اور وقت کے بدلتے ہوئے رویوں سے متاثر ہوکر پڑھنے کی حد تک سیکھ لی تھی ‘‘۔

مذکورہ اقتباس سے کئی باتیں واضح ہوتی ہیں۔ صفدر امام قادری نے شخصیت کی شکل وشباہت کے بیان سے سروکار نہیں رکھا، بلکہ طرز زندگی کے بہت سے امور کی طرف اشارے کردیے۔ اس کے علاوہ ان کی زبان کی سادگی ہمیں متاثر کرتی ہے کہ اپنے بیانیہ کو اجبنی پن اور ثقالت سے محفوظ رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زبان کی ثقالت مسئلہ پیدا کرتی ہے اور نہ ہی غیر مانوس فقرہ ترسیل میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹے اقتباس کو انتہائی معلوم افزا بنا دیا۔ اول بھوج پوری بولنے والے علاقے کا جغرافیہ ابھر کرسامنے آتا ہے۔ خاکہ نگار کے گھر میں اردو کے چلن کا پہلوواضح ہوتا ہے۔ ساتھ ہی خاکے کی متعلقہ شخصیت کاپیشہ بھی ابھرتا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ایک چھوٹے سے اقتباس میں صفدر امام قادری نے متعدد پہلوؤں کی وضاحت کردی ہے۔ اس لیے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ صفدر امام لفظوں سے قلمی تصویر بنانے کے ساتھ شخصیات کی زندگی کے دیگر واقعات پیش کرکے اپنی تحریروں کو انفارمیٹیو بنادیتے ہیں۔ مشہور افسانہ نگار شفیع جاوید کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں :

’’شفیع جاوید ایک خاص رکھ رکھاو کے آدمی تھے۔جن لوگوں کو اُن سے ملنے اور ان کے گھر آنے جانے کے مواقع ملے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ ہر کام میں وہ سخت انتخاب اور مخصوص قرینے کے قائل تھے۔ خوش پوش تو تھے ہی، اپنے گھر کو بھی اسی طرح سجا سنوار کر انھوں نے رکھا تھا۔ ‘‘

شفیع جاوید سے ملنے والے تو ان کی عادات کو اچھی طرح جانتے ہوں گے مگر جن کو ان سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا ہے وہ بھی انھیں مذکورہ چند جملوں سے پہچاننے لگ جاتے ہیں۔ کیوں کہ صفدر امام قادری نے شفیع جاوید کی عادت اور نفاست کا خوب تذکرہ کردیا ہے۔ خاکہ دراصل شخصیات کی عادات وطوار اور حسن اخلاق کا ایک اشاریہ ہوتاہے۔ خاکہ نگار کا بنیادی کا م یہ ہے کہ زندگی کے بہت سے پہلوؤں کی بس جھلکیاں پیش کردے ۔ تفصیلات سے گریز کرے، تفصیلات کے لیے سوانحی مضمون کی ضرورت ہوتی ہے ۔صفدر امام قادری نے شفیع جاوید کے خاکوں میں جہاں ان کی شفقت کو پیش کیا ،وہیں ان کی افسانوی خصوصیات کو بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس خاکے میں شفیع جاوید کی زندگی کے متعدد پہلو ابھرتے ہیں۔ شفیع جاوید کے مطالعہ کا انداز بھی جداگانہ تھا ۔ کیوں کہ وہ برسوں ایک کتاب کا مطالعہ کرتے تھے۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے۔ بیک وقت کئی کتابوں سے استفادہ کرتے تھے اور ان کتابوں کاآہستہ آہستہ مطالعہ کرتے تھے۔ اس طرح ایک کتاب ختم ہونے میں خاصا وقت لگتا تھا۔ شفیع جاوید کی زندگی کے ان تمام تر جزئیات کا بیان صفدر امام قادری نے بہترین طریقے سے کیا۔

صفدر امام قادری نے پروفیسر وہاب اشرفی کا جو خاکہ لکھا وہ بھی بہت خوب ہے۔ کیوں کہ اس میں جہاں اشرفی کی ذاتی زندگی ہمیں متوجہ کرتی ہے، وہیں لکھنے پڑھنے والوں سے ان کی محبت بہت کچھ بیان کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس خاکے میں صفدر امام قادری کی طالب علمانہ زندگی کی بھی وضاحت ہوتی ہے اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ صفدر امام قادری کے اندر بیباکی بہت پہلے سے ہی موجود ہے۔ایک سمینار میں قاضی عبدالودود پرمسعود حسین نے مقالہ پڑھا جس میںبہت زیادہ گہرائی نہیں تھی۔ خاکے میں وہ اسی سیمینار کے متعلق لکھتے ہیں:

’’میں نے یہ بھی عرض کیا کہ مسعود حسین خان نے قاضی عبدالودود کی صرف چند اور فلاں فلاں تحریریں پڑھ کر تمام تحقیقی مضامین کے تعلق سے فیصلہ کردیا۔۔۔مسعود حسین خان نے جتنی دیر میں مقالہ پڑھا ، مجلس صدارت نے بلاشبہ اس سے دوگنا وقت مجھے اظہار تاثرات کے لیے عطا کردیا۔ میری تقریر کے بعد وہاب اشرفی مائک پر تشریف لائے اورانھوںنے یہ اعلان کیا کہ مسعود حسین خان اپنے مقالے کے سلسلے میں سوالوں کے جواب دیں۔مسعود حسین خان اپنی جگہ تمتماہوئے بیٹھے رہے۔‘‘

مذکورہ اقتباس میں دو چیزیں قابل توجہ ہیں۔ اول یہ کہ صفدر امام قادری کے اندر مطالعے کی عادت بہت پہلے سے ہے اور وہ مطالعہ ، مطالعہ کی طرح کرتے ہیں۔ گہرائی سے پڑھتے ہیں اور پڑھی ہوئی چیزیں انھیں ازبر ہوتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہاب اشرفی چھوٹوں کا اعتراف کرتے ہوئے جھجکتے نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بھری محفل میں صفدر امام قادری کے سوالات کو سراہا اور مسعود حسین کے مضمون کو ناقص قرار دیا۔ اس طرح صفدر امام قادری نے اس خاکے میں بہت سے علمی واقعات کو حسین انداز میں بیان کیا ، جس سے نہ صرف ایک ادبی فرد سامنے آتا ہے بلکہ ادبی عہد بھی واضح ہوتا ہے ۔

تنقید نگار اگر نثری تخلیقات پر توجہ مبذول کرتاہے تو اکثر تنقید والی سختی ناقد کی تخلیق میں را ہ پانے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ناقدین کی تخلیقات ادب میں مقام نہیں بنا پاتی ہیں۔ صفدر امام قادری بنیاد ی طور پر ایک ناقد ہیں،یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے کچھ افسانے بھی لکھے ہیں ۔ لیکن بعد میں انھوں نے افسانہ نگاری سے قطع تعلق کرلیا اور تنقید کو پورا وقت دیا۔ اس لیے ان کی ناقدانہ حیثیت زیادہ مسلم ہے۔ صفدر امام قادری کی یہ بڑی فن کاری ہے کہ انھوں نے اپنے خاکوں کو تنقید کی سختی سے محفوظ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خاکوں کا دبا دبا احساس ہمیں مشرقیت سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ کیوں کہ ہمارے سماج میں بڑوں کی تعظیم کا ایک الگ ہی نظر یہ ہے۔ خاکوں میں تعظیم اور رقت آمیزی کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ خاکہ نگار نے اپنے تمام خاکوں میں تعظیم،رقت آمیزی اور عاجزی کا خیال رکھا ہے۔ صفدر امام قادری نے زندہ لوگوں پر خاکہ نہیں لکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خاکوں کی متعلقہ شخصیت یا تو استاد ہیں یا پھر استادمعنوی۔ استادی اور شاگردی میں تعظیم کے پہلو کاخاصا عمل دخل ہوتاہے۔ شفیع جاوید، والد محترم، پروفیسر وہاب اشرفی اور پروفیسر ناز قادری وغیرہ پر لکھتے وقت صفدر امام قادری نے اُن باتوں پر زیادہ توجہ مبذول کی جن میں شفقت ومحبت کا معاملہ ہو۔ کیوں کہ ان شخصیات نے صفدر امام قادری کی زندگی پر غیر محسوس طریقے سے بہت سے اثرات مرتب کیے۔ گویا ان کی حیثیت استاد معنوی اور اصلی کی سی نظرآتی ہے۔

ڈاکٹر صفدر امام قادری کے خاکوں کی انفرادیت کے ضمن میں کہا جاسکتاہے کہ وہ شخصیات کے مزاحیہ پہلوؤں کو ابھارنے پرتوجہ مبذول نہیں کرتے۔ حقائق کے بیان اورحقائق کے متعلقات سے عملی زندگی کے لیے سبق حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاکوں کی قرأ ت کے دوران محسوس ہوتاہے کہ انھوں نے شاید دانستہ طور پر مزاحیہ پس منظر سے خود کو الگ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ طویل خاکہ لکھنے میں یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خاکوں میں بیک وقت متعدد ادبی اصناف کے رنگ ابھرتے ہیں۔افسانوی مکالموں  کی بنیاد پر وہ کسی خاکے کو طویل کرنے والی حکمت عملی گریز کرتے ہیں اور وہ ٹھوس بیانیہ سے متعلقہ شخصیات کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں کو بیان واضح کردیتے ہیں جس سے شخصیت مکمل آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے اوران کے زندگی جینے کا سلیقہ آئینہ بن کر سامنے آتا ہے جس میں قاری اپنی زندگی کا عکس دیکھ لیتاہے اور خود اپنی زندگی سے ان واقعات کا موازنہ کرتاہے۔ اس طرح عظیم لوگوں کی زندگی سے زندگی جینے کا سلیقہ مستعار لیتا ہے۔ گویا ان کے خاکوں کی شخصیات خاموش مصلح کا فریضہ بھی انجام دیتی ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ اردو خاکہ نگاری میں مجتبیٰ حسین کی حیثیت مسلم ہے اور انھوں نے لازوال خاکے لکھے،مگر ان کے خاکوں کی انفرادیت دراصل ان کے طنزیہ اسلوب میں ہی پوشیدہ ہے۔ اگر ان کے طنزیہ  معاملات کو خاکوں سے الگ کردیا جائے تو شاید ان کے یہاں کوئی دل چسپی کا سامان نہ بچے گا۔ صفدر امام قادری نے طنزیہ اور مزاحیہ پہلوؤں سے اجنتاب کرتے ہوئے بھی اپنے خاکوں میں ایسی دل چسپی پیدا کردی ہے جو دیگر خاکہ نگاروں کے یہاں نظر نہیں آتی ہے۔ کلیم عاجز نے بھی بہت سے خاکے لکھے مگر انھوں نے جملوں کی تکرار سے اپنی تحریروں کو بد مزہ کردیا ہے۔ ان کی تنقید میں جملوں کی کثرت سے تکرار پیدا ہوگئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خاکوں اور تنقید کا رنگ بھی دھندلا ہوجاتا ہے۔ صفدر امام قادری نے اپنے خاکوںکو نہ صرف تکرار سے بچایا بلکہ افسانوی فضا سے بھی۔ انھوں نے شخصیات کے ارد گرد رہتے ہوئے ٹھوس حقائق سے ٹھوس بیانیہ تیار کیا ہے۔ ان کا اسلوب تحریر خاکوں میں بدلتا نہیں ہے۔ وہ غیر ضروری طور پر استعارات سے کام نہیں لیتے ہیںاور نہ ہی تشبیہوں سے اپنی نثر کو شاعرانہ نثر بناتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ شخصیات کو ثانوی حیثیت سے پیش نہیں کرتے ہیں ۔ خاکوں کی روایت پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتاہے کہ بہت سے خاکہ نگاروں نے فن کاری او رزبان دانی کا مظاہرہ کرنے کے لیے شخصیات کو خاکوں سے غائب کردیا اور ضمنی طور پر بہت سے واقعات کو پیش کردیا۔ صفدر امام قادری کے خاکے طوالت کے باوجود متعلقہ شخصیات کے ارد گرد ہی گھومتے ہیں۔گویا ارتکاز، حقائق بیان اور ٹھوس اسلوب ان کے خاکوں کی انفرادیت ثابت کرتاہے۔

 

اسسٹنٹ پروفیسر ،

اردو، ڈی ایس کالج کٹیہار (بہار)854105

qaseemakhtar786@gmail.com

9470120116

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment